Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 52) Last Episode (Last Part).
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 52) Last Episode (Last Part).
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
” کیا مطلب ہے اتنے پرانے نام تم لوگ استعمال نہیں کرتے۔ کتنا پروقار نام ہے یہ۔” حیدر کو برا لگا تھا۔
” مائے ہینڈسم ڈیڈ خفا کیوں ہوتے ہیں۔ آپ پرانے ہیں تو آپ کے سجیسٹ کیئے ہوئے نام بھی پرانے ہی ہون گے ناں۔۔۔!!” احمد آخری زینے پہ بیٹھ کر اپنے جوتے پہننے لگا۔ اور ساتھ ہی اپنے باپ کو چڑانا بھی نہ بھولا تھا۔
” ارے کوئ پرانا ورانا نہیں ہوں میں۔ ایک ماڈرن دور کا انسان ہوں۔ نجانے تم آج کے بچے ماں باپ کو کتنا پرانا سمجھ لیتے ہو۔” حیدر کا اشتعال کے مارے برا حال ہو رہا تھا۔ ساوری اپنے دل کا حال بہتر کرتی اب حیدر کے تاثرات اس قدر بگڑے دیکھ ذرا کنفیوز ہوئی۔
” اوہو ۔۔۔ ڈیڈ ماں تو میری کیا حسین ، اور ماڈرن لڑکی ہیں۔ آپ اپنی بات کریں۔ اپنے ساتھ میری مما کو نا گھسیٹیں۔۔۔” احمد جوتے پہن کر کھڑا ہوا اور چلتا ہوا اپنی ماں کے پاس آیا۔ ایک بازو اپنی ماں کے گرد پھیلا کر وہ اپنے باپ کو اچھا خاصہ تپا گیا تھا۔
” مائے ڈیئر مما ۔۔۔ میں چلتا ہوں بائے بائے۔۔۔” وہ اپنی ماں کے گال پہ محبت بھرا بوسہ دیتا۔ اپنے باپ کی جانب میٹھی سی مسکان پاس کرتا نکل گیا۔ ساوری کو اسکے نکل جانے کے بعد ہوش آیا۔
” ارے۔۔۔ احمد ناشتہ تو کر لو۔۔ تم دونوں بہن بھائ کسی دن سکون کی سانس نا لینے دینا مجھے۔” وہ بوجھل سے لہجے میں گویا ہوئ۔ بات کرتے کرتے جیسے ہی اسکی نگاہ اپنے مزاجی خدا پہ پڑی وہ ایک لمحہ کو چونک گئ۔ وہ غصے میں تلملایا بیٹھا تھا۔
” آپ کو کیا ہوگیا خیریت تو ہے۔۔۔” ساوری نے اپنا ہاتھ حیدر کے کندھے پہ دھرا۔
” وہ اتنا سا آج کا لڑکا مجھے ان ڈائریکٹلی بڈھا کہہ کر گیا ہے۔۔” حیدر کی بات پہ ساوری دھیموں سروں سے کھلکھلائ۔
” حیدر۔۔۔ جب بچے جوان ہوجائیں ناں ، تو ماں باپ بوڑھے ہی ہوجاتے ہیں۔” ساوری نے یہ بات کھکھلاتے ہوئے سرخ رنگت سمیت مکمل کی۔
” مجھے بوڑھا نہیں ہونا یار۔۔۔” اسنے دہائ دی۔
” آپ بوڑھے ہوچکے ہیں۔۔” شاور نے سیریس سی شکل بنا کر کہا۔
” تم مجھے بوڑھا کہہ رہی ہو۔۔۔” حیدر کا لہجہ دہمکی آمیز تھا۔
” نہیں۔۔۔!!
میں آپ کو بوڑھا نہیں کہہ رہی میں یہ کہہ رہی ہوں کہ آپ بوڑھے ہوچکے ہیں۔” ساوری نے لب دبا کر کہا۔ وہ یہ کہتے ہی بھاگی تھی کیونکہ اسے پتا تھا اب کیا ہونا تھا۔ حیدر بھی اسکے پیچھے ہی لپکا تھا۔ ساوری بھاگتے بھاگتے پورے گھر میں حیدر کی دوڑ لگوا چکی تھی۔ حیدر کا سانس پھولنے لگا تھا۔ ساوری خود تھک چکی تھی۔ مگر اسکے ہاتھوں اتنی آسانی سے پکڑے نہیں جانا چاہتی تھی۔ ساوری بھاگتے بھاگتے زینے چڑھی اور اپنے روم کا دروازہ کھول اندر جاتے ہی دروازہ لاک کرنا چاہا مگر حیدر پہلے ہی اپنا پیر درمیاں میں اڑا گیا۔ ساوری نے پکڑے جانے کے خوف سے ہلکی سے چیخ ماری اور بھاگتی ہوئ واشروم میں گھسنے ہی لگی تھی کے حیدر نے اسکی کلائ تھام کر اسکا رخ اپنی جانب موڑا۔ اسکا دائیاں ہاتھ اسکی کمر تک لے جا کر وہ اسے ہلکا سا جھٹکا دیتا اپنے سینے سے لگا گیا تھا۔ بھاگنے کے باعث دونوں کی سانسیں اتھل پتھل ہورہی تھیں۔ اسکی سانسیں کچھ بحال ہوئیں تو حیدر نے آئبرو آچکا کر اسے تکا۔ ساوری نے بھی جواباً آئ برو اچکائ۔
” میری نقل اتار رہی ہو۔۔” حیدر نے اسے مصنوعی گھورا۔
” ہاں تو اتار رہی ہوں۔۔ تو۔۔؟” اترا کر کہا گیا۔
” تو۔۔؟؟ تم مجھے اتنے ہینڈسم لڑکے کو کاپی کر رہی ہو۔ یہ بہت بڑی سزا ہے تو پھر تمہیں سزا کا جرمانہ بھی بھرنا پڑے گا۔” حیدر نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے شریر انداز میں کہا۔
” اوہ اوکے تو پھر جرمانہ کیا بھرنا پڑے گا مجھے۔۔۔” وہ اسکی گردن کے گرد بازو باندھ کر مستفسر ہوئ۔
” امم غلطی بڑی کی ہے تو سزا تو بڑی ملے گی ہی ناں۔۔۔!!” وہ اسکی ناک پہ چمکتے موٹی کو اپنے لبوں سے ہلکا سا چھیڑ کر گویا ہوا۔
” تو تمہاری سزا یہ ہے کہ جب تک میں واپس اسلام آباد چلا نہیں جاتا۔ تب تک تم مجھے ہر رات کسی دلہن کی طرح سجی ہوئ یہاں میری سیج سجائے ملو۔” حیدر کی بات پہ اسکے رخسار دہک اٹھے۔ حیا کے مارے اسکے لب کچھ کہنے کی چاہ میں پھڑپھڑائے۔ اور پھر اس نے اپنے لبوں کو دانتوں تلے کچلا۔
” دیکھیں حیدر صاحب۔۔۔!!
اب آپ پہ ایسی حرکتیں ، اور فرمائشیں کچھ بچتی نہیں۔۔ دو جوان جہاں بچوں کے باپ ہیں آپ تو تھوڑا ویسا ہی بڑتاؤ کیجیئے ناں۔۔ جیسے جوان بچوں کے باپ کرتے ہیں۔۔” وہ بہت ٹہر ٹہر کر کہہ رہی تھی۔
” یارر۔۔۔ تو کیا ہوا اگر میں دو جوان بچوں کا باپ ہوں۔ مگر دل سے تو میں آج بھی بچہ ہی ہوں ناں۔۔۔!!” حیدر نے بد مزہ ہوتے جواز پیش کیا۔
” اوہ تو آپ کہنا چاہتے ہیں۔ کہ آپ دل سے بچے ہیں۔ پھر تو یہ بڑی ہی فکر کی بات ہے۔ کیونکہ بچے ایسی ضدیں نہیں کیا کرتے۔۔” ساوری نے اسکی آنکھوں میں جھانکا۔
” اچھا تو پھر ایسی ضدیں کون کرتے ہیں۔۔؟” وہ اسے مزید خود سے قریب کر گیا۔ حیدر کی شوخ نظریں اپنی لاڈلی بیوی کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔
” جوان۔۔” وہ نگاہیں چرا کر گویا ہوئ۔
” بس پھر کیا ٹینشن ہے میں بھی تو جوان ہی ہوں۔۔” حیدر نے شوخی سے کہا۔
” ابھی تھوڑی دیر پہلے تو آپ کہہ رہے تھے ، کہ آپ بچے ہیں۔ اب اتنی جلدی جوان ہوگئے۔۔۔” ساوری اسکی بہکی نظروں کا پیغام سمجھتی اس کی گرفت سے نکلنے کے جتن کر رہی تھی۔ مگر حیدر نے اپنی گرفت اسکے گرد کافی مضبوط رکھی تھی۔
” یقین مانو میں جوان ہوں۔ کہو تو اپنی جوانی کا جنون دکھاؤں۔۔” حیدر نے شرارت سے اسکے سراپے کو تکا۔ حیا کے مارے ساوری کا چہرہ لال بھبھوکا ہوگیا۔
” حیدر اوکے ۔۔۔ اب مذاق ختم ، مجھے کام کرنا ہے۔ پیچھے ہٹیں۔۔۔” ساوری دہکتے چہرے سمیت دھیمی شرمیلی مسکان لیئے گویا ہوئ۔
” میں بھی تو یہی کہہ رہا ہوں جان من کے اب مذاق ختم اب زرا۔سیریس ہو جاتے ہیں۔” حیدر نے کہتے ساتھ ہی اسے مزید قریب کیا۔ اسکے گلابی شرمیلی مسکان سے سجے لبوں کو مخمور نگاہوں سے تکتے وہ دھیرے سے اسکی ٹھوڑی پہ اپنے لب دھر گیا۔
” حیدر۔۔۔ پلیز۔۔۔” ساوری نے اسے روکنا چاہا۔ مگر نا ممکن۔
” شش۔۔” وہ آج بھی اس معاملے میں بڑا ہی کوڈ غرض تھا۔ حیدر نے اسکے ہلکے نم بالوں کو تولیہ کی گرفت سے آزاد کیا۔ اپنا ہاتھ اسکی گردن سے لے جاتا اسکی کنپٹی سے ذرا اوپر اپنا ہاتھ اسکے بالوں میں الجھا کر اسکا سر ہلکا سا جھٹکا دے کر اوپر کیا۔ ساوری کی پلکیں ہمیشہ کی طرح آج بھی حیا کے بوجھ تلے جھک آئیں۔ حیدر کی سانسیں اسے اپنے چہرے پہ پڑتی محسوس ہوئیں تو اسے اپنا آپ جھلستا محسوس ہوا۔ حیدر نے اسکی سانسوں کو اپنی سانسوں میں قید کر لیا۔ کئ ماہ بعد ایک دوسرے کے اس قدر قریب آ کر وہ دونوں بے قابو ہونے لگے تھے۔ حیدر کے لمس میں ایک جنوں تھا۔ جو سمٹنے کو تیار نہ تھا۔ حیدر کے ہاتھ اسکے جسم پہ بڑے ہی بے باک انداز میں گردش کر رہے تھے۔ حیدر نے اس کی سانسوں کو آزاد کیا۔
” ساوری۔۔۔۔ اگر تم نا آتی میری زندگی میں میرا کیا ہوتا۔۔۔” حیدر اسکے بھیگے لبوں کو دیکھتا بے خودی سے گویا ہوا۔
” اور میں سوچتی ہوں اگر آپ نا آتے تو میرا کیا ہوتا۔۔” ساوری نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔ اور اسکے گرد اپنے بازو باندھ گئ۔
” تو اسکا مطلب یہ ہوا۔ کہ ہم دونوں بہت لکی ہیں ، تمہیں میں اور مجھے تم مل گئیں۔ اور یوں ہماری زندگی بن گئ۔۔۔” حیدر نے اس کے رخسار پہ لب دھرے۔ ساوری طمانیت سے اسکی بانہوں میں آنکھیں موند گئ۔
☆☆☆☆☆
