Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 21)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

میر عالم شعلہ کی طبیعت بہتر دیکھ آج صبح جلدی نکل گئے تھے۔ شعلہ کمرے کی بالکنی میں آکر کھڑی ہوئ تھی۔ صبح کی ٹھنڈی ہوائیں۔ اور سورج کی ہلکی نرم کرنیں۔ اسکے بوجھل بیمار وجود پہ اچھا تاثر ڈال رہی تھیں۔ وہ چائے کا کپ ہاتھ میں تھامے ، نجانے کن سوچوں میں گم تھی۔ اسکے چہرے سے اسکے اندر چل رہی الجھنوں کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ قریبا آدھے گھنٹے تک وہ وہاں ٹہلتی رہی۔ اور پھر کپ لیئے اندر چلی گئ۔ اندر آکر اسنے اپنے لیئے صاف کپڑے نکالے۔ پر آج بھی ان کپڑوں کا رنگ سیاہ ہی تھا۔

” میں نے کچھ منگوایا تھا۔ ابھی تک پہنچا نہی۔۔” شعلہ نے موبائل کان سے لگائے مقابل سے سنجیدگی سے پوچھا۔

” آپ کا پارسل بس آتا ہی ہوگا۔۔” موبائل سے ایک مردانہ آواز بر آمد ہوئ۔

” ہمم ۔۔۔ میں انتظار کر رہی ہوں۔ یہ پارسل مجھے ہر صورت آج ہی چاہیئے۔۔۔” شعلہ نے گہری سانس لیکر کہا۔

” آپ بے فکر رہیں۔ پہنچ جائے گا۔”

شعلہ نے سرد سانس ہوا کے سپرد کرتے کال کاٹ دی تھی۔

اسنے ایک نظر پورے کمرے کو دیکھا۔ نجانے کتنے ہی جگہ اسے اپنا اور عالم کا عکس دکھا۔ وہ لب بھینچ کر آنکھیں موند گئ تھی۔

” شعلہ ۔۔۔ تمہیں کمزور نہی پڑنا ، تمہیں ہمت کرنی ہے۔” اسکی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے۔ وہ دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہوئ۔

اسکا حلق خشک تھا بے حد خشک اسے تھوک نگلنے میں بھی مشکل درپیش آرہی تھی۔

کئ ساعتیں گزری ، تو اسکے کمرے کا انٹر کام بجا۔ اسنے انٹر کام اٹھا کر کان سے لگایا۔

” میم آپکا پارسل آیا ہے۔” فاطمہ کی آواز سن کر وہ سیدھی بیٹھی تھی۔

” اوکے اوپر میرے روم میں بھجوا دیں۔”

کچھ ہی دیر بعد اسکا پارسل اسکے روم میں تھا۔ وہ پارسل لیتی۔ کمرے کا دروازہ بند کرکے ڈریسنگ روم میں آئ تھی۔ پارسل کھولا۔ اس میں سے کچھ ڈیکوریشن آئٹم نکلے۔ شعلہ نے ساری چیزوں کے اندر اچھے سے جھانکا ان سب میں پوشیدہ کیمرے نصب تھے۔ ایک لیمپ اٹھا کر اسنے بیڈ روم میں پڑے ڈریسنگ ٹیبل کہ برابر میں رکھے ٹیبل پہ رکھا۔ وہ ٹیبل ایسے رکھا تھا۔ کہ وہاں سے کمرے میں ہونے والی ہر کارگردگی پہ نظر رکھی جا سکتی تھی۔

ایک لاٹس کی شیپ میں بنا پیپر وڈ تھا۔ اسے وہ اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے تھامتی۔ میر عالم کے سٹدی ایریا میں لائ تھی اور اسکے ٹیبل پہ رکھا تھا۔ وہ پیپر وڈ جس رخ بھی جاتا۔ وہ ہر جگہ سے کیمرہ کی آنکھ رکھتا تھا۔ شعلہ لب کچل کر پیچھے ہوئ۔

اور اپنے اگلے قدم کی جانب اسکی تیاری شروع ہوگئ۔

” تیار ہو۔” اسنے موبائل کان سے لگایا۔

” جی۔۔ بلکل تیار ہوں۔۔۔” مقابل نے تابعداری سے کہا۔

” ہمم۔۔” وہ۔سنجیدگی سے کہتی اوپر اپنے کمرے میں واپس آئ تھی۔

ہر چیز کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ کر گہری سانس لیتی وہ اپنا بیگ لیتی کھڑکی اور پھر دیوار دونوں کو پھلانگ گئ تھی۔ جس راستے سے وہ کبھی انکی زندگی میں آئ تھی۔ آج اسی راستے سے انکی زندگی سے چلی گئ تھی۔

☆☆☆☆☆

عالم جب گھر واپس آئے شام میں ۔ شعلہ کا کہیں آتہ پتہ نہی تھا۔ وہ غائب تھی۔ عالم نے گھر کا چھپا چھپا چھان مارا پر شعلہ نا ملی۔ انہیں اسکی فکر ہوئ۔ وہ عجلت میں خود ہی اپنی گاڑی لیکر نکلے تھے۔ انکی گاڑی روڈ پہ پڑتے ہی درختوں کی اوٹ میں کھڑے شخص نے موبائل کان سے لگایا تھا۔

” نکل گیا ہے وہ۔”

میر عالم انتہائ رش ڈرائیونگ کر رہے تھے۔ انہیں نہی پتہ تھا وہ کہاں ملے گی۔ وہ تیز سپیڈ سے گاڑی چلا رہے تھے۔ جب سامنے سے آتی ایک عورت انکی گاڑی سے زور دار ٹھوکر کھاتی روڈ کی دوسری جانب گری تھی۔ گاڑی کو بریک لگانی چاہی پر گاڑی کا بریک کام نہی کر رہا تھا۔ انکے چہرے پہ پسینہ نمودار ہوا۔ وہ بے قابو ہوئ گاڑی کو سنبھالنے کی کوشش میں ہلکان ہوگئے۔ اور یکدم انکی گاڑی درخت سے ٹکرا گئ تھی۔ خاموش فضا میں گاڑی کی درخت سے لگنے کی آواز پہ۔ ارد گرد سے کئ لوگ آکر اکھٹا ہوئے تھے۔

اور ایمبولینس کو کال کرکے بلایا گیا۔ ایمبولینس آئ۔ اس عورت کو بھی اٹھایا۔ اور میر عالم کو بھی گاڑی سے نکالا۔ انکا بے حد برا ایکسیڈینٹ ہوا تھا۔

مصطفی پریشان سا ہسپتال کے کوریڈور میں کھڑا تھا۔

نازنین بھی ہاسپٹل آئ تھی۔ اسکی حالت بہت خراب ہورہی تھی۔ وہ سسکتی ہوئ مصطفی کے گلے لگی تھی۔ مصطفی نے دھیرے سے اسکی کمر سہلائ تھی۔

” مصطفی۔۔۔ بھائ کو کیا ہوگیا۔۔۔ مصطفی بھیا ٹھیک ہیں ناں۔۔۔!!” وہ پھوٹ پھوٹ کر سسک رہی تھی۔ آنکھیں تو مصطفی کی بھی نم تھیں۔ پر یہ وہ وقت تھا جب صبر اور دعا کے سوا کچھ نہی کیا جاسکتا تھا۔ انکی حالت انتہائ کریٹکل تھی۔

ہر چھوٹے بڑے نیوز چینل پہ انکی گاڑی سے ہٹ ہوئ عورت اور انکے بری طرح ہوئے ایکسیڈینٹ کی خبریں سرخ پٹی پہ چل رہی تھیں۔ شعلہ کا اب بھی کوئ آتہ پتہ نا تھا۔ مصطفی ادھر سے ادھر چکر لگا لگا کر تھک چکا تھا۔ حیدر بھی رات کو ہی آگیا تھا۔ میر عالم کے والد بھی ہاسپٹل میں تھے۔ غرض میر عالم سے جڑا ہر رشتہ اس وقت اسکے لیئے وہاں موجود تھا۔ سوائے ایک کے۔ اور وہ تھی۔ میر عالم کی شریک سفر۔ شعلہ۔۔۔ جسکی کوئ خبر نہی تھی۔

وہ عورت زندگی اور موت سے لڑتے لڑتے آج دن میں خالق حقیقی سے جا ملی تھی۔

حالت میر عالم کی بھی ناساز تھی۔ انہیں کل رات سے اب تک ہوش نہی آیا تھا۔ وہ کوما میں تھے۔ اور ڈاکٹرز انکے ہوش میں آنے کی کوئ خاص امید بھی نہی دلا رہے تھے۔

