Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 35)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 35)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
” آگئے۔۔۔ مل گئ فرصت۔۔!!” مصطفی کمرے میں آیا تو وہ ٹی وی آن کیئے ، صوفہ پہ بیٹھی تھیکے نقوش لیئے مستفسر ہوئ۔
” تمہارے لیئے تو ہمیشہ ہی فرصت ہوتی ہے۔” مصطفی نے چہرے پہ زبردستی کی مسکراہٹ سجائ۔
” ہاں دکھ رہا ہے ، تمہارا تھوبڑا دیکھ کر۔” نازنین نے آنکھیں مٹکائیں۔
” سوری یار ، پر دیکھو غلطی میری نہی ہے۔ تمہارے بھائ کی ہی وجہ سے مجھے دیر ہوگئ۔” مصطفی نے اسکے بلکل قریب بیٹھ کر کہا۔ اور اپنا سر اسکے کندھے پہ ٹکا دیا۔
” مجھے نہیں چاہیئے ، تمہارے ایسے lame excuses۔” نازنین نے اسکا سر اپنے کندھے پہ سے جھٹکا تھا۔
” یاررر۔۔۔ سچ کہہ رہا ہوں۔ اچھا پلیز آخری بار معاف کردو۔۔” مصطفی نے اسکے کندھوں کے گرد اپنا مضبوط بازو حائل کیا۔
نازنین نے نگاہیں گھما کر اسے دیکھا۔ نازنین کی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی۔
” مصطفی میرے بھی کچھ خواب ہیں ہمارے لیئے۔ جو پورے ہوکر ہی نہی دیتے۔ کوئ نا کوئ مسئلہ ہمیشہ درپیش رہتا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ ہم کبھی ایک خوشحال زندگی گزار ہی نہی پائیں گے۔۔” نازنین نے اپنی بات مکمل کرکے گہری سانس لی تھی۔
” کیا خواب ہیں تمہارے ہمارے لیئے ، تم نے کبھی بتائے نہی۔ کہ مجھے پتہ چلتے۔ میں تو خود تمہارے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہوں ، پر کچھ وجوہات کی بنا پر ہم ویسے لائف نہی گزار پا رہے جیسے ہم گزارنا چاہتے ہیں۔۔” مصطفی نے نرمی سے کہا۔
” تمہیں پتا ہے میں کیا سوچتی تھی۔۔۔” نازنین نے مصطفی کے کندھے پہ سر رکھ کر کہا۔
” کیا سوچتی تھیں۔۔” مصطفی نے اسکے بالوں پہ پیار کیا۔
” میں سوچتی تھی۔ کہ ہم ہر ویکینڈ باہر ڈنر کیا کریں گے۔ لانگ ڈرائیو ، اور پھر تھوڑی سی واک ، اور مختلف ممالک ایک ساتھ گھومیں گے۔ اور ایک چیز تو بہت ہی فنی ہے۔ جو میں نہی بتاؤں گی۔” نازنین بتاتے ، بتاتے مسکرائ تھی۔
” کیا سوچتی تھیں۔ اسکا بھی بتاؤ ، نہی تو میں ناراض ہوجاؤں گا۔۔۔” مصطفی نے اسے دہمکی دی۔
” میں نہی بتا رہی ، ناراض ہونا ہے تو ہو جاؤ۔۔۔” نازنین نے زبان چڑھا کر کہا۔
” تم بتا رہی ہو یا نہی۔۔۔؟” مصطفی نے ذرا سختی سے کہا۔
” نہی بتا رہی میں۔۔۔” نازنین نے منہ بنا کر کہا۔
” بتا دو ناں ۔۔۔!! جان من۔۔۔” مصطفی نے اسکا چہرہ جبڑوں سے تھام کر اپنی جانب کیا۔ نازنین اسے کئ لمحے تکتی رہی اور پھر دوبارا سر نفی میں ہلا گئ۔ مصطفی کی تو بس ہوگئ تھی۔
” ٹھیک ہے نا بتاؤ ، آئیندہ سے میں بھی اپنی کوئ بات تم سے شیئر نہیں کرونگا۔” مصطفی نے خفگی سے کہا۔
” تو نا کرنا میں کونسا مری جا رہی ہوتی ہوں۔۔” نازنین نے اسکے سینے پہ سر رکھ کر کہا۔
” میں تم سے سچ میں ناراض ہوں۔۔۔” مصطفی نے جل کر کہا۔
” ٹھیک ہے ہوتے رہو تم ناراض پر اگر اب میں ہوگئ ناں ناراض تو بلکل نہی مانوں گی۔۔۔”نازنین نے سر اٹھا کر اسے دھمکی دی۔
” تم مجھے دھمکا رہی ہو۔۔۔؟” مصطفی نے اسے خشگمین نظروں سے گھورا۔
” ہاں۔۔۔ میں تمہیں دھمکا رہی ہوں۔ کچھ کرسکتے ہو ، نہی ناں۔۔۔” وہ اکڑ کر گویا ہوئ۔
” جان لے لوں گا تمہاری۔۔۔” وہ پوری شدت سے اسے
خود میں بھینچ کر گویا ہوا۔
” آہہہ کیا کر رہے ہو ، ہڈیاں توڑ دو گے میری۔۔۔” نازنین اسکی گرفت میں مچلی تھی۔
” بس میرا پیار بھی تمہیں ظلم ہی لگتا ہے۔۔۔” مصطفی نے اپنی گرفت اسپہ ڈھیلی کرکے جل کر کہا۔
” کچھ بھی ، پیار ایسا ہوتا ہے کیا۔ کہ کسی کو اتنا زور سے ہگ کرو کہ آدھے گھنٹے تک اس بندے کی ہڈیوں کا درد ہی نا جائے۔۔” نازنین نے اسکی گرفت اپنے گرد ڈھیلی پڑتے دیکھ ، خود اسکے گرد اپنی گرفت ٹائٹ کی تھی۔
” اب جو تم میری ہڈیاں توڑنے کی ناکام کوشش میں لگی ہو اسکا کیا۔۔۔؟؟” مصطفی نے سنجیدگی سے کہا۔
” میں تو پیار کرتی ہوں تم سے تو میں تو کچھ بھی کر سکتی ہوں۔۔۔” وہ شرارت سے مسکرائ تھی۔
” تو تم کہنا چاہتی ہو کہ میں تم سے پیار نہی کرتا۔۔۔” مصطفی تو لڑنے کی پوری تیاری میں تھا۔
” میں نے یہ تو نہی۔۔۔ کہا۔۔” نازنین نے اسکی شرٹ کے بٹن سے چھیڑ خانی کرتے کہا۔
” تو پھر مطلب کیا ہے تمہاری بات کا۔۔۔؟؟” مصطفی اسی بات پہ اٹک گیا تھا۔
” میری بات کا مطلب یہ ہے کہ مجھے پیار ہے تو میں اظہار بھی کرتی ہوں۔ تم نہی کرتے اظہار۔۔” نازنین نے لب بسور کر کہا۔
” اتنا پیار تو کرتا ہوں۔ پھر تم خود ہی تنگ آجاتی ہو۔۔۔” مصطفی نے خفگی سے کہا۔
” میں وہ والے پیار کی بات نہی کر رہی ، میں بات کر رہی ہوں ، اظہار والے پیار کی۔۔” نازنین نے مسکا کر کہا۔
” میں الفاظ سے زیادہ عمل پہ یقین رکھتا ہوں۔۔۔” مصطفی کی خفگی ہنوز قائم تھی۔
” موڈ درست کرو اپنا نہی تو میں کہہ رہی ہوں۔ میرے پاس سرپرائز ہے دونگی نہی میں تمہیں۔۔۔” نازنین نے دھمکی آمیز لہجہ میں کہا۔
” کیا سرپرائز ہے۔۔۔؟؟” مصطفی نے زبردستی شکل درست کی۔
