Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 26)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 26)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
شہلا جب گھر پہنچی تو ، شعلہ اس سے کہیں نا ٹکرائ وہ شکر ادا کرتی لڑکھڑاتے قدموں سمیت اپنے کمرے میں آئ تھی۔ کمرے کا دروازہ لاک کر کے وہ بیڈ کی پائنتی کے پاس فرش پہ بیٹھی تھی۔ آنکھوں سے گرم سیال بہنے لگا تھا۔ ہچکیاں بندھ گئ تھیں۔
” امی۔۔۔۔” وہ روتے ہوئے اپنی ماں کو پکار رہی تھی۔
” ہا۔۔۔۔ امی میری ۔۔۔۔ پیاری۔۔۔ امی۔۔۔۔ آخر ۔۔۔ہہہ۔۔۔ کیوں۔۔۔” وہ شدت غم سے تڑپی تھی۔
” اپنی ماں کے ساتھ بتایا ہوا ایک ایک پل کسی فلم کی طرح اسکی نظروں کے سامنے چلنے لگا۔
وہ سسکتے ہوئے اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ کر پھوٹ پھوٹ کر روئ تھی۔ بے بسی سی بے بسی تھی۔
اسے خود اس بات کا علم نہی تھا۔ کہ وہ کر کیا رہی ہے۔ دل بند ہونے لگا تھا۔
بیڈ شیٹ کو مٹھیوں میں جکڑتی ، وہ چلائ تھی۔
یکدم اسکے کمرے کا دروازہ دھڑ دھڑایا تھا۔
وہ اپنا سر بیڈ کی پائنتی پہ ٹکائے رو رہی تھی۔ آٹھ کر دروازہ کھولنے کی جان بھی اسکے قدموں میں نا رہی تھی۔
ماں جیسا انمول رشتہ کھونے کے بعد وہ کس قدر بے چین رہتی تھی۔ یہ وہ جانتی تھی۔ پر ہمیشہ دل کو ایک سکون رہتا تھا۔ کہ اسکی ماں زندہ ہے۔ سلامت ہے۔۔!!
پر آج جب اسے پتا چلا ، کہ اسکی ماں اس دنیا میں نہی رہی ، تو وہ یکدم صدمہ میں چلی گئ تھی۔ احساس زیاں اس قدر تھا کہ بیاں سے باہر تھا۔ رونے کی وجہ سے اسکا چہرہ سرخ ہوچکا تھا۔ وہ نڈھال سی رو رہی تھی۔
یکدم دروازہ کھلا تھا۔ شعلا نے اندر آکر اسکا حال دیکھا ، تو لپک کر فورا اسکے پاس آئ۔
” کیا ہوا۔۔۔؟؟” اسکے بازو پہ ہاتھ دھر کر شعلا نے فکر مندی سے پوچھا۔
” بیا۔۔۔۔” وہ سسکتی ہوئ شعلہ کے گلے لگی تھی۔
” اس لڑکے نے تمہیں ڈچ کر دیا۔۔۔” شعلا نے اسکی کمر سہلاتے پوچھا۔
” بیا ۔۔۔ میری امی۔۔۔ نہی رہیں۔۔۔” شہلا نے روتے ہوئے کہا۔
” کیا۔۔۔۔!!” شعلہ کو صدمہ ہوا تھا۔
” بیا۔۔۔۔ میری امی۔۔۔ مجھ سے ناراض ہی اس دنیا سے چلی گئیں۔۔۔” وہ سسک سسک کر گویا ہوئ۔
” ششش۔۔۔ بس صبر رکھو ، ہم سب کا آخری ٹھکانہ وہی ہے شہلا۔۔۔” شعلہ نے اسکی کمر سہلاتے کہا۔
” میں مر جاؤں گی ، یہ ملال مجھے جینے نہی دیگا بیا۔۔۔۔” وہ اس سے الگ ہوکر سسکی تھی۔ اسکی آنکھوں سے آنسو کسی جھرنے کی مانند بہنے لگے تھے۔
