Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 38)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

آپ آج کافی خاموش لگ رہی ہیں؟عاشر نے لالی کو بُجھا بُجھا سا دیکھا تو سوال کیا

“عاشر وہ۔ ۔۔۔لالی نے ہچکچاکر اُس کو دیکھا

“کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے نہ؟ عاشر کو وہ کچھ پریشان سی لگی

“وہ بلیو شرٹ والا لڑکا مسلسل مجھے گھور رہا ہے۔ ۔لالی نے ایک طرف اِشارے سے اُس کو بتایا تو عاشر نے اپنا رُخ اُس کے اِشارے کی جانب کیا جہاں بلیو شرٹ میں ملبوس کوئی آدمی بیٹھا ہوا تھا مگر اُس کا دھیان لالی کی طرف نہیں تھا۔

“ایسا نہیں ہے یہ آپ کا وہم ہے” مگر یہ ہے کون؟یونی میں تو میں نے کبھی نہیں دیکھا اِس کو۔ عاشر پرسوچ لہجے میں اُس کو دیکھ کر بولا

“میرا وہم نہیں ہے ٹرسٹ می میں نے اِس کو اپنے ہاسٹل کے باہر بھی دیکھا ہے اور جب تک یونی آئی تھی یہ مجھے فالو کررہا تھا”میرے ڈپارٹمنٹ سے لیکر لائبریری کیفے” یونی بیک سائیڈ گراؤنڈ اکورڈیم ایوین میں جہاں بھی جارہی ہوں” یہ یا تو وہاں پہلے سے موجود ہے یا میرے پیچھے کھڑا مجھے گھور رہا ہے۔ لالی نے پریشان کن لہجے میں اُس کو اپنی بات کا یقین دِلوانا چاہا جس پر عاشر بھی اِس بار کھٹک سا گیا تھا”کیونکہ لالی کے لہجے میں جھلکتا یقین اُس کو مجبور کررہا تھا کہ وہ اُس کی بات پر اعتبار کرتا۔

“اچھا آپ پریشان نہ ہو” میں آپ کے ساتھ ہوں اگر مجھے کچھ غلط وائیوبس آئیں تو میں اِس کا گریبان پکڑوں گا۔ ۔عاشر نے اُس کو تسلی کروائی

“جی بہتر۔۔لالی نے اپنے چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجائی کیونکہ اُس کو گھبراہٹ سی ہورہی تھی جس وجہ سے وہ مطمئن نہیں ہو پائی تھی۔

“چِل کرو پریشان نہیں ہو” آپ جب ہاسٹل جائے گیں تو میں خود وہاں آپ کو چھوڑ آؤں گا”اور اگر کہیں گی تو صبح لینے بھی آؤں گا یونی میں کسی سائے کی طرح آپ کے پیچھے پیچھے چلتا رہوں گا پھر تو آپ مطمئن ہوجائے گیں نہ؟اور بہادر بنے یوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان نہیں ہوا کرتے”آپ کو پتا ہے اگر ایسا کچھ فاحا کو محسوس ہوا ہوتا تو وہ مجھے بتانے کے بجائے پہلے اپنا شک یقین میں بدلتی پھر اُس آدمی کے سر پہ کھڑی مسئلہ پوچھتی”اور اگر تم دونوں کے بجائے میشو ہوتی تو وہ کچھ سوچنے کی زحمت نہ کرتی بس اُس کی آنکھیں نوچ لیتی جس سے وہ اُس کو تاڑنے کی کوشش کررہا تھا۔۔”آپ اگر یہ دونوں کام نہیں کرسکتیں تو جسٹ اِگنور ہِم۔۔۔۔عاشر نے نرم لہجے میں اُس کے آگے اپنی بات رکھ کر سمجھانے کی کوشش کی تو لالی کو کچھ دھارس ملی پھر ایک خیال کے تحت اُس نے سوالیہ نظروں سے عاشر کو دیکھا

“فاحا اور میشو کون؟لالی نے جاننا چاہا

“فاحا میری بہن ہے اور میشو میری بہن کی بہن ہے۔ ۔عاشر نے بتایا تو لالی ہونک بنی اُس کا چہرہ تکنے لگی۔

“کیا ہوا سمجھ میں نہیں آیا؟ عاشر اُس کے ری ایکشن پر ہولے سے مُسکرایا

“جی مطلب کیا ہوا؟”آپ کی بہن کی بہن تو آپ کی بھی بہن ہوئی نہ۔ ۔عاشر کو دیکھ کر لالی نے اُلجھ کر کہا

“فاحا میری دودھ شریک بہن ہے۔ ۔۔عاشر نے بتایا تو لالی نے سمجھنے والے انداز میں سر کو جنبش دی

“اچھا میں اب سمجھی۔ ۔لالی نے کہا

“ہاں اور اب چلے کلاس کا وقت ہوگیا ہے۔ ۔عاشر نے اُس کو وقت کا احساس کروایا تو لالی اُٹھ کھڑی ہوئی

بغیر وقت دیکھے آپ کو پتا چل جاتا ہے کہ کلاس کا وقت ہوگیا ہے۔ ۔۔عاشر کے ہمقدم چلتی لالی بولے بغیر نہ رہ پائی

“اِس کو سادہ سے لفظ میں ٹیلینٹ کہتے ہیں۔ ۔عاشر نے فخریہ انداز میں بتایا تو لالی ہنس پڑی

Rimsha Hussain Novels❤

حویلی کے سکون کا آج آخری دن ہے پھر وہ تینوں آجائے گی تو ہمیں سکون کہاں مُیسر ہوگا۔ ۔۔اگلے دن فائقہ بیگم کو جیسے ہی نوریز ملک کے شہر جانے کا پتا چلا تو وہ ناگواریت بھرے لہجے میں بولی

“ایسی باتیں کیوں کررہی ہیں آپ؟ “بیٹیاں تو آنگن کا پُھول ہوتیں ہیں۔۔صنم بیگم اُن کی بات سن کر آہستہ آواز میں بولیں جبکہ عروج بیگم نے اُن کو جواب دینا مُناسب نہیں سمجھا تھا۔

“کس کو بول رہی ہو تم اُن کو جس نے آج تک اپنی پوتی کو سینے سے لگاکر پیار نہیں کیا تو وہ کسی اور کی بیٹیوں کو آنگن کا پُھول کیسے تصور کرینگیں۔ نورجہاں بیگم طنز کیے بنا نہ رہ پائی تھی

“بجا فرمایا تم نے کافی اچھے سے جان گئ ہو تم مجھے۔ ۔فائقہ بیگم نے اُن کی بات کا کوئی خاص اثر نہیں لیا تھا

“ابھی اُن تینوں میں سے کوئی آیا نہیں اور سب نے ابھی سے بدمزگی پھیلائی ہوئی ہے اگر وہ آجائے گی تو تم سب نے ایک دن بھی یہاں ٹِک کر نہیں رہنے دینا۔ ۔عروج بیگم نے افسوس کا اِظہار کیا اُس بات سے انجان کے جب وہ آئیں گی تو حویلی میں اپنا نہیں بلکہ اِن سب کا جینا اور رہنا مشکل کردینگیں۔۔۔۔

“آپ کو تو اُن کی آمد کا برسو سے انتظار ہے مگر کوئی ہے جس کو یہ قطعاً ناپسند ہے۔ ۔اسمارہ بیگم بھی آخر میدان میں اُتر آئی جس پر فائقہ بیگم نے اُن کو دیکھ کر سرجھٹکا تھا

“خود بھی سب سکون سے رہو اور اُن کو بھی رہنے دیا جائے باقی اللہ مالک ہے۔ ۔عروج بیگم نے جیسے بات ختم کر ڈالی

“بیشک۔ ۔۔صنم بیگم اُن کی بات پر جواباً بولی باقی تینوں تو ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کے در پہ تھیں۔ ۔

Rimsha Hussain Novels❤

کتنا پریشان ہوگیا تھا میں تمہیں کچھ اندازہ ہے اِس بات کا؟ زوریز کو ہوش آیا تو آریان اُس کو دیکھ کر منہ بناکر بولا

“میں ٹھیک ہوں اب تو اِس لیے شکل سہی کرو اپنی۔ ۔زوریز اُس کو دیکھ کر آہستگی سے بولا نظریں جبکہ دروازے کی طرف تھیں اِس اُمید کے ساتھ کہ ابھی وہاں سے سوہان آئے گی

کیا تمہیں کسی کا انتظار ہے؟”ویسے شرم کی بات ہے پیٹھ تمہاری کچھ وقت کے لیے ناکارہ ہوگئ ہے اور تمہیں ابھی بھی عشق معشوقی سوجھ رہا ہے پہلے اپنی حالت سُدھار لو پھر کرلینا عشق پیار محبت۔ ۔۔آریان اُس کی نظروں کا تعاقب کرکے بولا تو زوریز نے آنکھوں کو موند کر کھولا فلحال وہ ایسی پوزیشن میں نہیں تھا کہ آریان کی باتوں کا مُقابلہ کرتا یا اُس کو گھوری سے نواز سکتا۔

“آفریفی باندر کی طرح شکل کیوں بنائی ہوئی ہے” وہ یہی ہے

“کہاں؟

آریان اُس کو چُپ دیکھ کر تسلی کے لیے کچھ کہنے والا تھا جب درمیان میں زوریز نے ٹوک کر پوچھا تو اُس کی ایسی بے قراری پر آریان حیران ہوئے بنا نہ رہ پایا” محبت اپنی جگہ مگر اُس کو نہیں تھا پتا کہ زوریز اپنی اِس کرٹیکل کنڈیشن میں بھی سوہان کو سوچ رہا ہوگا” یا اُس کی آمد کے انتظار میں ہوگا

“میں نے اُن سے کہا کہ گھر جاکر فریش اپ ہوکر آئے” کیونکہ ساری رات وہ یہاں تھی بے آرام سی۔ ۔۔آریان نے سرجھٹک کر بتایا

“مجھ سے مل کر کیوں نہیں گئ؟زوریز کو جہاں اُس کا رات یہاں رُکنے کا سن کر خوشی ہوئی تھی وہی اُس کے جانے کا سُن کر مایوسی بھی ہوئی تھی۔

“تمہیں ہوش نہیں تھا اور کب آتا اِس کا بھی کچھ پتا نہیں تھا تو بس یہی وجہ تھی کہ وہ تمہیں دور سے دیکھ کر چلی گئ۔ ۔۔آریان نے وجہ بتائی

“اب کب آئے گی؟ زوریز نے پوچھا

“مجھے کیا پتا؟”ہاں جیسی اُس کی حالت تھی اُس کو مدعے نظر رکھ کر کہا جائے تو ابھی راستے میں ہوگی۔ آریان کا لہجہ آخر میں شوخ ہوگیا تھا مگر زوریز خاموش ہوگیا تھا۔

“کیا ہوگیا ہے زوریز؟”سوہان کو ناپاکر تم نے اپنا چہرہ ایسا بنا دیا ہے جیسے تمہاری ہر صبح اُس کے دیدار سے ہوتی ہے۔۔آریان کو اُس کا اِتنا سنجیدہ پن سمجھ میں نہیں آیا تھا تبھی بول پڑا

“میں آرام کرنا چاہتا ہوں۔ ۔۔زوریز نے اُس کو دیکھ کر محض اِتنا کہا

“ٹھیک ہے میں چلا جاتا ہوں پر یقین کرو”تمہارا اتنا سیریس ہونا میری سمجھ سے باہر ہے”یہاں میں تمہاری فکر میں لاحق ہوکر اپنی والی سے سہی سے بات نہیں کرپایا تھا اور تم اُٹھ کر ایسے ری ایکٹ کررہے ہو جیسے سالوں سے سوہان سے تمہارا ملنا اُس سے نہیں ہوا۔۔آریان اُس کو گھور کر بولا کیونکہ اُسکی بس ہوگئ تھی

“ایسی بات نہیں ہے آریان میں واقعی میں آرام کرنا چاہتا ہوں۔۔زوریز نے آہستہ آواز میں کہا

“ٹھیک ہے جیسا تم کہو پر مجھے ایک بات بتاؤ کیا تمہیں کسی پر شک ہے کہ تم پر یہ قاتلانہ حملہ کس نے کیا ہے؟”اگر پتا ہے تو مجھے بتاؤ کیونکہ کل سے پولیس والوں کو تمہارے ہوش میں آنے کا انتظار تھا کہ تم سے انویسٹی گیشن کرپائے۔۔آریان نے سنجیدگی سے پوچھا تو زوریز کو کل کا والا واقعہ یاد آیا تو اِس حالت میں بھی کل کا سوچتے ہوئے اُس کے ماتھے کی رگیں تن گئ تھیں”اگر کل وہ وقت پر سوہان کو نہ دیکھ پاتا تو؟”اِس سے زیادہ زوریز سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا۔

