Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 14)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 14)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
ساوری نگاہیں جھکائے بیٹھی تھی۔ سامنے کنٹریکٹ پیپر تھا۔ جس پہ صاف لفظوں میں لکھا تھا۔ کہ بیٹا پیدا ہوتے ہی ساوری کو اس کنٹریکٹ سے آزادی مل جائے گی۔ بھابھی نے افسوس سے ساوری کو تکا۔ پر ساوری نظریں پھیر گئ۔
” پین۔۔” اسنے دھیمی آواز میں کہا۔
” میں لائ ہوں۔ یہ لو۔” حیدر کی اماں نے جھٹ اپنے پرس سے پین نکال کر ساوری کو تھمایا۔
ساوری نے پین ہاتھ میں تھاما۔ حیدر اسکے سامنے بیٹھا۔ سرد نظروں سے اسے تک رہا تھا۔
ساوری نے کپکپاتے ہاتھوں سمیت کنٹریکٹ پیپر پہ سائن کیئے۔ حیدر کی امی اور خالہ کے چہرے پہ یکدم شادابی چھائ تھی۔
” ہم چلتے ہیں کل نکاح کے لیئے آئیں گے۔ ” حیدر کی امی نے مسکرا کر کہا۔ اور نکل کر چلی گئیں۔ حیدر مسلسل ساوری کو سرد نظروں سے گھورتا رہا۔ ساوری نے نگاہ اٹھا کر اسکی طرف نہیں دیکھا۔
وہ لوگ چلے گئے۔ بھابھی بھی اس سے ناراض تھیں۔ اسکی پلکیں بھیگی تھیں۔ پر اسنے سوچ لیا تھا۔ کہ یہ کڑوا گھونٹ اسے اپنے بھائ کی خاطر پینا پڑے گا۔
☆☆☆☆☆
مصطفی اور میر عالم کو آج سیالکوٹ کے لیئے نکلنا تھا۔ انکی پارٹی کا آج سیالکوٹ میں جلسہ تھا۔ شعلہ صبح سے پر تول رہی تھی۔ کہ میر عالم یہاں سے نکلے۔ اور وہ اپنا کام کرنے جاسکے۔ میر عالم اسے جلے پیر کی بلی کی طرح ایک سمت سے دوسری سمت جاتا دیکھ کر چڑا تھا۔
” کیا ہوا ہے۔ جو تم ایسے ایک سمت سے دوسری سمت پریٹ کر رہی ہو۔”
” میں۔۔۔ واک کر رہی ہوں۔ کیوں۔؟ کوئ مسئلہ ہے۔۔۔؟” شعلہ نے کمر پہ ہاتھ ٹکا کر پوچھا۔
” نہیں۔ مجھے کیا مسئلہ ہوگا۔ پر صبح کی ورزش کم پڑگئ ہے تمہیں۔ جو تم اس وقت جلے پیر کی بلی بنی ہوئ ہو۔”
انہوں نے پیر پہ پیر ڈال کر نرمی سے کہا۔
” میری مرضی میں جو بھی کروں۔” اسنے منہ بنانا اپنا فرض سمجھا۔
” ہمم جو بھی کرنا۔ یہ سوچ کر کرنا کہ میری نظریں۔ تم پہ ہر وقت رہیں گی۔” عالم نے اسے جانچتی نظروں سے تکا۔
” مجھ پہ نظر رکھنے والے ابھی پیدا ہی نہی ہوئے۔” اسنے تمسخر سے کہا۔
عالم اسکی ادا پہ مسکرایا تھا۔ آنکھیں بند کرکے کھولیں۔ اور اسے دیکھا۔
” تمہارے سامنے بیٹھا ہے وہ شخص۔ جو تم پہ نظر رکھنے کی طاقت اور استطاعت۔ دونوں رکھتا ہے۔”
” مجھے نہی لگتا کہ وہ طاقت میرے اللہ نے کسی کو فلحال دی ہے۔” اسنے پر اسرار سے لہجہ میں کہا۔
” ایسا کیوں لگتا ہے تمہیں۔ کیا پتہ اللہ نے مجھے چن لیا ہو۔ تمہیں ایکسپوز کرنے کو۔” عالم کی نگاہوں میں صاف چیلنج تھا۔
” مجھے کیا ایکسپوز کروگے میر عالم۔ جسکا نا آگے کوئ ہو۔ نا ہی پیچھے۔ اسے ایکسپوز ہونے کا کیا ڈر۔” اسکی آنکھوں میں درد تھا۔
” اب ایسا بھی نہی ہے کہ تمہارے آگے پیچھے کوئ نہی۔ تمہارے آگے میں ہوں۔ اور پیچھے بھی۔” نجانے میر عالم کی زبان سے یہ الفاظ کیسے ادا ہوئے انہیں خود بھی خبر نا ہوئ۔
شعلہ نے چونکہ کر انہیں تکا تھا۔ عالم بھی اسے ہی تک رہے تھے۔
” مجھے لگتا ہے آپ کے جانے کا وقت ہوگیا ہے۔” شعلہ نے وقت دیکھ کر کہا۔
” ہاں ۔۔۔۔ وقت تو ہوگیا ہے۔ خیر اب تین دن بعد ملاقات ہوگی۔ اپنا خیال رکھنا۔ جہاں بھی جانا ہو۔ سیدھے راستے سے جانا۔” میر عالم اٹھ کر اسکے مقابل آئے تھے۔ شعلہ نے اسے بغور تکا تھا۔ اور اسکی تمام ہدایات پہ سر ہلا گئ تھی۔ میر عالم کے دل میں اس سے گلے مل کر رخصت لینے کی چاہت بڑی شدت سے ابھری تھی۔ پر وہ دل پہ جبر کہ پہرے بٹھاتے نکل گئے تھے۔
☆☆☆☆☆
شعلہ میر عالم کے نکلتے ہی خود بھی نکل گئ تھی۔ گاڑی کو قبرستان کے پاس رکوا کر۔ وہ اندر گئ تھی۔ ہمیشہ کی طرح کئ لمحہ وہاں کے سناٹے میں گزارے۔ ان دو قبروں پہ ہاتھ پھیرتی رہی۔ اور پھر دعا کرکے باہر نکل آئ۔ ڈرائیور کو جانے کو کہا۔اور خود پیدل چلتی۔ نجانے کس سمت گامزن تھی۔ روڈ سے اتر کر اسکے قدم اب جنگل کی جانب تھے۔ جنگل میں قدم دھرتے ہی اسنے احتیاطی طور پہ ارد گرد نا محسوس طریقہ سے دیکھا۔
دھیرے دھیرے چلتی وہ بہت آگے نکل آئ تھی۔ اسے اپنی پشت پہ کسی کے قدموں کی آواز سنائ دی۔ وہ خاموشی سے اسی رفتار سے چلتی رہی کسی نے اسکی کمر پہ لات مارنے کی کوشش کی پر اس سے پہلے کے لات اسکی کمر پہ پڑتی۔ اسنے گھوم کر اس بندے کی لات کو اپنے ہاتھوں میں جکڑا تھا۔ اور اسکی ٹانگ گھما کر اسکے پیٹ پہ ایک ضرب دے کر اسے زمین پہ گرا گئ تھی۔ وہ شخص سوکھے پتوں پہ گرا تھا۔ شعلہ نے اسے اٹھنے کا موقع دیا بغیر ہی اسکے سینے پہ اپنا پیر دھرا تھا۔ اپنی جیب سے اپنی پسٹل نکالی تھی۔ اور پسٹل کو اسکی گردن پہ رکھ کر چلا دیا تھا۔ پسٹل بے آواز تھی شاید اس پسٹل پہ سینسر لگا تھا۔ وہ شخص وہیں تڑپتا مر گیا تھا۔ وہ اسکے سینے پہ سے پیر ہٹاتی واپس چلنے لگی تھی۔ اسکے سامنے ایک اور شخص آیا تھا۔ اسنے اسکا بھی ایک نشانہ دل کے مقام پر لیا تھا۔ وہ شخص تڑپتا مچلتا گرا تھا۔ اور پھر بے جان ہوگیا تھا۔ شعلہ نے ارد گرد دیکھا تو۔ کوئ نہی تھا۔ وہ چلتی چلتی ایک بوسیدہ سی عمارت کا دروازہ کھول کر وہاں اندر گئ تھی۔ کوئ شخص دروازہ بند ہوتے ہی اسپہ جھپٹا تھا۔ اور پسٹل اسکے ماتھے پہ ٹھنکائ تھی۔ شعلہ نے اسے کہنی رسید کرتے اسکے ہاتھ سے بندوق آچکی تھی۔ اور پھر بنا وقت ضائع کیئے اسکے دماغ میں ایک گولی اتار دی تھی۔ وہ دھیرے دھیرے چلتی ایک سمت آئ تھی۔ جہاں عورتوں اور بچوں کا جم غفیر تھا۔ ان سب کو اس حالت میں دیکھ کر اسکے چہرے پہ ایک سایہ لہرایا تھا۔ پر وہ ہمت کرتی اندر گھسی تھی۔ چند آدمی وہاں بیٹھے تھے۔ اور جن نظروں سے وہ ان لڑکیوں کو تک رہے تھے۔ شعلہ کے تن بدن میں آگ سی پھیلی تھی۔ اسنے موبائل پہ لکھا میسج چھوڑا تھا۔ اور ایک ہی باری میں دو آدمیوں پہ گولی چلائ تھی۔ دو آدمی جو مزید بیٹھے تھے۔ انہوں نے اپنی پسٹل اٹھائ تھیں۔ شعلہ ان کے وار سے بچنے کے لیئے جھکی پر فائر سیدھا اسکے کندھے پہ آکر لگا تھا۔ شعلہ نے پھر بھی ہمت نا ہاری۔ اپنے درد کو نظر انداز کرتی۔ وہ ان دونوں کو بھی جہنم واصل کرچکی تھی۔ شعلہ وہاں سے باہر بھاگی تھی۔ پولیس نے ریٹ ڈال لی تھی۔ اور تمام لوگوں کو وہاں سے بازیاب کروا لیا تھا۔ وہ اپنا بازو مضبوطی سے تھامتی خود کو گھسیٹ رہی تھی۔ تکلیف کی شدت سے اسکے چہرے پہ پسینے کے قطرے نمودار ہوئے تھے۔ وہ با مشکل خود کو قبرستان تک گھسیٹ کر لائ تھی۔ اسکا پرانہ ڈرائیور وہاں موجود تھا۔ وہ اپنے بنگلے پہ آئ تھی۔ جہاں وہ میر عالم سے نکاح کرنے سے پہلے رہتی تھی۔ وہ جیسے ہی گاڑی سے اتری۔ اسکا آدمی زبیر اسکے پاس آیا تھا۔
” یہ کیا ہوگیا۔۔۔ آپکو۔ میں نے آپ سے کہا بھی تھا۔ کہ آپ ایسے اکیلے نا جائیں۔” زبیر نے فکر مندی سے کہا۔
” مجھے بس تم سب کی دعائیں چاہیئے۔ نا کہ کسی کا ساتھ۔” اسنے تکلیف سے لب کچلے۔
” آپ پلیز اندر چلیں۔” زبیر نے اسے بازو سے تھاما۔ اور اندر لیکر گیا۔
شہلا اور چند مزید لڑکیاں بوکھلائ ہوئ۔ اسکے پاس آئ تھیں۔ زبیر نے ڈاکٹر کو کال کی تھی۔ کچھ دیر میں ڈاکٹر آئے تھے۔
اسکے کندھے سے گولی نکال کر زخم پہ بینڈیج کی تھی۔ اسکی آنکھیں اب بے ہوشی کے زیر اثر بند ہونے لگی تھیں۔ شہلا نے پریشانی سے زبیر کو تکا تھا۔
” یہ سب کیسے۔۔۔؟” شہلا نے نم آواز میں پوچھا۔
” جانتی تو ہو۔ اپنی پرواہ کیئے بغیر بس دوسروں کی خاطر۔ اپنی جان جوکھم میں ڈالنا ان کا شیوہ ہے۔” زبیر نے سنجیدگی سے کہا۔
شہلا پریشانی سے اسکے پاس ہی بیٹھ گئ تھی۔ اور باقی تمام لوگ اسکے کمرے سے نکل کر چلے گئے تھے۔
☆☆☆☆☆
” ساوری بنت جمال کیا آپکو یہ نکاح حیدر خان بن توصیف عالم خان سے ایک کروڑ حق مہر سکہ رائج الوقت کے تحت قبول ہے”۔ مولوی صاحب کی آواز جب اسکے کانوں میں پڑی تو اسکے لبوں سے کئ لمحوں تک االفاظ نکلنے سے انکاری ہوگئے۔ پیچھے سے بھابھی کے کندھے پہ ہاتھ رکھنے سے اسنے دھیمے لہجہ میں کپکپاتے لبوں سمیت کہا۔
” قبول ہے ۔۔۔ قبول ہے۔۔۔ قبول ہے۔۔”۔ اسنے جیسے ہی تیسری بار قبول ہے کہا اور نکاح نامے پہ دستخط کیئے۔ اسے مبارک باد کی چند سدائین سنائ دیں۔ ساوری کی آنکھوں سے چند آنسو لڑیوں کی صورت بہہ نکلے۔
نکاح کے کچھ دیر بعد ہی اسکی رخصتی کا وقت آیا۔
رخصت ہوتے وقت نا من میں امگیں تھیں نا خواہشیں۔۔، وہ کسی مردہ وجود کی مانند اپنے بھائ کے گھر کی دہلیز پار کر گئ تھی۔
رخصت کرکے اسے ایک شاندار فلیٹ میں لایا گیا وہ ایک لگژی فرنیشڈ فلیٹ تھا۔ اسے اسکے کمرے میں ایک حسین اور ماڈرن سی لڑکی لائ اور اسے بٹھایا۔ ساوری نے نگاہیں اٹھا کر اس عورت کو دیکھا جو سنجیدگی سے اسے دیکھتی ایک ادا سے صوفہ پہ بیٹھی تھی۔
” نام۔۔۔ کیا۔۔ ہاں۔۔۔ ساوری۔۔۔۔۔ دیکھو کوشش کرو حیدر تمہاری جانب جلد متوجہ ہوجائے۔۔۔ جیسے ہی تم کام مکمل کروگی تمہیں اس کانٹریکٹ سے آزادی مل جائے گی”۔ در فشاں نے سنجیدگی سے کہا۔
ساوری نے آنسوؤں سے بھری نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا اور دھیرے سے اثبات میں سر ہلا۔کر نگاہیں واپس جھکا لی۔
” میں چلتی ہوں ۔۔۔ اب کافی دیر ہوگئ ہے”۔ درفشاں نے اک ادا سے اپنی کلائ پہ بندھی گھڑی کو دیکھا اور آٹھ کر چلی گئ۔
ساوری نے گہری سانس لے کر اپنے ہاتھوں میں آئے پسینے کو ٹشو پیپر سے خشک کیا۔
☆☆☆☆☆
