Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 05)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

رات کا ایک بج رہا تھا۔ میر عالم خان کا سوچ سوچ کر برا حال تھا۔ وہ یہ سوچ کر تھک چکے تھے۔ کہ کیا انکو گورا قبرستان جانا چاہیئے۔ کیا پتہ اس لڑکی کی کوئ سازش ہو۔ یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے۔ کہ اس سے ہاتھ ملا لینا فائدہ مند ثابت ہو۔

وہ اپنی الماری سے بلیک ہوڈی نکال کر اسے کچھ لمحے تکتے رہے۔ اور پھر ایک نتیجے پہ پہنچ کر انہوں نے وہ ہوڈی پہنی۔ اور اپنی گاڑی لیکر تنہا روانہ ہوگئے۔

وہ جب قبرستان پہنچے وہاں سیاہ اندھیرا تھأ۔ وہ عیسائیوں کا قبرستان تھا۔ اکا دکا دور دور جلتی روشنیاں وہاں ہلکا ہلکا اجالا دے رہی تھیں۔ وہ قدم ، قدم چلتے۔ قبرستان کے بیچ و بیچ آکر کھڑے ہوئے تھے۔ یکدم کسی نے انکی آنکھوں پہ ٹارچ ماری تھی. ٹارچ کی روشنی سے انکی آنکھیں چندھیا گئ تھیں۔ انہوں نے اپنی آنکھوں پہ ہاتھ دھرا تھا۔

” امید نہیں تھی کہ تم ، آؤ گے۔”

وہ ٹارچ بند کرتی اسکے قریب آئ تھی۔ اسکے مقابل کھڑے ہوکر وہ لب دبا کر مسکائ تھی۔

” مطلب کھینچ لایا ہے۔ نہیں تو تمنا نہیں تھی تم سے دوبارہ ملنے کی۔” میر عالم نے سنجیدگی سے کہا۔

” سوچ لو آج کا سودا ، اس دن کے سودے سے کئ ذیادہ مہنگا ہے۔” وہ اسکے مزید قریب آئ تھی۔

” بے فکر رہو۔ کرسی کی خاطر کچھ بھی دینے کو تیار ہوں۔”

“جان بھی۔” وہ پر اسرار سا مسکرائ تھی۔

اندھیرا ہونے کی وجہ سے وہ ٹھیک سے اسکا چہرہ دیکھ نہیں پائ تھی۔

” اتنا بھی بے وقوف نہیں ، جان نہیں رہے گی تو کرسی کا کیا کرونگا۔” وہ آنکھیں گھما کر رہ گیا تھا۔

” آہ ۔۔۔ پھر تو سمجھو کہ تم گئے۔”

” اچھا ۔۔۔۔ ایسی بات ہے۔ تمہیں کیا لگتا ہے ۔میں اتنی دور تمہارے بلانے پہ بغیر کسی احتیاطی تدابیر کے آیا ہوں۔” وہ ہنسا تھا۔

” امپرسو۔۔۔ پر مجھے نہیں لگتا کوئ احتیاطی تدابیر آج کام آنے والی ہے۔”

” مالک شاہ میرا قتل الیکشن کے دنوں میں۔۔۔؟؟” وہ اصل مدعے پہ آئے تھے۔

” مجھے بھی بے وقوفی ہی لگی تھی۔ پر کیا ، کیا جائے حقیقت تو یہی ہے۔” شعلہ نے اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے کہا۔

” میں آنا نہیں چاہتا تھا۔ پر اس وقت ہر شخص کی زبان پر وہ ہے۔ اسکی ناگہانی موت ہے۔ ایسے میں میرا اس سال الیکشن جیت پانا نا ممکن ہے۔ “میر عالم نے پریشانی سے کہا۔

” توایسا کچھ کرجاؤ۔ کہ اس سال کے الیکشن تم ہی جیتو۔” وہ مسکائ تھی۔

” مطلب۔۔؟؟” نا سمجھی سے پوچھا گیا۔

” مطلب یہ کہ کچھ ایسا جو سب کی توجہ تمہاری جانب مبزول کرادے۔” اسکا لہجہ اب بھی سمجھ سے باہر تھا۔

