Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 22)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

نازنین اوندھے منہ بستر پہ پڑی تھی۔ مصطفی کافی دیر بعد واشروم سے باہر نکلا تو اب بھی وہ اسی پوزیشن میں پڑی تھی۔ مصطفی نے تولیہ صوفہ پہ پھینکا۔ اور اسکے سر پہ کھڑے ہوکر غرایا۔

” ساری رات یہاں ایسے ہی پڑے رہنے کے ارادے ہیں کیا بیبی۔؟؟”

” مجھ سے بات مت کرو۔” وہ دبے دبے لہجہ میں چلائ تھی۔

” مجھے کوئ شوق نہی تم سے بات کرنے کا۔ پر براہِ کرم میرے کمرے سے چلی جاؤ.” وہ اکڑ کر کہتا ، ڈریسنگ کے آگے کھڑا ہوا تھا۔ اور اپنے بالوں میں برش کرنے لگا۔

” نہی جاؤں گی یہاں سے۔” نازنین کا انداز ضدی تھا۔

” مسئلہ کیا ہے تمہارا۔۔۔؟؟” وہ برش پٹخ کر اُسکی سِمت واپس آیا تھا۔

” میرا مسئلہ یہ ہے کہ کیوں کرتے ہو اس قدر زلیل مجھے۔ بیوی ہوں تمہاری۔ کیوں نہی دیتے ہو عزت۔۔۔۔ میں جانتی ہوں۔ میں بہت غلط تھی۔ میں نے ہمیشہ تمہارے ساتھ بہت غلط کیا ہے ہمیشہ۔۔۔۔۔۔۔!!!

پر کیا تم مجھے معاف نہی کرسکتے۔۔ جو تم نے میرے ساتھ ہمارے نکاح کی پہلی رات ، مصطفی میں نے بھی تو وہ سب معاف کر دیا ناں۔۔۔۔۔!!

شاید اگر کوئ اور لڑکی ہوتی تو کبھی معاف نا کر پاتی۔۔۔ پر میں نے معاف کر دیا۔ تم بھی کردو مجھے معاف۔ یا تو آزادی دے دو مجھے یا پھر۔۔۔۔ اس رشتے کو دل سے قبول کر لو۔ کب تک انتقام کی آگ میں جلتے رہو گے۔ اور مجھے بھی جلاتے رہو گے۔۔۔ !!

آخر کب تک۔۔۔ مصطفی۔۔۔۔!!” وہ مضبوط لہجہ میں کہتی سسکی تھی۔

” واہ۔۔۔ کتنا آسان ہے۔ ناں تمہارے لیئے یہ کہہ دینا کہ میں سب بھول جاؤں۔ تم بھی تو بھول گئ۔ شادی کی رات کی گئ میری حرکت کو۔ نازنین میری بات ساری زندگی یاد رکھنا۔ جو انسان عزت کی خاطر جیتا ہو۔ وہ مر جائے گا ، کٹ جائے گا پر کبھی کسی سودا گر سے عزت کا سودا نہی کرے گا۔ تم نے مجھے ہر کسی کی نظروں میں زلیل کرکے رکھ دیا۔۔۔!!!

ہہہ ۔۔۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے یہ سب اسقدر آسان ہے نہی۔۔۔ نازنین میں شاید تمہارا مجھے حقارت بھری نظروں سے دیکھنا بھول جاؤں۔ یا پھر شاید میں یہ بھی بھول جاؤں کے تم نے ساری عمر مجھے لوگوں کے سامنے رسوا کیا۔ میں اٌس رسوائی کو بھی بھول جاؤں۔ مگر جو الزام تم نے مجھ پہ لگایا تھا۔ وہ میرے دل پہ کسی تیز دھار خنجر کی مانند پڑا ہے۔ مجھے نہی لگتا کہ میں عمر بھر کبھی تمہارے اس جھوٹ کو معاف کرسکوں۔” مصطفی کا لہجہ جل رہا تھا۔

نازنین کے نین کٹورے آنسوؤں سے لبریز ہوئے۔ نازنین نے خشک ہوتے ہونٹوں پہ زبان پھیر کر تر کیا۔ اور پھر بھیگی نگاہیں اٹھا کر مصطفی کو بے بسی و لاچارگی سے تکا۔ کچھ کہنے کی چاہ میں لب پھڑپھڑائے۔ پر وہ لب بھینچ گئ۔ مصطفی نے جاکر کمرے کا دروازہ کھولا۔ اور کھڑے ہوکر اسے تکا۔ صاف اِشارہ تھا۔ کہ وہ اسکے کمرے سے نکل کر چلی جائے۔ نازنین گہری سانس لیکر اٹھی تھی۔ اور کمرے سے نکل کر چلی گئ۔ مصطفی نے شکست خوردگی سے دروازہ بند کیا۔ اور بستر پہ آکر ڈھے گیا۔

