Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 25)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

ویسے کیا آپ کو اپنے گاؤں میں مزہ نہیں آتا جو ہر وقت شہر میں پائے جاتے ہیں۔ ۔۔۔”فاحا زیادہ دیر تک خاموش نہیں رہ پائی تھی

“ہم نے بہت بڑی غلطی کردی آپ کو جگا کر۔ ۔۔اسیر اُس کو دیکھ کر کوفت سے بولا

فاحا سوئی ہوئی تو نہیں تھی جس کو آپ نے جگایا۔ ۔۔فاحا ناسمجھی کے عالم میں اُس کو دیکھ کر بولی

“تم خاموش رہو ہم ڈرائیونگ کررہے ہیں۔ ۔۔اسیر اُس کو ٹوک کر بولا

“آپ کنفرم کریں کہ فاحا کو کہنا کیا ہے؟ “آپ یا تم۔ ۔۔فاحا پوری طرح سے اُس کی طرف متوجہ ہوتی بولی جیسے کوئی گھمبیر مسئلہ ہو کوئی

“دیکھو آپ خاموش ہوجائیں بڑی مہربانی ہوگی آپ کی۔ ۔۔۔اسیر تپ اُٹھا تھا

“آپ کو پتا ہے آپ کو لڑکیوں سے بات کرنا بلکل بھی نہیں آتی اگر یہاں میری کسی بہن نے آپ کو فاحا سے بدتمیزی کرتا ہوا دیکھ لیا ہوتا نہ تو آپ کا منہ توڑدیتی۔ ۔۔فاحا اُس کو دیکھ کر نروٹھے پن سے بولی جبکہ اُس کا ایسے شکوہ کرنا اسیر کی سمجھ سے بلآتر تھا

“ہمارا منہ آپ کی بہنوں کی جاگیر نہیں جس کو وہ توڑ دینگی اور ہم کھڑے مسکرائے گے۔ ۔۔۔سرجھٹک کر اسیر نے تپ کر کہا

“سوچنے والی بات ہے ٹوٹے ہوئے چہرے کے ساتھ مسکراتے ہوئے آپ کیسے لگے گے اور فاحا نے کبھی آپ کو مسکراتا ہوا نہیں دیکھا۔ ۔۔کہتے کہتے آخر میں فاحا جیسے چونک اُٹھی تھی۔

“آپ دُنیا میں میری مسکراہٹ دیکھنے نہیں آئیں۔ ۔۔۔اسیر نے طنز کیا

“فاحا جانتی ہے یہ بات اور آپ بھی دُنیا میں محض لوگوں پر طنز کے تیر پھینکنے نہیں آئے۔ ۔۔فاحا نے جتایا

“کتنی لمبی زبان ہے آپ کی جو قینچی سے زیادہ تیز چلتی ہے اور ہمیں سخت چڑ ہے ایسی زبان دراز عورتوں سے۔ ۔۔اسیر تیکھی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا

اچھی بات ہے مگر فاحا عورت نہیں ہے فاحا کا شُمار لڑکیوں میں ہوتا ہے۔۔۔فاحا فخریہ انداز میں بولی

“کیا فاحا کبھی چُپ ہوسکتی ہے؟ اسیر نے ضبط سے پوچھا

“میرے بولنے سے آپ کی کتنی ٹیکسٹ لگ رہی ہے خیر فاحا کو بولنا اچھا لگتا ہے” سوہان آپو کہتی ہے فاحا تمہاری آواز ہمارے جسموں میں جان ڈالتی ہے۔ ۔۔فاحا نے اُس کی معلومات میں اضافہ کیا

تمہاری سوہان آپی کا دماغ خراب ہے جو تمہیں ایسی خوشفہمیوں میں مبتلا کیا ہے۔ ۔۔اسیر سرجھٹک کر بولا

“آپ ایسی باتیں نہ کریں فاحا ناراض بھی ہوسکتی ہے۔ ۔۔فاحا کے گال بُری طرح سے پُھول گئے تھے

“آپ کو لگتا ہے کہ فاحا کی ناراضگی کا اثر اسیر ملک پر پڑے گا؟ “گاڑی انجانے راستوں پر ڈوراتے اسیر نے اُس سے پوچھا

“اسیر ملک کون؟ فاحا کے سر پہ سے گُزری اسیر کی بات

“آپ کو ہمارا نام شاید نہیں معلوم ہمیں اسیر ملک کہتے ہیں۔ ۔۔اسیر نے اپنا تعارف کروایا

“آپ کا نام کافی الگ سا یے فاحا کو پسند آیا۔ ۔۔فاحا زیر لب بڑبڑائی

“آپ کی ہوبیز کیا ہیں؟ اسیر نے بات بڑھانے کی خاطر پوچھا اُس نے اچانک سوچ لیا تھا کہ اگر سوہان اپنے باپ کو معاف کرنے کے لیے تیار نہیں ہے تو وہ ایک بار پھر فاحا سے بات کرکے دیکھے گا اُس کی رائے جاننے کی کوشش کرے گا کہ وہ کیا سوچتی ہے اپنے باپ کے بارے میں

“ہوبیز؟ فاحا نے اُس کو سوالیہ نظروں سے دیکھا

“ہمارے کہنے کا مطلب تھا آپ کو کیا کرنا یعنی کونسا کام کرنا زیادہ پسند ہوتا ہے اور آپ کی ایجوکیشن کتنی ہے ایٹ دا لاسٹ آپ کی امی کو کیا ہوا تھا؟ اسیر نے ایک ساتھ اُس سے کئ سارے سوالات پوچھ ڈالے

“ہمیں گھر کا کام کرنا اچھا لگتا ہے” کوگنک کرنا گھر کی صفائی کرنا کپڑے وغیرہ وقت پر دھونا انسٹی ٹیوٹ جانا اور فاحا کو سلائی کڑھائی کا کام بھی خوب آتا ہے۔ ۔۔فاحا اُس کی آخری بات کے علاوہ ہر بات کا جواب دیا جو اسیر نے صاف محسوس کیا تھا۔

“آپ کو دیکھ کر لگتا نہیں آپ کاموں میں اِتنی ایکسپرٹ ہوگی۔ ۔”چھوٹی سی جان تو ہیں۔ ۔۔اسیر اُس کی بات ماننے سے انکاری ہوا

“فاحا جھوٹ نہیں بولتی اور وہ سچ میں ہر چیز میں مہارت رکھتی ہے آپ آزما سکتے ہیں ویسے آپ نے آج ہم سے میرا مطلب مجھ سے ایسا سوال کیوں کیا،؟فاحا تجسس میں مبتلا ہوئی

“دل نے چاہا تو پوچھ لیا یہ بتاؤ فاحا سب سے زیادہ پیار کس کو کرتی ہے۔۔۔؟اسیر اُس سے ایسے بات کرنے لگا جیسے اقدس سے کیا کرتا تھا۔

“فاحا اپنی بہنوں سے بہت کرتی ہے”وہ فاحا سے جو کچھ مانگے گیں وہ فاحا دینے میں وقت نہیں لگائے گی۔۔۔”سوہان آپو میرا دل ہیں اور میشو آپو دل کی دھڑکن۔۔۔۔فاحا نے مسکراکر بتایا تھا

“شوہر کو پھر کہاں رکھنا ہے؟ اسیر نے طنز کیا

“شوہر کون؟ فاحا نے اُلٹا اُس سے سوال داغا

زندگی میں کبھی نہ کبھی شادی کے بعد آپ کا شوہر ہوگا نہ؟ اسیر بے مقصد گاڑی ڈرائیو کرتا اُس سے بولا

“ہم نے اپنی زندگی میں ابھی ایک مقام حاصل کرنا ہے ہماری زندگیوں میں فلحال ایسی چیزوں کی گُنجائش نہیں ہے۔ ۔۔۔فاحا کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولی تھی اور اُس کا انداز دیکھ کر اسیر اُس کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوگیا تھا

“یہ تمہیں تمہاری بہنوں نے کہا ہوگا خود کیا چاہتی ہو تم؟ اسیر نے سنجیدگی سے پوچھا

ہم ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں جو وہ چاہتیں ہیں فاحا بھی سب وہ چاہتی ہے۔ ۔۔فاحا شانے اُچکاکر بولی

“انسان پہلے خود سے کچھ سوچے تو وہ زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ ۔۔۔اسیر نے کہا

“ہاں مگر یہ آج ہمارا گھر کا اِتنا دور کیسے ہوگیا؟فاحا نے اب نوٹ کیا تو کہا جس پر اسیر گاڑی کو بریک لگاتا آس پاس کا جائزہ لینے لگا وہ دونوں اِس وقت جہاں تھے وہ ایک سنسان علاقہ تھا۔ ۔۔۔

“اللہ اللہ آپ نے فاحا کو اغوا کرلیا۔ ۔۔۔فاحا نے آس پاس کسی کو نہیں دیکھا تو تُکہ لگاکر اُونچی آواز میں اور بے یقین لہجے میں اُس سے بولی

“چلاؤ مت آپ کو اغوا کرنے میں ہمیں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے وہ تو ہمیں کچھ کہنا تھا آپ سے جبھی یہاں لائے ہیں تاکہ سکون سے بات ہوسکے۔ ۔۔اسیر اُس کو گھور کر بولا

“فاحا کو سب پتا ہے شکل سے بیوقوف نظر آتی ہے تو آپ نے سچ میں بیوقوف سمجھ لیا” آپ کو کیا لگتا ہے دو چار فاحا اگر آپ سے بات کرلے گی آپ کی گاڑی میں بیٹھ جائے گی تو اُس سے ہر کام آپ کرواسکتے ہیں” ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ ۔”فاحا کو گھر جانا ہے اپنے بس۔ ۔۔فاحا سیٹ بیلٹ کھولتی مسلسل بولنے لگی تھی

آپ غلط سمجھ رہی ہے

میں نے سمجھا ہی تو اب ہے۔ ۔۔کہنے کے ساتھ ہی فاحا گاڑی سے اُتر گئ تھی۔ ۔

“یہ کیا حرکت ہے گاڑی میں آؤ تم۔۔۔۔اسیر اچھا خاصا تپ اُٹھا تھا

“فاحا کو نہیں آنا۔۔۔فاحا نے صاف انکار کیا”اور سوچنے لگی کہ اب کیسے گھر جائے اپنے

“ہماری بات سُن لو۔۔۔اسیر بھی اُس کے پیچھے آیا

جی آپ نے ابھی یہی بولنا ہے کہ ہمیں آپ کی معصومیت پر پیار آگیا ہے”ہم آپ کے بغیر رہ نہیں سکتے پلیز ہماری محبت کو قبول کرکے ہماری زندگی میں شامل ہوجائے تو فاحا ایسا بلکل بھی نہیں کرے گی ایسی چیزی لائنز فاحا نے ہر ڈرامے میں سُنی ہے۔۔۔۔فاحا اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر بولی تو اسیر ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ کر اُس کو گھورنے لگا جس کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا بول چُکی ہے

“معصوم اور آپ؟بہت اچھا لطیفہ سُنادیا آپ نے اور ایک آخری بات ہمارا نام اسیر ملک ہم کبھی ایسی باتیں آپ سے کہیں گے یہ ایک غلطفہمی ہے آپ کی”ابھی ہمارے دن اِتنے خراب بھی نہیں آئے کہ آپ جیسی کم عقل نادان سے محبت کرئے اور ابھی گاڑی میں بیٹھ جاؤ۔۔اسیر سختی سے بولا

“فاحا آپ سے اب کبھی بات نہیں کرے گی۔۔۔فاحا کو غُصہ آگیا

سُنو لڑکی ہمارا وقت اِتنا فالتو نہیں جو تم پر لُٹائے چُپ چاپ گاڑی میں بیٹھ جاؤ ورنہ یہی چھوڑ کر چلے جائے گے۔۔۔۔اسیر نے تنبیہہ کرنے والے انداز میں کہا

“آپ کو جانا ہے تو جائے ساری زندگی میں نے آپ کی اِس کھٹارا گاڑی سے پِک اینڈ ڈراپ کی سروس نہیں لی جو اب آپ کے جانے سے فاحا پر کوئی اثر ہوگا۔۔”بتانے سے اچھا ہےکہ آپ سچ میں چلے جائے۔۔۔فاحا جذباتی ہوتی بولی” اور اسیر اُس کے پل میں بدلتے انداز کو دیکھتا رہ گیا اِس درمیان اُس نے محسوس نہیں کیا کہ اُس کی خوبصورت بڑی گاڑی کو فاحا نے کس لقب سے نوازہ تھا

“تمہارا دماغ شاید خراب ہوگیا ہے۔۔۔اسیر زچ ہوا

یقیناً خراب ہوگیا تھا جو آپ کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئ اور کسی کو خبر بھی نہیں کی۔۔۔فاحا اُس کی بات سے متفق ہوئی اور اسیر کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اُس کا گلا دبادیتا

اب خراب ہے نہ تو بیٹھو گاڑی میں یہاں تماشا بنانے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔اسیر نے صبط سے کہا

“جی تماشا تو میں نے لگایا ہوا ہے میرا تو اور کوئی کام نہیں”یہاں میڈیا کا ہجوم ہے بہت پبلک سٹی ہے جہاں فاحا تماشا کرے گی اور لوگ آپ پر تھو تھو کرینگے”توبہ کریں آپ زرا اور اللہ کا نام لے یہ تو کوئی پنچھی بھی نہیں تو فاحا کو کیا حاصل ہوگا یہاں تماشا کرنے میں اور مجھے نہ کوئی شوق نہیں تماشا کرنے کا۔۔۔۔فاحا جیسے پھٹ پڑی

“فاحا

اسیر”

اسیر نے ابھی اُس کا نام ہی لیا تھا جب فاحا کی زبان سے بے ساختہ اُس کا نام برآمد ہوا جس پر اسیر کچھ پل خاموش سا اُس کو دیکھنے لگا جو سٹپٹاتی اپنے منہ پر ہاتھ جما گئ تھی۔۔۔

“آپ کا نام لینے میں کتنا عجیب سا ہے۔۔۔فاحا منہ ہی بناکر بولی

“اگر ہوگیا ہو آپ کا تو آئے۔۔۔اسیر سرجھٹک کر اُس سے بولا

“پہلے مجھے بتائے آپ نے جان کر گاڑی کو انجان راستوں پر چلایا نہ اور آپ کا اِرادہ فاحا کو اغوا کرکے اُس کے گھروالوں سے پیسے بٹورنے کا تھا نہ”شکل سے آپ ایک مہذب کھاتے پیتے امیر وکبیر گھرانے سے لگ رہے ہیں پھر ایسی بھی کیا بات ہوگئ تھی جو مجھے اغوا کرنا چاہا۔۔۔۔فاحا اُس کی سننے کے موڈ میں ہرگز نہیں تھی

“دیکھیں اب آپ حد سے زیادہ بڑھ رہی ہیں۔۔۔اسیر کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ اپنے گھنے کالے بالوں کو نوچ لیتا فاحا کے الفاظوں نے سعی معنوں میں اُس کے ہوش ٹھکانے لگادیئے تھے۔۔۔

“میری حدودوں کو آپ نہ تراشے اپنا گریبان دیکھے۔۔۔فاحا نے اُس کو شرمندہ کرنے کی ایک اور کوشش کی

“ہماری بلا سے اب آپ بھاڑ میں جائے آپ کو اگر نہیں چلنا تو نہ چلے یہاں کھڑے ہوکر رات کا انتظار کرے جب چُڑیلیں آپ کو اپنے حصار میں لے گی تو میلے میں بچھڑی ہوئیں اپنی بہنوں سے مل کر آپ کو کافی اچھا محسوس ہوگا۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں اُس کو دیکھ کر کہا تو فاحا کا پورا منہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا تھا

“کیا واقعی میں میلے میں فاحا سے اُس کی بہنیں اُس سے بِچھڑ گئیں تھیں؟فاحا پریشانی سے اُس کو دیکھ کر بولی تو اسیر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا”جس کو طنز یا “خود کی مشابہت چڑیلوں سے کرنا محسوس نہیں ہوا تھا اُس کو تو بس میلے میں نہ بچھڑنے والی بہنوں کا غم ستائے جارہا تھا

“گو ٹو ہیل۔۔۔اسیر دانت کچکچا کر کہتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگا

“آپ کتنے کھٹور ہیں کیا آپ کو زرا رحم نہیں آئے گا؟”اکیلی جوان خوبصورت لڑکی کو یہاں چھوڑ کر آپ جارہے ہیں۔۔۔۔فاحا نے اُس کو پیچھے سے ہانک لگاکر کہا

“خوبصورت ریئلی؟اسیر نے پلٹ کر اُس کو گھورا

“یقین نہیں آتا تو خود کو آئینے میں دیکھ کر مجھے تصور کریں آپ کو اپنا آپ میرے سامنے پانی بھرتا نظر آئے گا۔۔۔فاحا کا اعتماد قابلِ دید تھا اور اپنے بارے میں پہلی بار کسی کا ایسا جُملا سن کر اسیر کو تو جیسے سکتہ طاری ہوگیا تھا وہ جہاں جاتا تھا چھا جاتا تھا”چاہے وہ کوئی عام جگہ ہو یا کالج سے لیکر یونی تک ہر جگہ اُس کا چرچہ ہوا کرتا تھا اُس کی شخصیت ہی کچھ ایسی تھی اور آج چھٹانگ بھر کی لڑکی نے کیسے سر جھاڑ منہ پھاڑ بول دیا تھا کہ وہ کچھ نہیں۔۔

“بدتمیزی لڑکی

نہیں ہوں میں بدتمیز لڑکی آپ کا جب دل چاہتا ہے تب مجھے کبھی”چھوٹی لڑکی کہتے ہیں تو کبھی گُستاخ لڑکی اور اب میں بدتمیز لڑکی ہوگئ کل کو آپ جھوٹی لڑکی بولے گے میں کیا صرف آپ کے منہ سے اپنے لیے ایسی القابات سُننے کے لیے پیدا ہوئی ہوں؟”میرا نام فاحا ہے”فاحا” ذہین نشین کرلے آپ۔۔۔۔اسیر غُصے سے دندناتا اُس کے پاس آکر کچھ کہنے والا تھا جب فاحا نے اُس کی بات کو درمیان میں کاٹ کر کہا

“تمہیں پتا ہے تمہاری اِس قدر گُستاخی پر ہم تمہاری زبان بھی کاٹ سکتے ہیں اسیر ملک ہیں ہم ہمیں آسان سمجھنے کی کوشش نہ کرو تو اچھا ہے اور آئیندہ اگر ہماری بات کاٹنے کی جُرئت کی تو نتیجہ بہت بُرا ہوگا۔۔اسیر کا لہجہ وارننگ سے بھرپور تھا

“ہوگے آپ فزکس”کیمسٹری”سائنس”باٹنی بائیولاجی ذولاجی کی طرح مشکل پر آپ کو سمجھنے کا شوق فاحا کو نہیں ہے بس اب آپ مجھے میرے گھر چھوڑ آئے بڑی مہربانی ہوگی۔۔۔فاحا منہ کے زاویئے بنا کر بولی

“زبان کو قفل لگاکر گاڑی میں بیٹھ جاؤ منہ سے اگر تمہارے چوں چراں کی آواز بھی آئی تو چلتی گاڑی سے باہر پھینک دینگے۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے دو ٹوک لہجے میں اُس سے کہا

پر

ہشششش خاموش

ہم نے کہا نہ۔۔۔۔فاحا احتجاجاً کچھ کہنے والی تھی جب اسیر نے ہاتھ کے اِشارے سے اُس کو کچھ بھی کہنے سے باز رکھا تھا جس پر ناچاہتے ہوئے بھی فاحا نے چُپ سادھ لی تھی۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

نانو کیا ہماری ماں کبھی نہیں ہوگی؟”نورجہاں بیگم ملازمہ کے ساتھ عروج بیگم کے بیڈ کی بیڈ شیٹ بدلوا رہی تھی جب اقدس اپنی گُڑیا کو پکڑے اُن کے سامنے کھڑی ہوتی معصومیت سے پوچھنے لگی۔۔۔

“ہائے بدقسمت تیری ماں تھی جو تُجھے چھوڑ کر چلی گئ۔۔۔پر توں روتی کیوں ہے؟”ہم ہیں نہ تمہارے ساتھ۔۔نورجہاں بیگم اُس کو اپنی گود میں اُٹھائے اُس کے گالوں کو چوم کر بولی

“اقدس کو اپنی مما کی تصاویر چاہیے”نانو آپ دینگی نہ تصویر۔۔؟اقدس نے فرمائشی انداز میں کہنے کے بعد اُن سے پوچھا

“آج کے بعد ہمیں یہاں حویلی میں اُس عورت کا کوئی بھی سامان یا اُس سے وابستہ کوئی بھی چیز نظر آئی تو ہم سے بُرا کوئی نہیں ہوگا اور آج ہم پہلی اور آخری بار سب کو بتارہے ہیں اگر کسی نے اُس عورت کی تصویر ہماری بچی کو دیکھائی بھی تو ہم اُس کا وہ حال کرینگے کہ پورا گاؤں دیکھے گا۔۔’!

“اقدس کی بات پر نورجہاں کے کانوں میں اسیر کی سالوں پُرانی روعبدار آواز گونجی تھی جس پر اُن کے پورے جسم میں کرنٹ ڈور گیا تھا اور بے ساختہ اُنہوں نے جھرجھری سی لی تھی۔۔۔

“آؤ میں تمہیں نوڈلز بنادیتی ہوں۔۔۔نورجہاں بیگم نے اُس کا دھیان بٹانا چاہا

“پر مجھے اپنی ماں کو دیکھنا ہے بابا بھی ایسا کرتے ہیں اور آپ بھی نہیں دیکھا رہی ہیں۔۔۔اقدس کے پورے چہرے پر اُداسی چھاگئ

“پھوپھو کی جان آپ میرے پاس آئے۔۔لالی کمرے میں آئی تو اقدس کا اُترا ہوا چہرہ دیکھ کر نورجہاں بیگم کی گود سے اُس کو لیا

“اقدس آپ سے ناراض ہے۔۔۔اقدس نے اُس سے منہ پھیر کر کہا

“ارے وہ کیوں؟لالی نے اُس کو دیکھ کر مسکراہٹ دبائی

“کیونکہ آپ اقدس کو وقت نہیں دیتیں۔۔۔اقدس نے جتایا جبکہ نورجہاں بیگم نے شکر کا سانس خارج کیا تھا کہ اقدس کا دھیان اپنی ماں سے ہٹ گیا تھا

“اب پھوپھو یونی نہیں جائے گی کچھ دِنوں تک تو ہم خوب مزہ کرے گے۔۔۔لالی نے اُس کو پیار سے پچکارا

“کیا سچ میں؟خوشی سے اقدس کی آنکھیں جگمگا اُٹھی

“ہاں بلکل سچ۔۔۔۔لالی اُس کا ماتھا چوم کر ہنس کر بولی

❤Rimsha Hussain Novels❤

“اماں جان آخر یہ کب تک چلے گا۔۔۔نورجہاں بیگم عروج بیگم سے بولی جو تسبیح کے دانے گِرانے میں مصروف تھیں۔۔۔

“کیا کب تک چلے گا؟”پھر کچھ ہوا ہے کیا؟عروج بیگم کو اُن کی بات سمجھ نہیں آئی

“میں اسیر کی بات کررہی ہوں وہ آخر کب تک اقدس کو اپنی ماں کے لمس سے محروم رکھے گا۔۔۔نورجہاں بیگم نے سوال اُٹھایا

“یہ کرنے والی تمہاری بیٹی ہے نور اسیر ہمارے پیارے پوتے نے تو اپنے دل پر پتھر رکھ کر اپنی کم عمری میں دیبا سے شادی کی تھی جو اُس سے چھ سال بڑی تھی لیکن اُس کے باوجود اُس نے شادی نبھانے کی پوری کوشش کی تھی پر تمہاری بیٹی نے کیا کردیا؟،”اُس سے طلاق مانگ لی اور اقدس کی پیدائش کے اگلے روز جانے وہ کہاں چلی گئ۔۔۔اور اب تم ذمیدار اسیر کو ٹھیرا رہی ہو۔۔۔عروج بیگم تو جیسے پھٹ پڑیں

“اماں جان دیبا کیوں؟”اور کس کے ساتھ گئ یہ بات محض اسیر کو پتا ہے اور خُدا جانے اُس نے دیبا کے ساتھ کیا کردیا تھا جو وہ حویلی سے چلی گئ یہ بتانے کے بجائے اُس نے سب حویلی والوں کو اُس کا نام لینے سے منع کردیا ہے کوئی مانے یا نہ مانے مگر میرا دل جانتا ہے اسیر نے کبھی دیبا کو اُس کا حق دیا ہی نہیں تھا۔۔۔نورجہاں جذباتی ہوتی بولی

“جی بلکل اقدس کو زمین سے اُگھی تھی۔۔۔فائقہ بیگم نے اُن کو دیکھ کر طنز کیا

“دیکھے بھابھی آپ خاموش رہے۔۔۔۔نورجہاں بیگم اپنی خُجلت مٹانے کے غرض سے اُن پر چڑھ ڈوری

“مجھ سے زبان لڑانے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں نورجہاں اور اگر اب تمہیں اپنی بھگوری بیٹی کی اِتنی یاد آرہی ہے تو جاؤ اور تلاش کرو اُس کو۔۔۔فائقہ بیگم نے کھڑی کھڑی سُنادی تھی

“دیکھے جوان بیٹی کی ماں آپ خود بھی ہیں اِس لیے سوچ سمجھ کر بولے۔۔۔نورجہاں نے اُن کو وارن کیا

“اب تم مجھے

“چُپ ہوجاؤ تم دونوں اب۔۔۔۔عروج بیگم نے دونوں کو ٹوک دیا

“میں چُپ ہوجاؤں گی بس آپ اِس کو سمجھائے کہ اچانک جاگی ہوئی ممتا کو دوبارہ سُلادے۔ ۔۔فائقہ بیگم سرجھٹک کر کہنے کے بعد وہاں سے چلی گئ۔۔”سیڑھیوں کے عقب کے پاس کھڑی لالی نے اُفسوس سے یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا

“یہی ایک وجہ ہے جو میرا دل یہاں نہیں لگتا یہاں انسان کو انسانوں کا احساس نہیں ہوتا ایک ساتھ رہتے ہیں مگر ایک ساتھ کھڑے نہیں ہوتے۔ ۔۔”لالی نے غُصے سے اپنے کمرے میں جاتی نورجہاں بیگم کو جاتا دیکھا تو بے ساختہ سوچا تھا۔ ۔۔

❤RimSha Hussain Novel❤

ہائے جاِن من۔ ۔۔۔

میشا نے جہاں نرسنگ کی جاب شروع کی تھی وہ وہاں جانے لگی تھی جب اچانک جانے کہاں سے آریان اُس کے سامنے آگیا تھا۔۔

“تم میرا پیچھا کرتے کرتے یہاں تک آگئے۔۔میشا نے کڑے چتونوں نے اُس کو دیکھ کر کہا

“ہاں بلکل کیونکہ سات سمندر پار میں تیرے پیچھے پیچھے آگیا میں تیرے پیچھے آگیا۔۔۔۔آریان اُس کے ارد گرد چکر لگاتا گُنگُنانے لگا تو اُس پر میشا کو مزید تاؤ آیا

“تم

تم آج بس یہ بتاؤ میں کیسا لگ رہا ہوں۔۔۔آریان اُس کے سامنے کھڑا ہوتا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر دلکش انداز میں بولا تو میشا نے سرتا پیر پہلے اُس کے کالے چمکدار جوتے دیکھے پھر وائٹ جینز پینٹ کے ساتھ اُس کی نظر آریان کی نیلی شرٹ پر پڑی پھر سینے سے تک آتے ایک بلیک لاکٹ پر اُس کے بعد جیسے ہی آریان کے چہرے پر گئ تو اُس نے بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ کا گلا گھونٹا تھا کیونکہ اُس نے اب نوٹ کیا تھا کہ آریان کلین شیو تھا آج

“قسمے چِھلے ہوئے مرغے لگ رہے ہو۔۔۔کہنے کے ساتھ ہی میشا کی بس ہوئی تھی اور اُس نے ایک زوردار قہقہقہ لگایا تھا”مگر لفظ چِھلے ہوئے مرغے پر آریان کا چہرہ دیکھنے لائق ہوا تھا اُس نے خشمگین نظروں سے میشا کو دیکھا جو ہر بار اُس کے موڈ کا بیڑا غرق کردینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی تھی۔

“تمہیں پتا ہے تم ورلڈ کی سڑی ہوئی خاتوں ہو۔۔۔۔آریان سے کچھ اور بولا نہیں گیا تو بدمزہ ہوکر بولا

“شکریہ شکریہ۔۔۔۔میشا نے خوش اسلوبی سے اُس کا دیا گیا لقب قبول کیا

“جب کوئی اچھے سے پیش آتا ہے تو جواب میں اُس کے ساتھ بھی اچھے سے پیش آیا جاتا ہے۔۔۔آریان نے اُس کو احساس دلوانا چاہا

“تمہیں اپنی ڈارھی ہٹانے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا نہ کہ تم اُس سے چِھلے ہوئے آلو یا مرغے بھی لگ سکتے ہو۔۔۔”پاگل ڈراھی مونچھیں تو مرد کی شان ہوتی ہیں۔۔۔میشا باز پھر بھی نہیں آئی تھی

“اچھا دفع کرو کچھ نیا کرتے ہیں۔۔”جو آجکل بہت ٹرینڈ پر ہے۔۔اُس کی بات نظرانداز کرکے آریان نے پرجوش ہوکر کہا

“نئے سے مُراد؟میشا نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

یہاں آؤ۔۔۔آریان نے اُس کو سائیڈ پر لاکر کھڑا کیا

“تم نہ اپنے ہاتھوں کو قابوں میں کیا کرو کیونکہ اگر میرے ہاتھ آؤٹ آف کنٹرول ہوئے نہ تو تمہارے چہرے کی خیر نہیں ہے۔۔۔میشا نے اُس کو تنبیہہ دی

اچھا اچھا اب چُپ کرکے بس تم میرے سوالوں کا سہی سے ادب کے دائرے میں رہ کر جواب دینا۔۔۔آریان نے کہا

“کیوں کیا تم میرے اُستاد ہو؟میشا نے طنز کیا

چُپ کرو تم بس جواب دینا یہ بتاؤ تمہیں پڑھنے کا شوق ہے؟آریان نے پوچھنے کے بعد بے چینی سے اُس کو دیکھا

“یہ کیسا سوال ہے؟میشا نے عجیب نظروں سے اُس کو دیکھا

“جیسا بھی ہے تم جواب دو نہ۔ ۔۔آریان تپ اُٹھا

“نہیں مجھے پڑھنے کا کوئی شوق نہیں میں تو بس اسکول جاتے ہوئے یہ سوچتی تھی کہ کاش کوئی کیچر آجائے اور میں اُس میں گِرجاؤں میرا سارا یونیفارم خراب ہوجائے اور میں اسکول جانے سے بچ پاؤں۔۔۔۔میشا نے حسرت بھرے لہجے میں جواب دیا تو اُس کو دیکھ کر آج آریان نے صبر کا گھونٹ بھرا تھا مگر اُس نے ہار قطعاً نہیں مانی تھی

اچھا چھوڑو پڑھنے کو تمہیں لکھنے کا شوق ہے؟آریان نے اگلا سوال کیا

“میرے ہاتھوں کو بس ایک چیز کا شوق ہوتا ہے اور وہ ہوتا ہے کہ کسی لفنگے کا منہ توڑنے کا اُس کے علاوہ لکھتے ہوئے میرے ہاتھوں میں درد پڑجاتا ہے۔۔۔میشا نے اِس بار بھی اُس کی سوچ کے برعکس جواب دیا

“اِتنی تم نازک خیر یہ بتاؤ کیا تمہیں سمجھنے کا شوق ہیں؟آریان نے ایک اور کوشش کی

“میں سائکاٹرسٹ تھوڑئی ہوں جو لوگوں کو سمجھتی پِھروں خود کو سمجھ جاؤں یہی بڑی بات ہے۔۔۔میشا نے منہ کے زاویئے بگاڑ کر جواب دیا تو آریان کا دل چاہا وہ اپنا سر دیوار پر مارے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *