Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 04)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

” مجھے اپنے گھر جانا ہے۔” ایک لڑکی سر جھکاۓ کھڑی دھیرے سے منمنائ تھی۔ شعلہ نے اسے تنقیدی انداز میں سر سے لیکر پیر تک تکا تھا۔

” فائدہ نہیں ہے واپس جانے کا۔ تو بے داغ ہے۔ پھر بھی داغ دار کہہ کر جھٹلا دیا جاۓ گا۔ دھکے دے کر تیرے مائ باپ کے آنگن سے نکال دیا جاۓ گا۔” شعلہ نے بہت نرمی سے کہا۔

“ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا۔” اس لڑکی کا لہجہ پر یقین تھا۔

” امید کرتی ہوں۔ کہ یہ امید۔۔۔۔ یہ یقین نا ٹوٹے۔” شعلہ نے مسکا کر کہا۔

” تو آپ مجھے کب بھیجیں گی۔؟؟” اس لڑکی نے بے تابی سے پوچھا۔

“آج ابھی اسی وقت۔ اگر کوئ دھتکار دے۔ تو بنا جھجک کیئے یہاں واپس آجانا ، یہاں کے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔” شعلہ کی پر خلوص پیشکش پہ وہ لڑکی تہہ دل سے اسکی شکر گزار ہوئ تھی۔

” شکریہ بہت۔۔۔۔ آپ نے تو اس دلدل سے نکال کر ہی بہت بڑا احسان کیا ہے مجھ پہ۔”

” عاشر ۔۔۔ ڈرائیور کے ساتھ جاکر۔ اسے اسکے گھر چھوڑ آئیں۔” شعلہ نے ایک نو عمر لڑکے سے کہا۔

” اوکے میم۔۔۔” عاشر سعادت مندی سے کہتا وہاں سے نکل گیا تھا۔ وہ لڑکی بھی اسی کے پیچھے نکل گئ تھی۔ شعلہ نے انکے جاتے ہی ریوٹ اٹھا کر ٹی وی آن کیا تھا۔

” بی۔ ای۔لیگ کے چیئر مین مالک شاہ کا ایک روڈ ایکسیڈینٹ میں انتقال ہوگیا۔” ٹی وی چینلز پہ اس خبر کو بار بار دھرایا جا رہا تھا۔ شعلہ پر اسرار سامسکرائ تھی۔ اپنا موبائل اٹھا کر سم بدلی تھی۔ کال ملا کر موبائل کان سے لگایا تھا۔

” ہیلو مسٹر پولیٹیشن۔” اسنے لب دبا کر جواب کا انتظار کیا تھا۔

” کون۔۔۔؟؟” دوسری جانب بیٹھا شخص پہچاننے کی کوشش میں تھا۔

” اتنی جلدی بھول گۓ۔” شعلہ نے موبائل کان سے لگاۓ ۔ اپنے نازک مرمریں ہاتھوں کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔

” سوری۔۔۔۔ رانگ نمبر ۔”

” نا بلکل رائٹ نمبر ہے۔” اسنے جھٹ کہا تھا۔

” خیر۔۔۔ مجھے بھول گۓ ہوگے۔ پر اپنے دس کروڑ تو یاد ہونگے۔ تہارا قاتل آج کی سرخیوں پہ چھایا ہوا ہے۔” اسنے ایک ادا آنکھیں مٹکا کر کہا۔

” تم۔۔” میر عالم چونکے تھے۔ اور وہ مسکرا کر کال کاٹ چکی تھی۔ اسنے سم نکال کر توڑدی تھی۔ میر عالم نے دوبارہ اس نمبر پہ بہت بار کال کی۔ پر ہر بار ایک ہی جواب آتا۔ کہ یہ نمبر اب کسی کے استعمال میں نہیں۔

٭٭٭٭٭

” ویسے ثانیہ آپ کیوں یہ جاب چھوڑ رہی ہیں۔” ساوری نے لنچ ٹائم میں پوچھا۔

” میری شادی ہو رہی ہے۔” ثانیہ نے مسکا کر بتایا۔

” ماشااللہ مبارک ہو۔” ساوری نے مسکا کر کہا۔

” تھینک یو۔”

ساوری اسکے شکریہ کرنے پہ مسکرائ تھی۔

” ساوری۔۔۔ میری شادی میں وقت بہت کم ہے۔ اور تیاری بہت زیادہ ہے۔ میں تمہیں آج ایک ہی دن میں کافی ذیادہ گائڈ کرچکی ہوں۔ اب اگر میں کل سے نا آؤں۔ تو کیا۔۔ تم مینج کر لو گی۔” ثانیہ کی بات سن کر ساوری کچھ پریشان ہوئ تھی۔ مگر پھر یہ سوچ کر اثبات میں سر ہلا گئ۔ کہ جانا تو اسے ایک ہفتہ بعد بھی تھا۔ تو آج ہی سہی۔

” ہمم میں مینج کر لوں گی۔”

” تھینک یو۔” ثانیہ کھل کر مسکرائ تھی۔

٭٭٭٭٭

نازنین کی سہیلیاں آئ ہوئ تھیں۔ اسکی سہیلیاں بھی اس جیسی تھیں۔ گھمنڈی لاپرواہ۔ برے کی شامت سے مصطفی گھر آنا پڑا۔ کچھ کاغذات حیدر کے کمرے سے اٹھانے تھے۔ وہ لاؤنج میں قدم رکھتے ہی ٹھٹکا۔ پر انکو نظر انداز کرتا وہ زینوں کی جانب گیا جب اس کسی کی نازک سی آواز سنائ دی۔

” نازنین یہ ہینڈسو کون ہے۔”

ناچاہتے ہوۓ بھی مصطفی کے قدم جواب سننے کی چاہ میں سست پڑے تھے۔

” مجھے نہیں پتہ تھا تمہارا ٹیسٹ اتنا خراب ہے۔ باۓ دا وے نوکر ہے ہمارا۔” نازنین نے بغی تامل کہا۔

مصطفی مٹھیاں بھینچتا۔ جس کام کے لیۓ آیا تھا۔ وہ کرنے چلا گیا۔

” میرا ٹیسٹ خراب نہی۔ تمہاری نظریں خراب ہیں۔” اسکی دوست نے ایک آنکھ دبائ۔

” نوکر ہے وہ۔” نازنین نے چبا کر کہا۔

” تو کیا ہوا۔ ڈیشنگ بھی تو اتنا ہے۔”

” کیا ہم کوئ اور بات نہیں کرسکتے۔؟” وہ چڑی تھی۔

” پاں۔۔ کر سکتے ہیں۔” اسکی سہیلی نے زینوں کو منتظر نظروں سے تکا تھا۔

نازنینین کا جی چاہا تھا جاکر مصطفی کا گلا دبا دے۔

٭٭٭٭٭

میر عالم خان پارٹی کے دفتر میں ، پیر پہ پیر چڑھاۓ ٹھوڑی کے نیچے مٹھی رکھ کر پر سوچ سے بیٹھے تھے۔ انکو شعلہ کی بات نے کشمکش میں ڈالا ہوا تھا۔ بہت سوچنے کے بعد دماغ جس نتیجے پہنچتا تھا۔ وہاں آکر ایک سوال اٹک کر رہ جاتا، کہ اس وقت کیسے۔۔۔؟؟

مصطفی نے اندر آکر فائل ٹیبل پہ رکھی تھی۔ خراب موڈ لیۓ مصطفی نے میر عالم خان کو سوچوں میں ڈوبا پایا۔

” سر۔۔۔ خیریت ہے۔”

میر عالم چونکے تھے۔ انہوں نے سر کو نفی میں جنبش دی۔

” مالک شاہ کا جنازہ کب ہے۔۔؟”

” ابھی کچھ پتہ نہیں۔” مصطفی نے میر عالم کو پرسوچ نظروں سے تکا۔

” ہممم۔۔ ویسے مصطفی ایک بات پوچھوں۔” میر عالم نے ٹیبل پہ جھک کر پوچھا۔

” آپ کب سے اجازت لینے لگے۔” مصطفی ہنسا تھا۔

“مزاق نہیں کر رہا۔” میر نے چڑ کر کہا۔

” اچھا چلیں پوچھیں۔۔” مصطفی ریلیکس سا ہو کر بیٹھا۔

” آج خبروں کی سرخیوں پہ کون چھایا ہے۔؟؟”

” لو یہ بھی کوئ پوچھنے والی بات ہے۔ افکورس مالک شاہ کی موت۔” مصطفی نے جھٹ کہا۔

” ہمم۔۔۔۔ کیا تمہیں لگتا ہے کہ اس وقت ، جب الیکشن بلکل سر پہ تھے۔ مالک شہ میرے قتل کے بارے میں سوچ سکتا تھا۔”

” میں سمجھا نہیں اس وقت ان سب باتوں کا مقصد۔” مصطفی نے میر عالم کے چہرے کو جانچا۔

اس سے پہلے کہ میر عالم کوئ جواب دیتا۔ اسکے موبائل کی میسج ٹون بجی تھی۔ نمبر ان نون تھا۔

áیر عالم نے میسج کھولا۔

” اپنے قاتل کو ٹھیک پہچانے ہو۔ اگر چاہتے ہو کہ دشمن سارے تمام ہو جائيں تمہارے۔ اور یہ آنے والی حکومت تمہاری ہو جاۓ۔ تو آج رات دو بجے گورا قبرستان آجانا۔”

“کیا ہوا کس کا میسج ہے۔۔؟؟” مصطفی نے اسکے رنگ پدلتے دیکھ پوچھا۔

“ہ۔۔ا۔۔ہاں۔۔۔ وہ۔۔ کسی کا نہیں بس ایسے ہی۔” میر عالم نے نگاہ چرا کر کہا۔

٭٭٭٭٭

” ممی میں تنگ آچکی ہوں۔ آپ کے کہنے پہ میں نے، اپنی زندگی ایک غلط انسان کے ساتھ برباد کر دی۔” وہ صوفہ پہ بیٹھی اس وقت اپنی ماں سے بھی خفا تھی۔

” پاگل مت بنو ۔۔۔۔ ایک بچہ ہی تو پیدا کرنا ہے۔ ایک بار بس ایک بچہ پیدا کر لو۔ پھر تو تم عیش کروگی۔” اسکی ماں نے اسے کچھ عقل دینا چاہی۔

” سوچنا بھی مت ایسا مام۔ ماڈنگ کی دنیا میں اب میرے پیر جمنے لگے ہیں۔ اور ای بچہ پیدا کرکے میں اپنا فگر بلکل خراب نہیں کر سکتی۔” اسنے صاف انکار کیا تھا۔

“تم ۔۔۔ میری بات سمجھنے کی کوشش کرو۔”

” آپ نے کیا ٹپکل عورتوں والی گاسپ شروع کر دی ہے۔” وہ بیزار آئ تھی۔

” ایسا مت کرو ایک مرد عورت کا رشتہ بچہ ہونے کے بعد مضبوط ہوجاتا ہے۔”

” میرے خیال سے مجھے یہاں آنے سے پہلے اب سوچنا پڑے گا۔” اپنا پرس اٹھاتی وہ تن فن کرتی وہاں سے نکل گئ۔

٭٭٭٭٭

” اسلام و علیکم بھابھ۔ی۔” وہ سلام کرکے تھکی تھکی صوفہ پہ بیٹھی تھی۔

” وعلیکم اسلام۔۔۔ حبا جاؤ بیٹا پھوپھو کے لیۓ پانی لاؤ۔” بھابھی نے اپنی بیٹی کو پانی لانے کے لیۓ کہا۔

” آح دفتر کا پہلا دن کیسا رہا۔؟؟”

” اچھا تھا بھابھی۔” اسنے مسکا کر بتایا۔

” تھک گئ ہو۔”

” نہی۔ بلکل نہیں۔”

” معاف کردو۔ ہماری خاطر تمہیں یوں ذلیل ہونا پڑ رہا ہے۔” بھابھی کا لہجہ ندامت سے مزین تھا۔

” بھابھی۔ آپ مجھے شرمندہ کر رہی ہیں۔ آپ لوگوں کے لیۓ تو جان بھی حاظر۔”

“تمہارا یہ احسان۔۔” بھابھی کی آنکھیں نم ہوئ تھیں۔

” بس بھابھی مجھے بھوک لگی ہے۔ اب ادھر ، ادھر کی باتیں بعد میں پہلے مجھے کھانا دیں۔” اسنے قصہ ہی ختم کر ڈالا تھا۔ بھابھی جھٹ اٹھی تھیں۔ اور وہ مسکرا کر رہ گئ تھی۔

٭٭٭٭٭

” حیدر۔۔۔۔ دیکھو بیٹا۔۔۔ ہم اپنی خواہش تو دبا دیں گے پر۔ کیا تمہارا دل نہیں کرتا کہ تمہارے بچے ہوں۔” حیدر کی اماں ڈنر ٹیبل پہ بیٹھی گویا ہوئیں۔

” میرے چاہنے سے کیا ہوتا ہے مام۔ اسنے صاف منع کر دیا ہے۔” حیدر نے نظریں چرا کر کہا۔

” حیر تم اسے سمجھاؤ۔ بیوی ہے تمہاری۔” امی نے کھانا چھوڑ کر اسے تکا۔

” امی وہ کسی کی سننے کے موڈ میں نہیں ہے۔”

” حیدر ایسے زندگی نہیں گزرتی۔”

” امی در آپکی ہی پسند تھی۔” حیدر نے پانی کا گلاس لبوں سے لگایا۔

” تو کیا۔۔۔ اس بات کی سزا دے رہے ہو مجھے۔” امی کو دکھ ہوا تھا۔

” امی ۔۔۔ جس کی اپنی زندگی عذاب بن چکی ہو۔ وہ کسی اور کو کیا سزا دے گا۔” اسکا لہجہ زخمی تھا۔

” تم پیار سے سمجھاؤ اور اگر وہ پیار سے نا مانے۔ تو سختی کرو۔”

“واہ بہت خوب۔۔۔ اب آپ میرے شوہر کو میرے خلاف بھڑکا رہی ہیں۔” درفشاں تالیاں پیٹتی ڈائننگ ایریا میں آئ تھی۔

” نہیں در۔۔۔”

” شرم کھائيں اپنی عمر سے۔ پیر قبر میں لٹکے پڑے ہیں۔ پر حرکتیں توبہ۔” وہ پھنکاری تھی۔

حیدر جو مٹھیاں بھینچے بیٹھا تھا۔ غصہ کے عالم میں اسنے ٹیبل پہ سے سب کچھ اٹھا کر زمین بوس کردیا تھا۔

” بکواس بند کرو۔ تم جانتی بھی ہو۔ کہ تم بات کس سے کر رہی ہو۔” حیدر اسپہ چلایا تھا۔

” اپنی ماں تمہیں مظلوم لگتی ہے۔ اس عورت نے میری زندگی عذاب بنا کر رکھ دی ہے۔” وہ حیدر سے بھی ذیادہ بلند چلائ تھی۔

” میں تمہاری جان لے لوں گا۔” اس سے پہلے حیدر اس پہ ہاتھ اٹھاتا۔ حیدر کی امی درمیان میں آگئیں۔ حیدر راستے میں آتی ہر چیز کو ٹھوکر مارتا گھر سے نکل گیا تھا۔

” مل گیا چین۔” وہ انکو گھورتی باقی بچی چیزوں کو توڑتی اپنے کمرے میں خود کو قید کر گئ تھی۔

٭٭٭٭٭