Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 44)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

نوریز اگر آپ کو ہماری بات بُری نہ لگے تو ہم آپ سے کچھ کہے؟عروج بیگم نے نوریز ملک سے کہا جو اُن کے کمرے میں موجود تھے

“اماں سائیں آپ اجازت کیوں لے رہیں ہیں؟”آپ نے جو کہنا ہے آرام سے کہیں میں کون ہوتا ہوں بُرا ماننے والا؟نوریز ملک اُن کی بات سن کر مسکراکر بولے

“اسیر کا آپ کو پتا ہے ہمارا بچہ بہت سُلجھا ہوا نیک فرمانبردار ہے بس تھوڑا غُصہ کا تیز ہے ورنہ ہمارے بچے میں کوئی بھی بُرائی بھی نہیں ہے۔۔۔۔بات شروع کرنے سے پہلے عروج بیگم نے تہمید باندھنا شروع کی

“مجھے پتا ہے اماں سائیں اسیر سب سے منفرد ہے اور بہت اچھا ہے۔۔۔نوریز ملک نے اُن کی بات سے اتفاق کیا

“اچھا یہ بتاؤ ہماری سوہان کب آنے والی ہے یہاں؟عروج بیگم کو اچانک سوہان کا خیال آیا

“اِن شاءاللہ کل تک آجائے گی آنا تو اُس نے آج تھا پر کچھ ضروری کام کی وجہ سے وہ نہ آ پائی کل اِن شاءاللہ آجائے گی۔۔۔نوریز ملک نے بتایا

“اچھا وہ خیر سے آئے تو آپ اُس کے لیے فیصلہ لینا۔۔عروج بیگم نے کہا تو نوریز ملک کا ماتھا ٹھٹکا

“مطلب؟وہ ناسمجھی سے اپنی ماں کو دیکھنے لگے

“مطلب صاف ہے “سوہان ماشااللہ سے اٹھائیس برس کی ہوچُکی ہے اور لڑکی ذات کی عمر یہ بہت زیادہ ہے تمہیں اُس کی شادی کے بارے میں سوچنا چاہیے تاخیر بہت ہوگئ ہے پہلے سے اب تمہیں عقل سے کام لینا چاہیے۔۔۔عروج بیگم نے صاف لفظوں میں کہا تو نوریز ملک سوچوں میں ڈوب سے گئے

“کیا ہوا؟”کیا سوچنے لگ پڑے”اپنی بیٹیوں کی شادی نہیں کروانی کیا ماشااللہ سے جوان ہوگئ ہیں”بالغ ہیں وہ اور بیٹیوں کی شادی میں دیری نہیں کرنی چاہیے”پہلے سوہان کا سوچو پھر میشا کے بارے میں “فاحا پھر بھی ابھی چھوٹی ہے اور اُس میں بچپنا بھی بہت ہے۔۔عروج بیگم اُن کو خاموش دیکھ کر ٹٹولنے لگیں

“اماں سائیں کیا آپ کو لگتا ہے وہ مجھے اپنی زندگی کے فیصلے پر اِتنا بڑا حق دینگی؟نوریز ملک نے کہا تو وہ مسکرائیں

“دیکھو نوریز شادی تو آپ نے ہی کروانی ہے”تو پھر کیا فرق پڑتا ہے پسند تمہاری ہو یا اُن کی؟”پہلے سوہان سے پوچھو اگر اُس کی زندگی میں کوئی نہیں تو ہمارے اسیر کے ساتھ اُس کا جوڑ بہت اچھا لگے گا ماشااللہ سے ہم عمر بھی تو اور ہم مزاج بھی ہوگے۔۔۔عروج بیگم اپنے دل کی بات زبان پر لائیں تو نوریز ملک چونک اُٹھے اور حیرت سے عروج بیگم کا چہرہ تکنے لگے۔

“اماں سائیں سوہان اور اسیر؟نوریز ملک کو لگا شاید اُن کو سُننے میں کوئی غلطی ہوگئ ہے

“ہاں کیوں کیا کوئی مسئلہ ہے؟

“اماں بات مسئلے کی نہیں ہے پر اسیر شادی شدہ ہے اور چھ سالہ بیٹی کا باپ بھی ہے”میں کیسے سوہان کی شادی اُس سے کروادوں؟”وہ تو مجھ سے پہلے نالاں رہتیں ہیں ایسے اگر میں اُن سے شادی کی بات کروں گا وہ بھی سوہان سے اسیر کے مطلق تو وہ مجھ سے اور دور ہوجائے گی۔۔۔نوریز ملک نے اپنے اندر موجود خدشات کو بیان کیا

“اسیر شادی شدہ ہے تو کیا ہوا؟”اُس کی عمر زیادہ بڑی تو نہیں سوہان کو وہ خوش رکھے گا۔۔۔عروج بیگم نے کہا

“اسیر شادی کرے گا ہی نہیں اور اب جب وہ ایک بیٹی کا باپ ہے تو اُس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا آپ یہ خیال اپنے دماغ سے نکال دے ویسے بھی میرا نہیں خیال کہ بھائی صاحب راضی ہوگے۔۔نوریز ملک نے سنجیدگی سے دو ٹوک انداز اپنائے کہا

“کیوں نہیں مانے گا؟اور نوریز بیٹے سالوں پہلے تم نے ہماری بات نہیں مانی تھی”ہم والدہ تھیں آپ کی لیکن آپ نے ہماری بات پر سجاد ملک کی بات چیت ترجیح دی اور اپنا نقصان کروایا “لیکن سالوں پُرانی غلطی کو دوبارہ مت دوہراؤ اِس میں آپ کا بھی فائدہ ہوگا آپ کی ایک بیٹی آپ کے پاس رہے گی”اور ماں باپ کو تو اپنی پہلی اولاد سے انسیت کچھ زیادہ ہوتی ہے۔۔۔عروج بیگم نے ہر ممکن کوشش کی نوریز ملک کو اپنی بات پر امادہ کرپائے

“اماں سائیں ابھی تو سوہان آئی نہیں اور جب آئے گی تو میں بات کرنے کی کوشش کروں گا”آپ تھوڑا مجھے وقت دے۔۔۔نوریز ملک گہری سانس خارج کرکے بولے

“ٹھیک ہے تمہیں جتنا وقت چاہیے وہ تم لو پر زیادہ دیر مت کرنا”ہم چاہتے ہیں تمہاری بیٹیاں بھی اپنے گھروں کی ہوجائے اور ہمارا اسیر بھی اپنی زندگی میں خوش رہے آخر وہ بھی کب تک یو چھڑا چھانٹ بے مقصد زندگی گُزارے گا خود کے بارے میں نہیں سوچے گا بس دوسروں کی مدد کرے گا۔۔۔عروج بیگم نے حتمی لہجے میں کہا جس پر نوریز ملک انکار نہیں کرپائے کیونکہ سالوں پہلے کی گئ غلطی کو وہ دوبارہ رپیٹ کرنا نہیں چاہتے تھے۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

“آپ نے جس لڑکی کو مارنے کا کہا تھا اسلم نے تو اُس کو نہیں مارا”اُلٹا خود ہسپتال کے بیڈ پر پڑا ہے”اب جب کبھی وہ ہوش میں آئے گا پولیس اُس سے بیان لے گی تو بتائے آپ ہمارا کیا ہوگا؟نذیر نے جھنجھلائی ہوئی آواز میں سجاد ملک سے کہا جو خود پریشان کھڑے تھے

“اُس کو مارا کس نے؟سجاد ملک کے دماغ میں بس ایک سوال گردش کررہا تھا

“سوہان نے اور کس نے۔۔۔۔نذیر نے نخوت سے سرجھٹک کر کہا

“سوہان لڑکی ہے وہ اگر گن کو سہی طریقے سے پکڑ پائے وہ ہی بڑی بات ہوگی۔۔۔سجاد ملک اُس کی بات پر تضحیک آمیز مسکراہٹ سے بولے

