Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 38)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 38)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
” یہ کونسی کتاب میں لکھا ہے ، کہ ایک انسان کی پرسنل لائف صرف اسکی فیملی تک محدود ہوگی۔۔۔” اسنے چہرے کے
تاثرات درست کرکے ، اسکی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑھ کر جواب دیا۔
” مجھے ادھر ، ادھر کے کوئ ہیلے بہانے نہی سننے ، شرافت سے بتاؤ تم کہاں گئ تھی۔۔۔؟؟” عالم اسکے مقابل آیا تھا۔ اور اسے بازو سے جکڑتا سرد تاثرات لیئے مستفسر ہوا۔
” کہیں نہی گئ تھی۔۔۔” وہ بھی اسکی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑھ کر گویا ہوئ۔
” غلط کر رہی ہو تم یہ ، بہت غلط۔۔۔” عالم نے اسکا بازو مزید مضبوطی سے دبا کر شعلہ کو دیوار سے لگایا تھا۔ شعلہ سسک کر رہ گئ تھی۔
” میرا بازو چھوڑو۔۔۔” شعلا نے اپنی سرخ نظریں اسکی نظروں میں گاڑھ کر جیسے اسے وارن کیا۔
” کیوں گئ تھی تم وہاں۔۔؟؟” عالم اسکی بات ، نگاہیں، تاثرات سب نظر انداز کرتا جارہیت سے اسکے بازو کو جھنجھوڑتا مستفسر تھا۔
” تم کیا کہہ رہے ہو مجھے کچھ سمجھ نہی آرہی۔۔۔” وہ سسک کر گویا ہوئ۔
” بس ۔۔۔ کردو جھوٹ بولنا سب پتا ہے مجھے کہ تم گئ کہاں تھی۔ اور کیا کر کہ آرہی ہو۔۔۔” عالم کی غصہ سے رگیں تن گئ تھیں۔
” پتا ہے تو مجھ سے کیوں ، باز پرس کر رہے ہو۔۔۔ میرا بازو چھوڑو۔۔۔” وہ بھی پھٹ پڑی تھی۔
” تمہیں اندازہ ہے کہ تم نے کیا ، کیا ہے۔۔۔؟؟” وہ اس پہ مزید جھکا تھا۔
” مجھے مت بتاؤ ، مجھے اچھے سے پتا ہے کہ میں کیا کرکے آئ ہوں۔۔” وہ اسکی گرفت میں مچلی تھی۔
” کس ارادے سے گئ تھیں تم وہاں۔۔۔؟” وہ ایک ایک لفظ اپنے دانتوں تلے چباتا اس سے مستفسر تھا۔
” اچھے سے جان گئے ہو کہ کیوں گئ تھی۔ بدلہ لینے گئ تھی۔ اپنے ماں باپ کے اس قدر بے دردی سے کیئے گئے قتل کا بدلہ۔۔۔!!
میری آدھی زندگی خراب کر دینے کا بدلہ۔۔۔” وہ چلائ تھی۔
” بدلہ۔۔۔!!
اسی لیئے میں نہی چاہتا تھا۔ کہ میرا بیٹا تمہارے ساتھ اٹیچ ہو۔ اس سے تو بہتر تھا۔ کہ اسے کوئ آیا ہی سنمبھال لیتی۔
عارض کو دیکھو۔۔۔!!
کتنا چھوٹا ہے ، تمہیں کیا لگتا ہے۔ اسکو ختم کرنے کے لیئے کتنی گولیاں کافی ہونگی۔ میرے خیال سے تو ایک ہممم ، سہی کہہ رہا ہوں ناں میں۔ ایک گولی اور کام ختم ، زندگی ختم۔۔۔!!
مر جائے گا عارض۔۔ وہ بھی۔۔۔ صرف ایک گولی سے۔۔” عالم نے اسے دیکھتے بے دردی سے کہا۔
” عالم۔۔۔۔” وہ تڑپ ہی تو اٹھی تھی۔ اپنے چھوٹے سے بیٹے کے لیئے ایسے الفاظ سن کر۔
” برداشت نہی ہوا ناں۔۔ !!
مار دیں گے وہ اسے ، جس دن انہیں پتہ چل گیا۔ سب سے پہلے ہمیں تکلیف دینے کے لیئے اسے ہی مار دیں گے۔۔ ” عالم نے اسے کچھ ہوش دلانا چاہا۔
عالم کی گرفت اسکے کندھوں پہ ڈھیلی پڑی تو وہ عارض کو دیکھتی اپنی جگہ لڑکھڑا کر ہی تو رہ گئ تھی۔ عالم نے سچ ہی تو کہا تھا۔ اگر انہیں عارض کا پتہ چل گیا ، تو وہ سب سے پہلے اسکے چھوٹے سے بچے کو اپنا ٹارگٹ بنآئیں گے۔
” تمہارا پتہ لگانا اتنا مشکل نہی ہے اب۔ سمجھنے کی کوشش کرو۔۔ پلیز۔۔۔ میں نہی چاہتا ہمارا بچہ ہمیں کھو دے ، یا پھر ہم اسے۔۔۔” عالم کے الفاظ تھے یا خنجر۔۔۔!!
