Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 17)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

” ابھی نہی کہا تو کیا ہوا۔ آپ نے مجھے آفس میں پاگل ، بےوقوف کم عقل اور نجانے کیا ، کیا کہا۔” وہ سرخ چہرہ لیئے خفگی سے گویا ہوئ۔

” کیونکہ تم نے حرکت ہی ایسی کی تھی۔” حیدر نے لاچار لہجہ میں کہا۔

” ایسی بھی کوئ غلط حرکت نہی کی تھی میں نے۔” اسکے لہجہ سے اب بھی خفگی واضح تھی۔ وہ حیدر کی جانب سے رخ موڑ کر دوبارہ چھری اٹھا کر پیاز کاٹنے لگی تھی۔

” میں نے تم سے کہا تو۔ جو بھی دل کی بات ہو مجھ سے شیئر کر لیا کرو۔” حیدر نے پانی کا گلاس اٹھا کر بوتل سے پانی گلاس میں انڈیلا۔

” میں کیوں کروں آپ سے کوئ بات۔ مجھے آپ پہ بھروسہ نہی۔” حیدر ایک جھٹکے سے واپس اسکی جانب مڑا تھا۔

” اوہ مائے گاڈ ۔۔۔ تمہیں مجھ پہ بھروسہ نہیں پر ریسیپشنسٹ پہ ہے۔” اسکا صدمہ سے برا حال تھا۔

” ہاں ہے۔ کیونکہ جب میں دفتر میں آئ تھی۔ سب سے پہلا انٹریکشن میرا اسی سے ہوا تھا۔” ساوری نے اترا کر کہا۔

” یو آر جسٹ امپاسبل۔۔۔!!۔” حیدر نے اسے گھورا تھا۔

وہ اسے نظر انداز کرتی کھانا بنانے میں جت گئ تھی۔ حیدر نفی میں سر ہلاتا کچن سے باہر نکل گیا تھا۔

☆☆☆☆☆

شعلہ اپنے گھر سے عالم ولا آگئ تھی۔ کمرے میں آکر وہ ابھی واشروم میں گھسی تھی۔ باتھ ٹب میں پانی بھر کر لیکوڈ سوپس ڈال کر ٹب میں جاکر لیٹی تھی۔ بنا اپنے زخم کی پرواہ کیئے۔

اسکی آنکھیں بند تھیں۔ زخم والا ہاتھ بھی پانی میں تقریبا ڈوبا ہوا تھا۔ میر عالم جو کمرے میں آئے تھے۔ وہ اچانک سے آئے تھے۔ پورے کمرے میں نگاہ دوڑائ پر وہ کہیں بھی نہیں تھی۔

انہیں لگا شاید وہ ابھی تک واپس نہی آئ۔ وہ بوجھل وجود لیئے اپنا باتھ روب لیتے واش روم میں گھسے تھے۔ پر سامنے نظر پڑتے ہی ٹھٹکے تھے۔ اسکے ہاتھ سے خون رس رہا تھا۔ اور وہ باتھ ٹب میں آنکھیں موندے پڑی تھی۔ میر عالم خاموشی سے اسکی جانب آئے تھے۔ دھیرے سے ٹب کی سمت جاتی دو سٹئیرز پہ انہوں نے اپنا ایک گھٹنا موڑا تھا۔ اور جھک کر غور سے اسکے زخم کو دیکھنے لگے تھے۔ شعلہ نے اپنے کندھے کے اوپر کسی کی گرم سانسوں کو محسوس کیا تو جھٹ سے آنکھیں کھولیں۔ پر سامنے میر عالم اور اپنی پوزیشن کو دیکھ چلائ تھی۔ اپنے ہاتھ اندر جھاگ میں گھسیڑ کر وہ مکمل طور پر خود کو باتھ ٹب میں بنی جھاگ میں ڈھانپنے لگی تھی۔

” آپ کو تمیز نہی ہے۔ کیا آپکو اتنا بھی نہی پتہ کے نہاتے ہوئے انسان کو ڈسٹرب نہی کرتے اور آپ تو پورے کے پورے ماشااللہ سے میرے سر پہ براجمان ہیں۔” وہ اسے گھور کر کںفیوز سی جو اسکے منہ میں آیا کہتی چلی گئ۔

” ہاتھ کو کیا ہوا ہے۔؟” انہوں نے اسکی تمام بکواس اور اپنی اور اسکی پوزیشن کو نظر انداز کرتے کہا۔

” بھاڑ میں جائے میرا ہاتھ ، واشروم سے باہر نکلو نہی تو میں تمہاری جان لے لوں گی۔” اسکا چہرہ غصہ کی زیادتی اور کچھ حیا سے سرخ پڑ گیا تھا۔

” بکواس بند کرو اور مجھے بتاؤ۔ تمہارے ہاتھ پہ گولی کیسے لگی۔” وہ سرد نظروں سے اسے گھورتے گویا ہوئے۔

” مجھے نہی پتہ۔” وہ چڑ کر بولی۔

عالم نے اسکے جواب پہ اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا تھا۔ اور اسکا بازو تھامنے کے لیئے ہاتھ جیسے ہی باتھ ٹب میں ڈالا۔ شعلہ شدت سے چلانے لگی تھی۔ کیونکہ اسکا بازو تھامنے کے چکر میں اسکا ہاتھ جہاں پڑا تھا۔ میر عالم خود بھی خجل ہوتا پیچھے ہٹا تھا۔ اور شعلہ تو جوالہ مکھی بن گئ تھی۔

” تم ۔۔۔۔ ٹھرکی بڈھے۔ جان لے لوں گی تمہاری۔” وہ عالم کو تکتی غرائ تھی۔

” س۔۔ سوری ۔۔ دیکھو میرے اٹینشن وہ نہی تھے۔ تو تم مجھے ٹھرکی نہی کہہ سکتی۔” عالم کچھ شرمندہ ہوئے۔

” باتھ روب دو۔” وہ دبے دبے لہجہ میں حکم صادر کرتی گویا ہوئ۔

” ہ۔۔ ہاں۔۔ یہ ۔۔ ایک منٹ۔۔ لو۔” انہوں نے پیچھے رکھا باتھ روب اٹھا کر اسے تھمایا۔

” اب دفعہ ہوجاؤ باہر۔” وہ اسے اسٹل وہاں کھڑا دیکھ کر چلائ تھی۔

” اوکے جا رہا ہوں۔ ایک غلطی ہوگئ مجھ سے۔ اسکا مطلب یہ نہی کے تم مجھ پہ شیر بنو۔” وہ اسے گھور کر گویا ہوا۔

” کیوں نا بنوں شیر۔” وہ اسکی پشت پہ چلائ تھی۔ میر عالم پیر پٹختے باہر بیڈ پہ آکر بیٹھے تھے۔ کچھ لمحے بعد شعلہ باتھ روب پہن کر باہر نکلی تو میر عالم نے اسے ایک نظر دیکھا۔ اور لپک کر اسکی جانب بڑھا تھا۔

” ہاتھ پہ گولی کیسے لگی۔” اسنے فکر مندی سے پوچھا۔

” میں نے کہا تو ہے۔ کہ مجھے نہی پتہ۔” وہ آنکھیں گھما کر اسکی سائڈ سے نکل کر گئ تھی۔

میر عالم بیتاب سا اسکے پیچھے ہو لیا تھا۔

” ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔ کہ تمہیں گولی لگی ہے اور تمہیں خبر نہی۔” وہ اسے بازو سے تھام کر ایک جھٹکے سے موڑتا اسے اپنے سینے سے لگا گیا تھا۔

” آہ۔۔ آرام سے نہی پکڑ سکتے تھے بازو درد ہے۔ مجھے۔” اسنے آنکھوں میں آنسو لا کر کہا۔

” زیادہ ڈرامے بازیاں کرنے کی ضرورت نہی ہے۔ گولی باہنے کندھے پہ لگی ہے۔ اور تکلیف داہنا کندھا پکڑنے سے ہورہی ہے۔ حیرت کی بات ہے۔” میر عالم نے اسے آنکھیں دکھائ۔

” ہاں تو ۔۔۔ اکثر درد گھومتے ، گھومتے یہاں سے وہاں اور وہاں سے یہاں کنورٹ ہو جاتا ہے۔” وہ کھسیا کر گویا ہوئ۔

” بہت ہی بڑی ڈرامہ باز ہو۔” وہ اسے گھور کر گویا ہوا۔

” اب اگر تمہاری اجازت ہو تو میں اپنے کپڑے تبدیل کر لوں۔؟” اسنے آنکھیں مٹکا کر کہا۔

” پہلے تم مجھے بتاؤ تمہیں گولی کیسے لگی۔؟؟” انکا سوال اب بھی وہی تھا۔

” ایک جگہ ریڈ پڑی تھی۔ اور میں وہاں سے پولیس کی پہنچ سے دور بھاگ رہی تھی۔ جب ایک سپاہی نے میرے کندھے پہ گولی چلا دی۔بس۔۔۔ یا اور کچھ بھی جاننا ہے تمہیں۔۔” اسنے چڑے ہوئے لہجہ میں کہا۔ اور ڈریسنگ روم میں بند ہوگئ تھی۔ عالم حیرت سے منہ کھولے کھڑے رہ گئے تھے۔

☆☆☆☆☆

” کھانا بن گیا ہے۔ کھانا کھانے آجائیں۔” ساوری نے حیدر کے کمرے کا دروازہ بجا کر کہا۔

وہ واپس آئ اور ڈائینگ ٹیبل پہ بیٹھی۔ تو حیدر بھی اسکے پیچھے پیچھے ہی تھا۔ ساوری نے اسے ایک نظر دیکھا تو حیدر کا موڈ پہلے کے مقابلے میں اچھا خاصہ خراب تھا۔ ماتھے پہ شکنوں کا جال پڑا تھا۔

ساوری خاموشی سے کھانا کھا رہی تھی۔ اور حیدر بھی جب وہ دونوں کھانا کھا کر فارغ ہوئے تو حیدر نے سنجیدگی سے اسے مخاطب کیا۔

” ساوری کھانا کھا کر میرے روم میں آجاؤ۔” حیدر کی سنجیدہ سی آواز سن کر اسکے حلق میں نوالہ اٹکا تھا۔

” ک۔۔ کیوں۔؟” اسنے اٹک اٹک کر پوچھا۔

” کمرے میں آجاؤ۔ کیوں کا جواب مل جائے گا۔” حیدر نے گرج کر کہا۔ اور آٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ ساوری نے کپکپاتے ہاتھوں سمیت سب کچھ سمیٹا۔ اور اپنے من من کے ہوتے قدم لیکر حیدر کے کمرے کے پاس آئ تھی۔

دروازہ بجاتے بجاتے اسکے ہاتھ رک جاتے۔ اس سے پہلے کے وہ دروازہ بجاتی حیدر نے دروازہ کھول دیا تھا۔ وہ اچھل کر دو قدم پیچھے ہوئ تھی۔ حیدر نے اسے بازو سے تھام کر اندر کھینچا تھا۔ ساوری اس سے ٹکراتی ٹکراتی بچی تھی۔

” آپ۔۔ ک۔۔کو ۔۔ کیا ۔۔۔ کام ۔۔تھا۔؟” اسنے سہمے ہوئے لہجہ میں پوچھا۔

” اس کنٹریکٹ کو پورا کرنے کا وقت آگیا ہے۔” حیدر نے کہتے ساتھ اسے اپنی گرفت میں لیا تھا۔ ساوری پوری شدت سے مچلی تھی۔

” آپ ۔۔۔ آپ۔۔ نے کہا تھا۔ آپ تیار نہیں ابھی اس سب کے لیئے۔” وہ پوری شدت سے اسکی قربت میں کانپی تھی۔

” میرے یا تمہارے تیار ہونے سے کوئ فرق نہی پڑتا۔ یہ ایک سودا ہے اور سودا ہمیشہ اسی کی مرضی سے سر انجام پاتا ہے۔ جو اسکی قیمت لگاتا ہے۔” حیدر نے سرد لہجہ میں کہا۔ اور دھیرے سے اسکے چہرے پہ جھکا تھا۔ ساوری کی سانسیں اتھل پتھل ہوتی تھمیں تھیں۔

ساوری نے آنکھیں مینچ کر حیدر کی سفید شرٹ کے کالز کو مضبوطی سے اپنی نازک ہتھیلیوں میں جکڑا تھا۔ وہ اسکی سانسوں کو پیتا۔ اسکے سر پہ پڑا آنچل اتار کر سائڈ پہ رکھتا۔ اسے لیئے بیڈ پہ آیا تھا۔ ساوری کی آنکھیں مضبوطی سے بند تھیں۔ حیدر نے اسے پہلی بار دوپٹہ کے بغیر دیکھا تھا۔ اسکے لمبے سیاہ بال۔ اسکی حسین آنکھیں۔ اسکی چھوٹی سی سرخ ناک ، اور نازک سے لب۔ وہ بلاشبہ حسن کا پیکر تھی۔

پر انکا رشتہ بہت عجیب تھا۔ تعلق بنانے کی تو اجازت تھی۔ پر دل لگانے کی نہی۔ قربت کے لمحے گزارنے کی تو اجازت تھی۔ مگر محبت کرنے کی نہیں۔ حیدر گہری سانس لیتا اسکی گردن پہ جھکا تھا۔ جابجا اپنا پر شدت لمس چھوڑتا۔ وہ اسے جی جان سے کانپنے پہ مجبور کر گیا تھا۔

دھیرے دھیرے اسکے جسم کی رعنائیوں میں گم ہوتا وہ مزید بہکنے لگا تھا۔ اسکی کرتی کی زپ پیچھے سے کھولتا وہ اسے کروٹ کے بل لٹاتا اپنے دہکتے لب اسکی پشت پہ دھرنے لگا تھا۔ وہ مچلتی بیڈ شیٹ کو اپنی مٹھیوں میں جکڑ گئ تھی۔ حیدر نے اسے سیدھا کرکے لٹایا۔ اسکی کمیز اسکے کندھوں پہ سے سرکاتے وہ اپنے لب اسکے کندھوں پہ رکھتا۔ مزید مدہوش ہونے لگا تھا۔

ساوری کی بند آنکھوں سے آنسو گرنے لگے تھے۔ حیدر نے دھیرے سے اسکی پلکوں کی باڑ پہ سے آنسو چنے تھے۔

ساوری نے اسے ذرا سا نرم پڑتے دیکھ۔ مچل کر اس سے دور ہونا چاہا۔ پر ناکام رہی۔ حیدر نے اسے اپنی مضبوط گرفت میں جکڑا تھا۔ اسکے دونوں ہاتھ اوپر اپنی مضبوط گرفت میں باندھتے حیدر نے اسے اپنی قید میں جکڑا تھا۔ تکلیف کی شدت سے وہ سسک کر مچلی تھی۔ پر حیدر نے اسے اپنی گرفت سے آزاد نا کیا۔ وہ اسکی اور اپنی جان ایک کرتا۔ اسے اپنی بانہوں میں ہی قید کرتا سو گیا تھا۔ ساوری بھی نڈھال سی ہوتی آنکھیں موند گئ تھی۔

☆☆☆☆☆

مصطفی اپنے کمرے میں بیٹھا۔ اندھیرے کو گھور رہا تھا۔ کئ لمحے وہ یوں ہی بیٹھا رہا۔ اور کچھ سوچ کر اپنی جیب سے موبائل نکال کر نازنین کا نمبر ملایا۔

چند بیلیں جانے کے بعد فون اٹھا لیا گیا۔

” فون کیوں کیا ہے۔؟” دوسری جانب سے بیزار سی آواز آئ۔

” ہنہہ ۔۔۔ تمہارا عاشق آیا تھا۔” مصطفی کی سرد آواز سن کر نازنین کے چہرے پہ پسینہ آیا تھا۔

” کیا کہہ رہے ہو تم۔ مجھے کچھ سمجھ نہی آرہی۔” اسنے تھوک نگل کر انجان بننا ہی بہتر سمجھا۔

” عیسی۔۔۔۔ جانتی تو ہوگی۔ جس سے رات کی تنہائی میں طویل ملاقاتیں کیا کرتی ہو۔۔ تم۔” مصطفی نے زہر خند لہجہ میں کہا۔