” ایسا کیا کروں۔” انہوں نے پوچھنا بہتر سمجھا۔

” مجھ سے شادی کر لو۔ ” اسنے لاپرواہی سے کہا۔

” دماغ خراب ہوگیا ہے۔” وہ بگڑے تیوروں سمیت گویا ہوئے۔

“اس سے پہلے کہ تم میری بات کا کوئ اور مطلب نکالو۔ میں بتا دوں مجھے طاقت، شہرت ، پیسہ چاہیئے۔ اور تمہیں حکومت۔” وہ ہاتھ اٹھا کر گویا ہوئ۔

” پھر یہ سودا تو میرے لیئے گاٹھے کا ہی ہوا ناں۔” میر عالم نے تیوری چڑھا کر کہا۔

۔وہ کیسے۔۔۔” وہ کنفیوز ہوئ تھی۔

” تم سے شادی کرکے میرے کوئ پر تو نہیں لگ جائیں گے۔ کہ مجھے کوئ حکومت پلیٹ میں سجا کر میرے سامنے رکھ دے گا۔” اسنے حقیقت کہی۔

” پر اگر میرے پاس ایسے راز ہوں ثبوتوں سمیت جن سے سب بدنام ہوجائیں تو۔” وہ اسکے برابر سے نکل کر گاڑیوں کی سمت گئ تھی۔ وہ بھی اسکے پیچھے ہو لیا تھا۔

” تو تم وہ راز اور وہ تمام ثبوت بیچ دو مجھ پہ۔” انہوں نے گھور کر اسے دیکھا تھا۔ کیونکہ وہ انکی گاڑی کے بونٹ پہ چڑھ کر بیٹھی تھی۔

” نا۔۔۔مجھے صرف پیسہ نہیں چاہیئے۔” وہ سر کو نفی میں ہلا گئ تھی۔

” تم سے شادی نہیں کرسکتا میں۔” انہوں نے نگاہ چرا کر کہا۔

“کیوں۔۔۔۔؟؟.”

” بتا نہیں سکتا۔۔۔”

“ٹھیک ہے۔ کل دوپہر تک کا وقت ہے تمہارے پاس۔”وہ سنجیدگی سے کہتی اسکی گاڑی سے اتری تھی۔

وہ اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔

” یاد سے کل تک اپنے کو جواب دے دینا اسی نمبر پہ۔ جس سے میں میسج کی تھی۔” اسنے دھیرے سے سر ہلایا تھا۔

” اب اگر تو جواب نا دیگا تو پھر دوسری پارٹی کے بندے سے رابطہ کرنے کا ہے ناں۔” وہ بنداس لہجہ میں کہتی۔ اپنی ہیوی بائک پہ بیٹھی تھی۔

” تم اسپہ جاؤ گی کیسے۔ ؟؟” میر عالم کے منہ سے سوال ناچاہتے ہوئے بھی پھسلا تھا۔

” جیسے آئ تھی ۔” وہ ہیلمٹ پہن کر گویا ہوئ۔ اور زن کرکے اسکی آنکھوں سے لمحوں میں اوجھل ہوئ تھی۔

∆∆∆∆

“بھابھی دیر ہوگئ ہے اج۔ بہت رہنے دیں ناشتہ۔” وہ جوتے پہنتے ناشتہ کرنے سے منع کرتی اٹھی تھی۔

” چائے ہی پی لو کم از کم۔” انہوں نے چائے کپ میں انڈیلی۔

” نہیں بھابھی۔” وہ نفی میں سر ہلاتی۔ صوفہ پہ پڑا اپنا بیگ اٹھا کر کندھوں پہ ڈالتی گھر سے نکلی تھی۔

بہت جلدی کرنے کے باوجود بھی وہ آدھا گھنٹہ لیٹ پہنچی تھی۔ وہ ہڑبڑاتی جیسے ہی کیبن کا ڈور کھول کر اندر گھسی تھی۔ حیدر جو سر تھامے بیٹھا تھا۔ کل رات وہ سویا نہیں تھا۔ اور اس وقت اسکا دماغ درد سے پھٹ رہا تھا۔ حیدر نے طیش کے عالم میں سر اٹھا۔ کر اسے گھورا تھا۔

