Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Meharban (Episode 06)

Ishq Meharban by Rimsha Hussain

اسلحان گھر آئی تو باہر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر اُس کو جانے کیوں خوف محسوس ہوا”دیکھتے ہی دیکھتے کچھ پولیس والے اُس کے برابر سے گُزرگئے تو اسلحان نے پلٹ کر اُن کو دیکھا پھر اپنے قدم گھر کے اندر کی طرف بڑھائے تو میت دیکھ کر اُس کی آنکھوں میں نفرت بھرے تاثرات اُبھرے تھے۔۔”اُس نے ساجدہ کی تلاش میں نظریں گُھمائی تو وہ انور کی میت کے پاس بیٹھی پارہ پڑھنے میں مصروف تھی اور اُس کے کچھ فاصلے پر میشا سوئی ہوئی تھی”میشا پر نظریں پڑتے ہی اسلحان خود کو مضبوط کرتی ساجدہ کے پاس آئی اور سب سے پہلے میشا کو گود میں بھرا تو اُس کی آنکھ کُھل گئ

میں جارہی ہوں یہاں سے اپنے گھر کا ایڈریس چھوڑ کر جب تمہارا دل چاہے وہاں آجانا۔۔۔۔اسلحان اُس کے کان کے پاس اِتنا کہتی عورتوں کے درمیان سے گُزرنے لگی

“فاحا؟وہ جیسے ہی ساجدہ کے گھر کا دروازہ پار کرنے لگے تو میشا نے اچانک “فاحا”کا نام لیا تو اسلحان کے قدموں کو بریک لگی اُس نے چونک کر میشا کو دیکھا جس کی نظریں اُس پر جمی ہوئیں تھیں”اسلحان کا تو بہت دل چاہا اُس کو یہی چھوڑ جائے مگر سوہان کی اُس کے ساتھ اٹیچمنٹ دیکھ کر ناچاہنے کے باوجود اپنے قدم دوبارہ گھر کی طرف بڑھائے

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

طبیعت سنبھلی لالی کی؟سجاد ملک کمرے میں داخل ہوتے ڈاکٹر سے بولے

وہ

ابھی ڈاکٹر کچھ کہنے والا تھا جب لالی قے کرنے لگی تو فائقہ جلدی سے اُس کے پاس آئیں

تمہیں یہاں کیوں آنے کا کہا تھا جبکہ میری بیٹی کی صبح سے اُلٹیاں ختم ہونے کا نام تک نہیں لے رہی۔۔۔سجاد ملک ڈاکٹر کو گھور کر سخت ناپسندیدہ انداز میں بولے

ًڈرپ لگے گی تو ٹھیک ہوجائے گی آپ ٹینشن نہ لے۔۔۔۔ڈاکٹر ڈر ڈر کر بولا

میرا منہ تکنے سے اچھا ہے جو کرنا ہے وہ کرو۔۔۔سجاد ملک اُس کو دیکھ کر حکیمہ لہجے میں بولے

شام کے وقت زیتون کے اُپر پانی پیا تھا شاید جبھی یہ حال ہے۔۔۔۔عروج بیگم تسبیح کے دانے گِراے لالی کو دیکھ کر بولیں

ایسی باتیں خودساختہ لوگوں نے سوچی ہوئیں ہیں ورنہ ایسا نہیں ہوتا۔۔۔۔نوریز ملک نے اُن کی بات کی نفی کی

“ہوتیں تو اور بھی باتیں نہیں مگر لوگوں نے مشہور کی ہے اور ملک خاندان کے پیروی۔۔۔نورجہاں سرسری لہجے میں بولی اُن کے شوہر فاروق ملک نے تند نگاہوں سے اُن کو گھورا تھا جس پر اُنہوں نے منہ کے زاویئے بگاڑے

“ہوتا ہے یا نہیں مگر میری بچی دیکھو کیا حالت ہوگئ ہے اُس کی.۔۔۔نورجہاں کو نظرانداز کیے فائقہ نوریز ملک کو دیکھ کر بولی

کونسی بڑی بات ہے بچیاں تو منحوس ہوتیں ہیں اگر لالی کو کچھ بھی ہوا تو صدقہ دے دینا کہ بلا ٹل گئ۔۔۔عروج بیگم نے کہا تو ہر کوئی حیرت سے اُن کو دیکھنے لگا مگر دو شخصیت نے بے ساختہ اپنی جگہ پہلو بدلا

ماں جی اللہ کا نام لے۔۔۔۔نورجہاں کو اُن کی بات پسند نہیں آئی تھی

کبھی اپنی اولاد کے بارے میں ایسا کہیں گی جیسا میری بیٹی کے بارے میں بولا ہے۔۔۔فائقہ طنز لہجے میں اُن سے بولی

کیا کبھی تم اپنی بچی کو منحوس بول سکتی ہو؟”جیسے اسلحان کی بیٹیوں کو کہا؟”اور ہاں نوریز نے۔۔۔”اب کی عروج بیگم نے نوریز کو دیکھا تو وہ فورن سے اُن کی طرف متوجہ ہوا

منحوس صرف بیٹیاں نہیں ہوتی”عورت تو عورت ہوتی ہے جو پہلے بچی پھر لڑکی اُس کے بعد عورت بنتی ہے تو اگر لڑکیاں منحوس ہوتیں ہیں تو تمہیں پیدا کرنے والی یعنی میں بھی منحوس ہوں”ایک دفعہ کا واقعہ ہے

“حضرت موسیٰ علیہ سلام، نے اٙللّٰہ تعالیٰ سے پوچھا. یااٙللّٰہ جب آپ اپنے بندے پر مہربان ہوتے ہیں. تو کیا عطا کرتے ہو. اٙللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا.

اگر شادی شدہ ہو تو بیٹی، حضرت موسیٰ نے پھر کہا. یا اٙللّٰہ اگر ذیادہ مہربان ہو تو. اٙللّٰہ تعالیٰ نے پھر فرمایا. تو میں دوسری بھی بیٹی عطا کرتا ہوں. حضرت موسیٰ نے پھر فرمایا. یا اٙللّٰہ اگر سب سے ذیادہ بہت ذیادہ مہربان ہوتے ہو تو پھر. تو اٙللّٰہ تعالیٰ نے پھر فرمایا. ٰ اے موسیٰ میں تیسری بھی بیٹی عطا کرتا ہوں. اٙللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ جب میں اپنے بندے کو بیٹا عطا کرتا ہوں. تو اس بیٹے کو بولتا ہوں جاو اور اپنے باپ کا بازو بنو. اور جب بیٹی عطا کرتا ہوں. تو مجھے اپنی خُدائی کی قسم کہ میں اس کے باپ کا بازو خود بنوں گا.

عروج بیگم اپنی بات کہہ دینے کے بعد اُٹھ کر کمرے سے باہر چلی گئیں تھیں مگر اُن کے جانے کے بعد پانچ منٹ تک کوئی بول نہیں پایا تھا اور نہ نظریں اُٹھائے ایک دوسرے کو دیکھنے کی ہمت کی

ماں جی جوش میں تھی تم زیادہ سوچو مت میں نے بات کی ہے اِس ماہ کی آخری تاریخوں میں تمہارے شادی خاندانی لڑکی سے ہوگی۔۔۔سجاد ملک نوریز ملک کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے تو اُنہوں نے محض ایک گہری سانس ہوا سپرد کی آجکل اُن کو اپنے سینے پر ایک بوجھ محسوس ہوتا تھا ایک عجیب بوجھل پن کا شکار تھے وہ

❤
❤
❤
❤
❤
❤

پھوپھو آپ آگئ۔۔۔۔۔آریان جو لان میں پودوں کو دیکھ رہا تھا گھر کے اندر ایک گاڑی سے سلما اور زوریز کو باہر آتا دیکھا تو پرجوش انداز میں اُس کی طرف لپکا تھا۔

آریان میری جان میرا پیارا بچہ۔سلما اُس کو اپنی بانہوں میں بھرے چٹاچٹ اُس کے گال چومے تھے

گود سے تو اُتارے میں کونسا بچہ ہوں۔۔۔۔آریان نے منہ بنایا تو وہ ہنستی آریان کو نیچے اُتارا

تمہارے چچا والے گھر پر ہیں نہ؟سلما آریان کے بال بگاڑے اُس سے پوچھنے لگی

جی ابھی آئے ہیں پر کیا آپ ہمیں لینے آئی ہیں؟آریان اُمید بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھنے لگا تو زوریز نے بھی اپنی نظریں اُس پر جمائی

ہاں مگر یہاں سے جب کام ختم ہوجائے گا تب۔۔۔۔سلما نے مسکراکر کہا تو آریان کی آنکھیں چمک اُٹھی

ابھی چلو اندر۔۔۔۔سلما دونوں کو لیئے گھر کے اندر داخل ہوئی تھی تو سب گھروالے اُس کو ہال میں بیٹھے نظر آئے۔

ازکیٰ آپا آپ۔۔۔۔۔کمال اور جمال کی نظر جب سلما پر پڑی تو وہ بے ساختہ اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے

ہاں میں کیوں کیا میرا آنا کسی کو پسند نہیں آیا؟سب کی اُڑی رنگت دیکھ کر وہ طنز ہوئی

“ایسس ایسا تو کچھ بھی نہیں آپا۔۔۔جمال صاحب جلدی سے بولے

جی اور آپ آئے بیٹھے تو سہی۔۔۔۔۔مصرت بھی جھٹ سے گویا ہوئی

اِن دونوں کا سامان پیک کراؤ میں اِنہے اپنے ساتھ لے جاؤں گی اور تم دونوں کو شرم آنی چاہیے یتیم بچوں کا حق کھارہے ہو اُس پر عیش کررہے ہو۔۔۔سلما اُن کا مکروہ چہرہ دیکھ کر پھٹ پڑی

آپ کو ایسا کس نے کہا۔۔۔۔کمال صاحب یکدم انجان بنے

کسی کے کچھ بھی کہنے کی ضرورت کیا ہے؟”جب سب کچھ آنکھوں کے سامنے ہے۔۔۔۔کہنے کے ساتھ ہی اُس نے زوریز کا ہاتھ اُن کے سامنے کیا تو اُن کا گلا خشک ہوا جبکہ آج اُس کے ہاتھوں میں نشان دیکھ کر آریان بھی پریشان سا زوریز کو دیکھنے لگا جس کا چہرہ ہر احساس سے پاک تھا

آپا

مجھے وجدان بھائی کی پراپرٹی کے کاغذات چاہیے۔۔۔جمال صاحب کچھ کہنے والے تھے جب سلما اُن کی بات کاٹ کر بولی

زوریز مارا مارا اپنی مرضی سے پِھر رہا تھا یہاں تو ہم نے اُس کو ہر سہولتیں فراہم کی تھیں۔۔۔کمال صاحب جلدی سے بولا

یہ جھوٹ ہے۔۔۔۔آریان جھٹ سے بولا تھا

تم چُپ کرو۔۔۔نصرت نے اُس کو آنکھیں دیکھائی

یہ چُپ نہیں کرے گا میں جو چاہتی ہو اور جو لینے آئی ہوں وہ میرے سامنے کرے ورنہ مجھے پولیس کو کال کرنی ہوگی۔۔۔سلما کا انداز دھمکی آمیز تھا

آپا ہم آپ کے بھائی ہیں سگے اور آپ ہم سے بیگار رہی ہیں وہ بھی اِن کی وجہ سے جو آپ کے سگے نہیں ہے۔۔۔کمال صاحب نے اُن کو اپنی طرف کرنا چاہا

وجدان بھائی نے ہم کو ہمارا حصہ دے دیا تھا اب جو کچھ بھی ہے وہ زوریز اور آریان کی ملکیت ہے دوسرا میں ایک ہی بات کو بار بار کہہ کر پاگل نہیں ہوجانا چاہتی”بہت کرلی تم دونوں نے منمانی مگر اب بس۔۔۔۔سلما سخت لہجے میں گویا ہوئی تھی

آپا ہم نے بہت تمیز کا مُظاہرہ کرلیا پر اب لگتا ہے ہمیں آپ کو یہاں سے چلے جانے کا کہہ دینا چاہیے۔۔۔کمال صاحب اِس بار ناگوار لہجے میں بولے

اوو ریئلی؟جانتے نہیں میں کون ہوں؟تم لوگوں کی بڑی بہن ازکیٰ سلما افرہیم ہوں میں۔۔۔۔سلما اُس کی بات سن کر جیسے محفوظ ہوئی

جی۔۔۔جمال صاحب بھی میدان پر اُترے

شرافت سے مجھے سب کچھ دو ورنہ سڑک پر لے آؤں گی میں تم سب کو۔۔۔ سلما نے غُصے سے کہا

آپا آپ بیٹھے تو سہی اِتنے سال بعد پاکستان آئیں ہیں اور کیا باتیں لیکر بیٹھ گئ ہیں۔۔۔نصرت نے بات سنبھالنا چاہی

میں پہلے رہنے آئی تھی مگر اب بیٹھنا بھی گوارا نہیں مجھے تم سب نے مل کر اِن معصوم بچوں کے ساتھ کیا ہے اُس کا حساب اللہ ضرور لے گا اور میں تم لوگوں کو ویسے ترساؤں گی جیسے یہ دونوں ترسے تھے۔۔۔۔سلما نخوت سے بولی تو اُن کے پسینے چھوٹے تھے

ہمیں معاف کردو آپا ہم دوبارہ ایسا نہیں کرینگے مگر آپ پلیز یہ پراپرٹی کے کاغذات کو چھوڑے اُس کا آپ نے کرنا کیا ہے۔۔۔کمال صاحب سنبھل کر بولے

کمال میں پولیس کو انوالو نہیں کرنا چاہتی۔۔”اگر وہ انوالو ہوئے تو ہماری اگلی مُلاقات کورٹ میں ہوگی۔۔سلما نے ڈھکے چُھپے لفظوں میں بہت کچھ باور کروانا چاہا تھا”مگر اُس کے اِتنے الفاظوں پر جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا تھا

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

سوہان کو ہوسپٹل سے ڈسچارج ملا تو اسلحان اُن تینوں کو لیئے اسلام آباد شفٹ ہوگئ تھی جہاں اُن کو رہے ہوئے تین ماہ سے زائد عرصہ ہوگیا تھا مگر اِن تین ماہ میں سوہان نے بولنا مکمل طور پر بند کرلیا تھا”اور نہ اب وہ پہلے کی طرح فاحا کو وقت دیتی تھی اپنی اِس حالت میں وہ فاحا کی ہر ضرورت کا خیال تو رکھتی تھی مگر باتیں نہیں کیا کرتیں تھی اور نہ کوئی غیر ضروری وقت پر اُس کو گود میں اُٹھاتی تھی اسلحان نے وہاں اسلام آباد میں ایک پرائیویٹ اسکول میں نوکری کرنا شروع کی تھی جہاں پر سوہان اور میشا کا ایڈمیشن بھی اُس نے لیا تھا شروع کے دن تو سوہان ہر وقت چیخیں مارتی تھی اور بیڈ سے اُٹھا بھی نہیں کرتی تھی کیونکہ ہر وقت اُس کو یہی دھڑکا لگا رہتا تھا کہ ابھی انور کہی سے آئے گا اور اُس کو ماردے گا۔۔”اسلحان نے اپنی طرف سے تو ہر ممکن کوشش کی تھی کہ سوہان پہلے جیسی ہوجائے مگر وہ اُس کو دیکھتی تک نہیں تھی بس ہر وقت اکیلے بیٹھی رہتی تھی۔۔۔”مگر اب پچھلے کچھ دِنوں سے اُس نے اسکول جانا شروع کیا تھا جس پر اسلحان کو اُمید تھی کہ سوہان آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ سب بھول جائے گی۔۔”اُس کو ابھی بھی یہی لگتا تھا کہ وہ بچی ہے اور بچوں کو زیادہ دیر تک کچھ یاد نہیں رہتا

“دوسری طرف سلما نے کمال اور جمال سے سب کچھ چھین کر زوریز اور آریان کو لیکر پاکستان سے چلی گئ تھی مگر اُس کے پیچھے جمال اور کمال صاحب کا حال بُرا ہوگیا تھا اپنا خود کا کوئی کاروبار تو اُن کا تھا نہیں اور جو کچھ تھا وہ سلما لے گئ تھی جس پر وہ عالیشان گھر سے ایک کراے کے گھر میں آگئے تھے جہاں آئے روز گیس اور بجلی کا مسئلہ چلتا رہتا ایسی حالت سے بیزار ہوکر نصرت اور مصرت اُن دونوں کو چھوڑ کر اپنے میکے چلی گئیں تھیں”اِرادہ تو اُن کا اب کبھی واپس آنے کا نہیں تھا مگر گھروالوں نے جیسا رویہ اُن کے ساتھ اختیار کیا تھا کہ وہ واپس چھوٹے گھر میں آگئ تھی جہاں سہولت کا کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔۔”کبھی کبھی تو اُن کا دل چاہتا دیوار کی اینٹ نکال کر اُن کو کھاجائے۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

اسلحان اُتوار ہونے کی وجہ سے صحن میں مشین لگائے کپڑے دھونے میں مصروف تھی جب باہر گیٹ پر بیل ہوئی تو اُس نے چونک کر گیٹ کو دیکھا پھر اپنا حُلیہ دیکھ کر اُس نے ایک چادر اُٹھائی اور اچھے سے لپیٹ کر گیٹ کے پاس آئی

آپ کون؟اپنے گھر کے باہر دو آدمیوں کو دیکھ کر اسلحان نے ناسمجھی سے اُن کو دیکھ کر پوچھا تو اسلحان کے پوچھنے پر وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔۔

جی وہ ہمیں پتا چلا ہے کہ آپ کے گھر میں کوئی مرد نہیں رہتا آپ اکیلی عورت تین بچیوں کے ساتھ رہتی ہیں تو سوچا پڑوسی ہونے کی خاطر ہمارا فرض بنتا ہے کہ آپ کی خیر وخبر لے۔۔۔۔وہ سرتا پیر اُس کو دیکھ کر خوشامد ہوئے تو اسلحان کا گلا خشک ہوا تھا وہ دونوں اُس کو سہی نہیں لگے تھے اُن کی آنکھوں میں ایک عجیب سا تاثر تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اپنی نظروں ہی نظروں میں اُگلنے کا اِرادہ رکھتے ہو

شکریہ مگر اُس کی ضرورت نہیں۔۔۔۔اسلحان خود کو کمپوز کرتی کہہ کر دروازہ بند کرنے لگی جب دوسرے آدمی نے اپنا پاؤں گیٹ کے درمیان ڈال کر اُس کی کوشش کو ناکام بنایا

یہ کیا بدتمیزی ہے؟اسلحان نے اپنے لہجے کو سخت بنانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر لہجے میں کپکپاہٹ اِتنی تھی کہ ناکام ہوئی

آپ گھبرا کیوں رہی آپ کے پڑوسی ہیں بس ایک گلی چھوڑ کر دوسری گلی میں آپ ہمیں پائیں گی اور ہم تو بس آپ کی مدد کرنا چاہ رہے بھلا ایک اکیلی عورت کیسے سب کچھ سنبھال پائے گی.۔۔اپنا پاؤں دروازے سے ہٹائے وہ بڑی معصومیت سے بولا

“اور نہیں تو کیا بس آپ کو جب کبھی ہماری مدد کی ضرورت پڑے آپ آجانا ہمارے پاس۔. پہلے والے نے بھی اپنے ساتھی کی حمایت کی تو اِس بار اسلحان بنا کچھ بھی کہے بس زور سے دروازہ بند کرلیا تھا اُس کا دل تیز رفتار سے دھڑک رہا تھا وہ جان گئ کہ یہاں اکیلا رہنا اُس کے لیے آسان نہیں مگر جلدی خود کو سنبھالے وہ دوبارہ اپنے کام میں جت گئ ۔۔

اور پھر یہ سلسلہ شروع ہوا تو ختم نہیں ہوا تھا”آئے دن کوئی نہ کوئی مرد اُس کے گھر کی گیٹ پر آکر کسی مدد کی پیش کش کرلیا کرتا تھا اور کچھ نے تو اُس کے ساتھ بدتمیزی کرنے کی بھی کوشش کی تھی جس پر اسلحان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا اُس نے سوچ لیا تھا کہ وہ یہ گھر چھوڑ کر کسی اور اچھے محلے میں کراے پر ہی سہی مگر یہاں نہیں وہاں رہے گی۔۔۔۔”مگر پھر سوہان اور میشا کے امتحان قریب ہوئے تو اُس نے گھر بدلنے کا اِرادہ ملتوی کیا کیونکہ وہ جانتی تھی اِس میں گھر بدلا گیا تو ظاہر سی بات ہے اُس کو اسکول بھی چھوڑنا پڑے گا اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ اِس درمیان اُن دونوں کی پڑھائی کا حرج ہو مگر شاید حرج ہونا تھا جو رات کے وقت کوئی اُس کے گھر کی بیل زور سے بجانے لگا تھا جس سے جانے کتنے خُدشات اُس کے اندر کُنڈلی مارے بیٹھ گئے تھے۔۔”کسی انہونی کے ڈر سے اسلحان بنا کچھ سوچے سمجھے اپنا سامان پیک کرنے لگی تھی۔۔

“کیا کبھی ہمارا اپنا کوئی گھر نہیں ہوگا؟”ہم کب تک یہاں سے وہاں رُلتے پِھیرینگے؟”اسلحان جو سامان بیگ میں ڈال رہی تھی سوہان کی آواز پر حیرت اور خوشی کی ملی جُلی کیفیت میں اُس کو دیکھا تھا جس نے آج ایک سال بعد اُس سے کوئی بات کہی تھی”اُس کی خاموشی دیکھ کر اسلحان کو تو لگتا تھا کہ سوہان شاید اب کبھی اُس سے بات نہیں کرے گی مگر آج اُس کا اندازہ غلط ثابت ہوا تھا

سوہان؟اسلحان اُس کے پاس آتی بے اختیار اُس کا ماتھا چومنے لگی

بتائے آپ؟سوہان نے دوبارہ اپنا سوال دوہرایا

یہ آخری بار ہے پرومس۔۔۔۔اسلحان نے یقین دُوہانی کروائی تو سوہان اُس کو غور سے دیکھتی بنا کوئی بات کرے کمرے سے نکل گئ۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

میں اک زیست عام سی،

اک قصۂ نا تمام سی. . .

نہ لہجہ بے مثال ہے ،

نہ بات میں کمال ہے ، . .

ہوں دیکھنے میں عام سی ،

اداسیوں کی شام سی، . .

جیسے ایک راز ہوں ،

خود سے بے نیاز ہوں ، . .

نہ دلکشی سے رابطہ ،

نہ شہرتوں کا ضابطہ ، . .

مجنوں ہوں نہ ہیر ہوں ،

مرشد ہوں نہ پیر ہوں ، . .

میں پیکر اخلاص ہوں ،

وفا دعا اور آس ہوں ، . .

میں بس اک خود شناس ہوں ،

اب تم ہی کرو یہ فیصلہ ! ! !

میں ہوں نا انسان عام سی؟

اداسیوں کی شام سی ، . .

ہزاروں عام لوگوں میں__

میں بے حد عام سا لڑکی _ _

بہت ہی عام سپنوں سے__

سجی آنکھیں رہیں میری _ _

میرا لہجہ میری باتیں__

بہت ہی عام ہیں لیکن_ _ _

میں جذبے پاک رکھتی ہوں_ _

محبت خاص رکھتی ہوں_ _

محبت خاص رکھتی ہوں_

تم سوہان ہو نہ؟سوہان اپنے نئے گھر کے دروازے کے پاس اکیلی بیٹھی تھی جب کوئی اُس کے پاس آکر بولا تو سوہان نے اپنا سراُٹھایا جہاں میشا کی عمر کا ایک لڑکا مسکراکر اُس کو دیکھ رہا تھا اُس کی نظروں میں تو شُناسائی کی رمق تھی وہ غور سے اُس کو دیکھتا جیسے اپنی بات کی تصدیق کرنا چاہ رہا ہو”پر سوہان کی آنکھیں خالی تھی وہ بس یک ٹک اُس کو دیکھتی پہچاننے کی کوشش کررہی تھی پر اُس کو کچھ یاد نہیں آیا

“کیا تم مجھے بھول گئ ہو؟اُس کے لہجے میں افسوس تھا

تم کون؟سوہان نے بلآخر اُس سے پوچھ لِیا

میں عاشر احمد یاد ہے بس میں تمہاری بہن کو میری امی نے دودھ پِلایا تھا۔۔۔عاشر نے بتایا تو سوہان کو اب سب کچھ یاد آیا تھا

ہاں مگر تم یہاں؟”اور اِتنے وقت بعد بھی مجھے پہچان لیا۔۔۔۔سوہان نے حیرت سے اُس کو دیکھا

ہم تو یہاں رہتے ہیں پہلی بار پر تمہیں یہاں دیکھا ہے اور”میری میمری بہت اچھی ہے سب یاد رہتا ہے مجھے۔۔۔عاشر نے مزے سے بتایا

کیا واقع تم یہاں رہتے ہو؟”تمہاری امی کہاں ہے؟سوہان کا اچانک موڈ اچھا ہوگیا تھا جبھی اُس نے بات کرنا شروع کی۔۔۔۔

میری امی کی کچھ ماہ پہلے وفات ہوگئ تھی سیڑھیوں سے گِرگئ تھیں وہ میں اور میرا بھائی اب اپنی بوا کے پاس رہتے ہیں۔۔۔عاشر کا لہجہ بُجھ گیا تھا جس کو سوہان نے صاف محسوس کیا تھا

تمہارے بابا؟سوہان نے دوسرا سوال پوچھا

وہ بھی۔۔۔عاشر نے بتایا تو سوہان چُپ ہوگئ تھی

اچھا تمہاری بہن کہاں ہے؟”ایک بار میں نے اپنی ماں سے بہن کی فرمائش کی تو اُنہوں نے کہا جس بچی کو میں نے دودھ دیا ہے وہ اب سے تمہاری دودھ شریک بہن ہے۔۔۔عاشر اچانک پرجوش لہجے میں بولا تو”فاحا کے ذکر پر سوہان مسکرائی

وہ اندر ہے سورہی ہے ویسے اب وہ آہستہ آہستہ چلنے کی کوشش کرتی ہے اور تھوڑا بہت بول بھی لیتی ہے۔۔۔۔سوہان نے اُس کو فاحا کے بارے میں تفصیل سے بتایا جو عاشر غور سے سُننے لگا

❤
❤
❤
❤
❤
❤

کچھ وقت بعد!

آتی ہوں صبر کرو دروازہ توڑنا ہے کیا بھئ۔۔۔۔ایک خاتون بار بار گیٹ پر ہوتی بیل پر زچ ہوتی بولیں

السلام علیکم بوا”یہ لے اپنی زمیداری۔۔۔۔اُنہوں نے جیسے ہی دروازہ کھولا تو اسکول یونیفارم میں ملبوس گیارہ سالہ میشا نے چھ سالہ فاحا کی طرف اِشارہ کیے کہا

وعلیکم السلام “سوہان کہاں ہے؟فاحا کو اپنی گود میں اُٹھائے میں اُنہوں نے میشا سے سوال کیا

وہ جلدی اسکول چلی گئ جب یہ روندو سوئی ہوئی تھی اور خیر سے میں ایک ویلی لڑکی ہوں تو سوچا اِس کو آپ کے پاس چھوڑ آؤں۔۔۔میشا نے ہزار منہ کے زاویئے بنائے کہا

اوو ہو تو تمہاری امی اِس کو اپنے ساتھ کیوں نہیں لیکر جاتی تمہارا بھی تو آج پرچہ تھا نہ۔۔۔۔بوا نے اُس کو دیکھ کر کہا

پرچہ تھا نہیں ہے اور اگر آپ فاحی سے تنگ ہے تو مجھے میری بہن دے میں اپنے ساتھ اسکول لے جاتی ہوں کیا پتا میرے ساتھ اِس کو دیکھ کر اسکولوں والے پیپر نہ دینے دے اور اِسی بہانے میرا بھلا ہوجائے۔۔۔میشا آنکھوں میں چمک لائے بولی تو بُوا نے ایک چپت اُس کے ماتھے پر لگائی

اسکول بھاگو جلدی۔۔۔۔۔بُوا نے اُس کو آنکھیں دیکھائی

جاتی ہوں فاحی کو پیار کرنے تو دے۔۔۔۔میشا نے کہنے کے ساتھ ہی ایک زور کا بوسہ فاحا کے گال پر دیا تو وہ بھاں بھاں کرتی رونا شروع کرگئ تھی جس پر بُوا نے اپنا سر پیٹا تھا وہی میشا نے ڈور لگائی تھی

“اللہ پوچھے تم لڑکی۔۔۔بُوا نے پیچھے سے کہا تھا میشا تو جاچُکی تھی

“اوو ہو فاحا تو اچھی بچی ہے وہ روتی نہیں وہ اب ناشتہ کرے گی۔۔۔”پھر ہم کارٹوں دیکھے گے اُس کے بعد مُحلے کی آنٹیاں آئے گی تو گپ شپ کرینگے۔۔۔بُوا روتی ہوئی فاحا کو اپنے ساتھ کچن میں لاتی پچکارنے لگی۔۔

“میشو گندی۔۔۔۔فاحا نے سوں سوں کرکے کہا

بہت گندی ہے دیکھو نہ کیسے میری جان کو رُلایا اب میرے بچہ یہاں بیٹھے گا اور بتائے گا کہ ناشتہ میں کیا کھائے گا۔۔۔۔اسٹول پر اُس کو بیٹھائے وہ بولی جبکہ اِس درمیان فاحا کا رونا ختم ہوگیا تھا کیونکہ وہ بُوا سے کافی اٹیچڈ تھی جو کافی باتونی قسم کی عورت تھی اور اگر کوئی بچہ بھی دیکھ لیتی تو باتوں کا انبار اُس کے سامنے کھول دیا کرتی تھی اور شروع سے جب فاحا اسکول نہیں جاتی تھی تو سوہان اُس کو بُوا کے پاس چھوڑ جایا کرتی تھی اور اُن کو اِن کا بولتا سُن کر فاحا کو بھی زیادہ بولنے کی بیماری لگ پڑی تھی چھ سال کی ہونے کے باوجود وہ جو باتیں کرتیں تھی اُس کو سن کر سوہان کو اپنے آپ پر افسوس ہوتا تھا کہ فاحا کو بُوا کے پاس اِتنا وقت چھوڑا کیوں؟”کیونکہ ایک لمحے کے لیے بھی فاحا کی زبان کو بریک نہیں لگتی تھی جانے ایک ہی بات کو کتنی مرتبہ وہ دوہرایا کرتی تھی۔۔۔”اور اسکول میں جب سبق پڑھنے کا وقت آتا تھا تو وہ ٹیچر کو سبق سُنانے کے علاوہ ہر وہ بات کرتی تھی جو وہ کرسکتی تھی۔۔۔

“فاحا کو بھوک لگی ہے۔۔۔۔بُوا کی بات پر فاحا نے جھٹ سے کہا

ہاں میں ابھی لائی۔۔۔بُوا اُس کے صدقے واری ہوئی

ویسے فاحا خود ناشتہ کرے گی یا بُوا کے ہاتھوں سے کرے گی۔۔۔۔بُوا نے اُس کے گال کھینچ کر پوچھا

بُوا کے ہاتھ سے۔۔۔۔فاحا نے کہا جبھی وہاں دوعورتیں آئیں تھیں۔۔

ہائے بوا زاہدہ ظلم ہوگیا مجھ پر میرا شوہر تو پہلے ہی مرگیا تھا اب بیٹے نے بھی گھر سے نکال دیا۔۔۔ایک خاتون نے آکر ہی اپنا رونا رویا تھا بُوا نے اُفسوس سے اُس کو دیکھا جبکہ فاحا بھی اپنی آنکھوں کو پورا کھولے دلجمعی سے اُن کی باتیں سُننے لگی تھی۔۔”یہی تو ہوتا تھا وہ صبح سے دو پہر تک بُوا کے ساتھ ہوتی تھی جن کے پاس ہمسایوں سے کوئی نہ کوئی آتا اور گپ شپ میں کرنے لگ پڑتے اُن کے ساتھ کوئی بچہ تو ہوتا نہیں تھا جن کے ساتھ فاحا کھیلے تو مجبوراً چھ سالہ فاحا کو بھی اُن عورتوں کی باتیں سُننے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہوتا تھا اور اب تو اُس کو بھی مزہ آتا تھا بڑی عورتوں کے درمیان بیٹھ کر اُن کی باتیں سُننے میں

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

میری فاحا کو کیا ہوا ہے؟”آج کافی چُپ چُپ سی ہے۔۔۔چودہ سالہ سوہان نے میشا کے سامنے نوڈلز کا باؤل رکھ کر فاحا کو اپنی گود میں بیٹھائے پوچھا

میں بھی دس منٹس سے چُپ ہوں مجھ سے بھی پوچھوں۔۔۔۔نوڈلز کھاتی میشا نے مسکین لہجے میں کہا

مجھے پتا ہے تمہاری خاموشی کی وجہ۔۔۔سوہان فاحا کے گال چومتی بولی

اچھا کیا ہے۔۔۔میشا نے پرتجسس لہجے میں اُس سے پوچھا

آپ نے صبح برش نہیں کیا تھا۔۔۔جواب میں فاحا نے کہا تو میشا کا مُنہ حیرت سے کُھل گیا تھا اور وہ آنکھیں چھوٹی کیے فاحا کو گھورنے لگی جو اب خود کو سوہان میں چُھپانے کی کوشش کررہی تھی

یہ میرے ہاتھوں سے مار کھائے گی۔۔ میشا نے دانت پیسے

مار کیوں؟”سہی تو بول رہی ہے فاحا” تم نے خود ہی تو بتایا تھا تمہیں تمہارا برش نہیں مل رہا تھا تو ایسے ہی اسکول چلی گئ تھی۔۔۔سوہان اُس کو گھور کر بولی تو میشا یہاں وہاں دیکھنے لگی جیسے کچھ سُنا ہی نہ ہو۔۔

میری تو سُنے۔۔۔فاحا نے اپنے چھوٹے ہاتھوں سے اُس کا گال چھو کر اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا

تمہیں ہی تو سُننے بیٹھی ہوں بتاؤ میری فاحا کو کیا چاہیے۔۔۔؟سوہان اُس کو دیکھ کر بولی

ریموٹ کنٹرول والی گُڑیا چاہیے جو پورے ایک ہزار کی ہے۔۔۔۔میشا کی زبان میں کُھجلی ہوئی تو سوہان نے چونک کر فاحا کو دیکھا جس نے جھٹ سے اپنا سر نفی میں ہلایا تھا

تو فاحا کو اور کیا چاہیے؟سوہان نے اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا

سوہان پلیز یہ مت بولو فاحا کو کیا چاہیے؟”فاحا کو چُپ کیوں لگی ہے؟”اگر ایسے ہی تم اِس سے مخاطب ہوئی تو جب یہ بیس کی ہوجائے گی تو بھی یہ بولے گی۔۔”آج فاحا یونی جائے گی”آج فاحا پروفیسر کو اسائمنٹ دیکھائے گی۔۔۔۔میشا نے دونوں کی نقل اُتارے کہا تو فاحا نے رونی صورت بنائے بولی

ایسا کچھ نہیں ہوتا ویسے بھی بڑے لوگ بچوں سے ایسے بات کرتے ہیں۔۔۔سوہان نے اُس کی بات پر انکار کیا

لگی شرط؟میشا نے اپنا ہاتھ اُس کے سامنے کیا

کونسی؟سوہان نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھا

اگر جو میں بول رہی ہوں وہ غلط ہوا تو میں تمہیں آئسکریم کھلاؤں گی اپنے ہاتھوں سے اور اگر میں سہی تو تم مجھے رات کا ڈنر کرواؤں گی اپنے پیسوں سے”بتاو پھر منظور ہے؟میشا نے دانتوں کی نُمائش کیے کہا تو سوہان نے تاسف سے اُس کو دیکھا پھر فاحا کی طرف متوجہ ہوئی جس نے اپنے دونوں کانوں پر ہاتھ رکھے تھے”یہ ایک طرح سے اُس کی ناراضگی کا اِشارہ تھا۔۔

کیا ہوا ہے فاحا؟سوہان نے اُس کے ہاتھ کانوں سے ہٹائے پوچھا

آپو میں نے رات کو خواب دیکھا تھا کہ میرا شوہر مر گیا ہے اور بیٹے نے گھر سے نکال دیا ہے۔۔۔”اور میں پھر بہت رو رہی تھی۔۔۔۔فاحا نے آنکھیں پِٹپٹائے معصومیت کے رکارڈ توڑ کر بتایا تو سوہان ہونک بنی اُس کا معصوم چہرہ تکنے لگی جبکہ میشا نوڈلز کھانا چھوڑ کر آنکھیں پھاڑے فاحا کو دیکھ رہی تھی۔

اووو بہن ابھی سے کہانیاں بنانے لگی ہو”کیا مستقبل میں رائٹر بننا ہے؟میشا خشمگین نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی تو فاحا اپنی چھوٹی پیشانی پر لائے اُس کو دیکھنے لگی کیونکہ وہ میشا کی بات سمجھ نہیں پائی تھی مگر اُس کی ایسی حرکت پر سوہان نے ہنس کر اپنے گلے لگایا تھا جبکہ اُن دونوں کو آپس میں ایسے چپکا ہوا دیکھ کر میشا منہ کے زاویئے بناتی اُن کے سر پر نازل ہوتی اپنے وجود کو ڈھیلا چھوڑ کر خود کو اُن کے اُپر گِرایا تو اُس کا پورا وزن چھ سالہ فاحا پر پڑا تھا مگر ہاتھ اُس کے سوہان کے بالوں کو بگاڑنے میں تھے مگر جب اُس نے فاحا کا رونا زور سے محسوس کیا تو لب دانتوں تلے دبائے جلدی سے اُٹھ کر نوڈلز کا باؤل اُٹھائے اپنے کمرے کی طرف بھاگی تھی

اللہ پوچھے تم سے میشو۔۔۔۔اپنے چہرے پر آئے بالوں کو سنوارتی سوہان نے دانت پیس کر اُس سے کہا تھا پھر فاحا کو چُپ کروانے لگی۔۔۔

پوچھے گی تو آپ اپنے کلائنٹس سے مستقبل کی بیریسٹر صاحبہ۔۔۔۔میشا واپس آتی ڈرامائی انداز میں کہتی پھر سے غائب ہوگئ تھی”اُس کے جانے کے بعد سوہان کے تاثرات بھی کافی سنجیدہ ہوگئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *