Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 32)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

وہ گہری نیند میں تھی۔ جب اسے بچے کے رونے کی آوازیں آنے لگی۔ وہ گہری نیند میں بھی بے چین سی ہوگئ۔اسکے چہرے سے اضطراب جھلکنے لگا۔ بچے کے رونے کی آوازیں مزید تیز سے تیز تر ہوتی جارہی تھیں۔ وہ یکدم متحوش سی چلا کر اٹھی تھی۔

” میری بچی۔۔۔ میری بچی رو رہی میری ۔۔۔۔ بچ۔۔۔ بچی مجھے ۔۔۔۔ دو۔۔۔” وہ اٹھ کر بیٹھنے کے بعد بھی چلا رہی تھی۔ بھابھی نے اٹھ کر فوراً اسے کندھوں سے تھاما تھا۔

” کیا ہوا ساوری۔۔۔؟؟” بھابھی نے اسکے گالوں پہ ہاتھ دھر کر کہا۔

” بھابھی۔۔۔ بھابھی۔۔۔ میری بیٹی رو ۔۔۔ رہی ہے۔ اسے میری ضرورت ہے۔” ساوری سسکنے لگی تھی۔

” ساوری بس خاموش ہوجاؤ ، اللہ تعالی تمہارے حال پہ رحم کریں۔۔” بھابھی نے اسے اپنے سینے سے لگایا۔

وہ پھوٹ پھوٹ کر رہ رہی تھی۔

” بھابھی وہ بہت چھوٹی ہوگی ناں۔۔۔!!

وہ میرے بغیر کیسے رہ رہی ہوگی۔ بھابھی مجھے اسکی فکر ہورہی ہے۔” وہ سسکیاں لے لے کر گویا ہوئ۔ اسکی حالت دیکھ بھابھی کا دل کٹ کر رہ گیا۔ کہیں نا کہیں انکا دل بھی پشتاوے سے بھر گیا۔

” میں حیدر کو کال کرتی ہوں رکو۔۔۔” بھابھی نے نرمی سے کہا۔

” نہی کوئ ضرورت نہی ہے انہیں کال کرنے کی۔ میری بچی چھینی ہے اس انسان نے مجھ سے میں معاف نہی کرونگی اسے کبھی۔۔۔” نازنین نے ضدی انداز میں کہا۔

” پر ساوری۔۔۔” بھابھی نے کچھ کہنا چاہا۔

” بھابھی میں یہاں محض آپ لوگوں کے لیئے آئ ہوں۔ اگر آپ مجھے یہاں سے بھگانے کے چکروں میں ہیں تو بتا دیں میں چلی جاؤں گی۔” وہ بھابھی سے بھی بد ظن ہوئ۔

” اللہ نا کرے کیسی باتیں کر رہی ہو۔۔۔” بھابھی نے اسکی بات پہ اسے گھورا۔

وہ منہ بناتی واپس بستر پہ لیٹ گئ۔ آنکھوں سے آنسو خاموشی سے بہنے لگے تھے۔ اور کب اسکی سسکیاں بندھ گئیں اسے کوئ خبر ہی نا ہوئ۔

” تم بلکل پاگل ہو ساوری۔۔۔” بھابھی نے اسکے بال سہلاتے کہا۔

” پاگل ہی ہوں بھابھی میں ، کہ اپنی اولاد دے دی۔” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔

” ساوری صبر رکھو سب ٹھیک ہوجائے گا انشااللہ ۔۔۔” بھابھی نے اسے حوصلہ دیا۔

” نجانے کب ۔۔۔ اس انتظار میں شاید زندگی ہی میرا ساتھ چھوڑ دے۔” وہ لب دبا کر سسکی تھی۔

” سوجاؤ ، آرام کروگی تو بہتر محسوس کروگی۔۔۔” بھابھی نے اسپہ کمبل ڈالتے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرا تھا۔ وہ آنکھیں موند گئ تھی۔ پر آنکھوں کے کنارے سے آنسو بہنا نہی رکے تھے۔

☆☆☆☆☆

حیدر کی گود میں اسکی بیٹی تھی۔ حیدر نے جھک کر اسکے گالوں پہ پیار کیا تھا۔ اسکی ننھی سی نسک کو اپنی شہادت کی انگلی سے چھوا۔ آنکھوں میں نمی در آئ تھی۔

” آپکی ماما آپ کو بہت مس کر رہی ہیں بے بی۔۔۔” حیدر نے اسے دیکھتے سرگوشیانہ کہا۔

” آپ کو پتا ہے۔ آپ بلکل اپنی ماما جیسی ہو۔ آپکی ماما بہت پیاری ہیں۔۔۔” حیدر اس سے مزید باتیں کرنے لگا۔

” چلو میں آپکی تھوڑی سی پکچرز لیتا ہوں۔ پھر آپکی ماما کو دکھاؤں گا۔ اوکے۔۔۔” حیدر نے پاکٹ سے موبائل نکال کر اسکی تصویریں کھینچیں۔ وہ ابھی بیٹھا اپنی بیٹی سے بات کر رہا تھا۔ جب واشروم سے در فشاں نہائ دھوئ نکلی۔ حیدر نے اسے سراسر نظر انداز کیا۔

” اب تو تم گھر پہ ہی رہو گے زیادہ۔۔۔!!” در فشاں نے بالوں کو پیچھے جھٹک کر کہا۔

” نہی ، میں وہیں رہوں گا ، جہاں میں پچھلے ایک سال سے رہ رہا ہوں۔۔۔” حیدر نے سنجیدگی سے جوب دیا۔

” ضرورت کیا ہے وہاں جا کر رہنے کی ، بچی ہوگئ ناں، کبھی کبھی جاتے رہنا بیٹا بھی ہوجائے گا۔ اور پھر اسے آزاد کردینا۔۔۔” در فشاں نے بستر پہ بلکل اسکے برابر بیٹھتے کہا۔

” میں نے تم سے کوئ مشورہ نہی مانگا۔۔۔” حیدر نے اسکے پہلو سے اٹھنا چاہا۔

” کہاں جا رہے ہو۔۔۔” در فشاں نے اسے کالر سے تھام کر روکا تھا۔

حیدر نے اسے سنجیدگی سے تکا۔ درفشاں نے اسکی گود سے بچی کو لیا اور اسے بستر پہ لٹایا۔ اور دھیرے سے سرکتی حیدر کے قریب ہوئ تھی۔

” حیدر میاں بیوی ہم دونوں ہیں ، اور وہ محض ایک ڈیل ہے۔۔۔” در فشاں نے حیدر کے گال پہ ہاتھ دھرا۔

” مجھے نیند آرہی ہے۔ ” حیدر نے اسکے پاس سے اٹھنا چاہا۔

” حیدر پلیز ، بیوی ہوں تمہاری ضرورت ہے مجھے اس وقت تمہاری۔” وہ کہتے ساتھ ہی اسکے سینے سے لگی تھی۔

حیدر جوں کا توں بیٹھا رہا ، وہ حیران تھا۔ کہ جب تک ساوری اسکی زندگی میں نا تھی۔ وہ در فشاں کی ذرا سی توجہ ذرا سی قربت مل جانے پہ خوش ہو جایا کرتا تھا۔ اور آج اسکا اتنا قریب آجانا بھی بے معنی سا تھا۔ حیدر نے اسے دھیرے سے خود سے دور کیا۔ در فشاں نے منہ بنا کر اسے تکا۔

” در اب بہت دیر ہوچکی ہے۔۔۔” حیدر کہتے ساتھ ہی کمرے سے باہر چلا گیا تھا۔ در فشاں جل بھن کر رہ گئ تھی۔

☆☆☆☆☆

مصطفی اور نازنین سو رہے تھے جب تیز آواز کے ساتھ انکے کمرے کا دروازہ دھڑ دھڑایا۔ مصطفی نے روم کی لائٹس کھولیں۔ اور نازنین کو بھی اٹھایا وہ دونوں دروازہ کھول کر کھڑے ہوئ تو سامنے درد سے تڑپتی شعلہ کھڑی تھی۔

” بیا تم ٹھیک ہو۔۔۔” مصطفی نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھاما۔

” ہاسپٹل چلو۔۔۔” شعلہ نے بہ مشکل کہا۔

” بھائ کو اٹھا دیتیں آپ ، خود کو بے وجہ ہی اتنی تکلیف دی آپ نے۔۔۔” نازنین کو اسکی حالت دیکھ ترس آیا تھا۔

شعلہ بنا جواب دیئے لب بھینچ کر رہ گئ۔ مصطفی شعلہ کو گاڑی تک لیکر گیا۔ نازنین عالم کو جگانے اوپر بھاگی تھی۔ اسے جھنجھوڑ کر اٹھایا۔

” بھائ اٹھیں بھابھی کی طبیعت ٹھیک نہی ہے۔۔۔” نازنین کی بات سن کر وہ یکدم حواس میں لوٹا تھا۔ اور پیروں میں چپل اڑستا نیچے بھاگا تھا۔ نازنین کچھ ضروری سامان لیتی انکے پیچھے نیچے آئ تھی۔ اور وہ سب کوئ پچس منٹ میں ہاسپٹل کے کوریڈور میں موجود تھے۔ ان تینوں کو بیٹھے ابھی ایک گھنٹا ہی ہوا تھا۔ کہ نرس سکن کلر کے کمبل میں لپٹا بچہ لیکر آئیں۔ عالم کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئ تھی۔ پیر جمے تھے۔ نرس نے بچہ عالم کو دیا تو ، عالم بے یقینی سے اسے کئ لمحے تک تکتا رہا اور پھر اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا۔

نازنین نے سب کو کال کر کے خوشخبری دی کہ عالم کہ ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے۔ اور یہ سنتے ہی ، حیدر کی امی کو افسوس ہوا تھا۔ بیٹا تو پہلے حیدر کے گھر ہونا چاہیئے تھا ، بقول انکے۔ بچے کو لیئے وہ لوگ صبح نو بجے تک گھر آگئے تھے۔ شعلہ بچے کو دیکھ کر کئ لمحوں تک روتی رہی ، پر عالم نے آگے بڑھ کر اسے تسلی کا ایک لفظ بھی نا کہا۔

” نام کیا رکھیں گے آپ دونوں اسکا۔۔۔” نازنین نے بچے کو پیار سے دیکھ کر پوچھا۔

” میں نے نام سوچ لیا ہے۔۔۔” عالم نے جھٹ کہا۔

” پر اسکا نام میں رکھوں گی۔۔۔” شعلہ نے تنک کر کہا۔

” ایسے کیسے تم رکھو گی اسکا نام ، میرا بیٹا ہے ، میں باپ ہوں اسکا ، اور نام تو میں ہی رکھوں گا۔۔۔” عالم نے گرج کر کہا۔

” نام کیا سوچا ہے آپ نے۔۔۔” مصطفی نے عالم کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر پوچھا۔

” عارض عالم خان۔۔۔” میر نے گردن اکڑا کر بتایا۔

” بلکل بھی اچھا نام نہی ہے یہ ، میں نے اپنے بیٹھے کا نام سوچ کر رکھا ہے اور میں وہی نام رکھوں گی جو میں نے سوچا ہے۔” شعلہ نے جل کر کہا۔

” میں بھی دیکھتا ہوں ، کیسے رکھتی ہو تم نام اپنی پسند کا۔” عالم بھڑکا تھا۔

شعلہ نے اسے کاٹ دار نظروں سے تکا تھا۔

” آئ تھینک ہم دونوں کو چلنا چاہیئے ، یہ ڈسکشن آپ دونوں کی ہے۔ جب نام ڈسائڈ ہوجائے تو ہمیں بتا دیجیئے گا۔۔۔” مصطفی نے مسکرا کر کہا۔ اور کمرے سے نکل گیا نازنین بھی مصطفی کے پیچھے ہی نکل کر چلی گئ۔

” نام تو میں ہی رکھوں گا۔۔۔” مصطفی نے جل کر کہا۔

” دیکھتی ہوں ایسے کیسے رکھو گے۔۔۔” شعلہ نے بھنا کر کہا۔

” رکھ دیا ہے میں نے اسکا نام عارض عالم خان۔” میر نے اسکے برابر سے اپنے بیٹے کو اٹھایا تھا۔

” میرے بیٹے کو واپس لٹاؤ ادھر۔۔۔” شعلہ نے بھڑک کر کہا۔

” میرا بھی بیٹا ہے یہ ، صرف تمہارا نہی ہے۔۔۔” عالم نے جل کر کہا۔

” یہ صرف میرا بیٹا ہے۔ میں نے اسے جنم دیا ہے۔۔۔” شعلہ بیڈ سے اٹھ کر اسکے مقابل آئ تھی۔

” اگر میں نہی ہوتا تو یہ بیٹا بھی نہی ہوتا۔ میری محنت کا رزلٹ ہے یہ۔۔۔” عالم نے بچہ اس سے دور کرکے کہا۔

” میں تمہاری جان لے لوں گی عالم ، میرا بچہ دو مجھے۔۔۔” شعلہ کا رنگ اسکی بکواس پہ سرخ پڑ گیا تھا۔

” نہی دونگا۔۔۔” عالم کا انداز چیلنجنگ تھا۔

” ابھی اسی وقت میرا بیٹا دو مجھے ، تم پہ مجھے بلکل بھی بھروسہ نہی۔۔۔” شعلہ نے نم لہجہ میں کہا۔

” بھروسے کے قابل تو تم نہی شعلہ کب نجانے کیا کرجاؤ ، کچھ پتا نہی۔۔۔” عالم بچے کو لیئے بیڈ پہ آکر لیٹا تھا۔

” میر پلیز ۔۔۔۔” شعلہ نے منت کی۔

” پلیز پوری رات جاگا رہا ہوں ، تم بھی سوجاؤ ، اور مجھے بھی سونے دو۔” عالم نے سنجیدگی سے کہا۔ اور بچے کو اپنے پہلو میں لٹا کر آنکھیں موند گیا۔ شعلہ نے گھڑی کی جانب دیکھا تو صبح کے دس بج رہے تھے۔

☆☆☆☆☆

ایک ہفتہ کیسے بیتا کچھ پتا ہی نا چلا ، حیدر ساوری کو لیکر واپس گھر آگیا تھا۔ ساوری پورا پورا دن اداس گم صم سی بیٹھی رہتی۔ ابھی بھی حیدر آفس سے آیا۔ تو اسے ایسے بیٹھے دیکھ کر اسکا دل کٹا تھا۔

وہ اسکے برابر میں آکر بیٹھا تھا۔

” کیا ہوا۔۔۔؟؟” حیدر نے اسے کمر سے تھام کر اپنے قریب کیا۔

ساوری نے چونک کر اسے دیکھا۔ اور پھر سر دھیرے سے نفی میں ہلاتی اس سے دور ہونے لگی۔ حیدر نے اسکی کوشش کو ناکام کر دیا۔

” ساوری۔۔۔ یہ میرا وعدہ ہے تم سے بہت جلد ہماری بچی ہم دونوں کے ساتھ ہوگی۔۔۔” حیدر نے نرمی سے کہا۔

” آپ مجھے جھوٹے آسرے دے رہے ہیں۔ سب سمجھ میں آتی ہے میرے۔۔” ساوری نے خفگی سے کہا۔

” نہی میں تمہیں کوئ آسرے نہی دے رہا۔ سچ کہہ رہا ہوں۔” حیدر نے اسکے چہرے پہ آئ آوارہ لٹ کو کانوں کے پیچھے اڑسا تھا۔

” حیدر آپ سچ کہہ رہے ہیں ناں۔۔۔” ساوری کی آنکھوں میں ایک امید کی لہر چمکی تھی۔

” ہمم میں بلکل سچ کہہ رہا ہوں۔۔” حیدر نے دھیرے سے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا۔

وہ اسکے سینے سے لگتی پھوٹ پھوٹ کر روپڑی تھی۔ حیدر اسکی کمر سہلاتا اسے حوصلہ دے رہا تھا۔

” آپ میرا بیٹا بھی پھر کسی کو نہی دیں گے ناں۔۔۔” ساوری نے ایک آس سے پوچھا۔

” نہی ہماری بیٹی اور ہمارا بیٹا دونوں ہمارے ساتھ ہی رہیں گے ہمیشہ۔۔۔” حیدر نے اسکے گال تھپتھپائے تھے۔

” اگر وہ لوگ نا مانے تو۔۔؟؟” ایک اور خدشہ اسے لاحق ہوا۔

” ایسے کیسے نہی مانیں گے۔۔۔ میں کوئ چانس ہی نہی چھوڑوں گا انکے پاس نا ماننے کا۔۔۔” حیدر نے ساوری کے ماتھے پہ عقیدت بھرا مہکتالمس چھوڑا۔

” سچ۔۔۔!!” ساوری بے یقین ہوئ۔

” مچ۔۔۔” حیدر نے مسکا کر کہا۔ اور دھیرے سے اسکے گلابی ہونٹوں پہ اپنے لب دھرے۔ ساوری کی رنگت میں یکدم گلال گھلا تھا۔ وہ لب کچلتی شرمائ سی اسکے برابر سے اٹھی تھی۔ حیدر نے اسکی کلائ تھام کر اسے کھینچ کر اپنی تھائ پہ بٹھایا تھا۔ اور اسکی گردن میں چہرہ چھپا گیا تھا۔

” آئ لو یو۔۔۔ ساوری۔۔۔” حیدر نے مدہوش سے لہجہ میں کہا۔

ساوری اسکی بات پہ لب کچل کر رہ گئ۔

” کیا تمہیں مجھ سے محبت نہی۔۔۔” حیدر نے اسے تھوڑی سے تھام کر پوچھا۔

” ن۔۔ن۔۔نہہ۔۔نہی۔۔” ساوری نے گھبرا کر کہا۔

” ہوگی بھی کیسے ، میں نے کبھی کونسا تمہیں کوئ خوشی یا سکھ دیا۔۔۔” حیدر نے اداسی سے کہا۔

” ایسی بات نہی ہے پر۔۔” ساوری کو سمجھ نا آئ کہ وہ کیا کہے۔

” اٹس اوکے۔۔۔” حیدر نے کہتے ساتھ ہی اسے اپنی گرفت سے آزاد کردیا تھا۔

وہ پھیکا سا مسکا کر رہ گئ تھی۔ اسے سمجھ نہی آرہی تھی۔ کہ وہ بھابھی کہ مشورے پہ عمل کرے بھی تو آخر کیسے کرے۔ وہ اپنے بال سیٹ کرتی سائڈ پہ ہوکر بیٹھ گئ تھی۔ حیدر اسے دیکھ کر دھیما سا مسکایا تھا۔ اور وہ مسکا بھی نا سکی تھی۔

☆☆☆☆☆