Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 34)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

آریان گہری نیند میں سویا خواب و خروش کے مزے لوٹ رہا تھا جب اچانک کسی نے اُس کے اُپر پانی کا گِلاس گِرایا تو وہ ہڑبڑا کر اُٹھ کھڑا ہوا

“اللہ سیلاب آگیا کیا۔ ۔۔آریان اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا اپنے کپڑوں کو جھاڑنے لگا۔ ۔

“یہی سمجھو۔ ۔۔زوریز کی آواز پر آریان نے چونک کر سراُٹھائے اُس کی طرف دیکھا جو ہاتھ میں خالی پانی کا گلاس پکڑے کھڑا تھا

“مجھ پر ایسی عنایت کرنے کا مقصد؟آریان نے حیرت میں ڈوبی آواز سے پوچھا

“یہ تم نے اپنی گاڑی میں کیا بیہودہ گانے رکھے ہوئے ہیں” اِتنی فضول سلیکشن ہوگی تمہاری گانوں کے مُطلق مجھے اندازہ نہیں تھا۔ ۔۔زوریز نے طنز انداز میں کہا تو آریان سمجھ نہیں پایا کہ وہ کہنا کیا چاہ رہا تھا

“آپ نے میرے میوزک سسٹم کا پوسٹ مارٹم کیا ہے کیا؟ “اور جس کو تم بیہودہ”فضول بول رہے ہو اُس کو انگریزی میں رومانٹک سونگز کہتے ہیں۔ ۔۔آریان نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر جیسے اُس کی معلومات میں اضافہ کیا تھا۔

“ریئلی رومانٹک سونگز؟ زوریز نے آئبرو اُپر کیے اُس کو دیکھا

“جی ہاں رومانٹک سونگز جس کو سُن کر دل کی تاریں ہِل جاتیں ہیں” گانوں کے بول دل میں” ٹھاہ” کرکے لگتے ہیں اور اُس کی آواز جب بیک گراؤنڈ میں گونجتی ہے تو ماحول رومانوی بن جاتا ہے۔ ۔۔آریان تکیہ گود میں رکھتا خیالوں میں گم ہوکر اُس کو بتاتا گیا۔ ۔۔

“ٹھاہ کا تو پتا نہیں مگر تمہاری وجہ سے کل میں سوہان کے سامنے بہت شرمندہ ہوگیا تھا۔۔۔زوریز نفی میں سرہلاکر بولا

“تو کیا آپ نے اُس کے سامنے گانے چلائے تھے؟آریان حیران ہوا

“ہاں کیوں کیا مجھے نعت لگانے چاہیے تھے۔ ۔زوریز کو اُس کا اِتنا حیران ہوا پسند نہیں آیا

“ارے نہیں مطلب جیسی آپ دونوں کی پرسنائلٹی تھی مجھے لگا آپ دونوں قوالی سُننے کے شوقین ہوگے خیر یہ بتائیں کیسی رہی کل کی مُلاقات؟ آریان نے شرارت سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

“بکواس نہیں کرو اپنے گانوں کی پسند کو بدلو پتا نہیں کل مجھے کیا ہوا تھا جو تمہاری گاڑی لے گیا اور ساتھ میں میوزک بھی آن کرلیا حلانکہ تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں پھر کیسے سوچ لیا کہ تمہاری کوئی چیز سیدھی بھی ہوسکتی ہے۔ ۔۔زوریز اُس کو کڑے چتونوں سے گھور کر کہا

“اب یہ تم میری انسلٹ کررہے ہو دو سال بڑے ہو تو اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تم جو کہو گے میں وہ بس سُنتا جاؤں گا۔۔۔آریان احتجاجاً بولا

“بکو مت جو کہا ہے وہ یاد کرلوں۔۔۔زوریز نے کہا تو وہ گڑبڑا سا گیا

“اچھا نہ دیکھتا ہوں پہلے تم یہ بتاؤ کہ کیسا گانا لگا اور کونسا سُنا؟آریان نے رازدرانہ انداز میں اُس سے سوال کیا

“تمہارے پاس کوئی سُننے جیسے تھا سہی جو میں سُنتا کسی لڑکی کے ساتھ بیٹھ کر۔۔۔زوریز نے بھگو کر طنز کیا

“اگر پتا ہوتا تو نصرت فتح کی یا عابدہ پروین کی کوئی قوالی رکھ لیتا خیر کوئی بات نہیں اگلی بار میں دھیان میں رکھوں گا۔۔آریان نے اُس کو گویا تسلی کروائی تھی پر اُس کی بات پر زوریز نے تپ کر اُس کی ڈھیٹائی کو دیکھا تھا۔۔

“تمہیں واقعی وہ میشا ہی سُدھار سکتی ہے۔ ۔زوریز تنگ ہوکر بولا

“میں تو چاہتا ہوں مجھ بگڑے ہوئے کو وہ سُدھارے۔ ۔آریان دلفریب لہجے میں بولا تو زوریز اپنا سر نفی میں ہلاتا اُس کے کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ آریان خیالوں میں خود کو اور میشا کو ایک ساتھ دیکھ کر اُن خیالوں میں ڈوب گیا۔۔

❤Rimsha Hussain Novels❤

“یہاں سے اِتنا دور شہر گئے پھر کیا حاصل ہوا کچھ بھی تو نہیں پھر کیوں تم اُن کی زندگیوں میں مُداخلت کررہے ہو جن کی نظروں میں تمہاری کوئی عزت نہیں۔ ۔۔سجاد ملک اپنے ساتھ نوریز ملک کو بیٹھا کر بولے

“بیٹیاں ہیں زیادتیاں بھی کی ہیں میں نے اُس پر خفا ہیں پر میں جانتا ہوں ایک نہ ایک دن مجھے وہ معاف ضرور کردینگی۔ ۔نوریز ملک پُریقین لہجے میں بولا

“ہممم معاف کر بھی دے تو کیا گارنٹی ہے کہ وہ تمہارے ساتھ اِس حویلی میں قدم رکھے گی۔ ۔۔سجاد ملک نے سنجیدگی سے پوچھا

“یہ حویلی اُن کی بھی ہے اُن کا حق ہے یہاں سے تو وہ کیسے نہیں آئے گی؟ “وہ آئے گی میں لاؤں گا اُن کو اپنے ساتھ۔۔نوریز ملک بھی جواباً سنجیدگی سے بولے

دیکھتے ہیں وہ آتیں ہیں یا نہیں اگر آئے گی بھی تو یہاں اُن کا ٹِکنا مشکل ہے کیونکہ وہ شہر میں پلی بڑی ہیں” گاؤں میں ایڈجسٹ ہونا اُن کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ ۔۔سجاد ملک نے مزید کہا

“وقت انسان کو ہر حال میں ایڈجسٹ کرنا سیکھا دیتا ہے آپ اُس کی فکر نہ کریں بس دعا کریں کہ وہ مان جائے” اُن کا دل میری طرف سے موم ہوجائے۔ ۔۔نوریز ملک رنجیدگی سے بولے

“ایک کام کیوں نہیں کرتے اُن کے لیے کوئی اچھا سا رشتہ تلاش کرو پھر باری باری تینوں کی شادی کروادوں ایسے تم اپنے آخری فرض سے سبکدوش ہوجاؤ گے۔۔۔سجاد ملک جانچتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولے

“شادی جب قسمت میں ہوگیں تو ہوجائے گی میں اِس وقت اُن کے لیے کچھ اور سوچے بیٹھا ہوا ہوں۔۔۔نوریز ملک نے سنجیدگی سے کہا

“جانتا ہوں تم کیا سوچے ہوئے ہو دیکھتے ہیں اب وہ کیا کرتیں ہیں۔۔سجاد ملک نے کہا تو نوریز ملک خاموش سے ہوگئے تھے۔۔

Rimsha Hussain Novels❤

السلام علیکم ۔۔سوہان باہر آئی تو فاحا نے عجلت میں اُس کو سلام کیا

وعلیکم السلام فاحا تم یہاں ہو بھول گئ ہو تو یاد کروادوں آج تمہارا امتحان ہے۔۔۔سوہان نے وال کلاک میں وقت دیکھ کر سنجیدگی سے فاحا کو دیکھ کر کہا

“جی آپو پتا ہے فاحا کا امتحان اُس کا ٹیسٹ لینے والا ہے میں تو بس ناشتہ کے لیے انتظار میں تھی آپ بھی جلدی سے بیٹھ جائے میں تب تک کچن سے بریڈ لاتی ہوں۔۔فاحا نے جلدی سے اُس کو جواب دیا

“میشو کہاں ہے؟سوہان اپنے لیے کُرسی گھسیٹ کر بیٹھتی اُس سے میشا کا پوچھنے لگی

“وہ ساجدہ آنٹی کو ناشتہ دینے کمرے میں گئ ہیں۔۔۔فاحا نے بتایا

“سہی ہے تم بھی اپنے ہاتھ تیزی سے چلاؤ اور یہاں سے نکلنے کی کرو۔۔سوہان نے کہا تو فاحا بھاگنے والے انداز میں کچن میں گئ اور جلدی سے واپس بھی آگئ تب تک میشا بھی ناشتے کی ٹیبل پر حاضر ہوئی تھی

“میرا پراٹھا اور چائے کہاں ہے؟میشا نے آتے ہی شور مچایا

“ِیہ رہا آپ کا پراٹھا اور آپو یہ رہا آپ کا اُبلا ہوا انڈا۔۔۔فاحا نے باری باری دونوں کو ناشتہ سرو کیا

“تیاری اچھی ہے تمہاری؟چائے کا لمبا گھونٹ بھر کر میشا نے اُس سے پوچھا

“ہاں بہت اچھی ہے۔۔۔فاحا کافی پرجوش تھی۔

“گُڈ میدان مار کر آنا خود مرکر نہ آنا۔۔۔میشا نے اُس کو دیکھ کر کہا

“فکر نہ کریں سب اچھا ہوگا۔۔فاحا نے اُس کو تسلی کروائی

آرام سے پیو چائے اِتنے چسکے کیوں لے رہی ہو۔۔۔سوہان اپنے کان پہ ہاتھ رکھ کر اُس کو گھور کر بولی تو میشا نے چائے کا لمبا گھونٹ بھر اور بڑا چسکا لیا تو سوہان نے تپ کر اُس کو دیکھا مگر فاحا ہنس پڑی

“ہائے آپو کاش آپ ایسے چائے پینے کی عادی ہوجائے اور جب شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ کسی دعوت میں جائے تو جو بھی آپ کھائے اُس کی کرچک کرچک ہر ایک کے کانوں میں پڑے۔۔۔فاحا نے مزے سے اُس کو دیکھ کر کہا

“توبہ کرو۔۔۔میشا فاحا کی باتوں کو امیجن کرتی اپنے کانوں کو ہاتھ لگائے بولی تھی”جس سے سوہان نے سرجھٹکا تھا۔۔

“امیجن کرتے ہوئے آپ کا یہ حال ہے اگر سچ مچ ہوجائے تو جانے کیا ہوگا۔۔۔فاحا نے گویا اُس کو چِڑانے کی کوشش کی

“میرا ناشتہ ہوگیا ہے تو میں نکلتی ہوں اور فاحا تم بھی چلو میں ڈراب کردیتی ہوں”میشو جب تم اپنی کلنک کے لیے نکلو تو گھر کے کھڑکی دروازے بند کرلینا۔۔۔سوہان چیئر سے اپنا لونگ کوٹ اُٹھائے اُن دونوں سے بولی

“ناشتہ تو کرلوں تب تک آپ باہر جاکر دیکھے ایک سرپرائز آپ کا منتظر ہے۔۔۔فاحا گھٹا گھٹ جوس پیتی سوہان سے بولی تو وہ الجھن بھری نظروں سے میشا کو دیکھنے لگی جس نے شانے اُچکا دیئے تھے۔

“کیسا سرپرائز؟سوہان نے پوچھا

“وہ تو باہر جائے گی تبھی آپ کو نظر آئے گا۔۔فاحا نے سکون سے کہا

کہی میشو نے کسی کو کو مارا تو نہیں؟ سوہان مشکوک نظروں سے فاحا کو دیکھا

“ایک تو تمہاری تفتیشی نظریں مجھ معصوم پر اٹکی ہوتی ہیں بہن باہر جاکر دیکھ آؤ کیا بات ہے؟’کونسا مسئلہ ہے۔۔اپنی بات کہہ دینے کے بعد میشا پراٹھے سے انصاف کرتی سوہان کو گھورنے لگی۔

“جاتی ہوں۔۔سوہان اِتنا کہتی اپنے قدم باہر کی طرف بڑھائے

“کل میرے لیے آلو کا پراٹھا بنانا۔۔۔سوہان کو جاتا دیکھ کر میشا نے فاحا سے کہا

“آلو کھا کھا کر تو آپ کی شکل آلو جیسی ہوگئ ہے مگر آپ پھر بھی اُن آلو کی جان نہ چُھوڑنا۔۔۔فاحا اُس کے گول مٹول بھرے ہوئے گال دیکھ کر تاسف سے بولی

“ایک تم بس میرے نوالے گِنتی رہنا تمہاری طرح چوسی ہوئی آم کی گٹھلی نہیں بن سکتی میں۔۔۔میشا نے اُس کے پاس سے بریڈ اُٹھائے کہا تو فاحا کا مُنہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا۔

“آپ کو میں آم کی گٙٹھلی لگتی ہوں اور وہ بھی چوسی ہوئی؟فاحا نے حیرت سے اُس کو دیکھ کر بولی

“ہاں کیوں تمہیں نہیں پتا آئینے میں دیکھو لگ جائے گا پتا۔۔۔میشا نے مسکراہٹ دبائے اُس کو چڑایا

“خود کیا ہیں آپ؟”کیلے کا چِھلکا۔۔۔۔فاحا نے حساب بے باک کیا

“مجھے پرواہ نہیں کیونکہ اُس کے چِھلکے پر جو پاؤں رکھتا ہے وہ زمین بوس ہوجاتا ہے۔۔۔میشا نے اُس کو زچ کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی جس پر فاحا دانت کچکچا کے رہ گئ۔۔۔”دوسری طرف سوہان نے جب گیٹ کے پاس نیو گاڑی کو دیکھا تو اُس کو یقین نہیں آیا جو نہ زیادہ بڑی تھی اور نہ چھوٹی مگر تھی بہت خوبصورت ۔

“فاحا

میشو۔۔

“گاڑی کو دیکھ کر سوہان نے اُن دونوں کو آوازیں دی جو آ بھی گئ تھیں

“یہ کیا ہے۔۔سوہان نے فاحا کو دیکھ کر پوچھا

“یہ صابن دانی فاحا نے تمہارے لیے خریدی ہے تمہارا برتھ ڈے تھا نہ پاسٹ کی برتھ گرل۔۔جواب فاحا کے بجائے میشا نے دیا تھا جس کو سن کر فاحا کا منہ بن گیا تھا کیونکہ اُس کے اِتنے پیارے تحفے کو میشا نے”صابن دانی سے تشبیہہ دی تھی۔۔۔

“پیسے کہاں سے آئے تمہارے پاس اِتنے؟سوہان کا انداز کافی بے لچک تھا اور میشا جو مزاحیہ موڈ میں تھی سوہان کا فاحا کے ساتھ ایسا انداز دیکھ کر کھٹک سی گئ تھی۔۔

“پیسے کچھ میں نے جمع کیے تھے اور یہ کیش پر نہیں لی میرا مطلب کہ گاڑی قسطوں پر لی ہے۔۔”آپ کو آنے جانے کا مسئلہ ہوتا ہے نہ دوسرا رینٹ والی گاڑی کسی سر درد سے کم نہیں۔۔فاحا نے جلدی سے اُس کو بتایا

“فاحا اِس کی کیا ضرورت تھی اور تم نے پیسے جمع کیے تھے تو اپنے لیے کچھ لیتی۔۔”گاڑی تو میرے پاس تھی نہ۔۔سوہان نے گہری سانس بھر کر اُس کو دیکھا

“میں نے اِس سے کہا تھا اِن پیسو کی اے سی خرید لیتے ہیں پھر اُس کو ڈرائنگ روم میں رکھے گے رات کو ایک ساتھ وہی سوکر عیش سے سوئے گے مگر یہاں میری سُنتا کون ہے۔۔۔میشا منہ کے زاویئے بنا کر بولی

“ضرورت تھی تبھی تو فاحا نے لی اور آپ کے ساتھ پہلی ڈرائیونگ پر میں بیٹھو گی جلدی مجھے میری منزل پر آپ پہنچائے۔۔۔میشا کو اگنور کرتی فاحا نے مسکراکر پرجوش آواز میں اُس سے کہا تو سوہان بھی جواباً مسکرائی

شیور آؤ بیٹھو۔۔سوہان نے کہا

“میں تو ابھی یہی ہوں تم دونوں اِنجوائے کرو۔۔میشا نے اپنے ہاتھ کھڑے کیے کہا

اپنا خیال رکھیے گا اور لال جوڑا مت پہننا ایسا نہ ہو کہ کوئی آسیب یا سایہ آپ سے چمٹ نہ جائے عاشق ہوکر۔ ۔فاحا نے جاتے جاتے اُس کو تلقین کی

“چمٹ کر تو دیکھائے میں چڑیل بن کر اُس کا حشر نہ بگاڑوں تو میرا نام میشا عرف میشو نہیں”اور کیا میرے حُسن پر عاشق ہونے کے لیے آسیب اور جن ہی بچے ہیں۔ ۔۔میشا کے ہاتھوں میں کُھجلی ہونے لگی تبھی جھرجھری سی لیکر بولی

“جیسی آپ کی حرکتیں ہیں نہ اُس پر کوئی جن آپ پر فدا ہوجائے یہ ہی بڑی بات ہوگی کیونکہ اگر چڑیلوں پر جن عاشق ہوتے تو اپنی دُنیا چھوڑ کر دور یہاں درختوں پر بیٹھائے انسان کا انتظار نہ کرتے کہ کوئی لال جوڑا پہنے بالوں کو کُھلا چھوڑے لڑکی آئے اور وہ اُس میں چمٹ جائے۔ ۔۔فاحا نے جیسے رات سے لیکر اب تک کے سارے حساب بے باک کر ڈالے تھے اور میشا کا منہ صدمے کے مارے کُھلا کا کُھلا رہ گیا تھا۔”جبکہ سوہان اُن دونوں کو آپس میں ہمیشہ کی طرح لڑتا جھگڑتا دیکھ کر خود کی گاڑی کی طرف بڑھ گئ تھی۔

“یہ اب زیادہ ہورہا ہے میرے پیچھے خوبصورت مردوں کی لائنیں ہیں لائنیں۔۔۔میشا نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر باور کروایا

“اِس لائنوں میں کہی آریان دُرانی تو نہیں آتا؟ فاحا شوخ ہوئی

“شٹ اپ اُس کا نام بھی نہ لو میرے سامنے۔ ۔۔میشا نے اُس کو گھورا

“اچھا بتائے کیا اُس کا تیسرا بھائی ہے؟ فاحا نے پرجوش ہوکر پوچھا

“مجھے کیا پتا اور تم نے اُس کے چھوٹے بھائی کا اچار ڈالنا ہے کیا؟ میشا بیزار ہوئی

“اگر آپ دونوں کی سیٹنگ اُن بھائیوں سے ہوگئ تو آپ دونوں ایک ساتھ رہے گی” فاحا کا کیا ہوگا پھر؟ وہ تو اکیلی رہ جائے گی اگر اُن کا تیسرا بھائی ہے تو میری سیٹنگ کروادے۔ ۔۔فاحا ملتجی لہجے میں بولی

“شرم کرو اور ٹھیک سے زمین سے باہر بھی نکلو پھر سیٹنگ میٹنگ بھی کروالوں گی۔ ۔”شادی کے “ش” سے تو آگاہ نہیں اور آئی ہو شادی کرنے۔۔میشا نے ٹھیک ٹھاک اُس کو سُنا ڈالا

“آپ سے تو بات کرنا فضول ہے۔ ۔فاحا پاؤں پٹخ کر کہتی گاڑی کی طرف بڑھنے لگی۔

“آپس کی بات ہے میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار ایسی چھوٹی صابن دانی دیکھی ہے جس میں دو صابن موجود ہوگے۔۔میشا نے اُس کو زچ کرنے کی خاطر کہا تو فاحا کانوں پر ہاتھ رکھے گاڑی میں بیٹھ گئ” اُس کے گاڑی میں بیٹھتے ہی سوہان نے ڈرائیونگ کرنا شروع کردی تھی۔۔

❤Rimsha Hussain Novels❤

آج آپ بہت دن بعد یونی آئیں ہیں خیریت تھی؟عاشر نے لائبریری میں لالی کو دیکھا تو اُس کو پہلے خوشگوار حیرت ہوئی تھی تبھی اُس کے پاس والی کُرسی پر بیٹھ کر اُس نے پوچھا

“جی میں گاؤں گئ تھی۔”کل واپس آئی ہوں۔۔لالی نے بتایا پھر دوبارہ کتاب پڑھنے میں مصروف ہوگئ تو عاشر اُس کا چہرہ دیکھنے لگا۔”لیکن ایک خیال کے تحت اُس نے دوبارہ سے اُس کو مُخاطب کیا

“میں اُس دن آپ کو تُحفہ دینا چاہتا تھا پتا ہے کیوں؟

“جی پتا ہے۔ ۔۔لالی نے بنا اُس کو دیکھ کر کہا تو عاشر حیران رہ گیا

“واقعی آپ کو پتا ہے کہ میں کیوں تحفہ دینا چاہتا تھا؟ عاشر کو حیرت کے ساتھ خوشی بھی ہوئی کہ لالی بنا کہے اُس کے دل کا حال جان گئ تھی۔

“جی مجھے پتا ہے۔ ۔لالی نے پھر کہا

“اچھا بتاؤ پھر میں کیوں آپ کو تُحفہ دینا چاہتا تھا؟عاشر نے بے چینی سے پوچھا اُس کا رواں رواں اِس وقت کان بن گیا تھا۔۔

کیونکہ اُس دن سسٹر ڈے تھا اور میں نے دیکھا تھا یونی میں ہر کوئی ایک دوسرے کو گفٹس دے رہے تھے۔۔لالی نے اِس بار سر اُٹھاکر اُس کو جواب دیا تو عاشر کا پورا چہرہ اُترگیا تھا وہ بے یقینی جیسی کیفیت میں بیٹھا اُس کو دیکھتا رہ گیا جس نے پل بھر میں اُس کے جذبات کی دھجیاں اُڑادی تھیں۔

“سسٹر ڈے لالی سیریسلی؟ عاشر سے کچھ بولا نہیں جارہا تھا وہ کم از کم لالی سے اِتنی بھی بے نیازی کی توقع نہیں رکھ رہا تھا۔

“ہاں کیوں کیا ہوا؟ لالی نے اُلٹا اُس سے سوال داغا

“میں سسٹر ڈے پر آپ کو تُحفہ کیوں دوں گا؟ “میں نے کیا کوئی بہن چارا کھولا ہوا ہے۔ ۔۔عاشر زبردستی مسکراہٹ پر سجائے اُس سے بولا

“یہ تو آپ کو پتا ہوگا نہ۔ ۔۔لالی نے کہا

“اففف میں بھی پاگل ہوں جو دیوار سے سر مار رہا ہوں خیر آپ یہاں بیٹھی رہے گی یا کلاس میں آئے گی؟ عاشر اپنی جگہ سے اُٹھ کر بات بدل کر بولا

“میں آتی ہوں اور آپ پلیز اپنے نوٹس مجھے دیجئے گا میرا بہت سا کام رہ گیا ہے۔ ۔لالی بھی اپنی جگہ سے اُٹھ کر بولی

“ہاں میں دے دوں گا آپ فکر نہ کرو۔ ۔عاشر نے اُس کو مثبت جواب دیا تھا۔

❤Rimsha Hussain Novels❤

“میشا بھی اپنے کام پہ جانے کے لیے تیار ہورہی تھی جب اُس کا سیل فون رِنگ کرنے لگا تبھی اُس نے بغیر نمبر دیکھے کال اُٹھائی

“ہیلو السلام علیکم ۔۔۔میشا نے مصروف انداز میں سلام کیا

وعلیکم السلام جانِ من کیسی ہو؟ دوسری طرف آریان کی آواز سن کر میشا نے فورن سے موبائل کان سے ہٹائے اسکرین کو دیکھا جہاں کوئی انون نمبر شو ہورہا تھا۔

“تمہیں میرا نمبر کہاں سے ملا؟ “اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے کال کرنے؟ میشا نے دانت پیس کر کہا

“ملنے کو تو خُدا بھی مل جاتا ہے یہ تو محض ایک نمبر تھا اور ہاں تم میرا نمبر اپنے فون میں سیو کرلینا کیونکہ اب تو میں کال کرتا رہوں گا۔ ۔۔آریان خاصے پرسکون لہجے میں بولا

“تم بار بار مجھے کال کروگے اور تمہیں لگتا ہے میں کال اُٹھاؤں گی تمہاری؟میشا نے طنز انداز میں پوچھا

“بلکل مجھے تم پر بھروسہ ہے۔ ۔آریان نے پرسکون لہجے میں کہا

“میرا بس نہیں چل رہا ورنہ میں فون میں گُھس کر تمہاری چھترول کرتی۔ ۔میشا نے تپ کر کہا

“ہائے کبھی تو تم نے میرے لیے خود کو بے بس پایا۔ ۔آریان نے چھیڑنے والے انداز میں کہا

“فالو کرنا کیا کم تھا جو فون کرنا بھی شروع ہوگئے ہو تمہارا مسئلہ کیا ہے؟ “آخر تم آئے کیوں ہو میری زندگی میں۔ ۔میشا بیڈ پر بیٹھتی جھنجھلائے ہوئے لہجے میں بولی

“مجھے رب نے بنایا کس لیے؟ “تمہیں پریشان کرسکوں اِس لیے۔ ۔۔کہنے کے ساتھ ہی آریان نے جاندار قہقہقہ لگایا تو میشا نے تپ کر اپنا فون آف کرلیا تھا۔

“یہ میرے ہاتھوں بہت مار کھائے گا ایسے باز نہیں آئے گا۔ ۔فون آف کرنے کے بعد بھی میشا جانے کتنے وقت تک آریان کو کوسنے میں لگی تھی۔ ۔

❤rimsha hussain novels❤

السلام علیکم۔۔فاحا اپنی ٹیسٹ سے فارغ ہوتی باہر آئی تو اُس کا سامنا اسیر ملک سے ہوا جو شاید اُس کا انتظار کررہا تھا۔

وعلیکم السلام آپ یہاں؟ فاحا اُس کو یہاں دیکھ کر حیران ہوئی

“کیا ہم بات کرسکتے ہیں؟ اسیر نے سنجیدگی سے پوچھا تو فاحا کو کل کا واقعہ اچھے سے یاد آگیا تھا وہ انکار کرنا چاہتی تھی پر جانے کیوں اسیر کو وہ منع نہیں کر پائی

“کونسی بات؟فاحا نے پوچھا

“گاڑی میں بیٹھے بتاتا ہوں۔ ۔اسیر نے کہا تو فاحا آس پاس دیکھتی اُس کے ساتھ جانے پر حامی بھر گئ۔ ۔

“جی کہیں؟گاڑی میں بیٹھنے کے بعد فاحا نے پوچھا

“ہم جانتے ہیں کل والے واقعے کے بعد آپ ہماری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی ہوگی۔۔اسیر جانے کیوں پہلی بار بات کرتے ہوئے تہمید باندھ رہا تھا جبکہ یہ اُس کی شخصیت کا حصہ بلکل بھی نہیں تھا۔

“جانتے ہیں لیکن پھر بھی شکل دیکھانے آگئے واہ کیا کہنے ہیں آپ کے۔ ۔اسیر کی بات پر فاحا نے دل ہی دل میں سوچا مگر منہ سے کہنے کی جُرئت نہیں کی کیونکہ وہ جانتی تھی یہ بندہ بیسٹ(Beast) بننے میں وقت نہیں لگائے گا۔ ۔

“آپ وہ بات کریں جو کہنا چاہ رہے ہیں۔ ۔فاحا نے کہا

“سوہان اور میشا سے کہو کہ تمہیں حویلی رہنا ہے۔ ۔”فاحا یہ دُنیا بہت ظالم ہے آپ ہماری بات پر یقین کریں آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہوجائے گا اور اِس میں آپ تینوں کا بھلا ہوگا۔اسیر اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے سمجھانے والے انداز میں بولا”کیونکہ اب اُس کو لگتا تھا کہ اِن تینوں کا اِن کا حق ملنا چاہیے

“نہیں میں نے دیکھا ہے دُنیا گرین اور بلیو ہے۔ ۔اسیر کی اِتنی بات سے جیسے فاحا نے ایک یہی لائن سُنی تھی تبھی جواباً بولی جس کو سُن کر اسیر نے صبر کا گھونٹ بھر کر اُس کو دیکھا تھا جس نے اپنے چہرے پر دُنیا جہاں کی معصومیت سموئی تھی”اُس میں کوئی شک نہیں تھا کہ اگر وہ خاموش رہتی تو پوری دُنیا میں اُس کے علاوہ کوئی اور معصوم نہ ہوتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *