Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 51) Last Episode (Part - 2)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 51) Last Episode (Part - 2)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
” یار تم کبھی کبھی بہت زیادہ سختی کر جاتی ہو۔۔۔” عالم نے اپنا کوٹ اتار کر صوفہ پہ سلیقے سے رکھا۔
” یہی سختی بعد میں انکے کام آنی ہے۔ دوسروں سے مانگ کر کھانے کی عادت لگ گئ تو کبھی محنت نہیں کر پائے گا۔۔” شعلہ نے سنجیدگی سے کہتے عالم کا کوٹ اٹھایا۔
” مگر یار۔۔۔ ہم دوسرے نہیں ہیں۔ ہم تو اسکے ماں باپ ہیں۔۔۔” عالم قدم ، قدم چلتا اسکے قریب آیا تھا۔
” ہاں ہم اسکے ماں باپ ہیں۔ اگر ہم ہی اسے ناکارہ بنا دیں گے۔ تو کیا ہوگا ہمارے بچے کا۔ میں نہیں چاہتی کہ میں اسکی ہر خواہش پوری کرکے اسے ان آسائشوں کا عادی بنا دوں۔” عالم نے اسکے بات پہ دھیرے سے سر اثبات میں ہلایا۔ اور اسکا ہاتھ تھاما۔
” پر ایسے تو وہ بد گمان ہوجائے گا۔۔۔” عالم نے اپنا دایاں ہاتھ اسکی کمر کے گرد باندھا اور اسے ہلکا سا جھٹکا دے کر اپنے قریب کیا۔
” پہلے کبھی ہوا ہے وہ بد گمان جو اب ہوگا۔ یہ کام تم مجھ پہ چھوڑ دو میں جانتی ہوں کہ میں نے اپنے بچوں کو کیسے ڈیل کرنا ہے۔۔۔” وہ اسکے حصار میں کھڑی ذرا نرم پڑی۔
” اوکے۔۔۔ مجھے تم پہ بھروسہ ہے۔۔۔” عالم نے پیار سے کہا۔ تو وہ حولے سے مسکا دی۔
” باقی تینوں کہاں ہیں۔۔؟؟” عالم نے اسکے رخسار نرمی سے چھوئے۔
” شارق اپنی فٹ بال اکیڈمی گیا ہے۔ عاصم نیچے لان میں لگا نجانے پودوں کے ساتھ کون سے پوسٹ مارٹم کر رہا ہے۔ آج رباب ، شارق ، عاصم کے اسکول کی چھٹی ہے تو۔ ان تینوں نے تو اپنی اپنی ایکٹیوٹی کو پکڑا ہوا ہے۔ اور رہے ہنان صاحب تو وہ آج اسکول سے سیدھا ساوری کے گھر گیا ہے۔ حیدر بھائ نے ابھی میسج کیا کہ وہ اسے لے گئے ہیں ساتھ۔” وہ اسے سب کا بتانے لگی۔ تو عالم مسکرایا۔
” سب کی خبر رہتی ہے تمہیں۔۔” وہ اسکی ناک پہ پیار کرتا اسے مزید خود میں سمیٹنے لگا تو شعلہ نے اسے ایک بھر پور گھوری سے نوازا۔
” پیچھے ہٹو۔۔۔ منان واشروم میں ہے۔ ابھی نکل آئے گا۔۔۔” وہ اسے دھکا دے کر خود سے دور کر گئ۔
” بس بچوں کو ہی ساری توجہ دینا۔ اور مجھ پہ ایک نظر بھی نا ڈالنا تم۔۔۔!!” عالم نے خفا ہونے کی بھر پور اداکاری کی ، شعلہ اسے نظر انداز کرتی کمرہ سمیٹنے کے کام میں واپس لگ گئ۔
تھوڑی ہی دیر بعد منان صاحب نہا دھو کر کپڑے تبدیل کیئے باہر آئے اور سیدھا بھاگتے ہوئے بیڈ پہ پڑے اپنے باپ پہ اچھل کر گرے۔ عالم نے اسکے گرد دونوں بازو باندھ کر اسکے گال پہ پیار کیا۔
” میرا بیٹا۔۔۔ میرا جوان ۔۔۔۔ نہا لیا۔۔۔” عالم نے اسکے گیلے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
” اور نہیں تو کیا بابا دیکھیں میں تیار ہوگیا۔ مما اب بابا اور مجھے کھانا یہاں ہی دے دیں۔ پاپا آج آپ گیم بھی کھیلیں گے میرے ساتھ کوئ بھی نہیں سنتا میری بات۔۔۔!!
چھوٹا ہوں تو کیا ہوا۔ میرا کوئ دل نہیں۔۔” منان نے باپ کو ایموشنل بلیک میل کرنا چاہا۔
” بلکل دل تو ہے۔ میرے شہزادے کا بھی۔۔۔” عالم نے اسے پیار کیا۔
” اگر آپ دونوں کا ہوگیا ہو۔ تو نیچے چلیئے کھانا لگ چکا ہے۔۔” وہ ان دونوں کو گھورتی کمرے سے نکل گئ۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو عاجزی سے دیکھ کر رہ گئے۔
” چلو چیمپ تمہاری ماں کا موڈ خراب ہوچکا ہے۔۔۔” وہ اسے گود میں اٹھا کر نیچے آیا۔ شارق بھی اکیڈمی سے آچکا تھا۔ عارض اور شارق دونوں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔ نازنین ٹیبل پہ سب کی پلیٹس سیٹ کر رہی تھی۔ رباب ڈائیننگ ٹیبل پہ ہی بیٹھی تھی مگر کھانے کو بری نگاہوں سے گھور رہی تھی۔ شعلہ اور عاصم غائب تھے۔
” کیا ہوا بھئ رباب ۔۔۔ کھانا کیوں نہیں کھا رہیں تم۔۔۔؟؟” عالم نے منان کو اسکی چیئر پہ بٹھایا ، اور کھانے کو گھورتی رباب کو مخاطب کیا۔
” ماموں۔۔۔ یہ بہت آئلی ہے۔ میں نہیں کھا سکتی۔۔۔” رباب نے منہ بسور کر کہا تو عالم کو ہنسی آئ۔
” تم کس خوشی میں اپنی پھپھو کے نقشہ قدم پہ چل رہی ہو۔ ضرورت ہی کیا ہے۔ دیکھو زندگی کا سارا لطف اسی میں ہے۔ کھاؤ پیو اور عیش کرو۔۔!!” عالم نے نہاری کا ڈونگا اٹھا کر اپنے سامنے رکھا۔
” ماموں پھپھو کا لائف اسٹائل ایک ہیلدی لائف اسٹائل ہے۔ اب دیکھ لیں آپ خود کو آئے دن آپکا بی پی ہائ رہتا ہے۔ شوگر بھی آپ کی باڈر لائن کراس کرنے والی تھی۔ اگر پھپھو آپکی ڈانٹ کی زمداری خود نا لیتیں ناں۔۔۔!!
تو اب تک آپ شوگر کے پیشنٹ بھی بن چکے ہوتے۔۔۔” رباب کی بات پہ عالم پہلو بدل کر رہ گیا۔ وہ لاجواب سا اپنا دیہان کھانے کی جانب مبذول کر گیا۔
” رباب جیسا تمہیں پسند ہے نا ویسا کرو۔۔۔ باقی سب کی نا سنو۔۔۔” عارض نے رباب کا موڈ بگڑتے دیکھ کہا۔
” مگر۔۔۔ بھیا اب میں کیا کھاؤں۔۔۔” وہ دونوں ہاتھ ٹیبل کی سطح پہ رکھتی اپنی ٹھوڑی ٹیبل کی سطح پہ رکھے منہ بسور کر گویا ہوئ۔
” جلدی ہاتھ دھو کر آؤ اچھے سے۔۔۔” شعلہ جو عاصم کو باہر گارڈن سے زبردستی کھینچ کر لائ تھی اب اسے ہاتھ دھونے کی تلقین کر رہی تھی۔
” اوکے مما۔۔۔” وہ بیزار سا پوڈ روم کی جانب گیا۔
” کیا ہوا۔۔؟؟۔” شعلہ نے رباب کو اداس سا بیٹھے دیکھ پوچھا۔
” پھپھو۔۔۔ ہم کیا کھائیں گے۔۔۔ آج آپ نے ہمارے لیئے کچھ نہیں بنایا کیا۔۔۔؟؟” اسکے چہرے پہ پریشانی چھائے دیکھ شعلہ مسکرائ تھی۔
” نہیں آج کچھ نہیں بنایا۔۔۔ کیونکہ آج ہمارا چیٹ ڈے ہے۔ تو ہم پورشن وائز یہ والا کھانا کھائیں گے۔۔۔” شعلہ نے اسکے گال پہ نرمی سے ہاتھ پھیرا۔
” چلو رباب بس اب جلدی سے کھانا کھاؤ۔ آج ڈٹ کے کھانا۔۔ میری بچی نے فٹنس کے نام پہ اپنا منہ اتنا سا کردیا ہے۔۔۔” نازنین کو اسکی بے حد فکر لگی رہتی تھی۔
” ارے ۔۔۔۔!!
بس کرو کہاں اتنا سا منہ رہ گیا ہے۔ بلکل ٹھیک ہے وہ فٹ ہے۔ یہ میرے نکمے لڑکوں کو اٹھا ، اٹھا کر پٹخ سکتی ہے۔ ان نکموں کو میں نے کتنا کہا کہ کر لو تھوڑا اپنی فٹنس پہ کام اپنی سٹرینتھ بنا لو مگر نہیں۔۔۔!!
انکو اپنے باپ جیسا ہی بننا تھا۔۔۔” وہ ناراضگی سے اپنے بیٹوں اور میاں کو گھورنا نا بھولی تھی۔
” اوہو۔۔۔ تم بھی نا نجانے کیا کچھ لے کر بیٹھ جاتی ہو۔ چلو کھانا کھاؤ۔۔۔” عالم نے بات کو رفع دفع کرنا چاہا۔
شعلہ اسے خشگمین نگاہوں سے گھورتی کھانا کھانے لگی۔ عالم نے اپنے بچوں کو چل رہنے کا اشارہ کیا۔ اس ٹاپک سے ان باپ بیٹوں کی جان جاتی تھی۔ وہ سکون محسوس کرتے رغبت سے کھانا کھانے لگے۔
☆☆☆☆☆
ان کو آج شام ایک پارٹی میں جانا تھا۔ ویسے تو وہاں نازنین اور مصطفی کے جانے کا ارادہ تھا۔ مگر اب مصطفی کے سر میں درد ہونے کے باعث عالم اور شعلہ کو جانا پڑا۔ شعلہ سیاہ رنگ کی ساڑھی میں آج بھی پہلے کی طرح حسین و جوان لگ رہی تھی۔ عالم اور وہ پارٹی میں اپنی جان پہچان کے لوگوں سے باتیں کر رہے تھے۔ جب شعلہ کے موبائل پہ اسے میسج ریسیو ہوا۔ اسنے دیکھا تو وہ ہاسپٹل سے تھا۔ کچھ دنوں سے اسکی طبیعت از حد بوجھل تھی۔ پتا نہیں اسے کیا ہونے لگا تھا۔ اسے ایسا لگنے لگا تھا۔ جیسے اس سے کچھ کھو گیا ہے۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ کہ اسکے ساتھ کیا معاملہ ہے۔ اسے شک تھا کہیں وہ پریگننٹ تو نہیں مگر جب اس نے گھر پہ ٹیسٹ کیا تو کچھ شو ہی نا ہوا۔ ابھی اس نے ہاسپٹل کی ویب سائٹ پہ جاکر اپنا ایم آر نمبر اور پاس ورڈ ڈالا۔ کچھ ہی دیر میں اسکی رپورٹس اسکے سامنے تھی۔ رپورٹس میں پریگنینسی پوزیٹو دیکھ کر اسکا ماتھا چکرا گیا۔ جس بات کا اسے ڈر تھا وہی ہوا۔ اسکے چہرے پہ ٹھنڈے پسینے نمودار ہوئے۔ وہ اپنا سر تھام کر ادھر ادھر بے چینی سے نگاہیں دوڑانے لگی۔ وہ بلکل رو دینے کو تھی۔ کہ اسے اپنی پشت عالم کی آواز آئ۔
” کیا ہوا۔ ایسے یہاں کھڑی کیا کر رہی ہو۔۔۔؟؟ پارٹی میں مزہ نہیں آرہا کیا تمہیں۔۔؟؟” اسکی نرم محبت بھری آواز بھی اس وقت اسے زہر لگی تھی۔ وہ شدید طیش کے عالم میں مڑی اور خونخوار نظروں سے اسے گھورنے لگی۔
” بکواس بند کرو تم ، زندگی خراب کرکے رکھ دی ہے تم نے میری۔۔۔” وہ ارد گرد لوگوں کی موجودگی کا خیال کرتی دبی آواز میں چلائ۔
” پر میں نے کیا ، کیا ہے۔۔۔؟؟” وہ حیران پریشان سا رہ گیا۔
” ایک بار پھر پریگننٹ کردیا ہے تم نے مجھے۔۔۔” وہ دونوں ہاتھ اسکی گردن تک۔غصہ میں لائ مگر لوگوں کو۔دیکھ بہت ضبط کے بعد اپنے ہاتھ نیچے کر گئ۔
” سچ۔۔۔ سچ میں۔۔۔” عالم کے چہرے پہ تو جیسے بہار اتر آئ تھی۔ شعلہ جلتی کھڑتی وہاں سے گھر جانے کے لیئے نکلی عالم بھی بھاگتا ہوا اسکے پیچھے آیا۔
” یاررر۔۔۔!!
نا شکری کیوں ہورہی ہو۔ یہ تو گڈ نیوز ہے۔ کتنے لوگ ہیں دنیا میں جو تڑپتے ہیں کہ اللہ پاک ان کو اولاد دے دے۔ اور تم ہو کہ خفا ہورہی ہو۔” عالم بڑے بڑے قدم لیتا اسکے پاس آیا۔ اسے بازو سے تھام کر اسکا رخ اپنی جانب موڑا تو ، اسکے چہرے پہ سب جل تھل تھا۔ آنسوؤں کے سنگ اسکا سارا میک اپ بھی بہہ گیا تھا۔ عالم یکدم سیریس ہوا۔ ہنان اور منان کی باری میں بھی وہ خفا ہوئ تھی۔ مگر وہ اسے تنگ کرنے کے لیئے ایسا کرتی تھی۔ مگر اس وقت اسے اس شدت سے روتا دیکھ عالم اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا گیا۔ ہلکا سا سہارا ملتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ عالم اسے خود میں بھینچ کر اسکا سر دھیرے ، دھیرے سہلا رہا تھا۔
” کیا ہوا۔۔۔؟؟ ایسے کیوں بی ہیو کررہی ہو میری جان۔۔۔” عالم نے اسے ذرا سا خود سے الگ کرکے پوچھا۔
” عالم۔۔ نہیں ۔۔۔ چاہیئے مجھے یہ بچہ۔۔۔” وہ روتے روتے بولی۔
” مگر۔۔۔ کیوں۔۔؟” عالم نے بے بسی سے پوچھا۔
” کیوں۔۔۔!! یہ تم پوچھ رہے ہو ہمارے بچے جوان ہیں۔ نہیں عالم پلیز۔۔۔” وہ ایک بار پھر بری طرح سے رونے لگی۔
” یہ کیا بے تکی بات کر رہی ہو۔ چلو گھر چلیں پھر دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے۔۔” عالم اسے اپنے ساتھ لگائے دھیرے ، دھیرے پارکنگ ایریا تک لایا۔ اسے فرنٹ سیٹ پہ بٹھا کر وہ گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ سنمبھال گیا۔ پورا راستہ ان دونوں کے درمیان ایک خاموشی حائل رہی۔ گھر پہنچے تو سب اپنے ، اپنے کمروں میں تھے۔ عالم اسے لیکر اپنے کمرے میں آیا۔ اسے بیڈ پہ بٹھاتا خود بھی اسکے برابر بیٹھا۔
” عالم ۔۔۔ ہم۔۔۔ ہم ابارشن کروا لیں گے۔۔۔” شعلہ نے عالم کے دونوں گالوں پہ ہاتھ دھر کر کہا۔ عالم نے اسکے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹائے۔
” ایسا کچھ بھی نہیں ہونے والا۔۔۔” عالم کا لہجہ یکدم سخت ہوگیا تھا۔
اسکی بات پہ شعلہ کا رنگ یکدم پھیکا پڑا۔ وہ بے یقینی کے عالم میں سر نفی میں ہلاتی۔ اسکا گریبان تھام کر اس پہ چلائ۔
” اس بار تمہاری ایک بھی نہیں چلنے والی۔” عالم کے ماتھے پہ کئ شکنیں در آئ۔
” ٹھیک ہے اگر تمہیں یہی سب کرنا ہے تو کر لو۔ مگر اس کے بعد ہمارے بیچ جو دیوار آکر کھڑی ہوجائے گی اسے تم چاہ کر بھی نہیں گرا پاؤ گی۔۔” عالم سنجیدگی سے کہتا آٹھ کھڑا ہوا۔
” شرم کرو کچھ ۔۔۔!!
بچے بڑے ہوگئے ہیں ہمارے۔ وہ کیا سوچیں گے۔ انکو ہماری وجہ سے شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔۔” شعلہ نے جل کہا۔
” کیسی شرمندگی کون سی شرمندگی۔۔؟؟” عالم کا طیش سے برا حال تھا۔
” تم نہیں سمجھو گے۔۔۔” وہ سسکی۔
” کیوں نہیں سمجھوں گا۔ بھلا یہ کیا بات ہوگئ۔” عالم بھڑکا۔
” دوسروں کے بہانے نا بناؤ۔ صاف بول دو کہ تم خود یہ بچہ نہیں چاہتی۔ یارر۔۔۔ پلیز لاسٹ ٹائم ہے۔ ایک لاسٹ بار اگر اس بار بھی بیٹی نہیں ہوئ تو میں صبر کر لوں گا۔۔۔” عالم نے آب کے بے چارگی سےکہا۔
” جھوٹے ہو تم ایک نمبر کے ، تم نے ہنان کی باری میں بھی یہی کہا تھا۔ اور پھر منان کی باری میں بھی۔” وہ آنسو بہاتی یاد دلانے لگی۔ عالم اپنا ماتھا کھجاتا اسکے پاس آیا۔
” اچھا میری بات سنو۔۔ ادھر دیکھو۔۔ ٹینشن نا لو تم ابھی آرام سے سو جاؤ صبح دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔۔” عالم نے اسے پیار سے پچکارا۔ وہ سسکتے ہوئے اٹھی۔ اپنے کپڑے الماری سے لیکر واشروم گئ۔ چینج کرکے جب وہ باہر آئ تو موصف سر تھام کر بیٹھے تھے۔ شعلہ چلتی ہوئ اسکے پاس آئ۔ اسکے کندھے پہ ہاتھ دھر کر نرم مگر رونے کے باعث بھاری آواز میں اسے مخاطب کیا۔
” کیا ہوا۔۔؟؟” اسے اب عالم کی فکر لگ گئ تھی۔ کچھ سالوں سے عالم کو ہائ بلڈ پریشر کی بیماری لگی تھی۔
” کچھ نہیں تم آرام کرو سوجاؤ..” عالم نے آٹھ کر اسے بیڈ پہ لٹایا اور پھر اسکے گرد کمفرٹر درست کیا۔
” ناراض ہوگئے۔۔؟؟” شعلہ نے اسکا بازو تھام کر اسے روکا۔ عالم کئ لمحے خاموشی سے اسے تکتا رہا۔ اور پھر سر دھیرے سے نفی میں ہلاتا۔ اسکے پاس ہی بیٹھ گیا۔
” نہیں ناراض نہیں ہوں۔ بس تمہارے فیصلہ سے پریشان ضرور ہوں۔۔” شعلہ عالم کے چہرے کو یک ٹک تکتی رہی۔
” میں تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی یاررر۔۔” وہ منہ بسور کر پریشانی سے گویا ہوئ۔
” سوجاؤ..” عالم نے اسکے گال پہ ہاتھ دھر کر اسے سونے کی تلقین کی۔
” مجھے۔۔ ایسا لگتا ہے۔ اس خبر سے بچے ڈسٹرب ہوجائیں گے۔۔” وہ دھیمے سے بولی۔
” ٹھیک ہے تم سوجاؤ اب۔۔” وہ اسے سونے کا کہتا خود بالکنی میں آکر کھڑا ہوگیا تھا۔ یخ بستہ رات ٹھنڈی ہوائیں اسکے وجود سے ٹکرانے لگی تھیں۔ وہ گہری سانس لیتا ایک کشمکش کا شکار تھا۔ مگر ہائے اسکی قسمت اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کرے۔ وہ سرد سانس ہوا کے سپرد کرتا۔ ریلنگ پہ جھک آیا تھا۔
☆☆☆☆☆
” حیدر آپکی چائے۔۔” وہ گیلے بالوں کو تولیہ میں لپیٹے اسکی چائے لیئے کھڑی تھی۔ حیدر کے لبوں کی تراش میں ایک دلفریب مسکان کوند آئ۔ وہ پہلے کی طرح دبلی پتلی نا تھی۔ بڑھتی عمر اور دو بچوں کے بعد اب اسکا جسم پہلے کے مقابلے میں کافی بھرا ، بھرا معلوم ہوتا تھا۔ وہ اسے مسکراتا دیکھ نا سمجھی سے آئ برو اٹھا کر اس سے پوچھ بیٹھی۔
” کیا ہوا۔۔ مسکا کیوں رہے ہیں۔۔؟؟” وہ چائے کا کپ حیدر کو تھاماتی مستفسر ہوئ۔
” کچھ نہیں ہوا۔ کیوں مسکرانے پہ پابندی ہے۔۔۔” حیدر نے کپ تھامتے اسے مصنوئ خفگی سے تکا۔
” ارے نہیں ویسے ہی پوچھ لیا۔۔۔ آپ تو خفا ہی ہورہے ہیں۔۔” وہ سٹپٹا کر کہتی واپس کچن میں جا گھسی تھی۔
” مما جلدی ناشتہ دیے دیں۔ نہیں تو میں ایسے ہی جا رہی ہوں کالج۔۔” وہ اپنے بیگ کی زپ بند کرتی ذرا اونچی آواز میں بولی۔ آج بھی وہ اپنے ویسے ہی انڈ جھنڈ حولیہ میں تھی۔
” آرام سے آرام سے شہزادی صاحبہ طوفان میل کیوں بنی پھر رہی ہیں۔۔؟” حیدر نے اسے جلدی مچاتے دیکھ اپنے انداز میں ٹوکا۔ وہ سر اٹھا کر اپنے باپ کو دیکھ خجل سی مسکائ۔
” پاپا ۔۔ وہ دیر ہوگئ ہے آج کافی۔۔۔ اسی لیئے۔۔” وہ یکدم بدمعاش بچی سے شریف سی بچی کا لبادہ اوڑھ گئ۔ حیدر نے سمجھتے ہوئ سر کو دھیرے سے اثبات میں جنبش دی۔
” احمد نہیں اٹھا ابھی تک۔۔۔؟؟” حیدر نے دیوار پہ لگی گھڑی میں وقت دیکھ کر پوچھا۔
” پتا نہیں وہ تو مما کا لاڈلا ہے۔ کچھ بھی کرے کونسا اسے کسی نے کچھ کہنا ہے۔۔” وہ منہ بنا کر بولی۔
” آپ بھی اپنی مما کی بہت لاڈلی ہیں۔۔۔” حیدر نے اسکی غلط فہمی کو درست کرنا چاہا۔
” مجھے نہیں لگتا۔۔۔” اسنے کندھے اچکائے۔
” اتنی غلط فہمیاں کیوں پال رکھی ہیں اخر۔۔۔” حیدر کو حیرت ہوئ تھی۔
” وہ مجھے ہر وقت ڈانٹتی رہتی ہیں۔۔” اسنے سنجیدگی سے کہا۔ تو حیدر نے چائے کا کپ سائڈ پہ رکھا۔
” اگر وہ تمہیں ہر وقت ڈانٹتی ہے۔ تو اسکا مطلب ہے کہ وہ تم سے پیار نہیں کرتی۔۔۔” حیدر کو شدید حیرت نے آن گھیرا۔
” جی ایسا ہی سمجھ لیں۔۔”
” میں بھلا ایسا کیوں سمجھوں ، تمہاری ماں تم سے بہت پیار کرتی ہے۔ میں نے دیکھا ہے اسے تمہارے لیئے تڑپتے۔ راتوں کو جب میں سویا پڑا ہوتا تھا۔ وہ تمہارے ساتھ جاگا کرتی تھی۔ اسنے ہر موسم میں تمہیں سینے سے لگائے رکھا اور تم ہو کہ۔۔۔ اپنی ماں سے اتنی بد گمان ہو۔۔” حیدر اپنی خفگی اپنی لاڈلی پہ ظاہر کر چکا تھا۔
” پاپا۔۔۔ آپ نہیں سمجھیں گے۔۔” وہ نفی میں سر ہلا گئ۔
” مجھے بتاؤ میں کیا نہیں سمجھوں گا۔۔” حیدر نے آج ہی اپنی بیٹی کی تمام غلط فہمیوں کو دور کرنا ضروری سمجھا۔
” مجھے دیر ہورہی ہے۔ میں چلتی ہوں ڈیڈ۔۔۔” وہ بیزاریت سے کہتی نکل گئ۔ ساوری جو اسکا ناشتہ لیکر باہر آئ تھی۔ افسوس بھری نگاہوں سے خارجی دروازے کی سمت دیکھتی رہ گئ۔
” نہیں کرتے ناں آپ اس سے یہ سب باتیں ، چڑ جاتی ہے ذرا ذرا سی بات پہ۔ اب دیکھیں ناشتہ نہیں کر کے گئ۔ اب دوپہر میں دیر سے واپسی ہوگی۔ پتا نہیں باہر جاکر کچھ کھائے گی بھی یا نہیں۔۔” ساوری نے ٹرے ٹیبل پہ رکھ کر خفگی سے کہا۔
” کھا لے گی باہر سے کچھ نا کچھ تم پریشان نا ہو۔” حیدر نے اسے تسلی دی۔
” حیدر مجھے عائرہ کی بہت فکر رہتی ہے۔ جتنی بڑی ہوتی جا رہی ہے۔ اتنی ضدی ہوتی جارہی ہے۔” ساوری حقیقتاً اسکے لیئے پریشان تھی۔ حیدر نے اسے اپنے پاس بلایا۔ وہ دھیرے سے چلتی اسکے پاس آئ۔ حیدر نے اسکا ہاتھ تھام کر اسکے ہاتھ کی پشت پہ اپنے لب دھرے۔ اور اسے گھما کر اپنی گود میں بٹھایا۔ ساوری یکدم سٹپٹائ۔ اسنے حیدر کو گھور کر اٹھنا چاہا۔ مگر حیدر نے اسکی کمر کو مضبوطی سے جکڑ کر اسے اپنے پاس سے اٹھنے سے روکا۔
” حیدر۔۔۔ احمد گھر پہ ہے۔ ذرا شرم کر لیں۔۔ چھوڑیں مجھے۔۔” وہ حیدر کی گرفت میں اب بھی مسلسل پھڑپھڑا رہی تھی۔
” کیا مسئلہ ہے یار ۔۔۔!!
پورے بیس دن بعد ہم یوں صبح ، صبح ساتھ ہیں۔ مگر تم ہو کہ ہمیشہ کی طرح آج بھی ان رومینٹک ہی ہو۔۔” حیدر نے اسکا چہرہ ٹھوڑی سے تھاما۔
” حیدر۔۔۔!!”۔ وہ اسکے چہرے پہ جھکنے لگا تو ساوری نے اسکے لبوں پہ ہاتھ دھر کر اسے گھورا۔
” اچھا ایک ہلکی سی کس ۔۔۔ احمد کے آنے سے پہلے ہی ہوجائے گی۔۔ ایک ہلکی سی کس تو۔۔” حیدر نے بہکے ہوئے انداز میں کہا۔ تو ساوری کی جان ہوا ہوئ۔ حیدر کہتے ساتھ ہی اسکے لبوں پہ جھکنے لگا تھا۔ ساوری کی نگاہیں زینوں کی جانب تھی۔ اس سے پہلے کہ حیدر اسکے چہرے پہ جھکتا۔ احمد بھاگتا ہوا نیچے آیا تھا۔ ساوری نے اسے روکنے کے چکر میں اسکے لبوں پہ زور دار تھپڑ رسید کیا۔ اپنی توقع کہ برعکس لمس اپنے ہونٹوں پہ محسوس کرتا وہ ذرا بلبلایا تھا۔ ساوری اس کی گود سے آٹھ کھڑی ہوئ تھی۔ اور اپنے چہرے کے تاثرات درست کرنے لگی۔
” مما ۔۔۔۔ آج شارق کے گھر جانا ہے واپسی میں ، میں نے۔۔” احمد دونوں جوتے ہاتھوں میں پکڑے نیچے آیا تھا۔
” یعنی اپنے طایا ابا کے گھر جانا ہے۔۔” حیدر نے تضیح کی۔
” ڈیڈ ۔۔۔ ہم اتنے پرانے نام نہیں استعمال کرتے۔ وہ ہمارے بڑے ڈیڈ ہیں۔۔” احمد اپنے باپ کی بات پہ باقائدہ ہنسا تھا۔ ساوری خاموش سی کھڑی اپنے چہرے کی تاثرات درست کر رہی تھی۔