وہ گہری سانسیں لیتی دھیرے دھیرے اپنے بیٹے کے قریب آئ تھی۔ اور اسکے سوئے چہرے پہ دھیرے سے ہاتھ پھیرا تھا۔
” میرا۔۔۔ بچہ۔۔۔” اسے اپنی غلطی کا اندازہ ہوچکا تھا۔ وہ اسکے چھوٹے سے وجود کو دیکھ سسک پڑی تھی۔ ہاں وہ جو کہہ رہا تھا۔ وہ سچ تھا۔ وہ حقیقت تھا۔ یہ سب تو وہ انتقام کی آگ میں جلتے سوچ ہی نا سکی۔
” اس نے جو تمہارے ساتھ ، تمہارے ماں باپ کے ساتھ کیا۔ اسکا حساب اس سے اللہ لیں گے۔ تم اور میں کون ہوتے ہیں۔ بدلہ لینے والے۔۔۔” عالم نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا۔ شعلا نے ایک نظر عالم کو دیکھا۔ اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ عالم نے اسکے قریب بیٹھ کر اسکے چہرے کو تھاما۔
” شعلہ پلیز ، رونے سے کچھ نہی ہوگا۔ اب تمہیں کچھ دن احتیاط کرنی ہوگی۔ عارض کا سایہ بن کر رہنا ہوگا۔ میں تب تک کچھ نا کچھ کرتا ہوں۔” عالم نے اسے دھیرے سے اپنے سینے سے لگایا تھا۔
شعلہ نے عالم کو خود سے دور جھٹکا تھا۔
” مجھ سے ایک غلطی ہوگئ ہے۔ تو اسکا مطلب یہ نہی ، ہے کہ تم مجھے سے فری ہونے لگو۔۔۔” وہ اپنا چہرہ تھپتھپاتی۔ اٹھی تھی۔ عالم سر نفی میں ہلا کر رہ گیا تھا۔
☆☆☆☆☆
” اسفند تم نے ایسا کیوں کیا۔۔۔؟؟ میں نے تم سے کہا تھا۔ کہ پلیز مت بتانا شعلہ کو کہ میں بھی تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔۔۔ وہ مجھ سے ناراض ہوگئ ہے۔۔۔” وہ تڑپ کر گویا ہوئ۔
” ناراض ہے تو ہونے دو۔ پر یہ ہماری زندگی ہے اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ تو پھر کوئ دوسرا ، تیسرا کیا معنی رکھتا ہے۔۔” اسفند نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا۔
” اسفند۔۔۔ وہ میری بہن ہے۔ بھلے اسکا اور میرا خون کا رشتہ نہی ہے۔ پر ہمارا رشتہ احساس کا ہے۔ محبت کا ہے۔۔” شہلا نے اسکے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ کھینچے۔
” ٹھیک ہے پھر تم بیٹھی رہو، جب تک تمہیں شعلا بھابھی معافی نہی دے دیتیں۔ ایسے ہی بیٹھ کر روتی رہو۔۔” اسفند نے چڑ کر کہا۔
” جب تک وہ اپنی ناراضگی ختم نہی کرے گی۔ میں تمہارے ساتھ اپنی نئ زندگی کی شروعات نہی کرونگی۔۔۔” شہلا نے سنجیدگی سے کہا۔
اسفند نے اسکے رونے کے باعث سرخ چہرے کو تکا۔ اور گہری سانس لیکر اسکے قریب آیا تھا۔
” میں بھی تم پہ کسی بھی معاملے میں مزید زبردستی نہی کرنا چاہتا۔ تم اس وقت ہمارے رشتے کی نئ شروعات نہی چاہتی۔ تو ٹھیک ہے۔ نہی ہوگی نئ شروعات۔ پر پلیز خود کو رو رو کر ہلکان مت کرو۔ تمہیں اس حال میں دیکھ کر مجھے تکلیف ہوتی ہے۔۔۔” اسفند نے نرمی سے کہا۔
” ہمم۔۔” شہلا نے دھیرے سے سر اثبات میں ہلایا تھا۔ اسفند اسکا سر دھیرے سے اپنے کندھے پہ رکھا تھا۔ اور اسکے گرد اپنا مضبوط بازو ہائل کر گیا تھا۔
☆☆☆☆☆
” حیدر میں نے سارا سامان پیک کر لیا ہے۔” ساوری نے صوفہ پہ حیدر کے برابر بیٹھتے کہا۔
” گڈ پھر کل ہم اپنے اصل گھر چلے جائیں گے۔” حیدر نے اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لگا کر بٹھایا تھا۔
” میں بہت ایکسائٹڈ ہوں۔ فائنلی ہم اپنی زندگی شروع کرنے جا رہے ہیں۔۔” ساوری نے حیدر کے سینے میں منہ ڈال کر گہری سانس لیکر کہا۔ حیدر اسکی ادا پہ مسکرایا تھا۔
” بھئ میں تو اپنی زندگی پہلے ، ہی شروع کر چکا ہوں۔ تم نے ہی تاخیر کی ہے۔۔” حیدر نے اسکے رخسار پہ اپنی ناک رگڑی تھی۔
” پر میں تو خوف زدہ تھی ناں ، کہ کہیں آپ مجھ سے دور نا ہوجائیں۔۔۔” وہ دھیرے سے منمنائ تھی۔
” میں تمہیں کبھی چھوڑنے کا ارادہ رکھتا ہی نہی تھا۔ پہلے دن سے میرے ذہن میں یہی تھا۔ کہ میں ہمیشہ تمہیں اپنے نکاح میں رکھوں گا۔ اپنی بیوی بنا کر۔۔۔” حیدر نے اسکے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں نرمی سے جکڑا تھا۔ وہ اسکا اور اپنا ہاتھ ایک ساتھ دیکھ دھیرے سے مسکرائ تھی۔
” ایسا لگتا ہے۔ جیسے خواب دیکھ رہی ہوں۔ ابھی آنکھ کھولوں گی۔ اور سب ختم ہوجائے گا۔ ٹوٹ کر بکھر جائے گا سب کچھ۔۔۔” اسنے سر ذرا سا اوپر اٹھا کر حیدر کو تکا تھا۔
حیدر اسے بے خودی میں کئ لمحے یونہی تکتا رہا۔ اور پھر دھیرے سے اسکی سانسوں کو اپنی سانسوں سے مہکا گیا تھا۔ وہ اسکی جسارت پہ سر سے لیکر پیروں کے ناخن تک سرخ ہوئ تھی۔ حیدر اسکے شرمانے پہ دلکشی سے مسکرایا تھا۔
” you know what babe…. Your simplicity is your beauty,You are not pretentious like others,Maybe that’s why I fell in love with you۔۔۔”
وہ جذب سے کہتا ، اسکے ہاتھ کی پشت پہ اپنے لب دھر گیا تھا۔
” مجھے اپنا آپ بہت معتبر لگنے لگا ہے۔۔۔” وہ نم لہجہ میں کہتی اسکی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔ وہ اسکی بات پہ مسکرایا تھا۔
” تم معتبر ہو۔۔” اسکے لہجہ میں محبت ہی محبت تھی۔
” اور مجھے معتبر آپ نے بنایا ہے۔۔” وہ عقیدت سے گویا ہوئ۔
” نہی تم معتبر تھیں ، تمہارے ساتھ نے مجھے بھی معتبر بنا دیا ہے۔۔” وہ اسکے مکھڑے کو تکتا ہولے سے مسکرایا تھا۔
” آپ درفشاں کو چھوڑ کر اداس تو نہی۔۔۔۔ ہیں۔۔؟؟” اسنے ڈر کر پوچھا۔
” نہی۔۔۔” حیدر نے نرمی سے جواب دیا۔
” آپ بھی کیا سوچتے ہونگے۔ میری وجہ سے آپکا اتنا پرانا رشتہ خراب ہوگیا۔۔” وہ اسکی شرٹ کے بٹنوں سے کھیلتی گویا ہوئ۔
” نہی میں ایسا نہی سوچتا۔۔۔” حیدر نے نفی کی۔
” میری وجہ سے آپکی زندگی میں بہت اتار چڑھاؤ آئے ناں۔۔۔” ساوری نے اپنی ٹھوڑی اسکے سینے پہ ٹکا کر اسکے چہرے کو تکا تھا۔ وہ اسے سنجیدگی سے دیکھتا رہا اور پھر مسکرا کر گویا ہوا۔
” تم تو کسی دعا کی مانند ہو ساوری۔۔۔!!” حیدر نے دھیرے سے اسکی ناک دبا کر کہا۔
” وہ کیسے۔۔۔۔؟؟” وہ حیران ہوئ تھی۔
” وہ ایسے کہ تم میری زندگی میں ، خوشیوں کی کنجی بن کر آئ ہو۔ تم نے مجھے اولاد دی ، تم نے مجھے پیار دیا ، تم میرے جینے کی وجہ بن گئ۔۔۔” حیدر نے مخموریت سے کہا۔
ساوری منہ کھول کر اسے کئ لمحوں تک تکتی رہی۔ اور پھر دھیرے سے مسکائ تھی۔
” آپ کو پتہ ہے۔ مجھے ہمیشہ اپنے نصیب سے شکوے رہے۔ کہ مجھے کچھ اچھا نہی ملتا۔ پر ۔۔۔۔ اب ایسا لگتا ہے کہ جو سب سے اچھا تھا۔ وہ ملنے کی تیاری تھی۔ ان عام سی چیزوں کا نا ملنا۔۔۔” ساوری نے مسکرا کر کہا۔ حیدر نے جھک کر اسکے ماتھے پہ عقیدت بھر بوسہ دیا۔ اور ساوری محبت سے اسکے گرد اپنے بازو باندھ گئ تھی۔
☆☆☆☆☆
