Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 06)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

” نکاح کہاں کروگے مجھ سے۔؟” وہ اپنے بستر پہ لیٹی موبائل کان سے لگائے میر عالم سے مستفسر ہوئ۔

” پوچھ تو ایسے رہی ہو۔ جیسے ، محبت کی شادی کر رہا ہوں تم سے۔” میر عالم نے سرد لہجہ میں کہا۔

وہ دلکشی سے مسکرائ تھی۔

” میں نے ایسا کب کہا۔ میں نے تو بس پوچھا ہے۔ کہ نکاح جہاں ہوگا وہاں میں پہنچ جاؤں گی۔”

” میرے گھر میں ہوگا نکاح۔” عالم نے سنجیدگی سے بتایا۔

” ٹھیک ہے میں پہنچ جاؤں گی۔” وہ کروٹ کے بل لیٹتی مسکائ۔

” ٹھیک ہے۔ مجھے ضروری کام ہے۔” میر عالم نے کہتے ساتھ ہی کال کاٹ دی۔

اور وہ کئ لمحوں تک۔ موبائل کو پر اسراریت سے تکتی رہی۔

☆☆☆☆☆

حیدر نے گھر آکر سب کو بتایا تھا۔ میر عالم کی شادی کے بارے میں۔ تقریبا سب ہی بہت خوش ہوئے تھے۔

وہ بھی بہت خوش تھا۔ وہ کمرے میں آیا۔ تو درفشاں بیک لیس۔ ساڑھی پہنے کہیں جانے کی تیاریوں میں کھڑی تھی۔ حیدر اسکی ناراضگی کا سوچتا۔ اسے پشت سے اپنی بانہوں کے حصار میں قید کر گیا تھا۔

” حیدر پیچھے ہٹو۔” اسنے ناگواری سے کہا۔

” سوری۔۔۔۔ آئ نو بہت ناراض ہو تم پر سوری۔” حیدر نے نرمی سے کہا۔

” میں نے کہا دور ہٹو۔ مجھے پارٹی میں جانا ہے مجھے دیر ہورہی ہے۔ تمہارے اس گھسے پٹے سوری۔ اور ان چونچلوں کے لیئے وقت نہیں میرے پاس۔” وہ اس قدر بدتمیزی سے گویا ہوئ کہ حیدر اسے خود سے دور جھٹکتا۔ پیچھے ہوا تھا۔

حیدر کے ہٹتے ہی اسنے ایک نظر خود کو شیشے میں تکا تھا۔ اور ایک تادیبی نظر اسپہ ڈالتی کمرے سے نکل گئ تھی۔ حیدر اپنی مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا تھا۔ غصہ سے اسکی رنگت سرخ پڑ چکی تھی۔ اور دماغ کی نسیں تن گئ تھیں۔

” حیدر۔۔” اسکی ماں نے کمرے کا دروازہ کھول کر اسے پکارا تھا۔

” جی۔۔۔” اسنے بنا مڑنے کہا۔

” تمہاری خالہ آئ ہیں۔ بات کرنا چاہتی ہیں تم سے۔” اسکی امی نے اسے انفارم کیا اور جیسے آئ تھیں۔ ویسے ہی واپس بھی چلی گئ۔

وہ خود کو کمپوز کرتا باہر آیا۔ لاؤنج میں۔ خالہ جانی بیٹھی اسکی ماں سے باتیں کرنے میں مگن تھیں۔

” حیدر۔۔۔” حیدر کو دیکھ کر وہ اٹھی تھیں۔ اور اسے پیار کیا تھا۔

” کیسی ہیں آپ۔ خالہ جانی۔” اسنے مروت میں پوچھا تھا۔ نہیں تو جو انکی بیٹی اس وقت اسکے ساتھ کرکے گئ تھیں وہ قابل فراموش نہیں تھا۔

” میں ٹھیک ہوں۔ حیدر مجھے تم سے بات کرنی ہے۔” انہوں نے نرمی سے کہا۔

” جی ۔۔۔ کہیں۔” اسنے سعادت مندی سے کہا۔

” میں جانتی ہوں۔ درفشاں آجکل بہت عجیب بی ہیو کرنے لگی ہے۔ بہت سی باتوں کو لیکر وہ بہت غلط بھی ہے۔ اور تمہاری ماں بھی بے حد پریشان رہتی ہیں۔ تو۔۔۔” خالہ نے بات کا سلسلہ جوڑا۔ ایک لمحہ کے لیئے رکیں۔

” بچہ تو تم بھی چاہتے ہوگے ناں۔۔” انہوں نے پوچھنا بہتر سمجھا۔

اسنے نا سمجھی سے اپنی خالہ کو تکا۔

” آئ نو بیٹا۔ تم چاہتے ہو کہ تمہارے بچے ہوں۔ تو میں نے سوچا ہے تم کسی سے کنٹریکٹ میرج کر لو۔ دیکھو اس میں کوئ بری بات نہیں۔” انہوں نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔

” اوہ۔۔ تو آپ چاہتی ہیں۔ کہ آپکی بیٹی کی ۔میرڈ لائف بچانے کے لیئے کوئ اور معصوم قربانی دے۔ امید نہیں تھی مجھے آپ سے اس بات کی۔” وہ حیران تھا۔

” قربانی کی اس میں کیا بات۔ کوئ ایسی لڑکی ڈھونڈیں گے ناں جو غریب ہو۔ بے چاری ضرورت مند ہو۔ ہم اسے ایک بڑی رقم ادا کریں گے۔” انہوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

” ہنہہ۔۔ سہی آپ میرے لیئے (prostitute ) کا بندوبست کر رہی ہیں۔ ان اے نائس وے۔ ایم آئ رائٹ۔۔؟” اسکے الفاظ سن کر انہیں شرمندگی ہوئ تھی۔

” حیدر سہی تو کہہ رہی ہے۔ تمہاری خالہ۔” اسکی امی نے دبی آواز میں کہا۔

” سیریسلی امی۔۔۔” اسنے افسوس بھری نگاہ اپنی ماں پہ ڈالی تھی۔

” تو اسمیں کیا برائ ہے۔ در نہیں کرنا چاہتی بچہ پیدا۔ اور مجھے نہیں پتا مجھے پوتا پاتی چاہیئے۔” انہوں نے جیسے حیدر کو ہر حال میں قائل کرنے کی ٹھانی تھی۔

” برائ۔۔۔؟؟؟ اسمیں صرف برائ نہیں ہے۔ گناہ ہے یہ پیسے کہ زور پہ کسی کے جذبات کے ساتھ کھیلنا۔” وہ پھنکارا تھا۔

” حیدر۔۔۔۔ مجھے جواب ہاں میں چاہیئے نہیں تو تم میرا مرا ہوا منہ دیکھو گے۔”

اپنی ماں کی ایموشنل بلیک میلنگ دیکھ۔ حیدر نے سر تاسف سے ہلایا تھا۔

” مجھے ۔۔۔ یقین نہیں آرہا۔ بلکل بھی امی۔۔” وہ۔سنجیدگی سے کہتا اپنے کمرے میں بند ہوگیا تھا۔

وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتی رہ گئ تھیں۔

☆☆☆☆☆

آج وہ آفس ضرورت سے زیادہ ہی جلدی آگئ تھی۔ ابھی آفس میں کوئ بھی نہیں آیا تھا۔ اسکے آنے کے آدھا گھنٹہ بعد سب آنے لگے تھے۔

وہ آفس میں بیٹھی بور ہو رہی تھی۔ نیند کا غلبہ ایسا طاری ہوا اسپہ ، کہ وہ اپنی ڈیسک پہ سر رکھ کر کب سوئ اسے خبر نا ہوئ۔

حیدر آج پھر کل رات کے واقعہ کے بعد بگڑے موڈ کے ساتھ آفس آیا تھا۔ اسے سوتے دیکھ وہ نفی میں سر ہلا کر رہ گیا تھا۔

” مس ۔۔۔ ساوری۔۔۔” اسنے اسے پکارا۔

وہ ٹس سے مس نا ہوئ۔

حیدر نے ٹیبل پہ زور سے اپنا ہاتھ بجایا تھا۔ ساوری ہڑبڑا کر اٹھی تھی۔ اور سہم کر حیدر کو دیکھا۔

” س۔۔ سوری۔۔۔ سوری ۔۔ سر ، میں۔۔ وہ۔” اسکا گھبرایا انداز ، حیدر کو مزید چڑ دلا گیا تھا۔

” مس ساوری۔۔۔ ریلیکس اوکے۔ میں کوئ جن نہیں ہوں۔ جو آپ ایسے بی ہیو کر رہی ہیں۔” حیدر کے ماتھے پہ بل دیکھ وہ خاموش ہوئ تھی۔

” سر میں آپکی کافی بنا کر لاتی ہوں۔” اسے کچھ سمجھ نہیں آئ تو کافی کا بہانہ بنا کر اسکے سائڈ سے ہوکر نکلی ہی تھی۔ کہ حیدر نے اسکا آنچل تھاما تھا۔ وہ گھبرائ تھی۔ چہرہ پہ پسینہ کے چند قطرے نمودار ہوئے تھے۔ نجانے کتنے ہی ایسے کانوں سنے واقعات اسکی سماعت کے پردے پہ لہرا گئے۔ کہ فلاں باس نے اپنی فلاں امپلائءکے ساتھ بدتمیزی کی۔ وہ دل پہ ہاتھ رکھتی مڑی تھی۔ پر یہ کیا۔۔۔؟؟ اسکا دو پٹہ تو ٹیبل کے کونے میں اڑسا تھا۔ اور حیدر تو کب کا اپنی جگہ پہ بیٹھ چکا تھا۔ وہ اپنی سوچ پہ خود کو ملامت کرتی۔ کافی بنانے بھاگی تھی۔

