Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 40)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 40)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
وہ لوگ صبح کا اجالا لگنے سے پہلے ہی ترکی پہنچ گئے تھے۔ استنبول میں لینڈ کرنے کے بجائے وہ لوگ کیپیڈوکیا (cappadocia) گئے تھے۔ انکا وہاں گھوم کر پھر استنبول جانے کا ارادہ تھا۔ نازنین کا تھکن سے برا حال تھا۔ وہ ہوٹل روم میں آتے ہی اوندھے منہ بستر پہ گری تھی۔ تھکن سے برا حال تو مصطفی کا بھی تھا۔ وہ بھی اوندھے منہ پڑا تھا۔ خیر ابھی اس وقت تو انہیں کہیں جانا نہی تھا۔ بس فریش ہوکر آرام کرنا تھا۔ اور اگلے دن سے ترکی کو ایکسپلورر کرنا تھا۔
” مصطفی جاؤ تم فریش ہوجاؤ۔ پھر میں بھی فریش ہوجاؤں گی۔ بس پھر لمبی تان کر سو جائیں گے۔۔۔” نازنین نے مصطفی کا کندھا ہلا کر اسے فریش ہونے کو کہا۔
” نہی پہلے تم فریش ہوجاؤ ، پھر میں فریش ہوجاؤں گا۔ ابھی میری بلکل ہمت نہی ہے۔۔۔” مصطفی نے سستی سے کہا۔ اور ساتھ ہی جمائ لیتا آنکھیں موند گیا۔ اسے جمائ لیتا دیکھ نازنین کو بھی جمائ آئ۔ وہ بھی جمائ لیکر سستی سے آنکھیں موند گئ۔ سفر کی تھکان کے باعٹ وہ دونوں اوندھے منہ پڑے دنیا وما فیہا سے بیگانے پڑے تھے۔ وہ دونوں سوئے تو بس سوتے ہی رہ گئے۔ نئے دن کا سورج سر پہ آن کھڑا تھا۔
ادھر شعلہ اور عالم کو ملازمہ نے انکا دیا خط دیا تھا۔ شعلہ کو جب پتا چلا تو وہ کئ لمحے یونہی بیٹھی رہی۔ اور عالم کا تو حیرت سے برا حال تھا۔
” یہ ان دونوں نے تماشہ کیا لگا رکھا ہے۔ ابھی کل تک جنگلیوں کی طرح لڑ رہے تھے۔ اور آج دونوں ایسے بغیر بتائے ، ترکی ویکیشن پہ چلے گئے۔۔۔” عالم نے کندھے جھٹک کر حیرت کا اظہار کیا۔
” کتنا عجیب دور ہے ناں۔۔!!
کوئ کسی کا نہی ہے۔۔” شعلہ نے پھیکے لہجہ میں کہا۔
” کیوں کیا ہوا۔۔۔؟؟ تم ایسا کیوں کہہ رہی ہو۔۔۔؟؟” میر عالم کو اسکے انداز و اطوار کچھ عجیب لگے۔
” کچھ نہی۔۔۔” دو لفظی جواب دیا گیا۔
وہ دونوں ناشتہ کرنے بیٹھے تھے۔ عارض کو ملازمہ لیکر بیٹھی تھی گود میں۔ شعلہ ایک نظر عارض پہ ڈال کر اسے بھی دیکھ رہی تھی۔ اور ساتھ ساتھ ناشتہ بھی کر رہی تھی۔
” اگر عارض تھوڑا سا بڑا ہوتا تو ہم بھی ویکیشن پہ چلتے۔۔۔” میر نے اسکے بگڑے تیور دیکھ کر کہا۔
” Excuse me…!!”
شعلہ نے اسے آنکھیں دکھائیں۔ جیسے کہہ رہی ہو ، فری ہونے کی ضرورت نہی۔ عالم نے اسکے انداز پہ با مشکل اپنی امڈتی مسکراہٹ کو دبایا تھا۔
” کیا میں نے کچھ غلط کہا ہے۔۔۔؟؟” عالم نے انجان بنتے پوچھا۔
” صرف غلط نہی بہت غلط کہا ہے۔۔۔” وہ اسے گھور کر گویا ہوئ۔
” پر میری بات میں غلط تھا کیا۔۔۔؟؟ میر عالم نے اسے تپانے کو بات کو مزید بڑھانا چاہی۔
” بات میں غلط کیا تھا۔ یہ مت پوچھو ، یہ پوچھو کہ تمہاری بات میں صحیح کیا تھا۔” وہ اپنے بال پیچھے جھٹک کر گویا ہوئ۔
” میری بات اتنی بھی غلط نہی تھی۔ کیا فیملی کے ساتھ لوگ ویکیشن پہ نہی جاتے۔۔۔؟” عالم نے اسے بظاہر دیکھ کر پوچھا۔
” جاتے ہیں ، پر اپنی فیملی کے ساتھ ، اور میں تمہاری فیملی نہی ہوں۔۔۔” وہ چائے کا کپ لبوں سے لگا گئ تھی۔
” اچھا تم میری فیملی نہی تو پھر فیملی کون ہے ۔۔۔؟” میر عالم نے اسکا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما۔
” مجھے نہی پتہ کون ہے تمہاری فیملی پر ، کم از کم میں تمہاری فیملی کا حصہ نہی ہوں عالم۔۔۔” وہ سنجیدگی سے کہتی ، اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ آزاد کروا گئ تھی۔
” تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے۔ کہ تم میری فیملی نہی ہو۔۔۔؟؟” عالم نے گہری سانس لے کر پوچھا۔
” جانتے ہو فیملی ہوتی کیا ہے۔ فیملی اس لیئے ہوتی ہے۔ کہ ایک گھر میں رہنے والے چند افراد ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔ ہر مشکل میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں۔ ایک دوسرے کی ہر مشکل میں کسی ڈھال کی مانند ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں۔ جیسے ایک فیملی ایک دوسرے کی خوشیوں پہ پورا حق رکھتی ہے۔ ویسے ہی ایک دوسرے کی تکالیف کو بھی اپنا سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ پر ہمارا تعلق اس سب سے بہت الگ ہے۔ بہت مختلف ہے۔۔۔” وہ رساں سے کہتی اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔
عالم اسے دیکھتا ہی رہ گیا تھا۔ اس کو زندگی کی طرف لانا بہت مشکل تھا۔ اس بات کا تو میر عالم کو اچھے سے اندازہ تھا۔ شعلہ عارض کو لیکر لاؤنج میں صوفہ پہ جاکر بیٹھی تھی۔
” تم جو بھی کہو ، پر اب ہماری خوشی اور غم دونوں ایک ہیں۔۔۔” وہ بھی اسکے پیچھے آیا تھا۔ اور صوفہ پہ رکھا اپنا کوٹ اٹھا کر پہنا تھا۔
” غلط فہمیوں کا علاج پھر بھی مل ہی جاتا ہے۔ پر خوش فہمیاں کیسے ختم ہوں۔۔۔” اسنے اک ادا سے کہا۔
” ہمم بلکل میں تمہاری بات سے سو فیصد متفق ہوں۔۔” کوٹ کے سامنے والا بٹن بند کرتا وہ دلکشی سے مسکرایا تھا۔ اور اسکے قریب آکر جھک کر پہلے عارض کو پیار کیا۔ اور پھر اسکے ماتھے پہ عقیدت سے بوسہ دیتا پیچھے ہوا تھا۔ شعلہ اسکے لمس پہ ہمیشہ کی طرح اپنی دھڑکنے ہی گنتی رہ گئ تھی۔ اسکی قربت اسکا لمس ، شعلہ کے گرد ایک جادو سا کر جاتا تھا۔ اور وہ اسکے لمس کے جادو میں جکڑی یک ٹک اسے دیکھتی رہ جاتی۔ وہ اسے اپنی جگہ منجمد ہوتا دیکھ مسکرایا تھا۔
“اللہ حافظ۔۔” سنجیدگی سے کہتا ، وہ نکل گیا تھا۔ اور شعلہ اسکی خوشبو اب بھی اپنے ارد گرد محسوس کر رہی تھی۔
☆☆☆☆☆
دوپہر کہیں دو بجے کے قریب وہ لوگ جاگے تھے۔ دونوں فریش ہوکر ہوٹل سے باہر ایک اوپن ائیر ریسٹورنٹ میں آکر لنچ کر نے بیٹھے تھے۔ نازنین نے پیروں کو چھوتی ہلکے نیلے مگر چھوٹے پھولوں والی فراک پہنی تھی۔ بالوں کو کھلا چھوڑا تھا۔ اور کانوں میں چھوٹے چھوٹے ٹاپد پہنی وہ بے حد حسین لگ رہی تھی۔ مصطفی نے وائٹ ٹی شرٹ اور جینز پہنی تھی۔ ریسٹورنٹ کو پھولوں سے سجایا گیا تھا۔ خوبصورت سی سفید کرسیاں اور ان کرسیوں کے بیچ گول ٹیبل دھرا تھا۔ نازنین موبائل ہاتھ میں پکڑے ارد گرد کے مناظر کیپچر کر رہی تھی۔ مصطفی ریلیکس سا بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔
” بیا گھر تو چھوڑ کر نہی چلی گئ ہوگی۔۔۔؟؟” مصطفی نے پریشانی سے پوچھا۔
” آہاں نہی ۔۔” وہ موبائل بند کرکے ٹیبل پہ رکھ کر گویا ہوئ۔
” ناراض تو ہوگئ ہوگی مجھ سے بیا۔۔۔” وہ اداسی سے گویا ہوا۔
” ہاں ہوئ ہونگیں۔ پر میرے خیال سے یہ ویکیشن ہم سے زیادہ اب دونوں کو سپیس دے گا۔یہ ویکیشن ہم سے زیادہ انکے لیئے ضروری تھا۔۔۔” نازنین نے پاؤٹ بنا کر مصطفی کو تکا۔
” شاید تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔۔” مصطفی اسے کیوٹ ، کیوٹ شکلیں بناتا دیکھ مسکرایا تھا۔
” اوکے کھائیں گے کیا۔۔۔؟؟” وہ ٹھوڑی کے نیچے اپنا ہاتھ ٹکا کر مستفسر ہوئ۔
” کرتے ہیں کچھ اچھا سا آڈر۔۔۔” مصطفی نے مینیو کارڈ کھولا۔
ویٹر کو مصطفی نے بلایا تو وہ وہاں آیا تھا۔ ویٹر ایک نو عمر ترکش لڑکا تھا۔ دبلا پتلا ، لمبا قد ، گوری اور سرخ رنگت۔۔۔!!
” اس علاقے کی اسپیشل ڈش کیا ہے۔۔۔؟؟” مصطفی نے انگریزی میں پوچھا۔
” سر پوٹری کباب۔۔۔!!” ویٹر نے مسکرا کر بتایا۔
” اوکے اور یہ پوٹری کباب ہوتا کیسا ہے۔۔۔؟؟” مصطفی پوچھے بنا نا رہ سکا۔
” سر پوٹری کباب مڈ کے گلاس میں بنتا ہے۔ اور اسکے اندر دمبہ کا گوشت یا پھر بکرے اور چکن کا بھی آپ کو مل جائے گا۔جس میں کچھ سبزیاں بھی ڈپ
لتی ہیں۔جیسے پیاز ، ٹماٹر وغیرہ۔۔۔” اسنے ڈش کو describe کیا۔
” اوکے پھر ایسا کرو ، پوٹری کباب ہی لے آؤ دو۔۔” مصطفی نے اسے آڈر دیا۔ ویٹر سر ہلا کر چلا گیا۔
مصطفی نازنین کو دیکھ کر مسکرایا تھا۔
” میں سوچ رہا ہوں کہ اب یہاں تک آ ہی گئے ہیں تو ، باقی باتوں کی فکر چھوڑ کر ہم دنوں اپنے ویکیشن پہ فوکس کریں۔۔۔” وہ اسے دیکھتا شرارت سے گویا ہوا۔
” بلکل ٹھیک کہہ رہے ہو تم ، ہمیں اپنے ویکیشن پہ فوکس کرنا چاہیئے۔۔۔” وہ اسکی بات کا مطلب سمجھے بغیر ہی چہک کر گویا ہوئ۔
” ہاں ناں اب تم دیکھنا ، ہم جب تک اس ویکیشن سے واپس لوٹیں گے ناں۔۔!! تو میری کوشش یہ ہوگی کہ ہم دو سے تین ہوجائیں۔۔” مصطفی نے معنی خیزی سے کہا۔
” ہیں۔۔۔!!
ہم دو لوگ آئے ہیں۔ تو ہم دو سے تین کیسے ہونگے۔۔۔؟؟” وہ اسکی بات پہ بھونچکا گئ تھی۔
” اس بات کی ٹینشن تم مت لو ڈارلنگ۔۔” مصطفی نے آنکھ مار کر کہا۔
” تمہیں بلکل شرم نہی آتی مصطفی۔۔۔۔” وہ اسکی بات سمجھتی حیا سے سرخ پڑتا چہرہ جھکا کر ایک ایک لفظ چبا کر گویا ہوئ۔
” نہی۔۔۔ اس میں شرم کی کیا بات ہے۔۔۔!!
لوگ شادی کیوں کرتے ہیں ، فیملی بڑھانے کے لیئے ناں۔۔۔” مصطفی نے اسے چاہت سے دیکھا۔
” اچھا ، اچھا بس اب اس سب کے بارے میں بات کرنا بند کرو۔۔۔” وہ پزل ہو رہی تھی۔
” یار ایک تو تم ناں اچھے خاصے موڈ کا بیڑا غرق کر دیتی ہو۔۔۔” مصطفی نے خفا ہونے کی اداکاری کی۔
” بس اب زیادہ بننے کی ضرورت نہی ہے۔۔۔” وہ اسے موڈ خراب کرتا دیکھ ڈانٹ گئ تھی۔ وہ منہ کے زاویے درست کرنے کے بجائے مزید بگاڑ گیا تھا۔
☆☆☆☆☆
” حیدر آپ اسے سنبھالیں ، میں کھانا بنا لوں دیر ہورہی ہے۔۔۔” وہ آئرہ کو حیدر کی گود میں ڈالتی خود کچھ کی جانب بھاگی تھی۔
حیدر اسکی جلد بازی پہ سر نفی میں ہلا کر رہ گیا تھا۔
” میں تمہیں ہزار بار کہہ چکا ہوں ساوری ، گھر کے کام ملازموں سے کروا لیا کرو۔ اور تم بس اپنا اور آئرہ کا خیال رکھا کرو یار۔۔۔” وہ ذرا اونچی آواز میں گویا ہوا۔
” تو کیا ہوگیا حیدر۔۔۔!! اب یہ تو رونا دھونا کبھی بند نہی کرتی تو اسکا مطلب کیا ہے۔ میں اپنی باقی زمداریوں سے منہ موڑ لوں۔” اسکی مصروف سی آواز باہر بر آمد ہوئ۔
” تمہارا کچھ نہی ہوسکتا۔۔۔” حیدر نے سر نفی میں ہلا کر کہا۔
” آپ کو پتہ تو ہے۔ امی کو ملازموں کے ہاتھ کا کھانا بلکل پسند نہی ، اور آپ ہیں کہ۔۔ وہ بیچاری ویسے بھی کتنا سیکریفائز کر چکی ہیں۔ ہم لوگوں کے لیئے۔ میں نہی چاہتی کہ اب ان کو ہماری وجہ سے پرابلم ہو۔۔” وہ سالن میں چمچ چلاتی گویا ہوئ۔
” اوکے ، اوکے چلو پھر جلدی بناؤ کھانا بھوک تو مجھے بھی بہت زور کی اور شدید لگی ہے۔۔” مصطفی نے مسکرا کر کہا۔
” بس ابھی بننے ہی والا ہے۔۔” وہ گندے ہوئے برتن بھی ساتھ ساتھ دھونے لگی۔
” تم برتن چھوڑو ، وہ میں دھو دیتا ہوں۔ تم آئرہ کو لو۔۔۔” وہ اٹھ کر اسکے پاس کچن میں آیا تھا۔
” ارے نہی آپ کیوں دھوئیں گے برتن ، میں کس لیئے ہوں۔ میں دھوؤں گی ناں۔۔۔” وہ برا منا گئ۔
” کیا ٹیپکل حرکتیں کر رہی ہو۔ میں دھوؤں برتن یا تم کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔؟؟” حیدر نے اسے گھور کر کہا۔
” میں نہی چاہتی آپ مجھ سے کبھی تنگ آئیں۔ میری حیثیت کیا تھی آپکی زندگی میں ، اور آپ نے مجھے کیا مقام دے دیا یہ تو میں کبھی نہی بھلا پاؤں گی۔۔۔” ساوری نے ہونٹوں پہ پیاری سی مسکان سجا کر کہا۔
” میں تم سے کیوں تنگ آؤں گا بھلا۔۔۔!!
اور میں نے تمہیں کوئ مقام نہی دیا۔ تمہارا اپنا ایک مقام تھا ، ہے ، اور ہمیشہ رہے گا۔ تم انمول تھیں ، تم انمول ہو ، اور تم ہمیشہ انمول رہو گی۔۔۔” حیدر نے اسکے ماتھے پہ بوسہ دے کر کہا۔ ساوری کی آنکھیں لمحوں میں بھیگیں تھیں۔
” آپ بہت اچھے ہیں۔ حیدر مجھ سے ہی آپکو سمجھنے میں غلطی ہوگئ تھی۔۔” وہ نم کپکپاتے لہجہ میں گویا ہوئ۔
” تمہیں پتہ ہے اچھا مرد بھی تب تک ہی اچھا ہوتا ہے۔ جب تک اسکی زندگی میں موجود اسکی محرم عورت اچھی ہو۔ پر جس دن وہ عورت اپنا مقام خود بھلا دے۔ اور اسے شوہر، بچوں سے زیادہ باقی دنیا پیاری ہوجائے تو میرے جیسے مرد بھی ایسی عورتوں سے بیزار آنے لگتے ہیں۔” وہ کہتے کہتے ایک پل کو رکا تھا۔
” تم جانتی ہو تم میں خاص کیا ہے۔۔۔؟؟” حیدر نے اس سے پوچھا۔
” کیا۔۔۔؟؟” وہ پوچھے بنا رہ نا سکی۔
” تم میں خاص یہ ہے کہ تم دوسروں کو خاص سمجھتی ہو۔ تمہاری خاصیت یہ ہے کہ تم صرف چہرہ کی خوبصورتی کو نہی مانتی۔ تم دل کی خوبصورتی کی بھی قائل ہو۔ اور ہر پل اپنے باہر سے زیادہ تم اپنا من سنورنے کی کوشش میں لگی رہتی ہو۔ تم بہت خاص ہو۔۔” وہ مسکرایا تھا۔
” میں لاجواب ہوں ۔۔۔۔ آپ نے میری اسقدر تعریف کرکے مجھے لاجواب کر دیا ہے۔۔۔” وہ نم آنکھیں لیئے مسکرائ تھی۔
حیدر دھیرے سے اسے اپنے سینے سے لگا گیا تھا۔ اور اسے پتہ ہی نا چلا کب وہ سسکیاں لے ، لے کر رونے لگی۔ حیدر اسکی پیٹھ سہلاتا اسے حوصلہ دے رہا تھا۔
☆☆☆☆☆