” تم گیس کرو ناں۔۔۔” نازنین نے شرما کر کہا۔
” کیا گیس کروں۔۔۔” مصطفی نے اسکے چہرے پہ شرمیلی مسکراہٹ دیکھ نا سمجھی سے کہا۔
” تمہیں کیا لگتا ہے کیا خوشخبری ہوسکتی ہے۔۔۔” نازنین نے مسکا کر کہا۔
” آں۔۔۔ تم پریگننٹ ہو۔۔۔؟؟” مصطفی نے چہک کر پوچھا۔
نازنین نے اسے شدید بری نظروں سے گھورا۔
” نہی۔۔۔ مطلب تم اتنا ہی گیس کرسکے۔۔۔” نازنین نے منہ سجا کر کہا۔
” اچھا پھر ، تم ۔۔۔” مصطفی نے سوچنے کے انداز میں نظریں گھمائیں۔
” تم ہی بتا دو کیا ہے۔ مجھے نہی سمجھ آرہی۔۔۔” مصطفی نے تنگ آکر کہا۔
” میں نے ہم دونوں کے لیئے ، ترکی کے ٹرپ کی مکمل تیاری کر لی ہے۔ بس اب لاسٹ لاسٹ فارمیلیٹیز باقی ہیں۔۔” نازنین نے گویا دھماکا کیا۔
” پاگل ہوگئ ہو۔ بیا کو پتہ چل گیا تو وہ یہاں سے چلی جائے گی۔” مصطفی جھٹکے سے سیدھا آٹھ بیٹھا تھا۔
” بس اب ہم دونوں بلکل بھی سیکریفائز نہی کرنے والے۔ اب یہ بھائ اور بھابھی دونوں کا معاملہ ہے۔ اور خبردار جو تم نے میری بات سے اختلاف کیا۔۔۔” نازنین نے خونخوار انداز اپنا کر کہا۔
” پر۔۔۔” مصطفی نے کچھ کہنا چاہا۔
” پر ور کچھ نہی۔ اب بس بلکل خاموش ۔۔۔” وہ اسے کھینچ کر اپنے قریب کرتی واپس اسکے گرد اپنا حصار باندھ گئ تھی۔
مصطفی حیران پریشان سا رہ گیا تھا۔ اور پلکیں جھپک کر اوپر کی جانب دیکھ دل ہی دل میں اپنی عافیت کی دعا مانگی تھی۔
☆☆☆☆☆
” تمہارا سرپرائز لے آیا میں۔۔۔” حیدر نے اسے پشت سے بانہوں کے حصار میں لیا۔ ساوری اسکی اچانک قربت پہ گھبرائ تھی۔
” کہ۔۔کہاں ہے سر پرائز۔۔۔؟” ساوری نے اسکا حصار اپنے گرد سے توڑا تھا۔
” باہر ہے۔۔۔” حیدر نے کہتے ساتھ ہی اسکا دوپٹہ اسکے گلے سے اتار کر آنکھوں کے گرد باندھا تھا۔ وہ دونوں ہاتھ اپنی آنکھوں پہ بندھے دوپٹہ پہ رکھتی بوکھلا کر مستفسر ہوئ۔
” یہ کیا کر رہے ہیں آپ ، مجھے کچھ دکھ نہی رہا۔۔۔” ساوری نے پریشانی سے کہا۔
” ہاں بس پانچ منٹ پھر کھل جائے گا۔” حیدر نے اسے کندھوں سے تھاما۔ اور اسے لیئے دھیرے دھیرے لاؤنج میں آیا تھا۔ اسے لیکر اپنے ساتھ نیچے کارپیٹ پہ بیٹھا تھا۔ ساوری کی گود میں حیدر نے سفید کمبل میں لپٹی ، بچی کو ڈالا تھا۔ ساوری کے ہاتھ اپنی جگہ تھم سے گئے تھے۔ حیدر نے ذرا سا آگے ہوکر اسکی آنکھوں پہ سے دوپٹہ ہٹایا ، ساوری نے نظریں نیچی کرکے اپنی بچی کو تکا۔ اسکے ہاتھ اپنی بچی کے چہرہ کو چھوتے ہوئے کپکپا رہے تھے۔ اسنے بے یقینی کے عالم میں حیدر کو تکا۔ اور کچھ کہنے کی چاہ میں اسکے لب محض پھڑپھڑا کر رہ گئے۔ آنسو جو آنکھوں کے کناروں میں اٹکے پڑے تھے۔ یکدم پھسل کر اسکے گالوں کی زینت بنے تھے۔ حیدر لب بھینچ کر رہ گیا تھا۔ کئ لمحے وہ اسکے ٹوٹے بکھرے وجود کو تکتا رہا۔ اور وہ اپنی بچی کو ، کئ لمحے بعد اسکی کپکپاتی آواز خاموش فضا میں ارتعاش پیدا کر گئ۔
” نام کیا رکھا ہے اسکا۔۔۔؟؟”
” آئرہ ۔۔۔” حیدر نے آئرہ کے گال کو ہلکا سا چھو کر کہا۔
” بہت پیارا نام ہے۔۔۔” اسنے سسک کر کہا۔
” میں نے رکھا ہے۔۔۔” حیدر نے اسکے آنسو پونچھے۔
” ہمم۔۔۔” ساوری نے لب دبا کر اپنی سسکی دبائ۔
” پیاری ہے ناں ہماری بیٹی۔۔۔؟” حیدر نے آئرہ کو دیکھ کر ساوری سے پوچھا۔
” بہت زیادہ پیاری ہے۔ مجھے ۔۔۔۔۔ تو۔۔۔ ہہہ ۔۔ ڈر لگ رہا ہے یہ سوچ کر ہی کہ اسکو کپڑے پہنانا کتنا مشکل ہوتا ہوگا ناں۔۔۔ اتنی چھوٹی سی ہے یہ۔۔۔” ساوری نے ہنستے ، روتے اور بے یقین سے لہجہ میں کہا۔
” نہی بلکل نہی۔ اب یہ کل صبح تک تمہارے پاس رہے گی ناں تو تمہیں ، اندازہ ہوجائے گا ، کہ اتنا بھی مشکل نہی۔۔۔” حیدر نے مسکا کر کہا۔
وہ بے یقینی سے سر اٹھا کر حیدر کو دیکھ کر مسکرائ تھی۔
” سچ میں۔۔۔!!” وہ بے یقین تھی۔
” ہاں سچ میں ۔۔۔” حیدر مسکرایا تھا۔
ساوری کے چہرے پہ اتنی بڑی مسکان نمودار ہوئ تھی۔ کہ حیدر اسکے چہرے پہ چھائ معصومیت بھری خوشی میں ہی کھو گیا تھا۔ ساوری نے دھیرے سے آئرہ کو اپنے سینے سے لگایا تھا۔ اور آنکھیں موند گئ تھی۔
” کیسا لگ رہا ہے۔۔۔؟؟” حیدر نے اسکے قریب سرک کر پوچھا۔
” بہت اچھا ، بہت سکون مل رہا ہے۔۔۔ حیدر۔۔۔” ساوری کے چہرہ پہ مامتا چمک رہی تھی۔
” اگر مجھے بھی ذرا سا ہگ کر لو ، تو اس سے بھی زیادہ سکون ملے گا۔۔۔” حیدر نے شرارتاً کہا۔
ساوری نے جھٹ اپنی آنکھیں کھول کر حیدر کو تکا اور اسکی بات پہ کھلکھلائ تھی۔
” نہی۔۔ شکریہ نہی چاہیئے مجھے آپکو ہگ کرنے کے بعد والا سکون۔۔۔” وہ جلا کر کہتی ، آئرہ کو لیئے اٹھی تھی۔
حیدر بھی اسکے پیچھے اٹھا تھا۔ اور اسکے پیچھے لپکا تھا۔
” تم نے مجھے کس بھی نہی دیا۔۔۔!!” حیدر نے پیچھے سے ہانک لگائ۔
” میں نے نہی کہا تھا۔ کہ میں آپکو کس دونگی۔۔۔” ساوری کانوں کی لوؤں تک سرخ ہوگئ تھی۔ اور وہ تھا کہ اسکا پیچھا ہی نہی چھوڑ رہا تھا۔
” یہ کیا بات ہوئ ۔۔۔” حیدر نے منہ بنا کر کہا۔
” کوئ بات نہی ہوئ یہ۔ آج کھانا باہر سے لے آئیں گے آپ۔ میں کل تک جتنا بھی وقت ہے میں سارا بس آئرہ کے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں۔۔۔” ساوری نے آئرہ کو بیڈ پہ بیچ میں لٹاتے کہا۔
” ہاں۔۔۔ ہاں میں ابھی آڈر کر دیتا ہوں۔۔۔” حیدر نے چہک کر کہا۔ اور بستر کی دوسری جانب آکر ڈھیر ہوگیا۔
” آپ یہاں سوئیں گے۔۔؟؟” ساوری نے آنکھیں پھاڑ کر پوچھا۔
” کیوں کوئ مسئلہ ہے کیا۔۔۔؟؟” حیدر نے کچھ حیرت سے پوچھا۔
” ہاں مسئلہ ہے اور بہت بڑا مسئلہ ہے۔ آپ رات میں بہت برا سوتے ہیں۔ آئرہ کو کچھ ہوگیا تو۔ نہی ۔۔۔ نہی میں یہ رسک بلکل نہی لوں گی۔ آپ دوسرے روم میں جا کر سوجائیں۔” ساوری کا انداز ہتمی تھا۔
” میں تو نہی جارہا، بھئ میرا بھی دل کرتا ہے اپنی بیٹی کے ساتھ ٹائم اسپینڈ کرنے کا۔ میں تو یہیں سوؤں گا۔۔۔” حیدر بضد ہوا۔
” آپ پاگل ہوگئے ہیں حیدر ، میں سچ کہہ رہی ہوں۔ آپ بہت برا سوتے ہیں۔۔ ” ساوری نے پریشانی سے کہا۔
” تو پھر تم بیچ میں سوجاؤ ، پر سوؤں گا تو میں ادھر ہی۔۔” حیدر اپنی بات پہ بضد تھا۔
” آپ ۔۔۔ حیدر کچھ بھی۔۔۔” ساوری نے حیرت سے کہا۔
” کچھ بھی ۔۔۔۔ وچھ بھی۔۔۔ کچھ نہی ہوتا ، سوؤں گا تو میں ادھر ہی۔۔۔” حیدر نے حتمی لہجہ اپنا کر کہا۔
” اوکے۔۔ اچھا۔۔۔ سہی سو جانا یہاں پر پہلے کھانا تو آڈر کر دیں۔۔۔” ساوری نے خفگی سے کہا۔
حیدر لب دبا کر مسکرایا تھا۔ اور سر ہلاتا جلدی جلدی کھانے کا آڈر دینے لگا۔
کچھ دیر میں کھانا آیا۔ ان دونوں نے مل کر کھانا کھایا۔ اور پھر حیدر ڈھیٹ بنا واپس بستر پہ چوڑا ہوکر لیٹ گیا تھا۔
” حیدر۔۔۔!!” ساوری نے اسے احتجاجاً پکارا۔
” میں نے کہا تو ہے ، بیچ میں تم آجاؤ۔۔۔” حیدر نے معصوم شکل بنائ۔
” پر۔۔۔۔ حیدر ۔۔۔” وہ جز بز ہوئ۔
” میں تو تھک گیا ہوں سو رہا ہوں۔ باقی تمہاری مرضی۔۔۔” حیدر نے جمائ لیکر ایک نظر اسے دیکھا۔
جو چھوٹے ، چھوٹے قدم لیتی بیڈ تک آئ تھی۔ اور پھر آئرہ کو لیکر بیڈ کے کنارے والی سائڈ پہ لٹایا۔ اور تکیوں کی باڑ لگا دی۔ اسکی اس قدر احتیاط پہ حیدر قہقہ لگا کر رہ گیا تھا۔
” ابھی وہ بہت چھوٹی ہے نہی گرے گی۔۔۔” حیدر کو خود پہ ہنستے دیکھ ساوری خجل سی مسکائ تھی۔
” میں پھر بھی کوئ رسک نہی لینا چاہتی۔۔۔” ساوری نے اپنا تکیہ بیچ میں درست کیا اور لیٹی۔
حیدر اسکی جانب کروٹ کے بل پلٹا تھا۔ ساوری نے اسے خود کو تکتا پا کر اپنی توجہ آئرہ کی جانب مبذول کر دی۔
” مجھے نظر انداز کرنا بند کرو۔ آج میں نے تمہیں اتنا اچھا سر پرائز دیا۔ پر تم نے کیا دیا۔۔۔؟؟ کچھ بھی نہی۔۔۔” حیدر نے خفگی سے کہتے اپنی ٹانگ اسکے اوپر ڈالی تھی۔ ساوری نے عاجز سی شکل بنا کر حیدر کو تکا۔
