Ishq Meharban by Rimsha Hussain NovelR50558 Ishq Meharban (Episode 15)
Rate this Novel
Ishq Meharban (Episode 15)
Ishq Meharban by Rimsha Hussain
سِٹی تم نے ماری؟ وہ لڑکی آریان کے روبرو کھڑی ہوتی سنجیدگی سے پوچھنے لگی تو آریان نے گڑبڑاکر میشا کی طرف اِشارہ کیا تو وہ میشا کو دیکھنے لگی جو حیرانگی کی انتہا کرتی اپنا سرنفی میں ہلائے کانوں کو ہاتھ لگانے لگی کہ گویا اُس جیسا معصوم دُنیا میں کوئی نہیں
سِٹی بجانے کی کیا ضرورت تھی آپ ڈرالنگ بولتے تو میں بھاگی بھاگی آجاتی۔ ۔۔۔وہ لڑکی اچانک اپنا انداز اپنا لہجہ بدل کر بولی تو آریان کے ساتھ میشا بھی اپنی جگہ حیران ہوئی تھی
ج جی؟ آریان کی آواز جانے کیوں لڑکھڑائی
آپ آریان دُرانی ہو نہ؟ وہ لڑکی پرجوش آواز میں بولی تو میشا نے بڑے غور سے آریان کا گریز دیکھا تھا
جی یہ محترم آریان دُرانی ہے مگر اِن کی پہچان پلے بُوائے سے ہوتی ہے۔ ۔۔۔میشا نے موقعے پر چونکا مارنا لازمی سمجھا
میں آریان دُرانی ہوں مگر میری پہچان زوریز دُرانی کے بھائی کی حیثیت سے ہوتی ہے۔ ۔۔آریان نے میشا کو گھورا جس پر اُس نے اپنی آنکھیں گُھمائی تھیں
“میں آپ کی بہت بڑی فین ہوں۔ ۔۔۔۔وہ لڑکی خوشی سے پُھولے نہیں سما پارہی تھی۔
ویٹ کرو گرمیاں آرہی ہیں یہ پھر تمہیں گھر کی کسی چھت پر فِٹ کردینگے۔ ۔۔۔میشا نے آج بڑے احترام سے آریان کا ذکر کیا تھا
میرا مطلب تھا یہ میرے کرش ہیں” آئے روز اِن کی تصاویر اخباروں میں آتی ہیں اور بزنس مین زوریز دُرانی کی میگزین میں دیکھتی ہوں پر ملنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ ۔۔۔وہ لڑکی بے تُکلف ہونے لگی
آپ شاید وہاں جارہی تھیں۔ ۔۔۔آریان نے اُس کو بھگانا چاہا
ارے جس کے لیے سٹی ماری اُس کو بتاؤ نہ تمہیں لو ایٹ فرسٹ سائیڈ ہوگیا ہے۔۔۔میشا نے کہا تو آریان کی حالت پتلی ہونے لگی
ایسا تو کچھ نہیں یہ تو میری بہن ہے۔۔۔آریان نے اُس لڑکی کی طرف اِشارہ کیا
ایسا تو نہ کریں میرا دل ٹوٹے ٹوٹے ہوجائے گا۔ ۔۔وہ لڑکی بے ساختہ چیخ پڑی تو میشا نے کوفت سے اُن دونوں کا یہ میلو ڈرامہ دیکھا
آپ ڈرامہ نہ کریں بہن آپ نہیں میں ہوں اِس کی۔ ۔۔میشا نے کہا تو آریان کا ہاتھ بے ساختہ اپنے دل پہ پڑا تھا
ہارٹ اٹیک دلوانا ہے کیا۔ ۔۔آریان نے خشمگین نگاہوں سے اُس کو گھور کر کہا
ایسا تو نہ کہے ابھی تو ہم نے اکٹھے ایک دُنیا دیکھنی ہے۔ ۔۔وہ لڑکی گویا تڑپ اُٹھی
فکر نہ کرے اِس کو آپ کا ساتھ قبر تک چاہیے۔ ۔۔میشا نے مسکراہٹ ضبط کیے کہا
تمہ
قبر تک کیوں ایک بار کہہ کر تو دیکھو ایک ساتھ قبر میں بھی دفن ہوجاؤں گی۔۔۔۔وہ لڑکی تو جیسے ہاتھ منہ دھوکر اُس کے پیچھے لگ گئ تھی۔
یو گائیز کیری آن میں اب چلتی ہوں۔۔۔۔میشا اپنی ہنسی دبائے وہاں سے جانے لگا
میشا
میشو
پلیز یار رُکو تو سہی۔۔آریان اُس کو آوازیں دیتا رہا جس کو سُننا میشا نے گوارا نہیں کیا
اُس کو چھوڑو نہ ہم مل بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ ۔۔اُس نے کہا
او بی بی سِٹی میں نے نہیں بیوٹی کوئین نے ماری ہے میری جان چھوڑدو تم۔ ۔۔آریان بڑی مشکل سے اُس سے اپنی جان بچاتا میشا کے پیچھے بھاگا تھا
“رُکو میشا۔۔۔۔میشا اپنی اسکوٹی پر بیٹھ کر جانے لگی تو آریان جلدی سے اُس کے راستے میں حائل ہوا
تم باز نہیں آؤ گے نہ؟میشا زچ ہوئی اور آریان شوخ ہوا
“چلو آؤ ایک کام کرتیں ہیں
ایک دوسرے کو بدنام کرتے ہیں۔۔۔
آریان نے شاعرانہ انداز میں کہا تو میشا نے گہری سانس بھر کر اُس کو دیکھا
تم مجھے چھوڑنے کے کیا لوگے؟میشا نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا وہ معاملہ رفع دفع کرنا چاہتی تھی
“نکاح نامہ پکڑ کر یہ کہنا چاہتا ہوں۔۔
میرے ہاتھوں میں نکاح نامہ ہے کوئی اسلحہ تو نہیں
ہم دونوں کی شادی ہوجائے تمہیں کوئی مسائل تو نہیں۔۔۔
آریان بالوں میں ہاتھ پھیر کر دلکش انداز میں بولا تو میشا نے ترچھی نگاہوں سے اُس کو گھورا
یہ تمہاری اسپیڈ کچھ زیادہ فاسٹ نہیں چل رہی؟میشا نے دانت کچکچائے
بلکل نہیں اگر فاسٹ ہوتی تو آج ہمارا بیٹا ہوتا۔۔۔۔آریان نے کہا تو مزاحیہ انداز میں تھا مگر اُس کی بات پر میشا کے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ آئی تھی۔
“ٹپیکل مرد کے ساتھ ٹپیکل سوچ۔۔۔میشا آہستہ سے بڑبڑاتی اپنی اسکوٹی پر بیٹھ گئ
“رکو یار میرا مسئلہ حل کرو۔۔۔۔آریان نے اُس کو روکا
میں ریاضی کی کتاب نہیں۔۔۔میشا نے جتایا
ہاں تو ریاضی کی کتاب بننے کا بول کون رہا ہے تم ریاضی کتاب کی گائیڈ بن جاؤ جہاں مسائل کے ساتھ حل بھی موجود ہوتے ہیں۔۔۔۔آریان کافی ڈھیٹ تھا یہ بات میشا اچھے سے جان گئ تھی
تم مجھے ایک بات بتاؤ۔۔۔۔۔میشا نے ایک خیال کے تحت اُس سے کہا
ایک کیوں؟”کسی اچھے ریسٹورنٹ میں مل بیٹھ کر آرام سے باتیں کرتے ہیں۔۔۔۔آریان پھیلنے لگا
بریک پہ پاؤ رکھو اور اسٹیرنگ پر ہاتھوں کی گرفت مضبوط”دھیان سے کہی ایکسیڈنٹ نہ ہوجائے۔۔۔۔میشا نے پھیلتا ہوا رائتہ سمیٹا
بات بتاؤ؟آریان نے منہ کے زاویئے بگاڑے
تم نے کہا تھا تمہیں دُنیا زوریز دُرانی کے بھائی کی حیثیت سے جانتی ہے تو کیا تمہاری اپنی کوئی پہچان نہیں؟”اور کیا تمہیں بُرا نہیں لگتا؟ میشا بغور اُس کے تاثرات جانچتی پوچھنے لگی
اولاد کی پہچان باپ کے نام سے ہوتی ہے اور میرا بھائی میرے لیے باپ سے اُونچا مقام رکھتا ہے۔ ۔۔آریان عام انداز میں بولا تھا
بھائی سے کافی اچھی بانڈنگ معلوم ہوتی ہے۔۔۔میشا اُس کی آنکھوں میں چمک واضع دیکھ سکتی تھی جو اپنے بھائی کے نام پر اُس کی آنکھوں میں آئی تھی
“اگر زندگی میں کبھی تمہارا بھائی تمہیں یہ کہے جب تمہاری شادی ہوچُکی ہو اور مسلسل تین بیٹیاں تمہاری زندگی میں آئیں ہو بیوی سے تو اگر تمہیں تمہارا بھائی کہے یہ بیٹیاں منحوس ہیں اور بیوی کو چھوڑ کر دوسری شادی کرلوں تو کیا تم اُس کی بات مان جاؤ گے؟میشا نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
“پاگل ہو؟مطلب سیریلی تم ایک پڑھی لکھی لڑکی ہوکر ایسی جاہلوں جیسی باتیں کررہی ہو بیٹیاں منحوس؟ “جس کو اللہ نے رحمت بناکر بھیجا ہے جس عورت کو اللہ نے مرد کی پسلی سے بنایا ہے کہ وہ اُس کے وجود کا حصہ ہے وہ اگر بیٹیاں دینگی تو تمہیں واقع لگتا ہے کوئی مرد اپنے وجود کے حصے کو خود سے دور کرے گا؟ اور اپنے در پہ اللہ کی رحمت دروازے بند کرے گا۔۔۔”جانتا ہوں پُرانے زمانے میں ایسا ہوتا تھا بچیوں کو زندہ دفن کردیا جاتا تھا مگر اب ایسا نہیں ہوتا باپ تو اپنی بیٹیوں پر جان نچھاور کرتے ہیں اور جو میرا بڑا بھائی ہے تو میری بیٹیوں پر پوری دُنیا قُربان کردے اگر اُس کے بس میں ہو تو۔ ۔۔”میں یا وہ ہم دونوں میں سے کوئی بھی ایسا سوچ بھی نہیں سکتا ہم دونوں کو تو بہن کی خُواہش ہوا کرتی تھی جو پوری نہیں ہوئی پر اگر بیٹی کی صورت میں خواہش پوری ہوگی تو ناشکرے نہیں اِتنے ہم۔ ۔۔آریان پہلے پہل تو حیرانگی سے میشا کو دیکھنے لگا جیسے یقین کرنا چاہ رہا ہو کہ یہ سب کہنے والی میشا ہے۔ ۔”مگر پھر سرجھٹک کر بولا تو بولتا چلاگیا اُس کو شاک لگا تھا میشا کے ایسے سوال پر
“میں نے ایک سوال کیا تھا۔”ویسے بھی یہ مردوں کا معاشرہ ہے اور تم عورتوں کے ساتھ کچھ بھی کرسکتے ہو تم مردوں کا بھروسہ کیا ۔۔میشا نے شانے اُچکائے کہا تو آریان اُس کو دیکھتا رہ گیا
“پھر تم نے یہ بھی سُنا ہوگا کہ مردوں کے معاشرے میں مرد سے بچنے کے لیے عورت کو مرد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ۔۔آریان تھوڑا اُس کے پاس جُھک کر بولا تو میشا نے آنکھیں گُھمائی
واٹ ایور۔ ۔۔۔میشا نے سرجھٹک کر ہیلمنٹ پہنا
اچھا سُنو۔ ۔۔۔آریان ملتجی ہوا
کیا ہے اب؟ میشا زچ ہوئی
کب دے رہی ہو؟ آریان نے سنجیدگی سے پوچھا
کیا کب دے رہی ہو؟ میشا کو سمجھ نہیں آیا
تین بیٹیاں۔۔ آریان نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائے کہا تو میشا کے سر پہ لگی اور تلوؤ پہ بُجھی
تم انتہا کے بے شرم”بے حیا”اور چِھچھوڑے انسان ہو۔۔۔میشا نے دانت پہ دانت جمائے کہا
کمینہ لوفر لفنگا یہ نام بھی تمہارے دیئے ہوئے ہیں بھول گئ؟آریان نے ہمیشہ کی طرح ڈھٹائی کا مُظاہرہ کیا
گو ٹو ہیل۔ ۔۔۔میشا نے اُونچی آواز میں کہا
وِد یوئر ہیل یہ بھی کہو نہ۔ ۔۔آریان نے اُس کو مزید چِڑایا جس پر میشا نے اِس بار کان نہیں دھڑے
Mukammal Hoor
Tu kuriye
Tyry pagal dy
Khuwaban di
Nasha tera Hi
Laghtya na
Kara ki gal
Sharaban di
Kuriye tu khubsoorat
Shayari lagh di kitabaan di
Hai
“میشا کو اسکوٹی پہ جاتا دیکھ کر آریان بھی گُنگُناتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا
Rimsha Hussain Novels![]()
“دادو۔ ۔۔۔حویلی آکر اقدس اسیر کا ہاتھ چھوڑے عروج بیگم کی طرف بھاگنے لگی تھی۔ ۔۔
اقدس
اقدس
آہستہ گِرجائے گی آپ۔۔۔اسیر کی پیشانی میں شکنوں کا جال بِچھ گیا تھا وہ لب بھینچ کر اقدس کو دیکھنے لگا جو بھاگ کر بڑی گرمجوشی سے عروج بیگم کے ساتھ لگی تھی
دادو کی جان کیسا ہے میرا بچہ۔ ۔۔۔عروج بیگم تو اقدس کو دیکھ کر نہال ہی ہوگئ
ہم ٹھیک آپ بتائے ہمیں یاد کیا؟ بتانے کے بعد اقدس نے پرجوش لہجے میں پوچھا
اقدس دوبارہ ہم آپ کو یوں بھاگتا ہوا نہ دیکھے۔ ۔۔۔اسیر کے لہجے میں سختی سے زیادہ فکرمندی کا عنصر نمایاں تھا
اسیر۔ ۔۔۔عروج بیگم نے اقدس کی اُتری شکل دیکھی تو اُس کو تنبیہہ کیا
دادو ہم کوئی رِسک نہیں لینا چاہتے۔ ۔۔اسیر کا انداز ہنوز سنجیدہ تھا
اِس لائے ہو کیا؟ ہال میں آتی فائقہ بیگم کی نظر اقدس پر گئ تو اُن کا منہ بن گیا
آپ کو نظر آرہی ہے تو یقیناً ہم اِس کو لے آئے ہیں خیر آج جرگہ بیٹھنے والا ہے اِس لیے ہمیں جلدی جانا ہے۔ ۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے کہا
جرگہ نہیں بیٹھے گا نوریز کو شہر سے نوٹس آیا ہے وہ بھی کورٹ سے کہ کچھ دنوں بعد اُس کو پیش ہونا ہے۔ ۔”توبہ اب یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ ہمارے خاندان ہمارے گاؤں میں ایسا نوٹس آئے گا۔ ۔۔۔فائقہ بیگم نخوت سے سرجھٹک کر بولیں
نوٹس ہی آیا ہے یا کچھ اور بھی؟”اور کیا کسی کو پتا نہیں یہ ہمارا علائقہ ہے جہاں پولیس کورٹ کچہری کا سسٹم نہیں ہوتا جو کچھ ہوتا ہے وہ ہم کرتے ہیں۔ ۔۔اسیر سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں کہا
لڑکی گاؤں کی نہیں تھی شہر کی تھی تبھی بات بڑھ گئ ہے۔۔۔عروج بیگم نے باتوں میں حصہ لیا جبکہ اقدس کو اُنہوں نے ملازمہ کے ساتھ کمرے میں بھیج دیا تھا۔۔
فکر نہیں کرو معاملہ جلدی ختم ہوجائے گا کیونکہ سُنا ہے وکیل کوئی لڑکی ہے”بیریسٹر کا نام بھی شاید کچھ مردانہ سا تھا۔۔۔فائقہ بیگم اپنے دماغ پر زور دے کر بولی
تسلی رکھو بیٹا کسی کی اِتنی اوقات نہیں کہ ہمارا مقابلہ کرپائے اور یہاں تو بات ایک کم سن لڑکی کی ہے جس کا منہ چند پیسوں میں بند ہوجائے گا۔۔۔نورجہاں بیگم بھی اُن کے ساتھ کھڑی ہوتی بولی
پیشی کی فائنل تاریخ کیا ہے؟اسیر نے اپنی کنپٹی سہلائی کیونکہ وہ خود فراز کو عبرتناک سزا دینا چاہتا تھا تاکہ گاؤں میں دوبارہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہ آئے”اگر یہاں شہر کی پولیس کا سسٹم بنا بھی تو وہ جانتا تھا لے دے کر سحاد ملک اور نوریز ملک اِس معاملے کو ختم کردینگے۔۔۔
پندرہ تاریخ ہے۔فائقہ بیگم نے کہا
سُنو اسیر میں اپنے بیٹے کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کروں گی۔ ۔۔اسمارہ بیگم بھی میدان میں اُتری اُن کے ساتھ صنم بیگم(نوریز ملک کی دوسری بیوی)بھی ساتھ تھی جو بے اولاد تھیں یہی وجہ تھی کہ نوریز ملک کو اُسی سال تیسری شادی بھی کرنا پڑی تھی۔ ۔۔
“سفیان ملک کے تین بیٹے تھے” ایک بڑا بیٹا سجاد ملک تو دوسرا فاروق ملک اور آخر میں آتا تھا نوریز ملک۔ ۔۔
“اپنے گاؤں کے سُفیان ملک یہ جابر قسم کے سردار تھے جو عورت کو کمتر سمجھا کرتے تھے اور یہی سوچ وراثت میں اُن کے بیٹوں کو ملیں تھیں جبکہ عروج بیگم ایک سُلجھے ہوئے مزاج کی خاتون تھیں اُنہوں نے اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کی تھی کہ اُن کے بیٹوں کی سوچ الگ پاک صاف ہو مگر خون اثر ضرور دیکھاتا یہاں بھی ایسا معاملہ ہوا تھا۔۔۔
“پہلے شادی سجاد ملک کی ہوئی تھی کیونکہ وہ خاندان کے پہلے بیٹے تھے اور اُن کی بیوی فائقہ اُسی سوچ کی حامل عورت تھی جیسی سوچ وہ خود رکھتے تھے۔۔”شادی کے نو سال بعد اُن کے یہاں اسیر کی پیدائش ہوئی تھی کیونکہ پہلے بیٹیاں ہوئیں تھیں اُنہیں جن کو وہ دونوں بے رحمی سے ماردیتے اور سب کو یہی بتایا گیا کہ اولاد مری ہوئی بیٹی ہے مگر اسیر آیا جس سے اُن دونوں کا سر فخر کے ساتھ نہیں بلکہ غرور اور تکبر سے اُونچا ہوگیا تھا۔ ۔”کیونکہ شادی چاہے پہلے اُن کی ہوئی تھی مگر اولاد اُن کے دوسرے بھائی کی پہلے ہوئی تھی اور جو تھی وہ اولاد بیٹی تھی” ۔اسیر کی پیدائش کے دو سال بعد پھر اُن کے یہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی جس کا نام اسیر سے ملتا جُلتا اُنہوں نے نذیر رکھا تھا مگر افسوس کہ نام نے شخصیت پر اثر نہیں چھوڑا تھا نذیر کی سوچ اپنے بڑے بھائی اسیر سے خاصی مختلف تھی اسیر نے اپنے بچپن میں زیادہ وقت عروج بیگم کے ساتھ گُزارا تھا جو اکثر اُس کو ہر وقت اچھے اور بُرے کی پہچان کرواتیں تھیں یہی وجہ تھی” عروج بیگم کی طرح اسیر بھی بات کرتے ہوئے” ہم” لفظ کا استعمال کیا کرتا تھا اور اُس پہ عروج بیگم کی تربیت نے اپنا اثر کم عمری میں ہی گہرا چھوڑا تھا جب بھی اُس کے دماغ میں کوئی غلط خیال آتا وہ عروج بیگم کی نصیحتوں کو یاد کرتا تھا اور اللہ کا نام لیکر بہکنے سے خود کو بچالیتا تھا۔ ۔
“چنانچہ پھر فائقہ بیگم کے یہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی اور بیٹی اب دو بیٹوں کے بعد ہوئی تو سجاد ملک کے ماتھے پر ایک شکن بھی نہیں آئی تھی اُنہوں نے لالی کو خوشی خوشی قبول کرلیا تھا۔ ۔”مگر اُس کے باوجود کبھی اُس کو اُتنا پیار نہیں ملا جتنا اسیر اور نذیر کو ملا تھا
“سجاد ملک کے بعد فاروق ملک کی شادی اپنی کزن سے ہوئی تھی اُن کے یہاں بھی پہلے بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی مگر وہ زیادہ وقت جی نہیں پایا تھا پھر اُن کے یہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی جس کا نام دیبا تھا اور وہ اسیر جو کافی سال بڑی تھی۔ ۔
“نوریز ملک نے جبکہ اپنے کالج میں لڑکی کو پسند کرلیا تھا اور سب کی مخالفت ہونے کے باوجود اُس سے شادی بھی کرلی تھی۔ ۔”جس کو اُنہوں نے چھوڑدیا کیونکہ وہ بیٹیاں پیدا کررہی تھی جن سے اُن کو خدا واسطے کا بیر تھا۔ “”پھر دوسری شادی اُنہوں نے کر تو لی مگر وہاں بچے کے کوئی آثار نظر نہیں آئے تو جلدبازی میں اُنہوں نے تیسری شادی بھی کرلی مگر صنم بیگم کو طلاق نہ دی کیونکہ وہ اُن کے خاندان کی تھیں” تیسری بیوی سے جبکہ اُن کو دو بیٹے ہوئے تھے ایک فراز اور دوسرا شیراز
“فراز تو تندرست تھا مگر شیراز پیدائشی نابینا پیدا ہوا تھا۔ اور مہنگے سے مہنگے علاج سے بھی اُس کو آنکھوں کی روشنی نہ مل پائی تھی۔ ۔۔
“آپ کے بیٹے کی معصومیت کے پوسٹر پورے گاؤں میں لگنے چاہیے” لہٰذا ہمارے سامنے اُس کی کوئی حمایت نہ کرے تو اچھا ہوگا۔ ۔۔اسیر طنز لہجے میں کہتا وہاں سے چلاگیا پیچھے اسمارہ بیگم کا چہرہ پل بھر میں سرخ ہوا تھا
اِسی غرور کی وجہ سے اسیر کی بیٹی کا پاؤں سیدھا نہیں دیکھیے گا جب تک اِس کا غرور خاک نہیں ہوگا تب تک یہ جتنے بھی آپریشن کروالے اقدس نے سیدھا نہیں چلنا۔ ۔۔اسمارہ بیگم جلن زدہ لہجے میں اُس معصوم کے بارے میں بولنے لگی تو عروج بیگم نے تاسف سے اُن کو دیکھا تھا۔
“بات کڑوی ہے مگر سچ ہے پارسا تو نورزیز بھائی بھی نہیں تھے یہی وجہ ہے کہ ایک بے چاری بے اولاد ہے تو آپ کا بیٹا ناکارہ اور پہلے والے کا یہ حال ہے۔ ۔۔نورجہاں بیگم نے بھی مسکراکر اچھی خاصی اُن کو سُناڈالی
“تم تو چُپ کرو اپنی ایک بیٹی کی اچھی تربیت تو کر نہیں پائی اور آئی ہو مجھ سے بات کرنے۔ ۔۔اسمارہ بیگم نے اُس کو گھور کر کہا تو نورجہاں بیگم اپنی جگہ پہلو بدلتی رہ گئیں تھیں

نوریز تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں نے اپنے گاؤں کے بندے شہر بھیج دیئے ہیں جلدی اُس بیریسٹر کا کام تمام ہوجائے گا۔۔۔۔سجاد ملک نے پریشان بیٹھے نوریز ملک کو تسلی کروائی
کیا مطلب بھائی صاحب؟ نوریز ملک نے چونک کر اُن کو دیکھا
مطلب یہ کہ نذیر سے میں نے اُس لڑکی کو بہت بار وارننگ کے میسج بھیجے تھے مگر وہ باز نہیں آئی آج بندے سامنے کھڑے ہوکر جو دھمکیاں دینگے کہ دیکھنا پھر کیسے کیس چھوڑتی ہے وہ۔ ۔۔سجاد ملک مونچھوں کو تاؤ دے کر بولے
لے دے کر بات ختم کردے ویسے وکیل ہے کون؟نوریز ملک نے پوچھا
فکر نہیں کرو پہلا کیس ہے اُس کا اور یہ معاملہ لین دین والا نہیں۔ ۔۔سجاد ملک نے کہا
پھر فکر کیسی وہ ہار جائے گی کیونکہ ہمارا وکیل بڑا ہوگا۔ ۔۔نوریز ملک نے اُن کی بات سن کر جواباً کہا
“ہم نے کبھی کورٹ کی شکل نہیں دیکھی اور نہ آئیندہ دیکھنا چاہے گے”تم چپ کرکے بیٹھو مجھے اپنے طریقے سے یہ سب سنبھالوں گا۔۔سجاد ملک کا انداز اٹل تھا جس پر نوریز ملک کو چُپ ہونا پڑا








اچھا ہوا یار تم آگئ تھی ورنہ میرا کیا ہوتا عموماً میری اسکوٹی نے کبھی یوں بیچ راستے میں بے وفائی نہیں کی مگر آج کرگئ کھوتی۔ “ویسے تمہیں اب اِس رینٹ والی کھٹارا گاڑی سے جان چُھوڑوا لینی چاہیے۔۔۔میشا فرنٹ سیٹ پر بیٹھی اپنے ناخن پر نیل پینٹ لگاتی سوہان سے بولنے لگی کیونکہ آج اُس کی اسکوٹی خراب ہوگئ تھی۔”مگر ایک ہاتھ اسٹیئرنگ پہ موجود دوسرے ہاتھ سے موبائل فون پکڑے سوہان کا دھیان اپنے موبائل پہ موصول ہوتیں دھمکی آمیز مسیجز پہ تھیں جس کا سلسلہ ایک ہفتے سے شروع ہوا تھا۔۔۔پھر اچانک سامنے دیکھ کر سوہان کو اپنی گاڑی کو بریک لگانا پڑی تھی کیونکہ اُن کی گاڑی کے سامنے ایک بڑی گاڑی کھڑی تھی جس کے پاس پانچ ہٹے کٹے آدمی کھڑے تھے۔ ۔”سوہان نے ایک نظر اُن پہ ڈالے گردن موڑ کر میشا کو دیکھا جو نیل پالش لگانے میں اِتنا محو تھی کہ گاڑی کا رُکنا تک محسوس نہیں کیا تھا
“میشو۔۔۔سوہان نے اُس کو مخاطب کیا
ہممم؟مصروف بھرا انداز
“تمہارے ہاتھوں میں کُھجلی ہورہی ہے کیا؟سوہان نے سنجیدگی سے پوچھا
نہیں تو کیوں؟میشا اب کی چونک اُٹھی
لگتا ہے سامنے کھڑے لوگوں کے پورے جسم میں خارش ہورہی ہے۔۔۔سوہان نے سرسری لہجے میں کہا تو پہلے وہ ناسمجھی سے اُس کا چہرہ تکنے لگی تو آنکھوں کے اِشارے سے سوہان نے اُس کو سامنے دیکھنے کا کہا جس پر میشا نے وہاں دیکھا جہاں کچھ لوگوں نے اُن کا راستہ بلاک کیا ہوا تھا یہ دیکھ کر اُس کی آنکھوں میں اُلوہی چمک آئی جیسے کوئی بہت بڑا خزانہ ہاتھ آیا ہو
اچھا واقعی؟میشا نے جھٹ سے نیل پالش خود سے دور کیا
ہممم۔ ۔۔سوہان نے سر کو ہولے سے جنبش دی
ایسا ہے تو ابھی جاتی ہوں میں اُن پر خارج دور کرنے والا اسپرے لگاکر۔۔۔۔۔میشا بیک ویو مرر میں دیکھ کر اپنا حجاب ٹھیک کیے پرجوش انداز میں بولی
شیور۔۔۔سوہان نے کُھلے دل سے اُس کو اِجازت دی تو گاڑی سے اُترنے میں میشا نے لمحے بھر کی بھی تاخیر نہیں کی تھی جبکہ اُس کو جاتا دیکھ کر سوہان نے گہری سانس بھر کر اپنا موبائل لیے کانوں میں ہینڈ فِری ڈال دی تھیں اُس کا کوئی اِرادہ نہیں تھا اُن آدمیوں کی چیخوں کو سُننے کا
