Ishq Meharban by Rimsha Hussain NovelR50558 Ishq Meharban (Episode 35)
Rate this Novel
Ishq Meharban (Episode 35)
Ishq Meharban by Rimsha Hussain
ہم یہاں آپ سے گلوبل کا کلر ڈسکس کرنے نہیں بیٹھے بلکہ ایک جنرل اور کامن سینس کی باتیں کرنا چاہ رہے ہیں”جو کہ بہت ضروری ہے۔ ۔۔اسیر نے بامشکل اپنا لہجہ نارمل کیا تھا۔ ۔
“میں بھی جنرل نالیج والی بات کررہی ہوں” دُنیا گرین اینڈ بلیو ہے کوئی تیسرا کلر بھی ہوسکتا ہے مگر میں نے اُس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ ۔۔فاحا اپنی بات پر بضد تھی۔ ۔
“کام کی بات کریں؟ اسیر نے سنجیدگی سے کہا
“جی جلدی کریں فاحا کو بھوک بھی بہت لگی ہے۔ ۔فاحا نے عجلت کا مُظاہرہ کیا
“آپ کا اور آپ کی بہنوں کا حق ہے کہ وہ اپنے باپ کے ساتھ رہے” ساری زندگی آپ نے اُن کے بغیر گُزاری ہے تو کیا ضروری ہے باقی کی زندگی بھی اُن کے بغیر گُزاری جائے۔؟اسیر نے سنجیدگی سے کہنے کے بعد اُس سے پوچھا
“آپ ایسی باتیں فاحا سے کیوں کررہے ہیں؟ فاحا نے بھی اِس بار بھرپور سنجیدگی کا مُظاہرہ کیا
“کیونکہ ہمیں لگتا ہے آپ ہماری بات سُنوں گی۔ ۔۔اسیر نے اُس کو دیکھ کر کہا
“میں نے کہی پڑھا تھا۔ ۔جواباً فاحا نے یہ کہا
“کیا پڑھا تھا؟ اسیر ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر بولا
“یہی کہ اگر عورت مرد کی ایک بات مانے گی تو جواب میں مرد عورت کی دس باتیں مانتا ہے۔ ۔فاحا ترچھی نظروں سے اُس کو دیکھ کر اپنا لہجہ سرسری کیے بولی
“ہم آپ کی دس باتیں ماننے کو تیار ہیں۔ ۔اسیر بغیر سوچے سمجھے بولا
“بات ماننے کے لیے کسی رشتے کا ہونا بھی تو ضروری ہے نہ بھلا یہ کہاوت تو میاں بیوی کے لیے ہے” آپ کے اور میرے لیے تھوڑی ہے۔۔فاحا نے کہا تو اِس بار اسیر ملک اُس کو ترچھی نگاہوں سے دیکھنے لگا
“ہمارا اور آپ کا رشتہ ہے۔”ہم رشتے میں آپ کے فرسٹ کزن لگتے ہیں۔ ۔اسیر نے سنجیدگی سے بتایا
“جس شخص کو ہم باپ تسلیم نہیں کرتے تو اُس کے بھتیجے کو ہم اپنا کزن کیسے مان لے؟ فاحا کی بات پر اسیر نے اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں کو سختی سے بھینچا تھا وہ کسی کی بھی نا سُننے والا آج اپنے سے چھوٹی لڑکی کے ساتھ بیٹھا اپنا صبر آزما رہا تھا۔ ۔
“آپ ہمارا صبر آزما رہی ہیں۔ ۔۔اسیر نے ضبط سے کہا
“میں حقیقت بیان کررہی ہوں اور اگر اِس کو آپ صبر آزمانا کہتے ہیں تو جی ہاں میں آپ کا صبر آزما رہی ہوں۔۔فاحا نے اُس کو دیکھ کر دوبدو کہا تھا جس پر اسیر اُس کو دیکھتا رہ گیا۔
“ہمارا مقصد آپ پر دباؤ ڈال کر اپنی بات منوانے کا نہیں ہے” ہم جانتے ہیں یہاں آپ کونسا امتحان دینے آئیں تھیں” مگر چچا جان یہ بات نہیں جانتے”اگر آپ نتیجے میں پاس ہوئیں تو بہت کچھ کرسکتی ہیں۔۔اسیر نے سنجیدگی سے کہا تو فاحا ناسمجھی سے اُس کا چہرہ دیکھنے لگی
