Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 37)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

” یہاں آنے کا مقصد۔۔۔؟؟” وہ اسے تنقیدی نگاہوں سے دیکھ رہی تھ

” میں آپ سے یہاں بات کرنے آیا ہوں۔” اسفند نے سنجیدگی سے کہا۔

اتنی صبح صبح اسفند کو اپنے گھر دیکھ کر عالم بھی ڈرائنگ روم میں آیا تھا۔ پر اندر آتے ہی اپنی بیگم کے تیور اور سامنے والے کا معمول سے ہٹ کر شریف بن کے بیٹھنے کی کوشش اسے اشتیاق میں ڈال گئ تھی۔ اسفند اسے دیکھ کر اٹھا تھا۔ اور عالم سے بغلگیر ہوا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کا حال احوال پوچھتے اپنی اپنی نشست سنمبھال گئے تھے۔

” کیا ہوا خیریت اتنی صبح۔۔۔؟؟” عالم پوچھے بنا نا رہ سکا۔

” وہ مجھے بھابھی سے کچھ ضروری بات کرنی تھی۔۔” اسفند نے عالم کو دیکھا۔

” جو بھی بات کرنی ہے کرو۔ جلدی۔۔۔!!” شعلہ نے بگڑے تیوروں سمیت کہا۔

” دیکھیں اس میں شہلا کی کوئ غلطی نہی وہ مجھے اچھی لگتی تھی۔ اور پھر جب وہ مجھے اتنے سال بعد دوبارہ دکھی تو ، میں نے اس سے بات کرنا چاہی۔ اور پھر ایک فن میں نے سب کو یہ کہا کہ میں باہر ملک جا رہا ہوں۔ تب شہلا کی بھی دبئ جانے کی تیاری تھی۔ جس دن وہ فلائٹ کے لیئے نکلی میں نے اسے بہت طریقے سے کڈنیپ کرا لیا۔ اور پھر میں نے اس سے زبردستی نکاح کر لیا۔” اسفند نے گردن جھکا کر کسی مجرم کی مانند اپنے گناہوں کا اعتراف کیا۔ عالم تو پہلو ہی بدل کر رہ گیا تھا۔

” ہاں ٹھیک ہے طلاق نامہ بھجوا دینا ختم ہوجائے گا سب۔۔۔” شعلہ نے ماتھے پہ لاتعداد بل سجا کر کہا۔

” آپ پاگل ہوگئ ہیں۔ میں نے اس سے نکاح کیا ہے۔ میں نہی دونگا اسے طلاق۔ میں اسکے ساتھ اور وہ میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔۔۔” اسفند نا چاہتے ہوئے بھی بھڑکا تھا۔

” میں شہلا سے اسکی مرضی پوچھ چکی ہوں۔ اور اسنے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے۔ کہ وہ تمہارے ساتھ نہی رہنا چاہتی۔۔۔” شعلہ نے پرسکون ہوکر کہا۔

” اور ایسا اسنے کب کہا۔۔۔؟؟” اسفند کا سکون برباد ہوا تھا۔

” کل رات۔۔” شعلہ نے زہر خند لہجہ میں خواب دیا۔

” نہی وہ ایسا کیسے کر سکتی ہے۔ وہ میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ پر بس آپکی وجہ سے مجھے چھوڑ رہی ہے وہ۔۔۔” اسفند سرخ نظروں سے شعلہ کو گھورتا چلایا تھا۔

” اپنی آواز نیچی رکھو ، میرے گھر میں بیٹھ کر مجھ پہ چلانے کی اجازت کسی کو بھی نہی ہے۔۔۔” شعلہ بھی بھڑکی تھی۔

” اسفند شعلہ کا اس میں کیا کام کیا پتہ وہ لڑکی خود تمہارے ساتھ نا رہنا چاہتی ہو۔۔۔” اسفند نے سنجیدگی سے کہا۔

” وہ میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔۔۔” اسفند نے زخمی لہجہ اپنایا تھا۔

” میں نے کہا ناں وہ تمہارے ساتھ نہی رہنا چاہتی۔۔۔” شعلہ چلائ تھی۔

” آپ جانتی نہی ہیں ، کتنا ظلم کر رہی ہیں۔ اس پر بھی اور مجھ پر بھی۔۔۔” اسفند بکھرے ہوئے لہجہ میں کہتا۔ وہاں سے نکل کر چلا گیا تھا۔

” اس سب میں تمہارا ہاتھ ہے۔۔۔؟” عالم نے نرمی سے پوچھا۔

” ہاں ہے۔۔۔ تو۔۔؟” وہ بھی ڈھیٹ تھی۔ سہی بات کہاں آسانی سے اسے بتاتی۔

” تمہاری دوست ہے۔ اسے کہو ماں جائے۔ اسفند اچھا لڑکا ہے۔۔۔” عالم نے اپنی سی ایک کوشش کرنی چاہی۔

” بے فکر رہو میں جے اسکے لیئے ، اسفند سے بھی اچھا لڑکا ڈھونڈ لیا ہے۔۔۔” وہ ایک ادا سے کہتی ڈرائنگ روم سے کسی ہوا کے جھونکے کے مانند نکل کر چلی گئ تھی۔

☆☆☆☆☆

عالم دفتر جا چکا تھا۔ وہ عارض کو نازنین کے پاس لائ تھی۔

“پلیز اسکا خیال رکھ لو تھوڑی دیر ، مجھے ذرا باہر تھوڑا کام ہے میں وہ کرکے آتی ہوں۔” شعلہ نے نرمی اے کہا۔

اور بنا اسکی سنے ڈرائیور کے ساتھ نکل گئ۔ اپنے گھر شہلا کے پاس پہنچی تو وہ اسے کہیں نا دکھی۔ وہ اسکے کمرے میں آئ تو۔ وہ بیڈ پہ پڑی سسک رہی تھی۔

” رو کیوں رہی ہو۔۔۔؟” شعلہ کی کرخت آواز سن کر وہ یکدم سیدھی ہوکر بیٹھی تھی۔

” میں رو تو نہی رہی۔۔۔” شہلا نے جلدی سے اپنے آنسو پونچھے تھے۔

” مجھے دھوکہ دینے کی کوشش میں ہو۔۔۔؟؟” شعلہ نے خفگی سے کہا۔

” ایسا کچھ بھی نہی تم غلط سمجھ رہی ہو۔۔۔” شہلا نے نگاہیں چرا۔کر کہا۔

” میں جو سمجھ رہی ہوں بلکل ٹھیک سمجھ رہی ہوں۔ اور شاید مجھ سے ہی غلطی ہوگئ۔ میں نے تمہیں سمجھنے کا دعوی تو کیا ہمیشہ پر تمہیں سمجھ نا سکی۔۔۔” شعلا نے سنجیدگی سے کہا۔ اور اپنا موبائل کان سے لگا کر کال اٹینڈ ہونے کا انتظار کرنے لگی۔

” ہیلو۔۔۔ عالم اسفند کو کال کرکے کہہ دو کہ وہ اپنی بیوی کو اپنے ساتھ لے جائے۔۔۔” شعلہ نے کہتے ہی کال کاٹ دی تھی۔ شہلا نے بے یقینی سے شعلا کو ٹکا تھا۔

” تم ۔۔۔۔ ” شہلا نے کچھ کہنا چاہا پر اسکے لب جیسے سل گئے۔

” مجھے تم سے اس بات کی امید نہی تھی۔” شعلا سنجیدگی سے کہتی اسکے کمرے سے نکل کر چلی گئ تھی۔ شہلا اسکے پیچھے لپکی تھی۔ شعلہ اپنے کمرے میں گئ تھی۔ اور کبرڈ سے اپنی پسٹل اور مزید سامان لیکر جب وہ مڑی تو سامنے شہلا کھڑی تھی۔

” شعلا۔۔۔ میری بات سنو۔۔۔” شہلا نے اسے روکنا چاہا۔

” میں بہت ضروری کام سے گھر سے نکلی تھی۔ مجھے جانا ہے پلیز پیچھے ہٹو، میرا بیٹا گھر پہ میرا انتظار کر رہا ہوگا۔” شعلا اجنبی بنتی اسکے برابر سے نکل گئ تھی۔ شہلا کی آنکھوں میں آنسو چمکے تھے۔ اسنے سسک کر اپنے منہ پہ ہاتھ دھر کر اپنی سسکیوں کو دبایا تھا۔

” اسفند یہ کیا کر دیا تم نے۔۔۔” وہ بے بس سے لہجہ میں کہتی۔ کرب سے آنکھیں مینچ گئ تھی۔

☆☆☆☆☆

” کون ہو تم۔۔۔؟؟” ایک عمر رسیدہ شخص دیوان پہ کسی فرعونی کی مانند بیٹھا تھا۔ پر اپنے سامنے کھڑی لڑکی اور پھر اسکے ہاتھ میں موجود پسٹل دیکھ وہ گھبرایا تھا۔

” مجھے نہی پہچانا۔۔۔۔!!” شعلہ کے ہونٹوں پہ پر اسرار سی مسکراہٹ چمک رہی تھی۔

” میں تمہیں جانتا ہی نہی ، تو پہچانیں گا کیسے۔۔۔” وہ شخص گھبرایا تھا۔

” تم نے مجھے نہی پہچانا۔۔۔” شعلہ نے مصنوئ طور پہ حیرت کا اظہار کیا۔

” ارے او بختو ادھر آآ نکال اس کمینی کو ادھر سے ، نجانے کہاں سے آگے ہے۔ اور ہمت دیکھو مجھ پہ یہ پسٹل تان کر کھڑی ہوگئ ہے۔ نادان لگتی ہے اسی لیئے معاف کر رہا ہوں۔ ورنہ پہلے تو میں اپنی جان کے دشمن کو چھوڑتا نہی ، اور پھر اگر وہ دشمن اتنا حسین دلکش ہو۔ پھر تو اس کے سلامت نکلنے کے چانس ختم ہوجاتے ہیں۔۔۔” وہ کمینگی سے اکشے سراپے کو سر سے لیکر پیر تک دیکھتا رہ گیا تھا۔

” ہنہ۔۔۔ یہاں سے تو میں ہر حال میں سلامت جاؤں گی۔ یہ بات تو یاد رکھنا۔ پر بتانے یہ آئ تھی میں کہ بہت جلد تیری موت میرے ہاتھوں واقع ہونے والی ہے۔۔۔” شعلہ نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا۔

” تو ہے کون۔۔۔۔؟؟” اس شخص کے حیرت کی کوئ انتہا نہی رہی تھی۔

” تیری موت۔۔۔” کہتے ساتھ ہی شعلہ نے اسکے پیر پہ گولی چلائ تھی۔ اور وہ چلاتا رہ گیا تھا۔ جب تک اسکے ملازم آتے وہ وہاں سے فرار ہوچکی تھی۔

” ہا۔۔۔ میری ٹانگ۔۔۔ حرام خوروں۔۔۔” وہ اپنے آدمیوں پہ چلایا تھا۔

” دیکھو کہاں چلی گئ ۔۔۔” وہ شخص کررہا ہوا اپنے آدمیون پہ حکم صادر کرنے لگا۔

چند آدمی ادھر ادھر شعلہ کو ڈھونڈنے بھاگے تھے۔ پر شعلہ انہیں کہیں نا ملی تو وہ واپس ناکام لوٹ آئے۔

☆☆☆☆

وہ وہاں سے جب واپس آئ تو خاموشی سے پسٹل اپنے کپڑوں میں دبا کر پر سکون ہوگئ تھی۔ ابھی شام کے سائے مکمل طور پہ نہی چھائے تھے۔ جب عالم بھی گھر آگیا۔

” آہ۔۔۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے۔” وہ کمر پہ ہاتھ رکھ کر چلائ تھی۔

میر عالم نے آئبرو آچکا کر اسے دیکھا۔

” کیسی بد تمیزی۔” انجان بننے کا ہنر تو انہیں ویسے بھی خوب آتا تھا۔

” میری پسٹل کہاں کر دی تم نے۔۔؟” وہ اسکے سر پہ کھڑی مستفسر ہوئ۔

” پسٹل کا لڑکیوں کے ساتھ کیا کام۔” میر عالم نے کتاب بند کرکے سائڈ ٹیبل پہ رکھی۔

” او ہیلو ذیادہ شوہر بننے کی ضرورت نہیں۔”۔ وہ ہاتھ اٹھا کر کہتی۔ میر عالم کو زہر لگی تھی۔

” شوہر ہی ہوں۔” اسنے سرد لہجہ میں کہا۔ وہ اسے خونخوار نظروں سے گھورتی۔ واپس ہر چیز الٹ پلٹ کر اپنی پسٹل ڈھونڈنے

لگی تھی۔

“فائدہ نہی ہے ڈھونڈنے کا ، کیونکہ تمہاری پسٹل اب کبھی تمہیں نہی ملنے والی۔۔” عالم نے سنجیدگی سے کہا۔

” عالم میری پسٹل دو۔۔۔” وہ بھڑک کر گویا ہوئ۔

” ٹھیک ہے۔ تو پھر پہلے بتاؤ کہاں گئ تھیں تم آج۔۔۔” عالم نے اپنی سرخ تنقیدی نظریں اس پہ گاڑھیں۔

” میں تمہاری پابند نہی ہوں۔۔۔” وہ چلائ۔

” تم میری ہی پابند ہو۔۔” لہجہ سخت اور انداز خطرناک تھے۔

” میرا پرسنل کام تھا۔۔۔” وہ دانت پیس کر گویا ہوئ۔

” جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے۔ تمہارا ہر پرسنل کام مجھ سے یا میرے بیٹے سے جڑا ہے۔ ہمارے علاوہ کیا پرسنل ہے۔۔۔۔؟ پلیز بتانا پسند کریں گی آپ۔۔۔۔” عالم نے درشتگی سے اسے تکا تھا۔ شعلا ناچاہتے ہوۓ بھی اسکی باز پرس پہ گھبرائ تھی۔