Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 27)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 27)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
اسفند کو ایک ملازم نے اندر لاکر بٹھایا تھا۔ اسفند سر جھکائے بیٹھا تھا۔ ایک تنقیدی نظر ڈرائینگ روم کی آرائش پہ ڈالتا۔ وہ شہلا کا انتظار کر رہا تھا۔
ڈرائنگ روم میں کسی صنف نازک کے قدم پڑے تھے۔ اسفند نے اسکے قدموں سے نظر اوپر لیجا کر دیکھا تو اسے سکتہ ہوا۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا۔ بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا۔ مگر اس سے پہلے وہ کچھ کہتا۔ مقابل کھڑی شعلہ نے تھیکے نقوش لیئے قدرے کرخت لہجہ میں اسفند کو مخاطب کیا۔
” کون ہو تم۔۔۔ اور تمہیں کیسے پتہ چلا کہ شہلا کی ماں اس دنیا میں نہی رہی۔۔؟” شعلہ صوفہ پہ کسی ملکہ کی مانند آکر بیٹھی تھی۔
” جی وہ میں اسفندیار احمد ہوں۔ اور شہلا ہمارے پڑوس میں رہتی تھی۔۔۔ ، کچھ ماہ پہلے میں نے اسے یہاں سے نکلتے دیکھا تھا۔ اور پھر مجھے پتہ چلا کہ وہ یہاں رہتی ہے۔ پھر میں اس سے ملا۔ اور اس نے مجھ سے اپنی فیملی کے بارے میں پوچھا۔ مجھے پہلے سے پتا تھا۔ اسکی امی کے انتقال کا پر میری ہمت نا ہوئ اسے بتانے کی اسی لیئے میں نے اسے شروع میں نہی بتایا۔ پر پھر مجھے لگا۔ کہ مجھے یہ بات اس سے مزید نہی چھپانی چاہیئے اسی لیئے میں نے اسے سچ بتا دیا۔۔” اسفند نے اسے ساری بات بتائ۔
شعلہ کئ لمحے خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔ اور پھر گہری سانس لیکر تقریباً حکم صادر کیا۔
” ٹھیک ہے۔ اب تم جاسکتے ہو۔ اور ہاں ۔۔۔۔ دوبارہ شہلا سے رابطہ کرنے کی کوشش نا کرنا۔ نہی تو پچھتانے کے بھی قابل نہی رہو گے۔۔”
” پر آپ ہوتی کون ہیں۔ شہلا کو مجھ سے دور کرنے والی۔۔” وہ بھڑکا تھا۔
” میں کون ہوتی ہوں۔ میں تمہیں یہ بتانے کی پابند نہی۔ پر ہاں ، تم کون ہوتے ہو ، اسکا نام اسقدر حق سے لینے والے بتاتے جاؤ۔۔۔” شعلہ نے بگڑے تیور سمیت کہا۔ غصہ تو آجکل ویسے بھی اسکی ناک پہ دھرا رہتا۔
” میں اس سے پیار کرتا ہوں ، اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔” اسفند نے جذباتیت سے کہا۔
” پر میرے خیال سے وہ تم سے کوئ پیار ، ویار نہی کرتی۔۔” شعلہ نے سرد لہجہ میں کہا۔
” یہ میرا اور شہلا کا مسئلہ ہے۔۔” اسفند جل کر رہ گیا۔
” پر اب نہی رہا۔” شعلہ نے ماتھے پہ ڈھیروں بل سجا کر کہا۔
” پلیز آپ شہلا کو بلا دیں۔۔۔” اسفند نے اکڑ کر کہا۔
” مجھے اکڑ مت دکھاؤ ، ایسی حالت میں یہاں سے تمہیں تمہارے گھر پھکواؤں گی کہ تم ساری زندگی اکڑے ہی رہ جاؤ گے۔۔۔” شعلہ کا لہجہ ایسا تھا۔ کہ ایک پل کو اسفند کا رنگ فق ہوا تھا۔
” میں ابھی تو جا رہا ہوں۔ پر یہ یاد رکھیئے گا کہ میں شہلا سے شادی کرکے رہوں گا۔” اسفندیار سنجیدگی سے کہتا وہاں سے نکل گیا تھا۔ شعلا گہری سانس لیتی آٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئ تھی۔
اسفند اپنی گاڑی میں بیٹھا بار بار حیدر کا نمبر ملا رہا تھا۔ کچھ دیر رنگز جانے کے بعد اسفند نے کال ریسیو کر لی تھی۔
” کیا ہوا خیریت۔۔۔؟” حیدر نے موبائل کان سے لگاتے پوچھا۔
” جس کی تم لوگوں کو پچھلے پانچ مہینے سے تلاش تھی وہ مل گئ۔” اسفندیار نے پرجوشی سے کہا۔
” ک۔۔ کون۔۔؟؟” حیدر سیدھا ہوکر بیٹھا۔
” تمہاری بھابھی ، میر عالم کی بیوی۔۔۔!!” اسفندیار نے بم پھوڑا۔
” کہاں ہے وہ۔۔۔ تم مجھے بتاؤ کہاں ہے وہ آخر۔۔۔” حیدر نے مٹھیاں بھینچ کر کہا۔
” ایڈریس سینڈ کر رہا ہوں۔۔” اسفند نے مسکرا کر کہا۔
” پلیز جلدی۔۔۔” حیدر نے بے تابی سے کہا۔
کچھ دیر بعد ، اسفند نے ایڈریس سینڈ کر دیا تھا۔ حیدر کو جیسے ہی ایڈریس ملا اسنے ، مصطفی کو کال ملائ اور اسے بھی اس ایڈریس پہ جلدی پہنچنے کو کہا۔
☆☆☆☆☆
مصطفی دفتر سے گھر آیا تو نازنین اسے نیچے کہیں بھی نہی دکھی۔ مصطفی تھکا ماندہ اوپر اپنے کمرے میں آیا تو ، اسے نازنین کھڑکی کے پاس کھڑی دکھی۔
مصطفی مسکرایا تھا۔ اور قدم قدم چلتا اسکی جانب بڑھا تھا۔ مصطفی کی چال میں سرشاری سی تھی۔
مصطفی نے اسے پشت سے ہی اپنی بانہوں کے حصار میں لیا تھا۔ اور اسکے کندھے پہ ٹھوڑی ٹکاتا دھیرے سے اسکے کان میں سرگوشی کرنے لگا۔
” نازی ، لگتا ہے آئینے نے جواب دے دیا تمہیں۔۔۔” وہ خمار آلود لہجہ میں کہتا ، اپنا ہاتھ اسکے پیٹ پہ دھرتا ایک جھٹکے سے اسے اپنی جانب موڑ گیا تھا۔ نازنین اسکی بات پہ مسکرائ تھی۔ اسکی جھکی پلکیں لرز رہی تھیں۔ اسکے شنگرفی لبوں کا بھی اسکی پلکوں سے جدا حال نا تھا۔
” ہمم آئینے نے جواب دیا ، پر آئینے نے کہا ، بس یہ آخری بار ہے ، اسکے بعد جب بھی جواب لینا اپنے شوہر سے لینا۔۔!!” وہ پلکیں جھکائے دلکش سے لہجہ میں کہتی مصطفی کو مزید اپنا دیوانہ بنا رہی تھی۔
” ایسی بات ہے۔۔” مصطفی نے کہتے ساتھ ہی اسکے لبوں پہ اپنے لب دھرے تھے۔ نازنین نے اپنے دونوں ہاتھ اسکی گردن پہ لپیٹے تھے۔ مصطفی کے لمس میں شدت تھی ، جنون تھا۔ نازنین کا پورا وجود اسکے لمس پہ لرز کر رہ گیا۔ مصطفی اسکی سانسوں کو پیتا مزید مدہوش ہونے لگا تھا۔ مدہوشی کے عالم میں مصطفی کے ہاتھ بے باکی سے نازنین کے وجود پہ گردش کرنے لگے تھے۔ نازنین مصطفی کے لمس پہ سٹپٹائ تھی۔ نازنین نے اسکی گرفت سے نکلنا چاہا۔ پر مصطفی نے اسے خود سے دور نا جانے دیا۔ اسکے لبوں کو اپنے مہکتے لمس سے آزاد کرتا وہ اسے اپنی بانہوں میں لیتا بستر پہ لایا تھا۔ نازنین گہری سانسیں لیتی آنکھیں موند گئ تھی۔ اسکا پورا وجود ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔ انکے پہلے ملن کے بعد آج پھر مصطفی نے اسکی جانب پیش رفت کی تھی۔ اُس لمس میں اور آج کے لمس میں بہت فرق تھا۔
مصطفی اپنی شرٹ اتارتا اسکے اوپر سائے کی مانند لہرایا تھا۔ نازنین نے گہری سانسیں لیتے ، اپنی آنکھیں ذرا سی اوپر کو اٹھائیں۔ پر مصطفی کی نظروں کی تاب نا لاتے ہوئے واپس جھکا گئ۔
مصطفی نے اپنی شہادت کی انگلی اسکے ماتھے پہ رکھی تھی۔ اور شہادت کی انگلی سے اسکے چہرہ پہ سیدھی لکیر کھینچتا اسکی گردن تک آیا تھا۔ نازنین کا حلق خشک ہوا تھا۔
مصطفی جھکتا اسکی گردن پہ اپنے دانت نرمی سے گاڑھ گیا تھا۔ نازنین نے سسک کر اپنا آپ مصطفی کے سینے میں ہی چھپایا تھا۔
مصطفی بہکتا ہوا ، اسپہ اپنی گرفت مزید سخت کر گیا تھا۔ یکدم فسوں خیز ماحول میں مصطفی کے موبائل کی رنگ ٹون بجنے لگی۔ پر مصطفی نے خاص توجہ نا دی۔ اسکی انگلیاں سرکتی ہوئ نازنین کے پیٹ میں دھنسنے لگی۔
” مصطفی۔۔۔” نازنین نے اسے خود سے دور کرنا چاہا۔ کیونکہ موبائل مسلسل بج رہا تھا۔
” کیا ہوا۔۔” مصطفی چڑا تھا۔
” کال آرہی ہے دیکھ لو ، شاید ضروری ہو۔۔۔” نازنین نے جھکی نظر سمیت کہا۔
” بعد میں دیکھ لونگا۔۔۔” مصطفی نے کہتے ساتھ ہی اسکے ہونٹوں کو نرمی سے چھوا تھا۔
” مصطفی ، پلیز ۔۔۔” نازنین نے مجبوراً اسے آنکھیں دکھائیں۔
مصطفی بدمزہ ہوتا اس سے دور ہوا تھا۔ موبائل اٹھا کر دیکھا تو حیدر کی کال تھی۔ مصطفی نے نازنین کو ایک نظر تکا اور کال ریسیو کی۔
” مصطفی ایک ایڈریس سینڈ کر رہا ہوں ، ابھی اسی وقت پہنچو۔۔۔” حیدر کی عجلت بھری آواز سن کر مصطفی بھی پریشان ہوا تھا۔
” خیریت۔۔۔؟؟” مصطفی پوچھے بنا نا رہ سکا۔
” تم بس پہنچو۔۔” حیدر کا انداز حاکمانہ تھا۔
مصطفی محض دل مسوس کر رہ گیا تھا۔ اسنے ایک خفا سی نظر لیئے نازنین کو تکا۔ جو سیدھی بیٹھ چکی تھی۔ اور اپنے کپڑے ٹھیک کر رہی تھی۔
” یار مسئلہ کیا ہے تمہارے بھائ کا۔۔۔” مصطفی منہ بنا کر کہتا۔ نازنین کو جبڑوں سے تھام کر اسکے لبوں پہ شدت سے جھکا تھا۔
اسکی حرکت پہ نازنین کے گال دہک اٹھے تھے۔
” کوئ کام ہوگا اس لیئے بلا رہے ہیں تمہیں حیدر بھائ جاؤ، جلدی آنا۔۔” نازنین نے لب کچل کر کہا۔
مصطفی منہ بنا کر اٹھا تھا۔ نازنین اسکے بگڑے موڈ کو دیکھ مسکا کر رہ گئ تھی۔
☆☆☆☆☆
” یہاں ہم رات کے بارہ بجے کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟ اور یہ کس کا گھر ہے۔۔۔؟؟” مصطفی کے ماتھے پہ بل نمودار ہوئے تھے۔
” سب پتہ چل جائے گا ، چلو آؤ۔۔” حیدر نے سنجیدگی سے کہا۔
مصطفی کا خراب موڈ مزید خراب ہوا تھا۔
” جب کچھ بتانا نہی تھا ، تو بلایا کیوں۔۔ اتنے اچھے مومنٹ برباد کردیئے۔۔” مصطفی من ہی من بڑبڑایا تھا۔
” دروازہ کھولو۔۔” حیدر نے چوکیدار کے سر پہ بندوق تان کر کہا۔
” او ماڑا ، یہ تمہارا ہاتھ میں تو بندوق ہے، اس میں گولی تو نئ ہے ناں۔۔۔” چوکیدار نے ہاتھ اوپر کرے خوفزدہ لہجہ میں پوچھا۔
حیدر کے ماتھے پہ بل آئے تھے۔ مصطفی نے پہلے بندوق کو اور پھر حیدر کو صدمہ کی کیفیت میں تکا تھا۔
” اوہ مائے گاڈ ، یہ مجھے واردات کے لیئے لیکر آیا ہے۔” مصطفی من ہی من میں گویا ہوا۔
” ہاں ہوسکتا ہے کہ یہ مجھے واردات کے لیئے لایا ہو۔ کیونکہ یہ کچھ دن پہلے ہی تو بتا رہا تھا۔ کہ اسکا بزنس لاس میں جارہا ہے۔ بیچارہ ۔۔۔!!” مصطفی کے خیالات اڑتے ، اڑتے نجانے کس دشہ پہنچ گئے تھے۔
” اس میں گولی بھی ہے۔ اور یہ چلے گی بھی ، دروازہ کھولو۔۔ نہی تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔۔” حیدر نے بندوق کی نال چوکیدار کے سر پہ بجائ تھی۔
چوکیدار خوفزدہ ہوتا پیچھے ہوا تھا۔ اور دروازہ کھول دیا تھا۔ مصطفی اور حیدر طویل پھتریلی روش کو پار کرتے گھر کے اندر آئے تھے۔ وہ گھر تو ناں تھا۔ ایک محل تھا۔ جہاں گم ہونے کا خدشہ تھا۔
چلتے چلتے مصطفی ٹھنکا اور رکا۔ سامنے دیوار پہ لگی پینٹگ دیکھ اسکے قدم آگے بڑھنے سے انکاری ہوگئے تھے۔
حیدر نے مڑ کر مصطفی کو دیکھا جو اس سے بہت پیچھے رہ گیا تھا۔ وہ دیوار پہ بنی پینٹنگ کو نجانے کیوں اس قدر گھور رہا تھا۔ حیدر اسے لینے واپس اسکے پاس آیا۔ پر دیوار پہ لگی پینٹنگ دیکھ حیدر بھی تھما تھا۔
” حیدر۔۔۔ امی۔۔۔ میری امی۔۔۔ کی پینٹنگ یہاں۔۔۔ کیسے۔۔؟؟” مصطفی گنگ تھا۔
” پتہ نہی۔۔” یہ بات تو حیدر کی سمجھ سے بھی باہر تھی۔
” کون ہو تم لوگ اور اندر کیا کر رہے ہو۔؟” اپنے پیچھے سے زنانہ کڑک دار آواز سن کر دونوں ایک ساتھ مڑے تھے۔
اب رنگ فق ہونے کی باری شعلہ کی تھی۔ وہ ان دونوں کو اپنے سامنے کھڑا دیکھ۔ لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہوئ تھی۔ مصطفی کا خون کھول اٹھا تھا اسے دیکھ کر۔
” کون ہیں ہم ۔۔۔ یہ تم پوچھ رہی ہو۔ اب تمہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانے سے کوئ نہی روک سکتا۔ تم نے میرے بھائ کو زندگی اور موت کے بیچ لا کھڑا کیا ہے۔ اور تم کہتی ہو ہم کون ہیں۔۔۔؟؟” حیدر گن اسکی جانب پوائنٹ کرتا غرایا تھا۔
” کیا کہہ رہے ہو۔ مجھے نہی پتا۔ میں نے کچھ نہی کیا۔۔۔؟” وہ ہمت مجتمع کرتی مکمل اعتماد کے ساتھ گویا ہوئ۔
” جب اُس حال میں پہنچو گی تو سب پتا چل جائے گا۔۔۔” اس سے پہلے کے حیدر اس پہ بندوق چلاتا۔
مصطفی نے حیدر کے ہاتھ کا رخ فرش کی جانب کر دیا۔ حیدر نے خونخوار نظروں سے مصطفی کو گھورا۔
” نہی۔۔۔ حیدر ۔۔ نہی۔۔” مصطفی نے سر نفی میں ہلایا۔ اور پھر شعلہ کو تکا۔
” کون ہو تم اپنی حقیقت بتا دو۔۔؟” مصطفی نے ایک آس سے پوچھا۔
” شعلہ ہوں میں اس سے زیادہ میری کوئ حقیقت نہی۔۔” شعلہ نے سرد لہجہ میں جواب دیا۔
مصطفی کی آنکھوں میں بے بسی سے آنسو چمکے تھے۔
” اگر تم شعلہ ہو۔ تو تمہارے گھر میں میری امی کی پینٹنگ کیا کر رہی ہے۔۔۔؟؟” مصطفی دو قدم آگے آیا تھا۔
” مجھے نہی پتہ یہاں بہت سی لڑکیاں رہتی ہیں ، شاید تمہاری ماں کو ان میں سے کوئ جانتا ہو۔۔۔” شعلہ کے چہرہ پہ ایک سایہ سا لہرایا تھا۔
جو کم از کم مصطفی کی زیرک نگاہوں سے ، چھپ نہی سکا تھا۔ مصطفی اسکے بہانے پہ تمسخر سے ہنسا تھا۔
” اچھا۔۔۔!!
چلو مان لیا۔ پر یہ تمہارے چہرہ پہ ایک رنگ سا آکر گیا۔ اسکے بارے میں کوئ بہانہ ہو تو بتانا ضرور۔۔۔” مصطفی نے مزید قدم لیئے اور اسکی آنکھوں جھانک کر مستفسر ہوا۔
” تمہاری باتیں مجھے بلکل سمجھ نہی آرہیں۔۔” شعلہ نے اپنے خشک ہوتے لبوں پہ زبان پھیری تھی۔ اور اپنے گرد لپٹی سیاہ شال کو اپنے گرد مزید سیٹ کیا تھا۔
” بیا۔۔۔ پلیز یہ ڈرامہ بند کرو۔۔۔” مصطفی نے اسے کندھے سے تھاما تھا۔
شعلہ نے ایک نظر اپنے کندھے کو تکا، اور پھر وہی نظر سیدھا مصطفی کے چہرے پہ پڑی۔
” میں کوئ بیا نہی ہوں۔ اور۔۔۔ میں تو یہ نام بھی زندگی میں پہلی بار سن رہی ہوں۔۔” شعلہ نے اپنے کندھے پہ سے مصطفی کا ہاتھ جھٹکا تھا۔
” تم بیا ہو۔۔۔!!
اور اس بات سے تم انکار نہی کر سکتی۔ بیا پلیز مجھ پہ رحم کھاؤ ، میں ترس گیا ہوں اپنی بہن سے باتیں کرنے کو۔ اپنے کسی خون کے رشتے کو اپنے پاس محسوس کرنے کو۔۔۔” مصطفی کے چہرے سے اسکے کرب کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا۔
” ہاں ہوں بیا۔۔۔۔!!
تو ، نہی چاہیئے مجھے کوئ خون کا رشتہ اپنی زندگی میں ، کوئ کسی کا نہی ہوتا ، کوئ بھی کسی کا نہی ہوتا۔ اور تم کیا پوچھنے آئے تھے۔ کہ تمہارے بھائ کو اس حال میں ، میں نے پہنچایا ہے۔۔۔ تو ہاں ۔۔۔۔!!
میں نے ہی پہنچایا ہے اسے اس حال میں کہ نا وہ جی سکتا ہے نا ہی مر سکتا ہے۔۔۔” شعلہ نے چلا کر کہا۔
” بیا۔۔۔!!” مصطفی نے کرب سے آنکھیں مینچی تھیں۔
” اب تم دونوں یہاں سے جاسکتے ہو۔ مجھے کسی سے کوئ تعلق نہی رکھنا۔۔۔” شعلہ نے ہاتھ باندھ کر سرد انداز میں کہا۔
” بیا میں کچھ نہی جانتا ، تم ہمارے ساتھ چل رہی ہو۔ عالم کو تمہاری ضرورت ہے۔۔” مصطفی نے نرمی سے کہا۔
” میں یہاں سے کہیں نہی جا رہی ، اسے میری ضرورت ہے تو میں کیا کروں۔۔۔۔ بتاؤ مجھے۔۔!!
مصطفی ایک وقت تھا ، جب مجھے بھی اُسکی اور تمہاری ضرورت تھی۔ پر تم دنوں چلے گئے تھے۔ ایک جھوٹی امید دلا کر۔۔۔” وہ سسکی تھی۔
مصطفی نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دینا چاہا۔ جب شعلہ نے اپنا ہاتھ اسے روکنے کے لیئے حائل کیا۔ مصطفی کے قدم اپنی جگہ جمے۔
” پلیز تم دونوں یہاں سے چلے جاؤ۔۔۔” شعلہ نے سنجیدگی سے کہا۔
مصطفی دلبرداشتہ ہوتا وہاں سے نکل گیا۔ اور حیدر بھی جاتے جاتے رکا تھا۔
” تم ایکسپیکٹ کر رہی ہو بیا۔۔۔؟؟” حیدر نے بھنوئیں آچکا کر پوچھا۔
” نہی۔۔” دوٹوک جواب دیتی وہ رخ موڑ گئ تھی۔ حیدر اسے جانچتی نظروں سے دیکھتا وہاں سے نکل گیا تھا۔
شعلہ کی آنکھیں بھیگی تھیں۔ وہ مرے مرے قدم لیتی ، زینوں پہ جا کر بیٹھ گئ تھی۔ اور پھر جو آنکھوں سے اشک رواں ہوئے ، تو وہ رک نا سکے۔
☆☆☆☆☆