“فاحا یہاں کونسا امتحان دینے آئی تھی یہ تو یہاں کھڑا ہوکر کوئی بھی بتاسکتا ہے”خیر آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔ ۔۔فاحا نے سرجھٹک کر مدعے کی بات پر آئی
“ہم اپنے گاؤں کے سردار ہیں۔۔۔اسیر نے بتایا
“تو؟ فاحا کو سمجھ نہیں آیا کہ یہ بات وہ اُس کو کیوں بتارہا تھا۔
“ہم اپنے گاؤں میں موجودہ حالات سے ہمیشہ خائف رہتے ہیں اور گاؤں میں کچھ ایسی چیزیں ہیں جو ہم سردار ہونے کے باوجود سہی نہیں کرسکتے پر آپ کرسکتی ہیں” کیونکہ ایک عورت کے لیے آواز ہمیشہ عورت اُٹھائے تو زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ ۔۔اسیر نے اپنی بات اُس کے سامنے کی جو فاحا ابھی تک سمجھ نہیں پائی
“آپ کُھلے الفاظوں سے کیوں نہیں بتارہے؟فاحا زچ ہوئی
“اگر آپ ہماری بات مان لیتی ہیں تو ہم آپ کو ساری بات سمجھادے گے۔ ۔۔اسیر نے کہا
“حویلی آپ کے گاؤں آنا ضروری ہے کیا؟ “ہمارا وہاں کوئی نہیں مگر یہاں ہمارے سب اپنے ہیں۔ ۔۔فاحا نے کہا
“اگر آنکھیں کھولے تو آپ کا اصل وہاں ہے۔ ۔اسیر نے سنجیدگی سے کہا
“وہ اصل جس نے ہمیں دھتکارا تھا۔ ۔فاحا کے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ آئی تھی۔
“پُرانی باتوں کو یاد کرنے سے کچھ نہیں ہوگا بس تکالیف سے سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ۔اسیر نے کہا
“آپ کو اپنا مسیحا سمجھ کر اگر میں آپ کی بات مان بھی لوں توں بھی میرا دل نہیں مانتا کہ میں اُس شخص کو معاف کروں جس کی بدولت ہم نے سفر کیا ہے۔ ۔۔فاحا کا لہجہ عجیب ہوگیا تھا۔
“ہم نے کب آپ سے کہا کہ آپ چچا جان کو معاف کریں؟ “ہم نے تو ایک مرتبہ بھی نہیں کہا کہ چچا جان کو اپنے عمل پر ندامت ہے اور آپ بہنیں اُن کو معاف کردیں۔ ۔اسیر نے کہا تو اُس کی بات پر فاحا نے چونکتے ہوئے اُس کو دیکھا کہ وہ اصل میں کہنا کیا چاہ رہا تھا یہ فاحا چاہنے کے باوجود بھی جان نہیں پائی تھی۔ ۔
“آپ مسلسل بول رہے ہیں کہ فاحا اپنی بہنوں کو گاؤں آنے پر امادہ کرو”اور ابھی اپنی بات سے مُکر بھی گئے ہیں۔ ۔۔فاحا تعجب بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر اُس کی کہی بات یاد دلائی
“ہم گاؤں آنے کا بول رہے ہیں چچا جان کو معافی دینے کا نہیں اور دونوں چیزوں میں واضع فرق ہے۔ ۔اسیر نے کہا تو فاحا کو جیسے ساری بات سمجھ آگئ
“آپ یہ باتیں سوہان آپو یا میشو آپو سے بھی تو کہہ سکتے تھے۔ ۔”پھر میرے پاس کیوں آئے؟ فاحا نے جاننا چاہا
“ہم اُن کو منا نہیں سکتے یہ آپ کا کام ہے۔ ۔اسیر نے بتایا
“آپ کے کہنے کا مطلب فاحا کو منانا آسان ہے؟فاحا کا منہ بن گیا۔
“ہم نے ایک جنرل بات کی آپ اُس کو سیریسلی نہ لے بلکہ ہمیں بتائے کہ آپ کی کیا راے ہے؟اسیر نے سنجیدگی سے کہنے کے بعد پوچھا
“وہ راضی نہیں ہوگی اور میں اُن کی رضامندی کے خلاف کوئی بھی کام نہیں کرنا چاہتی۔فاحا اُلجھن کا شکار تھی” دل کہہ رہا تھا سامنے بیٹھے شخص کی بات مان لو جبکہ دماغ کچھ اور ہی بول رہا تھا۔”یہ وجہ تھی کہ وہ کوئی بھی فیصلہ کر نہیں پارہی تھی۔
“آپ سوچ کر جواب دیجئے گا ابھی ہم آپ کو آپ کے گھر ڈراپ کردیتے ہیں۔ ۔اسیر نے کہا تو فاحا نے سراثبات میں ہلانے پر اکتفا کیا۔۔”جبھی اسیر کا موبائل فون رِنگ کرنے لگا تو فاحا کی نظر بے ساختہ ڈیش بورڈ پر موجود اسیر کے فون پر پڑی جہاں” ہماری دُنیا” کالنگ لکھا آرہا تھا اور ساتھ میں ہارٹ بھی بنا ہوا تھا یہ دیکھ کر فاحا کو کافی عجیب لگا اُس نے چور نگاہوں سے اسیر کو دیکھا جس کے چہرے پر موجود ساری سنجیدگی ختم ہوگئ تھی اور ہونٹوں پر جاندار مسکراہٹ نے بسیرا کرلیا تھا جبکہ گالوں پر موجود گڑھے پوری آب و تاب سے نُمایاں ہوئے تھے جن کو دیکھ کر فاحا بیہوش ہوتی ہوتی بچی تھی” آخر کو کیوں نہ ہوتی جتنی بار بھی اُس کا سامنا اسیر سے ہوا تھا اُس وقت ہمیشہ ہی تو اسیر غُصے میں رہتا تھ ہنسنا تو دور کی بات تھی پر فاحا نے کبھی اُس کو مسکراتا ہوا بھی نہیں دیکھا تھا اور آج کسی کی کال نے اُس میں اِتنا بدلاؤ ڈالا تھا یہ بات فاحا چاہنے کے باوجود ہضم نہیں کرپارہی تھی۔۔”سونے پر سُہاگہ اُس کے گالوں پر ڈمپلز بھی ہوتے تھے جو بات کرتے ہوئے اکثر ظاہر ہوتے تھے پر فاحا نے اُن پر کبھی غور نہیں کیا تھا اور آج اُس کو اپنی اِس قدر بے نیازی پر جیسے افسوس ہوا تھا۔
“آپ کے پاس ڈمپلز بھی ہیں؟اسیر جو موبائل اُٹھانے والا تھا فاحا کی حیرت سے گنگ آواز سُن کر وہ یکدم چونک کر اُس کو دیکھنے لگا جس کے چہرے پر اِتنی حیرانگی والے تاثرات تھے جیسے اُس نے کوئی آٹھواں عجوبہ دیکھ لیا ہو۔۔”پر وہ شاید نہیں جانتا تھا کہ اُس کا مسکرانا فاحا کے لیے کسی انہونی جیسا تھا۔۔”وہ لاکھ چاہنے کے باوجود یہ بات ڈائجسٹ نہیں کرپا رہی تھی۔ ۔
“آپ کو نظر آرہے ہیں تو یقیناً ہوگے۔ ۔اسیر نے جواب دیا تو اُس کا ایسا روکھا جواب فاحا کو پہلی بار بُرا لگا تھا وجہ وہ نہیں جانتی تھی مگر اُس کو بُرا لگا تھا اور بہت بُرا لگا تھا تبھی اُس نے کاٹ کھاتی نظروں سے اُس کے سیل فون کی اسکرین کو دیکھا جہاں ایک بار ہھر” ہماری دُنیا” کالنگ لکھا آرہا تھا۔ ۔
“کال نہ اُٹھائے۔ ۔فاحا اُس کے موبائل پر ہاتھ جما کر بولی تو اسیر جو فون لینے والا تھا اچانک اُس کی حرکت کا مطلب سمجھ نہیں پایا تھا
“ہمارا موبائل واپس کریں ضروری کال ہے۔ ۔اسیر نے سخت نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
“آپ نہیں اُٹھا سکتے یہ کال۔ ۔فاحا نے اٹل انداز میں اپنا فیصلہ سُنایا
“وجہ؟ اسیر نے سرد نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
“وجہ صاف ہے یہاں ہماری دُنیا کالنگ لکھا آرہا تھا۔۔”فاحا سے کچھ اور نہیں بن پایا تو یہ کہا
“توں؟اسیر نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھا
“توں ابھی کچھ دیر قبل آپ نے کہا تھا کہ یہ دُنیا بہت ظالم ہے اُس لیے آپ کو چاہیے کہ ظالم دُنیا کی کال نہ اُٹھائے ورنہ آپ” تباہ ہوجائے گے” برباد ہوجائے گے۔ ۔فاحا کے جو مُنہ میں آیا وہ بولتی چلی گئ جس پر اسیر کو اُس پر تاؤ آیا
“فضول باتوں سے پرہیز کریں اور ہمارا فون ہمیں واپس لوٹائے۔۔۔اسیر سنجیدگی سے کہتا چِھیننے والے انداز میں اُس کے ہاتھ سے موبائل لیا جس سے فاحا کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا لیکن اسیر اُس سے بے نیاز کال بیک کرنے میں مصروف تھا۔۔
ہیلو کیسی ہیں آپ؟ دوسری طرف کال ریسیو ہوتے ہی اسیر نے محبت سے سوال کیا تھا جس پر فاحا اُس کے لب ولہجے پر ششد سی رہ گئ تھی” کتنی چاہت کتنی اپنائیت تھی اُس کے الفاظوں میں جیسے وہ جس سے بات کررہا تھا وہ کوئی دل کے بہت قریب اور قیمت انسان ہو اُس سے بہت عزیز ہو۔ ۔اور آج زندگی کے اِس لمحے میں فاحا کو پہلی بار کسی سے جلن محسوس ہوئی تھی ورنہ آج سے پہلے شاید وہ ایسے لفظ سے واقف تک نہ تھی
” فاصلے یوں بھی ہونگے سوچا نہ تھا
سامنے کھڑا تھا میرے مگر وہ میرا نہ تھا
“اقدس ہماری جان ایسا کچھ نہیں ہے بس ضروری کام تھا ہمیں یہاں تبھی آپ کو ساتھ نہیں لائے ویسے بھی آپ کو جو کچھ چاہیے ہمیں بتادو” آتے ہوئے ہم وہ ساری چیزیں لے آئے گے بس آپ ناراض مت ہو۔ ۔اسیر منانے والے انداز میں دوسری طرف بیٹھی اپنی بیٹی سے بولا تو فاحا کوئی اور مطلب اخذ کرتی اپنے لب سختی سے بھینچ گئ تھی پھر اچانک”اپنے گال پر کچھ گیلا پن محسوس کرتے فاحا نے چونک کر اپنے ہاتھ چہرے پر رکھا پھر آنکھوں کو ہلکے سے چھوا اور اپنی آنکھوں کو نم دیکھ کر اُس نے خود کو بُری طرح سے لتاڑا تھا اور جلدی سے اپنا رخ کھڑکی کی جانب کیا وہ نہیں چاہتی تھی کہ یہ سب اسیر دیکھتا۔ ۔
“ٹھیک ہے شام تک ہم آپ کے پاس ہوگے۔ ۔اقدس نے جانے کیا کہا تھا جو جواباً اسیر نے اُس سے یہ کہا
“آئے لو یو ٹو میری جان مور دین یو۔ ۔اسیر چہرے پر گہری مسکراہٹ سجائے بولا تو فاحا کے صبر کا پیمانہ جیسے لبریز ہورہا تھا مگر جانے کیسے وہ خود پر ضبط کرکے بیٹھی تھی۔ ۔
“آپ ٹھیک ہیں۔۔؟اسیر کال سے فارغ ہوتا فاحا کی طرف متوجہ ہوا جو کچھ زیادہ ہی ونڈو کے پاس چپک گئ تھی۔ ۔
“فاحا کو گھر جانا ہے۔لاکھ چاہنے کے باوجود فاحا اپنے آنسوؤ پر اختیار کھو بیٹھی تھی اور اُس کا بھیگا لہجہ محسوس کیے اسیر پریشان سے اُس کی پیٹھ دیکھنے لگا۔۔
“آپ رو رہی ہیں فاحا؟اسیر نے اپنا رُخ اُس کی طرف کیے پوچھا
“آپ کو اُس سے کیا؟”آپ بس گاڑی چلائے مجھے میرے گھر جانا ہے۔۔فاحا نے سخت لہجہ اپنایا
“کیا آپ ہمارے موبائیل لینے کی وجہ سے ناراض ہوگئ ہیں؟اسیر نے اُس کا لہجہ اگنور کیا
“میرا کوئی حق نہیں آپ سے ناراض ہونے کا آپ بس گاڑی چلائے۔۔فاحا نے سرجھٹک کر کہا
“یہاں دیکھے۔۔اسیر نے سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں اُس کو مُخاطب کیا
“میں نہیں دیکھوں گی۔۔فاحا نے صاف انکار کیا
“کیوں؟وجہ پوچھی گئ۔
“کیونکہ فاحا ہیٹ اسیر ملک۔ ۔۔فاحا تڑخ کر بولی اور اُس کے جواب پر اسیر حیران و پریشان سا اُس کا منہ تکنے لگا وہ جان نہیں پایا فاحا کو اچانک ہوا کیا” اور جو اُس نے الفاظ نکالے چاہے وہ چھوٹے تھے مگر اسیر کو چُھبے بہت تھے۔ ۔
“آپ اپنی حد میں رہے ہم زرا آپ سے نرمی سے کیا پیش آئے؟ “آپ تو بولنے کا طریقہ ہی بھول گئ۔ ۔اسیر نے سخت لہجے میں کہا تو فاحا نے رُخ موڑ کر اُس کو دیکھا” اُس کی آنسوؤ سے بھری آنکھیں سرخ ناک دیکھ کر اسیر حقیقتً بہت پریشان ہوا تھا اُس کو اندازہ نہیں تھا کہ فاحا اِس قدر جذباتی ہوگئ ہوگی۔
“فاحا کیا ہوا ہے مجھے بتاؤ یوں رونا مسئلے کا حل نہیں”ہم نے اگر جارحانہ انداز میں اپنا فون لیا تو اُس کی خاص وجہ تھی جس کی کال تھی ہم اُس کو اگنور نہیں کرسکتے اور نہ کوئی تاخیر کرسکتے ہیں”آپ نے بلاوجہ اپنی انا کا مسئلہ بنایا ہوا ہے۔۔اسیر نے زندگی میں پہلی بار کسی کے آگے وضاحت پیش کی تھی وہ بھی اُس کے سامنے جو اُس کی وضاحت پر مزید بپھری ہوئی تھی
“آپ کیا کرتے ہیں یا کیا نہیں” آپ کی زندگی کی کونسی دُنیا بسی ہوئی ہے اُس سے فاحا کو رتی برابر فرق نہیں پڑتا اِس لیے آپ کی وضاحت کی فاحا کو ضرورت نہیں ہے آپ بس گاڑی چلائے یا میں اُتر جاتی ہوں۔ ۔فاحا غُصے سے لال پیلی ہوتی بولی
“اوکے مگر آپ اپنا حُلیہ سیٹ کریں پھر بتائے اپنے رونے کی وجہ۔ ۔اسیر نے پھر سے پوچھا
“کچھ چیزوں پر ہمارا اختیار نہیں ہوتا
جیسے غُصہ جیسے آنسوؤ
“جیسے دل”جیسے محبت)اور
جیسے قسمت
فاحا نے سپاٹ لہجے میں کہا تو اسیر کچھ پل کے لیے بول نہیں پایا بس بے مقصد اُس کا چہرہ تکنے لگا جہاں روزانہ کے برعکس سنجیدگی طاری ہوئی تھی۔ ۔”مگر اسیر ابھی تک اُس کے پل میں تولہ اور پل میں ماشہ والا انداز سمجھ نہیں پایا تھا۔ ۔
“اگر ہماری وجہ سے آپ ہرٹ ہوئیں تو بتاسکتیں ہیں۔ ۔اسیر نے گاڑی اسٹارٹ کرنے سے پہلے کہا جانے کیوں وہ وجہ جاننے پر اڑا ہوا تھا۔ ۔
“فاحا کو نہیں لگتا کہ آپ کو کسی کے ہرٹ ہونے سے فرق پڑتا ہوگا۔ ۔فاحا نے طنز کہا
“یہاں بات کسی کی نہیں” آپ” کی ہورہی ہے تو آپ بھی اپنی کریں۔۔اسیر نے گھمبیر آواز میں کہا تو فاحا جزبز ہوتی”اپنی ہتھلیاں آپس میں رگڑتی وہ آخر کو جواب سوچنے لگی جو اُس نے اسیر کو دینا تھا۔ ۔
“آپ نے کسی سے جلدی آنے کا وعدہ کیا ہے اِس لیے اچھا ہوگا کہ آپ مجھے جلدی ڈراپ کردے”اور اُس کے پاس جائے جس کو آپ کا انتظار ہے۔ ۔ ۔فاحا نے سوچ ویچار کے بعد کہا تو اسیر نے گہری سانس بھر کر اپنا رُخ سامنے کی طرف کیا” اور سرجھٹک کر اسٹیئرنگ ویل پر اپنی گرفت جمائے وہ ڈرائیونگ کرنے لگا “اگر فاحا اُس کو بتانا نہیں چاہتی تھی تو اِس سے زیادہ اسیر اُس کو فورس نہیں کرسکتا تھا تبھی خاموش ہوگیا تھا اور اِس درمیان فاحا نے اُس کو مُخاطب کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا اور نہ ایسی کوئی کوشش اسیر نے کی تھی دونوں کے درمیان خاموشی کا وقفہ طویل سے طویل ہوتا گیا تھا
Rimsha Hussain Novels![]()
“میشو؟
“میشو ویئر آر یو؟
میشو کہاں ہو تم”تمہارا فون بج رہا ہے آکر دیکھو کوئی ضروری کال نہ ہو۔۔
سوہان گھر آئی تو لاؤنج میں میشا کا موبائل مسلسل رِنگ کررہا تھا”اُس نے میشا کو بہت بار آواز دی مگر شاید وہ گھر نہ تھی جو اُس کی پُکار پر ابھی تک نہیں آئی تھی تبھی سیل فون اُٹھائے اُس نے موبائیل کی اسکرین کی طرف دیکھا جہاں “jaggu”کالنگ لکھا آرہا تھا یہ دیکھ کر سوہان کو تعجب ہوا
“یہ لڑکی کسی کا نمبر تک سہی نام سے سیو نہیں کرسکتی۔ ۔سوہان تاسف سے بڑبڑاتی کال اُٹھائی تو مردانہ آواز اُس کے کانوں سے ٹکرائی جس کو سُن کر اُس کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا تھا۔
“میشو ڈارلنگ تمہیں زرا میرا احساس نہیں کب سے کال پہ کال کیے جارہا ہوں” اور تمہیں مجھ معصوم کی کوئی پرواہ نہیں ہے اِٹس ناٹ فیئر۔ ۔کال ریسیو ہوتے ہی آریان ہمیشہ کی طرح پٹر پٹر بولنے لگا تھا اُس کا ایسا بے تُکلف انداز سوہان کو بہت کچھ سمجھا گیا تھا مگر اُس کے دل نے شدت سے یہ خُواہش کری تھی کہ ایسا نہ ہو جیسا وہ سوچ رہی ہے اگر ویسا ہوتا تو یقیناً اُس کو بہت ٹھیس پہنچنی تھی اپنی زندگی میں اُس نے یہ سوچا ہوا تھا کہ اُس کی بہنیں اُس سے کوئی بھی بات نہیں چُھپاتی مگر میشا کے نمبر پر کسی لڑکے کی کال اور کچھ دن پہلے فاحا کا کسی لڑکے کے ساتھ بڑی گاڑی میں بیٹھنا اُس کو یہ احساس کروا رہا تھا کہ وہ اپنی بہنوں کے سامنے جیسے کچھ بھی نہیں ہے اگر ہوتی تو وہ اُس سے شیئر ضرور کرتیں مگر یہاں تو اُنہوں نے بہت سی اہم باتیں اُس سے چُھپائی ہوئیں تھیں۔۔
السلام علیکم ۔۔میشا اور فاحا نے ایک آواز میں سلام جھاڑا تو سوہان میشا کا فون آف کرتی داخلی دروازے کی طرف دیکھنے لگی جہاں وہ ایک ساتھ آرہی تھیں
وعلیکم السلام تم کیا فاحا کو لینے گئ تھی؟ سوہان نے اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے پوچھا
“نہیں میں تو بُوا کی طرف گئ تھی اُنہوں نے نہ آج کرائی گوشت بنایا تھا۔۔”فاحا تو مجھے راستے میں ملی۔ ۔میشا نے فاحا کی طرف اِشارا کیے بتایا
“ہم سہی مجھے تم دونوں سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔ ۔سوہان نے کہا
“ضرور ہمہ تن گوش ہیں۔۔میشا شوخ ہوئی
“تم دونوں نے ابھی بہت کچھ کرنا ہے اِس لیے شادی وغیرہ کا خیال بھی اپنے دماغ میں نہیں لانا فلحال ہماری زندگیوں میں شادی جیسا ورڈ ایکزٹ نہیں کرتا۔ ۔سوہان نے کہا تو وہ دونوں حیرت سے سوہان کو دیکھنے لگیں اُن کو سمجھ نہیں آیا کہ یہ اچانک سوہان کو کیا ہوگیا۔
“خیریت ہے آپو آج آپ کو ہماری شادی کا خیال کیسے آگیا؟فاحا تھکے ہوئے انداز میں صوفے پر بیٹھتی اُس سے پوچھنے لگی۔
“ہاں بلکل اور ہم کب شادی جیسی مصیبت کے بارے میں سوچنے لگے اور افکورس شادی ہماری زندگیوں میں ایکزٹ نہیں کرتی اِس میں تو کوئی ڈاؤٹ نہیں ہے میں تمہاری اِس بات سے متفق ہوں۔۔میشا بھی فاحا کے ساتھ بیٹھتی اُس کو دیکھ کر بولی
“میرے دماغ میں خیال آیا تو سوچا دونوں کو پہلے سے بتادوں”تاکہ کل کو کوئی اُونچ نیچ نہ ہوجائے۔سوہان نے سنجیدگی سے کہا
“ایسی کوئی بات نہیں اگر ہوگی تو فاحا سب سے پہلے آپ کو بتائے گی۔ ۔فاحا اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتی مسکراکر بولی تو سوہان بھی جواباً مسکرائی
“تمہارا ٹیسٹ کیسا ہوا یہ بتایا ہی نہیں تم نے۔ ۔میشا کو اچانک خیال آیا تو پوچھ لیا
“اچھا ہوا اور آج مجھ سے اسیر ملک ملنے آیا تھا۔ ۔فاحا نے نظریں قالین پر گاڑھے بتایا تو سوہان اور میشا الرٹ ہوئیں تھیں
“وہ تم سے ملنے کیوں آیا تھا۔؟سوہان نے سنجیدگی سے پوچھا
“ہاں بتاؤ کہی تمہیں دھمکی وغیرہ تو نہیں دی اگر دی ہے تو بتاؤ میں ابھی اُس کی خبر لیتی ہوں۔۔میشا مرنے مارنے پر اُتر آئی جس پر فاحا پریشان سی اُن دونوں کا منہ تکتی رہ گئ اُس کو سمجھ نہیں آیا کہ بات کیسے؟”اور کہاں سے شروع کرے۔۔”جتنا آسان اُس نے سوچا تھا اب دونوں کا انداز دیکھ کر اُس کو معلوم ہوا یہ بات کرنا اِتنا بھی آسان نہیں تھا۔۔
Rimsha Hussain Novels![]()
“اسٹچو کیوں بنے ہوئے ہو؟زوریز نے آریان کو موبائل ہاتھ میں پکڑے دیکھ کر خاموش کھڑا دیکھا تو پوچھا
“میں نے میشا کو کال کی تھی۔۔آریان نے بتایا
“تو؟زوریز نے پوچھا
تو اُس نے پہلے کالز اُٹھائی نہیں اور جب اُٹھائی تو میری آواز سن کر کال بند کردی بغیر کوئی جواب دیئے حلانکہ میں پہلے بھی اپنے نمبر سے اُس کو کال کرچُکا ہوں۔۔”اور حیرت کی بات ہے بغیر میری عزت افزائی کیے اُس نے کال کاٹ دی۔۔آریان حیرانگی سے بولا
“تو تمہیں کال بند ہونے کا افسوس نہیں ہے بلکہ اِس بات کا افسوس ہے کہ اُس نے تمہیں گالیاں کیوں نہیں دی۔۔زوریز اُس کی بات سمجھتا تاسف سے بولا تو آریان کھسیانا سا ہوا تھا۔۔
