Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 13)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

” سوری بٹ آئ ڈونٹ نیڈ یور جتی۔” میر نے زہر خند مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجا کر کہا۔

” تو میں کونسا تمہیں دینے والی ہوں۔” وہ زبان چڑھا کر واشروم کا دروازہ زوردار آواز کے ساتھ بند کر گئ تھی۔ میر عالم کے ہونٹوں پہ مسکان در آئ تھی۔ میر عالم بالکنی میں جاکر کھڑے ہوئے تھے۔ انکے موبائل کی رنگ ٹون خاموش ماحول میں ارتعاش پیدا کر گئ تھی۔ میر عالم نے کال پک کی دوسری جانب حیدر تھا۔

” بھائ۔۔۔ آپ نے نازنین کا نکاح کر دیا۔ اور ڈیڈ یا مجھے بتایا تک نہی آپ نے۔” حیدر کی آواز سے ہی اسکی خفگی کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا۔

” سوری وہ جلدی میں سب کچھ ہوا۔ پر نازنین بہت خوش ہے۔” میر نے اسے تسلی دینا چاہی۔

” آپ اب بھی مجھ سے حقیقت چھپا رہے ہیں۔ مجھے نازنین کال کرکے سب کچھ بتا چکی ہے۔ اور مصطفی نے اسکے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہ بھی۔ میں ابھی آرہا ہوں۔ اور نازنین کو ساتھ اپنے گھر لیکر جاؤں گا۔ میری بہن کسی کی مار کھانے کو نہی بیٹھی۔ نا ہی وہ لاوارث ہے۔” حیدر نے ایک ہی سانس اپنی بات مکمل کی اور کال کاٹ دی۔

میر عالم کمرے سے قدرے طیش کے عالم میں نکلے تھے۔ نازنین نیچے اپنا سامان باندھے بیٹھی تھی۔

” نازنین۔۔۔۔ یہ کیا طریقہ ہے بیٹا۔” میر عالم نے اسکے بندھے سامان کو تک کر کہا۔

” بلکل ٹھیک طریقہ ہے بھائ۔ آپ اگر چاہتے ہیں۔ کہ میں آج آپ سے اپنا ہر تعلق ختم کرکے نا جاؤں تو پلیز۔ مجھے جانے دیں حیدر بھیا کے ساتھ۔ آپ نے سب اپنی آنکھوں سے دیکھا پھر بھی آپ نے اس جاہل انسان کو روکنے کی کوشش نا کی۔” وہ روٹھے پن سے گویا ہوئ۔

” نازنین۔۔۔۔ غلطی تمہاری بھی ہے۔ تم نے اسپہ جھوٹا الزام لگایا تھا۔ وہ بس اس بات کا غصہ ہے۔ اسکا غصہ جیسے ہی ختم ہوگا۔ وہ پہلے جیسا ہوجائے گا۔ نرم ، سمجھدار اور ایک خیال رکھنے والا انسان۔” میر عالم نے اسے سمجھانا چاہا۔

” بھائ میں آپکو ایک بات کلیئر کردوں نا مجھے اسکے ساتھ شادی کرنی تھی۔ نا مجھے اسکے ساتھ رہنا تھا۔ اور نا اب رہنا ہے۔” اسکا انداز بیاں خاصہ مضبوط تھا۔

” بیٹا۔۔۔!! اب جو بھی ہے جیسے بھی ہے۔ رشتہ تو بن گیا ہے ناں۔ اور تم کوشش تو کرسکتی ہو ناں اس رشتے کو نبھانے کی۔” انہوں نے اسے کسی طرح راضی کرنا چاہا۔

” میں اس شخص کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی۔ رشتہ نبھانے کی بات تو بہت دور کی ہے۔” اسنے ضدی لہجہ میں کہا۔

” نازنین۔۔۔۔ بیٹا۔۔۔ ” میر عالم اس سے پہلے کہ اسے مزید کچھ سمجھاتے۔ حیدر آگیا تھا۔ میر عالم پہ ایک خفگی بھری نگاہ ڈال کر وہ دونوں جاچکے تھے۔

میر عالم شکست خوردہ سے صوفہ پہ جاکر بیٹھے تھے۔

☆☆☆☆☆

” ساوری کیوں کیا تھا۔ تم نے انکو فون۔” بھابھی رو رو کر نڈھال ہوچکی تھیں۔

” بھابھی بھائ کی زندگی سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں میرے لیئے۔” ساوری نے بھابھی کے ہاتھ تھامے۔

” تمہارے بھائ کو پتہ چلا تو۔۔۔۔ وہ جیتے جی مر جائیں گے۔” انہوں آنکھیں مینچ کر کہا۔

” ہم بھائ کو یہ سب کچھ بتائیں گے ہی نہی۔ بھائ کو ہم یہ ہی دکھائیں گے کہ میری نارمل شادی ہورہی ہے۔” اسنے سنجیدگی سے آگاہ کیا۔

” ساوری منا کردو انہیں۔ اس سے پہلے کہ وہ کل آئیں۔ اور تمہاری زندگی کا تاریک ترین دورانیہ شروع ہوجائے انہیں منع کردو۔” وہ اسکے گالوں پہ ہاتھ دھر کر نرمی سے گویا ہوئیں۔

” میں ایسا کچھ نہی کرنے والی بھابھی۔ اور مجھے نہی لگتا کہ یہ سب اتنا بھی مشکل ہوگا۔” وہ بھابھی کو تسلیاں دے رہی تھی۔

” ساوری۔۔۔” بھابھی اسے سینے سے لگاتی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھیں۔

” آپ پریشان نا ہوں۔” ساوری نے بھابھی کی کمر کو سہلایا۔

خود بھی دل بے تاب تھا۔ رونے کو پر وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔

☆☆☆☆☆

مصطفی ڈنر کرنے نیچے آیا۔ خاموشی سے چیئر کھسکا کر وہ ڈنر کرنے لگا تھا۔ شعلہ نے ایک نظر اسے تکا۔ واپس اپنا دیہان کھانے کی جانب ڈال گئ۔ میر عالم نے اسے ایک نظر تکا۔ اور کھانا کھاتے ہوئے آج جو کچھ ہوا اس سے آگاہ کرنے نا بھولے۔

” نازنین حیدر کے ساتھ یہاں سے ہمیشہ کے لیئے جا چکی ہے۔” میر عالم کی آواز جب مصطفی کے کانوں سے ٹکرائ۔ وہ ایک پل کو رکا اور واپس کھانا کھانے لگا۔

” کچھ کہو گے نہی۔۔؟” میر عالم نے اسے جانچنا چاہا۔

” نہیں۔” مصطفی نے دانت کچکچا کر جواب دیا۔

” وہ تمہارے ساتھ رہنا نہی چاہتی تھی۔ اسی لیئے وہ چلی گئ۔” میر عالم نے دھیرے سے بتایا۔

” یہ کونسی نئ بات پے۔ وہ تو شروع سے میرے ساتھ رہنا نہی چاہتی تھی۔ پر حیرت مجھے اس بات پہ ہے کہ وہ آپکو ۔۔۔ مطلب آپکو چھوڑ کر چلی گئ۔ یقین نہیں آتا۔ آج دکھا دیا ناں اس نے کے سوتیلے رشتے کسی کے نہیں ہوتے۔” وہ زہر خند لہجہ میں گویا ہوا۔

میر عالم نے گہری سانس لیکر اسے تکا۔

” اب تم مجھے ہرٹ نا کرو۔ بہت بد تمیز ہوگئے ہو تم مصطفی پچھلے چند دنوں میں۔” میر عالم نے اسکے انداز بغور تکے۔

” مصطفی جو اتنے سالوں سے ہرٹ ہوتا آرہا تھا۔ وہ وقت کسی کو یاد نہی۔ اب اگر مصطفی کسی کو حقیقت بھی بتا دے۔ تو لوگ ہرٹ ہورہے ہیں۔ حیرت ہے۔۔۔!!” مصطفی نے کندھے آچکا کر کہا۔

” کب تک چلے گی تمہاری یہ ناراضگی۔؟” میر عالم نے سنجیدگی سے پوچھا۔

” جب آپکو مجھ پہ بھروسہ ہوگا تب۔ ابھی تو ناممکن سی بات ہے۔” وہ اٹھتا اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔

میر عالم بھی بے دلی سے کھانا چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ شعلہ اپنا کھانا پوری دنیا سے بے گانگی برت کر کھانے میں مصروف تھی۔

مصطفی نے کمرے میں آتے ہی اپنے موبائل سے کال ملائ تھی۔

دوسری جانب سے فون اٹھا لیا گیا تھا۔

” تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔۔ تم وہاں جا کر بیٹھ جاؤ گی تو۔ میں یہ گھر ۔۔۔ میر بھائ ، ہر چیز کو چھوڑ کر چلا جاؤں گا سوچ ہے تمہاری۔ اور تم یہاں سے چلی گئ ۔۔۔ اچھا کیا ویسے بھی تمہاری شکل میری برداشت سے باہر تھی۔” وہ تقریبا غرا رہا تھا۔

” ٹھیک ہے اگر میری بہن کی شکل تم سے برداشت نہی ہوتی تو۔ اسے طلاق دے دو۔” حیدر کی آواز سن کر وہ مزید بھنایا تھا۔

” کبھی نہیں دونگا طلاق بیٹھی رہے ایسے ہی ساری عمر۔” مصطفی نے سرد لہجہ میں جواب دے کر کال کاٹ دی تھی۔

میر عالم کے کمرے کا منظر اس وقت خاصہ نرالہ تھا۔ میر عالم ابھی بیڈ پہ آکر لیٹے تھے۔ کمفرڑر سر تک تانے وہ بیڈ کے بیچوں بیچ پڑے تھے۔ ابھی انکی آنکھ لگی ہی تھی۔ کہ کوئ کود کر ان پہ لیٹا تھا۔ میر عالم چیخ کر رہ گئے تھے۔

” آہ۔۔۔ کون ہے۔” میر عالم نے چلا کر پوچھا۔ شعلہ اپنی حرکت پہ خجل تو ہوئ پر میر عالم کو ڈرانے کا فیصلہ کیا۔ اسکے اوپر بیٹھ کر اسنے آواز کو تھوڑا بھاری بنا کر جواب دیا۔

” اے باس۔۔۔ میں کالیا دی شوٹر ہے۔ سپاری ملی تیرے کو ٹھکانے لگانے کی اپن کو۔”

میر عالم نے گہری سانس خارج کرے کمفرٹر اپنے چہرہ پہ سے ہٹایا تھا۔

” آج تو یہ کالیا دی شوٹر گیا میرے۔ ہاتھوں ضائع ہوگیا۔” میر عالم نے اسے دونوں کلائیوں سے تھام کر خود پہ گرایا تھا۔

” ایسے کیسے ضائع ہوگیا۔ کسی کے باپ کا مال تھوڑی ہوں۔” اسنے گھبرا کر کہا۔

” پر میرا مال تو ہو ناں۔” وہ اسکے چہرے کو تکتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔ شعلہ کی ہتھیلیاں لمحوں میں بھیگی تھیں۔ اسکی قربت کا اثر تھا۔ کہ اسکے چہرے پہ ننھے ننھے چند شبنمی قطرے نمودار ہوئے تھے۔

” چھی ۔۔۔چھی ۔۔۔ کیسی گندی باتیں کر رہے ہو۔ چھوڑو مجھے۔” وہ اسپہ سے اٹھنا چاہتی تھی۔ پر عالم نے اسے اپنے برابر لٹایا تھا۔ اور پھر اسکے اوپر آئے تھے۔ اپنی بھاری ٹانگ کو۔ نازنین کی نازک سی ٹانگوں پہ دھرا تھا۔

” ابھی تو میں نے کوئ گندی حرکت کی ہی نہی۔” وہ اسکے سراپے کو دلچسپی سے تکتا گویا ہوا۔

” ابے بڈھے سٹھیا گیا ہے کیا۔ پیچھے ہٹ۔” شعلہ کے گال دہکنے لگے تھے۔ اسنے اسے خود سے دور کرنا چاہا۔

” آج یہ بات کلیئر کردوں۔ اتنا بھی بڈھا نہیں میں۔ صرف پچاس سال کا ہوں میں۔” وہ اسکے بالوں کی لٹ اسکے چہرے پہ سے ہٹا کر گویا ہوا۔ شعلہ نے یکدم اپنی آنکھیں مینچیں تھیں۔

” تو۔۔۔۔ آدھی عمر گزار کر۔ اب بھی چاہتے ہو کوئ تمہیں بڈھا نا کہے۔” وہ اسکے سینے پہ ہاتھ رکھتی اسے خود سے دور کرنے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھی۔

” کسی اور کا تو پتہ نہی۔ پر کم از کم تمہارے منہ سے مزید اپنے لیئے یہ القاب نہی سننا چاہتا۔” وہ اسے مکمل طور پہ قید کرتا اسکے کانوں میں گنگنایا تھا۔

” دور ہٹیں۔۔۔ کہیں پی وی تو نہی لی ناں۔۔!!” اسنے سہمے ہوئے انداز میں پوچھا۔

” نہی۔۔۔ ہوش میں ہوں۔” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے سنجیدگی سے گویا ہوئے۔

” دیکھیئے ہم کوئ اصلی کے میاں بیوی تھوڑی ہیں۔ جو ایسے آپ۔۔۔۔ میرے ساتھ کر رہے ہیں۔” وہ منمنائ۔

” نکاح ہمارا اصلی ہی ہوا تھا۔ شاید۔۔۔ ہے ناں۔ تو پھر بھلا ہم اصلی میاں بیوی کیسے نا ہوئے۔” وہ اسکی اڑی رنگت دیکھ۔ اپنی امڈتی ہنسی کو لبوں کی تراش میں دبا گئے۔

” وہ پر دل سے تو ہم ایک دوسرے کو میاں بیوی نہی مانتے ناں۔” اسنے جھٹ جواز پیش کیا۔

میر عالم دلکشی سے مسکرائے تھے۔

” پر میں تو تمہیں اپنی بیوی مانتا ہوں۔” عالم کی سرگوشی سن کر اسکی آنکھیں ابل کر باہر کو آئ تھیں۔

” پر میں نہی مانتی تمہیں اپنا شوہر۔” اسنے جھٹ کہا۔

” عورتوں کی سنتا ہی کون ہے۔” میر عالم نے اسے چڑانے کو کہا۔ پر یہ بات شعلہ کے دماغ کے شوٹ سرکٹ پہ سیدھا جاکہ لگی تھی۔ میر عالم کو ٹانگوں کے بیچ میں زور دار لات ماری۔ میر عالم تکلیف سے کراہتے اس سے دور ہوئے تھے۔

وہ جھٹ اٹھی تھی اور کمر پہ ہاتھ دھر کر خونخوار لہجہ میں گویا ہوئ تھی۔

” عورتوں کی جو نہی سنتا۔۔۔ شعلہ اسکا حلوہ بنا دیتی ہے۔ آگے سے میرے ساتھ ڈونٹ بی اوور اسمارٹ۔۔۔ اور مجھ سے دس میل دور رہنے کا ہے۔ سمجھے۔”

عالم نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا تھا۔

” چڑیل ہو تم بلکل ٹھیک کہتا ہوں میں تمہیں۔ ایک خون آشام چڑیل کے سوا تم کچھ نہی ہوسکتی۔ تم ایک چڑیل ہو جو صبح شام دن رات سیاہ لباس پہنے بھٹکتی رہتی ہے۔” عالم نے غصہ اور تکلیف کے ملے جلے تاثرات سمیت کہا۔

☆☆☆☆☆

نازنین اپنے کمرے میں آکر لیٹی تھی۔ اس کمرے میں اسے نیند نہی آرہی تھی۔ آتی بھی کیسے۔ پانچ سال کی تھی۔ جب اسنے یہاں سے نکل کر میر عالم کے ساتھ رہنے کی ضد کی تھی۔ اپنے بڑے بھائ سے اسے بے حد محبت تھی۔ ہاں یہ بھی سچ تھا۔ کہ حیدر اور نازنین کی ماں ایک تھی۔ اور میر عالم کی ماں کوئ اور۔ پر باپ تو انکا ایک ہی تھا۔ میر عالم نے پچھلے پندرہ سالوں میں اسکا کتنا خیال رکھا تھا۔ اسے اچھے سے یاد تھا۔ پر ان گزرے پندرہ سالوں میں اسے مصطفی کبھی اچھا نہی لگا۔ اسے مصطفی سے نفرت تھی۔ کیونکہ وہ اسکے اور اسکے بھائ کے درمیان کسی دیوار کی مانند تھا۔ اور اب اسکا اسطرح سے مصطفی سے تعلق جڑ جانا۔ اسکے لیئے صدمہ سے کم نہی تھا۔ وہ بستر پہ لیٹی اس رات کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ جب مصطفی نے اسے نوچ ڈالا تھا۔ نازنین کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اسنے آنکھیں مینچیں ہوئ تھی۔ جب اسے اپنے پیٹ پہ کسی کا بھاری ہاتھ محسوس ہوا۔ اس سے پہلے کے وہ خوف سے چلا اٹھتی۔ موسی نے اسکے منہ پہ اپنا دوسرا ہاتھ دھرا تھا۔ اپنے بلکل قریب بیٹھے۔ عیسی کو دیکھ وہ سکون کا سانس لے گئ تھی۔

عیسی نے اسکے ہونٹوں پہ سے ہاتھ ہٹایا۔ تو وہ اسے دیکھ کر مسکرائ۔ پر اسکا لمس اپنے پیٹ پہ محسوس کرکے۔ یکدم سٹپٹائ تھی۔ اسے خود سے دور جھٹک کر وہ کھڑی ہوئ تھی۔

” ۔۔۔ عیسی ایسے آدھی رات کو میرے کمرے میں آنے کی کیا ضرورت تھی۔” وہ سنجیدگی سے گویا ہوئ۔

” میں کوئ پہلی بار تو ایسے تمہارے کمرے میں نہی آیا۔ ہمیشہ سے آتا ہوں۔ مجھے پتہ چلا کہ تم اپنے میر بھائ کا گھر چھوڑ کر یہاں آگئ ہو تو میں یہاں آگیا تم سے ملنے۔” وہ اسے کمر سے تھام کر اپنے قریب کرکے گویا ہوا۔

” عیسی ۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔ دور ہٹو۔۔۔” وہ اسے خود سے فاصلے پہ کرکے اپنی شرٹ ٹھیک کرنے لگی تھی۔

” ایسے اجنبیوں سا برتاؤ کیوں کر رہی ہو۔” عیسی نے کچھ برا منا کر کہا۔

” عیسی پلیز اب ہمارا ایسے ملنا ٹھیک نہی۔ میں۔۔۔ مصطفی کی بیوی ہوں۔ اور جب تک اسکے نکاح میں ہوں۔ میں اسے ایسے دھوکہ نہی دونگی۔” اسنے گہری سانس لیکر کہا۔

” پر تم تو اس سے نفرت کرتی ہو۔” عیسی نے سنجیدگی سے کہا۔

” ہاں کرتی ہوں۔ پر یہ بات بھی نہی جھٹلا سکتی کہ ہی از مائے ہسبنڈ۔” اسنے عیسی کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھ کر کہا۔ عیسی نے خمار آلود نظروں سے اسے تکا۔

” یہ بات تو تمہارے اور میرے بیچ کی ہے۔ اس مصطفی کو کون بتائے گا یہ سب۔” عیسی نے اسکا ہاتھ تھامنا چاہا۔ پر وہ دو قدم پیچھے ہوگئ۔

” اسے کوئ نہی بتائے گا۔ پر مجھے تو پتہ ہے ناں کہ میں اسے دھوکہ دے رہی ہوں۔” اسنے اٹل لہجہ میں کہا۔

” ہنہہ اوکے چلتا ہوں پھر میں۔ تمہیں دیکھ لیا اب ٹھیک ہے۔” وہ اسکے گال پہ ہلکی سی چٹکی کاٹتا کھڑکی سے کودا تھا۔ اور نازنین بے حال سی ہوتی بستر پہ بیٹھی تھی۔

☆☆☆☆☆