Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 30)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 30)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
مصطفی شعلہ کو گھر چھوڑ کر دفتر چلا گیا تھا۔ نازنین کچن میں لگی کھانا بنا رہی تھی۔ جب شعلہ نیچے اسکے پاس آئ۔ نازنین نے اسے دیکھ کر نظر انداز کیا۔
” نظر انداز کر رہی ہو مجھے۔۔۔؟؟” شعلہ نے سلیب پہ ہاتھ ٹکا کر پوچھا۔
” کیا مجھے آپ کو نظر انداز نہی کرنا چاہیئے۔۔۔” نازنین نے پر شکوہ نگاہیں اسکے چہرے پہ گاڑھ کر کہا۔
شعلہ نے اسے تنقیدی نگاہوں سے تکا۔ اسے لگا شاید مصطفی نے اسے شعلہ کی یہاں آنے کی شرط کے بارے میں بتا دیا ہے۔
” کوئ خاص وجہ۔۔؟؟” شعلہ نے آبرو آچکا کر پوچھا۔
” آپ نے میرے بھائ کو مارنے کی سازش کی ، اور تقریباً آپ اپنے عمل میں کامیاب بھی ہونے والی تھیں۔ کیا اس سے بڑی کوئ وجہ ہوسکتی ہے آپ کو نظر انداز کرنے کی۔۔۔” نازنین نے سالن میں چمچ چلاتے کہا۔
شعلہ اسکی بات پہ گہری سانس لیتی کندھے آچکا کر گویا ہوئ۔
” ہاں تمہارا مجھے نظر انداز کرنا درست ہے۔ پر مجھے ایک بات سمجھ نہی آرہی۔ جب میں آئ تو تم نے تب مجھے جانے کو کیوں نہی کہا یہاں سے۔۔۔؟؟”
” کیونکہ آپ کو مصطفی لائے ہیں۔ اور میں انکی کسی بات سے انکار نہی کرسکتی۔۔۔” نازنین نے سنجیدگی سے اسے جواب دیا۔
” اوہ ۔۔ سہی۔۔” وہ سر ہلاتی کچن سے نکل گئ اور نازنین اسے جاتا دیکھ کر رہ گئ۔
☆☆☆☆☆
اسفند مارٹ میں گروسری شاپنگ کر رہا تھا۔ جب اسے سامنے سے آتی شہلا دکھی۔ وہ چہکتا ہوا اسکے برابر میں جاکر کھڑا ہوا تھا۔
” کیا کر رہی ہو۔۔۔؟؟” اسفند اسکی پشت پہ کھڑا گویا ہوا۔
شہلا چونکی اور دل پہ ہاتھ رکھتی مڑی ، اور اسفند کو دیکھ کر اسکے ماتھے پہ لاتعداد شکنوں کے جال بچھے تھے۔
” لوگ یہاں آکر کیا کرتے ہیں۔۔” شہلا نے دانت پیس کر کہا۔
” گروسری خریدتے ہیں۔۔۔” اسفند نے ہاتھ بڑھا کر شہد کا جار اٹھایا۔
شہلا بلکل ریک کے قریب ہوگئ ، اس ڈر سے کہ کہیں انکے کندھے ہی آپس میں مس نا ہوجائیں۔
” تو میں بھی وہی خریدنے آئ ہوں۔۔۔” وہ اسکے پاس سے نکلی تھی۔ اور اپنی ٹرالی کو بھی ساتھ گھسیٹا تھا۔
” ہاں وہ تو میں بھی دیکھ سکتا ہوں۔۔” اسفند نے مسکا کر کہا۔
شہلا آنکھیں گھما کر رہ گئ۔ اسکی خریداری مکمل ہوچکی تھی۔ بس اب اسے بلنگ کرانی تھی۔ اور یہاں سے نکلنا تھا۔ اسفند بھی اپنی ٹرالی میں شہد کی باٹل رکھتا اسکے پیچھے ہو لیا تھا۔ شہلا نے مڑ کر اسے گھورا تھا۔
دونوں بلنگ کاؤنٹر کے پاس کھڑے تھے۔ شہلا اپنا سامان ٹرالی سے نکال نکال کر کاؤنٹر پہ رکھ رہی تھی۔ اسفند بھی اسکا سامان جلدی اٹھا کر رکھنے لگا۔ شہلا جل کر رہ گئ۔
” اٹس اوکے میں کر لوں گی۔۔۔” شہلا نے سنجیدگی سے کہا۔
” ارے۔۔۔ اگر تم کروگی تو میں کس کام کا یہاں کھڑا ہوں۔۔” اسفند نے فری ہوکر کہا۔
شہلا ارد گرد لوگوں کو دیکھ کر اپنے منہ کو زبردستی مسکراہٹ کی شکل میں ڈھال گئ تھی۔ بل دینے کی باری آئ ، جب تک شہلا اپنے پرس سے کیش نکالتی۔ اسفند اپنا کارڈ کاؤنٹر پہ رکھ چکا تھا۔ اور بل بھی پے ہوچکا تھا۔ شہلا نے پیسے نکال کر کاؤنٹر پہ رکھے۔ تو کاؤنٹر پہ بیٹھے اکاؤنٹنٹ نے اسکے پیسے کھسکا کر اسکی جانب واپس کیئے۔
” میم سر نے بل پے کر دیا ہے۔”
شہلا نے مڑ کر اسفند کو دیکھا جو وہاں سے غائب تھا۔
” کہاں چلا گیا یہ۔۔۔؟؟” اسنے اسی لڑکے سے پوچھا۔
“میم وہ تو اپنا سامان لیکر چلے گئے ، آپکے سامان کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی بھی بلنگ کرا لی تھی۔”
شہلا جلتی کڑھتی اپنی ٹرالی گھسیٹتی باہر آئ تھی۔ ڈرائیور آگے آیا تھا۔ اور اسنے سارے شاپر اٹھا کر گاڑی میں رکھے تھے۔ وہ موبائل نکال کر اسفند کو کال کر نے لگی۔ چند بیلز جانے کے بعد کال ریسیو ہوگئ۔
” ابھی تو ملے تھے ، اتنی جلدی تمہیں میری یاد ستانے لگی۔۔” وہ شوخی سے گویا ہوا۔
شہلا نے گہری سانس لیکر اپنے غصہ کو قابو میں کیا۔ اور تقریبا ایک ایک لفظ چبا کر گویا ہوئ۔
” زیادہ شوخ ہونے کی ضرورت نہی۔ اپنی بینک اکاؤنٹ کی ڈیٹیلز دو ، تاکہ تمہارے پیسے تمہیں بھجواؤں۔۔۔”
” کون سے پیسے۔۔۔؟؟” وہ انجان بنا۔
” ابھی جو تم۔نے میرے بل کے پے کیئے وہ والے پیسے۔۔۔” شہلا نے خود کو غصہ کرنے سے روکا تھا۔
” تم مجھے وہ پیسے واپس کرنا چاہتی ہو۔۔؟؟” مقابل نے تاسف سے پوچھا۔
” ہاں ۔۔۔” اسنے ذرا گردن اکڑا کر کہا۔
” اوکے پھر تم ، اس ایڈریس پہ آجانا ابھی تمہیں مسیج میں بھیج رہا ہوں۔۔۔” اسفند نے کہتے ہی کال کاٹنا چاہی۔
” نہی میں نہیں آسکتی ، میں کچھ مصروف ہوں۔۔۔” اسنے بہانا گڑھا۔
” اوکے پھر پیسے دینے کی ضرورت نہی۔۔۔” اسفند نے کہتے ہی کال کاٹ دی تھی۔ وہ اسکی حرکت پہ جل بھن کر رہ گئ تھی۔ اور کچھ دیر بعد اسکے موبائل کی سیاہ سکرین ایک بار پھر روشن ہوئ تھی۔ شہلا نے اپنا موبائل پرس میں پھینکا تھا۔ اور باہر کے نظاروں میں گم ہوگئ تھی۔
☆☆☆☆☆
مصطفی جب رات میں گھر آیا تو نازنین سجی سنوری ڈائیننگ ٹیبل پہ ملازمہ کے ساتھ کھانا لگا رہی تھی۔ مصطفی نے اسکے دلکش سراپے سے نظریں چرائ تھیں۔
نازنین اسے دیکھ کر مسکرائ تھی۔
” آگئے تم۔۔۔؟؟” وہ لاڈ سے گویا ہوئ۔
” تو آنا ہی تھا میں نے گھر۔۔” مصطفی نے سرد مہری سے کہا۔
” لگتا ہے آج تھک گئے ہو۔۔۔؟؟” نازنین کو لگا شاید تھکاوٹ کی وجہ سے وہ سرد مہری دکھا رہا ہے۔
” پانی دو گی ، یا پھر دماغ ہی چاٹتی رہوگی۔۔۔” اسنے بیزاریت سے کہا۔
” دے دیتی ہوں پانی ، لڑ کیوں رہے ہو۔۔” نازنین اسکے بگڑے تیوروں کا اثر لیئے بغیر چہکی تھی۔
وہ پانی لائ اسے دیا۔ اور اسکا سامان اٹھا کر روم میں رکھ کر آئ۔ عالم کا کھانا کمرے میں ہی پہنچا دیا تھا۔ اور شعلہ نیچے آئ تھی۔ کھانا کھانے۔ نازنین اور مصطفی بھی بیٹھے تھے کھانا کھانے۔ خاموشی سے کھانا کھایا گیا۔ نازنین برتن اٹھا کر کچن میں لیکر گئ۔
” کوشش کرو یہ تم سے خود ہی طلاق لے لے۔۔۔” شعلہ نے سنجیدگی سے کہا۔
مصطفی نے نگاہیں چرائ۔ اور دھیرے سے سر اثبات میں ہلاتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ شعلہ بھی آٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئ۔ نازنین ملازمہ کو کچن سمیٹنے کی ہدایت دیتی۔ اوپر کمرے میں آئ تو مصطفی بیڈ پہ آڑا ترچھا پڑا تھا۔ اور آنکھوں پہ بازو دھرا تھا۔ وہ پریشانی سے اسکے قریب آئ تھی۔
” کیا ہوا مصطفی ، طبیعت ٹھیک نہی ہے کیا تمہاری۔۔۔” وہ اسکے سر پہ کھڑی اسکا بازو اسکے چہرے سے ہٹانے لگی جب ، مصطفی نے پوری شدت سے اسے خود سے دور جھٹکا۔
” کیا ہوا مصطفی۔۔۔؟؟ ایسے کیوں بی ہیو کر رہے ہو۔” اپنی آنکھوں کی نمی دھکیلتی وہ کپکپاتی آواز میں مستفسر ہوئ۔
” تھوڑی دیر اکیلا نہی چھوڑ سکتی تم مجھے۔۔۔!!” مصطفی نے آنکھوں سے بازو ہٹا کر بیزار سے لہجہ میں کہا۔
نازنین نتھنے پھلائے ، کمرے کی لائٹس آف کرتی اپنی جگہ پہ جا کر لیٹی تھی۔ اور اندھیرے میں ہی بڑبڑانا شروع کر دیا تھا۔
” سب مرد ایک جیسے ہوتے ہیں۔ جب پتا لگ جائے نا کہ بیوی تو بھئ ہماری محبت میں پاگل ہے۔ کچھ بھی کریں۔ کیسے بھی دل کیا اسے جھڑک دیں گے۔ وہ تو پاگل کی بچی ہے اسنے کونسا کچھ بولنا ہے۔ پر ۔۔۔۔ کان کھول کر سن لو تم مصطفی ۔۔۔ اگر تھوڑی دیر میں تمہارا یہ سوجا منہ درست زاویے پہ نا آیا ناں۔ تو جان لے لونگی میں تمہاری۔” وہ بڑبڑاتی ہوئ مڑی تھی۔ اور اندھیرے میں ہی اسکے گرد اپنی بانہوں کا حصار بنا گئ تھی۔
مصطفی آنکھیں موند کر رہ گیا تھا۔ اتنا آسان تو نا تھا۔ اب اسے خود سے دور جھٹک دینا۔ مصطفی نے گہری سانس لیکر اسکے گرد بازو ہمائل کیا۔
” نازنین۔۔۔ میں تھک گیا ہوں۔۔۔” اسنے بے بسی سے کہا۔
” ہاں تو تم اکیلے تو نہی تھکے ناں ، میں بھی صبح سے لگی ہوں۔ گھر کے کام کرکے میں بھی تھک چکی ہوں۔۔” وہ۔اسکے سینے پہ اپنا سر ٹکاتی لاڈ سے گویا ہوئ۔
” نازنین پلیز پیچھے ہو جاؤ۔۔” وہ یکدم سرد مہری سے گویا ہوا۔
” خفا ہو۔۔؟” وہ اداسی سے مستفسر ہوئ۔
” نہی میں خفا نہی ہوں ، بلکہ بیزار آگیا ہوں تم سے۔۔۔” مصطفی دبے دبے لہجہ میں چلایا تھا۔
نازنین کا رنگ فق پڑا تھا۔ اور وہ اس سے جھٹ دور ہوکر کروٹ بدل گئ تھی۔ مصطفی لب بھینچ کر رہ گیا تھا۔ اور کچھ لمحے بعد اندھیر کمرے میں اسکی سسکیاں گونجنے لگی تھیں۔
☆☆☆☆☆
شعلہ کمرے میں آئ تو ، عالم بستر پہ پڑا چھت کو گھور رہا تھا۔ وہ اسے نظر انداز کرتی ، نائٹ ڈریس پہن کر باہر آئ تھی۔ اسکی سلک کی سیاہ نائٹی میں اسکے پیٹ کا ہلکا ابھار واضح ہو رہا تھا۔ عالم نے اسے دیکھ نفرت سے نظریں پھیری تھیں۔ وہ لب بھینچ کر بستر پہ دوسری جانب لیٹی تھی۔
” نفرت ہوگئ ہے تم سے مجھے۔۔۔” عالم کی سرد آواز اسکے کانوں سے ٹکرائ۔ تو ایک پل کو تھمی۔ اور پھر تمسخر سے مسکرائ۔
” نفرت تو مجھے بھی تھی۔ دیکھو برباد کردیا، اب تمہاری باری ہے۔ دیکھتی ہوں ، تم کیسے برباد کرتے ہو مجھے۔” وہ آنکھیں موند کر گویا ہوئ۔
” میری نفرت ، تمہاری نفرت جیسی نہی ہے شعلہ میری نفرت تمہاری نفرت کی طرح انسٹینٹ نہی ہے۔ کہ ایک پل میں سب ختم کردے۔ میری نفرت بہت (slow) ہے۔ وہ دھیرے دھیرے تمہیں برباد کرے گی۔ میری نفرت بلکل (slow poison ) جیسی ہے۔ جو تمہیں دھیرے دھیرے ختم کردے گی۔ اور تمہیں پتا بھی نہی چلے گا۔” عالم کا انداز کافی سرد تھا۔
” ہنہ۔۔۔ جناب برباد آپ جیسے لوگ ہوتے ہیں۔ جن کے پاس کچھ ہو۔ ہم جیسے جن کے نا آگے کوئ ہو نا ہی پیچھے ، انکا بربادی سے کیا سروکار۔۔۔” وہ پر سوز لہجہ میں کہتی ، کمفرٹر خود پہ ڈال کر آنکھیں موند گئ۔
عالم اسے کئ لمحے تکتا رہا اور پھر آنکھیں موند گیا۔
شعلہ کو برباد کرنا تو اب اسکی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بن گیا تھا۔ اور عالم یہ تہیہ کر چکا تھا۔ کہ اسے شعلہ کو برباد کرنا ہے ہر صورت میں ، مطلب ہر صورت میں۔
” پہلے شاید کوئ تمہارے آگے پیچھے نا تھا۔ پر اب تو ہے تمہارا بچہ۔۔۔” عالم کی آواز جیسے ہی اسکے کانوں میں پڑی ، شعلہ کی آنکھیں جھٹ کھلی تھیں۔
” ہنہ۔۔ اگر تم اسے تکلیف دے کر مجھے برباد کرنا چاہتے ہو تو شوق سے کرنا ، پر یاد رکھنا اسے تکلیف دے کر ختم تو تم بھی ہوجاؤ گے۔۔۔” شعلہ نے سرسراتے لہجہ میں کہا۔
عالم اسکی اڑی رنگت دیکھ کر ، تمسخر سے مسکرایا تھا۔
” اتنا کیوں ڈر گئ ہو ، ابھی تو اسے اس دنیا میں آنے میں بھی بہت وقت لگے گا۔۔۔” عالم نے اسکی اڑی رنگت دیکھ مزید اسے ڈرایا۔
” مجھے نیند آرہی ہے۔۔” اسنے چہرے پہ ہاتھ پھیر کر نادیدہ پسینے کو صاف کیا۔ اور آنکھیں موند گئ۔
☆☆☆☆☆
مصطفی صبح اٹھا تو نازنین کمرے میں نہی تھی۔ وہ اپنا دکھتا سر دباتا واشروم میں گیا تھا۔ آفس کے لیئے تیار ہوتا وہ نیچے آیا تھا۔ نازنین نے خاموشی سے ناشتہ لگایا۔ اور واپس اوپر آگئ۔ مصطفی نے تنہا ناشتہ کیا۔ اور اپنا سامان لینے اوپر آیا تو نازنین بیگ میں لگی کپڑے ڈال رہی تھی۔ مصطفی کا دل یکدم بند ہوا۔ نازنین اسے مکمل طور پہ نظر انداز کررہی تھی۔ مصطفی اس سے بات کرنا چاہتا تھا۔ پر شعلہ کی بات یاد کرکے اسکے قدم اپنی جگہ جم گئے۔ وہ خاموشی سے اپنا سامان لیتا کمرے سے نکلنے ہی والا تھا۔ جب نازنین کی بس ہوئ۔
” ہو کیا گیا ہے تمہیں۔۔۔؟؟” وہ اسے بازو سے تھام کر سسکی تھی۔
” کچھ نہی ہوا۔ پلیز پیچھے ہٹو۔۔” مصطفی نے اسے خود سے دور کرنا چاہا۔
” ایسے کیسے دور ہٹوں ، تمہیں اندازہ ہے میں کل رات سے کس ذہنی اذیت کا شکار ہوں۔۔” وہ اسکے سینے سے لگتی بھیگے لہجہ میں مستفسر ہوئ۔
” نازنین۔۔۔ پلیز ۔۔۔ مجھے دیر ہورہی ہے۔۔۔” مصطفی نے بیچارگی سے کہا۔
” ہوجائے دیر پر میرے سوالوں کے جواب دیئے بغیر تم یہاں سے کہیں نہی جاؤ گے مصطفی نہی تو میں تمہاری جان لے لوں گی۔۔۔” وہ مزید اس سے چپکی تھی۔
” نازی۔۔۔ پلیز۔۔۔” وہ اسکے گرد بازو لپیٹتا محبت سے منت کرنے لگا۔
” پلیز ۔۔۔ ولیز کچھ نہی مجھے بتاؤ ، آخر کیا ہوا ہے تمہیں۔۔۔؟؟” وہ اسکے سینے پہ اپنے لب دھرتی مستفسر ہوئ۔
اور یہاں مصطفی پگھل گیا۔ اسے مکمل طور پر اپنی بانہوں کے حصار میں قید کرتا۔ کئ لمحوں تک اسکی خوشبو کو خود میں اتارتا رہا۔ اور پھر شعلہ کی حقیقت اور اسکی شرط سب اسے بتا دی۔ نازنین توجہ سے تمام بات سن کر اسے خشگمین نظروں سے گھورتی رہی۔
” کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہی ہو۔۔۔؟؟” مصطفی نے سنجیدگی سے کہا۔
” اگر تم مجھے یہ سب پہلے بتا دیتے تو کیا چلا جاتا تمہارا۔۔ ؟؟” وہ کمر پہ ایک ہاتھ رکھتی بھنوئیں آچکا کر مستفسر ہوئ۔
” کیسے بتاتا ، مجھے تو کچھ سمجھ ہی نہی آرہی تھی۔۔۔” مصطفی نے چڑ کر کہا۔
” ایسے ہی بتاتے جیسے ابھی بتایا ہے یار۔۔۔۔” وہ خفا ہوئ۔
” اب سنو میں ، تمہیں سمجھاتی ہوں کہ اب ہمیں کیا کرنا ہے۔۔۔” نازنین نے اسے تمام بات سمجھائ اور مسکرائ۔ مصطفی بھی اسکے پلین پہ مسکرایا تھا۔
“واہ اتنا اچھا آئیڈیا میرے پاس کیوں نہی آیا۔۔” مصطفی کو حیرت ہوئ۔
” عقل کی کمی کی وجہ سے نہی آیا۔۔۔” نازنین نے زبان دکھا کر کہا۔
اور مصطفی اسے گھورتا نکل گیا۔ وہ پیچھے کھڑی مسکرا کر رہ گئ۔
☆☆☆☆☆