شعلہ ابھی تک بستر سے نہیں نکلی تھی۔ عالم آفس جانے کے لیئے تیار ہورہا تھا۔ ساتھ ساتھ وہ منان کو بھی تیار کر رہا تھا۔ اسے بھی اسکول جانا تھا۔ باقی چاروں تو اپنی تیاری خود کر لیا کرتے تھے۔ بس منان کو تھوڑا تیار کروانا پڑتا تھا۔ شعلہ کی آنکھیں اس وقت ویران۔سی تھیں۔ عالم اپنی ٹائ کی ناٹ باندھتا اسکا بھی۔آئینے سے جائزہ لے رہا تھا۔ منان اپنی ٹی شرٹ پہن کر بٹن بند کر رہا تھا۔ عالم نے نیچے بیٹھ کر۔اسکے ہاتھ ہٹائے۔ اور خود اسکی شرٹ کے بٹن بند کرنے لگا۔ کالر کھڑے کرکے اسے ٹائ باندھ کر۔دی اور پھر اس کے بال بنائے۔
” چلو اب نیچے جاؤ ناشتہ کرو۔۔۔” عالم نے اسکے گال چھو کر کہا۔
” ڈیڈ مما کو کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟” منان اپنی ماں کو اتنا اداس دیکھ اپنے باپ سے مستفسر ہوا۔
” کچھ نہیں ہوا ، بس سر میں۔درد ہورہا ہے تم۔جاؤ نیچے میں آتا ہوں۔” عالم نے اسے پچکارا۔
وہ سمجھتا نیچے چلا گیا۔ عالم شعلہ کے پاس آیا۔ اسکا ہاتھ تھاما۔
” ایسا کیوں کر رہی ہو۔۔۔؟” عالم کے لہجہ میں باقاعدہ بے بسی کا عنصر نمایاں تھا۔
” پلیز۔۔۔ عالم۔۔۔” وہ عالم کی گرفت سے اپنا ہاتھ آزاد کرانے کے جتن کرنے لگی۔
” مجھے دکھ ہورہا ہے تمہارے ایسے رویے سے۔۔۔” عالم نے اسکی آنکھوں میں جھانکا۔
” تو ٹھیک ہے ناں۔۔۔ نہیں کرا رہی ایبارٹ اب جان چھوڑو میری۔۔۔” وہ خفگی سے کہتی ، اپنی آنکھوں پہ بازو دھر گئ۔
” شعلہ ۔۔۔!! ٹھیک ہے میں اس بات کے لیئے تمہارا شکر گزار ہوں کہ تم کم از کم ایبارشن کی ضد تو چھوڑ کر پیچھے ہٹیں۔ مگر میں تمہیں ایسے بھی نہیں دیکھ سکتا یاررر۔۔۔!!” عالم کا لہجہ بے بسی بھرا تھا۔
” پلیز۔۔۔ جاؤ دیر ہورہی ہے تمہیں آفس جاؤ۔۔۔” شعلہ نے خفگی سے کہا۔
” جا رہا ہوں پر پلیز اپنا موڈ درست کرو۔۔” عالم نے اسکے ماتھے پہ بوسہ دیا اور کمرے سے اپنا ضروری سامان لیتا نکل گیا۔ شعلہ زرد چہرہ لیئے آنکھیں موند گئ۔
☆☆☆☆☆
” بھابھی ابھی تک نیچے نہیں آئیں بھائ خیریت تو ہے ناں۔۔۔؟؟” نازنین نے فکر مندی سے پوچھا۔
” ہمم خیریت ہے۔تم ذرا فارغ ہو کر اس کے پاس چلی جانا پھر وہ اپنا مسئلہ خود ہی تمہیں بتا دے گی۔” عالم کا انداز کافی بجھا ، بجھا تھا۔ نازنین کو اندازہ ہوگیا تھا کہ ان کے بیچ کسی بات کو لے کر لڑائی ہوئ ہے۔
” ٹھیک ہے آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔” نازنین نے اپنے بھائ کے بازو پہ ہاتھ دھر کر کہا تو وہ دھیرے سے سر ہلاتا بغیر کچھ کھائے لیئے گھر سے نکل گیا۔ کافی سالوں سے نازنین نوٹ کرتی آرہی تھی کہ جب بھی عالم اور شعلہ کے بیچ کسی بات کو لے کر ناراضگی ہوجاتی تو ایسا ہی ہوتا۔ وہ ناشتہ بھی نا کر کے جاتا جس وجہ سے نازنین کے دل بہت دکھتا مگر خیر شعلہ کی ناراضگی کی وجہ جاننا اس وقت بہت ضروری تھا۔ وہ بچوں کو اسکول کالج بھیج کر نو بجے تک اوپر شعلہ کے کمرے میں آئ تو شعلہ جاگی ہوئ تھی۔ مگر اس کا چہرہ بے حد بجھا ، بجھا سا تھا۔ نازنین چلتی ہوئ اس کے پاس آئ۔
” گڈ مارننگ بھابھی آپ نیچے نہیں آئیں۔۔۔؟” نازنین نے خود کو بلکل انجان ظاہر کیا جیسے اسے ان دونوں کی ناراضگی کے حوالے سے کوئ علم ہی نہیں۔
” گڈ مارننگ۔۔۔۔ بس طبیعت کافی بوجھل ہو رہی تھی اسی لیئے نیچے نہیں آئ۔” شعلہ کہنیوں پہ زور ڈال کر اٹھ بیٹھی۔
” خیریت۔۔۔؟؟” نازنین نے آگے ہو کر شعلا کا ماتھا چیک کیا تو جسم کا ردجہ حرارت اسے نارمل ہی محسوس ہوا۔
” خیریت ہی تو نہیں ہے۔۔۔” شعلا نے بیزاری سے کہا تو نازنین چونکی۔
” کیوں کیا ہوا خیریت ہے بھابھی۔؟” وہ حقیقتا پریشان ہوگئ تھی شعلہ نے بجھے ہوئے انداز میں اسے مکمل رواداد سنائ۔ شعلہ کو لگا تھا کہ نازنین اسے سمجھے گی مگر اس کے تو یہ خبر سن کر اپنے پیر زمین پہ نہیں پڑھ رہے تھے۔ شعلا کو نازنین پہ بھی جی بھر کر تاؤ آیا۔
” بھابھی کیوں اداس ہوتی ہیں ماشااللہ سے یہ تو بڑی خوشخبری ہے۔” نازنین اسے نا خوش دیکھ کر دکھی ہوگئ۔
” یار۔۔۔ بچے بڑے ہوگئے ہیں۔ ذرا تو سمجھنے کی کوشش کرو تم دونوں بہن بھائ۔۔” شعلہ اچھا خاصہ چڑ چکی تھی۔
” ٹھیک ہے آپکی مرضی ہے میں کچھ نہیں کہوں گی مگر بھابھی یہ یاد رکھنا دنیا میں ایسے بہت سے لوگ ہوں گے جو اولاد کو ترستے ہوں گے۔ آپ کو تو اللہ پاک نے تحفہ دیا ہے کھلے دل سے آنے والے نئے ننھے مہمان کا استقبال کریں۔” نازنین کی بات پہ شعلہ نے اسے ایک نظر دیکھا اور لاجواب ہوگئ سچ ہی تو کہہ رہی تھی وہ مگر یہ دل اور سماج تھا کہ اسے کچھ ماننے ہی نا دے رہا تھا۔ اسے ڈر تھا کہیں اس کے بیٹوں کا لوگ مذاق نا بنائیں بس یہی ڈر اسے سکون کی سانس نہیں لینے دے رہا تھا۔
” چلیں اب اٹھیں ناشتہ کریں اور جیسے روز دن کی شروعات کرتی ہیں بلکل ویسے پی کریں۔۔۔” نازنین نے اسے اٹھنے کو کہا تو وہ کسلمندی سے اٹھی۔ پیروں میں چپل اڑسا کر واشروم میں گھسی برش کرکے نیچے آئ تو گھر پورا خالی پڑا تھا۔ وہ لاؤنج میں صوفہ پہ آکر بیٹھی۔ ملازمہ نے اسے اس کی مارننگ کافی لا کر دی۔ وہ اپنی گرما گرم کافی سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ ہاں نیچے آکر روز مرہ کے مطابق نا سہی مگر دن کی شروعات کرکے وہ اچھا محسوس کر رہی تھی۔
” اب کیسا محسوس کر رہی ہیں آپ۔۔۔” نازنین نے مسکرا کر پوچھا۔
