Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 03)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 03)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
اب منظر تبدیل ہوچکا تھا۔ اسنے میر عالم شاہ کو صوفہ پہ رسیوں سے جکڑ رکھا تھا۔ وہ بے بسی و طیش کی کیفیت سے دوچار تھے۔ شعلہ انکے مقابل پیر پہ پیر چڑھاۓ بیٹھی تھی۔ شعلہ کی آنکھیں اپنی فتح مندی پہ چمک رہی تھیں۔
” میرعالم خان۔۔۔” وہ گردن اکڑا کر اپنے لبوں پہ انکا نام لائ تھی۔
میر عالم خان نے اسے تقریب کھا جانےوالی نگاہوں سے اسے گھورا تھا۔
” جانتے ہو تمہیں قتل کرنے کو مجھے کتنی رقم مل رہی ہے۔” شعلہ نے اپنی کالی زلفوں کو اپنی انگلیوں پہ لپیٹ کر۔ ہونٹوں پہ پر اسرار سی مسکراہٹ سجا کر کہا۔
“اس بات سے مجھے کوئ سروکار نہیں۔ مجھے آزاد کرو۔ نہیں تو۔۔۔۔ میں چیخ چلا کر یہاں چند لمحوں میں تمہاری قبر کھدوا دوں گا۔” میر عالم خان نے اسے کو ا
اسکی بات پہ شعلہ کا قہقہ بے ساختہ تھا۔ اسکے قہقہ لگانے پہ انہیں اندازہ ہوچکا تھا۔ کہ وہ مکمل ہوم ورک کرکے آئ ہے۔
” ہنہ سیاست کا حصہ ہیں آپ۔ پھر بھی اتنے بھولے ہیں۔ آپکی سماعت میں ، زرا سا رس گھولتی ہوں۔ ذرا غور سے سننا۔ کیا آپکو میں اتنی بھولی لگتی ہوں۔ کہ کسی کو قتل کرنے جاؤں گی۔ اور اسکے بارے میں اتنا بھی پتا نہیں ہوگا۔ کہ یہ کمرہ ساؤنڈ پروف ہے۔ بلکہ اس گھر کی ہر دیوار ساؤنڈ پروف ہے۔ اب تم چیخو چلاؤ یا پھر تم ایسا کرو کہ اس کمرے کی ہر چیز کو اٹھا کر تہس نہس کر لو۔ اپس۔۔۔ پر تم تو بندھے ہوۓ ہو۔ تم تو اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتے۔ سیڈ لی تمہارے پاس اپنی جان بچانے کے لیۓ ایک ہی آپشن بچتا ہے۔ اگر وہ آپشن جاننا چاہو تو بتا دینا میں تو چلی سونے۔” وہ مصنوئ انگڑائ لے کر اپنے پیر ٹیبل پہ رکھ کر خود پرسکون کرتی آنکھیں موند گئ تھی۔
میر عالم خان نے گہری سانس لیکر اپنا غصہ پیا۔ اور ہونٹوں پہ جبری مسکان طاری کرتا اس سے مستفسر ہوا تھا۔
” کیسا۔۔ آپشن۔؟”
اسنے ایک آنکھ کھول کر اسے دیکھا۔
” دس کروڑ۔” پرسکون لہجہ میں کہا۔
” ایسا سوچنا بھی مت ۔۔۔۔۔ !!! کہ میں تم جیسی فراڈ لڑکی کو اپنی جان بخشی کے لیۓ اتنی بڑی رقم دونگا۔” وہ بھڑکا۔
” ٹھیک ہے پھر مجھے بیوہ ہونے کا کوئ افسوس نہیں ہوگا۔” شعلہ نے آنکھیں واپس موندی۔
” کیا کہا۔۔۔ تم نے۔” انکو اپنی سماعت پہ شبہ ہوا۔
” کچھ نہیں کہا۔ پانچ منٹ سوچ سمجھ لے پھر بتا دے۔” وہ اپنا سر ہاتھوں میں گرا گئ تھی۔
” میرے پاس دس کروڑ نہیں۔”
” پانچ سو کروڑ کی جائیداد کے مالک کے پاس ، دس کروڑ نہیں۔” اسنے ویسے ہی جھکے سر کہا۔
” کیش نہیں ہے۔” میر عالم خان نے ہار مانی۔
” چیک دے دو۔” اسنے ایک جھٹکے سے سر اٹھایا۔ اسکی زلفیں بھی اسکے چہرے کے اطراف ناچنے لگی تھیں۔
” اسکے لیۓ پہلے تمہیں ، مجھے کھولنا پڑے گا۔” اسکی بات پہ شعلہ نزاکت سے ہنسی۔
” مجھ سے زیادہ چالو نہیں ہے تو۔” اسکی بات پہ میر عالم کا موڈ بگڑا تھا۔ خیر کچھ لمحوں بعد اسنے چیک سائن کر دیا تھا۔ اور شعلہ اسے بنا کھولے کھڑکی اور پھر دیوار بھی پھلانگ گئ تھی۔
” میر عالم اسکی بدتمیزی پہ چیختا چلاتا رہ گیا تھا۔
٭٭٭٭٭
سورج کی کرنیں ، ارد گرد پھیلی موسم کو دلکش بنا رہی تھی۔ پرندے اپنے رب کی حمد و ثنا میں مشغول تھے۔ ساوری لگی آفس جانے کی تیاری کر رہی تھی۔ اسنے گرے اور کریم کلر کا لان کا سوٹ پہنا تھا۔ سوٹ کی کرتی سمپل اور اسٹائلش سلی ہوئ تھی۔ ساوری نے چہرے پہ ہلکا سا میک اپ کیا تھا۔ اور سر پہ گرے کلر کا ہی حجاب باندھا ہوا تھا۔۔ وہ گھرسے دفتر کے لیئۓ بنا ناشتہ کیۓ نکلی۔ دفتر کا پہلا دن تھا۔ گبراہٹ عروج پہ تھی۔ جب وہ دفتر پہنچی تو ورکرز آرہے تھے۔ اسکو ریسیپشنسٹ نے باس کے آفس میں جانے کو کہا۔ وہ اس وقت آفس میں سائڈ پہ رکھی اپنی سیٹ پہ بیٹھی تھی۔ ایک چھوٹا مگر نفیس سا ورکنگ ڈیسک اسکا تھا۔ ساوری نے دھیرے سے ڈیسک کی سطح پہ ہاتھ پھیرا۔ اسے اب بھی یقین نہیں آرہا تھا۔ کہ اسکی نوکری لگ گئ۔
” آپ۔۔۔۔ وقت کی کافی پابند لگتی ہیں۔” حیدر جیسے ہی اپنے آفس روم میں داخل ہوا۔ تو داہنی طرف پرسنل سیکرٹری کی ڈیکس پہ ساوری کو بیٹھے پایا۔
ساوری جھٹ کھڑی ہوئ تھی۔
” پلیز بیٹھیں۔” حیدر اپنی جیئر پہ جاکر بیٹھے تھے۔ ساوری اسکی اجازت ملتے ہی واپس بیٹھی تھی۔
” مس ساوری۔ میری پچھلی سیکٹری ایک ہفتہ تک آپکو کام کے حوالے سے ٹرین کریں گی۔ اسکے بعد آپکو کام خود کرنا پڑے گا۔ لو آگئیں مس ، بلکہ مسز ثانیہ واسق۔” حیدر اندر آتی ثانیہ کو دیکھ کر مسکرایا تھا۔
” گڈ مارننگ۔” ثانیہ نے خوشدلی سے مارننگ وش کیا تھا۔
“گڈ مارننگ۔۔۔ ثانیہ اب آپ نے مس ساوری کو اچھے سے ہر ایک چیز کے بارے میں بریف کرنا ہے۔” حیدر نے سنجیدگی سے کہا۔
” اوکے سر ایک ہفتہ بعد یہ مجھ سے بھی اچھا کام کریں گی۔”ثانیہ ساوری کو دیکھ کر مسکرائ تھی۔
” ویل ۔۔۔ یہ تو ایک ہفتہ بعد ہی پتہ چلے گا۔” حیدر نے کچھ فائلز کے صفحہ پلٹتے کہا۔
” ساوری آؤ پہلے میں آپکو آفس دکھا دوں۔”
“ج۔۔جی اوکے۔” وہ جھٹ اٹھی تھی۔ وہ دونوں آفس سے نکل کر اب پورا آفس وزٹ کر رہی تھیں۔
٭٭٭٭٭
” کہاں جارہی ہو در۔” درفشاں جو سجی سنوری نجانے کہاں کی تیاری میں تھی۔ اپنی ساس کی پکار پر وہ بیزاریت سے مڑی تھی۔
” خالہ جانی کیا اب مجھے ، اپنے آنے جانے اپڈیٹ بھی آپکو ، دینی پڑے گی۔” اسکا لہجہ دھیما۔ مگر سلگتا ہوا تھا۔
” میں نے تو بس۔۔۔” وہ جز بز ہوئ تھیں۔
” میں نے تو بس کیا خالہ جانی۔ آپکو اندازہ ہے۔ اس وقت آپ میرے منٹ ضائع کر چکی ہیں۔ باۓ دا وے جو بھی بات ہے۔ ذرا جلدی کہیں۔” اسنے اک ادا سے کلائ پہ بندھی گھڑی کو دیکھا۔
” جانتی ہوں۔۔۔ بہت مصروف ہو تم پر۔۔۔ در چار سال ہو چکے ہیں۔ تمہاری اور حیدر کی شادی کو۔ اب ہم پوتا پاتی چاہتے ہیں۔” انہوں نے بڑی حسرت سے دامن بچھایا تھا۔
” خالہ جانی۔۔۔!! مجھے یقین نہیں آرہا ، کہ آپ مجھے فورس کر رہی ہیں۔ ایک بچہ نہیں ہوگیا۔ میری زندگی کا عذاب ہوگیا۔” اسنے بے فضول کا تماشا لگا کر انہیں شرمندہ کرنا چاہا۔
” کیسی باتیں کر رہی ہو۔ کیا تم کو خواہش نہی بچوں کی۔”
وہ انکی بات پہ طنزا مسکائ تھی۔
” نہیں۔۔۔ بلکل نہیں۔” وہ لفظ ، لفظ چبا کرتی مزید کوئ سنے نکل گئ تھی۔ اور وہ نم آنکھوں سے اسے جاتا دیکھتی رہ گئ تھیں۔
٭٭٭٭٭
” سر آپکو ایسے باندھ کر کس نے رکھا ہے۔” مصطفی کمرے کی صورتحال دیکھ بھونچکا کر رہ گیا تھا۔
” پلیز۔۔۔۔ پہلے مجھے کھولو مصطفی۔” وہ بیزاریت سے گویا ہوۓ تھے۔
مصطفی نے جھٹ بنا وقت ضائع کیۓ۔ میر عالم کو رسیوں کے اس چنگل سے آزاد کیا۔ رسیاں کھلتے ہی انہوں نے اٹھنا چاہا۔ مگر درد سے کراہ کر رہ گۓ۔
” سر آرام سے۔” مصطفی نے اسے سہارا دیا۔
” آہ۔۔۔۔ مصطفی سب سے پہلے وہ چیک باؤنس کرواؤ۔” میر عالم نے کراہتے کہا۔
” سر ۔۔۔۔ کونسا چیک۔؟؟” مصطفی کے حیرت کی کوئ انتہا نا تھی۔
” وہی چیک ، جو کل رات وہ آوارہ لڑکی مجھ سے سائن کروا کر گئ ہے۔” میر عالم بیڈ پہ ڈھے گۓ تھے۔
” سر۔۔۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی۔” وہ متحیر سا کھڑا تھا۔
” سب چھوڑو ۔۔۔۔ چیک کا سیریل نمبر سینڈ کر دیا ہے تمہیں۔ جاکر اسے ابھی اسی وقت باؤنس کر دو۔” میر عالم نے بستر پہ پڑا، اپنا موبائل اٹھایا تھا۔
” شٹ۔۔۔۔۔ شٹ ، شٹ۔۔۔۔” وہ یکدم غصہ سے بے قابو ہوۓ تھے۔
” بہت شاطر ہے۔ چیک کیش کروا لیا اسنے۔”
” پر سر رقم تھی کتنی۔۔؟؟۔” اب مصطفی کو بھی فکر ہوئ تھی۔
” دس کروڑ۔”
مصطفی کو ایسا لگا تھا۔ کہ ایک پل میں ساتوں آسمان اسکے سر پہ آ پڑے ہوں۔ وہ سر تھام کر رہ گیا تھا اور زبان تو مانوں تالو سے چپک کر رہ گئ تھی۔
٭٭٭٭٭
” دیکھو ساوری سر کی میٹنگس ، وزٹس، پروفیشنل لنچز، ڈنرز ان سب کو تمہیں پہلے ارینج کرکے رکھنا پڑے گا۔ جیسے ہی سر آفس آئیں، تم انکو پورے دن میں کیا کیا کرنا ہے بتہ دینا۔ اور کافی۔۔۔۔ کا خاص خیال رکھنا۔ کیونکہ کافی وجہ سے میری بھی بہت بار بے عزتی ہو چکی ہے۔” ثانیہ آجری بات پہ ہنسی تھی۔
” جی میں ان سب باتوں کا خیال رکھوں گی۔” ساوری نے کسی سعادت مند شاگرد کی طرح بہت احترام سے کہا۔
” گڈ چلو سر کی کافی کا ٹائم ہوگیا ہے۔” ثانیہ نے اسے اٹھنے کو کہا۔ وہ اسکے ساتھ جیسے ہی سر کے آفس میں گھسی۔ وہاں کا تو حال ہی کچھ اور تھا۔
” حیدر میں بات پہلے ہی ختم کر چکی ہوں۔ اب یہ تمہارا کام تھا۔ کہ تم اپنی ماں کو بتاؤ۔” در فشاں چیئر پہ بیٹھی، ازلی خود سر لہجہ میں گویا ہوئ۔
” در پلیز گھر جاؤ۔ گھر پہ بات ہوگی۔” حیدر نے ان دونوں کو دیکھ کر بات کو سمیٹنا چاہا۔
” بات یہیں ہوگی۔ جو بھی ہوگی۔” اسکا لہجہ ضد سے مزین تھا۔
” در تماشا مت لگاؤ۔” حیدر کے لہجہ میں واضح وارننگ تھی۔
” تماشہ میں نے نہیں تمہاری ماں نے لگایا ہے۔” وہ ٹیبل پہ ہاتھ مارتی غرائ تھی۔ حیدر نے اسے کھا جانے والی نظروں سمیت گھورا تھا۔
” اپنی ماں کو سمجھا دو۔ میں بچہ پیدا کرنے والی کوئ مشین نہیں ہوں۔” وہ تن فن کرتی وہاں سے نکل گئ تھی۔
حیدر ان دونوں کے سامنے شرمندہ ہورہا تھا۔
” سر ہم آپکی کافی بنا لاکر لاۓ۔” ثانیہ نے ایسا شو کیا جیسے اس نے کچھ دیکھا ہی نا ہو۔ ساوری جو سارا تماشا دیکھ حیرت زدہ سی کھڑی تھی۔ ثانیہ نے اسے کلائ سے تھام کر اپنے پیچھے دفتر میں ہی بنے منی کچن میں گھسیٹا تھا۔ حیدر سر تھام کر بیٹھا تھا۔ کچن سے آتی ساوری کی آواز کی سمت متوجہ ہو گیا۔
” یہ۔۔۔ سر کی وائف تھیں۔” ساوری نے اپنے تئیں بڑے ہی دھیمے لہجہ میں پوچھا۔
” ہمم۔” ثانیہ نے کافی پھینٹتے کہا۔
حیدر اشتیاق میں اٹھ کر کچن کے دروازے کی اوٹ میں کھڑا ہوا تھا۔
“سر بہت ظالم لگتے ہیں۔ بے چاری سے اتنے بچے پیدا کروا لیئے کہ اب وہ مزید بچے ہی نہیں چاہتی۔” ساوری نے افسوس کیا۔
” ہنہ۔۔۔ ایسا کچھ بھی نہیں۔ سر کے ہاں کوئ اولاد نہیں۔” ثانیہ کو اسکی بات پہ ہنسی آئ تھی۔ حیدر کچن میں ساوری کی پشت پہ آ کھڑا ہوا تھا۔
اسکی آواز پہ ساوری اچھل کر پیچھے مڑی تھی۔ حیدر گھور ساوری کو رہا تھا پر مخاطب اسنے ثانیہ کو کیا تھا۔
” مس ثانیہ۔۔۔ اگر باتیں بنا کر فرصت مل گئ ہو تو، میری کافی مجھے ملے گی مجھے۔” ساوری نے تھوک نگل کر نظریں چرائ تھیں۔
٭٭٭٭٭
” بھائ کہاں ہیں۔؟؟؟” نازنین نے بال جھٹک کر پوچھا۔
” سر اس وقت اسٹڈی روم میں ہیں۔ اور انہوں نے منع کیا ہے کسی کو اندر آنے سے۔” مصطفی نے سنجیدگی سے کہا۔
“مجھے پیسے چاہیئں، ٹرانسفر کر دو۔” حکم صادر کیا گیا۔
” پر ابھی ۔۔۔ کل ہی تو دیۓ تھے۔ بیس لاکھ۔۔۔”
” اوقات میں رہو سمجھے۔ جتنا کہا ہے۔ بس اتنا کرو۔” وہ انتہائ غصہ سے گویا ہوئ۔
” نازنین ۔۔۔ دیکھو ۔۔ تم سر سے اتنے پیسے فلحال نا مانگو۔ انکو الیکشن کے لیئے پیسے کی بہت ضرورت ہے۔” مصطفی نے اس بدتمیز بے باک لڑکی کو سمجھانا چاہا۔
” اوہ مائے گاڈ ۔۔۔ میں نے تمہیں ہزار بار کہا ہے میرے منہ مت لگا کرو ایک نوکر ہو۔ نوکر ہی بن کر رہو۔” اسکے الفاظ آگ برسا رہے تھے۔
” اتنا غرور بھی اچھا نہیں ہوتا مس نازنین خان۔ وقت کب بدل جائے کسی کو کوئ خبر نہیں ہوتی۔ نجانے کب کس کا درجہ کس سے اونچا ہوجائے۔” مصطفی کو اسکے انداز پہ ہمیشہ کی طرح تاؤ آیا تھا۔
” ہاہاہا۔۔۔۔ کیسے بے ہودہ مذاق کرتے ہو تم۔ دو کوڑی کی بھی نہیں تمہاری اوقات۔ اور تم مجھ سے اپنا درجہ اونچا ہونے کی بات کرتے ہو۔” اسکی ایک نظر میں کیا کچھ نہیں تھا۔ اسکی تحقیر بھری نظریں مصطفی کو آج پھر توڑ گئ تھیں۔
” تم سے بات کرنا ہی فضول ہے۔” مصطفی نے تنک کر کہا۔ اور وہاں سے واک آؤٹ کر گیا۔
٭٭٭٭٭
