Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 01)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 01)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
سورج کی روشنی دور افق پہ پھیلی تھی۔ کراچی کی ٹریفک صبح سے لیکر شام تک مشہور شاہراؤں پہ ایسے پھیلی رہتی کے قدم دھرنے کی بھی جگہ نا ملتی۔ آج بھی ہر روز کی ہی مانند دن تھا۔ وہ پچھلے ایک مہینہ سے جاب ڈھونڈنے کے چکر میں خود کو خوار کر رہی تھی۔ کل وہ جس دفتر گئ تھی وہاں اسکی دوست کام کرتی تھی۔ اسکی دوست کے آفس میں پرسنل سیکرٹری کی سیٹ خالی تھی اور اسکی دوست نے اسے پوری امید دلائ تھی۔ کہ یہ نوکری وہ اسے دلوا کر رہے گی۔ اور اس وقت وہ دفتر کی اونچی عمارت کے سامنے کھڑی تھی۔ ٹینشن کے مارے اسکا حال برا ہو رہا تھا۔ وہ بہت دعائیں کرتی رہی تھی یہ نوکری ملنے کی ، اسے سچ میں اس نوکری کی شدید ضرورت تھی۔ اور اسے آج اپنا انٹرویو بہت اچھا دینا تھا کہ اسے یہ نوکری مل جاۓ۔ اسنے اپنے بیگ کی اسٹرپ کو مضبوطی سے تھاما۔ اور قدم دفتر کی سمت بڑھا دیۓ۔
وہ اوپر آکر ویٹنگ ایریا میں اپنی باری کا انتظار کرنے لگی۔ چند لڑکیوں کے بعد اسکی باری آئ۔ اسنے ڈرتے ڈرتے دروازہ ناک کیا۔ اسے اندرآنے کی اجازت ملی تو وہ سلام کرتی کرسی پہ بیٹھ گئ۔ سامنے دو مرد انٹرویو کے لیۓ بیٹھے تھے۔ تیسرا بھی کوئ وہاں گلاس وال کے پاس کھڑا تھا۔ گلاس وال کے پاس کھڑے شخص کی پشت ہی وہ دیکھ سکتی تھی۔ بہر حال وہ اپنی نشست پہ بیٹھی تھی۔ وہ بے حد کنفیوز سی بیٹھی تھی۔ اسنے بے چینی سے اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیرا۔
” آ۔۔۔۔ں۔۔ آپکا نام۔۔۔۔۔؟؟۔” سامنے بیٹھے آدمیوں میں سے ایک نے پوچھا۔
” ساوری۔۔۔” اسنے تھوک نگل کر کہا۔
“۔۔۔۔ مس ۔۔۔ ساوری۔۔ اس سے پہلے آپکا کوئ جاب ایکسپیرینس ۔۔۔؟۔”
اس سوال پہ تقریبا ساوری کا منہ بنا تھا۔ کیونکہ وہ جہاں بھی جاتی جاب ایکسپیرینس نا ہونے کی وجہ سے اسے ریجیکٹ کر دیا جاتا۔
” نو ۔۔۔ ایکسپیرینس سر۔۔۔”
” کیا آپکو نہیں پتہ کہ اس جاب کے لیۓ کم از کم تین سال کا تجربہ ہونا ضروری ہے۔” اس شخص نے قدرے افسوس سے کہا۔
” میں جانتی ہوں ۔۔۔ سر پر مجھے اس نوکری کی اشد ضرورت ہے۔” ساوری نے ہمت کرکے کہا۔
” دیکھیں ایسے تو آج اتنی لڑکیاں آئ ہیں۔۔۔ اور سب ہی کو اس کام کی اشد ضرورت ہے۔۔۔ پر ہم تو یہ نوکری اسی انسان کو دیں گے جو اس پوزیشن کے قابل ہو۔۔”
” میں سمجھ سکتی ہوں ۔۔۔۔ پر میرا یقین کریں میں بہت اچھے سے کام کروں گی آپ لوگ موقع تو دیں۔ پلیز اٹس جسٹ اے ریکویسٹ۔۔” اسنے تھوڑی سماجت کی۔
” محترمہ ۔۔۔۔۔ یہاں ہم نے کوئ سوشل سروس کی مہم شروع نہیں کی ، کہ ہم یہاں کسی انسان کی قابلیت صفر ہونے کے باوجود ان پہ رحم یا ترس کھا کر انہیں نوکری پلیٹ میں رکھ کر فراہم کر دیں۔” گلاس وال کے پاس کھڑے شخص نے بغیر مڑے سرد غصیلی آواز میں کہا۔
” سر جب کوئ موقع دے گا ہی نہیں تو قابلیت کا اندازہ کیسے ہوگا۔” ساوری نے با مشکل اپنی ناگواری کو چھپایا تھا۔
” ایمپریسو ۔۔۔۔ دلیلیں اپ کافی اچھی دے دیتی ہیں۔” وہ شخص مڑا تھا۔
وہ بلاشبہ ایک بہترین پرسنیلٹی کا مالک تھا۔ ساوری اسکی پرسنیلٹی سے اچھی خاصی مرعوب ہوئ تھی۔
” سر میں کام بھی بہت اچھا کر سکتی ہوں۔” اسنے سنجیدگی سے کہا۔
” مبشر انکا ایکیڈمک ریکارڈ کیسا ہے۔۔” وہ شخص معتبر سی چال چلتا اپنی نشست سنمبھال چکا تھا۔
” سر انکا ایکیڈمک ریکارڈ کافی اچھا ہے۔”
اس بات سے ساوری کی مزید ہمت بندھی تھی۔ وہ اپنا دوپٹہ اچھے سے درست کرکے بیٹھی تھی۔ پر سامنے بیٹھے لوگوں نے اب اسکے حولیہ کو جائزہ لیتی نظروں سے دیکھا تھا۔
” ہم آپکو نوکری دے دیتے پر آپکا حلیہ ایسا نہیں کہ آپکو یہاں نوکری دی جا سکے۔” اس شخص نے سنجیدگی سے کہا۔
” سر میں اپنا حلیہ بدل لونگی ۔۔۔۔ پلیز مجھے اس نوکری کی اشد ضرورت ہے۔” اسنے جھٹ کہا۔
” ٹھیک ہے ہم آپکو جلد انفارم کردیں گے اگر آپ اس جاب کے لیۓ ایلیجیبل ہوئ تو۔۔”
” اوکے اللہ حافظ۔” ساوری گہری سانس لے کر اس کیبن سے نکلی تھی۔ باہر نکلتے ہی اسکی دوست اس سے ٹکرائ تھی۔
” کیا ہوا ۔۔۔۔ انٹرویو کیسا ہوا۔” اسکی دوست اسکے ہاتھ تھام کر کھڑی ہوئ۔
” پتہ نہیں کیا ہوگا ، مجھے نہیں لگتا کہ مجھے یہاں بھی نوکری ملے گی بھی یا نہیں۔” اسکا لہجہ ہارا ہوا تھا۔
” ڈونٹ وری۔۔۔۔ میں بھی کسی سے بات کرتی ہوں اوکے پریشان نا ہونا۔۔” اسکی دوست نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
” نوکری ملی یا نہیں۔۔ ” بھابھی نے اسکے گھر میں گھستے ہی پوچھا۔
” کال کرکے انفارم کریں گے۔۔” اسنے تھکے تھکے سے انداز میں اپنے قدم گھسیٹے۔
” اگر تعہیں نوکری نہیں ملی ناں ساوری تو ہم دربدر ہوجائیں گے۔” بھابھی کی آنکھوں میں آنسو جمکنے لگے تھے۔
آپ پریشان نا ہوں بھابی یہاں سے نوکری کی امید ہے۔” اسنے نرمی سے کہا۔ ”
” تمہارے بھائ کی دوائیاں بھی ختم ہوچکی ہیں۔” انہوں نے پانی کا گلاس اسکی سمت بڑھایا۔
” پانی ٹھنڈا نہیں ہے۔۔”
” نہیں میں نے فریج بند کر دیا ہے بل بہت زیادہ آیا ہے۔”
اسنے دھیرے سے سر ہلایا تھا۔
” ٹیوشن والی نے بھی جواب دے دیا ہے۔ اور اسکول سے بھی نوٹس آگیا ہے۔” بھابھی کی آنکھیں ایک بار پھر بھیگنے لگی تھیں۔
” آپ پریشان نا ہوں بھابھی بس دعا کریں۔” اسنے فرش کو گھورتے کہا۔
” ہنہ ساوری اب تو ایسا لگتا ہے کہ ہماری دعائیں بھی عرش تک نہیں پہنچتی۔۔” بھابھی کا لہجہ بے حد مایوس کن تھا۔
” بھابھی پریشان نا ہوں ۔۔۔۔ اور مایوس نا ہوں بہت جلد سب ٹھیک ہوجاۓ گا۔” ساوری کی آنکھیں بھی اب بھیگنے لگی تھیں۔
” مایوس نہیں ہوں پر۔۔۔” بھابھی کے لب پھڑپھڑاۓ تھے۔
” آپ پریشان نا ہوں۔۔” اسنے انکے ہاتھ تھپتھپاۓ تھے۔
” ہمم ۔” انہوں نے سر کو جبش دی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
” یہ سالا کون ہے۔” وہ آنکھیں چندھیا کر بولی۔
” یہ وہی ہے جسکی سپاری تمہیں دینا چاہتے ہیں ہم۔۔” سامنے کھڑا شخص جسکا لباس قیمتی تھا۔ وہ ایک بہت بڑی آسامی تھا۔
” یہ۔۔۔۔ اس انکل کو ویسے مروانے کا کیوں ہے۔” اسنے نظریں گھما کر سامنے والے کی بڑی توند کو ایک نظر دیکھا تھا۔
” مجھے کسی نے کہا تھا کہ تم کافی اچھا کام کرتی ہو پر تمہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ کون ہے۔۔” وہ شخص اسکی اتنی کم جنرل نالج سے بیزار آیا تھا۔
” اوو توندو انکل ۔۔۔۔ تو کسی کو مروانے کی سپاری دینے کو آیا ہے تو انفارمیشن تو تجھے دینی پڑے گی ناں ۔۔۔۔ جانتی تو میں تیرے باپ کے باپ کے بارے میں بھی ہے۔ پر کیا ہے کہ میرے کام کا ایک فارمیٹ ہے اور میں کام اپنے حساب سے ہی کرتی ہے۔ میرے کو سکھانے کی ضرورت نہیں۔” اسکے تیور لمحوں میں بگڑے تھے۔
” نہیں وہ میرا وہ مقصد نہیں تھا۔” وہ شخص سٹپٹایا تھا۔
” چل بس۔۔۔ نوٹنکی بند کر۔۔۔ اور بتا کتنے دے گا۔۔؟؟۔” وہ اصل مدعہ پہ آئ تھی۔
” پچاس لاکھ۔۔۔۔” اس شخص نے دریا دلی سے کہا۔
” پچاس لاکھ ۔۔۔ الو سمجھا ہے کیا۔۔۔۔ اٹھ نکل نہیں تو تیرا ہی پتہ کٹ جاۓ گا۔۔” وہ لمحوں میں خونخوار ہوئ تھی۔
” ارے تم تو خفا ہورہی ہو ۔۔” وہ شخص خوشآمدی ہوا تھا۔
” تو بات تو ایسی کرے گا تو ایسا ہی ہوگا ناں۔” وہ اسے گھور کر گویا ہوئ۔
” تم ایسا کرو تم بتا دو کتنا لوگی۔”
وہ سر آسمان کی طرف اٹھا کر مسکرائ تھی۔ دھوپ کی ہلکی ہلکی کرنوں سے اسکا چہرہ دمک اٹھا تھا۔
” تین کروڑ۔۔”
” تین کروڑ یہ بہت ذیادہ۔۔۔۔” وہ شخص اسکے بگڑے تیور دیکھ کر رکا تھا خجل سا ہنسا تھا اور تھوک نگل کر جھٹ گویا ہوا تھا۔
” بہت کم ہیں ہاہاہا ذیادہ تو بلکل بھی نہیں۔۔”
” ہمم تو پیسے جیسے ہی مجھے ملیں گے تمہارا کام ہوجاۓ گا۔” اسنے ایک شان سے پیر پہ پیر ڈالا۔
” جی ٹھیک۔۔۔” وہ مسکرا کر کہتا وہاں سے نکل گیا تھا۔ وہ سر کرسی کی پشت پہ ٹکا گئ تھی۔
” بہت کام کرنا ہے ، تیار رہو تمہاری موت کا پروانہ تمہارے قریب آرہا ہے۔” وہ خود سے بڑبڑائ تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭
” کانفرینس ارینج کر دی۔” وہ بلیک کوٹ جھٹک کر پہنتے مستفسر ہوۓ۔
” جی سر۔” اسکا پرسنل اسسٹنٹ مسکرا کر گویا ہوا۔
” ہممم ٹھیک ۔۔۔۔ مخالف پارٹی کی جانب سے کوئ نیا بیان آیا۔” اسنے پرفیوم اٹھا کر خود پہ چھڑکا۔
” نہیں سر ابھی تک تو نہیں۔”
” حیرت کی بات ہے ویسے ، مجھے امید نہیں تھی اس بات کی۔” وہ تمسخر سے ہنسے۔
” چپ بیٹھنے والوں میں سے تو نہیں وہ لوگ سر یقینا اندر ہی اندر کوئ نا کوئ کھچڑی پک رہی ہوگی۔”
میر عالم خان نے مسکرا کر اسے دیکھا ، کلائ پہ گھڑی باندھتے وہ گہری سانس لیکر سر جھٹک گۓ تھے۔
” میری کافی۔” میر عالم خان نے آئبرو اچکا کر پوچھا۔
” آہ سوری سر میں بول کر آیا۔” مصطفی نے جھٹ کہا۔
” نہیں رہنے دو۔” انہوں نے اسے روکا۔
” ابھی پانچ منٹ میں بن جاۓ گی۔” اسنے رک کر کہا۔
” اٹس اوکے رہنے دو۔” اب انکا لہجہ قدرے درشت تھا۔
” اوکے سر۔” وہ سعادت مندی سے کہتا انکے پیچھے لپکا تھا۔
” بھائ۔۔۔” میر عالم خان اپنی چھوٹی اور سب سے پیاری بہن کی پکار پر رکے تھے۔
” جی کہیۓ۔۔۔ کیا کام ہے ہماری گڑیا کو۔” انکا لہجہ یکدم شفقت کی بارش میں بھیگا تھا۔
” بھائ کیا مجھے جب آپ سے کوئ کام ہوگا تب میں آپکے پاس آؤں گی۔” اسکے گال خفگی سے پھولے تھے۔
” آہاں ایسا کس نے کہا۔۔” میر عالم خان نے لاڈ اٹھاتے لہجہ میں کہا۔
” بھیا آپ نے ہی کہا۔”
” کب میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا۔” وہ حقیقتا حیران ہوۓ تھے۔
” ابھی تو آپ نے کہا تھا۔” وہ لب بسور گئ تھی۔
“اوکے اوکے سوری۔” انہیں فورا معذرت کرنا درست لگا۔
” اٹس اوکے۔۔۔ مجھے بھیا بیس لاکھ روپے چاہیۓ تھے۔” وہ اصل مدعہ پہ آئ تھی۔
” ہمم مصطفی نازنین کے اکاؤنٹ میں رقم جمع کروا دو۔” میر عالم خان نے مسکا کر نازنین کو تکا۔
” آ۔۔۔۔ پر سر ابھی اتنی بڑی رقم ۔۔۔ سر الیکشن کے لیۓ ہمیں پائ پائ کی ضرورت ہے۔” مصطفی کی بات پہ نازنین کی آنکھوں میں شرارے عود آۓ تھے۔
” بھائ اپنے ملازمین کو انکی حدود آپ خود باور کروا دیجیۓ۔” نزنین نے آدھی بات کہہ کر مصطفی کو حقارت سے تکا تھا۔
” ورنہ اگر میں نے یہ کام کیا تو بہت نقصان ہوجاۓ گا لوگوں کا۔” گردن اکڑا کر کھڑی وہ لڑکی مصطفی کو زہر لگی تھی۔
“گڑیا پلیز۔۔ ایسے بات کرتی تم بلکل اچھی نہیں لگتی۔ مصطفی چلو دیر ہورہی ہے۔” میر عالم خان کو نازنین کا انداز بلکل پسند نہیں آیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭
” تنگ آچکی ہوں میں تمہاری فیملی کب تک یہ سب کچھ کرے گی۔ میں دن با دن ایک ذہنی مریضہ بنتی جا رہی ہوں۔” درفشاں حلق کے بل چلا رہی تھی۔ حیدر اسکے چیخنے چلانے کو نظر انداز کرتا دفتر جانے کی تیاری کر رہا تھا۔
” تم میری بات کان کھول کر سن لو میں کوئ بچہ بیدا نہیں کرونگی۔” وہ ایک بار پھر چلائ۔
” مانتا ہوں کہ میں اس شادی میں شروع سے کمپرومائز کرتا آرہا ہوں پر اس سب میں ۔۔۔ تمہاری مدد کرنے سے میں تو قاصر ہوں۔ بچہ تو میں پیدا نہیں کرسکتا ناں۔” حیدر نے شانے اجکاۓ۔
” پیدا نہیں کرسکتے ، تو اپنے ماں باپ سے کہو کہ مجھ سے بچے کی ڈیمانڈ کرنا بند کریں۔” وہ کشن زمین پہ پھینک کر چلائ تھی۔
“ہفف اوکے۔۔ میں بات کرکے دیکھتا ہوں۔”
” صرف بات کرکے نہیں دیکھنا۔ ان سے صاف صاف کہہ دو میں بچہ نہیں پیدا کرونگی۔” اسنے تلخی سے کہا۔
” میں آفس جا رہا ہوں بعد میں بات ہوگی۔” حیدر نے ماتھا کھجا کر کہا۔
” اپنے کام کی کرئیر کی تمہیں اتنی فکر ہے پر میرے کام کا کوئ احساس ہی نہیں تمہارے خاندان کو۔” اسکی بڑبڑاہٹیں عروج پہ تھیں۔
” مجھے نہیں لگتا ایک بچہ پیدا کرنے سے تمہارے کریئر پہ کوئ خاص فرق پڑے گا۔” حیدر سنجیدگی سے کہتا کمرے سے نکل گیا تھا۔ اور وہ اب اپنا غصہ بے جان چیزوں پہ نکال رہی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭
درفشاں پیشے سے ایک ماڈل تھی۔ وہ ایک ایسی ماڈل تھی جسکے لیئے اسکے کیریئر سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں تھا۔ یہاں تک کہ اسکا شوہر اور اسکی شادی بھی اسکے لیۓ معنی نہیں رکھتی تھی۔ وہ حیدر کی خالا زات تھی۔ حیدر کی والدہ اپنی بھانجی کو بڑے چاؤ سے بیاہ کر لائ تھیں۔ وہ بھانجی جو شادی سے پہلے خالا کے پلو سے بندھی رہتی تھی۔ اب اسی بھانجی کو شادی کے چند دن بعد اپنی خالا ناگن لگنے لگی تھی۔ اور حیدر کی اماںبھی اب درفشاں کے رنگ ڈھنگ دیکھ افسوس کے سوا کچھ نا کر پاتیں۔
٭٭٭٭٭٭٭