سب بہت پریشان تھے۔ میر عالم کے لیئے بہت دعائیں مانگی جا رہی تھیں کہ اسکی حالت سنمبھل جائے۔ پر میر عالم کو ہوش نہی آیا۔

قیامت تو تب ٹوٹی ان سب پہ جب نیوز پہ چلنے والی خبریں ان تک پہنچی۔ میر عالم کی کرپشن اور نجانے کیا کیا۔ کسی عورت سے ناجائز تعلقات کی تصاویر۔ جو لوگ اب تک انکے لیئے دعائیں کر رہے تھے۔ اب وہی تمام لوگ ان کو کوس رہے تھے۔ شعلہ کے غائب ہونے کی خبریں بھی نیوز چینل پہ پھیل چکی تھیں۔ میر عالم کی ساخ مکمل طور پہ ڈوب چکی تھی۔ انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ سب ختم ہوچکا تھا۔ مصطفی ڈھے سا گیا تھا۔ میر عالم کی سالوں کی محنت برباد ہوچکی تھی۔

حیدر نے بہت کوشش کی وہ تمام خبریں بند کروانے کی پر ناکام رہے۔

ڈاکٹرز نے میر عالم کی جانب سے جواب دے دیا تھا۔ کہ وہ کومہ میں کب تک رہیں گے کچھ کہا نہی جاسکتا۔ وہ اس وقت بھی ہسپتال میں تھے۔ میر عالم کو کومہ میں گئے ایک مہینہ ہونے کو آیا تھا۔ پر انکے وجود میں ذرا سی بھی جنبش نا ہوئ۔

” مصطفی میں چلتا ہوں۔ کوشش کرو بھائ کو گھر شفٹ کروا لیں۔ نرس رکھ لیں گے جو انکا خیال رکھ سکے۔” حیدر نے سنجیدگی سے کہا۔

مصطفی نے دھیرے سے سر اثبات میں ہلایا۔ حیدر مصطفی کے کندھے پہ دلاسہ بھری تھپکی دے کر نکل گئے تھے۔ مصطفی سنجیدہ سی نگاہ اسکی پشت پہ ڈال کر رہ گیا تھا۔

☆☆☆☆☆

حیدر گھر آیا تو ساوری لاؤنج میں بیٹھی کاغذات پھیلائے کام کر رہی تھی۔ شاید وہ آفس کا ہی کوئ کام کر رہی تھی۔ حیدر تھکا ماندہ سا ون سیٹر صوفہ پہ آکر بیٹھا تھا۔ اس رات کے بعد سے ساوری اور اسکے درمیان بات چیت نا ہونے کے برابر ہوگئ تھی۔ وہ ابھی بیٹھا ہی تھا۔ جب ساوری نے ایک سفید لفافہ حیدر کے سامنے ٹیبل پہ رکھا۔ حیدر نے ایک نظر سفید لفافہ کو تکا اور ذرا سا آگے ہوکر لفافہ اٹھایا۔ وہ ہاسپٹل کی رپورٹ تھی۔ حیدر نے لفافہ کھول کر رپورٹس نکالی۔ رپورٹس پڑھ کے حیدر کے چہرے پہ ایک خوشی کی لہر دوڑی تھی۔

” تم ۔۔۔ سچ ۔۔ میں پریگننٹ ہو۔۔۔؟؟” وہ رپورٹس تھامے بے یقین ہوا تھا۔

ناچاہتے ہوئے بھی ساوری کے گال سرخ ہوئے تھے۔

” ہمم۔” اسنے دھیرے سے پلکوں کی باڑھ گرا کر کہا۔ حیدر آنکھوں میں نمی لیئے کئ لمحوں تک اسے تکتا رہا۔

” تھینک یو۔۔۔ مجھے نہی پتا۔۔۔ میں کیا کہوں کیا کروں۔ پر میں یہ کہنا چاہتا ہوں۔ اس ایک پل میں تم نے مجھے دنیا بھر کی تمام خوشیاں دے دی۔ ساوری۔۔۔ تم مجھے میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی دینے جارہی ہو۔” اسکا لہجہ تشکر۔۔ خوشی۔۔۔ اور نجانے کن کن احساسات سے مزین تھا۔

” شکریہ کی کوئ بات نہی۔ میں نے یہ خوشی دینے کی قیمت لی ہے آپ سے۔” اسنے سنجیدگی سے کہا۔

حیدر کے چہرے پہ ایک سایہ سا لہرایا تھا۔ کچھ کہنے کی خواہش میں لب پھڑپھڑا کر رہ گئے۔

” ہمم بات تو ٹھیک ہے تمہاری۔۔” حیدر نے دھیرے سے کہا۔

” اپنی امی کو بتا دیں۔۔” ساوری نے کام پہ واپس جھکتے کہا۔

” نہی ابھی نہی آرام سے میں بتا دونگا۔۔۔” حیدر نے نفی کی۔

” ابھی بتانے میں کیا مسئلہ ہے۔۔۔” وہ حیران ہوئ۔

” نہی ایسے ہی نظر لگ جائے گی۔۔” اسنے گہری سانس لیکر کہا۔

” اس میں نظر لگنے کی بھلا کیا بات ہے۔۔؟” وہ حیرت زدہ تھی۔

” تم نہی سمجھو گی۔ چھوڑو۔۔!” حیدر نے دھیرے سے مسکرا کر کہا۔

” تم یہ سب کام چھوڑو اب تمہیں آفس سے چھٹی لینی ہوگی۔ اب تمہیں بس اپنا اور بےبی کا خیال رکھنا ہوگا۔ چھوڑ دو یہ ساری اسٹریس فل چیزیں۔۔۔” حیدر نے اسکے سامنے پڑے تمام کاغذات آچکے تھے۔ وہ ارے ارے کرتی رہ گئ تھی۔

” پر ۔۔۔” ساوری نے کچھ کہنا چاہا۔

” پر ور کچھ نہی بس اب شرافت سے آرام کرو اپنا خیال رکھو۔ اچھا کھاؤ پیو۔۔۔ بس اور کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں تمہیں۔۔” حیدر نے اسے گھور کر کہا۔

وہ پریشان سی صورت بنا کر ادھر ادھر دیکھ کر رہ گئ تھی۔

اس سے تو اچھا تھا۔ کہ وہ یہ سب حیدر کی ماں کو بتادیتی۔ اور حیدر کو وقت گزرتے خود ہی معلوم ہوجاتا۔ پر اب کیا کیا جا سکتا تھا۔

” میں تمہارے لیئے اچھی نیوٹریشنسٹ ہائیر کرتا ہوں۔ جو تمہیں اچھی اور ہیلدی غذا بتائے کیا تمہارے لیئے بیسٹ ہے۔ اور میڈ سے بات کرتا ہوں کے میرے دفتر سے آنے کے پہلے ہر پل تمہارے ساتھ رہے۔” حیدر نے مسکرا کر کہا۔

وہ منہ بنا کر رہ گئ تھی۔ اسے اندازہ نہی تھا کہ یہ انسان اسقدر نفسیاتی ہوگا۔ اگر اسے ذرا جو اندازہ ہوتا تو یہ غلطی نا کرتی۔

” پر میں آفس جانا چاہتی ہوں۔۔” وہ ضدی لہجہ میں گویا ہوئ۔

” نہی ۔۔۔ !! بلکل نہی تمہیں ریسٹ کی بے حد ضرورت ہے۔۔” حیدر نے دو ٹوک انداز میں کہا۔

ساوری محض اسے گھور کر رہ گئ۔ اسنے حیدر کو اپنے دفتر جانے کے لیئے بہت منایا۔ پر حیدر نا مانا۔

☆☆☆☆☆

میر عالم کو ہسپتال سے گھر لے آئے تھے۔ مصطفی عالم کے پاس بیٹھا انہیں دیکھ رہا تھا۔ بڑی گہری نظروں سے۔ نازنین نے اسکے کندھے پہ اپنا نازک مرمریں ہاتھ دھرا تھا۔

” تم ٹینشن نا لو بھیا ٹھیک ہوجائیں گے۔۔” نازنین نے نم آنکھوں سے اپنے بھائ کو تکتے کہا۔

” ہاں جانتا ہوں۔ ٹھیک ہوجائیں گے یہ۔ کیونکہ یہ میرے فائٹر ہیں۔ اور فائٹر کبھی ہار نہی مانتے۔۔۔۔” وہ انکا ہاتھ تھام کر عقیدت سے بوسہ دے کر اٹھا تھا۔

میل نرس کمرے میں موجود تھا۔ مصطفی نے جانے سے پہلے نرس کو مخاطب کیا۔

” خیال رکھیئے گا انکا۔”

” جی سر۔۔” میل نرس نے تابعداری سے کہا۔

مصطفی میر عالم کے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں گیا تھا۔ نازنین بھی اسکے پیچھے گئ تھی۔

” یہاں کیوں آئ ہو۔۔؟؟ اپنے کمرے میں جاؤ۔” بیزاریت کی کوئ انتہا نہی تھی۔

” میں۔۔۔۔ تم۔۔” وہ کچھ کہنا چاہتی تھی پر اسکی ہمت نا ہوئ کہنے کی۔

” بولو۔۔۔” مصطفی نے اسے تکا۔

” کچھ نہی۔۔۔ بس کیا میں آج رات یہاں سو جاؤں۔۔۔” وہ دھڑکتے دل سمیت گویا ہوئ۔

” نہی۔۔۔ کوئ ضرورت نہی اپنے کمرے میں جاؤ۔۔”

اسنے سختی سمو کر کہا۔

” پر۔۔۔ مجھے بہت ڈر لگنے لگا ہے۔۔” اسنے نم آواز میں مدعا بیان کیا۔

” تم جیسی لڑکی جس سے اسکا عاشق آدھی راتوں کو ملنے آتا ہو۔ اسے ڈرنے کی بھلا کیا ضرورت۔ ایسی عورتوں پہ ڈر جچتا نہی ہے۔” اسکا لہجہ نفرت و حقارت سے مزین تھا۔

نازنین کے حلق میں کچھ ابھر کر معدوم ہوا تھا۔ آنکھیں لمحوں میں مزید بھیگیں تھیں۔

” مصطفی میں تمہیں بتا چکی ہوں۔ کہ میرا اس سے کوئ تعلق نہی اب۔۔” اسنے تڑپ کر کہا۔

” مجھے اس سے کوئ غرض نہی۔ کہ تمہارا اس سے تعلق تھا یا ہے۔۔۔” مصطفی نے سرد لہجہ میں کہتے اپنی ٹی شرٹ کے بٹن کھولے تھے۔ نازنین نے اسکے کشادہ سینے سے نگاہ چرائ تھی۔

” جانتی ہوں۔ تمہیں کوئ فرق نہی پڑتا۔ پر پلیز بار بار اس انسان کا نام میرے ساتھ نا لو۔۔” وہ نگاہیں جھکائے گویا ہوئ۔

” رنگرلیاں جس کے ساتھ منائ ہیں۔ اسکا نام تو ساتھ آئے گا ہی ناں۔۔۔” وہ شرٹ ایک جھٹکے سے اتر کر پھینک گیا تھا۔

” مصطفی۔۔!!” وہ صدمہ سے چلائ تھی۔

” آپ بھی جانتے ہیں یہ کے میں پاک ہوں پھر بھی اتنے غلط الزام مجھ پر لگا رہے ہیں۔۔” وہ سسکی تھی۔

” ہاں۔۔۔ پر ضروری نہی ناں۔۔۔ اکثر منزل پہ پہنچنے سے پہلے بھی لوگ قدم روک لیا کرتے ہیں۔ کیا پتہ تمہارا کیس بھی ایسا ہی ہو۔” وہ کندھے آچکا کر گویا ہوا۔

نازنین نے آگے بڑھ کر ایک زناٹے دار تھپڑ مصطفی کے گال پہ جڑا تھا۔ مصطفی اسکے عمل پہ غصہ سے پاگل ہوا تھا۔

” ہمت کیسے ہوئ تمہاری مجھ پہ ہاتھ اٹھانے کی۔” مصطفی نے اسکا بازو موڑ کر نازنین کو اپنے سینے سے لگایا تھا۔

” تمہاری ہمت کیسے ہوئ۔ میرے کردار پہ انگلی اٹھانے کی۔” وہ بھی چیخی تھی۔

” میں بار بار یہی کہوں گا۔ کہ تم ایک بد کردار عورت ہو۔” وہ اسکے چہرے پہ جھکتا اسکے کانوں میں گرم سیسہ انڈیل رہا تھا۔

” اگر اتنی ہی بد کردار ہوں میں تو آزاد کرو مجھے اس رشتے سے۔” وہ تڑپ کر گویا ہوئ۔

” آزادی۔۔۔ ہنہ تم صرف آزادی کے خواب دیکھو گی۔ پر آزادی کبھی تمہیں نہی ملے گی۔” مصطفی نے اسے بیڈ پہ پھینک کر کہا۔ وہ اوندھے منہ جا کر بستر پہ گری تھی۔ مصطفی خود واشروم میں جاکر بند ہوگیا تھا۔

☆☆☆☆☆