Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 09)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 09)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
” جی کیا بات کرنی تھی۔ اپ لوگوں نے کہیئے۔” بھابھی نے پرخلوص سے لہجہ میں کہا۔
“وہ ہمیں ۔۔۔” حیدر کی ماں نے بات شروع کرنے سے پہلے ایک نظر ساوری کو تکا۔
” ہمیں پتہ چلا کہ آپ لوگوں کے مالی حالات کچھ اچھے نہیں۔ اور اپکے شوہر کا روڈ ایکسیڈینٹ ہوا ہے۔ جس میں انکی ٹانگیں ایکسپائر ہوگئیں۔” انہوں نے چہرے پہ افسوس لاکرکہا۔
” جی۔۔۔ بس کچھ مہینے پہلے یہ حادثہ پیش آیا۔ جو اللہ پاک کو منظور۔” بھابھی نے انکساری سے کہا ۔
” جی بلکل جو اللہ کو منظور۔” حیدر کی خالہ نےسر ہلاتے سمجھنے والے انداز میں کہا ۔
” دیکھیئے ۔ ہم جانتے ہیں آپ لوگوں کو پیسوں کی ضرورت ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم آپکی کچھ مدد کر دیں پر اگر بدلے میں آپ لوگ ہماری کچھ مدد کر دیں تو۔۔۔ ہمیں بہت خوشی ہوگی۔” حیدر کی والدہ نے چہرے پہ مسکان سجا کر کہا۔
” ہم غریب لوگ آپکی۔۔۔۔۔ کیا مدد کرسکتے ہیں۔” بھابھی نے ناسمجھی سے کہا۔
اور پھر جو مدعا وہ دونوں سامنے رکھ کر گئیں۔ ساوری اور اسکی بھابھی اپنی جگہ جم کر رہ گئیں۔
” یہ کیسی بات کر رہے ہیں جی۔ آپ لوگ” پہلے بھابھی نے ہی ہوش سنمبھال کر بات کرنے کی کوشش کی۔
” ہم آپکو پریشرائز نہیں کریں گے۔ اگر آپ لوگوں کو لگے۔ کہ آپ لوگوں کو اس آفر کی ضرورت ہے۔ تو یہ میرا نمبر ہے اس پر کال کر دیجیئے گا۔” حیدر کی اماں نے اپنا نمبر بھابھی کے ہاتھ میں دیا تھا۔ اور دونوں جیسے آئ تھیں۔ ویسے ہی اٹھ کر جاچکی تھیں۔ ساوری اور اسکی بھابھی اپنی جگہ گم صم سی ہو کر رہ گئ تھیں۔
∆∆∆∆∆
میر عالم خان ابھی گھر پہنچے تھے۔ اور گھر پہنچتے ہی انہوں نے دیکھا ٹی وی لاؤنج میں ٹی وی آن تھا۔ اور وہاں پہ ہیڈلائنز چل رہی تھیں۔
مالک شاہ کی ایک ویڈیو کلپ بار بار دکھائ جا رہی تھی۔
یہ ویڈیو اس دن کی تھی۔ جس دن مالک شاہ نے شعلہ کو میر عالم کے نام کی سپاری دی تھی.
وہ کلپ میں بار بار میر عالم کا نام لے رہا تھا۔ اور اسکے بے دردی سے قتل کرنے کی تلقین دے رہا تھا۔ میر عالم شعلہ کے برابر میں آکر صوفہ پہ بیٹھا تھا۔
شعلہ نے ایک نظر میر عالم کو تکا۔ ٹی وی اسکرین پہ چلتے مالک شاہ کے تمام کالے دھندے بھی ایکسپوز ہوچکے تھے۔ باہر لان میں ان دونوں کے ولیمے کی تیاری ہورہی تھی۔ اور وہ دونوں ٹی وی اسکرین کو دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔
” میں نے کہا تھا ناں کہ میں ثبوت دونگی تو دیکھو دے دیئے۔ صرف یہ نہی اوروں کے راز بھی میرے پاس دفن ہیں۔ بس بات اتنی ہے کہ ثبوت ایکسپوز میں اپنے طریقے سے کرونگی۔” اسنے سنجیدگی سے کہا۔
” وہ۔۔۔ تو ٹھیک ہے۔ پر۔۔” میر عالم خان کچھ کہتے کہتے رکے۔
” پر کیا۔؟؟” شعلہ نے بھنوئیں اچکا کر اسے تکا۔ میر عالم بھی اسے ہی تک رہے تھے۔ دونوں کی نظریں ایک دوسرے کی نظروں سے جا ٹکرائیں۔ دونوں نے ایک دوسرے سے نگاہ چرائ۔
میر عالم نے اپنے کوٹ کا بٹن کھولا۔
” خوامخواہ مرے ہوئے آدمی کو بدنام کر دیا۔” میر عالم نے نرم لہجہ میں کہا.
” پہلے بتا دیتے مرے ہوئے ، آدمی کے بجائے۔ تمہیں بدنام کر دیتی۔” شعلہ نے آنکھیں گھما کر کہا ۔
” میرے ایسے کوئ کرتوت ہیں ہی نہیں کہ تم مجھے بدنام کر پاؤ۔” انکے چہرے پہ کہیں بھولی بھٹکی سی مسکان در آئ تھی.
” اور اگر میں کہوں. کہ ، ثبوت تو میرے پاس تمہارے خلاف بھی ہیں۔” وہ باقائدہ اسکی جانب مڑی تھی۔
میر عالم نے اسکے چہرہ کو بغور تکا تھا۔
” جھوٹ کافی اچھا بول لیتی ہو۔”
” میر عالم خان۔۔۔۔ اگر تمہیں جھوٹ لگتا ہے تو جھوٹ ہی سہی پر یاد رکھنا تمہارے کرتوتوں کی قیمت بہت بھاری ہے.” وہ اسکے کندھے پہ اپنی شہادت کی انگلی رکھ کر دھیرے سے سے انگلی کو اسکے بازو تک لائ تھی۔ اور جن نظروں سے شعلہ نے میر عالم کو تکا تھا. میر عالم اسے گھور کر رہ گئے تھے۔ شعلہ اٹھ کر اپنے کمرے میں گئ تھی۔ میر عالم نے اسکے جاتے ہی ارد گرد دیکھا تو۔ دور کھڑے مصطفی نے اپنی مسکان دبائ تھی۔
∆∆∆∆∆
ولیمے کی تقریب اپنے عروج پہ تھی۔ تمام مہمان آچکے تھے۔ میڈیا بھی جمع تھا۔ شعلہ عالم کا بازو تھامے باہر ائ تھی۔ ہر کوئ انہیں ستائش بھری نظروں سے تک رہا تھا۔ کسی کسی کی نظروں میں حسد بھی تھا. وہ دونوں جیسے ہی باہر آئے۔ فوٹوگرافر نے انکی ویڈیوز اور پکچرز بنانا شروع کردیں تھیں۔ کہیں سے تصویریں لی جا رہی تھیں۔ مختلف سیاسی پارٹیز کے کارکن۔ بڑی اہم شخصیات وہاں موجود تھیں۔ وہ دونوں ایک ساتھ چلتے ہوئے بے حد دلکش لگ رہے تھے۔
” مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میں کسی ریاست کی شہزادی ہوں۔ اور اپنے شہزادے کے ساتھ دنیا فتح کرنے جا رہی ہوں۔” اسکا لہجہ مسمرائز تھا۔
” سیریسلی۔۔۔۔۔!!! ۔” عالم نے آنکھیں ترچھی کرکے اسے دیکھا تھا۔
وہ بنا جواب دیئے مسکرائ تھی۔
وہ دونون سٹیج پہ جاکر بیٹھے تھے۔ لوگ انکے پاس آکر انکو تحفہ ، پھول ، دعائیں اور مبارک باد دے کر جارہے تھے۔
لوگ میر عالم کی شادی پہ حیرت کا اظہار بھی کر رہے تھے۔
انکے فوٹوشوٹ کا وقت آیا تو۔ کیمرہ مین نے پہلے دونوں کو ہاتھ تھام کر ایک دوسرے کے مقابل آکر کھڑے ہونے کو کہا۔ عالم نے اپنے ہاتھ شعلہ کے آگے پھیلائے۔ وہ دھیرے سے اپنے ہاتھ اسکے ہاتھ پہ دھر گئ تھی۔ دونوں زرا سا ایک دوسرے کے قریب آئے۔ اور ایک دوسرے کی سمت دیکھنے لگے تھے۔ کیمرہ مین نے تصویں کلک کی اور پھر دوبارہ انہیں پوزیشن چینج کرنے کو کہا۔
کیمرہ مین کی ہدایت پہ میر عالم نے عمل کرتے۔ شعلہ کو کمر سے تھام کر اپنے سینے سے لگایا۔ شعلہ کی بے ساختہ نگاہیں جھکیں تھی۔ ہاتھوں کی ہتھیلیاں بھیگی تھیں۔ ۔
اگلی ہدایت پہ شعلہ کی آنکھیں ابل کر باہر کو آئ تھیں۔
” نہی۔۔۔ بس اتنا ٹھیک ہے جتنا ہوگیا۔” اسنےگھبرا کر کہا۔
میر عالم نے ایک نظر اسکی اڑی رنگت کو تکا تھا۔ اور پھر ارد گرد دیکھا زیادہ تر لوگ انہی کی طرف متوجہ تھے۔
میر عالم نے کیمرہ مین کو ریڈی رہنے کا اشارہ کیا۔ وہ کیمرہ پکڑے کھڑا تھا۔ میر عالم نے شعلہ کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے قریب کیا۔ شعلہ نے ناسمجھی سے اسے تکا۔ اس سے پہلے کے وہ کچھ سمجھتی۔ عالم نے اسے دھیرے سے چہرے سے تھام کر اپنے دہکتے لب اسکے ماتھے پہ دھرے تھے. شعلہ نے اسکا لمس اپنے ماتھے پہ محسوس کرتے ہی اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں۔ بہت سے لوگ اس خوبصورت سے کپل کو دیکھ کر مسکرائے تھے۔
کیمرہ مین نے جلدی سے ایک کلک لیا تھا۔ شعلہ عالم کے لمس سے آزاد ہوکر بھی اسی لمس میں قید ہوگئ تھی۔
وہ سیدھی کھڑی ہوئ تھی۔ کیمرہ مین اب نازنین اور باقی کے فیملی میمبرز کے ساتھ انکی پکس لے رہا تھا۔
شعلہ کی نظر مصطفی پہ پڑی تو اسنے پاس کھڑی نازنین کو مصطفی کو بلانے کو کہا۔ نازنین منہ بناتی مصطفی کے پاس گئ تھی۔
” بھابھی بلا رہی ہیں تمہیں۔” پیغام بھی ایسے پہنچا رہی تھی۔ وہ جیسے حکم دے رہی ہو۔
” میں جاتا ہوں انکے پاس۔” مصطفی نے وہیں بیٹھے کہا۔
” جاتا ہوں کیا ۔۔۔ اٹھو اور جاؤ۔ کیا میری بھابھی تمہارے انتظار میں بیٹھی رہیں گی۔” نازنین نے تڑخ کر کہا۔ مصطفی چارو نا چار آٹھ کر اسٹیج تک گیا تھا۔ شعلہ نے اسے انکے ساتھ تصویریں بنانے کے لیئے بلایا تھا۔
” نہیں بھابھی۔۔۔ اٹس جسٹ اوکے۔” وہ معذرت کرکے اتر جانا چاہتا تھا۔
” نہیں ۔۔۔ کیا ہوتا ہے سیدھا کھڑے ہو ہمارے ساتھ آکر۔” اسنے اتنے مان سے بلا کر اپنے ہی ساتھ کھڑا کیا تھا۔
میر عالم نے بھی کیمرہ کی طرف ہلکا سا مسکرا کر دیکھا تھا۔
نازنین اپنی دوستوں کے پاس آکر بیٹھ گئ تھی۔ غصہ سے اسکی رنگت سرخ ہورہی تھی۔
” کوئ طریقہ نہیں جس سے میں اس شخص کو کہیں غائب کر دوں۔ مجھے نہیں چاہیئے یہ شخص ہماری خوشیوں میں۔” اسکی نگاہیں مصطفی پہ مرکوز تھیں۔ پوچھا اسنے اپنی بیسٹ فرینڈ سے تھا۔ جسکو اس دن مصطفی پہ بڑا زور والا کرش آیا تھا۔
” ہے۔۔ ناں۔۔ حل۔” اسکی دوست نے کمینہ پن سے ہنس کر کہا۔
” کیا ہے۔۔۔؟” نازنین نے بے تابی سے پوچھا۔
” نیند کی گولیاں اسکی ڈرنک میں ڈال دو۔ اور پھر دو تین منٹ بعد اسے اندر کوئ سامان لینے بھیج دو۔ جب تک وہ سامان ڈھونڈے گا۔ تب تک اسپہ نیند کا ایسا غلبہ طاری ہوگا۔ کہ وہیں ٹن سے سو جائے گا۔” اسکی دوست نے اسکے کان کے قریب آکر کہا۔ نازنین سر ہلاتی اندر بھاگی تھی۔ اسنے نیند کی گولیاں میڈیسن باکس میں سے نکالی تھیں۔ اور ان سب کا سفوف بنا کر لائ تھی۔ اسنے نظر بچا کر مصطفی کی ڈرنک میں نیند کی گولیاں ملا دی تھیں۔ مصطفی کو ان دونوں نے شربت پیتے دیکھا تو مسکرائ تھی۔
نازنین کو بھی اسکی دوست نے کوئ جوس پیش کیا تھا۔ جسے وہ مسکا کر دمکتے چہرے سمیت ایک ہی سانس میں پی گئ۔
اور پھر وہ پلین کے مطابق مصطفی کے پاس آئ۔
” اندر ایک گفٹ باکس رکھا ہوگا۔ لیکر آؤ۔ بھائ بھابھی کو دینا ہے میں نے۔” وہ اسکے سر پہ کھڑی حکم صادر کر رہی تھی۔
مصطفی نے جبڑے بھینچے تھے۔
” کسی ملازم سے کہہ دو۔” اسنے سرد لہجہ میں کہا۔
” ملازم سے ہی کہا ہے۔” تمسخر سے کہا۔
” میں تمہارا ملازم نہیں۔” اسکو تاؤ آیا تھا۔
” تمہارے نا ماننے سے حقیقت بدل نہیں جائے گی۔” اسکے الفاظ مصطفی کے دل میں اسکے لیئے مزید نفرت بھر گئے تھے۔
مصطفی تاؤ کے عالم میں اندر گیا تھا۔ وہ پلین کی کامیابی پہ مسکراتی اپنی دوست کے پاس آئ تھی۔ اسکی دوست نے غلطی سے اسکے کپڑوں پہ شربت گرا دیا تھا۔ وہ اپنے کمرے میں چینج کرنے گئ تھی۔ وہ ابھی اپنے روم میں آئ ہی تھی۔ کہ اسکی نظر مصطفی پہ پڑی جو اسکے روم میں نجانے کیا کر رہا تھا۔
” یہاں کیا کر رہے ہو۔” وہ بھڑکی تھی۔
” گفٹ۔۔۔ جسکے لیئے ، آپ نے بھیجا تھا۔ وہ لینے آیا ہوں۔ نیچے تو مجھے کہیں نہیں ملا تو مجھے لگا۔ کہ آپکے کمرے میں ہوگا۔” اسنے سرد لہجہ میں کہتے۔ اپنا کوٹ جھٹکا تھا۔
” ہاں۔۔۔ یہاں نہیں ہے نیچے جا کر دیکھو۔” اسنے تھوک نگل کر کہا۔
مصطفی سر جھٹکتا جیسے ہی اسکے پاس سے ہوکر گزرنے لگا۔ نازنین کا پیر رپٹا۔ اسکو گرنے سے بچانے کے لیئے۔ مصطفی نے اسے تھاما۔ دونوں کا بیلنس بگڑا اور دونوں سیدھا بیڈ پہ گرے تھے۔ نازنین نے غصہ سے گھورا۔ مصطفی نے اٹھنا چاہا۔ پر نازنین کی چین اسکے کوٹ کے بٹن میں پھنسی تھی۔ نازنین اسکی قربت سے دور جانے کے لیئے پھڑپھڑائ تھی۔ اسنے زور سے اٹھنا چاہا جب مصطفی نے اسکی کلائ تھامی۔
” صبر میں نکالتا ہوں۔” مصطفی نے اسکی کلائ چھوڑ دی تھی۔
” جلدی کرو میں تمہارے ساتھ۔ دو منٹ بیٹھ نہیں سکتی کجا کہ تمہارے سے ۔ ایسے رہنا۔” وہ غصہ سے گرجی تھی۔
” مجھے بھی کوئ خواہش نہیں ہے۔” وہ پاکٹ نکالنے کے جتن کرتا جل کر گویا ہوا۔
نازنین کا سر ایکدم بھاری ہونے لگا تھا۔ وہ دھیرے سے اپنا سر نا چاہتے ہوئے بھی۔ مصطفی کے سینے پہ دھر گئ تھی۔ مصطفی کا اپنا سر بھاری ہو رہا تھا۔ چین نکالتے نکالتے کب اسکی آنکھیں بند ہوئیں ان دونوں کو خبر نا ہوئ۔
