Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 34)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

” شہلا بس بہت ہوگیا ، میں نے بہت سن لی تمہاری ، اب وہی ہوگا جو میں چاہوں گا۔” اسفند نے بگڑے تیور لیۓ کہا۔

” مجھ سے اتنا فری ہونے کی کوئ ضرورت نہیں ہے تمہیں ، اور رہی بات میری نا سننے کی ، تو تم کان کھول کر سن لو جو میں نے کہا ہے ہوگا تو وہی ، تم مجھے آزادی دو گے۔۔۔” شہلا کا انداز حتمی تھا۔

” ایسا کچھ نہی ہونے والا تم نے مجھے کہا ، کہ میں خاموشی اختیار کروں ، اور میں نے خاموشی اختیار کی ، پر بس اب نہی۔” اسفند کی باتوں سے اسکے ارادے کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا۔

” اسفند پلیز تم ایسا کچھ بھی نہی کرو گے۔”شہلا پریشان ہوئ۔

” میں ایسا ہی کرونگا ، اور تمہیں ڈر آخر ہے کس بات کا ، اتنا کیوں ڈرتی ہو تم شعلہ بھابھی سے۔۔۔” اسفند چڑ کر رہ گیا تھا۔

“میں ڈرتی نہی ہوں ، بس مجھے فکر ہے اسکی ، وہ مجھ سے خفا ہوجاۓ گی۔۔۔” شہلا نے فکرمندی سے لب کچلے۔

” کیوں خفا ہوگی ، کیا تمہارا اپنی زندگی پہ اتنا بھی حق نہی کہ تم اپنے فیصلے خود لے سکو۔۔۔” اسفند سے اسکی بات پہ اپنی ناک سکوڑی تھی۔

” اسفند تم اپنے ہوش میں ہو کہ تم کہہ کیا رہے ، ہم دونوں ایک دوسرے کی فیملی ہیں۔ ہمارے ہر اچھے برے وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ صرف ہم دونوں ہی تھے ، جب ہمارے پاس کوئ نہی تھا ، تب اللہ کے بعد ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ تھے ، تمہارے لیۓ یہ کہنا بہت آسان ہے۔ پر شعلہ کی خوشی سے بڑھ کر کچھ بھی نہی۔ ویسے بھی وہ میری فیملی کا اکلوتا میمبر ہے۔ اور میں نہی چاہتی کہ وہ مجھ سے خفا ہوجاۓ۔”

شہلا نے اسفند کو تکا جو اسے سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا۔

” تو تم بتاؤ میں کیا کروں ، میں تمہیں چھوڑنا نہی چاہتا۔۔۔” اسفند نے اسکا ہاتھ تھاما تھا۔

شہلا نے ایک نظر اپنے ہاتھ پہ دھرے اسکے ہاتھ کو دیکھا اور نگاہیں جھکا گئ۔ لب کچل کر ، سر اٹھایا ، وہ کچھ اضطراب میں گھر گئ تھی۔ شہلا نے گہری سانس لی۔

” میں ایسا نہی چاہتی ، تم نے مجھ سے نکاح کیا اس وقت ، جب مجھے کسی کی مدد کی شدید ضرورت تھی۔ تم نے مجھے اس وقت سہارا دیا ، میں تمہاری عمر بھر احسان مند رہوں گی۔” شہلا نے بہت سوچ سمجھ کر الفاظ کا چناؤ کیا۔

” کیسا نہی چاہتی تم۔۔۔؟؟” اسفند نے سنجیدگی سے اسکے چہرے پہ چھاۓ اضطراب کو تکا۔

” میں۔۔۔۔ تم سے کوئ تعلق نہی رکھنا چاہتی۔۔” شہلا نے اپنا گال کھجا کر بات کا اثر زائل کرنا چاہا۔

” تم کیا چاہتی ہو ، اسکی تو بات ہو ہی نہیں رہی اس وقت ، اور میں تمہیں یہ بتاتا چلوں کہ اب وہ ہوگا ، جو میں چاہتا ہوں۔۔۔” اسفند کے دماغ کی رگیں تن گئ تھیں۔ شہلا نے مزید کچھ کہنا چاہا ، پر اسفند نے ہاتھ اٹھا کر اسے ایسی سرد نظروں سے تکا، کہ وہ کچھ کہنے کی ہمت چاہ کر بھی نا کر پائ۔

٭٭٭٭٭

شام کا وقت تھا۔ عالم اپنا کام جلدی سمیٹ کر گھر آگیا تھا۔ اور جو تھوڑا بہت کام پینڈنگ تھا ، وہ انہوں نے مصطفی کے سپرد کر دیا تھا۔ کام لے تو لیا تھا، مصطفی نے پر اسکی اندر سے حالت نازنین کی ناراضگی کا سوچ کر ہی خراب ہونے لگی تھی۔ عالم شعلہ سے بازپرس کرنے کے پورے ارادے میں تھا۔ وہ جیسے ہی اندر آيا ، شعلہ اسے دیکھ کر مسکرا کر کھڑی ہوئ۔

” لو آگیا بچہ جس کی ٹیک کیئر کے لیۓ ، آپکو ہائیر کیا گیا تھا۔” شعلہ نے ہاتھ عالم کی طرف پھیلا کر آیا کا دیہان عالم کی جانب مبذول کرایا۔

آیا کا تو منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا۔ عالم کا طیش سے رنگ سرخ ہوا تھا۔ اور نازنین لب دبا کر اپنے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھتی اپنی ہنسی چھپانے کی کوشش کرنے لگی تھی۔

” یہ کیا بکواس کر رہی ہو۔۔” عالم نے دانت چبا کر کہا۔

” یہ تو بات ہے ، بکواس وہ تھی جو تم صبح کرکے گۓ تھے۔۔” شعلہ کے ہونٹوں پہ سلگتی مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔

” آپ پلیز کل صبح وقت پہ آجائیے گا۔ ابھی اپ جا سکتی ہیں۔۔۔” میر عالم نے آیا کو جانے کا کہا۔

وہ دھیرے سے سر اثبات میں ہلاتی چلیں گئیں۔ عالم کھا جانے والی نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔

” آج جتنا تماشا کرنا تھا تمہیں ، تم کر چکی ، اب اسکے بعد میں کوئ ڈرامہ برداشت نہی کرونگا۔” عالم کا انداز سنجیدہ تھا۔

شعلہ اسکی بات پہ تمسخر سے مسکرائ تھی۔ اپنے ہاتھ کمر کے پیچھے باندھتی ، قدم قدم چلتی وہ اسکے مقابل آکر کھڑی ہوئ تھی۔ اپنی آنکھیں اسکی آنکھوں میں گاڑھی تھیں۔

” یہ سارا تماشہ تمہارا لگایا ہوا ہے۔۔۔” اسنے سنجیدگی سے کہا۔

نازنین انکی جنگ خطرناک ہوتی دیکھ کر عارض کو لیکر وہاں سے کھسکی تھی۔

” عارض کو تم نہی پالو گی ، یہ بات تو طے ہے۔۔” عالم کا لہجہ تحقیر آمیز تھا۔

” مسٹر میر عالم صاحب یہ تو آپ کو تب سوچنا چاہیۓ تھا۔ جب آپ اپنی مردانہ روح کی تسکین کی خاطر میرے قریب آۓ تھے۔ اب تو کچھ نہی ہوسکتا ، آپکی اولاد کی ماں ، میں ہی ہوں۔ اور بچوں کی تربیت مائیں ہی کیا کرتی ہیں۔” وہ مکمل اعتماد کے ساتھ اپنی بات مکمل کرتی مڑی تھی۔ جب عالم نے اسکا بازو تھام کر اسے واپس اپنی جانب موڑا تھا۔

” اگر تمہیں لگتا ہے ، کہ تم ایسے گھٹیا الفاظ استعمال کرکے مجھے میرا جائز حق لینے پہ بھی شرمندہ کروگی ، تو یہ تمہاری سوچ ہے۔ میں شرمندہ ہونے والا نہی ہوں۔۔۔” عالم نے ایک افسوس بھری نظر اسپہ ڈالی۔

” مجھے پتہ ہے کہ تم شرمندہ ہونے والے تو ہو نہیں ، تم نے جو میرے ساتھ بہت سال پہلے کیا تم اسپہ شرمندہ نہی ہوۓ ، تو تم کسی اور بات پہ شرمندہ ہونے والے انسان ہو ہی نہی۔۔۔” وہ جلتی آنکھوں سے اسے گھورتی اپنا باوز ایک جھٹکے سے اسکی گرفت سے آزاد کرواتی وہاں سے نکل گئ تھی۔

٭٭٭٭٭

مصطفی گھر آیا تو ، نازنین منہ سجاۓ بیٹھی تھی۔ مصطفی نے اسے کسی طریقے سے کمرے میں بلانا چاہا۔ پر وہ ڈھیٹ بن کر ایک جگہ بیٹھی رہی۔ کھانا خاموش فضا میں کھایا گیا۔ پھر عالم نے مصطفی کو کچھ ضروری ڈسکشن کے لیۓ اپنے پاس بٹھا لیا مصطفی دل مسوس کر رہ گیا۔

” مصطفی تمہارا دیہان کہاں ہے ، میں کب سے لگا بولے جا رہا ہوں ، پر تم ہو کہ تمہیں فرست ہی نہی خیالوں سے باہر آنے کی۔” عالم چڑا۔

” وہ عالم بھائ تھک گیا ہوں نیند آرہی ہے اور بہت سولڈ آرہی ہے۔” مصطفی نے سر کھجا کر کہا۔

” پہلے تو تم ایسے نہی تھے اب کافی سست ہوگۓ ہو۔ اور تم جانتے ہو ، مجھے سست لوگ بلکل نہیں پسند۔” عالم نے اسکی سستی پہ چوٹ کی۔

” آپ ٹائم بھی تو دیکھیں ناں۔۔۔!!” مصطفی نے جمائ لیکر کہا۔ عالم افسوس سے سر نفی میں ہلا کر رہ گیا۔

” جاؤ سوجاؤ ، ویسے تمہارے اور نازنین کے بیچ لگتا ہے سب ٹھیک ہوگیا ہے، آجکل لڑتے نہی ہو۔ خیر اچھی بات ہے، عمر بھر کا ساتھ ہے ساری عمر یوں جھگڑتے ، تو گزر نہیں سکتی۔۔۔” عالم کا لہجہ نرم و پرسکون تھا۔

” آپ کی بہن کی اور میری کبھی نہی بن سکتی۔۔۔” مصطفی نے بہ مشکل اپنا لہجہ سنجیدہ بنایا۔

” کوئ بات نہی وہ بیوقوف ہے پر تم تو سمجھدار ہو۔ تم زرا استقامت سے کام لے لیا کرو۔” عالم نے مصطفی کے کندھے پہ ہاتھ دھرا۔

” ساری زندگی میں ہی استقامت سے کام لیتا رہوں گا ، اسے تو کوئ کچھ سمجھاتا ہی نہی۔” مصطفی نے مصنوئ خفگی سے کہا۔ اور وہاں سے چلا گيا ، عالم نے پر سوچ نظروں سے اسکی پشت کو تکا۔ اور سر جھٹکتا وہ بھی زینے چڑھنے لگا۔

عالم کمرے میں آیا تو شعلہ عارض کو اپنے برابر میں لٹاۓ ، اپنا موبائل چلا رہی تھی۔

” شہلا کہاں مصروف تھیں ، تم پورا دن ، میں انتظار کرتی رہی تمہارا پر تم آج بھی مجھ سے ملنے نہیں آئیں۔” شعلا نے وائس نوٹ بھیجا۔

عالم چینج کرکے آیا ، اور بیڈ پہ لیٹتے ہی کروٹ عارض کی جانب لی۔ اور اپنے لب دھیرے سے عارض کے نرم روئ جیسے گالوں پہ دھرے۔

” یہ کیا کر رہے ہو ، پیچھے ہٹو ریشس ہوجائیں گے میرے بچے کہ فیس پہ، اتنا بڑا سر لیکر تم میرے بچے کے سر پہ آن ٹپکے ہو۔۔” شعلہ نے عالم کو گھرکا۔

” میرا بیٹا ، میری مرضی تم کون ہوتی ہو مجھے روکنے ٹوکنے والی۔” عالم نے ناک پہ سے مکھی اڑائی۔

” یہ کیا تم ہر وقت میرا بیٹا ، میرا بیٹا کی گرداب لگائے رکھتے ہو۔ مت بھولو کہ اسکی ماں میں ہوں۔ تو اس حساب سے یہ میرا بیٹا ہوا۔۔۔” شعلہ نے بھنا کر کہا۔

” ہاں تم تو اسے درخت سے لائ ہو ناں ، باپ کا تو کوئ ذکر ہی نہی آتا تمہاری ڈکشنری میں۔۔” عالم نے اسے باقائدہ گھورا۔

” کاش یہ درخت کی ہی پیدا وار ہوتا ، تمہیں تو مجھے نا ٹالریٹ کرنا پڑتا ، اپنے بچے کے باپ کی صورت میں۔۔۔” وہ سر جھٹک کر کہتی ، عالم کو سلگا گئ تھی۔

” اب تم بہت زیادہ اوور ہورہی ہو۔۔۔”

” اور جب تم اوور ہوتے ہو ۔۔۔؟؟ اسکا کیا ، اپنا اوور ہونا تو پھر کسی کو دکھتا ہی نہی۔” وہ تڑخ کر کہتی ، عارض پہ کمبل درست کرتی اٹھی تھی۔ عالم بھی اسکے پیچھے اٹھا تھا۔ اور اسکے راستے کے درمیان خود کو ہائل کر گیا تھا۔

” اب کیا مسئلہ ہے۔۔۔؟؟” شعلہ نے بیزار آکر کہا۔

” مسئلہ ۔۔۔۔ تو بہت چھوٹا لفظ ہے۔ مجھے تم سے مسئلے ہیں ، خیر میں جاننا چاہتا ہوں ، تم نے میرے ساتھ اتنا سب کیوں کیا۔۔۔؟؟” عالم کی آنکھوں سے آگ برس رہی تھی۔

” یہ تم مجھ سے پوچھنے کے بجائے خود سے پوچھو۔۔۔” شعلہ نے سنجیدگی سے کہا۔

” مجھے نہی یاد پڑتا کہ میں نے تمہارے ساتھ کچھ غلط کیا ہے جس کی بنا پہ تم نے میرے ساتھ یہ سب کچھ کیا۔۔۔” عالم نے درشت لہجہ اپنایا۔

” تمہیں یاد نہی۔۔۔!!

اور میں اپنی زندگی کے وہ برے ترین دن یاد کرنا نہی چاہتی۔۔۔” شعلہ کی آنکھوں میں آنسوؤں کے چند قطرے چمکے تھے۔

” ایسا کیا ، کیا تھا میں نے۔۔۔؟” عالم کو اسکی آنکھوں میں نمی دیکھ حیرت کا شدید ترین جھٹکا لگا تھا۔

” مجھے نہی پتہ۔۔” وہ اسکے برابر سے نکلنے ہی والی تھی کے ، عالم نے اسے بازو سے تھام کر اپنے مقابل کیا تھا۔ اور ہلکا سا جھٹک کر اپنے قریب کیا تھا۔ شعلہ کا نرم وجود عالم کے فولادی سینے سے جا ٹکرایا تھا۔

” تمہیں سب پتہ ہے مجھے بتاؤ ، کس بات کی دشمنی نکال رہی تھیں تم مجھ سے۔۔۔؟؟” عالم نے اپنی گرفت اسکے بازو پہ مزید سخت کی۔

” میر عالم خان یہ مت بھولو کہ میں کوئ کمزور عورت نہی ، ابھی تمہیں ایسے حال میں پہنچانے کی طاقت اور ہمت دونوں رکھتی ہوں۔ کہ تم دو دن تک اپنی جگہ سے ہلنے کے قابل بھی نہی رہو گے۔ اسی لیئے تمہارے لیئے بہتر یہی ہے کہ میرا بازو چھوڑ دو۔ اس بات کی اجازت میں اپنے ” آپ ” کو بھی اب نہی دیتی کہ میں خود کو تکلیف پہنچاؤں ، تو پھر تم تو نظروں سے گرے ہوئے مرد ہو۔ یہ نا ہو کہ اپنے اس عمل سے میرے دل سے بھی اتر جاؤ…” اسکے اس اظہار پہ عالم کی گرفت خود بہ خود اسکے بازو پہ ڈھیلی ہوئ تھی۔

” چلو تم نے یہ تو مانا کہ میں تمہارے دل میں بسا ہوں۔۔” عالم کا لہجہ بھیگا ہوا تھا۔

” میں نے تو کبھی یہ ماننے سے انکار نہی کیا کہ تم میرے دل میں بستے ہو۔ پر ہاں اس بات کا اظہار بھی کبھی کرنا نہی بھولی۔ کہ تم سے نفرت بھی بہت کرتی ہوں۔۔” شعلہ کی بات عالم کے سر پہ سے گزری تھی۔

” بھلا یہ کیسی محبت ہوئ جہاں نفرت کی بھی گنجائش ہے۔۔” عالم نے اپنی حیرت کو چھپانا ضروری نا سمجھا۔

” یہ تم خود سے بھی پوچھ سکتے ہو۔۔۔” شعلہ نے ایک سنجیدہ سی نگاہ اسکے اوپر ڈالی۔

” میں تو اپنے جذبات کو لیکر بلکل کلیئر ہوں۔ مجھے تم سے محبت ہے۔ تھی ، اور ہمیشہ رہے گی۔ پر۔۔۔ ناراضگی میری اب بھی اپنی جگہ ہے۔۔” عالم کا لہجہ آنچ دیتا ہوا تھا۔

” واہ۔۔۔ نفرت کو ناراضگی میں بدل دیا۔۔۔ زبردست داد دینی پڑے گی۔۔” وہ اسکی بات تمسخر میں اڑا گئ تھی۔

” نفرت تو تمہیں بھی نہی ، ناراضگی ہے۔ جو دور ہوسکتی ہے۔۔۔” عالم اسکے قریب آیا تھا۔

” تمہاری ناراضگی دور ہوسکتی ہوگی۔ پر میری ناراضگی کبھی ختم نہی ہوگی۔۔” شعلہ نے اس سے دور ہونا چاہا۔ پر وہ۔اپنا مضبوط بازو اسکی کمر کے گرد لپیٹ گیا۔

” بدتمیزی مت کرو۔ دور ہٹو۔۔” وہ اسکے سینے پہ ہاتھ رکھتی اسے خود سے پیچھے دکھیل گئ تھی۔

عالم نے خود کو دیکھا اور پھر جذباتی سا ہوتا ایک جھٹکے سے اسکے لبوں کو اپنی شدید گرفت میں لے کر اسکی سانسیں روک گیا۔ شعلہ سٹپٹا کر رہ گئ۔ کیونکہ وہ اس سے ایسا کچھ ایکسپیکٹ نہی کر رہی تھی۔ وہ دھیرے سے اس سے دور ہوا تو ، شعلہ سرخ رنگت سمیت کئ لمحہ تک اپنی پلکوں کی باڑ نا اٹھا سکی۔ عالم اسے دیکھتا رہ گیا۔ وہ عالم کو خود کو تکتا پاکر واشروم میں جاکر خود کو بند کر گئ تھی۔ عالم اپنی حرکت پہ خود کو دل ہی دل میں کوستا رہ گیا تھا۔

” اتنی بھی جذباتیت دکھانے کی ضرورت کیا تھی مجھے۔۔۔” عالم سر جھٹکتا۔ اپنی جگہ پہ آکر لیٹ گیا تھا۔ اور اسکے نکلنے سے پہلے ہی آنکھیں موند کر سوگیا۔

☆☆☆☆☆