Ishq Meharban by Rimsha Hussain NovelR50558 Ishq Meharban (Episode 26)Part 2
Rate this Novel
Ishq Meharban (Episode 26)Part 2
Ishq Meharban by Rimsha Hussain
یہ چِھلا ہوا مرغا یہاں کیا کررہا ہے؟میشا ہاتھ کی مٹھی بنائے زور سے اپنے دوسرے ہاتھ پر مارتی آہستگی سے بڑبڑائی تھی
کیا ہوا آپ کو کس کو دیکھ لیا؟فاحا بالوں میں برش پھیرتی ساتھ ساتھ ایک نظر میشا پر ڈالتی اُس سے پوچھنے لگی۔۔۔
“تم دیکھو اب میں کرتی کیا ہوں۔۔۔میشا اُونچی آواز میں کہتی بنا کچھ سوچے سمجھے کمرے سے باہر ڈور لگائی تھی۔۔
“ہوا کیا ہے کچھ بتائیں تو؟فاحا نے پیچھے سے ہانک لگائی جس کو میشا ان سنی کرگئ۔۔
“پتا نہیں کیا ہوا ہوگا۔۔۔۔فاحا جلدی سے بالوں کو جوڑے میں مقید کرتی بیڈ پر پڑا اپنا اسکارف اٹھائے پہن کر باہر کو بھاگی
“کیا ہوا کہاں جارہی ہو؟سوہان نے تیز قدموں کے ساتھ باہر نکلتی میشا کو دیکھ کر ٹوکا
“میرے راستے میں کوئی نہ آئے۔۔۔میشا اُس کو جواب دیتی باہر کو بھاگی۔
“میشو آپو کہاں گئ؟فاحا بھی ہال میں آتی سوہان سے پوچھنے لگی
“باہر گئ ہے مگر ہوا کیا ہے؟عاشر نے بتانے کے بعد پوچھا
“وہی تو دیکھنے فاحا باہر جارہی ہے آپ لوگ بھی آجائے۔۔۔فاحا اُن کو کہتی خود بھی بھاگ کر باہر گئ تو وہ لوگ بھی اُس کے پیچھے جانے لگے جبکہ سوہان اپنی جگہ ہکا بُکا رہ گئ تھی اُس کو سمجھ نہیں آیا کہ یہ اچانک سب کو ہو کیا گیا تھا
“آپ کے گھر والوں پر سوپر ہٹ فلم بن سکتی ہے۔۔۔زوریز چل کر سوہان کے برابر کھڑا ہوتا اُس سے بولا
“کچھ بھی نہ بولا کریں مجھے تو کوئی سیریس معاملہ لگ رہا ہے۔۔۔سوہان اُس کو دیکھ پریشانی سے بولی
“آپ کی فیملی ماشااللہ سے کسی انٹرٹینمنٹ چینل سے کم نہیں ہے اُپر سے اُن کی لینگیویج میں کافی یونیک ورڈز بھی ہوتے ہیں میں یہ سوچ رہا ہوں ایسے لوگوں کے ساتھ رہ کر آپ اِتنا سیریس کیسے رہ سکتیں ہیں۔۔۔زوریز اپنی رائے دے کر بولا
“مجھے لگتا ہے ہمیں باہر جاکر دیکھنا چاہیے کہ ہوا کیا ہے؟سوہان اُس کی بات اگنور کر کے بولی
“آپ کو لگتا ہے تو چلتے ہیں مگر آپ پہلے کیک کاٹ دے”کیونکہ مجھے جلدی نکلنا ہے۔۔۔زوریز ہاتھ میں پہنی گھڑی میں وقت دیکھ کر اُس سے بولا
“میری بہنیں باہر ہیں”میں اُن کے بغیر کیک کیسے کٹ کرسکتیں ہوں”اور اگر آپ اِتنے مصروف تھے تو کیوں آئے؟سوہان کو اُس کا عجلت بھرا انداز جانے کیوں ایک آنکھ نہیں بھایا تھا
“دعوت ملی تھی آنے کی اور زوریز دُرانی ایسی دعوت کو اگنور نہیں کرتا۔۔۔زوریز نے بتایا
“آپ چلے جائے آپ کا کیک میں آپ کے آفس میں ڈیلیور کروادوں گی”آفٹر آل دن کے چوبیس گھنٹوں میں آپ کے بیس گھنٹے تو وہاں گُزرتے ہوگے۔۔۔سوہان طنز ہوئی
“کافی ریسرچ کی ہوئی ہے آپ نے میرے معاملے میں۔۔۔زوریز اُس کے انداز پر مبہم مسکراہٹ سے بولا
“یہ ریسرچ نہیں ہے۔۔۔سوہان نے جیسے وضاحت دی
“پھر کیا ہے؟زوریز محفوظ ہوا
“میں باہر جارہی ہوں۔۔۔۔سوہان اِتنا کہتی ابھی ایک قدم آگے بڑھی تھی جب زوریز نے اُس کی کلائی کو اپنی آہنی گرفت میں لیا تھا
“آپ سے ایک درخواست کرنا چاہتا ہوں۔۔۔سوہان جو اپنی کلائی اُس کے ہاتھ میں دیکھ رہی تھی زوریز کی بات پر سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی
“کیسی درخواست؟سوہان اپنی کلائی آزاد کروانے کے بعد اُس سے پوچھنے لگی
“شام سات بجے آپ سے ریسٹورنٹ میں ملنا چاہتا ہوں اُمید آپ وہاں آئے گیں۔۔”ہمیشہ کی طرح انکار نہیں کرینگی۔۔۔زوریز نے لہجے میں سنجیدگی تھی
“میں انکار کروں تو؟سوہان کو اُس کا ہڈ دھڑمی والا انداز پسند نہیں آیا
“میں نے آپ کو انکار کا آپشن نہیں دیا۔۔۔زوریز کندھے اُچکائے پرسکون لہجے میں بولا
“کیونکہ یہ اتھیورٹی میرے پاس ہے۔۔۔سوہان نے جتایا
“میں وہ آپ کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دوں گا کیونکہ کچھ چیزیں غیرضروری وقت پر استعمال کرنے سے ضائع ہوجاتیں ہیں اور میں نہیں چاہوں گا کہ آپ کی یہ اتھیورٹی ضائع ہو۔۔۔زوریز نے کہا تو سوہان سرتا پیر سُلگ چُکی تھی
“میں نہیں آؤں گی۔۔۔سوہان نے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انکار کیا
“لیکن میں آپ کا انتظار کروں گا۔۔۔زوریز نے کہا
“آپ کا انتظار لاحاصل ہوگا۔۔۔سوہان نے کہا تو زوریز کے چہرے پر ایک سایہ آکر لہرایا تھا”جس پر وہ خود کو جلدی سے کمپوز کرتا بنا کچھ کہے سوہان کے برابر سے گُزرگیا اور اُس کے ردعمل سے سوہان کو کافی حیرت ہوئی تھی اُس کو اندازہ نہیں تھا کہ زوریز کا جواب خاموشی ہوگا جو بھی تھا زوریز کا ایسے چُپ ہوکر گُزرنا سوہان کو بے چین کرگیا تھا۔۔۔”پر جلدی وہ خود کو ایسی سوچوں سے آزاد کرتی باہر آئی جہاں نئ مہابھارت اُس کے انتظار میں تھی۔۔۔

صحن میں آتی میشا نے ایک ہی جست میں گیٹ کا دروازہ کھولا تھا اور آریان جو ابھی بیل بجانے والا تھا اپنے سامنے میشا کو دیکھ کر اُس کو شدید قسم کی حیرانگی ہوئی تھی۔
“تم؟
تم۔۔
“دونوں کے منہ سے بے ساختہ ایک ساتھ یہ لفظ نکلا تھا
“ارے وہ کیا اتفاق ہے اور یہ کیا تم لال پری کیوں بنی ہوئی ہو؟”آریان سرتا پیر اُس کو دیکھ کر دلچسپ لہجے میں پوچھنے لگا’اُس پر حیرانگی کا حائل ہوا تاثر ختم ہوگیا تھا
“تم کمینے انسان میرا پیچھا پیچھا کرتے یہاں تک آگئے”تمہیں اندازہ نہیں میں اب تمہارا کیا حال کرنے والی ہوں۔۔۔میشا اُس کو کڑے تیوروں سے گھورتی دانت پیس کر بولی تھی”باقی سب لوگ میشا کے پیچھے آتے”آریان کو ایسے دیکھنے لگے جیسے وہ کوئی آٹھواں عجوبہ ہو
“میں تمہارا پیچھا کیوں کرنے لگا؟”ٹرسٹ می میں تو
“ٹرسٹ اینڈ یو سیریسلی؟اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر میشا نے طنز نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
“غالب نے بھی کیا خوب کہا ہے
وہ جو آنکھیں ساحل پر لاتیں ہیں
“تو لہریں شور مچاتیں ہیں
“آریان اپنے ڈھیٹ ہونے کا ثبوت دیتا شاعرانہ انداز میں بولا تو فاحا اپنی آنکھیں بڑی بڑی کیے اُس کا جائزہ لینے لگی۔
“غالب اب یہ بھی کہے گا کہ لہروں کے ساتھ ہمارے جسم کی ہڈیوں کے ٹوٹنے کا بھی شور مچا تھا۔۔۔میشا خطرناک تیوروں سے اُس کی طرف بڑھ کر بولی
“یار میری
“آپ آریان دُرانی ہو نہ؟آریان اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتا تھا جب درمیان میں فاحا نے اُس کو مُخاطب کیا
“ہاں میرا نام ہے آریان دُرانی۔۔۔آریان اپنی باچھیں کُھول کر بالوں میں ہاتھ پھیر دلکش انداز میں بولا
“تم جانتی ہو اِس کو؟میشا نے چونکتے ہوئے پوچھا
“آپ کو نہیں پتا کیا؟”کل اِن کی تصویر اخبار میں آئی تھی کلب میں دو لڑکیوں کو ایک ساتھ ڈیٹ کررہے تھے۔۔۔فاحا نے بتایا تو آریان جو اُس کے منہ سے اپنی تعریف کی توقع کررہا تھا اُس کی ایسی گوہر افشانی پر گڑبڑا کر میشا کو دیکھنے لگا جو استہزائیہ نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی تھی۔
“توبہ توبہ کیا زمانہ آگیا ہے۔۔بُوا نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا تھا
“یہ میڈیا والے جھوٹی افواہیں پِھیلاتے ہیں محض ایک ریٹنگ کے لیے۔۔۔”ورنہ میں نواز شریف سے زیادہ شریف ہوں۔۔۔آریان معصومیت سے آنکھیں پِٹپٹاکر بولا
“تم دونوں آپس میں لڑ جھگڑ کیوں رہے ہو آخر ماجرہ کیا ہے؟عاشر تنگ ہوکر بولا جبھی وہاں زوریز سپاٹ تاثرات چہرے پہ سجائے بنا کسی اور کو دیکھے باہر کی جانب جارہا تھا مگر آریان جھٹ سے اُس کے راستے میں حائل ہوا
“تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں تھا کہ ہم یہاں آنے والے ہیں”۔آریان نے کہا تو زوریز نے گہری سانس بھر کر خود کو کمپوز کیا
“باہر کیوں کھڑے ہو اندر کیوں نہیں آئے تھے؟اُس کی بات اگنور کرکے زوریز نے اُس سے پوچھا تو میشا آنکھیں پھاڑے اُن کو دیکھنے لگی جن کی شکل وصورت آپس میں بہت ملتی جُلتی تھی اور آج میشا نے غور کیا تھا پھر جو خیال اُس کے دماغ میں آیا تھا بے ساختہ اُس پر میشا کا سر نفی میں ہلا تھا
“کیا آپ وہ سوچ رہیں ہیں جو میں سوچ رہی ہوں؟فاحا میشا کے پاس آتی اُس کے کان میں سرگوشی نما آواز میں پوچھنے لگی
“دعا کرو جو ہم سوچ رہے ہیں وہ دُرست نہ ہو۔۔۔میشا نے کہا تو فاحا نے سمجھنے والے انداز میں سر کو ہلایا تھا۔۔
“گاڑی کو کھڑا کرنے کی کوئی سہی جگہ نہیں تھی مل رہی تھی گلیاں کافی چھوٹی تھیں تو بس اُس میں وقت لگ گیا۔۔۔آریان نے بتایا
“کیا اِتنی بڑی ہوگی اِن کی گاڑی؟” ورنہ تو سوہان آپو کی گاڑی باآسانی سی گُزرجاتی ہے۔۔فاحا نے پرسوچ لہجے میں میشا سے کہا
“حد ہے تمہارا بھی کوئی حال نہیں تم ایک بزنس مین کی گاڑی سے رینٹ والی گاڑی کا مُقابلہ کررہی ہو۔۔میشا نے اُس کو گھور کر کہتے جیسے اُس کی عقل پر ماتم کیا
“ہممم واپس چلو۔۔۔۔زوریز نے کہا تب تک وہاں سوہان بھی آگئ تھی
“ابھی تو کیک بھی کٹ نہیں ہوا۔۔ساجدہ بیگم نے پہلی بار لب کُشائی کی تھی
“کیک کٹ نہیں ہوا شکر ہے آپ کو پتا نہیں میں تو کیک کا دیوانہ ہوں۔۔۔آریان اُن کی بات سن کر جھٹ سے بولا
“جب راستے سے گُزرو گے تو بیکری نظر آئے گی وہاں سے خرید لینا اپنے لیے کیک۔۔۔میشا نے اُس کو گھورتے ہوئے کہا تو اُس کی بات پہ زوریز نے پلٹ کر میشا کو دیکھا تو اُس کی نظروں میں جانے ایسا کیا تھا جو وہ نظریں دوسری طرف کرنے پر مجبور ہوگئ تھی مگر آریان نے اُس کی بات کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا تھا وہ میشا کی ایسی باتوں کا عادی ہوگیا تھا
“میشو بدتمیزی سے بات مت کیا کرو سوری کہو آریان کو۔۔۔سوہان میشا کی بات پر شرمندہ ہوئی تھی تبھی سخت لہجے میں اُس سے کہا تو آریان کی نظر اب سوہان پر پڑی تھی اور اُس کو دیکھ کر آریان کے دماغ میں کچھ کلک ہوا تھا۔۔۔۔
Rimsha Hussain Novels![]()
ماضی!
لندن:
“یہ منظر لندن کے مشہور ہوٹل کا تھا جہاں زوریز اور آریان اپنی پھوپھو کے ہمراہ آئے تھے کیونکہ آج آریان کی بائیسویں سالگرہ تھی جس کو اُنہوں نے آریان کی فرمائش پر بڑے سے اچھے طریقے سے سلیبریٹ کرنا چاہا تھا دوسرا آج چوبیس سالہ زوریز نے پڑھائی کے ساتھ ساتھ بزنس کی دُنیا میں بھی اپنا پاؤں جمایا تھا اور آج ایک بہت بڑا پراجیکٹ اُس کو حاصل ہوا تھا جس نے اُن کی خوشیوں کو دوبالا کرلیا تھا۔۔
واو مجھے پتا تھا میری سالگرہ بہت اچھے سے سیلیبریٹ ہونے والی ہے۔۔۔۔آریان ہوٹل میں داخل ہوتا زوریز کو دیکھ کر بولا”ہوٹل میں اِس وقت بڑے پیمانے میں لوگ موجود تھے اور وہ سب بڑھ چڑھ کر اُن دونوں سے مل رہے تھے
“اِس بات کا تو سارا کریڈٹ زوئی کو جاتا ہے۔۔۔”ازکیٰ سلمیٰ محبت پاش نظروں سے زوریز کو دیکھ کر بولی
“ہاں جی اِس نے بزنس مین بننے کا جو سوچ لیا ہے۔۔۔آریان نے چھیڑنے والے انداز میں کہا
“کہی بیٹھ جانا چاہیے۔۔۔۔زوریز اُن دونوں کو دیکھ کر سنجیدگی سے مُخاطب ہوا
“ہاں کیوں نہیں اور میں پتا ہے کیا سوچ رہی ہوں؟آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے ہوئے ازکیٰ نے کہا
“کیا سوچ رہی ہیں آپ؟آریان نے پوچھا
“تمہیں نہیں لگتا اب زوئی کی شادی کا سوچ لینا چاہیے تمہارا کیا خیال ہے اِس میں؟پڑھائی میں بھی بس ایک ڈیڑھ سال رہتا ہے بزنس بھی زوریز نے اپنا شروع کیا ہے تو اچھا ہے اگر جو ہمیں زوئی کی شادی بھی کروا دینی چاہیے۔۔۔۔ازکیٰ نے پرجوش لہجے میں کہا
“ناٹ آ بیڈ آئیڈیا۔۔۔آریان اُن کی بات سے متفق ہوا
“بہت گھسا پیٹا خیال ہے پلیز پھوپھو کلوز دِس ٹاپک مجھے ابھی زندگی میں بہت کچھ کرنا ہے۔۔۔۔زوریز اپنے لیے کُرسی گھیسٹ کر بیٹھتا بیزارگی کا اِظہار کرنے لگا
“سوچنے میں کیا جاتا ہے؟ازکیٰ نے ایک اور کوشش کی
“وقت کا ضائع۔۔زوریز فورن سے بولا
“زوریز تمہاری سڑی ہوئی شکل کو ہم نہیں سُدھار پائے ہوسکتا ہے معجزاتی طور پر اُن سے کام بن جائے۔۔۔۔آریان اُس کو زچ کرنے والے انداز میں دیکھ کر بولا
“میں ایسا ہی ہوں اور ایسا رہوں گا ناؤ ایکسکیوز می۔۔۔زوریز سنجیدگی سے اُن کو دیکھ کر کہتا جیسے ہی اپنی جگہ سے اُٹھ کر پلٹا سامنے آتی ٹرے پکڑے ویٹریس سے اُس کا زبردست قسم کا تصادم ہوا تھا جس سے اُس کی شرٹ پوری خراب ہوگئ تھی۔۔۔”اور اُس ویٹریس سے ٹرے چھوٹ کر نیچے گِری تھی
“آئے ایم سو سوری میں ابھی صاف کردیتی ہوں۔۔۔زوریز جو لب بھینچ کر اپنی شرٹ کو دیکھ رہا تھا”کسی لڑکی کی خوبصورت آواز پر چونک کر اپنی نظریں اُٹھائے دیکھا تو ویٹریس کے لباس میں اور ساتھ میں سر پر حجاب پہنے لڑکی کو دیکھ کر زوریز کو کافی حیرت ہوئی تھی”اُس کو لندن میں رہتے ہوئے چودہ سال ہوگئے تھے اور اِن چودہ سالوں میں اُس نے پہلی بار کسی لڑکی کو حجاب میں دیکھا تھا جس کے چہرے پر اِس وقت گھبرائے ہوئے تاثرات تھے شاید وہ اپنی انجانے میں گئ غلطی پر پیشمان تھی
No, it’s ok.
زوریز اُس کے چہرے سے نظریں ہٹاتا بے تاثر لہجے میں بولا
“آپ کو واشروم تک چھوڑ آتی ہوں میں۔۔۔اُس نے پیش کش کی تو ناچاہتے ہوئے بھی زوریز دوبارہ اُس کو دیکھنے پر مجبور ہوا
“کسٹمر کو واشروم تک چھوڑنا آپ کی سروس میں شامل ہوتا ہے؟زوریز نے سنجیدگی سے اُس سے سوال داغا تو اُس لڑکی کا سر خودبخود نفی میں ہلا تھا۔۔
“میں خود سے چلا جاؤں گا آپ اپنا کام کریں۔۔۔۔زوریز سنجیدگی سے کہہ کر اُس کے برابر سے گُزرگیا تو وہ نیچے جُھک کر ٹوٹے ہوئے گلاس کے کانچ اُٹھانے لگی
“مجھے آریان دُرانی کہتے ہیں اور ابھی جو گیا وہ میرا بڑا بھائی تھا اور وہ ایسا سڑا ہوا رہتا ہے ہر وقت تو آپ اُس کی باتوں کو دل پر نہ لینا۔۔۔اپنے کام سے فارغ ہوتی وہ اُٹھی تو آریان نے نان سٹاپ انداز میں اُس سے کہا
it’s ok.
وہ زبردستی چہرے پر مسکراہٹ سجائے کہتی جانے لگی جب ایک بار پھر آریان اُس کے راستے میں حائل ہوا
“تم پاکستانی ہو؟آریان نے پوچھا
Yes.
اُس نے مختصر جواب دیا۔
نام کیا ہے تمہارا؟آریان اُس سے بے تُکلف ہونے لگا
“ایکسکیوز می پلیز۔۔اُس کا سوال اگنور کیے وہ جانے لگی جب آریان نے اُس کی کوشش کو ناکام بنایا
“کیا ہوگیا میں کوئی اوش باش لڑکا نہیں بلکہ اِس پارٹی کا مین گیسٹ ہوں یہ سب جو کچھ ہورہا ہے وہ میرے لیے ہورہا ہے۔۔۔”آج میری بائیسویں سالگرہ ہے۔۔۔آریان نے اپنی اہمیت گِنوانی چاہی
Happy birthday.
جواب میں وہ محض اِتنا بولی
“Thank You.
آریان خوشدلی سے مسکرایا
“میں اب جانا چاہوں گی کیونکہ مجھے بہت کام ہے۔۔۔اُس کا انداز خاصا لیا دِیا تھا
Yeah Sure..
اِس بار کوئی ضد کیے بنا آریان اُس کے سامنے سے ہٹ گیا تو وہ بھی تیز قدموں سے چلتی وہاں سے چلی گئ
“کیا ہر ایک سے بات میں لگ جاتے ہو۔۔۔آریان اپنی جگہ واپس بیٹھا ازکیٰ اُس کو گھور کر بولی
“آپ نے اُس کا چہرہ نہیں دیکھا تھا کیسے ہوائیاں اُڑی ہوئیں تھیں”میں تو بس رلیکس کرنے کی خاطر باتیں کرنے لگا شاید وہ ڈر گئ تھی کہ ہم مینجر کو شکایت دے کر اُس کو نوکری سے نہ نکلوا دے۔۔۔آریان شانے اُچکائے بولا
“اُس کے حجاب سے مجھے پتا چل گیا تھا کہ وہ مسلمان ہے”اور نین نقش سے پاکستانی بھی لگی تھی جو بھی بہت پیاری بچی تھی۔۔۔ازکیٰ اُس کی بات سن کر مسکراکر بولی تو آریان بھی جواباً مسکرایا

Are You Ok?
وہ کچن میں آئی تو اُس کی ساتھی نے سوال کیا
“ہاں میں ٹھیک ہوں مگر چھ گلاسس مجھ سے ٹوٹ گئے۔۔اُس نے بتایا
“سوہان تم اِتنا گھبرائی ہوئی کیوں رہتی ہو؟”دیکھو اسٹڈی کے ساتھ پارٹ ٹائیم جاب کرنا تمہارا اپنا فیصلہ تھا اور اب تم یہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر کام کرو گی تو ظاہر سی بات ہے نقصان ہی ہوگا تم اپنا مائینڈ پریزنٹ رکھو ورنہ مینجر کے ہاتھوں ہماری خیر نہیں ہوگی۔۔۔اُس کی ساتھی نے کہا تو سوہان نے اپنے لیے گلاس میں پانی انڈیلا
“مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔پانی پی کر سوہان نے بتایا
“ڈر کیسا؟”تم سے جو نقصان ہوا ہے مینجر وہ پیسے تمہاری سیلری سے کاٹ لے گا۔۔۔اُس نے کہا
“جس کے کپڑے میری وجہ سے خراب ہوئے میرے خیال سے وہ اُس کے پیسے بھی مانگے گا۔۔۔سوہان آہستگی سے بڑبڑائی
“باتیں کم کرو اور کام زیادہ کرو”سوہان یہ لو پیسٹریز سامنے والی ٹیبل پر سرو کرنا ہے”کسی بھی گیسٹ کو شکایت کا موقع نہیں ملنا چاہیے اور ہاں ایسے سنجیدہ ہوکر نہیں جاؤ کہ لگے کہ اُن پر تم کوئی احسان کررہی ہو چہرے پر مسکراہٹ سجاؤ اور سلیقے کے ساتھ سرو کرو۔۔۔اُن کا سینئیر اُن لوگوں کے پاس آکر کہتا آخر میں سوہان سے مُخاطب ہوا جس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا اور اپنے سینئر کی بات پر وہ تلخ سا مسکرائی تھی”اُس سے نہیں ہوتا تھا جھوٹی مسکراہٹ چہرے پر سجانا وہ جس مزاج کی مالک تھی اُس کے لیے کسی جوک پر مسکرانا ہی بڑی بات تھا مگر زندگی میں بعض اوقات انسان کو وہ سب کرنا پڑتا ہے جس کو کرنا اُن کے لیے آسان نہیں ہوتا۔
“شیور سر۔۔۔۔وہ اپنے سینئر کو جواب دیتی ٹرے ہاتھ میں لیئے کچن سے باہر آئی تو ایک بار پھر سامنا زوریز سے ہوا جو شاید ابھی واشروم سے نکلا تھا اُس کو دیکھ کر سوہان نے اپنی نظروں کا رُخ بدلا تھا اور اپنے قدم ایک ٹیبل کی طرف بڑھائے جہاں کا اُس کو آرڈر ملا تھا۔۔”زوریز بھی ایک نظر اُس پر ڈالے جانے والا تھا جب ایک آواز پر اُس کو رُکنا پڑا
“نام کیا ہے تمہارا؟سوہان جو ٹیبل پر سرو کررہی تھی ایک لڑکے کے سوال پر اُس کے ہاتھوں میں لرزش پیدا ہونے لگی جس کو دیکھ کر وہاں بیٹھے لڑکوں کے چہرے پر کمینگی سے بھرپور مسکراہٹ آئی تھی۔
“آپ کو اور کچھ چاہیے سر؟اُن کا سوال اگنور کرکے سوہان نے سنجیدگی سے پوچھا
“تم نے شاید سُنا نہیں جو ہم نے تم سے کہا۔۔۔دوسرے نے ناگوار نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو زوریز نے مڑ کر اُن لڑکوں کو دیکھا جن کی غلیظ نظریں سوہان پر جمی ہوئیں تھیں
“آپ کو میرے نام سے مطلب نہیں ہونا چاہیے۔۔۔سوہان نے ٹھیرے ہوئے لہجے میں جواب دیا اپنے اندر موجود خوف کو اُس نے خود پر حاوی ہونے نہیں دیا
“خوب پتا ہے تُجھ جیسی لڑکیوں کا اپنی قیمت بتا جلدی سے۔۔۔وہ بدلحاظی سے بولا تو اِس قدر تزلیل پر سوہان کا چہرہ دہشت کے مارے لٹھے مانند سفید ہوا تھا جبکہ زوریز کی کُشادہ پیشانی پر بھی شکنوں کا جال بِچھ گیا تھا۔۔”اور جانے اُس کے دماغ میں کیا سمایا جو اپنے قدم اُن لوگوں کی طرف بڑھانے لگا
“ایکسکیوز می۔۔سوہان اِتنا کہتی جانے لگی جب ایک نے اُس کے حجاب کا کونا پکڑا تھا تو دوسرے نے اُس کا راستہ روک لیا تھا۔۔”وہاں جانے کتنے لوگ موجود تھے مگر اُن پر توجہ کسی نے بھی دینا ضروری نہیں سمجھی تھی ہر کوئی ڈانس اور شراب پینے میں مصروف تھا تو کچھ لوگ آپس میں گفتگو کرنے میں لگے ہوئے تھے دوسرا گانوں کی آواز ہال میں اِسقدر تیز تھی کہ وہ جو بول رہے تھے بڑی مشکل سے اُن کے اپنوں کانوں میں یہ آواز پہنچ رہی تھی۔۔
س سامنے سے ہٹو۔۔سوہان کی زبان میں لڑکھڑاہٹ واضع ہوئی تھی دماغ کے کسی کونے میں اپنا بھیانک ماضی تازہ ہوا تھا آنکھوں میں نمی سی گُھلنے لگی تھی دل خوف سے الگ تیز دھڑک رہا تھا اُس کو ایسا لگ رہا تھا جیسے اُس کا کل آج بن کر اُس کے سامنے کھڑا ہوا تھا اور وہ پہلے کی طرح آج بھی بے بس تھی”
“اِتنا نخرہ۔۔۔غُصے میں کہتے وہ لوگ اُس کا حجاب اُتارنے والے تھے جب درمیان میں آکر زوریز نے اُن کا ہاتھ روک لیا تھا اور سرد نظروں سے اُن میں سے ہر ایک کو دیکھا تھا
“کیا یہ تیری رکھیل
چٹاخ
چٹاخ
“ابھی اُس کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی جب تیز تھپڑوں کے ساتھ زوریز نے ایک پنج اُس کے چہرے پر مارا تھا یہ دیکھ کر پورے ہوٹل میں ہلچل مچ گئ تھی سوہان بھی آنکھیں پھیلائے زوریز کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پر کسی بھی قسم کا کوئی تاثر نہیں تھا۔۔۔
سوری کہو اِن سے۔۔۔زوریز دوسرے کو گدی سے دبوچتا چباتے ہوئے لفظ ادا کرنے لگا تب تب وہاں آریان اور “ازکیٰ بھی آگئے تھے اور سارا معاملہ سمجھنے کی کوشش کررہے تھے دوسری طرف سوہان”وہ جتنا حیران ہوسکتی تھی اُتنا ہوئی تھی اُس کو یقین نہیں آیا کہ اِس انجان مُلک پر کوئی اجنبی اُس کے ساتھ کھڑا ہوسکتا ہے”اُس کا رکھوالا بن سکتا ہے مختصر یہ کہ کوئی اُس کے لیے لڑ بھی سکتا تھا”اُس کی زندگی میں آنے والا یہ تیسرا مرد تھا جو اُس کو الگ تھا۔۔۔”کیونکہ زندگی میں اِس بار کوئی مرد اُس کو الگ روپ میں ملا تھا۔۔”پہلا مرد جو اُس کا باپ تھا جس نے اُن کو اِس بے رحم دُنیا میں تنہا کردیا تھا جس کے دل میں اُن کے لیے کوئی احساس کوئی جذبات نہیں تھا”دوسرا وہ مرد جو اُس کی معصومیت کو ختم کردینا چاہتا تھا”اُس کے جسم سے اپنی بھوک مٹانا چاہتا تھا نفس کی وحشت میں آکر اُس کو جیتے جی ماردینا چاہتا تھا اور ایک یہ سامنے والا شخص تھا جس نے سب کے سامنے اُس کو عزت بخشی تھی اُس کی چادر کو سلامت رکھا اپنی نظروں میں اُس کے لیے احترام رکھا تھا۔۔”اِس ایک لمحے میں سوہان نے جانے کیا کیا سوچ لیا تھا
” سس سوری۔۔وہ اپنی جان چُھڑانے کی خاطر جھٹ سے معافی مانگنے لگے
ناؤ گیٹ لاسٹ۔۔۔۔زوریز نے غُصے سے اُن کو دیکھ کر کہا تو وہ ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سِنگ
“اُن کے جانے کے بعد زوریز سوہان کے روبرو کھڑا ہوا تھا جو اُس کے ایسے آنے پر اپنی نظریں جُھکا گئ تھی اُس کو دیکھ کر زوریز نے گہری سانس لی تھی”پھر اپنے ازلی سنجیدہ لہجے میں اُس کو مُخاطب کیا
“A girl should be three things,
1, independent
2, unstoppable
3,confident
“اپنی بات کہہ دینے کے بعد وہ وہاں رُکا نہیں تھا بلکہ تیز قدموں کے ساتھ وہاں سے چلاگیا
Are You ok?
آریان بھی اُس کے پاس کھڑا ہوتا سنجیدگی سے پوچھنے لگا
جی میں ٹھیک ہوں۔۔۔سوہان نے جواب دیا تو آریان نے سر کو جنبش دے کر اپنی نظریں ہال میں ڈورائی جہاں سناٹا چھاگیا تھا”آریان تالی بجاکر سب گیسٹس کی توجہ خود پر کروائی تھی اور کچھ ہی وقت میں سب کچھ پہلے جیسے ہوگیا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو سوہان بھی خود کو پرسکون کرتی زوریز کی تلاش میں نظریں آس پاس ڈورانے لگی تاکہ اُس کا شکریہ ادا کرسکے مگر وہ اُس کو کہی بھی نظر نہیں آیا تھا اور نظر تب آیا جب کیک کٹ ہونے کا وقت آ پہنچا تھا۔

Excuse me.
کیک کٹ ہونے کے بعد سوہان کو زوریز تنہا گوشے میں اکیلا موبائل فون میں مصروف نظر آیا تو اُس کو مُخاطب کیا
Yes?
زوریز نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا جو اضطراب کی کیفیت کا شکار تھی
Thank you.
سوہان نے مشکور نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
“تھینک یو کہنے سے اچھا ہے آپ خود مضبوط بنائے زیادہ نہیں تو کم از کم اِتنا ضرور کہ کوئی میلی نظروں سے آپ کو دیکھنے کی جُرئت نہ کرپائے۔۔۔زوریز اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا
“میں یہاں کی نہیں ہوں میں ڈر گئ تھی یہاں میرا کوئی نہیں ہے”اور ایک یہ بات میری کمزوری ہے۔۔۔سوہان بیحد آہستگی سے بولی
“ہر انسان کی کوئی نہ کوئی کمزوری ہوتی ہے”مگر اِس دُنیا میں سروائیو بس وہی کرپاتا ہے جس کو اپنی کمزوری کو اپنی طاقت میں بدلنا آتا ہو۔۔۔زوریز نے کہا تو اُس کی بات پر سوہان لاجواب ہوئی تھی
“میں کوشش کروں گی کہ اپنی کمزوری کو اپنی طاقت بناؤں۔۔۔سوہان نے کہا
“یہاں کب سے جاب کرتیں ہیں اور کیوں؟زوریز نے سوال داغا
“ضرورت ہے جاب کی۔۔۔سوہان نے مختصر جواب دیا
“یہاں ہوٹل میں یا ریسٹورنٹ میں ویٹریس کی جاب کرنا کوئی آسان نہیں ہے اپنے لیے کوئی اور جاب تلاش کریں۔۔۔زوریز نے اپنی طرف سے مشورہ دیا
“میرا ہاسٹل اور یونی اِس ہوٹل کے قریب ہیں تبھی یہاں جاب کرنا میری مجبوری ہے۔۔۔سوہان نے کہا تو زوریز چونک سا گیا تھا
“اِس ہوٹل کے پاس تو ایک یونی ہے جہاں میں بھی پڑھتا ہوں مگر میں نے وہاں آپ کو تو کبھی نہیں دیکھا۔۔زوریز نے حیرانگی کا اِظہار کرتے ہوئے کہا
“ڈپارٹمنٹ الگ ہو شاید اِس لیے۔۔سوہان نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا جو ایک طرح سے سہی بھی تھا
“یہ میرا کارڈ ہے آپ میرے پاس آسکتیں ہیں جاب کے لیے”میرا اپنا بزنس ہے۔کچھ سوچ کر زوریز نے اپنا کارڈ اُس کی طرف بڑھائے کہا
“مگر میں کیسے آؤں گی میرا یونی ہوتا ہے یہاں تو میں شام کے وقت آجاتی ہوں۔۔سوہان کو اُس کی پیش کش بُری نہیں لگی تھی “کیونکہ اپنی جاب سے وہ خود پریشان تھی “پر چھوڑ بھی نہیں سکتی اور زوریز کا جاب کی آفر کرنا اُس کے لیے کسی غنیمت سے کم نہ تھا مگر اُس کو اپنے یونی کا خیال آگیا تھا۔
“میرا بھی پہلے یونی ہوتا ہے اُس کے بعد جاتا ہوں اپنے آفس خیر آپ کے پاس وقت اور میرا کارڈ دونوں چیزیں ہیں اگر مُناسب لگے تو آجائیے گا ورنہ آپ کی اپنی مرضی۔۔۔زوریز نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر کہا
“ٹھیک ہے آپ کا بہت شکریہ میں اب چلوں گی۔۔۔سوہان نے کہا
“آپ کا نام کیا ہے ویسے؟زوریز نے اُس کو جانے کی تیاری پکڑتے ہوئے دیکھا تو پوچھ لیا
“میرا نام سوہان ہے۔۔”سوہان ملک۔۔سوہان نے بتایا
“سوہاں نام تو لڑکوں کا ہوتا ہے۔۔۔زوریز اُس کا نام جان کر بولا
“لڑکیوں کا بھی ہوتا ہے جیسے میرا ہے۔۔سوہان نے سنجیدگی سے کہا تو زوریز خاموش ہوگیا تھا
“میری طرف سے آپ کو بیسٹ وِشز۔۔۔زوریز اِتنا کہہ دینے کے بعد اُس سے پہلے خود وہاں سے چلاگیا۔۔”اُس کے جانے کے بعد سوہان نے کارڈ کو غور سے دیکھا اور اُس کا نام پڑھ کر زِیر لب بڑبڑائی
“زوریز دُرانی