“کیا ہوا؟آریان نے جانچتی نظروں سے اُس کو دیکھا

“کچھ بھی نہیں اور میرا ایک پر الزام لگانا فضول ہے کیونکہ میرے دُشمن بہت ہیں۔۔زوریز نے اُس کو ٹالا

“ٹھیک ہے میں اپنے تِھرو جاننے کی کوشش کرلوں گا۔ ۔آریان نے سمجھنے والے انداز میں سر کو جنبش دی

“تم اِن معاملات میں نہ پڑو آریان جو ہونا تھا وہ ہوگیا ویسے بھی میں پُرانی باتوں کو دوہرانے کا میں عادی نہیں ہوں۔ ۔زوریز نے سنجیدگی سے اُس کو ٹوک دیا۔

“جانتا ہوں تم لڑائی نہیں چاہتے تم اِن سے دور بھاگتے ہو پر اِس کا یہ مطلب نہیں ہوا نہ ہم ایسے لوگوں کو چھوڑدے۔۔آریان کو گویا اُس کی بات پسند نہیں آئی

“ہم بعد میں اِس ٹاپک پر بات کرینگے ابھی تم رہنے دو۔ ۔زوریز نے جیسے بات ختم کی۔

“ٹھیک ہے جیسا تم کہو پر کیا کورٹ میں سی سی ٹی وی کیمرہ وغیرہ کا سسٹم ہوتا ہے؟آریان نے اپنے لہجے کو سرسری سا بنایا

“تم کیوں پوچھ رہے ہو؟زوریز کو اُس کے اِرادے سہی نہیں لگے۔

“میرا کورٹ میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا نہ تبھی پوچھ رہا ہوں۔ ۔آریان نے دانتوں کی نُمائش کی

“میں تم سے بڑا ہوں اِس لیے مجھ سے چلاکی کرنے کی تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ۔زوریز نے تپی ہوئی نظروں سے اُس کو دیکھ کر وارن کیا جو اُس کو آرام تک کرنے کو نہیں دے رہا تھا۔

“تم بڑے ہو” تمہارا ظرف بھی بڑا ہے اور تم میں صبر کرنے کی بھی استقامت ہے پر میں چھوٹا ہوں سمجھا کرو ایک عرصہ ہوا ہے کسی نے میرے ہاتھوں کی کُھجلی ختم نہیں کی۔ ۔آریان ملتجی لہجے میں اُس کو دیکھ کر بولا تو زوریز کے کچھ بھی کہنے سے پہلے وہاں ڈاکٹر کے ہمراہ نرس آئی

“آپ کے ہوسپٹل کا یہ کیسا رول ہے جہاں مریض کے پاس کوئی بھی گُھنٹوں بیٹھ سکتا ہے”باتیں کرسکتا ہے سب سے بڑی بات ہے عجیب وغریب قسم کے سوالات کرسکتا ہے” یہ کیسا ہوسپٹل ہے؟”جہاں اُس کو آرام تک نہیں کرنے دیا جارہا ہے اُس کی حالت کا تو آپ کو سوچنا چاہیے۔ ۔زوریز ڈاکٹر کو دیکھ کر خطرناک حد تک سنجیدہ آواز میں بولا تو ڈاکٹر اور نرس پریشان ہوگئے تھے جبکہ آریان تو” مریض کے پاس کوئی بھی گُھنٹوں بیٹھ سکتا ہے”کی بات پر اٹکتا اُس کو کھاجانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

“سوری میں کچھ سمجھا نہیں؟”ڈاکٹر گڑبڑا کر بولا

“اِن محترم کو باہر نکالے تاکہ میں آرام کرپاؤں۔۔زوریز نے آریان کی طرف اِشارہ کرکے بتایا تو آریان نے دانت کچکچاکر اُس کو گھورا

“زوریز۔۔آریان نے اُس کو تنبیہہ کی

“آپ نے سُنا نہیں؟زوریز آریان کو نظرانداز کرتا ڈاکٹر کو دیکھنے لگا جو اب آریان کو دیکھ رہا تھا

“یہ تو آپ کا بھائی ہے نہ؟زوریز کو دیکھ کر نرس نے پوچھا کیونکہ اُس نے کل آریان کی خراب حالت اچھے سے دیکھ لی تھی اور یہ بھی کہ کیسے اُس نے اکیلے پوری میڈیا والوں کو سنبھالا تھا۔

“ابھی آپ وہ کریں جو میں کہہ رہا ہوں۔۔زوریز کا انداز بے لچک تھا جیسے وہ واقعی میں آریان کو جانتا نہیں تھا” اور وہ ایسا کبھی نہ کرتا اگر آریان کل کے بارے میں تحقیقات کرنے نہ لگ پڑتا وہ نہیں چاہتا تھا کہ آریان کسی جھگڑے میں پڑے وہ جانتا تھا وہ چاہے باہر سے کتنی بھی شوخ مزاجی کا مُظاہرہ کرلے مگر اُس کو اپنے غُصے پر تھوڑا بھی کنٹرول نہیں تھا۔ “اگر وہ آپے سے باہر ہوتا تو شاید ہی کوئی اُس کو سنبھال سکتا تھا۔ “اور جسطرح آریان اُس کی دیوانگی سوہان کے لیے دیکھ کر حیران پہ حیران ہوئے جارہا تھا ٹھیک اُس طرح پہلے زوریز بھی حیران ہوا تھا کہ وہ کیسے میشا سے اپنی عزت افزائی کروانے کے بعد خوشی محسوس کرتا تھا اور ڈھیٹائی سے ہنستا تھا۔

“آپ پلیز باہر آئے پیشنٹ کو آرام کی ضرورت ہے۔ ۔نرس نے آریان کو مُخاطب کیا

“ہاں کیوں نہیں میں جاتا ہوں پر آپ۔ ۔۔نرس کو جواب دیتا آریان آخر میں زوریز کو مُخاطب ہوا

“یہ پنگا آپ پر بھاری پڑنے والا ہے مسٹر زوریز دُرانی۔ ۔آریان اپنے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجاکر بولا تو زوریز کو اپنے آس پاس خطرے کی گھنٹیاں صاف سُنائی دی تھیں مگر اب کیا ہوسکتا تھا جب چڑیا چُگ گئ کھیت اب تو بیڈ پر لیٹے لیٹے اُس کو یہ جاننا تھا کہ آریان جواب میں اُس کے ساتھ کرنے والا کیا تھا؟

❤
❤
❤
❤
❤
❤

“تم کہی جانے لگی تھی کیا؟ نوریز ملک اُن کے گھر میں داخل ہوتے سوہان کو دیکھ کر بولے جو تیار سی ہوسپٹل جانے کا اِرادہ رکھے ہوئے تھی۔

“آپ کس مقصد سے آئے ہیں؟اُس کے سوال کو اگنور کرکے سوہان نے سنجیدگی سے پوچھا

“آج بھی اندر نہیں آنے دو گی؟نوریز ملک نے پوچھا تو گہری سانس بھر کر سوہان سائیڈ پر کھڑی ہوتی اُن کو اندر آنے کا راستہ دیا” نوریز ملک کو برداشت کرنا اُن سے بات کرنا سوہان کے لیے بہت مشکل عمل تھا وہ نہیں تھی جانتی کہ وہ کیسے ایک چھت کے نیچے اُن لوگوں کے ساتھ رہے گی جن سے اُس کو بہت زیادہ نفرت تھی۔

“فاحا اور میشا کہاں ہیں؟نوریز ملک گھر میں داخل ہوئے تو سوہان اُن کو لاؤنج میں لائی تھی جہاں کوئی بھی نہیں تھا تبھی پوچھ لیا

“فاحا انسٹی ٹیوٹ گئ ہے اور میشا کی اپنی جاب ہے وہ وہاں گئ ہے” باقی ساجدہ آنٹی پڑوس میں گئ ہوئیں ہیں۔ ۔سوہان نے سنجیدگی سے بتایا

“میشا کو جاب کی کیا ضرورت ہے اُس کو کچھ چاہیے تھا تو مجھے بتادیتی۔ نوریز ملک اُس کی بات سن کر بولے

“ایسی باتیں نہ کریں کیونکہ میں بدمزگی نہیں چاہتی کوئی۔۔سوہان نے طنز آواز میں کہا تو نوریز ملک چُپ کرگئے تھے۔

“میں تم تینوں کو لینے آیا ہوں سامان جو ضروری ہے بس وہ لینا”حویلی میں تم تینوں کے لیے سارے انتظامات ہوچُکے ہیں۔ ۔نوریز ملک نے بات کو بدل کر کہا

“ہمیں راستہ ابھی تک یاد ہے ہم خود سے آجائینگے آپ کو زحمت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سوہان نے سنجیدگی سے کہا

“میں باپ ہوں تم لوگوں کا اِس لیے آیا ہوں اور زحمت لفظ کا استعمال کرکے مجھے شرمندہ مت کرو۔ “اُن دونوں کو کال کرو اور کہو میں لینے آیا ہوں جلدی سے آجائے۔ ۔نوریز ملک نے گویا منت کی

“وہ دونوں آپ کے ساتھ چلے گیں مگر مجھے ضروری کام ہے کچھ دِنوں تک آجاؤں گی۔سوہان نے کہا

“کیسا کام؟نوریز ملک نے جاننا چاہا

“میرے کلائنٹ زوریز دُرانی پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے آپ کو تو پتا ہوگا؟سوہان نے طنز نظروں سے اُن کو دیکھ کر پوچھا

“ہاں میں نے سُنا تھا کافی افسوس ہوا سن کر۔نوریز ملک نے کہا

“مجھے اُن سے ملنے جانا ہے اور جب تک وہ ڈسچارج ہوکر گھر نہیں چلا جاتا اپنے میں اُس کے ساتھ رہوں گی۔سوہان نے کہا تو نوریز ملک عجیب نظروں سے سوہان کو دیکھنے لگے

“ایک کلائنٹ کو اِتنی اہمیت میں یہ بات کچھ سمجھ نہیں پایا کیا تم اُس کے ساتھ کمنٹڈ ہو؟نوریز ملک نے سیدھی بات کی جو کی سوہان کو اُن کے ایسے سوال کی توقع نہیں تھی۔

“آپ نے بہت پرسنل سوال کیا ہے اور آپ کو مجھ سے ایسی بات پوچھنی نہیں چاہیے تھی۔ سوہان نے بلاجھجھک اپنی ناگواریت کا اِظہار کیا

“میں باپ ہوں تمہارا اور اگر پوچھ بھی لیا تو اِس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ نوریز ملک کو اُس کا ایسے ری ایکٹ کرنا سمجھ میں نہیں آیا تھا

“میں میشا اور فاحا کو کال کرتیں ہوں تاکہ وہ یہاں آجائے۔ ۔سوہان اُن کی بات نظرانداز کرتی اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی

“تم ناراض ہوگئ ہو؟نوریز ملک نے اُس سے پوچھا

“میں کسی سے ناراض نہیں ہوتی۔۔سوہان نے جیسے جتایا

“مگر میں کسی نہیں تمہارا باپ ہوں۔ ۔نوریز ملک نے جیسے یاد کروایا

“وہ باپ جس کو بیس سال بعد اپنی ذمیداریوں کا احساس ہوا ہے۔۔سوہان ناچاہتے ہوئے بھی طنز ہوگئ تھی جس پر نوریز ملک کے پاس اُس کی اِس بات کا جیسے کوئی جواب نہیں تھا تبھی خاموش سے ہوکر اُس کا چہرہ دیکھنے لگے جو ایک نظر اُن پر ڈالے لاؤنج سے باہر نکل گئ تھی۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

“چلو میرے ساتھ۔۔۔یونی کے باہر لالی عاشر کا انتظار کررہی تھی جب ایک آدمی اُس کا بازوں سختی سے دبوچ کر بولا تو اُس کو دیکھ کر لالی کا پورا وجود خوف سے سِرسرانے لگا کیونکہ یہ وہی آدمی تھا جس پر اُس کو شک گُزرا تھا اور اُس نے عاشر کو بھی بتایا تھا

“ککک کون ہو تم؟لالی خوفزدہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھنے لگی اُس نے مدد کے لیے آس پاس دیکھا مگر کوئی بھی نہیں تھا”عاشر کو بھی کوئی ضروری کام تھا جس کا بول کر وہ اُس کو انتظار کرنے کا بولتا خود دوبارہ سے یونی میں چلاگیا تھا

“چلتی ہو یا ابھی تمہاری گردن کاٹ دوں؟وہ اُس کے سامنے اپنا چاقو لہراکر بولا تو اپنی چادر کا کونہ پکڑے لالی نے بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا تھا۔