“آپ کو یقین نہ آئے مگر سُننے میں یہی آیا تھا کہ خود کو بچانے کے لیے سوہان نے کلر کو شوٹ کردیا اور بابا سائیں اسلم کی ٹانگ کافی زخمی ہوئی پڑی ہے وہ ایک ٹانگ سے معذور ہوچُکا ہے اب وہ کسی کام کا نہیں رہے گا”زندہ رہ کر بس ہمارے لیے مُشکلات کھڑی کرسکتا ہے۔۔۔نذیر ملک یہاں سے وہاں ٹہلتا اُن سے بولا

“شہر ہسپتال میں اگر اُس سے کوئی ملنے گیا بھی تو لوگوں کا شک ہم پر آئے گا”سجاد ملک نے گویا اُس کی عقل پر ماتم کیا

“اسیر بھائی سے کہیں وہ سب سنبھال دے گا۔۔۔نذیر کو اچانک خیال آیا

“اگر اُس کے کانوں میں یہ بات پُہنچی تو سب سے پہلے وہ تمہارا سینہ گولیوں سے چھلنی کردے گا”ہے بڑا بھائی تمہارا مگر اُس کے اصول ہی اپنے ہیں۔۔۔سجاد ملک نے سنحیدگی سے کہا

“تو ایسے اصولوں کا کیا کرنا جو بھائی کا دُشمن بنادے ویسے بھی یہ ساری پلائننگ تو آپ کی تھی”میں نے تو بس زوریز دُرانی پر جھوٹا کیس لگایا تھا۔۔۔نذیر نے اپنا پلرا صاف کیا

“اِس وقت تمہاری شکل مجھے بہت بُری لگ رہی ہے اِس لیے یہاں سے چلے جاؤ۔۔۔سجاد ملک نے اُس کو باہر کا راستہ دیکھایا تو”میشا جو سجاد ملک کے کمرے کے پاس کھڑی اُن کی ساری گفتگو سُن رہی تھی جلدی سے وہاں سے ہٹ گئ تھی۔

“آپ میرے پر غُصہ ہونے کے بجائے مسئلے کا حل تلاش کریں۔۔۔نذیر اِتنا کہتا وہاں سے چلاگیا”پیچھے سجاد ملک گہری سوچو میں ڈوب چُکے تھے۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

کیا ہوا ہے تمہیں کافی اُداس لگ رہے ہو؟زوریز اپنے کمرے میں آریان کو آتا دیکھا تو وہ اُس کو کچھ اُداس سا لگا تبھی پوچھ لیا

“ایک ہفتے سے زیادہ وقت ہوگیا ہے”میشا نہ تو میری کال اُٹھا رہی ہے اور نہ میرے کسی مسیج کا جواب”اور تمہیں پتا ہے کیا وہ اِس طرح کا اگنور مجھے کبھی بھی نہیں کرتی۔۔۔۔”زوریز کے ایک بار پوچھنے پر آریان نے اُس کو ساری بات بتائی

“اچھا تو یہ بات ہے۔۔۔زوریز جیسے سب کچھ سمجھ گیا

“ہاں جی یہ بات ہے اور یہاں سوہان آئی تھی نہ؟آریان بات کرتے کرتے اچانک چونک گیا

“آج نہیں تھی آئی وہ۔۔۔زوریز نے گہری سانس بھر کر بتایا

“کیوں؟آریان نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھا

“کیونکہ وہ مصروف رہنے والی ہے اور یہاں ہم اکیلے رہتے ہیں تو وہ بار بار یہاں آ بھی نہیں سکتیں تھیں۔۔زوریز نے بتایا

“پھوپھو کا پاکستان آنے کا پلان بن گیا تھا مگر وہ نہیں آئی اب تمہارا بتایا ہے میں نے دیکھنا کیسی ڈوری ڈوری ہوئیں آئے گیں۔۔۔۔آریان نے بالوں میں ہاتھ پھیر کر دلکشی سے بتایا

“کتنی بُری بات ہے تم نے خُوامخواہ پھوپھو کو پریشان کردیا جبکہ میں ٹھیک ہوں۔۔۔زوریز نے تاسف سے اُس کو دیکھا

“اچھا اگر تم ٹھیک ہو تو بیڈ سے اُٹھ کر دیکھانا زرا۔۔۔آریان نے اُس کو گھور کر کہا

“جو بھی لیکن تمہیں پھوپھو کو پریشان کرنا نہیں چاہیے تھا۔۔۔زوریز نے سنجیدگی سے کہا

“اُنہوں نے پاکستان آنا تو تھا نہ اب اگر میں نے کال پر تمہاری تشویشناک حالت اور نازک صورتحال کے بارے میں بتایا تو کونسا بڑی بات ہے اِس میں”چل کرو یار اور مجھے بھی کرنے دو۔۔۔آریان نے کہا تو اُس کے لہجے میں موجود شرارت پر زوریز نے اپنا سرجھٹکا

“اچھا خیر چھوڑو مجھے تمہیں ایک بات بتانی تھی”جس وجہ سے میں پریشان تھا۔۔آریان اُس کے پاس آکر بیٹھ کر بولا

“تم وہ بات مجھے آلریڈی بتاچُکے ہو۔۔۔زوریز اُس کو دیکھ کر بولا

“آدھی بات تھی وہ۔۔۔آریان نے بتایا

“پوری بات بتاؤ پھر؟زوریز اُس کی طرف متوجہ ہوا

“میں آج اُن کے گھر گیا تھا۔۔۔آریان نے بتایا

“اچھا پھر؟

اُن کے گھر کے باہر تالا لگا ہوا تھا تم سے یہ پوچھنا تھا اُن کا گھر وہی تھا نہ جہاں ہم پہلے ایک مرتبہ جاچُکے تھے”یا کوئی اور ہے۔۔آریان نے بتانے کے بعد پوچھا

“ہاں وہ تھا اُن کا گھر مگر اب نہیں ہے۔۔۔زوریز نے گہری سانس اپنے اندر کھینچ کر بتایا

“اب نہیں ہے سے مطلب؟کیا وہ کہی اور شفٹ ہوئے ہیں؟آریان ناسمجھی سے پوچھنے لگا

“وہ اپنے والد کے ساتھ رہا کرینگی اب اِس لیے چلی گئیں ہیں۔۔۔زوریز نے بتایا

“کل تک تو اُن کا کوئی بھی نہیں تھا پھر اچانک یہ باپ کہاں سے نمودار ہوا؟آریان حق دق رہ گیا زوریز کی بات سن کر

“باپ تھا مگر وہ ساتھ نہیں رہتے تھے لیکن اب وہ اُن کے ساتھ گئ ہیں۔۔۔زوریز نے سنجیدگی سے بتایا

“لیکن کہاں؟”اور کیوں؟کب تک واپس آنے کا پروگرام ہے؟آریان نے ایک ساتھ کئ سوال پوچھ ڈالے

“وہ اب واپس نہیں آئے گیں۔۔زوریز جیسے آہستہ آہستہ اُس کی جان نکالنے کے در پر تھا

“یہ اِتنا سب کچھ ہوگیا اور پھر بھی تم اِتنے کول کیوں ہو؟”تمہیں اُن کو روکنا چاہیے تھا اگر نہیں تو کم از کم مجھے بتادیتے اگر میرے علم میں بات ہوتی تو میں ایٹلیسٹ کچھ کردیتا۔۔۔آریان اپنی جگہ سے اُٹھتا بے چینی سے یہاں سے وہاں ٹِہلنے لگ پڑا

“میں پرسکون ہوں اور تمہیں بھی پرسکون رہنے کا مشورہ دوں گا۔۔۔زوریز اُس کی بے چینی کو سمجھتا بولا

“میں نہیں رہ سکتا اور تمہیں بھی نہیں رہنا چاہیے کال ملاؤ سوہان کو اور میری اُس سے بات کرواؤ۔۔۔آریان نے سنجیدگی سے کہا اور ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ آریان دُرانی نے زوریز دُرانی کے ساتھ سنجیدگی سے بات کی تھی۔

“رلیکس رہو آریان وہ کہی بھاگ نہیں رہی یہی ہیں پاکستان میں۔۔۔زوریز اِس بار سخت ہوا

“اسلام آباد میں تو نہیں ہیں نہ۔۔۔زوریز کی بات پر وہ تپ اُٹھا

“یہاں نہیں ہیں مگر پاس ہیں اِس لیے ٹینش نہ لو۔۔۔زوریز نے کہا

“اگر سوہان کا باپ اُس کی شادی کروادے تو تم کیا کروگے؟”یونہی رلیکس رہو گے؟آریان طنز ہوا

“جو ہوا نہیں اُس پر بات کرنے کا مقصد؟زوریز نے پوچھا تو آریان ایک نظر اُس پر ڈالتا کمرے سے باہر چلاگیا”پیچھے زوریز نے اُس کی پشت کو دیکھ کر اپنا سر نفی میں ہلایا تھا۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

“تمہارا ہمیں بہت انتظار تھا۔۔۔عروج بیگم مسکراکر سوہان کو دیکھتی ہوئی بولی

“مجھے بھی آپ سے مل کر اچھا لگا لیکن میں ابھی تھوڑا آرام کرنا چاہوں گی”اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو۔۔سوہان نے جواباً مسکراکر کہا تھا”حویلی میں ایک ساتھ اِتنے لوگوں کو دیکھ کر اُس کے سر میں درد پڑگیا تھا۔

“ہاں جاؤ ابھی تم آرام کرو پھر اُس کے بعد ہم آپ سے ضروری بات کرینگے۔۔۔عروج بیگم نے کہا تو اُن کی بات پر وہاں کھڑیں میشا اور فاحا نے ایک دوسرے کو دیکھا جبکہ نوریز ملک اپنی جگہ پہلو بدلتے رہ گئے تھے۔۔

“کونسی بات؟سوہان نے پوچھا

“ابھی نہیں شام میں بات کرینگے قہوہ کے ساتھ۔۔۔عروج بیگم مسکراکر بولیں تھیں

“نہیں مجھے ابھی جاننا ہے”اگر آپ نے کوئی بات کرنی ہے تو ابھی کردے کیونکہ میں شام کو پھر سے شہر جاؤں گا میرا کچھ کام ہے وہاں۔۔۔سوہان واپس بیٹھتی سنجیدگی سے اُن کو دیکھ کر بولی

“کوئی زیادہ ضروری بات نہیں ہے”تم پریشان نہیں ہو۔۔۔نوریز ملک نے کہا

“میں پریشان نہیں ہوں بس جاننا ہے۔۔۔سوہان نے سنجیدگی سے ایک نظر اُن کو دیکھ کر عروج بیگم سے کہا

“ہاں دادو شام تک کا انتظار کیوں؟”ابھی بتادو۔۔۔میشا نے بھی کہا کیونکہ وہ تجسس کا شکار ہوگئ تھی۔

“ہم نے ایک فیصلہ کیا ہے۔۔عروج بیگم نے بتایا

“کیسا فیصلہ؟اِس بار فاحا بے چین ہوئی

“اسیر سے تو تم مل چُکی ہو۔۔۔۔”عروج بیگم نے کہا

“جی مل چُکی ہوں۔۔۔سوہان نے اعتراف کیا

“کیسا لگتا ہے وہ تمہیں؟عروج بیگم نے مسکراکر پوچھا

“جیسا ہے سب کو ویسا لگتا ہے کھڑوس چنگیز خان۔۔۔فاحا منہ ہی منہ میں بڑبڑائی تھی۔

“اچھا ہے۔۔سوہان نے مختصر بتایا

“ہم نے تمہاری اور اُس کی شادی کروانے کا سوچا ہے”ہمارا اسیر بہت فرمانبردار اور زمیدار بچہ ہے اگر تم نے اُس سے شادی کرنے پر”ہاں کردی تو میری خواہش پوری ہوجائے گی۔۔۔عروج بیگم دل کی بات لبوں پر لائیں تو سوہان نے سنجیدگی سے اُن کو دیکھا تھا باقی وہ دونوں حیرت زدہ رہ گئ تھیں”فاحا کو بھی عروج بیگم کی بات پر یقین نہیں آیا تھا اور جانے کیوں اُن کی بات فاحا کو بہت ناگوار لگی تھی۔

“آپ نے اِس بارے میں سوچا اچھی بات ہے”لیکن میں اسیر سے یا آپ لوگوں کے بتائے ہوئے کسی بھی شخص سے شادی نہیں کرسکتی۔۔۔سوہان دو ٹوک لہجے میں کہتی اُٹھ کھڑی ہوئی

“لیکن کیوں؟اِس بار نوریز ملک نے پوچھا

“کیونکہ میں شادی نہیں کرسکتی۔۔۔”یہ بتادیا اور ہم یہاں اِس لیے نہیں آئے کہ آپ فورسفلی اپنی باتیں ہم سے منواسکے۔۔۔سوہان کا لہجہ آخر میں طنز سے بھرپور ہوگیا تھا۔

“ہم تمہارے ساتھ ہیں۔۔۔میشا سوہان کو دیکھتی بولی

“اسیر میں کیا کوئی خامی ہے؟عروج بیگم نے پوچھا

“یہاں بات خامی یا برتری کی نہیں ہورہی بس صاف بات ہے آپ نے مجھ سے میری رائے نہیں مانگی بس اپنا فیصلہ مجھ پر مسلط کرنا چاہا ہے جو میں ہرگز نہیں اپنا سکتی۔۔۔سوہان نے سنجیدگی سے کہا

“مجھے تم کوئی ٹھوس وجہ بتاؤ جس وجہ سے تم شادی نہیں کرنا چاہتی یا یہ بتادو کیا میری وجہ سے تم انکار کررہی ہو؟نوریز ملک نے جاننا چاہا

“اگر وجہ آپ ہوتے تو میں بتادیتی لیکن ایسا نہیں ہے۔۔سوہان بغیر اُن کو دیکھ کر بولی

“پھر جو وجہ ہے وہ بتاؤ میں جاننا چاہتا ہوں۔۔۔۔نوریز ملک نے اصرار کیا

“میں کسی اور کے نکاح میں ہوں۔۔۔سوہان میشا اور فاحا سے نظریں چُراکر بتانے لگی تو نوریز ملک کو لگا جیسے کسی نے اُن کے سر پر دھماکہ کیا تھا وہ حیرت اور بے یقین جیسی کیفیت میں مبتلا بس سوہان کو دیکھنے لگے۔۔”عروج بیگم بھی اپنا ہاتھ سینے پر رکھتی نیچے بیٹھتی چلی گئ۔۔”سوہان نے جو بات کی تھی وہ ایک غیرمتوقع بات تھی جس کو یقین کرنا اُن کے لیے ازحد مشکل تھا

“سوہان۔۔۔میشا نے بے یقین نظروں سے سوہان کو دیکھا

“بعد میں بات ہوگی۔۔۔سوہان نے جیسے اُس کو اگنور کیا

تم

“کیا ہوگیا ہے آپو اُنہوں نے جان چُھڑوانے کے لیے جھوٹ بولا ہے اور آپ سیریس ہوگئ ہیں۔۔میشا اپنا ہوش کھوتی اُس سے کچھ کہنے والی تھی جب فاحا نے اُس کو ٹوک کر کہا تو بے ساختہ میشا نے اپنی عقل پر ماتم کیا

“یہ تم اِتنی بڑی بات مجھے اب بتارہی ہو؟نوریز ملک نے کہا تو سوہان نے استہزائیہ مسکراہٹ کے ساتھ اُن کو دیکھا

“آپ کونسا ہمارے ساتھ تھے ہمیشہ اِس لیے برائے مہربانی آپ ہم سے کسی چیز کا شکوہ نہ کیا کریں۔۔۔سوہان نے تمسخرانہ لہجے میں کہا تو نوریز ملک ہمیشہ کی طرح خاموش ہوگئے تھے

“سوہان اپنے کمرے میں جاؤ۔۔۔عروج بیگم نے اُس کو جانے کا کہا تو وہ بنا کچھ اور کہے وہاں سے چلی گئ تو اُس کی دیکھا دیکھی میں میشا اور فاحا بھی سوہان کے پیچھے چلے گئے۔

“ہمیں یقین نہیں آرہا کہ سوہان نے نکاح کرلیا ہوگا۔۔۔عروج بیگم افسوس سے بولیں

“ہوسکتا ہے اسلحان نے کروالیا ہو”ہم تو کبھی اُن سے حال احوال پوچھنے گئے نہیں تو کیسے پتا لگتا؟نوریز ملک افسردگی سے بولے

“دیکھا ہماری بات نا ماننے کا نتیجہ تمہیں تمہاری بیٹی کے نکاح کا پتا لگا بھی تو کیسے۔۔۔عروج بیگم نے تاسف سے اُن کو دیکھ کر کہا

“اماں سائیں ابھی یہ ضروری نہیں ہے اگر ضروری کچھ ہے تو وہ یہ ہے کہ سوہان نے نکاح کیا ہے تو کیا کس سے ہے؟”اور جب اسیر نے اُس کے مطلق ساری انفارمیشن جمع کرلی تھی تو یہ بات اُس کو کیسے پتا نہ لگی؟نوریز ملک کا انداز کافی پرسوچ تھا

“کہیں میشا جھوٹ تو نہیں بول رہی؟عروج بیگم نے اندازہ لگایا

“وہ جھوٹ کیوں بولے گی؟ اور کونسا ہم زور زبردستی کا حق رکھتے ہیں۔۔نوریز ملک نے کہا تو عروج بیگم کو اُن کی بات ٹھیک لگی

❤

“یار سوہان قسمے آج تو تم نے میدان مار لیا “دیکھا نہیں کیسے اُن کے چہرے کی ہوائیاں اُرگئیں تھیں؟”مجھے تو بڑی ہنس آرہی تھیں۔۔۔میشا سوہان کے کمرے میں آتی پرجوش لہجے میں اُس سے بولی”فاحا جبکہ عروج بیگم کی باتوں کو سوچ رہی تھی۔

“ہممم۔۔جواب میں سوہان نے محض ہُنکارا بھرا

“ویسے وہ اسیر بشیر بہت ہینڈسم ہے اور کروڑوں کا مالک بھی تو تم نے اُس سے شادی پر انکار کیوں کیا؟میشا نے پرجوش ہوکر پوچھا تو فاحا بھی اپنی آنکھوں میں سوال لائے سوہان کو دیکھنے لگی جو بیحد سنجیدہ سی تھی۔

“وجہ میں نے باہر بتائی ہوئی ہے۔۔۔سوہان نے مختصر بتایا

“ہاں وہ تو اُن کو نہ ہمیں بتاؤ نہ سچ کہ ایسا کیوں کیا؟میشا کھسک کر اُس کے قریب آئی

“کیونکہ میرا نکاح ہوچکا ہے۔۔سوہان نے بتایا تو فاحا آنکھیں پھاڑے سوہان کو تکنے لگی۔

“اچھا سہ

“بے خیالی میں بات کرتے کرتے اچانک میشا نے چونک کر سوہان کو دیکھا جو اپنے بیگ سے کپڑے نکال رہی تھی۔”اور اُس کے چہرے پر ایسا کوئی بھی تاثر نہیں تھا جس سے اُس کو لگتا کہ سوہان شاید جھوٹ یا مذاق کررہی ہو”لیکن جو اُس نے بتایا وہ ماننا بھی اُن کے لیے ناقابلِ یقین تھا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *