Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 20)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

میں اپنے برابر کھڑے ہونے کا پوچھ رہی ہوں۔۔۔۔سوہان تھوڑا سنبھل کر بولی

“میں تو لڑکی کو اکیلا کھڑا دیکھ کر آیا تھا پتا نہیں تھا کہ آپ ہوگی۔۔۔۔ہاتھ جینز کی پاکٹ میں ڈالے زوریز نے عام انداز میں جواب دیا

“آپ ہوگی سے مُراد؟”کیا آپ کی نظروں میں میرا شُمار لڑکیوں میں نہیں ہوتا؟سوہان نے دوبارہ اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے پوچھا

“کیا میری بات سے آپ کو ایسا فیل ہوا؟زوریز چونک سا گیا

ہممم بلکل کیا اِس میں کچھ غلط ہے؟سوہان نے سر کو جنبش دے کر کہا

“جی غلط ہے میں ایسا نہیں سوچتا خیر آگے کے لیے آل دا بیسٹ اور ابھی کے لیے بہت مُبارک ہو آپ نے اپنا پہلا کیس جیت لیا۔۔۔۔”زوریز نے کہا تو اِس بار سوہان کو حیرت کا شدید قسم کا جھٹکا لگا وہ تعجب سے زوریز کو دیکھنے لگی جس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا

“آپ کو کیسے پتا چلا کہ میں کیس جیت گئ”کیا آپ میری جاسوسی کرتے ہو؟سوہان کا انداز قدرے سنجیدگی سے بھرپور تھا

“کیا آپ کو ایسا لگتا ہے کہ میں آپ کی جاسوسی کرتا ہوں؟زوریز اُس کی بات سے محفوظ ہوا

“مجھے کیا لگتا ہے یا کیا نہیں یہ میٹر نہیں کرتا فلحال میٹر وہ کرتا ہے جو ابھی میں نے آپ سے پوچھا۔۔۔۔سوہان تھوڑی شرمندہ ہوئی مگر ظاہر کیے بغیر بولی

“میرے پاس آپ کے لیے ایک آفر ہے۔۔۔سوہان کو مطلوبہ جواب دینے کے بجائے زوریز نے اپنی بات اُس کے آگے کی

“مجھے آپ کی آفرز قبول نہیں۔۔۔۔سوہان نے سرجھٹک کر کہا”اگر وہ اُس کی بات کو اگنور کرسکتا تھا تو سوہان بھی اُس کی آفرز کو ریجیکٹ کرسکتی تھی

“پہلے آفر سُن لے۔۔۔زوریز نے تحمل سے کہا

“قبول ہوتی تو ضرور سُنتی۔۔۔سوہان اپنی بات پر قائم تھی۔۔۔

“آپ کا فائدہ اِس میں پوشیدہ ہے۔۔۔زوریز نے گویا اُس کو اصرار کیا

“میرے فائدے کا آپ کو نہیں سوچنا چاہیے”آپ ایک بزنس مین ہیں اور بزنس مین لوگ ہر چیز کو بزنس سمجھتے ہیں اُن کا مائینڈ بھی بزنس ہوتا ہے”وہ صرف اپنے لیے سوچتے ہیں جس میں اُن کا فائدہ پوشیدہ ہو اُس کے علاوہ وہ کسی اور کے بارے میں سوچنا گوارا نہیں کرتے۔۔۔سوہان بولنے پر آئی تو بولتی چلی گئ تھی اور زوریز بس خاموشی سے اُس کو سُننے لگا

“آپ کا کُمپلیمنٹ محض میرے لیے تھا یا ہر بزنس مین کے لیے؟جواب میں زوریز نے جس تحمل کا مُظاہرہ کیا اُس پر سوہان نے عجیب نظروں سے اُس کو دیکھا

“کیا میری اِتنی باتیں سُنانے کے باوجود آپ کو غُصہ نہیں آیا؟سوہان کو زوریز اِس دُنیا کا نہیں لگا کیونکہ وہ جس انداز میں اُس سے بات کررہی تھی اُس حساب سے تو اُس کی پیشانی میں بلوں کا جال بِچھ جانا چاہیے تھا مگر ایسا کچھ نہیں تھا وہ کافی پرسکون کھڑا تھا ایسے جیسے وہ یہاں قبرستان میں اُس کو جن بھوتوں کے بجائے پریوں کی کہانی سُنارہی ہو

“ہر بزنس مین کے لیے آپ پر میں نے خاص ریسرچ نہیں کی۔۔۔سوہان نے سرجھٹک کر بتایا

“ہممم مگر بزنس مین لوگوں کی کافی نالیج رکھتی ہیں بائے دا وے میں جب آپ کی بہنوں سے ملا تو لمحے کے کسی حصے میں یہ سوچا تھا کہ وہ اِتنی باتونی کس پر گئیں ہوگیں مگر اب میرے اُس سوال کا جواب مل گیا یقیناً وہ آپ پر گئیں ہوگیں۔۔۔زوریز سمجھنے والے انداز میں بولا تو گردن موڑ کر سوہان نے اُس کو گھورا تھا

“آپ کو میں کس لحاظ سے باتونی لگی ہوں؟”کیا میں نے یہاں کھڑے ہوکر آپ کو پریوں کی داستان سُنائی ہے ایک سانس میں؟سوہا طنز ہوئی

قبرستان میں پریوں کی سُنائی ناٹ آ بیڈ آئیڈیا مگر کہانیاں رات کو سُننے میں زیادہ لطف دیتیں ہیں اور مزہ بھی تب آئے گا تو آپ اپنا شیڈول چیک کرکے مجھے بتائیے گا کہ رات کے وقت کب آپ فری ہوتیں ہیں۔۔۔”دین ہم پریوں پر ڈسکشن کرینگے بھوت بنگلے میں۔۔۔۔زوریز اپنی بیئرڈ پر ہاتھ پھیر کر دلچسپ لہجے میں بولا تو سوہان سے ضبط سے اُس کو دیکھا

“کیا یہ مذاق تھا؟سوہان نے ضبط سے پوچھا

“کیا آپ کو یہ بات مذاق لگی؟”میں تو سیریس ہوں اور آپ نہ لال جوڑا پہن کر آئیے گا ساتھ میں گہری لال سُرخی ہونٹوں پر سجائیے گا”کلائیوں میں لال رنگ کی چوڑیاں بھی پہن لیجئے گا اِس سے یہ ہوگا کہ کالی اندھیری رات میں آپ کو لال پری کے روپ میں دیکھ کر مجھے کسی اور چیز کا ڈر نہیں لگے گا اور نہ آپ کو سجا سنوارا دیکھ کر میرا دھیان بھٹکے ہم کافی دیر تک پھر پریوں پر بات کرسکتے ہیں”اور آخری وقت میں جن”چڑیلوں پر بھی تھوڑی بات وغیرہ کرلینگے ورنہ وہ بُرا نہ مان جائے۔۔۔۔زوریز عادت سے مجبور اپنی بیئرڈ پر ہاتھ پھیر کر بولا تو سوہان نے صبر کا گھونٹ بھر کر اُس کو دیکھا جو جانے کس چیز کا بدلہ نکال رہا تھا۔۔

“میں یہاں اپنی ماں کے ساتھ اکیلا وقت اسپینڈ کرنے آئی ہوں۔۔۔۔سوہان نے جیسے اُس کو وہاں سے جانے کا کہا کیونکہ وہ زوریز کی اب مزید کوئی باتیں سںننے کے حق میں نہ تھی۔۔۔