” وقت۔۔۔۔ دیکھا ہے آپ نے۔ ” وہ سرخ آنکھوں سے اسے گھورتا گرجا تھا۔

ساوری کی جان حلق میں آکر پھنسی تھی۔ اسکی سرخ آنکھیں دیکھ۔ ساوری کی زبان سے ایک حرف بھی نکلنے سے انکاری ہوگیا تھا۔

” آپ سے پہلے میں یہاں پہنچا۔ انتظار کر رہا ہوں۔ کہ آپ محترمہ آئیں گی۔تو کام ہوگا۔” وہ اسپہ گرج رہا تھا۔

وہ اٹھ کر اسکے سامنے آکر کھڑا ہوا تھا۔

” اب منہ سے سے کچھ پھوٹیں گی بھی آپ۔” وہ اسکے قریب آکر غرایا تھا۔ ساوری اس سے دور ہونے کے چکر میں دیوار سے چپک کر رہ گئ تھی۔

” سور۔۔۔۔۔۔۔ سوری۔۔۔۔” وہ گھبرائ ہوئ تھی۔

” سوری سے جو میرا نقصان ہوا ہے۔ وہ پورا نہیں ہو جائے گا۔” حیدر اب بھی گرج رہا تھا۔

” مجھے ابھی اسی وقت کافی بنا کر دو۔” وہ اسے گھور کر گویا ہوئے۔

وہ اثبات میں سر ہلاتی گرتی پڑتی کچن میں گھسی تھی۔

حیدر گہرہ سانس لیتا اپنا سر تھام کر رہ گیا تھا۔

∆∆∆∆∆

وہ کافی پھینٹ رہی تھی۔ پر اسکے ہاتھ اسکا ساتھ دینے کی کوشش میں ناکام تھے۔ وہ کافی کا مگ چھوڑ کر پیچھے ہوئ تھی۔ چند گہرے سانس لیکر اسنے کافی کو تیار کیا اور پھر ہمت کرتی۔ اسکو کافی دینے گئ۔ وہ اب بھی ویسے ہی سر تھامے بیٹھا تھا۔ اسنے سوکھے لبوں پہ زبان پھیر کر اسے پکارا۔

” سر۔۔۔ ک۔۔۔۔کافی۔” اسنے دھیرے سے کافی کا مگ اسکے آگے رکھا۔

” دے دی ناں کافی اب پیچھے ہٹیں۔ ” اسکے جھڑکنے پہ وہ خجل سی ہوتی۔ اپنی جگہ پہ جاکر بیٹھی تھی۔ پلینر نکال کر پہلے خود اچھے سے دیکھا۔ اور پھر نا چاہتے ہوئے۔ بھی اسے اسکے سر پہ جاکر کھڑا ہونا پڑا۔

” سر۔۔۔۔ وہ آج کا شیڈول ۔۔۔۔ بتا دوں آپکو۔” اسے سمجھ نہیں آیا بات کا آغاز کیسے کرے۔ اسی لیئے پہلے اجازت لینا اسے بہتر لگا۔

” ہمممم.” حیدر نے کافی پیتے اسے اجازت دی۔

” سر آج دس بجے کنفرینس روم میں آپکی پورے اسٹاف کے ساتھ میٹنگ ہے۔ اور۔۔۔۔۔ ٹھیک بارہ بجے کے قریب آپکو کمپنی کے نئے انویسٹرز سے ملنا ہے۔ پھر دو بجے آپکا لنچ ہے۔ میر عالم خان کے ساتھ انہوں نے آپائنمنٹ لیا تھا۔ اسکے بعد بس چند پلینز ہیں جو ریڈی ہو جائیں گے۔ انکو اچھے سے چیک کرکے سائن آؤٹ کرنا ہے۔ ” اسکی میر عالم خان کے اپائنمنٹ لینے والی بات پہ ماتھا ٹھنکا تھا۔

“ٹھیک ہے یہ کپ أٹھاتی جائیں۔”

جو جھٹ کپ اٹھانے کو جھکی تھی۔ اسکا کاسنی آنچل جو اسنے کندھوں پہ پھیلایا تھا۔ وہ اڑ کر حیدر کے چہرے پہ جاکر پڑا تھا۔ اسکےدوپٹہ سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو حیدر کے حواس پہ چھائ تھی۔ وہ کپ لیکر کب کی جاچکی تھی۔ اور اس بات سے انجان تھی کہ اسکا آنچل کسی کے دل پہ کیا کاروائ کر گزرا تھا۔