کافی لیکر جب وہ باہر آئ تو کوئ بزرگ خاتون بھی آفس میں موجود تھیں۔

” سر کافی۔” اسنے کافی اسکے آگے رکھ کر کہا۔ وہ اپنے سر کو دھیرے سے جنبش دیتا بلکل خاموش بیٹھا تھا۔

” خالہ جانی ۔۔۔ یہ جگہ درست نہیں۔ ان سب باتوں کے لیئے۔ اور میرے خیال سے کل رات میں بات مکمل کر چکا ہوں۔” وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔

ساوری اپنی ڈیسک پہ جاکر بیٹھی تھی۔ حیدر کی خالہ نے بڑی گہری نظروں سے اسے تکا تھا۔ وہ انکو دیکھ دھیمے سے مسکائ تھی۔ اور پلینر کھول کر اسے سیٹ کرنے لگی تھی۔

” ٹھیک ہے۔ میں چلتی ہوں۔ پھر بات ہوگی۔” وہ کہتیں۔ آٹھ کر نکل گئ تھیں۔

پر جانے سے پہلے ساوری کا نام پتہ ریسیپشنسٹ سے لینا نہیں بھولیں تھیں۔

” سر آج کا شیڈول۔” اسنے اسکے سر پہ کھڑے ہوکر کہا۔

” آہ ۔۔۔ ساوری آج میرے جو بارہ بجے تک کی میٹینگس ہیں۔ بس انہیں ہی اٹینڈ کرونگا میں۔ اسکے بعد میں جلدی چلا جاؤں گا۔” حیدر نے لیپ ٹاپ کھول کر کہا۔

” ٹھیک ہے۔” وہ سنجیدگی سے کہتی اسے میٹینگز کے حوالے سے بتانے لگی تھی۔ اور وہ بغور سن رہا تھا۔

☆☆☆☆☆

نکاح کا دن اور وقت آن پہنچا تھا۔ شعلہ سیاہ رنگ کے گھیر دار فراک میں بے حد حسین لگ رہی تھی۔ سیاہ رنگ کا دوپٹہ اسنے اپنے سر پہ لے رکھا تھا۔ جب وہ سجی سنوری میر عالم خان کے گھر میں داخل ہوئ۔ نازنین اسکے استقبال کے لیئے کھڑی تھی۔

” ویلکم بھابھی۔۔” نازنین شعلہ کے گلے لگی تھی۔

” تھینک یو۔” شعلہ نے نرمی سے کہا۔

وہ شعلہ کو ساتھ لیکر اندر آئ تھی۔ اندر درفشاں ماتھے پہ بل ڈالے بیٹھی تھی۔ حیدر بیٹھا۔ موبائل میں مصروف تھا۔

حیدر کی امی۔ اور خالہ بیٹھیں۔ آپس میں باتیں کر رہی تھیں۔ اور مصطفی ہمیشہ کی طرح میر عالم خان کے پاس تھا۔ وہ سب اٹھے تھے۔ ایک پل کو اسکی خوبصورتی دیکھ کر ٹھٹکے تھے۔ پر دلہن کا سیاہ لباس میں ہونا انہیں کچھ عجیب لگا تھا۔

” ماشااللہ۔” حیدر کی امی نے اسے اپنے ساتھ لگا کر پیار کیا تھا۔

میر عالم خان اور مصطفی زینوں سے جب اترے تو۔ میر عالم خان ایک پل کو اسے دیکھ کر رکے تھے۔ اور پھر اپنے قدم دوبارہ نیچے کی سمت بڑھا دیئے تھے۔ مصطفی نے جب شعلہ کو دیکھا۔ تو اسے ایسا لگا جیسے ایسا یا اس سے ملتا جلتا چہرہ اسنے پہلے کبھی دیکھا ہے۔

خیر سب آکر بیٹھے۔ حیدر کے والد بھی آکر بیٹھے تھے۔ اور سب کی موجودگی میں ان دونوں کا نکاح ہوا نکاح کے بعد سب نے مبارک باد دی۔ اور پھر سب نے ڈنر ساتھ بیٹھ کر کیا۔ ڈنر کے بعد سب واپس چلے گئے۔ صرف مصطفی ، نازنین ، میر عالم اور اس گھر کا نیا فرد شعلہ رہ گئے تھے۔

” بھابھی آئیں میں آپکو آپکے کمرے میں چھوڑ آؤں۔” نازنین نے چہک کر کہا۔

وہ اپنے بھائ کی شادی ہوتے دیکھ بہت خوش تھی۔ اور اب اپنی اتنی پیاری بھابھی دیکھ کر وہ کھل اٹھی تھی۔ میر عالم خان صوفہ پہ بیٹھے ان دونوں کو اوپر جاتا دیکھ رہے تھے۔ جب مصطفی اسکے پاس آیا تھا۔

” سر ۔۔ یہ میری طرف سے آپکے اور بھابھی کے لیئے۔” اسنے ایک لفافہ انکی طرف بڑھایا تھا۔

” یہ کیا ہے۔؟؟”” میر عالم نے سنجیدگی سے پوچھا۔

” آپکی شادی کا تحفہ۔” اسنے مسکرا کر کہا۔

” کیا ہے۔۔اسمیں۔” اسنے لفافہ چاک کرتے کہا۔

” خود ہی دیکھ لیں۔” مصطفی مسکرایا تھا۔

” سیریسلی۔۔۔ تم سے اتنی شودی حرکت کی امید نہیں تھی مجھے۔” میر عالم جھینپے تھے۔

” کیوں سر اس تحفہ میں کیا برائ ہے۔۔؟” مصطفی نے لب دبا کر کہا۔

” نہیں کوئ برائ نہیں اس تحفہ میں۔” وہ اتنا دھیمے سے مسکرائے تھے۔ کہ مصطفی ٹھیک سے انکی مسکان دیکھ بھی نہیں پایا تھا۔

تین دن کا ہنی مون پیکج تھا۔ جو وہ میر عالم کو تحفہ میں دے رہا تھا۔ میر عالم خان اس لفافہ کو چند لمحہ تکتے رہے اور پھر اٹھ کر اپنے کمرے میں جانے کے لیئے اٹھے تھے۔ جاتے جاتے ایک بار مڑ کر مصطفی کو دیکھا۔

” شکریہ مصطفی تحفہ کے لیئے۔” میر عالم نے مسکرا کر کہا۔

” ویلکم سر۔” اسکے سعادت مندی سے کہنے پہ وہ سر نفی میں ہلا کر رہ گئے تھے۔

☆☆☆☆☆

وہ جیسے ہی اپنے کمرے میں آئے۔ وہ اسی کھڑکی کے سامنے کھڑی تھی ۔ جہاں سے وہ کود کر پہلی بار آئ تھی۔ یا شاید انکی زندگی میں آئ تھی۔ خیر وہ اپنا کوٹ صوفہ پہ رکھتے۔ اپنی وائٹ ٹی شرٹ کے آستین فولڈ کرکے اسکی جانب دوبارہ متوجہ ہوئے تھے۔ وہ اب بھی سیاہ کا مدار فراک پہنے۔ وہیں کھڑی تھی۔ میر عالم خان الماری سے اپنا نائٹ ڈریس لیتے واشروم میں گئے تھے۔ کچھ دیر بعد جب وہ باہر آئے تو وہ شیشہ کے آگے بیٹھی زیور اتار رہی تھی۔ سیاہ آنچل سر پہ سے اتر چکا تھا۔ میر عالم خان سنجیدگی سے چلتے اسکی پشت پہ آکر کھڑے ہوئے تھے۔ شعلہ نے آنکھیں اٹھا کر انکے عکس کو شیشہ میں تکا تھا۔

” اب مجھے ثبوت دے دو۔” انکی گھمبیر آواز اسکے کانوں سے ٹکرائ تو وہ دلکشی سے مسکرائ تھی۔

” ثبوت سارے اکھٹے دینے کی بات نہیں ہوئ تھی۔” وہ اٹھ کر انکے مقابل آکر کھڑی ہوئ تھی۔

” ایساسوچنا بھی مت کہ تم مجھے دھوکہ

دے دو گی۔ اور میں خاموشی سے دیکھتا رہوں گا۔” میر عالم کو تاؤ آیا تھا۔

” میں نے یہ تو نہیں کہا کہ ثبوت میرے پاس نہیں۔” شعلہ نے آنکھیں گھمائ تھیں۔

” تو پھر کیا کہنا چاہ رہی ہو تم۔۔؟؟” انہوں نے اسے بازو سے تھام کر جھنجھوڑا تھا۔ وہ انکی آنکھوں میں دیکھتی۔ ایک جھٹکے سے ان سے اپنا بازو آزاد کرواتی پیچھے ہوئ تھی۔

” جب جہاں ضرورت ہوگی۔ میں ثبوت دے دوں گی۔ ابھی مجھے نہیں لگتا کہ سہی وقت آیا ہے۔ ان ثبوتوں کے بے نقاب ہونے کا۔” اسنے سنجیدگی سے کہا۔