” شہلا۔۔۔۔ پلیز ایسا مت سوچو۔۔۔ جانتی ہوں۔ یہ وقت بہت مشکل ہے۔ پر گزر جائے گا یہ وقت بھی۔” شعلہ نے اسکے گالوں پہ ہاتھ دھرا تھا۔
” بیا۔۔۔۔” وہ شعلہ کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روپڑی تھی۔ شعلہ کی آنکھیں بھی نم ہوئ تھیں۔ پر وہ اپنی نمی کو چھپا گئ۔
☆☆☆☆☆
نازنین اور مصطفی ناشتہ کرنے بیٹھے تھے۔ نازنین نے چائے کا کپ بھر کر مصطفی کے سامنے دھرا۔ مصطفی خاموشی سے ناشتہ کر رہا تھا۔ نازنین نے بھی کوئ کلام نا کیا۔ مصطفی نے چائے کا کپ لیتے ایک نظر نازنین کو تکا۔
” عیسی ۔۔۔ سے تمہارا تعلق کتنا گہرہ تھا۔۔۔؟؟” مصطفی نے سنجیدگی سے پوچھا۔
نازنین کے ہاتھ میں املیٹ کی پلیٹ کپکپائ تھی۔ نازنین نے گہری سانس لیکر پلیٹ کو ترتیب سے رکھا۔ اور مصطفی کو تکا۔
” یہ کیسا سوال ہے ، مصطفی۔۔۔!!” نازنین کی آنکھوں میں واضح خوف ہلکورے لے رہا تھا۔
” بہت نارمل سا سوال ہے۔ تمہارا اس شخص سے تعلق کتنا گہرہ تھا۔۔؟؟” مصطفی نے مٹھیاں بھینچ کر لفظ لفظ چبا کر ادا کیا۔
” یہ سوال بلکل بھی نارمل نہی ہے۔۔۔” نازنین نے بے دلی سے کہا۔
” یعنی تمہارا اور اسکا تعلق کافی سے زیادہ گہرہ تھا۔۔۔” مصطفی نے چائے کی چسکی بھر کر کہا۔
” مصطفی۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔ مجھ پہ شک کر رہے ہو۔۔۔؟؟” نازنین نے افسوس سے کہا۔
” اگر شک کرتا ۔۔۔۔ تو تم سے یہ نا پوچھتا کہ تمہارا اس سے تعلق کتنا گہرہ ” تھا” بلکہ یہ پوچھتا کہ تمہارا اس سے تعلق کتنا گہرہ ” ہے” ، تم سوال کی نوعیت کو شاید ٹھیک سے پرکھ نہی سکی۔۔۔” مصطفی نے اسے بغور تکا۔
” ٹھیک ہے پھر تمہارے لیئے اتنا کافی ہونا چاہیئے۔ کہ ہاں ۔۔۔!!!
میرا اس سے تعلق تھا۔ میں اور وہ شادی کرنا چاہتے تھے۔ پر پھر ایک رات میں سب کچھ بدل گیا۔ اب میرا اس سے کوئ رشتہ ، کوئ تعلق نہی۔۔۔” نازنین نے پر اعتمادی سے کہا۔
” ہاہاہا۔۔۔ہاہاہا وہ تم سے نکاح کرنا چاہتا تھا۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔۔” مصطفی اسکی بات پہ قہقہ لگانے لگا۔ نازنین کو ایسا لگا جیسے وہ اسکا مذاق اڑا رہا ہے۔ شدید اہانت کے احساس سے اسکی رنگت سرخ ہوئ تھی۔ مصطفی نے تمسخر سے ہنستے اسے افسوس بھری نظروں سے تکا تھا۔
” کتنی بے وقوف ہوتی ہو ناں تم لڑکیاں۔۔۔۔!!
کسی بھی مرد کی چکنی چپڑی باتوں میں اتنی آسانی سے آجاتی ہو۔ وہ تم سے شادی کرتا۔۔۔ کتنا ہی برا مذاق کر رہی ہو ناں تم۔۔۔ جانتی بھی ہو وہ تھا کون۔ اسکی حقیقت کیا تھی۔ سیکس ریکٹ چلا رہا تھا وہ۔ لڑکیوں کو اپنی محبت کے جھوٹے جال میں پھنسا کر وہ لڑکیوں کو بیچتا تھا۔ اور اسکا نام بھی عیسی نہی تھا۔ اسکا نام رونی تھا۔” مصطفی جب حقیقت کھولنے پہ آیا تو۔ کھولتا ہی چلا گیا۔
اسکی باتیں سن کر نازنین کا رنگ فق پڑا تھا۔ نازنین نے بے یقینی کے عالم میں سر کو نفی میں جنبش دی۔ اور اپنا سر ہاتھوں میں تھام گئ۔
” دھچکا لگا ناں۔۔۔!!
تم جانتی ہو ، اگر ہماری زندگی میں وہ رات نا آتی اور تمہاری مجھ سے شادی نا ہوتی ، تو ابھی تمہارا سودا ہوچکا ہوتا۔” مصطفی نے نازنین کا ہاتھ اپنی مضبوط مگر نرم گرفت میں لیا تھا۔
” مجھے ۔۔۔ یقین نہی آرہا۔ مصطفی۔۔۔!!! کیا میں سچ میں بک جاتی۔ اگر وہ سب نا ہوتا تو۔۔۔” نازنین کا رنگ زرد پڑ گیا تھا۔
” نازنین۔۔۔!!
جو ہونا تھا۔ وہ ہوچکا۔ پر اب اگر وہ شخص تم سے رابطہ کرے تو رسپونڈ مت کرنا۔ اور بس کچھ دنوں کی بات ہے۔ کچھ دنوں میں وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوگا۔” مصطفی نے نازنین کو سمجھایا۔
نازنین نے نم آنکھیں لیئے سر کو اثبات میں ہلایا۔
” مصطفی۔۔۔!!
میرا اس سے کبھی کوئ فزیکل تعلق نہی رہا۔۔۔” نازنین نے اپنے ہاتھ پہ دھرے مصطفی کے ہاتھ پہ اپنا دوسرا ہاتھ دھرا تھا۔
” تم مجھے اب بھی نہی سمجھی۔۔۔” مصطفی نے اسے افسوس بھری نظروں سے تکا۔ اور مسکا کر اس سے مخاطب ہوا۔ ” یہ مصطفی اگر تم سے چاہتا ہے ، کہ تم اس پہ آنکھ بند کرکے بھروسہ کرو۔۔۔ تو۔” مصطفی نے اسکی آنکھوں میں جھانکا۔ اور پھر کلام وہیں سے جوڑا جہاں سے چھوڑا تھا۔
” یہ مصطفی اتنی تہذیب تو جانتا ہے کہ اگر تم سے میری توقعات اندھے اعتماد کی ہیں۔ تو یہ مصطفی بھی تم پہ ویسے ہی اندھا اعتماد کرے۔” مصطفی نے اسکے ہاتھ کی پشت پہ اپنے لب دھرے تھے۔
نازنین کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو چمکے تھے۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی۔ پر وہ کہہ نا سکی۔ اسکے لب پھڑپھڑا کر رہ گئے۔
” مصطفئ۔۔۔!!” اس سے پہلے کے وہ مزید کچھ کہتی مصطفی نے اسکے لبوں پہ اپنے دائیں ہاتھ کی انگلی دھری تھی۔
” نہی کچھ مت کہو۔” مصطفی نے ساتھ میں سر کو نفی میں جنبش بھی دی۔
” پر میں کہنا چاہتی ہوں۔۔” نازنین نے نرمی سے کہا۔
” ٹھیک ہے جو بھی کہنا ہے۔ وہ رات میں کہنا ، ابھی مجھے دیر ہورہی ہے۔ پر ہاں۔۔!!
میرا ایک کام کرنا بلکل مت بھولنا۔۔۔!!!
آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر آج یہ ضرور پوچھ لینا کہ میں نے تمہیں ، وہ عمر کے تقاضے والی بات کیوں کہی۔۔” مصطفی سنجیدگی سے کہتا۔ آخر میں شرارت سے ہنسا تھا۔
” تم خود ہی ، بتا دو۔۔۔” نازنین نے منہ بنا کر کہا۔
” نہی یہ جواب تمہیں آئینے سے ہی لینا پڑے گا۔۔” وہ اسکی ناک دباتا۔شرارت سے گویا ہوا۔
” کل رات تم کتنے غصہ میں تھے۔۔” نازنین نے اسکے ہلکے پھلکے انداذ کو دیکھ کر کہا۔
” ہاں میں کل رات غصہ میں تھا۔ اور شدید غصہ میں تھا۔ مجھے کل رات جب عیسی کی حقیقت پتا چلی تو میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ یقین مانو اگر کل رات میں اٹھ کر کمرے میں نا جاتا ، تو نجانے میں تمہارے ساتھ یا پھر شاید اپنے ساتھ کچھ غلط کر بیٹھتا۔” مصطفی کی بات سن کر نازنین کا رنگ پھیکا پڑا تھا۔
” مصطفی کیا تمہیں ایسا لگتا ہے کہ میرے اس شخص کے ساتھ کوئ برے تعلقات تھے۔۔” نازنین کا اترا چہرہ دیکھ۔ مصطفی اپنا سر پیٹ کر رہ گیا۔
” نازی۔۔۔!!!” مصطفی خفا ہوا۔
” کیا کہا تم نے۔۔۔؟” نازنین کی آنکھوں میں ایک عجب سی شمع چمکی تھی۔
” نازی۔۔!!” مصطفی نے نا سمجھی سے دہرایا۔
” پھر کہو۔۔۔” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی اس سے فرمائش کر رہی تھی۔
” نازی۔۔۔!!” وہ اسکی بات سمجھتا مسکرایا تھا۔
” پھر کہو۔۔” وہ بھی دلکشی سے مسکراتی ، لب دبا کر گویا ہوئ۔
” نازی۔۔۔ !!!
نازی۔۔۔!!! ” وہ اپنے لہجہ میں مزید چاشنی گھولتا ، اسکی دل کی دھڑکنوں میں، انتشار برپا کر گیا تھا۔
” میرا دل چاہتا ہے کہ ، یہ وقت یہیں تھم جائے۔” نازنین نے نگاہیں جھکا کر کہا۔
” کاش ۔۔۔۔ میں تمہاری اس فرمائش کو پورا کرسکتا، پر یہ اختیار تو اوپر والے کے ہاتھ میں ہے۔۔۔” مصطفی نے آگے ہوکر اسکے گال پہ اپنا ہاتھ دھرا تھا۔
نازنین آنکھیں موند کر مسکرائ تھی۔ مصطفی کئ پل اسے یونہی تکتا رہا۔ بے خودی سی بے خودی تھی۔ وہ دھیرے سے اسکے لبوں کو چھوتا اس سے دور ہوا تھا۔
نازنین دھیرے سے پلکیں اٹھا کر واپس جھکا گئ تھی۔ اسکا لمس ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی مانند تھا۔
” چلتا ہوں۔ دیر ہورہی ہے۔” مصطفی اسے کھڑا کرتا اپنی بانہوں میں قید کرکے گویا ہوا۔
نازنین نے مسکرا کر اسکے سینے میں منہ چھپایا تھا۔ اور گہری سانس لیکر اسکی خوشبو کو اپنے اندر اتارا ۔ مصطفی اسکی حرکت پہ دلکشی سے مسکرایا تھا۔
مصطفی اس سے دور ہوتا ، ہاتھ ہوا میں دائیں بائیں ہلاتا نکل گیا تھا۔ نازنین خواب کی سی کیفیت میں کھڑی مسکرا رہی تھی۔
☆☆☆☆☆
” کون ہو تم۔۔؟؟” چوکیدار نے اس خوبر جوان کے آگے اپنا ڈنڈا لہرایا اور خود گیٹ کے بیچ و بیچ آکر کھڑا ہوگیا۔
” میں اسفند۔۔۔ اسفندیار احمد ۔۔۔” اسفند نے چوکیدار کو کھا جانے والی نظروں سے گھور کر کہا۔
” کون اسفند ۔۔۔ ام نہی جانتا کوئ اسپند مسپند کو۔۔۔” چوکیدار ہاتھ نچا کر کہتا ، اپنا ڈنڈا زمین پہ بجا کر گویا ہوا۔
” ارے خان صاحب ۔۔۔ اندر میرا نام بتاؤ پہچان جائیں گے۔۔” اسفند نے صلح جوئی سے کام لیا۔
” تمارا نام۔۔۔ اندر کوئ کیوں پیچانے گا۔ تم کیا کوئ کہیں کا وزیر اعظم لگا ہے۔ یا پھر تمہارا دس ، دس ڈامپر چلتا ہے۔۔ بولو۔۔۔؟؟” چوکیدار نے ڈنڈا زور سے اچھال کر پرے پھینکا تھا۔ اسفندیار اسکا جاہ و جلال دیکھ اچھل کر پیچھے ہوا تھا۔
” خان صاحب نا تو میں ، وزیر اعظم ہوں۔ نا ہی میرے دس دس ڈمپر چلتے ہیں۔ پھر بھی مجھے اندر والے پہچان جائیں گے۔” اسفند نے احتیاطی طور پر اپنے دونوں ہاتھ بیچ میں ہائل کیئے ہوئے تھے۔
” تم کیا ام کو بیوقوف سمجھی ہے۔ ام یہاں تیس سال سے کام کرتی ہے۔ پر کوئ تم جیسا گندی شکل والا یہاں نہی آیا۔” چوکیدار اسپہ چڑھ دوڑا تھا۔ اسفند کی آنکھیں ابل کر باہر آئی تھیں۔ اسفند نے نگاہین نیچی کرکے اپنے گریبان کو دیکھا۔ جو چوکیدار کے قبضہ میں تھا۔
” ابی تم ام کو سچ ، سچ بتاؤ ، کون اے تم جاسوس۔۔؟ ، یا پھر ڈاکو ۔۔؟؟” چوکیدار نے خونخواری سے پوچھا۔
” یار میں نا ہی جاسوس ہوں ، اور ڈاکو تو بلکل نہی ہوں۔۔۔” اسفند نے چوکیدار کے دونوں ہاتھ با مشکل اپنے گریبان پہ سے ہٹائے تھے۔
” زیادہ چالاکی نہی۔ امارا نظر چیل کا نظر سے بھی زیادہ تیز ہے۔ چیر پھاڑ کرکے تم کو اس مینشن کی چھت پہ الٹا لٹکا دے گا۔” چوکیدار نے اپنی داڑھی پہ ہاتھ پھیر کر کہا۔
” میں چالاکی نہی مار رہا ، میں شہلا سے ملنے آیا ہوں۔۔” اسفںد نے عاجز آکر کہا۔
” شہلا ۔۔۔ میڈم سے۔۔۔ اگر تم میری دوسری میڈم کا کہتا ناں تو میں مان بھی لیتا ، پر شہلا میڈم تو امارا کسی سے ملتا ای نئ ہے۔ اور پھر۔وہ اگر ملے گا تو تم سے ملے گا۔ ہنہ جاؤ جاکر اپنا شکل دھو کر آؤ۔۔۔” چوکیدار نے اسے سر سے لیکر پیر تک ایسی نظروں سے تکا تھا۔ کہ اسفند نا چاہتے ہوئ بھی شرمندہ ہوا تھا۔
وہ چوکیدار کو بھی کچھ کہہ نہی سکتا تھا۔ وہ آیا ہی ایسے ہولیہ میں تھا۔ شہلا کو دو دن سے کال ملا رہا تھا۔ پر وہ کل ریسیو ہی نہی کر رہی تھی۔ اسفند کو شہلا کی بہت فکر ہورہی تھی۔ اسفند دو دن سے شہر سے باہر تھا۔ وہ آج ہی واپس آیا تھا۔ ابھی وہ شارٹس اور ٹی شرٹ پہنے ریلیکس ہوکر بیٹھا تھا۔ کہ اسے شہلا کی فکر ستانے لگی۔ اسنے شہلا کا نمبر ملایا۔ پر باقی دنوں کی طرح اس نے کال نا اٹھائ۔ وہ اس کی فکر میں کپڑے تبدیل کیئے بغیر ہی اس سے اس ایڈرس پہ ملنے چلا گیا۔ جہاں سے اس نے اکثر شہلا کو نکلتے اور واپس اندر جاتے دیکھا تھا۔
” تم ایک بار بتا تو دو۔۔۔ اپنی میڈم کو۔۔” اسفند نے منت کی۔
” ٹھیک اے ام پوچھتا ہے۔” آخر کار چوکیدار کو اس پہ ترس آ ہی گیا۔
چوکیدار دیوار پہ لگے انٹر کام کو کان سے لگا کر ریسیو ہونے کا انتظار کرنے لگا۔
” میڈم ۔۔۔ کوئ لڑکا ہے۔ چڈا اور اوپر پورانہ سا شرٹ پہن کر آیا ہے۔ دکھنے میں تو کوئ زکوة ، خیرات مانگنے والا لگتا ہے۔ پر کہتا ہے۔ اسکو ہماری شہلا میڈم سے ملنا ہے۔” چوکیدار کے الفاظ اپنے لیئے سن کر اسفندیار مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا تھا۔
” کون ہے ، اسے کہو کیمرے کے سامنے آئے۔۔” شعلہ نے ماتھے پہ بل سجا کر کہا۔
” میڈم کہہ رہا ہے کیمرہ کے سامنے آؤ..” چوکیدار نے اسفند سے کہا۔
اسفند جھٹ کیمرے کے سامنے آیا۔ شعلہ نے بغور اسے دیکھا۔ اور پھر چوکیدار کو مخاطب کیا۔
” اس سے پوچھو کیا یہ وہی ہے ، جس سے اس دن شہلا ملی تھی۔؟”
” میڈم پوچھ رہا ہے۔ کیا تم وہی ہے جس سے اس دن میڈم ملا تھا۔۔؟” چوکیدار نے اسفند کو گھور کر پوچھا۔
” ہاں میں وہی ہوں۔۔” اسفند نے سر اثبات میں ہلا کر جھٹ جواب دیا۔
” میڈم وہ کہہ رہا ہے کہ وہی ہے۔۔” چوکیدار نے شعلہ کو بتایا۔
” اس سے پوچھو ، اس دن شہلا نے کونسے رنگ کا لباس پہنا تھا۔” شعلہ نے احتیاطی طور پہ پوچھا۔
” نیلا مطلب آسمانی رنگ کا۔۔” اسفند نے سہی رنگ بتایا۔
جب چوکیدار نے شعلہ کو بتایا۔ تو شعلہ نے چوکیدار کو حکم دیا کے اسفند کو اندر آنے دے۔
اسفند دانت چبا کر چوکیدار کو گھورتا ایک سویگ کے ساتھ اندر گیا تھا۔ اور چوکیدار نے بھی تمسخر سے اسے دیکھا تھا۔
☆☆☆☆☆