وہ کپ کچن میں رکھنے چلی گئ تھی۔ اور حیدر کئ لمحوں تک اپنی جگہ اسٹل اسی پوزیشن میں بیٹھا رہا۔

∆∆∆∆∆

” مصطفی لنچ کا اپائنمنٹ لے لیا حیدر کے ساتھ تم نے۔۔۔؟؟” میر عالم خان نے فائلز الٹتے پلٹتے پوچھا۔

” جی اپائنمنٹ لے تو لیا پر مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی اپنے۔ بھائ کے ساتھ لنچ کرنے کو. کون ایسے کرتا ہے۔” عالم اسکی بات پہ مسکرایا تھا۔

” اگر کو ئ ایسا نہیں کرتا تو بہت غلط کرتا ہے ۔ کرنا چاہیئے ناں ایسا۔ حیدر اب بچہ تو رہا نہیں۔ اسکی اپنی ایک پروفیشنل لائف ہے۔ اور میں نہین چاہتا میرے بھائ کا شیڈول میری وجہ سے خراب ہو۔ اور اسے کوئ نقصان اٹھانا پڑے۔” میرا عالم نے تمام کاغذات مصطفی کی طرف بڑھائے۔

” آپکی لاجکس۔۔۔۔” وہ پیپرز تھام کر ہنسا تھا۔

” ویسے آج ظہر کے بعد مالک شاہ کا جنازہ ہے۔” مصطفی نے اسے یاد دلایا۔

” ہممم میں تب تک خود کو فری کر لوں گا۔” عالم نے سنجیدگی سے کہا۔

” ہممم ۔۔۔۔ وہسے زندگی کا کوئ بھروسہ نہیں۔” مصطفی کی بات پہ میر عالم نے اسے بغور تکا۔

“مصطفی اگر میں کہوں کہ میں شادی کر رہا ہوں۔۔۔۔ تو تم کیسا محسوس کروگے۔۔۔۔؟” مصطفی نے میر عالم کے چہرے پہ ایک کھوجتی سی نظر گھمائ تھی۔

” میں بہت اچھا محسوس کرونگا۔ مجھے خوشی ہوگی۔ کہ آپ اپنی زندگی میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ میں چاہوں گا کہ آپکی زندگی میں ایسی لڑکی آئے جو ، دوسروں کی طرح آپ سے لالچ بھری محبت نا کرے ۔۔۔۔ بلکہ بے غرض محبت کرے۔” اسکی بات پہ میر عالم کو کچھ تسلی ہوئ تھی۔

” تم واحد شخص ہو مصطفی ، جو مجھ سے بے غرض پرخلوص محبت کرتے ہو۔ مجھے نہیں لگتا کہ کوئ تم جتنا پرخلوص ہو سکتا ہے ۔” میر عالم کے لہجہ میں مان تھا۔

مصطفی مسکرایا تھا۔

∆∆∆∆∆

” آپکو میرے ساتھ لنچ کرنے کے لیئے ۔ اپائنمنٹ لینے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ بھیا۔ ” حیدر نے پانی کا گلاس گول گھماتے کہا۔

” میں تمہاری مصروفیت میں خلل نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ اسی لیئے۔” وہ دلکشی سے مسکرائے تھے۔

” آپ شرمندہ کر رہے ہیں مجھے۔”حیدر جھینپا تھا۔

” میں شادی کر رہا ہوں۔” میر عالم نے سنجیدگی سے اسے خبر دی۔

” نو ۔۔۔۔۔۔ پاگل نا بنیں بھیا ، اچھی خاصی زندگی کا دوالیہ نکل جائے گا۔” حیدر نے شدت سے اسے روکنا چاہا۔

” لڑکی اچھی ہے۔۔۔۔” میر عالم نے جانے یہ کس دل سے کہا تھا۔

” ہاں بھیا شادی سے پہلے سب بہت اچھی ہوتی ہیں۔” حیدر نے تنفر سے کہا۔

” تمہارے اور درفشاں کے درمیان ۔۔۔۔۔۔ کوئ پرابلم۔؟؟”

” پرابلم۔۔۔۔ بھی ایک انتہائ چھوٹا لفظ ہے۔” حیدر نے چاول پلیٹ میں نکالتے کہا۔

” ہوا کیا ہے یہ تو بتاؤ۔۔۔؟؟” میر عالم نے کھانا چھوڑ کر حیدر کو تکا۔

حیدر نے سرد سانس خارج کرکے ساری بات بتائ۔ میر عالم کا دماغ چکرا کر رہ گیا تھا۔

” تو۔۔۔ تم کیا چاہتے ہو۔؟” میر عالم نے پوچھا۔

” افکارس انسان ہوں۔ مجھے بھی خواہش ہے کہ میرے بھی بچے ہوں۔” حیدر نے تپ کرکہا۔

” اگر تم کہو تو ۔ میں سمجھا کر دیکھوں۔”

” رہنے دیں بھیا۔ آپ سے بدتمیزی کرے گی ۔”

” کوئ بات نہیں کرلے۔ پر میں ایک بار بات ضرور کرونگا ۔”

میر عالم نے پر سوچ لہجہ میں کہا۔

” جیسی آپکی مرضی۔” وہ ٹھنڈے لہجہ میں گویا ہوا۔

” میں کل نکاح کررہا ہوں۔ اور میں چاہتا ہوں کل تم سب کو گھر لے آؤ میرے۔” وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔

” ہممم اوکے۔” وہ مسکرایا ۔

اور پھر باقی کا کھانا ان دونوں نے خاموشی سے کھایا۔

∆∆∆∆∆

اسکا میسج ملتے ہی وہ موبائل بیڈ پہ پھینک کر دلکشی سے مسکرائ تھی۔ پر اسکی مسکراہٹ بے حد پراسرار سی تھی۔

” رقیہ۔۔۔۔۔ رقیہ.” وہ مسرور سی رقیہ کو پکار رہی تھی۔”

رقیہ ہانپتیی۔ کانپتی اسکے حضور حاضر ہوئ۔

” جی بی بی” رقیہ نے سر جھکا کر کہا۔

” جاؤ شہلا سے کہو آج شام تک میری وہ خاص پوشاک تیارکردے۔” اسنے ایک شان سے کہا۔

عجیب تھی وہ بھی بہت کبھی ، کبھی اسکا لب ولہجہ سڑک چھاپ ہوجاتا۔ اور کبھی کسی ریاست کی شہزادی کی طرح وہ طرز تخاطب رکھتی ۔

پر ایک چیز ہمیشہ اسکی شخصیت کا خاصہ رہی۔بات وہ جیسے بھی کرتی پر انداز واطوارسے وہ کسی ریاست کی شہزادی ہی لگتی تھی ۔

شہلا ایک گھنٹے بعد ہی اسکی پوشاک لے آئ تھی۔

” کیسا لگا آپکو۔۔۔؟؟” شہلا نے اشتیاق سے پوچھا۔

” شاندار۔۔۔۔۔۔۔ بہت خوب.” وہ لباس پہ اپنا ہاتھ پھیرتی دلکشی سے مسکرای تھی۔

“آپ کسی تقریب میں جارہی ہیں۔؟؟”

” نہی۔۔۔۔۔۔ شادی کررہی ہوں آج میں۔”

شہلا چونکی تھی۔

” کس سے۔۔۔؟؟؟؟”

” میر عالم خان سے۔۔” اسنے سرد لہجہ میں کہا۔

” ماشاللہ ہمیشہ خوش رہیں پر ایک بات کہوں۔ اپنی شادی کے دن ، سیاہ لباس۔۔۔ پہننا کچھ ٹھیک نہیں۔” شہلا نے کچھ جھجھک کر کہا۔

” کیوں شادی کے دن لوگ سیاہ لباس نہیں پہنتے۔؟؟” شعلہ نے مسکرا کر پوچھا۔

” اچھا شگون نہیں مانا جاتا ۔۔۔ اس لیئے لوگ ۔۔۔ مطلب دلہن نہیں پہنتی۔”

” شہلا اب یہ باتیں پرانی ہیں۔ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔” وہ لباس کو ایک بار پھر دیکھنے لگی تھی۔

” جی۔۔۔ آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ میں چلتی ہوں۔” شہلا کب کی جاچکی تھی اور وہ اب بھی پراسراریت سے اس لباس کو دیکھ رہی تھی۔