Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 49) 2nd Last Episode

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 49) 2nd Last Episode

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

مصطفی نازنین سے ابھی تک ناراض تھا۔ کمرے میں آنے کے بعد بھی وہ اسکی جانب نہی دیکھ رہا تھا۔ اسکی خفگی محسوس کرتی وہ واشروم میں بند ہوگئ تھی۔ مصطفی تپ کر رہ گیا تھا۔

” یہ مجھے منا سکتی تھی مگر۔۔۔ جان بوجھ کر ایسا کر رہی ہے۔ سب سمجھ میں آتی ہے۔۔” وہ غصہ کے باعث خود سے ہی بڑبڑا رہا تھا۔ وہ اپنے فارمل کپڑے پہن کر بیڈ پہ اپنی جانب آکر لیٹا تھا۔ ابھی اسکی آنکھ لگے کچھ ہی دیر ہوئ تھی۔ جب اسے اپنے سینے پہ کسی کا لمس محسوس ہوا تھا۔ اپنے ارد گرد پھیلی خوشبو کو محسوس کرتا وہ اس بات کا اندازہ لگا چکا تھا۔ کہ اسکے اس قدر قریب کون موجود ہے۔ مگر وہ پھر بھی ڈھیٹ بنا پڑا رہا۔ ظاہر سی بات ہے اسکی انا کہاں اسے گوارہ کر رہی تھی کہ وہ اتنی جلدی مان جائے۔

نازنین اسکے سینے پہ سر رکھ کر لیٹی تھی۔

” جانتی ہوں ناراض ہو۔ اور یہ بھی جانتی ہوں جاگ رہے ہو۔۔۔” وہ ذرا سا سر اٹھا کر اسکی جانب دیکھتی گویا ہوئ۔

” اچھا سوری ۔۔۔۔ مگر اس وقت تم بھی تو دیکھتے ناں کہ کتنے سارے لوگ تھے ادھر اور لوگوں کو تو چھوڑو یار۔۔۔ میرے دونوں بڑے بھائ اس وقت وہاں موجود تھے۔ تم بتاؤ میں کیا کرتی۔۔۔؟؟” نازنین نے بیچارگی سے کہا۔

” ہاں تم بس دنیا کا ہی سوچتی رہنا میرا کبھی نا سوچنا۔۔۔” وہ اپنی آنکھوں پہ سے بازو ہٹا کر اٹھ بیٹھا تھا۔ وہ بھی سیدھی ہوکر بیٹھی تھی۔

” اچھا ناں سوری۔۔۔” وہ اسکے کندھے پہ لٹکی تھی۔

” دوبارہ تم نے ایسا کیا ناں تو میں سچ میں ناراض ہوجاؤں گا۔۔۔” حیدر نے اسکی ناک دبا کر کہا۔

” اوکے۔۔۔” وہ اسکی دھمکی پہ لب دبا کر مسکائ تھی۔

” تم نے چینج کیوں کیا یاررر۔۔۔” اب محترم نے خفگی کے لیئے نیا موضوع پکڑا تھا۔

” تھک گئ تھی۔۔” نازنین نے معصوم سی شکل بان کر جواب دیا۔

” نازنین مجھے تم سے ایک بات کرنی تھی۔۔۔” مصطفی نے اسکے گرد اپنا بازو لپیٹا۔

” ہاں کہو۔۔”

” میں چاہ رہا تھا۔ اگر ایک بار تمہارا ٹریٹمنٹ کروا کر دیکھ لیتے ہیں۔ اگر اعلاج کا بعد بھی نا ہو سکے تو پریشانی کی کوئ بات نہی ہم ایڈاپٹ کر لیں گے۔۔۔” مصطفی نے ایک ایک لفظ بہت سوچ سمجھ کر ادا کیا۔

” ہمم تم جیسا چاہتے ہو ویسا ہی ہوگا۔۔” وہ لب کچل کر اسکے سین سے لگ گئ تھی۔ مصطفی نے اسکے گرد اپنے بازو باندھے تھے۔ اور چہار سو دونوں کے بیچ خاموشی چھا گئ۔ وہ خاموش تھے مگر اس وقت ان کا انگ انگ چلا رہا تھا۔ دونوں خود کو بے بس محسوس کر رہے تھے۔

” ٹینشن مت لو سوجاؤ۔۔۔” مصطفی اسے سینے سے لگائے ہی لیٹا تھا۔ اور اسپہ اور خود پہ کمبل درست کرتا اسکے بال سہلاتے لگا تھا۔ نازنین مصطفی کو دیکھتی آنکھیں موند گئ تھی۔

☆☆☆☆☆

عالم کمرے میں آیا تو شعلہ میڈم کمرے کی لائٹس آف کیئے سوئ پڑی تھیں۔ وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا اسکے پاس آیا تھا۔ نیچے جھک کر اسنے اسے اپنی بانہوں میں اٹھایا تھا۔ وہ نیند سے بھاری ہوتی آنکھیں کھول کر اسے نا سمجھی سے تکنے لگی۔

” یہ۔۔۔۔ کیا کر رہے ہو۔۔۔” وہ نیند میں ڈوبی آواز لیئے اس سے مستفسر تھی۔

” تھوڑی دیر خاموش نہیں ہوسکتی تم ۔۔؟؟” عالم نے اسے مصنوئ گھورا۔

” میرے خاموش ہوجانے سے کیا ہوگا۔۔” وہ اسکے چہرے کو ایک نظر تک کر واپس آنکھیں موند گئ تھی۔

” کچھ خاص نہی بس تھوڑا سا سکون میسر آجائے گا۔۔” عالم اسے لے کر ٹیرا پہ آیا تھا۔ اور اسے زمین پہ بٹھا کر خود بھی اسکے برابر بیٹھا۔ شعلہ کا سر اپنے کندھے پہ ٹکایا۔ اور سامنے آسمان پہ چمکتے پورے چاند کو دیکھتا۔ اسکا ہاتھ اپنے دوسرے ہاتھ میں جکڑ گیا تھا۔

” نیند آرہی ہے مجھے۔۔۔” وہ بوجھل آنکھوں سے چاند ، تاروں کو تکی لاڈ سے گویا ہوئ۔

” کتنی نیند آتی ہے تمہیں جانِ من۔۔۔!!

مجھے تو تمہاری نیندوں سے دشمنی ہونے لگی ہے۔۔۔” وہ اسکے ہاتھ کی پشت ہونٹوں سے لگا کر ہنستے ہوئے گویا ہوا۔

” دشمنی ہونے لگی ہے۔ یا پکی دشمنی ہے۔۔۔!!

پچھلے کچھ دنوں سے تم میری نیند کے ہی دشمن بنے ہوئے ہو۔ سونے ہی نہی دیتے۔۔!!” وہ جل ، بھں کر گویا ہوئ۔

” ہاہاہا۔۔۔ اچھا لگتا ہے۔ جب تم ایسے ذرا ذرا سی بات پہ تپ جاتی ہو۔۔” عالم کا قہقہ بے ساختہ تھا۔

” تمہارا مطلب ہے کہ میری بے بسی۔۔۔ میرا خون جلنا تمہیں مزہ دیتا ہے۔۔؟؟” شعلہ نے اسکے کندھے پہ سے سر اٹھا کر اسے گھورا۔

” ہاں بہت مزہ دیتا ہے۔ تمہیں پتہ ہے کہ تم غصہ میں کش قدر حسین لگتی ہو۔ یہ تمہاری ناک لال ہوجاتی ہے۔ گال تو ایسے ہوجاتے ہیں۔ جیسے سرخ انگار۔۔۔” عالم اسکے گال دھیرے سے چھو کر گویا ہوا۔

” کچھ بھی نا بولا کرو۔۔” وہ خفگی اے اسکی جانب سے رخ موڑ گئ۔

” تم کش قدر حسین ہو جانِ جاں ۔۔۔ تمہیں اندازہ نہی ہے۔ تمہیں یاد ہے ہم دونوں کی پہلی ملاقات ۔۔۔۔!!

اففف ۔۔۔۔!!

کس قدر ظالم و حسین لگ رہی تھیں تم ، مجھے وہ دن یاد آتا ہے تو میرا دل اپنی جگہ سے باقاعدہ سرک جاتا ہے۔” وہ اسکا رخ اپنی جانب موڑ کر ایک جذب سے گویا ہوا۔

شعلہ نے عالم کو ٹکا مگر اسکی بولتی آنکھوں میں زیادہ دیر نا دیکھ پائ وہ اور نظریں جھکا گئ۔ اسکی پلکوں کی چلمن جو اسکے رخسار کی زینت بنی ، تو چہرے پہ جابجا حیا کی لالی کوند آئ۔ شعلہ سے کچھ کہا ہی نا گیا۔ وہ اضطراب کی کیفیت میں اپنے لب کچل کر رہ گئ۔

” نیند آرہی ہے مجھے بہت۔۔۔” وہ اسکی نگاہیں خود پہ ٹکی دیکھ لیا کر گویا ہوئ۔

” پر مجھے نہی آرہی۔۔” عالم نے اسکے چہرے پہ گرتی آوارہ لٹوں کو پیچھے کیا تھا۔

” ارے ۔۔۔ اٹھو صبح پھر آفس بھی جانا ہے تمہیں ، بہت سست ہوتے جارہے ہو دن بہ دن تم۔۔” وہ کھڑی ہوئ اور اسکا ہاتھ تھام کر اسے کھینچ کر اپنے ساتھ کھڑا کیا۔

” طاقت بہت ہے۔۔۔ تم میں۔۔” وہ اسکے پیچھے ہو لیا تھا۔

” تو تم نے کیا اتنا ہلکا لے رکھا تھا مجھے۔۔۔” وہ چلتے پیچھے مڑ کر شرارت سے گویا ہوئ۔

” نا بلکل نہیں ، تمہیں ہلکا لینے کی غلطی کوئ مجنون ہی کرسکتا ہے۔۔” وہ ڈرنے کی ایکٹنگ کر رہا تھا۔ شعلہ کا قہقہ بے ساختہ تھا۔

” پوری فلم ہو تم۔۔” وہ لاڈ سے اسکے گرد بانہیں باندھ گئ تھی۔

” اور تم پورا ڈرامہ۔۔” وہ اسکے ماتھے پہ عقیدت بھرا بوسہ دے کر اسے چڑانے کو شرارت سے گویا ہوا۔

” بہت بڑے ہو تم۔۔” وہ اسکے سینے پہ گھونسا مارتی بیڈ پہ اپنی جگہ آکر لیٹی تھی۔ وہ ہلکا سا مسکاتا بیڈ کی دوسری جانب لمبا لمبا پڑ گیا۔

☆☆☆☆☆

ایک سال کا عرصہ بیت چکا تھا۔ ساوری کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تھا۔ جسکا نام ساوری نے احمد رکھا تھا۔ وقت ریت کی مانند پھسلتا جا رہا تھا۔ مگر نازنین کے ہاں کوئ خوش خبری نہی آئ تھی۔ انہوں نے بہت علاج کروائے۔ مگر ناکامی ہی رہی ، آج نازنین اور مصطفی نے ایک پیاری سی بچی کو یڈاپٹ کیا تھا۔ جسکا نام انہوں نے رباب رکھا تھا۔ نازنین بہت خوش تھی اس بچی کو پا کر اسے تو جیسے نئ زندگی مل گئ تھی۔ ساوری اور حیدر آج ان سب کو اپنے ولیمے کی دعوت دینے آئے تھے۔ شعلہ شہلا کو بھی معاف کرچکی تھی۔ وہ بھی اپنی زندگی میں بہت خوش تھی۔ مگر وہ لندن میں اپنے شوہر کے ساتھ قیام پذیر تھی۔

” شعلہ پلیز بہانے مت بناؤ ، میں انتظار کرونگی تمہارا۔۔” ساوری نے ذرا خفگی سے کہا۔

” یار تم بتاؤ آخر میں کیسے آؤں ، ایک تو بلکل آخری دن چل رہے ہیں میرے۔ حالت بہت عجیب سی ہوئ ہے۔ اور یہ موصوف عارض صاحب جو تنگ کرتے ہیں مجھے۔ اللہ نے ان محترم کے پیر کیا چلا دیئے انہوں نے تو میری زندگی آدھی کر دی ہے۔۔۔” شعلہ کے شکوہ جب شروع ہوئے تو ، ٹیبل پہ پڑے شوپیس سے کھیلتا عارض چھوٹے چھوٹے قدم لیتا اپنی ماں کے پاس آیا تھا۔

” ممما۔۔۔ مما۔۔۔ کا۔۔۔ وا۔۔” ( مما ، مما کیا ہوا ) عارض کی معصومانہ آواز اور اسکے ننھے ہاتھ اپنے گھٹنوں پہ محسوس کرکے شعلہ نے اسے مصنوئ گھورا۔

” مما کو بہت تنگ کرتے ہو آپ۔۔” وہ اسے اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا گئ تھی۔

” مما۔۔۔ می ۔۔ نئ۔۔ تن۔۔ ترتا۔۔” ( مما میں نہیں تنگ کرتا۔) وہ اپنی ماں کے گرد چھوٹے ، چھوٹے بازو باندھ کر گویا ہوا۔

” آپ نہیں تنگ کرتے تو کون کرتا ہے تنگ مما کو آپ ہی تنگ کرتے ہو۔۔” شعلہ نے اسکے بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیرا۔

” بابا۔۔ تن ۔۔ ترتے۔۔۔ ممممما تو۔۔” ( بابا تنگ کرتے مما کو۔۔) اسکی معصومانہ سی بات پہ شعلہ نےہلاک سا قہقہ لگایا تھا۔ نازنین اور ساوری بھی اسکی باتوں پہ ہنس دی تھیں۔

” اوکے ٹھیک ہے بھئ میرا چاند مجھے تنگ نہیں کرتا ، میرا بیٹا تو بہت اچھا ہے۔۔” شعلہ نے اسے خود میں بھینچا تھا۔

” دیکھو اب تو عارض نے بھی کہہ دیا ہے کہ وہ تنگ نہی کرتا ، آجانا نہی تو قسم سے میں ناراض ہوجاؤں گی۔۔” ساوری نے چائے کا کپ لبوں سے لگا کر دھمکی آمیز لہجہ اپنایا۔

” اچھا ٹھیک ہے آجاؤں گی ، اب دھمکیاں دینا بند کرو۔۔” شعلہ مسکرائ تھی۔

” نازنین یہ تمہاری ذمےداری ہے۔اسے ضرور لانا۔۔۔” ساوری نے اب نازنین کو گھیرا۔

” بے فکر ہوجائیں آپ بھابھی میں انہیں ہر صورت ساتھ لیکر آؤں گی۔۔” نازنین نے مسکرا کر کہا۔

” اچھا چلو پھر میں چلتی ہوں۔ دیر ہو رہی ہے۔ بچوں کو گھر چھوڑ کر آئ ہوں امی کے پاس ابھی تک تو ان دونوں نے امی کو پاگل کر دیا ہوگا۔” وہ ہنستی ہوئ اٹھی تھی۔ شعلہ ور نازنین سے مل کر وہ نکل گئ۔

☆☆☆☆☆

ساوری سجی سنوری آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔ حیدر اسے ابھی ، ابھی پارلر سے واپس لایا تھا۔ اب بس وہ حیدر کے تیار ہونے کا انتظار کر رہی تھی جیسے ہی حیدر تیار ہوجاتا تو ان دونوں نے نیچے لان میں ایک ساتھ اینٹری دینی تھی۔

وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنا جائزہ لے رہی تھی۔ بیڈ پہ سویا دو ماہ کا احمد شدید رونے لگا تھا۔ وہ اپنا بھاری کا مدار لباس سنمبھالتی احمد کے پاس آئ تھی۔

” مما کا بچہ کیوں رو رہا ہے۔ بس۔۔ بس ۔۔۔ ماں صدقے ماں کی جان۔۔۔” ساوری نے اسے گود میں اٹھایا اور اسکا فیڈر اٹھا کر اسکے منہ سے لگایا ماں کی آغوش اور فیڈر ملتے ہی اسنے رونا دھونا بند کر دیا تھا۔

حیدر واشروم سے اپنے بال تولیہ سے رگڑتا نکلا تھا۔

” لاڈ صاحب کیوں رو رہے ہیں۔۔؟؟” حیدر نے باڈی اسپرے اٹھا کر اپنی باڈی پہ چھڑکا۔

” بھوک لگ رہی ہے موصوف کو۔۔” ساوری نے اپنے بیٹے کے ماتھے پہ بوسہ دیا۔

” میری شہزادی کہاں ہے۔۔؟” اسنے اپنی وائٹ شرٹ اٹھا کر پہنے پوچھا۔

” وہ اپنی دادی کے پاس ہے۔ امی نے کہا کہ تم کیسے اتنے بھاری ڈریس کے ساتھ دو ، دو بچوں کو سنمبھالو گی۔ تو اسی لیئے وہ آئرہ کو ساتھ لے گئیں نیچے اور احمد کو یہیں چھوڑ دیا۔” وہ حیدر کو محبت سے تک رہی تھی۔

” ایسے مت دیکھو ، میں پاگل ہوجاؤں گا۔۔” وہ اسکی پیار بھری نظروں میں جھانکتا شرارتاً گویا ہوا۔

” پاگل تو آپ ویسے بھی ہیں۔۔” ساوری نے نگاہیں جھکائیں ، اور لب کچلے۔

” ہاں مگر ایسے دیکھو گی تو سچ مچ والا پاگل ہوجاؤں گا۔۔” وہ اپنے بلیئزر کے بٹن بند کرتا اسکے پاس آیا تھا۔ احمد کو اسکی گود سے لیکر سائڈ پہ لٹایا۔ اسکا ہاتھ تھاما۔ اور اسے اپنے مقابل کھڑا کیا۔

” کیسا لگ رہا ہوں میں۔۔؟؟” حیدر نے اپنا ایک ہاتھ پھیلا کر اس سے پوچھا۔

” بہت پیارے ، بہت ہینڈسم ۔۔” ساوری دلکشی سے مسکرائ۔

” تھینک یو۔۔ ملکہ من آپ بھی آج بہت حسین و جمیل و دلکش لگ رہی ہیں۔” حیدر نے اسکے ماتھے پہ عقیدت بھرا بوسہ دیا۔

” بہت شکریہ۔۔” ساوری نے شاہی انداز میں اپنا ہاتھ سلام کی صورت میں ماتھے تک لگایا۔ حیدر ہلکا سا قہقہ لگا کر اسکے گرد اپنا حصار تنگ کر گیا تھا۔ ساوری آنکھیں موند کر مسکرائ تھی۔

” تم دنیا کی پہلی لڑکی ہو ، جس نے بچے پہلے پیدا کیئے ہیں۔ اور دلہن سہی معنوں میں اب بن رہی ہے۔۔۔” حیدر نے اسے خود سے ہلکا سا دور کرکے اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما۔

” اب اس میں تو ساری غلطی آپ کی ہے۔ بھلا میرا کیا قصور۔۔؟؟” وہ اسکے ہاتھ اپنے چہرے پہ سے ہٹا کر لاڈ سے گویا ہوئ۔

” ہاں سہی کہہ رہی ہو۔ یہ دل کیا دیا ہم نے آپ کو کہ ہر قصور ہمارا ہی نکلتا ہے آپکی عدالت میں۔۔” حیدر اسکی چالاکی پہ ہلکا سا قہقہ لگا کر گویا ہوا۔

” اب محبت کی ہے۔ تواس کے لیئے ایسی چھوٹی موٹی قربانیاں تو دینی پڑیں گیں ناں۔۔!!” وہ شرارت سے مسکائ حیدر اس پہ نصار ہوتا اپنے لب بھر پور شدت سے اسکے رخسار پہ دھر گیا تھا۔

” نیچے چلیں سب ہمارا انتظار کر رہے ہونگے۔۔” حیدر نے اس سے دور ہوکر اپنا ہاتھ اسکے آگے پھیلایا۔

ساوری نے سر اثبات میں ہلایا مگر اسکا ہاتھ نا تھاما۔

” احمد کو اٹھائیے۔۔” وہ مسکرا کر کہتی اکیلی ہی کمرے سے نکل گئ تھی۔ حیدر گہری سانس لیتا اپنے لعل کو اٹھا کر اپنی بیوی کے پیچھے ہو لیا تھا۔

☆☆☆☆☆

حیدر کی گود میں احمد تھا۔ آئرہ بھی اپنی ماں کو اتنا پیارا تیار دیکھ دادی کے پاس سے بھاگ کر اپنی ماں کے ساتھ چمٹ گئ تھی۔ وہ چاروں ایک ساتھ چلتے اسٹیج تک آئے تھے۔ لوگوں کی رشک بھری نظریں ان چاروں پہ مرکوز تھی۔ ان کی ہیپی فیملی دیکھ بہت سے لوگوں میں حسد بھی پیدا ہوا تھا۔ اور بہت سے لوگوں کے لبوں سے بے ساختہ خوشی کے باعث

” ماشاللہ” بھی ادا ہوا تھا۔

” کتنے پیارے لگ رہے ہیں ناں دونوں۔۔۔” شعلہ نے اپنا سر عالم کے کندھے پہ ٹکایا تھا۔

” ہاں ماشااللہ سے بہت پیارے لگ رہے ہیں۔ تم تو بہتر محسوس کر رہی ہو ناں۔۔؟” عالم نے اسکے زرد پڑتے چہرے کو دیکھ کر پوچھا۔

” ہاں بس ذرا سی گھبراہٹ ہو رہی ہے۔۔” وہ دھیمے سے بولی۔ عارض جو مصطفی کے ساتھ نجانے کونسی راز و نیاز کی باتیں کر رہا تھا۔ اپنی ماں کی تربیت خراب دیکھ کر وہ مصطفی کی گود سے اتر کر اپنے باپ کے پاس آیا تھا۔

” بابا مممما۔۔۔ تو ۔۔۔۔ تیا وا۔۔” ( بابا مما کو کیا ہوا۔۔) عارض نے عالم کو اپنے ننھے ہاتھوں سے جھنجھوڑا تھا۔

” بیٹا مما کی طبیعت ٹھیک نہی ہے۔ تنگ نہی کرنا ہے آپ نے بلکل بھی اپنی مما کو۔۔” عالم نے اسے ساتھ ہی نرمی سے تنبیہہ بھی کی۔

” می نائ تن ترتا ممما تو۔۔” ( میں نہیں تنگ کرتا مما کو) وہ اپنے باپ کو غصہ سے گھور کر گویا ہوا۔

” تو کون کرتا ہے تنگ مما کو آپ ہی کرتے ہو۔ دیکھو ابھی بھی مما کی کتنی طبیعت خراب ہورہی ہے۔ اور آپ کو کوئ فکر ہی نہی ہے۔۔ الٹا آپ مجھ سے اپنے بابا سے لڑ رہے ہو۔” عالم نے اپنے شاطر طوطے کو ذرا الجھانا چاہا۔ نازنین نفی میں سر ہلاتی اٹھ کر شعلا کے لیئے پانی لائ تھی۔

” بھابھی یہ لیں آپ پانی پیئں ، بھیا کو تو نجانے کب عقل آئے گی۔۔” نازنین نے پانی کا گلاس شعلہ کے لبوں سے لگایا۔

” کیا ہوا اب میں نے کیا کردیا۔۔؟؟” عالم نے عارض کو کھینچ کر اپنی گود میں بٹھایا تھا۔

” بھابھی کی حالت دیکھیں آپ انہیں گھبراہٹ ہورہی ہے۔ یہ نہی کہ انہیں پانی پلائیں۔ الٹا آپ عارض کے ساتھ اپنا ہی ڈسکشن کھول کر بیٹھ گئے۔” نازنین نے ٹپے ہوئے انداز میں کہا۔

” تو میں کیا کروں یار۔۔” عالم نے شعلہ کے گرد بازو باندھ کر معصوم سی شکل بنا کر نازنین سے پوچھا۔

” بھائ۔۔۔ سیریسلی۔۔۔ عارض کی دفعہ آپکی لاتعلقی سمجھ میں آتی تھی۔ کہ آپ بھابھی سے ناراض تھے۔ مگر اب تو بھابھی کا خیال رکھیں ناں۔۔!!” نازنین نے بھنا کر کہا۔ اور مصطفی کی گود سے اپنی بیٹی رباب کو لیا تھا۔ وہ رباب کو کے گرد اسکا کمبل اچھے سے درست کرتی اسے اپنی بانہوں میں چھپا گئ تھی۔ یہ بچی دو ماہ کی تھی۔ اور بہت پیاری تھی۔ آج پورے دو دن مکمل ہوچکے تھے۔ نازنین بھی بہت خوش تھی اور مصطفی بھی۔ ان دونوں کو سچ میں اپنا آپ ماں باپ کے عہدہ پہ فائز ہوتا محسوس ہورہا تھا۔

” اچھا ناں نانی اماں طعنہ تو نا ماریں۔ رکھ رہا ہوں خیال۔۔” عالم نے نازنین کو برہم ہوتے دیکھ شعلہ کو مزید اپنے قریب کیا۔ عالم کی گود میں بیٹھے ڈیڑھ سالہ عارض نے اپنی ماں کے چہرے پہ دھیرے دھیرے سے ہاتھ پھیرا۔

” مما بش ۔۔۔ دلد ۔۔۔ ہو لیا ۔۔۔ اے۔۔” ( مما بس درد ہورہا ہے۔) وہ پیار سے اپنی ماں کو دیکھ کر پوچھ رہا تھا۔

” میرا بچہ۔۔ پریشان نا ہو مما بلکل ٹھیک ہیں۔۔۔” وہ اسے پیار کرکے نقاہت زدہ آواز میں گویا ہوئ۔

” تم اگر بہتر محسوس نہیں کر رہی تو ہم ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔۔” عالم نے نرمی سے پوچھا۔

” نہی بہتر محسوس کر رہی ہوں۔۔” وہ اسکے کندھے پہ سے سر اٹھا کر سیدھی بیٹھی تھی۔ ڈاکٹرز نے اسے ایک ہفتے بعد کی ڈیٹ دی تھی۔ مگر حالت اسکی ابھی سے خراب ہونے لگی تھی۔

ساوری اسکی حالت خراب ہوتی دیکھ کر نیچے انکے پاس آکر بیٹھ گئ تھی۔

” کیا ہوا ہے۔ تکلیف ہورہی ہے کیا۔۔۔؟؟” ساوری نے اسکے دونوں ہاتھ تھام کر اس سے پوچھا۔

” نہی میں ٹھیک ہوں۔ تم نیچے کیوں آگئیں۔” شعلہ نے بہ مشکل مسکا کر پوچھا۔

” تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ نازنین نے بتایا تو میں نیچے آگے ویسے بھی میں بہت تھک گئ تھی۔