” بہت اچھا۔۔۔” شعلہ نے نرمی سے اسے ٹکا اور پھر اپنا رخ ٹیبل پہ پڑے سینٹر پیس پہ مبذول کر دیا۔
☆☆☆☆☆
نو ماہ بعد۔۔۔
ان کے گھر میں ہلچل سی مچی تھی۔ ابھی ابھی عالم اور نازنین شعلہ کو ہاسپٹل لے کر گئے تھے۔ بچے لاؤنج میں بیٹھے منتظر تھے کہ ابھی ہاسپٹل سے فون آئے اور انہیں چھوٹی سی پڑی کے اس دنیا میں آمد کی خوشخبری مل جائے۔ مگر اس وقت دعا کے سوا۔کچھ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کوئ اندازہ نہیں تھا۔ کہ کیا ہونا تھا۔ مگر طویل انتظار کے بعد جو خبر انہیں ملی وہ ان سب کو خوشی سے گھومنے پہ مجبور کر گئ تھی۔ ان کے ہاں واقعی ایک ننھی سی پڑی نے جنم لے لیا تھا۔ عالم کو جاب ڈاکٹر نے بتایا تو وہ ہاسپٹل میں بنا لحاظ کیئے خوشی سے خوب ہلا مچا گیا۔ ذرا سی دیر میں مٹھائیوں کے ٹوکرے بنٹوا دیئے گئے۔ ہر کوئ بے حد خوش تھا۔ شعلہ کا ڈر و خوف سب ہوا ہوچکا تھا۔ سب کے چہرے پی دمکتی سچی خوشی اسے مزید آسودہ کر گئ تھی۔ پانچ بیٹوں کے بعد اللہ پاک نے اسے بیٹی جیسی رحمت سے نوازا تھا وہ بہت خوش تھی مگر عالم کی خوشی کا تو کوئ ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔ وہ تو اپنی بچی کسی اور کو لینے بھی نہیں دے رہا تھا۔ ایسا بی ہیو تو آدمی پہلا بچہ ہونے پہ کرتے ہیں۔ مگر یہاں تو سین ہی الٹ تھا۔ وہ گھر آچکی تھی۔ اور اسکی بیٹی دو ماہ کی ہو چکی تھی۔ عالم نے آج اپنے گھر میں بیٹی کے ہونے کی خوشی میں ایک بہت بڑی دعوت رکھی تھی۔ شعلہ نے دو ماہ کی ایزل کو تیار کیا ابھی وہ اسے تیار کرکے فارغ ہوئ تھی کے عارض اندر آیا۔ ایزل کو تیار دیکھ کر اس پہ جھکا اور بے تحاشہ پیار کرنے لگا شعلہ نے عارض کو ڈپٹا۔
” عارض بس کرو ریشسز ہوجائیں گے ایزل کو۔۔” شعلہ کی بات سن کر عارض اس سے دور ہوا۔ اور اپنی ماں کی جانب متوجہ ہوا۔
” مما یہ اتنی سینسیٹو کیوں ہے۔۔؟؟” عارض نے ہنس کر اپنی چھوٹی سی بہن کو محبت بھری نگاہوں سے دیکھ کر پوچھا۔
” کیوں کہ یہ بہت چھوٹی ہے ابھی ، تم بھی جب چھوٹے تھے اتنے ہی نازک تھے۔” شعلہ اپنے بیٹھے کو دیکھ مسکرائ اور ساتھ ہی اپنے بالوں میں کنگھا پھیرنے لگی۔
” نہیں مما یہ زیادہ نازک ہے آپ دیکھیں تو سہی کتنی کیوٹ ہے یہ۔۔۔” عارض کا لہجہ محبت سے لبریز تھا۔
” تمہیں سچ میں اپنی بہن اتنی پیاری لگتی ہے۔۔۔؟؟” شعلہ نے مڑ کر اسے دیکھا۔
” مما میری بہن ہے افکارس مجھے بہت ، بہت زیادہ پیاری لگتی ہے۔۔۔” عارض نے اپنی ماں کو حیرت سے ٹکا تو اسے حیرت زدہ دیکھ شعلہ مسکرائ اور سر کو نفی میں ہلایا۔
” ارے میرے کہنے کا مطلب ہے جب آپ کو پتا چلا کہ آپ لوگوں کا چھوٹا سا بھائ یا بہن آنے والی ہے۔ تو آپ کو اور آپ کے باقی بھائیوں کو کیسا محسوس ہوا۔۔۔؟” شعلہ ان دونوں کے پاس بیڈ پہ آکر بیٹھی۔
” مجھے بہت اچھا محسوس ہوا اور ہم سب یہی دعا کر رہے تھے۔ کہ اللہ پاک ہمیں چھوٹی سی بہن دے دیں مگر جب ہماری ایزل آئ تو ہم سب خوشی کے باعث اتنی زور سے چلائے کہ کوئ حد ہی نہیں رہی مما۔۔۔” عارض خوشی ، خوشی بتا رہا تھا۔ اور شعلہ اپنے لاڈلی سپوت کو محبت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
” میرا چاند ۔۔۔۔۔” شعلہ نے اس کے سر پہ ہاتھ پھیر کر اس کے ماتھے پہ بوسہ دیا تو عارض مسکرایا۔
” مما میں ایزل کو لے جاؤں نیچے۔۔۔” عارض نے ایزل کو گود میں بھر لیا۔
” ہاں لے جاؤ…” شعلہ نے سر ہلا کر پیار سے کہا تو وہ اپنی بہن کو لے کر چلا گیا۔ شعلہ اپنی تیاری مکمل کرنے دوبارہ آئینہ کے سامنے کھڑی ہوگئ۔ میر عالم نے دھیرے سے دروازہ وا کیا اور بنا قدموں کی چاپ پیدا کیئے اسکی پشت پہ آ کر کھڑا ہوا۔ شعلہ اسکا عکس آئینے میں دیکھ مسکرائ۔
” اچھے لگ رہے ہو۔۔۔” شعلا کی آنکھوں میں محبت ہی محبت تھی۔ عالم آئینہ میں دکھتا اسکا دلکش سراپا دیکھ مسکرایا۔
” اور تم بہت ، بہت اچھی لگ رہی ہو۔۔۔” عالم نے اسکے نازک کندھے پہ اپنی ٹھوڑی ٹکائ۔ عالم نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اس کو ایک جھٹکے سے اپنی جانب موڑا۔ کئ لمحے وارفتگی سے اسے تکتا رہا۔ اپنی شہادت کی انگلی اس کے چہرے پہ پھیری تو وہ آنکھیں موند گئ۔ عالم نے جھک کر اسکے ماتھے پہ بوسہ دیا۔
” قرار من ۔۔۔ شکریہ مجھے اتنے پیارے پیارے بچے دینے کا۔۔۔” عالم کے لہجے میں واضح شرارت کا عنصر نمایاں تھا۔
شعلہ نے جھکی پلکوں کی باڑ کو اٹھا کر اسے گھورا اور مکا بنا کر اس کے سینے پہ رسید کیا۔ عالم اس کے غصہ ہو جانے پہ بلند قہقہ لگا گیا۔ شعلہ خفگی سے اس کی جانب سے اپنا رخ موڑ گئ۔ عالم نے اس کے کندھے پہ اپنے ہونٹ دھڑے اور اسکے گرد اپنے مضبوط بازؤں کا حصار باندھ گیا۔ شعلہ بھی آسودگی سے مسکرا دی۔
☆☆☆☆☆
پچھلے آدھے گھنٹے سے نازنین آج کی دعوت کے لیئے تیار ہورہی تھی۔ مصطفی دو گھنٹے پہلے ہی تیار ہو کر باہر کے سارے کام نبٹا کر واپس کمرے میں آیا تو محترمہ صاحبہ اب بھی زور و شور سے میک اپ کر رہی تھیں۔ مصطفی چڑ گیا تھا۔ مگر اپنی بیزاریت اس پہ ظاہر کرنا بالکل فضول ہی تھا۔ اس نے کونسا سیریس ہو کر جلدی تیار ہو جانا تھا۔ اتنے سالوں میں وہ بہت بدل گئ تھی۔ مگر میک اپ سے اسکا آبسیشن آج بھی اپنی ہی جگہ تھا۔
” بہت اچھی لگ رہی ہو بس کرو۔۔” مصطفی کی بات پہ بنا کوئ توجہ دیئے وہ اپنا آئ میک اپ مزید سیٹ کر رہی تھی۔
” نازی پلیز یار۔۔ دیر ہو رہی ہے کتنی بڑی بات ہے لوگ کیا سوچیں گے کہ گھر کے افراد ہی تیار نہیں ہو کر دے رہے۔۔۔” مصطفی نے اسے کسی طرح شرم دلانا چاہی مگر نازنین اس کہاوت : “جس نے کی شرم اس کے پھوٹے کرم ” والے مقولے پہ پورا دل و جان سے یقین رکھتی تھی۔ اسی لئے بس اسے دور سے ہی گھورنے پہ اکتفا کیا۔
” اتنی پیاری سی تو ہو۔ آخر اتنا میک اپ کرنے کی ضرورت کیا ہے۔” مصطفی نے جل کر کہا۔ اور اپنی پاکٹ سے سگریٹ نکال کر سلگائ۔
” وہی آدمی ہو ناں تم جو مجھ سے کچھ سال پہلے کہہ رہا تھا۔ کہ میں بڈھی ہوگئ ہوں ۔۔” نازنین نے سرخ رنگ کی میٹ گلوس اٹھا کر لبوں پہ لگائ۔ اور ساتھ ہی ناک بھوں چڑا کر اسے اس کے جملے یاد کروائے جب بیچ میں کچھ عرصہ اس کی اور مصطفی کی لڑائی ہوئ تھی۔ اور وہ اس کی ناراضگی کا روگ لگا کر سجنا سنورنا بھول گئ۔ مصطفی نے سیگریٹ کا کش لگا کر دھواں ہوا سے خارج کیئے اور کمینے پن سے ہنسا۔
” ہاں کہا تھا۔ پر تب تو بات اور تھی۔ تب ہماری نئ نئ دوستی ہوئ تھی اور اس وقت میں تمہیں سر جھاڑ منہ پھاڑ دیکھنے کے موڈ میں نہیں ہوتا تھا۔” مصطفی کے چہرے پہ چھائ کمینگی دیکھ وہ گلوس پٹخ کر اٹھی اور اس کے پاس آئ۔
” ہزار بار کہا ہے۔ روم میں سیگریٹ نا سلگایا کرو۔۔” وہ۔اسکے ہاتھ سے سیگریٹ اچکنے کو جھکی مگر اس نے بھی کوئ کچی گولیاں نہیں کھیلی تھیں۔ اسکی کلائ تھام کر مصطفی نے اسے اپنی گود میں گرایا۔ نازنین نے اسے افسوس بھری نگاہوں سے تکا۔ مصطفی نے اسے دیکھ کر ایک آنکھ دبائ۔ اور سگریٹ دوبارہ لبوں میں دبا کر کش لیا۔ دھوئیں کا مرغولہ بنا کر نازنین کے چہرے پہ چھوڑا تھا۔ وہ اس کے کندھے پہ تھپڑ مارتی اتھی۔ دھوئیں کے باعث اسے کھانسی شروع ہوگئ تھی۔ مصطفی سیگریٹ ایش ٹرے میں مسل کر اٹھا۔
” اچھی لگ رہی ہو میری زہرہ جبیں۔۔” مصطفی نے دھیرے سے جھک کر اسکے رخسار پہ بوسہ دیا۔
” بکواس نا کرو۔۔۔” وہ خفا ہوگئ تھی۔ مصطفی دلکشی سے مسکرایا۔ اپنی مضبوط ہتھیلی اس کی جانب پھیلائ۔ تو نازنین نے نفی میں سر ہلاتے خفگی سے اسکی ہتھیلی پہ اپنا نازک ہاتھ دھر دیا۔ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ محبت سے مسکرائے اور ایک ساتھ قدم اٹھاتے شام کی دعوت کا حصہ بننے چلے گئے۔ ان کے کمرے کی کھڑکی سے دکھتا چاند بھی ان کی اس بے لوث محبت کو دیکھ مسکرایا تھا۔ باہر دعوت عروج پہ تھی۔ چہار سو پھیلی کھلکھلاہٹیں۔ کھانے کی خوشبو ، بھاگتے دوڑتے بچے اور دسمبر کی خنک شام ، سب بے حد حسین تھا۔ اور جو چیز آج کی محفل کو حسین بنا رہی تھی۔ وہ ان کی لازوال محبتیں تھیں۔
☆☆☆☆☆
ختم شد ![]()