“قبرستان میں خود کو اکیلا کہنا یہ نامعقول سی سوچ ہے ٹرسٹ می آپ کو اپنے دائیں بائیں ایسا محسوس ہوگا جیسے کوئی آپ کے پاس کھڑا ہے پر جب آپ وہاں دیکھے گی تو کوئی نہیں ہوگا”اور جب آپ بیٹھنے لگے گیں تو آپ کو ایسے لگے گا جیسے کوئی پیچھے آرہا ہو آپ کو۔۔۔”اور آپ کو پتوں کے ہِلنے کی آواز بھی بہت زیادہ آئے گی۔۔زوریز نے کافی اُس کو معلومات دی جس کو سن کر سوہان کو جانے کیوں تھوڑا خوف محسوس ہوا اب انسان جتنی بھی بہادری کا مظاہرہ کیوں نہ کردے اندیکھی مخلوق سے تھوڑا بہت ڈر تو سب کو لگتا ہے۔۔۔”یہی حال سوہان کا ہوگیا تھا چاہے رات کا وقت نہیں تھا مگر زوریز نے جیسے اُس کی دُکھتی رگ دبائی تھی اور قبرستان کا جیسا نقشہ کھینچ کر اُس نے سوہان کے سامنے رکھا تھا اُس پر سوہان کو ایسے لگنے لگا جیسے اب وہ کبھی قبرستان اکیلے آنے کی ہمت نہیں کرپائے گی۔۔”کیونکہ زوریز بات ہی کچھ اِس انداز سے کرتا تھا کہ انسان کنفیوز ہوئے بنا نہ رہ پاتا تھا

“آپ کو کافی معلومات ہے لگتا ہے ایسا کچھ ہوگیا ہے۔۔۔سوہان نے جھرجھری لیکر کہا

“میں نے ایسی کبھی نوبت آنے نہیں دی میں جب بھی آتا ہوں یہاں اپنے دو آدمیوں کو ساتھ لے چلتا ہوں اور جب اپنے دائیں بائیں کوئی محسوس ہوتا ہے تو جیسے ہی میں وہاں دیکھنا چاہتا ہوں وہ دونوں نظر آجاتے ہیں۔۔۔۔زوریز نے سرسری لہجے میں کہا تو سوہان نے چونک کر اُس کے پیچھے دیکھا جہاں واقعی میں چند قدموں کی دوری پر زوریز کے آدمی کھڑے تھے اِن کو سوہان نے زوریز کے ساتھ ریسٹورنٹ میں بھی دیکھا تھا۔۔۔

“ویسے کیا آپ کو غُصہ نہیں آتا؟سوہان نے دوبارہ سے اپنی نظریں زوریز پر جمائی

غُصہ کیوں؟زوریز ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگا

“میں جس انداز اور جس لہجے میں آپ سے بات کررہی ہوں اُس حساب سے مجھے لگتا ہے کہ آپ کو غُصہ کرنا چاہیے”مگر آپ کی پیشانی پر ایک بل بھی نہیں۔۔سوہان نے کندھے اُچکائے کہا

“تو کیا میں یہ سمجھوں کہ آپ کو مجھے غُصے میں دیکھنے کی خُواہش ہے۔۔۔؟زوریز پہلی بار مسکرایا تھا اور اُس کو مسکراتا دیکھ کر سوہان نے نظریں پھیر لی تھیں۔۔

“مجھے ایسی کوئی خواہش نہیں خیر اب آپ جائے مجھے میری ماں کے ساتھ باتیں کرنی ہیں۔۔۔سوہان نے خود ہی اِس بار اُس کو جانے کا کہا کیونکہ وہ جان گئ تھی کہ زوریز کا کوئی اِرادہ نہیں جانے کا۔۔

“مرے ہوئے انسان سے بات کرنے سے اچھا ہے زندہ کھڑے انسان سے باتیں کی جائے کم از کم وہ آپ کو جواب تو دے سکتا ہے۔۔۔۔زوریز نے اُس کو اپنے مفید مشورے سے نوازہ

“آپ کا بہت شکریہ۔۔۔سوہان نے زبردستی مسکراہٹ چہرے پر سجائی

“میں اِس لیے بول رہا تھا کیونکہ قبرستان میں بندے کو بچپن سے لیکر جوانی تک ہر دیکھی ہوئی ہارر مووی کا ڈراؤنا سین کسی فلیش بیک کی طرح نظروں کے سامنے چلتا ہے۔۔۔۔زوریز نے جیسے قسم اُٹھائی ہوئی تھی کہ سوہان کا ہارٹ فیل کروانے کی۔

“آپ ٹین ایجر کی طرح باتیں کیوں کررہے ہو؟سوہان نے خود کو کمپوز کیا

“کیا آپ کو ایسا لگتا ہے کہ میرا بیہیوئر ٹین ایجر کی طرح ہے؟”یہ تو پھر میرے ساتھ زیادتی ہوئی تیس سال کے میچیور انسان کو اٹھارہ سال کے ٹین ایجر سے ملانا وہ بھی تب جب آدھا حصہ آپ نے گُزار لیا ہو”یہ کسی انسلٹ سے کم نہیں۔۔۔۔زوریز پرسوچ لہجے میں بولا

“کیا آپ کو اپنی انسلٹ فیل ہوئی؟سوہان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی

“اپنی انسلٹ ہر ایک کو محسوس ہوتی ہے مگر آپ کونسا میری انسلٹ کررہی ہیں جو مجھے فیل ہو۔۔۔زوریز نے کہا تو سوہان اچھا خاصا بدمزہ ہوئی تھی

“جی میں تو آپ کو پھولوں کا ہار پہنا رہی ہو۔۔۔سوہان تپ اُٹھی

“پھول کا ہار پہنانے کی یہ کوئی خاص جگہ یا وقت نہیں ہے”آپ ایسا کرنا ایک ماہ بعد مجھے کال کرنا جگہ اور وقت میں آپ کو میسج پر بتاؤں گا۔۔۔”بات یہ ہے کہ میں نے انجیو کی مدد کی تھی اور وہ اب اُس انجیو کے افتتاح کے لیے مجھے آنے کا کہہ رہے ہیں تو میں چاہوں گا آپ اپنی وہ خُواہش وہاں پوری کریں۔۔۔۔زوریز نے سارا پلان ترتیب کیا

“آپ کو کیا لگتا ہے آپ مذاق بہت اچھا کرلیتے ہیں جس کو سن کر لوگ ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہوجائے گیں تو ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔سوہان نے اُس کو گھور کر کہا

“کیا آپ کو ایسا لگتا ہے کہ میں اپنے بارے میں ایسا سوچوں گا یہ میرے لیے شرم کا مقام ہے اور میں تیس سال کا ایک میچیور پرسن ہوں میں جانتا ہوں یہ چیزیں مجھے زیب نہیں دینگی۔۔۔زوریز شانے اُچکاکر بولا

“آپ بار بار خود کو تیس سال کا بتاکر کیا ظاہر کرنا چاہ رہے؟سوہان اُس کے ایک ہی راگ لاپنے پر پوچھ بیٹھی

“یہی کہ آپ مجھے مشورہ دے کہ میری شادی کی عمر نکل رہی ہے ویسے آپ کی ایج کیا ہے؟”بتانے کے بعد زوریز نے سوہان سے پوچھا جو پہلے والا واقع تو بھول چُکی تھی مگر زوریز کی باتوں نے اُس کو اچھا خاصا تنگ کرلیا تھا

“آپ کی آج کوئی میٹنگ نہیں؟سوہان نے ضبط سے اُس کو دیکھ کر پوچھا جبکہ اپنی بات نظرانداز ہوجانے پر زوریز ہولے سے مُسکرایا تھا

“اتفاقً ہماری میٹنگ ہوگئ۔۔۔۔زوریز نے خود پر اور اُس کی طرف اِشارہ کیا

“یہ تازہ پھول آپ نے قبر پر ڈالے ہیں؟سوہان کی نظر اب پڑی تو پوچھا

“آپ کو نظر آرہا ہے؟زوریز نے پوچھا

“افکورس مجھے نظر آرہا ہے میں کوئی اندھی تھوڑئی ہوں۔۔۔”سوہان زچ ہوئی

“الحمد اللہ آپ اندھی نہیں اور میرا یہ مطلب نہیں تھا۔۔۔”زوریز نے گویا وضاحت کی۔

“آپ پلیز جاؤ۔۔۔سوہان نے گہری سانس بھر کر اُس سے کہا

“میں اُس دن کہی بیٹھ کر آپ سے بات کرنا چاہتا تھا مگر آپ کے چہرے پر نو لفٹ کا بورڈ دیکھ کر میں نے کہنا مُناسب نہیں سمجھا۔۔۔۔زوریز نے جیسے اُس کی بات سُنی نہیں

“اچھا کیا جو نہیں کہا۔۔۔سوہان نے لیئے دیئے انداز میں کہا

“آپ نے پوچھا نہیں کونسی بات؟زوریز نے اُس کو دیکھ کر کہا

“مجھے پتا ہے میرے کہنے کے بنا بھی آپ بتادینگے۔۔۔۔سوہان نے کہا

“جی لیکن جگہ سہی نہیں۔۔۔زوریز آس پاس کا جائزہ لیکر بولا

“آپ جائے پھر۔۔۔۔سوہان نے پھر سے کہا

“آپ کیوں چاہتی ہیں کہ میں جاؤں؟”ہلانکہ کھڑا میں اپنے پاؤں پر ہوں۔۔۔۔زوریز نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا پھر اپنے پیروں کو دیکھ کر کنفرم کیا کہ واقعی میں وہ خود کے قدموں پر کھڑا تھا

“مجھے غیرضروری بات کرنے والے لوگ پسند نہیں ہوتے۔۔۔سوہان نے کہا

“مجھے بھی اور ویسے بھی خاموشی بھی ایک عبادت ہوتی ہے۔۔۔زوریز نے اُس کی ہاں میں ہاں ملائی”زیادہ اُس کہ بات پر غور وفکر کرنا اُس نے ضروری نہیں سمجھا تھا

“شاید مجھے خود چلے جانا چاہیے۔۔۔سوہان نے کہا

“آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ لڑکیوں کا قبرستان آنا سہی نہیں ہے۔۔۔۔زوریز نے سنجیدگی سے کہا تھا

“میں اپنی ماں کی قبر پر آئی تھی۔۔۔سوہان نے محض اِتنا کہا

“وہ بھی قبرستان میں ہے۔۔۔۔زوریز نے کہا

“لوگ کہتے ہیں ماں کے بغیر گھر قبرستان ہے لیکن اگر ماں کے بغیر جب ہم اُس گھر نُما قبرستان میں رہ سکتے ہیں تو اُس کی قبرستان میں موجود اُس کی قبر پر پھول ڈالنے کے لیے بھی ہمیں آنا چاہیے۔۔۔۔سوہان کے لہجے میں حسرت تھی

“ہمیں اللہ کے بنائے ہوئے دائروں کو کراس نہیں کرنا چاہیے اور نہ اُس کے کسی کام پر سوال اُٹھانا چاہیے”وہ جانتا ہے مگر ہم نہیں جانتے اور بے خبری ایک اچھی چیز ہے۔۔زوریز نے عام انداز میں اُس سے کہا

“آپ نے بتایا نہیں؟سوہان نے بات کا رخ بدلا

“آپ نے بھی نہیں بتایا۔۔۔زوریز جواباً بولا

“کس بارے میں؟سوہان اُلجھی

“آپ کو میں نے کس بارے میں نہیں بتایا؟”زوریز نے پوچھا

“آپ کو کیسے پتا چلا کہ میں اپنا پہلا کیس پہلے دن جیت گئ؟سوہان نے سنجیدگی سے پوچھا

“یہ ایک ریپ کیس تھا جس کی خبر میڈیا میں پہلے پہنچے ہوئیں تھی اور یہ خبر پھیلانے والی آپ کی کلائنٹ تھی”مختصر یہ کے آپ کی کامیابی کا چرچہ ہر نیوز چینل پر ہے تو آپ کو اب اِتنا حیران ہونا نہیں چاہیے اب آپ فیمس ہستی ہیں”آہستہ آہستہ ایک دُنیا آپ کو جاننے لگے گی۔۔۔زوریز نے بتایا تو سوہان کا سر سمجھنے والے انداز میں ہلا

“ٹھیک۔۔۔۔سوہان بس اِتنا بولی

اب آپ بتائے؟زوریز نے اپنا رخ اُس کی طرف کیا

“کیا؟سوہان نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا

“میری آفر کے بارے میں کیا خیال ہے”مجھے لگتا ہے آپ کو حامی بھر لینی چاہیے شام کے وقت قبرستان میں کھڑے ہوکر آپ کو کمپنی دی ہے جو کی ایک بڑی بات ہے”اِتنا حق تو بنتا ہے اب میرا۔۔۔۔زوریز نے کہا

“اپنی آفر بتائے۔۔۔۔سوہان نے سنجیدگی سے پوچھا

“مجھ پر ایک جھوٹا کیس لگا ہے میں چاہتا ہوں وہ آپ دیکھے ایز آ وکیل ہیں اب آپ۔۔۔”اور اِس میں ایک اسپیشل بات یہ ہے کہ اب بھی آپ کو اُس خاندان سے ٹکر لینی پڑے گی۔۔۔۔زوریز نے تفصیل سے بتایا

“کیس کی نوعیت کیا ہے؟سوہان نے اُس کی آخری بات پر توجہ نہ دی

“نذیر ملک کو شاید آپ جانتی نہ ہو اُن سے کچھ ماہ پہلے بورڈنگ میٹنگ میں مُلاقات ہوئی تھی سال کا ایک بہت براجیکٹ تھا جو اُس کے بجائے ہماری کمپنی کو ملا تھا تو بس اُس نے مجھ سے بلاوجہ کا بیر بنالیا ہے”الزام اسمگلنگ کا ہے کہ میں اسمگلنگ کا کام کرتا ہوں وہ الگ بات ہے کہ میں نے کبھی ڈرگز کو قریب سے دیکھا بھی نہیں۔۔۔۔زوریز نے بتایا

“یہ ایک بہت بڑا ایشو ہے آپ اِس کو سمپلی کیسے لے سکتے ہیں؟”مطلب ایسے سمپل طریقے سے کون بتاتا ہے؟سوہان کو حیرت ہوئی

“کیا مجھے ہائے طریقے سے بتانا چاہیے تھا؟”سوری مجھے کچھ اندازہ نہیں آپ تھوڑی مدد کرے تو میں پھر دوبارہ بتاؤں۔۔۔زوریز نے کہا تو سوہان خشمگین نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی۔۔

“آپ کو فرق نہیں پڑ رہا کہ کسی نے اِتنا بڑا الزام لگایا ہے آپ پر کیس کیا ہے اِس سے آپ کا بنا بنایا امیج خراب ہوسکتا ہے۔۔۔”کوئی بھی کلائنٹ کوئی بھی ڈیلر آپ سے کام کرنا پسند نہیں کرے گا۔۔۔”سوہان نے گویا اُس کی عقل پر ماتم کیا

“میں کلیئر کرچُکا ہوں یہ ایک جھوٹا کیس ہے۔۔۔”تو مجھے پریشان کیونکر ہونا چاہیے؟”اگر آپ کو ٹرسٹ نہیں تو کوئی بات نہیں ہم کوئی ایک دن ڈیسائیڈ کرتے ہیں پھر کیس پر بات کرینگے آپ کو سب پتا چل جائے۔۔۔زوریز کو جیسے اُس کی بات سمجھ نہیں آئی اور جو آئی اُس نے بول دی

“آپ کی ناقص عقل کو شاید میری بات سمجھ نہیں آرہی۔۔۔۔سوہان نے کہا تو لفظ”ناقص عقل”پر زوریز نے ایسے منہ بنایا گیا جیسے اپنے لیے اُس کو یہ لفظ خاص پسند نہیں آیا

“آپ کا مطلب؟زوریز نے کہا

مطلب صاف ہے دُنیا وہ دیکھتی ہے جو اُس کو دیکھایا جاتا ہے؟”اور کورٹ میں ثبوتوں پر بات بنتی ہے سزا بھی اُس کو ہوتی ہے جس کے خلاف سارے ثبوت ہو چاہے پھر کیس الزامات بے بنیاد کیوں نہ ہو۔۔۔۔سوہان نے اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا تھا

“آپ کی بات سے مجھے اختلاف نہیں بلکہ آپ کی صلاحیت پر مجھے یقین ہے میں تو بس آپ کا بنا بنایا رکارڈ برقرار رکھنا چاہتا ہوں مجھے یقین ہے اگر آپ مجھے ڈیفینڈ کرے گی تو کورٹ سے تاریخ پر تاریخ نہیں بلکہ کوئی بریک لیئے بنا کورٹ اپنا فیصلہ سُنا دے گی۔۔۔۔زوریز نے سنجیدگی سے کہا

“کیا یہ طنز تھا کہ آپ میرا رکارڈ برقرار رکھنا چاہتے ہیں؟سوہان نے محض اِتنا پوچھا

“آپ کو یہ طنز لگا؟”میں نے تو آپ کی تعریف کی ہے نو ڈاؤٹ کہ عنقریب آپ کا نام بھی نامور وکیلوں کی لسٹ میں ٹاپ پر ہوگا۔۔۔زوریز نے وضاحت دیتے کہا

“اگر آپ کا کیس میں ہارگئ تو؟سوہان نے پوچھا

“تو کچھ بھی نہیں۔۔۔زوریز نے لمحے کی تاخیر کیے بنا کہا

“کچھ بھی نہیں کیسے؟”الزام سچ ثابت ہوجائے گا”مشکل میں پڑسکتے ہو آپ۔سوہان کو زوریز ایک عجیب انسان لگا

“ہونے دے سچ ثابت” ویسے بھی زوریز دُرانی مُشکلاتوں سے گھبراتا نہیں۔۔۔۔زوریز کا انداز ہنوز پرسکون تھا جو سوہان کی سمجھ سے بالاتر تھا

اگر الزام سچ ثابت ہوا تو آپ کو سالوں کے لیے جیل ہوسکتی ہے اور آپ باقی کی زندگی جیل میں چکی پیس کر گُزارے گے۔۔۔سوہان کو زوریز کا پرسکون ہونا ہضم نہیں ہورہا تھا۔۔

“آ نہیں یہ چکی پیسنے والی روایت پُرانی ہے اب تو کسی نے سامنے چکی کو دیکھا تک نہیں جیل کا ماحول بھی ایک گھر کے ماحول کی طرح ہوگیا ہے”قیدیوں کے پاس موبائل فون بھی ہوتا ہے وہ جب چاہیں جس کو چاہیں کال کرسکتے ہیں بس اُن کو اپنے لیے کھانا پکانا پڑتا ہے اور کپڑے وغیرہ بھی دھونے ہوتے ہیں اِن کاموں کی خیر ہیں کیونکہ ایسے چھوٹے موٹے کام بندہ تب بھی کرلیتا ہے جب مُلک سے باہر کہی نوکری کرنا پڑتی ہے۔”اور اب لوگ جُرم جان کر کرتے ہیں تاکہ اُن کو سینٹر جیل یا کہی اور بھیج دے دو وقت کی روٹی تو اُن کو مل جائے گی مجرم لوگوں کا کیا جاتا ہے خرچہ تو جیلر لوگوں کا ہوتا ہے یا پھر سرکار کا۔۔۔زوریز کا اعتماد قابلِ دید تھا اور سوہان کو بس بیہوش ہونے کے در پہ تھی

“لگتا ہے آپ اپنی زندگی کا ایک حصہ جیل میں گُزارچُکے ہیں۔۔۔سوہان نے طنز کیا

الحمداللہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔۔”آپ بتادے کب آئے گی میرے آفس؟زوریز نے پوچھا

“میں آپ کو بتادوں گی جلد۔۔۔سوہان نے کچھ سوچ کر کہا

“ٹھیک ہے مجھے انتظار رہے گا۔۔۔زوریز نے سر کو خم دے کر کہا

“میں اب چلوں گی۔۔۔۔اُس کی بات پر سوہان نے اِتنا کہا اور اپنے قدم باہر کی طرف بڑھائے تو زوریز بھی اپنے ساتھیوں کو اِشارہ کرتا قبرستان کا گیٹ کراس کرگیا۔۔۔۔

“کیا ہوا؟زوریز باہر آیا تو سوہان کو گاڑی کے پاس پریشان کھڑا دیکھ کر پوچھنے لگا

“گاڑی کا ٹائیر جانے کیسے پنکچر ہوگیا۔۔۔سوہان نے کہا تو زوریز نے چونک کر اُس کی گاڑی کے ٹائیروں کو دیکھا جس میں ایک کی ہوا نکلی ہوئی تھی

“رینٹ کی گاڑی کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا کب؟” کہاں؟”دغابازی کرجائے پتا نہیں چلتا۔۔۔زوریز نے سرسری لہجے میں کہا تو سوہان نے آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو دیکھا

“میری گاڑی رینٹ کی ہے یہ بات کس نیوز چینل میں بتائی گئ ہے؟”کیا آپ اِس میں روشنی ڈالنا پسند کرینگے؟سوہان نے بھگو کر طنز کیا

“کسی نیوز میں دیکھنے کی کیا ضرورت ہے؟”صاف ظاہر ہے گاڑی رینٹ کی ہے کیونکہ ایسی گاڑی رینٹ میں ہی مل سکتی ہے دوسرا اگر گاڑی اپنی ہو تو بندہ ہر روز نہیں تو ہفتے میں اُس کو ورکشاپ کی شکل ضرور دیکھاتا ہے۔۔۔زوریز نے عام لہجے میں کہا تو سوہان گلا کھنکھارتی رہ گئ۔۔۔

“میں آپ کو ڈراپ کرسکتا ہوں آپ کے گھر اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو۔۔۔زوریز نے پیش کش کی

“آپ کا بہت شکریہ مگر میں چلی جاؤں گی۔۔۔سوہان نے سہولت سے انکار کیا

“اگر میں کہہ رہا ہوں تو مسئلہ کیا ہے؟زوریز کو اُس کا انکار پسند نہیں آیا

“میں آپ کو زحمت نہیں دینا چاہتی۔۔۔سوہان نے کہا

“اِس میں زحمت کی کوئی بات نہیں ہے آپ آئے۔۔۔زوریز نے اُس کے لیے راستہ چھوڑا تو وہ کشمکش میں مبتلا ہوئی

“کسی ٹیکسی ڈرائیور سے پِک اینڈ ڈراپ کی اچھی سروس دے سکتا ہوں میں۔۔۔اُس کو سوچوں میں مبتلا دیکھ کر زوریز نے کہا تو سوہان نے اپنا سر ہر سوچ سے آزاد کیا اور اُس کے ساتھ چلنے پر امادہ ہوگئ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *