Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 42)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 42)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
وہ گہری نیند میں تھی جب کسی نے اسکے کندھے کو زور سے ہلایا۔وہ ڈر کر اٹھی تھی۔ اسکے سامنے سجی سنوری ایک خوبصورت سی لڑکی کھڑی تھی۔ وہ مسکا کر اسے دیکھنے لگی تھی۔
” آؤ تمہیں تیار کر دوں۔۔” اس لڑکی نے پیار سے اسکے چہرہ پہ ہاتھ پھیر کر کہا۔
” یہاں۔۔۔ کسی کی شادی ہے۔۔۔” وہ باہر سے گانوں کی آواز ، اور سامنے کھڑی لڑکی کو اتنا سجا سنورا دیکھ اشتیاق سے مستفسر ہوئ۔
اس لڑکی نے اسے سر سے لیکر پیر تک مسکرا کر دیکھا۔ وہ چودھا سالہ بچی اپنے قد کاٹھ سے کسی سترہ سالہ جوان لڑکی جیسی ہی دکھتی تھی۔
” ہاں یہاں روز بارات آتی ہے۔ اور اس بارات کے ساتھ دلہن بن کر کئ لڑکیوں کے ارمان ، عزتیں، اور آہیں رخصت ہوتی ہیں۔” انہوں نے نرمی سے کہا۔
” مطلب۔۔۔!!” وہ حیران ہوئ۔
” مطلب یہ کہ تم جلدی سے یہ پہنو ادھر واشروم ہے۔” اس لڑکی نے اسکی بات کا جواب دیئے بغیر ہی اسے کپڑے پہننے کے لیئے بھیجا۔
کچھ دیر بعد جب وہ کپڑے پہن کر نکلی تو ، وہ لڑکی سنجیدگی سے اسے کئ لمحے تکتی رہی۔ وہ اسکو زیور پہنا کر ہلکا ہلکا میں آپ کرنے لگی تھی۔
” تمہیں ناچنا آتا ہے۔۔؟؟” اس لڑکی نے شیشہ میں اسکا عکس دیکھ کر پوچھا۔
” ناچنا۔۔!!” وہ حیران پوئ۔
” ہاں ۔۔۔ ناچنا۔۔” وہ اسکے کندھوں پہ ہاتھ رکھتی شیشہ میں دکھتے اسکے عکس کو دیکھ کر مسکرائ تھی۔
” نہہ۔ نہی۔۔۔” بیا نے نفی میں سر ہلایا۔
” ہمم ۔۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔” اس لڑکی کے چہرے پہ پریشانی نما یا ہوئ تھی۔
” کیا ہوا کوئ پریشانی والی بات ہے۔۔۔؟” بیا نے مڑ کر پوچھا۔
” نہی کوئ پریشانی والی بات تو نہی۔۔۔” انہوں نے گہری سانس لیکر کہا۔
” تم بیٹھو میں آتی ہوں۔۔” وہ اسے کمرے میں بیٹھنے کی ہدایت دیتی خود نکل گئ تھیں۔
☆☆☆☆☆
” بائ۔۔وہ بہت چھوٹی ہے۔ اسے ناچنا نہی آتا پر میں جلد اسے سکھا دونگی ، خدارا آپ اسے اتنے بڑے امتحان میں نا ڈالیں کچھ سال اسے ناچنے دیں۔ اسکے بعد آپ کے دل میں جو آئے آپ وہی کریئے گا۔” اس نے ہمت کرکے اپنا مدعہ بیان کیا۔
” تو کیا چاہتی ہے ہر نئ آنے والی کو میں بس کھانے بٹھا دوں۔ جب سب بیٹھ کر کھائیں گی تو دھندا کیسے چلے گا۔۔۔” وہ بھڑک ہی اٹھی تھیں۔
” وہ ناچے گی ناں۔ ناچ کر کمائے گی پر۔۔۔ ابھی وہ سب نہی۔۔۔” اسنے بے بسی سے کہا۔
” ارے یہاں مرد لوگ ناچنے گانے سے لطف اندوز ہونے کے بعد بھی کچھ مانگتے ہیں۔ جب سب ناچتی ہی رہیں گی تو کوٹھا ایک دن ٹھپ ہوجائے گا۔۔” وہ ہاتھ ناچاتی دانت پیس کر گویا ہوئیں۔
” ایسا نہی ہوگا۔” اسنے سنجیدگی سے جواب دیا۔
” ٹھیک ہے ، پر زیادہ دن میں انتظار نہی کرونگی۔۔” بائ نے انگڑائی لے کر کہا۔ وہ دھیرے سے سر ہلاتی واپس اسکے پاس آئ تھی۔
” آج سے ہم ناچنا سیکھیں گے۔” اسنے مسکرا کر بتایا۔
” ناچنا۔۔ پر کیوں۔۔؟” اسنے منہ بنایا۔
” کیونکہ یہاں ناچ کر عزت بیچنے والیوں کی عزت سلامت رہتی ہے۔۔” انکا لہجہ گہرا تھا۔
” میں سمجھی نہی۔۔” بیا نے ہنس کر کہا۔
” خیر ہے سمجھنے کو پوری عمر پڑی ہے۔ سمجھ جاؤ گی۔۔”
” آپ کا نام کیا ہے۔۔؟؟” بیا نے اسکے چہرے کو دیکھ اشتیاق سے پوچھا۔
” نام تو میرا جنت تھا۔ اب مجھے سب الفت کے نام سے جانتے ہیں۔” وہ اسے بتاتی ٹیپ ریکارڈر کے پاس آئ تھی۔ اور کچھ ہی دیر میں اس پہ ایک مدھر دھن بجنے لگی تھی۔ اور الفت دھیرے ، دھیرے اسے اس مدھر دھن پہ ناچنا سکھانے لگی تھی۔ سیکھتے سیکھتے کئ مہینے بیت گئے۔ اب وہ ناچنا سیکھ چکی تھی۔ اور آئے روز محفل میں ناچنا اسکا معمول بن گیا تھا۔ اب تو وہ یہ بھی جان گئ تھی۔ کہ وہ کہاں آ پھنسی ہے۔ جب وہ ناچتی تو دیکھنے والے اسکی داد میں زمین آسمان کی قلابیں ایک کر دیتے۔ نوٹوں کی بھر مار جب اسکے وجود سے ٹکراتی ، تو اسے ایسا لگتا جیسے کسی نے اس پہ پتھر برسائے ہوں۔ لوگوں کی غلیظ نظریں ، تبصرے سب اسے کسی رینگتے زہریلے سانپ کی مانند اپنے وجود پہ محسوس ہوتے۔ پر جب تک وہ یہاں سے نکل نہی سکتی تھی۔ تب تک وہ اپنی عزت بچانے کی خاطر ناچ ہی سکتی تھی۔ وقت دھیرے دھیرے ایسے ہی بیتتنے لگا تھا۔ وہ اکیس سالہ حسین جوان دلکش خوبصورت دوشیزہ بن چکی تھی۔ آج کسی بڑی جگہ پہ فنکشن تھا۔ امیروں کا فنکشن بلکہ عیاشوں کا فکشن جہاں جانے کے لیئے بہت سی رقاصہ تیار ہوئ تھیں۔ ان میں سے ایک وہ بھی تھی۔ ” شعلہ” ہاں اسکا نام بیا سے شعلہ ہوچکا تھا۔ اسکی ایک ساتھی بھی یہاں بن گئ تھی۔ اسکا نام شہلا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کی ڈھال بن کر کھڑی رہتی تھیں۔ اور الفت کا ساتھ تو انکے لیئے ایسا تھا۔ جیسے انکی ماں کا۔ وہ لوگ جیسے ہی پہنچی وہاں ایک محفل لگی تھی۔ ملک کے تمام نامور سیاستدان وہاں موجود تھے۔ دو ، دو کرکے ناچنے کے لیئے لڑکیاں گئ تھیں۔ اور سب سے آخر میں باری شعلہ کی تھی۔ وہ بھاگتی ہوئ محفل میں ناچنے کے لیئے کمرے سے نکلی تھی۔ ارد گرد جگمگاتی لائٹیں ، رنگین پردے ، پھولوں کی سجاوٹ ماحول کو حسین بنا رہی تھیں۔
وہ نارنجی رنگ کا بھاری کا مدار شرارہ پہنے ہونٹوں پہ سرخ لپ اسٹک اور آنکھوں پہ گہرہ میک اپ ، ماتھے پہ بھاری جھومر، پہنے وہ بھاگتے بھاگتے کسی سے بری طرح سے ٹکرائ تھی۔ مقابل نے اسے تھامنے کے بجائے خود کو اس سے بچانا چاہا تھا۔ وہ لڑکھڑا کر دیوار کا سہارا لیتی بہ مشکل کھڑی ہوئ تھی۔ نگاہیں اٹھا کر جیسے ہی مقابل کو دیکھا۔ وہ اپنی جگہ جیسے تھم سی گئ تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ اس سے کوئ بات کرتی۔ وہ اسے بغیر ایک نظر دیکھے اسکے پہلو سے ہوکر نکل گیا تھا۔ وہ حیران و پریشان سی کھڑی تھی۔
” شعلہ جلدی کرو۔۔” شہلا نے اسے کلائ سے تھام کر اپنے پیچھے گھسیٹا تھا۔
” شہلا۔۔۔۔ وہ۔۔” اسنے شہلا کے پیچھے چلتے کچھ کہنا چاہا ، پر اسکے لب نجانے کیا سوچ کر سل گئے تھے۔
” جلدی۔۔۔” وہ۔اسکو رکتے دیکھ اسکا ہاتھ کھینچ کر اسے ڈانس فلور پہ چھوڑ آئ تھی۔ ارد گرد سب بیٹھے تھے۔ اور بلکل اسکے سامنے میر عالم بیٹھا تھا۔ شعلا کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے تھے۔ دھیرے دھیرے اسکے پیر تھتھرانے لگے تھے۔
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا،
اسکا ہاتھ ہوا میں لہرا کر اسکے چہرے پہ سے دھیرے دھیرے سرکنے لگا تھا۔ وہ جھومتی ہوئ دھیرے دھیرے چہرے پہ پڑا گھونگھٹ اٹھانے لگی تھی۔
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا،
کہ خوشی سے مر نہ جاتے، اگر اعتبار ہوتا،
گھونگھٹ کو اٹھا کر پیچھے پلٹا تھا۔ اور پیروں کو آپس میں الجھا کر وہ آنکھوں میں نمی لیئے مسکرائ تھی۔
تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
وہ ہاتھوں کو دائیں بائیں لہراتی تھوڑی کو ذرا سا اوپر اٹھاتی میر عالم کے پاس سے لہراتے ہوئے گزری تھی۔ میر عالم کے ماتھے پہ لاتعداد شکنوں کا جال بچھا تھا۔
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی، جو جگر کے پار ہوتا،
وہ زمین پہ بیٹھ کر اپنا پیر پیٹ کے پاس رکھتی اپنا سر اپنے گھٹنے پہ دھر کر مسکرائ تھی۔ اسکی مسکراہٹ پہ یکدم تالیوں اور سیٹیوں کی آواز گونجی تھی۔
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا،
وہ گھٹنوں کے بل بیٹھتی اپنے دونوں ہاتھ آپس میں ملا کر چھوڑتی اک ادا سے آنکھوں میں آئ نمی کو جھٹکتی جھومی تھی۔
رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو، یہ اگر شرار ہوتا،
کمر پہ ہاتھ رکھتی بل کھاتی لہراتی وہ ہر کسی کے پاس سے ہوکر گزرنے لگی تھی۔
غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غمِ عشق گر نہ ہوتا، غمِ روزگار ہوتا،
وہ ایک ہاتھ دل پہ رکھتی سر کو نفی میں ہلاتی ، چہرے پہ افسردہ تاثرات لے آئ تھی۔
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے؟ شبِ غم بری بلا
مجھے کیا برا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا،
وہ دونوں بازو چہرے کے پاس لاکر دھیرے دھیرے ہٹانے لگانی تھی۔ عالم وہاں سے اٹھ کر نکلنے کی تگ و دود میں تھا۔ اسکو جاتے دیکھ اسکی سانسیں اٹکی تھیں۔ وہ ناچتے ناچتے اسکے قریب آئ تھی۔
ہوئے مر کے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا؟
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا،
وہ اسکے گرد گھومتی آنکھوں سے اپنا شکوہ بیان کرنے لگی تھی۔ میر عالم نے سرد نظریں بیزاریت سے ادھر ادھر گھمائ تھیں۔
اسے کون دیکھ سکتا، کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا،
وہ اسکے قریب آکر اسکے دل کے مقام پر اپنا ہاتھ رکھ گئ تھی۔ عالم نے اسے خود سے دور جھٹکا تھا۔ شعلہ کی آنکھوں سے آنسو ٹپکا تھا۔ مگر وہ مسکرائ تھی۔
یہ مسائلِ تصّوف یہ ترا بیان غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے، جو نہ بادہ خوار ہوتا،
وہ اسے جاتا دیکھ اسکی پشت کو دیکھ آنکھیں مینچ گئ تھی۔ یکدم تالیوں اور سیٹیوں کی آواز گونجی تھی۔ وہ وہاں سے بھاگی تھی۔ عالم کو ڈھونڈنے پر وہ وہاں سے شاید جا چکا تھا۔ اسکا کوئ اتہ پتہ نا تھا۔ وہ اپنے آنسو پیتی ، واپس اسی کمرے میں آئ تھی جہاں وہ سب ٹہری ہوئ تھیں۔
☆☆☆☆☆
” کیا ہوا شعلہ رو کیوں رہی ہو تم۔۔۔؟” شہلا نے اسکے کندھے پہ ہاتھ دھرا۔
” کچھ نہی بس ویسے ہی آنکھ بھر آئ تھی۔۔” اسنے لب کچل کر جواب دیا۔
” تم مجھ سے چھپا رہی ہو۔۔۔؟؟” شہلا نے شکوہ کیا۔
” وہ ۔۔۔ یار۔۔۔ میرا کزن یہاں تھا۔ پر ۔۔۔ شاید ۔۔۔ اسنے مجھے پہچانا نہی۔ مجھے واپس جانا تھا۔میرا دم گھٹتا ہے یہاں۔۔۔” وہ سوکھا حلق تر کرکے کہتی آخر میں پھوٹ پھوٹ کر روپڑی تھی۔
” تم پریشان نا ہو۔ اگر تمہارا کزن یہاں پہ تھا۔ تو اسکا مطلب وہ ایک بڑی نامور ہستی ہے۔ ہم الفت باجی سے بات کریں گے۔ وہ کوئ نا کوئ حل نکال ہی لیں گی۔۔” شہلا نے اسکے ہاتھ تھام کر اسے تسلی دی۔
” پتہ نہی میں اس دلدل سے کبھی نکل بھی پاؤں گی یا نہی۔۔” وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنے زیور اتار رہی تھی۔
” نکل جاؤ گی تم دیکھنا۔ اپنے گھر واپس جا کر اپنی زندگی شروع کروگی۔۔۔” شہلا نے مسکرا کر کہا۔
” میں تمہیں بھی ساتھ لے کر جاؤں گی۔ اور تم دیکھنا میں تمہاری شادی اپنے بھائ سے کراؤں گی۔۔” شعلا نے پر امید لہجہ میں کہا۔
” اچھا۔۔۔ اور اگر تمہارا بھائ پہلے ہی شادی کر چکا ہو تو۔۔؟؟
پھر کیا کروگی۔۔؟؟” شہلا نے مسکرا کر پوچھا۔
” ایسا نہی ہوگا۔ اور اگر ہوا بھی تو میں کبھی اپنی بات سے نہی پھروں گی۔۔۔” شعلہ نے مسکا کر کہا۔
” چلو اسی بہانے تمہارا موڈ تو کچھ بہتر ہوا۔” شہلا نے نرمی سے مسکا کر کہا۔
” میرا موڈ اب تبھی بہتر ہوگا جب میں اس غلیظ ترین زندگی سے چھٹکارا پا لوں گی۔۔۔” وہ لب کچل کر گویا ہوئ۔
” انشااللہ یہاں سے جلد ہم فرار ہوجائیں گے۔۔” شہلا نے بھی ایک عزم سے کہا۔ وہ دونوں اداسی سے مسکائ تھیں۔
☆☆☆☆☆