“چ

آآآہ

“ابھی وہ کچھ کہنے والا تھا جب پیچھے سے کسی نے اُس کی گردن دبوچ کر رُخ اپنی طرف کیے ایک مکہ اُس کے چہرے پر مارا تو وہ نیچے گِرا پڑا مگر اُس شخص کی نظر جیسے عاشر پر پڑی تو فورن سے بھاگنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی”

“عاشر نہیں۔۔عاشر جو اُس کے پیچھے جانے لگا تھا “لالی کی آواز پر فورن سے اُس کی طرف آیا

“آپ ٹھیک ہیں؟”سو سوری میری وجہ سے آپ کو یہ سب جھیلنا پڑا۔۔عاشر کو شرمندگی ہوئی

“مم مجھے ہاسٹل چھوڑ آئے۔۔لالی نے محض اِتنا کہا اُس کا پورا جسم ابھی تک لرز رہا تھا وہ جان نہیں پائی کہ وہ کون تھا جو اُس کو مارنا چاہتا تھا ہلانکہ وہ یہاں کسی کو جانتی تک نہیں تھی اور نہ یونی میں وہ زیادہ کسی سے گُھلی ملی تھی۔

“ہاں آئے میں چھوڑ آتا ہوں۔۔عاشر نے بنا بحث کیے کہا تو لالی شکر کا سانس بھرنے لگی جبکہ عاشر نے ایک بار مُڑ کر ضرور دیکھا تھا۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

“آپ زوریز سے نہیں مل سکتی۔ ۔سوہان جیسے تیسے کرکے جب ہسپتال آئی تو آریان نے گہرے سنجیدہ لہجے میں اُس سے کہا

“کیوں؟ سوہان نے آئبرو اُپر کیے اُس کو دیکھا وہ سمجھ نہیں پائی کہ آریان کو کیا ہوا جو اُس کو زوریز سے ملنے کے لیے روک رہا تھا۔

“کیونکہ ڈاکٹر کا کہنا ہے اور زوریز کا ماننا ہے کہ اُس کو آرام کی ضرورت ہے دیکھیں مجھے بھی باہر نکالا ہوا ہے میں تو بھائی ہوں اُس کا چھوٹا سا اور آپ تو پھر۔ ۔۔آریان اِتنا کہتا خاموش ہوگیا تھا۔

“بات کو ادھورا نہیں چھوڑا جاتا۔ سوہان نے سنجیدگی سے کہا

“خفا کیوں ہوتی ہو میں

سائیڈ پر ہوجاؤ۔۔۔آریان کچھ کہنے والا تھا جب سوہان نے درمیان میں اُس کی بات کاٹ کر کہا

“لگتا ہے تمہیں میری بات سمجھ نہیں آئی؟آریان نے اُس کو گھورا

“لگتا ہے تمہیں میری بات سُنائی نہیں دی میں نے کہا سائیڈ پر ہوجاؤ مجھے زوریز سے ضروری بات کرنی ہے۔سوہان نے بھی اُس کے انداز میں کہا

“آپ کا مطلوبہ پیشنٹ اِس وقت آرام نوش فرما رہا ہے برائے مہربانی دوسری باہر آنے کی کوشش کریں شکریہ۔”آریان اُس کا راستہ بلاک کرتا ہوا بولا

“تو تم مجھے جانے نہیں دوگے؟ سوہان نے سنجیدگی سے پوچھا

“نہیں۔ آریان نے اپنا سر نفی میں ہلایا

“سوچ لو۔ سوہان نے کہا

“سوچ لیا۔ آریان بنا تاخیر کیے بولا

“زوریز آپ کیسے کھڑے ہوسکتے ہیں؟”آپ کو تو گولی لگی تھی؟سوہان آریان کے پیچھے دیکھتی حیرانگی سے بھرپور آواز میں بولی تو اُس کی بات سن کر آریان نے چونکتے ہوئے مُڑ کر دیکھا جہاں کوئی بھی نہیں تھا اُس سے پہلے آریان کچھ سمجھ پاتا اُس سے پہلے سوہان بڑی چلاکی سے اُس کی سائیڈ سے ہوتی وارڈ میں داخل ہوگئ تھی جہاں زوریز تھا۔

“اففف آریان بدھو جو بھی آتا ہے تُجھے ماموں بناکر چلا جاتا ہے۔ ۔آریان کو جب معاملہ سمجھ میں آیا تو وہ تپ کر بڑبڑانے لگا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *