Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 46)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 46)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
میر عالم کی طبیعت اب کافی سنمبھل چکی تھی۔ شعلہ عارض کو سینے سے لگائے دھیرے دھیرے جھلا رہی تھی۔ تاکہ وہ سوجائے۔ عالم بیڈ پہ ہی نیم دراز ہوا کسی کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا۔ عالم نے شعلہ کو دیکھا اور کتاب بند کرکے سائڈ پہ رکھی۔
” یہ کب سوئے گا۔۔۔؟؟” عالم کا سوال بے ساختہ تھا۔
” کیوں کوئ کام ہے۔۔؟؟” وہ ماتھے پہ بل سجا کر نا سمجھی سے مستفسر ہوئ۔
” ہاں کام تو ہے۔۔۔” میر عالم نے ماتھا کھجا کر کہا۔
” کیا کام یے۔۔؟” وہ آنکھیں گھما کر مستفسر ہوئ۔
” عارض کے بہن بھائیوں کے بارے میں کچھ سوچا تم نے۔۔؟” وہ انتہائ سنجیدگی سے گویا ہوا۔
” کیا فضول باتیں کر رہے ہو۔ اسکے بہن بھائ کہاں سے آگئے۔ میرا تو یہ ایک ہی بیٹا ہے۔ ہاں البتہ اگر تم نے کہیں دوسری تیسری شادی کر لی ہو۔ اور وہاں تم نے الگ ایک انڈیا پاکستان کی ٹیم بنا لی ہے۔ وہ الگ بات ہے۔۔” شعلہ تمسخر سے ہنسی تھی۔
” نہی ابھی ٹیم بنی نہی ہے۔ پر بنے گی ضرور۔۔۔” عالم اسے شرارت بھری نظروں سے تک رہا تھا۔
” بہت ہی فضول قسم کے انسان ہو۔” وہ جل کر کہتی عارض کو دھیرے سے بیڈ پہ لٹا کر اپنا تکیہ درست کر رہی تھی۔ جب میر عالم کا ہاتھ اسکے نازک ہاتھ پہ آ دھرا تھا۔
“کچھ بھی کہہ لو ٹیم تو بن کر رہے گی۔ اتنی خوبصورت آخر ہو کیوں تم۔۔۔؟؟” وہ اسکے چہرے کے ہر ہر نقش کو دیکھ بے خود سا گویا ہوا۔
” مجھے کیا پتہ ، اللہ نے بنایا ہے۔ اس میں میری کوئ قدرت نہی ، جو مجھے پتہ ہو کہ میں اتنی خوبصورت کیوں ہوں۔۔۔” وہ معصوم سی شکل بنا کر گویا ہوئ۔
” سچ میں تم کتنی پیاری ہو۔ تمہاری آنکھیں ایک دم حسین بڑی ، بڑی ایک دم بھینس کی آنکھوں جیسی ہیں۔۔” وہ ایک جذب سے اسکی تعریف کر رہا تھا۔ اور وہ اسکے کمپلیمنٹ پہ دانت پیس کر گویا ہوئ تھی۔
” اور۔۔۔ اور کرو ناں ۔۔۔ میری تعریف۔۔۔” تعریف کو تو جیسے اسنے اپنے دانتوں تلے پیس ہی ڈالا تھا۔
” اور تمہاری یہ ناک ۔۔۔۔ ہائے ہائے۔۔۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوئ پتلا لمبا ہائ وے کا روڈ ہو۔۔” میر عالم نے ساتھ ہی اسکی ناک پہ دھیرے سے اپنی انگلی بھی پھیری تھی۔
” اور تمہارے یہ ہونٹ۔۔۔۔ انکی تو میں کیا ہی تعریف کروں۔۔۔ یہ رسیلے ہونٹ تمہارے۔ اور ان ہونٹوں کا گلابی پن ، اور انکا نشہ۔۔۔۔ افف۔۔۔ یہ ہونٹ تو بلکل تمہارے۔۔۔۔ وہ کہتے ہیں ناں وہ کیا ہوتا ہے۔۔۔ ہاں بلکل گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہیں۔۔۔ دل کرتا ہے ۔۔۔ ان کا رس نچوڑ کر رکھ دوں۔ جب بھی تم بہت پاس آکر دور جانے کی کرتی ہو۔ تو دل کرتا ہے کہ ان لبوں کو ایک دوسرے سے ایسا جوڑ دوں کے تم دور جانے کا سوچ بھی نا سکو۔” میر عالم پھلانگ کر اسکی جانب آیا تھا۔ اور وہ جو پہلے کی گئ تعریف پہ غصہ سے لال پیلی ہورہی تھی۔ اب وہ حیا کے مارے سرخ ہوچکی تھی۔
میر اسکے اوپر آکر جھک گیا تھا۔ شعلا نے ڈر کر زور سے آنکھیں مینچ لیں۔ عالم نے دھیرے سے اسکے ہونٹوں پہ انگوٹھا پھیرا۔ شعلہ کا نچلا لب ذرا سا وا ہوا۔ اسکے ہونٹ کپکپا رہے تھے۔ پلکیں آرضوں پہ جھکی لرز رہی تھیں۔ عالم اسکی حالت بے حال ہوتے دیکھ مسکایا تھا۔ اپنا ہاتھ اسکی گردن میں لے جا کر اسکا سر دھیرے سے اوپر کرکے اپنے ہونٹ اسکے ہونٹوں پہ رکھتا اسکی اور اپنی سانسیں الجھا گیا تھا۔ اسکا لمس محسوس کرتے ہی شعلہ نے ذرا سی مزاحمت کی۔ پر عالم اسکی مزاحمت نظر انداز کرتا اپنی من مانیوں پہ اتر آیا تھا۔ اسکے ہاتھ دھیرے دھیرے شعلہ کے حسیں بدن کی رعانیوں سے کھیلنے لگے تھے۔ شعلہ کا سانس بند ہونے لگا تھا۔ میر دھیرے سے اسکے لب آزاد کرتا۔ اسکے گال پہ شدت سے اپنے لب دھر کر پیچھے ہوا تھا۔
میر عالم نے اپنی شرٹ کے بٹن کھول کر شرٹ اتار کر دور پھینکی تھی۔ شعلہ شرما کر کروٹ بدل گئ تھی۔ میر عالم اسکی کمیز کی ڈوریاں کھولنے لگا تھا۔ شعلہ آنکھیں مینچے پڑی تھی۔ میر عالم نے دھیرے سے اسکی کمر پہ اپنی ناک رگڑی تھی۔ شعلہ اسکے لمس کی شدت سے جی جان سے کانپ کر رہ گئ تھی۔ عالم کے دہکتے لب جب اسکی کمر سے ٹکرائے تو اسکی سانسیں اتھل پتھل ہونے لگیں۔
” عالم۔۔۔” سرگوشی نما آواز شعلہ کے لبوں سے آزاد ہوئ۔
” شش۔۔۔” عالم اسکا رخ اپنی جانب کرکے ، شہادت کی انگلی اسکے لبوں پہ دھر گیا تھا۔ شعلہ کا سانس اٹکا تھا۔ اسنے سیاہ پلکوں کی جھالر ذرا سی اٹھائ تھی۔ میر عالم نے جھک کر اسکی آنکھوں پہ نرم دہکتے لب دھرے تھے۔ اسکی آنکھوں کے بعد اسکے لب سرکتے ہوئے اسکے رخسار چھونے لگے ، ٹھوڑی پہ لب رکھ کر وہ اسکے لبوں پہ آیا تھا۔ اور ایک بار پھر اسکے لبوں سے محبت کا جام پینے لگا تھا۔ شعلہ آنکھیں مینچے بے جان سی اسکے رحم و کرم پہ پڑی تھی۔ عالم نے اسے اپنی پناہوں میں بھینچا تھا۔ اسکے لمس میں شدت سی در آئ تھی۔ شعلہ اسکے گرد نرمی سے اپنے بازو باندھ گئ تھی۔ اسکے لمس پہ عالم کی گرفت میں مزید جنوں اتر آیا تھا۔ چاند دھیرے سے بادلوں کی اوٹ میں ہو گیا تھا۔
☆☆☆☆☆
صبح کا سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ عالم شعلہ کو دیکھ کر مسکرایا تھا۔ وہ کب سے اسے اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر وہ اٹھنے کا نام نہی لے رہی تھی۔
” جانٍ تمنا ۔۔۔ اٹھ جاؤ نہی تو پھر میں نہی اٹھنے دونگا۔۔۔” عالم اسکی گردن میں چہرہ چھپا کر گویا ہوا۔
” یارر مجھے اٹھا کر کیا ملے گا تمہیں ، مجھے سونے دو تم جاؤ آفس کل بھی نہی گئے تھے۔۔” وہ کروٹ بدل کر گویا ہوئ۔
” کیا مطلب۔۔۔ ہے اس بات کا میں نے سوچا تھا۔ آج صبح تم اچھی بیویوں کی طرح مجھے جگاؤ گی۔ مجھ سے پوچھو گی۔ کہ اجی سنیئے ناشتہ میں کیا لیں گے۔۔۔؟
پھر میں کہوں گا۔ بس ایک میٹھی اور کڑک سی کِس۔۔” عالم اسے خود میں بھینچ کر گویا ہوا۔
” چھی۔۔۔ اب یہ بہت زیادہ ہورہا ہے۔۔” وہ کہنی اسکے پیٹ میں مار کر اس سے دور ہوئ تھی۔ عالم اپنی تکلیف نظر انداز کرتا۔ مزید اسکے قریب آیا تھا۔ وہ اس سے مزید دور سرکی تھی۔ عالم مزید قریب ہوا اور اب کی بار وہ سرک کر بیڈ سے نیچے گری تھی۔ عالم کی آنکھیں ابل کر باہر کو آئ تھیں۔ شعلہ زمین پہ پڑی اپنی کمر تھام کر کرآہ رہی تھی۔ عالم جلدی سے بیڈ سے اتر کر اسکی اٹھنے میں مدد کرنے لگا۔
” لگی تو نہی۔۔۔” عالم نے بتیسی کی نمائش کرکے پوچھا۔
” نہی۔۔۔” وہ چبا کر گویا ہوئ۔
” پکا ناں۔۔؟” عالم نے کنفرم کرنا ضروری سمجھا۔
” ہمم۔۔” وہ زبردستی کی مسکان ہونٹوں پہ لاکر گویا ہوئ۔ اور اسکے بازو پہ ہاتھ رکھ کر اسے پرے دھکیلا تھا۔
” ارے اگر لگی نہیں ہے۔ تو مجھ سے کیوں چڑ رہی ہو۔۔۔” عالم اسکے پیچھے ، پیچھے چلتے گویا ہوا۔
” پیچھے آنا بند کرو میرے۔” شعلہ رک کر مڑی تھی۔
” تمہیں کیا تکلیف ہے۔ میں اپنی بیوی کے پیچھے آرہا ہوں۔۔” وہ اسکا چہرہ واپس آگے موڑ کر بولا۔
” زیادہ اوور اسمارٹ نا بنو۔ پیچھے جاکر بیڈ پہ بیٹھو۔ اور اگر سکون سے نہی بیٹھا جا رہا تو شرافت سے آفس کے لیئے نکل پڑو۔” وہ اسے گھور کر کہتی واشروم میں گھسی تھی۔ اور وہ بھی اسکے پیچھے پیچھے اندر آیا تھا۔ شعلہ نے کمر پہ ہاتھ رکھ کر چندھیائ ہوئ نظروں سے گھورا تھا۔ میر عالم نے اسکی گھوری پہ نا سمجھی سے کندھے اچکائے تھے۔ شعلہ نے شہادت کی انگلی سے اسے باہر نکلنے کا اشارہ کیا تھا۔ عالم نے مسکراتی نگاہوں سے اسکی انگلی کے اشارہ کو دیکھا۔
” باہر نکلو۔۔۔” وہ دانت پیس کر اسے باہر نکلنے کا بولی۔
” نکل جاؤں گا۔ پر پہلے ایک بار پیار سے مسکرا کر دیکھو مجھے۔۔” وہ اسکے قریب ہوتا فرمائشی انداز میں گویا ہوا۔
” کس خوشی میں۔۔؟؟” وہ دونوں ہاتھ باندھ کر کسی سخت گیر استانی کی مانند مستفسر ہوئ۔
” کس خوشی میں۔۔؟؟ یہ بھی بھلا کوئ پوچھنے والی بات ہے۔ افکارس اتنی رومینٹک رات گزارنے کے بعد کم از کم تم مجھے آفس بھیجنے تک تو محبت بھری مسکان دے کر رخصت کر ہی سکتی ہو۔۔” وہ اسکی کمر کے گرد اپنے ہاتھ لپیٹ کر گویا ہوا۔
” یہ کیا فالتو کی حرکت کر رہے ہو۔ اب رات کو تمہیں من مانی کرنے دے دی۔ اسکا مطلب ہر گز نہی کہ تم بس ہر وقت ہی لگے رہو۔۔۔” وہ جھنجھلا کر کہتی۔ اسکے ہاتھ اپنی کمر پہ سے ہٹانے کے جتن کرنے لگی۔
” کیا مطلب تمہیں کیا لگتا ہے۔ میں تمہاری اجازت کا انتظار کرونگا۔” وہ ذرا سختی سے گویا ہوا۔ پر مقابل کھڑی لڑکی پہ کہاں اسکا غصہ اثر انداز ہونا تھا۔
” زیادہ خود کو ہٹلر بنانے کی ضرورت نہی ہے۔ اب باہر نکلو۔ مجھے نہانا ہے۔ عارض جاگ گیا ناں تو میں ہر کام سے رہ جاؤں گی۔۔” وہ ٹھنڈے لہجہ میں اس پہ حکم صادر کر رہی تھی۔
” چلو چھوڑ دیتا ہوں۔ کیا یاد کرو گی۔ پر آج رات میں گھر نہی آؤں گا۔ بلکہ تم ڈرائیور کے ساتھ پہلے عارض کو حیدر کی بیوی کے پاس چھوڑو گی۔ اسکے بعد تم ڈرائیور کے ساتھ میرے بھیجے گئے ایڈریس پہ پہنچو گی۔ تم نے تو میرے لیئے کچھ اسپیشل نہی کیا۔ پر میں نے تمہارے لیئے کچھ بہت اسپیشل پلین کیا ہے۔” وہ اسکے ہونٹوں پہ نرمی سے جھکتا واپس پیچھے ہٹا تھا۔
” نہی چاہیئے تمہارا کوئ اسپیشل پلین۔ بھلا فائدہ کیا ہوا تمہارے اسپیشل پلین کا طعنہ مار مار کر آخر میں بیوی کو اسپیشل پلین کا چونا لگا جاؤ..” وہ خفگی سے گویا ہوئ۔
” چلو زیادہ بنو مت میں کہہ رہا ہوں وقت پہ پہنچ جانا۔۔” عالم نے اپنی باہوں میں سما کر اسے خود میں بھینچا تھا۔ شعلہ کے ہونٹوں پہ سکون بھری ایک پیاری سی مسکان دوڑ آئ تھی۔
” اوکے میں چلتا ہوں۔۔” عالم اسکے ماتھے پہ بوسہ دے کر اس سے دور ہوا تھا۔
” نیچے سے ملازمہ کو بولو عارض کے پاس آکر بیٹھ جائے۔۔” وہ اسے نکلتا دیکھ کر واشروم کا دروازہ بند کرکے گویا ہوئ۔
وہ سر کو اثبات میں جنبش دیتا نکل گیا تھا۔ ملازمہ کو شعلہ کا پیغام دے کر۔ کلائ پہ بندھی گھڑی میں وقت دیکھتا وہ دفتر کے لیئے نکل چکا تھا۔
☆☆☆☆☆
شام کا وقت تھا۔ شعلہ آئینے کے آگے کھڑی خود کو ایک نظر دیکھ تسلی کرتی مڑی تھی۔ آج اسکا لباس سیاہ کے بجائے سرخ تھا۔ سرخ رنگ کی کھڑی لمبی ٹخنوں کو چھوتی کمیز اور اسکے ساتھ تنگ کھڑا بجامہ اسے مزید دراز قامت بنا رہا تھا۔ (Rose gold) کلر کی ہائ ہیلز ، کانوں میں درمیانے سائز کے ہوپس اسکے حسن کو چار چاند لگا رہے تھے۔ چہرے پہ سجا ہلکا ، ہلکا میک اپ اور بالوں کو آگے سے ٹویسٹ کرکے پیچھے ڈھیلی سی پونی اور بالوں میں سے نکلتی آوارہ لٹیں اس کے حسن کو چار چاند لگا رہی تھیں۔ وہ عارض کو بھی تیار کرچکی تھی۔ اپنا بیگ اٹھاتی عارض کو گود میں لے کر وہ نیچے آئ تھی۔ ملازمہ منہ کھولے اسے تکتی رہ گئ تھی۔
” میڈم آج تو آپ بڑی پیاری لگ رہی ہو ۔۔” ملازمہ کی بات پہ شعلا ہلکا سا مسکائ تھی۔
” تھینک یو۔۔ بائے دا وے گھر کا خیال رکھنا اور عارض کے کپڑے اوپر روم میں باسکٹ میں ہیں۔ انکو اٹھا کر لانڈری میں دھلوا دو ۔۔۔” وہ ملازمہ کو ضروری ہدایات دیتی۔ باہر آکر گاڑی میں بیٹھی تھی۔ کچھ ہی دیر میں گاڑی حیدر اور ساوری کے گھر کی جانب گامزن تھی۔ جب یکدم گاڑی کے ٹائر چرچرائے تھے۔ گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تھی۔ شعلہ نے عارض کو اپنے سینے میں بھینچا تھا۔ اسکی چھٹی حس اسے خطرے کا الارم بجا رہی تھی۔
” کیا ہوا گاڑی کیوں روکی۔۔۔؟؟” شعلہ نے اپنا آپ سنمبھال کر پوچھا۔
” میم آگے کوئ بہت سارے آدمی کھڑے ہیں۔ مجھے تو چور لگتے ہیں۔” ڈرائیور بھی ڈر چکا تھا۔
” تم عارض کو لو۔ اور گاڑی کے دروازے اچھے سے لاک کر دو۔۔۔ میں آتی ہوں۔۔۔” وہ عارض ڈرائیور کو تھاماتی گاڑی سے نیچے اتری تھی۔ وہ گاڑی سے اتر کر جیسے ہی انکی طرف قدم بڑھاتی آئ تھی۔ پیچھے سے ڈرائیور گاڑی لیکر فرار ہوگیا تھا۔ شعلہ نے حیرت زدہ ہوکر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ اسے کچھ سمجھ نہی آئی۔ اسنے ڈرائیور کو کھڑے ہونے کو کہا تھا۔ اور وہ عارض کو گاڑی میں لیکر نکل گیا۔ ایک دم سے بہت ساری گاڑیوں کے اسٹارٹ ہونے کی آواز پہ وہ مڑی تو وہ اب چلے گئے۔ وہ سب سمجھتی چلاتی ہوئ اپنی گاڑی کے سمت بھاگی تھی۔ ڈرائیور بھی غدار نکلا تھا۔ اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔ وہ چلاتی ہوئ گاڑی کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔ جب اونچی ہیل کے باعث وہ لڑکھڑا کر روڈ پہ ہی گری تھی۔ اسکے حواس سلب ہونے لگے تھے۔
“۔۔ عارض۔۔۔ میرا بچہ۔” وہ پھوٹ پھوٹ کر رہ رہی تھی۔
” نہی ۔۔۔ یہ رونے کا ٹائم نہی ہے۔ میرے بچے کو مار دیں گے وہ لوگ۔۔۔” وہ اپنے کراس باڈی بیگ میں سے موبائل نکال کر عالم کے نمبر پہ کال ملانے لگی۔ پہلی ہی بیل پہ عالم نے کال اٹینڈ کر لی۔ دوسری جانب سے عالم کی ہشاش سی آواز آئ۔
” ابھی تک نہی پہنچی تم۔ کب سے انتظار کر رہا ہوں۔۔”
” عالم۔۔۔ وہ لوگ عارض کو لے۔۔۔ گئے۔۔۔ عالم میرا ۔۔۔ بچہ ۔۔۔ وہ لوگ مار دیں گے میرے بچے کو۔۔۔ عالم۔۔۔۔۔ہہہ۔۔۔” وہ چلائ تھی۔
” کیا کہہ رہی ہو۔ تم۔مجھے کچھ سمجھ نہی آرہی۔۔۔” عالم کو کسی انہونی کا احساس ہوا تھا۔
” عالم ۔۔۔ وہ شخص ہمارے بچے کو لے گیا عالم۔۔۔” شعلہ ایک بار پھر سسکی تھی۔
” تم کہاں ہو اسوقت مجھے بتاؤ۔ میں تمہیں لینے آرہا ہوں۔۔” عالم نے سنجیدگی سے کہا۔
شعلہ نے اسے اپنا پتہ بتایا۔ تو عالم نے کال کاٹ دی کوئ بیس منٹ بعد عالم وہاں پہنچ چکا تھا۔ شعلا ویسے ہی روڈ کے بیچ و بیچ لٹی پٹی حالت میں بیٹھی تھی۔ عالم گاڑی سے اتر کر اسکے پاس آیا تھا۔ اور اسے اپنے ساتھ کھڑا کیا تھا۔ وہ عالم کو اپنے سامنے دیکھ اسکے سینے سے لگتی سسک پڑی تھی۔
” ساری میری۔۔۔۔ غلطی ہے۔۔۔ عالم سب میرا قصور ہے۔۔۔” وہ اسکے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
” شش سب ٹھیک ہوجائے گا۔ چلو جلدی۔۔۔ اس سے پہلے کے بہت دیر ہوجائے۔۔۔” عالم نے اسکی پیٹ سہلا کر اسے گاڑی میں لاکر بٹھایا۔ اور گاڑی وہ حیدر کے گھر کی جانب رواں دواں کر گیا۔
☆☆☆☆☆
” عالم بھائ یہ ڈرائیور نیا تھا ناں۔۔۔؟؟” حیدر نے عالم سے پوچھا۔
” ہاں ابھی کوئ پندرہ دن پہلے ، اس نئے ڈرائیور کو جاب دی تھی۔ مگر ریفرنس پہ دی تھی۔ پچھلے ڈرائیور کا جاننے والا تھا یہ۔۔” عالم نے گہری سانس لیکر اسے بتایا۔
” پرانے ڈرائیور کا کوئ کنٹیکٹ نمبر۔۔۔؟؟” حیدر نے جھٹ پوچھا۔
” نمبر ۔۔ ہاں شاید مصطفی کے پاس ہو۔ میں اسے کال کرکے اس سے مانگ لیتا ہوں۔۔” عالم نے موبائل پاکٹ سے نکال کر واٹس ایپ کھولا تھا۔ صد شکر اس وقت مصطفی آنلائن ہی تھا۔ عالم نے مصطفی کو کال ملائ۔ تھوڑی ہی دیر میں اسکی کال اٹھا لی گئ۔
” اسلام و علیکم عالم بھائ کیسے ہیں آپ۔۔۔ گھر میں سب کیسے ہیں۔۔۔؟؟” مصطفی کی سرشار سی آواز آئ۔
” وعلیکم ۔۔۔ اسلام ۔۔۔۔ آآ۔۔۔ مصطفی ۔۔۔ کیا پرانے ڈرائیور کا نمبر تمہارے پاس ہے۔۔؟” عالم نے سلام کا جواب دے کر جھٹ کام کی بات پوچھی۔
” کیوں خیریت۔۔۔؟؟” مصطفی کی حیران و پریشان سی آواز آئ۔
” وہ ایک اور ڈرائیور کی ضرورت ہے تو مجھے لگا اسی سے پوچھ لیں کیا پتہ دوسرا کوئ ڈرائیور بھی اسکی نظر میں ہو۔۔۔” میر عالم نے بہانا گھڑا۔
” مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے۔ بات یہ نہی جو آپ بتا رہے ہیں۔ بات کچھ اور ہے۔۔۔” مصطفی کو تشویش لاحق ہوئ۔
” ارے سچ کہہ رہا ہوں۔ تم بھی ناں۔۔۔!!
عجیب ہو ایک دم سے تمہارے اندر کا جاسوس جاگ جاتا ہے۔۔” عالم نے بات کو مذاق میں اڑانا چاہا۔
” پلیز کیا ہوا ہے۔ آپ ۔مجھے بتائیں۔ نہی تو ہم جس طرح سے گھر سے نکل کر گئے تھے۔ اُس بات پر تو آپ مجھ سے باز پرس کرتے۔ مگر آپ نے تو ڈائریکٹ ڈرائیور کا پوچھا۔” مصطفی بھی اسکی رگ رگ سے واقف تھا۔
” نہی یار ایسی کوئ بات نہی ہے۔ تم فالتو میں سوچ رہے ہو۔ بس میں تو ایسے ہی پوچھ رہا تھا۔۔۔” عالم سر تھام کر رہ گیا تھا۔ وہ مصطفی کو عارض کے اغوا ہونے کا بتا کر نازنین اور مصطفی کو پریشان نہی کرنا چاہتا تھا۔
” ٹھیک ہے آپ نا بتائیں کیا بات ہے۔ میں بیا کو کال کرکے پوچھا لیتا ہوں۔۔” مصطفی کی بات سن کر عالم کو آخر ہار ماننی ہی پڑی۔ اور اسنے تمام صورتحال سے مصطفی کو آگاہ کیا۔ مصطفی اسکی بات سن کر چکرا کر رہ گیا تھا۔ اسنے ڈرائیور کا نمبر عالم کو دیا۔ اور جلد سے جلد پاکستان واپس آنے کا بتا کر کال کاٹ دی۔ عالم اور حیدر نے پرانے ڈرائیور کو کال کی تو اسنے لاعلمی کا اظہار کیا۔ حیدر اور عالم پوری رات عارض کو ڈھونڈتے رہے۔ انہیں جہاں ، جہاں شک تھا۔ کہ عارض کو وہ لوگ وہاں لے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے ہر جگہ چھان لی تھی۔ وہ دونوں فجر سے کچھ دیر پہلے تھکے ماندے گھر لوٹے۔ شعلہ جو جلے پیر کی بلی بنی انکا انتظار کر رہی تھی۔ عالم کو اندر آتا دیکھ عالم کی جانب لپکی تھی۔
” عالم۔۔۔۔ عارض ۔۔۔ مل گیا ناں۔۔۔۔ عارض کہاں۔۔۔ ہے۔۔۔ میر۔۔۔؟؟” وہ پے در پے کئ سوال کرتی عالم کے شکستہ خوردہ وجود کو دیکھ کر ایک پل کو رکی تھی۔
” میرا بیٹا کہاں ہے عالم۔۔۔؟؟” وہ اسکو گریبان سے تھام کر سسکی تھی۔ ساوری نے منہ پہ ہاتھ دھرا تھا۔ وہ بہت زیادہ اسٹریس میں تھی۔ جس کے باعث اسے خود اندازہ نہی تھا کہ وہ کیا کر رہی ہے۔
” ہم۔۔۔ نے بہت کوشش۔۔۔ کی اسے ڈھونڈنے کی مگر۔۔۔۔” عالم نے گہری سانس لیکر کہا۔
” مگر کیا۔۔۔۔؟؟
مجھے کوئ اگر مگر نہی سننی مجھے میرا بچہ لاکر دو۔ تم نے کہا تھا۔ تم اسکو اور مجھے پروٹیکٹ کروگے۔ پر تم۔۔۔ میرے بچے کو پروٹیکٹ نہی کرسکے۔۔ عالم میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گی۔۔۔” وہ اسے گریبان سے جکڑے سرخ آنسوؤں بھری نظروں سے گھور کر گویا ہوئ۔
” شش۔۔۔ رونا بند کرو آجائے گا وہ۔ پریشان نا ہو۔۔۔” عالم نے اپنے بازو اسکے گرد لپیٹے تھے۔
” کیسے۔۔۔ رونا بند کروں میں۔ میرا چھوٹا۔۔۔ سا بچہ کس حال میں ہوگا عالم۔۔۔ تمہیں کیا پتہ۔۔۔ تم تو جانتے ہو اس آدمی کو کتنا ظالم ہے وہ۔۔۔” وہ سسک کر گویا ہوئ۔
” جانتا ہوں۔ پر یہ وقت جذباتیت دکھانے کا نہی ہے۔ دعا کرو۔۔۔ کہ عارض کو کچھ نا ہو۔۔۔” عالم نے آنکھیں قرب سے موند لی تھیں۔
حیدر انکا درد محسوس کرتا لب بھینچ گیا تھا۔ مگر وہ بھی بے بس تھا۔ کچھ نہی کرسکتا تھا۔ وہ اپنے جان عزیز بھائ کے لیئے۔
☆☆☆☆☆