☆☆☆☆☆

” شعلہ مجھے لگا تھا۔ تمہیں اس سے پیار ہوگیا ہے۔۔ پر تم نے تو۔۔” شہلا صدمہ میں تھی۔

آج سے ایک مہینہ پہلے شعلہ جب آئ تھی۔ تب سے شہلا اس سے پوچھ پوچھ کر تھک چکی تھی۔ کہ آخر میر عالم کے پاس وہ واپس کیوں نہی جارہی۔ میر عالم کو اسکی ضرورت ہے۔ اسے اپنے شوہر کے پاس ہونا چاہیئے۔ پر وہ ہر وقت گم صم بیٹھی رہتی۔ اور آج جو اعتراف اسنے کیا تھا۔ وہ شہلا کو گہرے صدمہ میں مبتلا کر گیا تھا۔

” پیار ہو نہی گیا تھا۔ پیار تھا۔۔۔ اور ہے۔ پر میں اس کے ساتھ اپنی زندگی نہی گزار سکتی۔” شعلہ نے اپنی ٹھوڑی گھٹنوں پہ ٹکائ ہوئ تھی۔ اسکے سیاہ بال اسکی پشت پہ بکھرے ہوئے تھے۔

” نہی۔۔۔ شعلہ تم اس سے پیار نہی کرتی۔ جن سے پیار کیا جاتا ہے۔ انہیں یوں برباد نہی کیا جاتا۔ جن لوگوں کو ہم چاہتے ہیں۔ انہیں ہم یوں موت کے دہانے پہ نہی پہنچاتے۔ تم اِس دھوکہ سے نکل آؤ۔ کہ تمہیں میر عالم سے محبت ہے۔۔۔۔۔” شہلا نے سفاکیت سے کہا۔

” تمہیں جو سمجھنا ہے سمجھ لو۔ پر حقیقت تو یہ ہے کہ میرے لیئے محبت سے بڑا انتقام تھا۔ جو میں نے لے لیا۔” شعلہ نے گھٹنے پہ سے ٹھوڑی اٹھائ۔

” غلط ہو تم۔۔۔ اس سے انتقام لینے کے چکر میں تم نے خود کو برباد کردیا۔” شہلا کو اس پہ غصہ اور ترس دونوں بیک وقت آرہا تھا۔

” نہی ۔۔۔۔!!

میں برباد نہی ہوئ۔ میں آباد ہوں۔ خوش ہوں۔ میں زندگی میں آگے بڑھ کر مزید لوگوں کو اُس دلدل سے بچاؤں گی۔ جس میں ۔۔۔۔۔ میں پھنسی تھی۔” شعلہ نے ایک عزم سے کہا۔

” اچھا اور تمہاری پرسنل لائف کا کیا۔ ؟؟؟

شوہر تھا تمہارا ، گھر تھا تمہارے پاس ، سب گنوا دیا تم نے شعلہ۔۔۔!!

سب کچھ گنوا دیا۔” شہلا کا دکھ کم ہی ہونے کا نام نا لے رہا تھا۔

” میں بے گھر نہی ہوئ۔۔۔!!

گھر آج بھی ہے میرے پاس ، زندگی اب بھی ہے۔اور میں اپنی زندگی کو تنہا ہی بھر پور طریقے سے گزار لونگی۔” شعلہ نے چڑ کر کہا۔

” کاش میں جو تمہیں سمجھانا چاہ رہی ہوں تم سمجھ جاؤ۔ مجھے اندازہ نہی تھا ، اس بات کا کہ تم اس قدر کم عقل انسان ہو۔” شہلا نفی میں سر ہلاتی ، اُٹھ کر چلی گئ تھی۔

شعلہ گہری سانس خارج کرتی اپنا سر گھٹنوں پہ ٹکا گئ تھی۔ آنکھوں کے کنارے پہ ایک خاموش آنسو چمکا تھا۔ جسے وہ سرعت سے صاف کر گئ تھی۔

” کتنی نادان ہے ناں شہلا۔۔!!!

اسے لگتا ہے مجھے اس سے پیار تھا۔

پر اسے یہ معلوم نہی کہ مجھے اس سے عشق ہے۔۔۔!!”

وہ اپنی ہی بات بات پہ زخمی سا مسکرائ تھی۔

☆☆☆☆☆

آج پانچ مہینے بیت گئے تھے۔ پر میر عالم کو ہوش نہیں آیا تھا۔ وہ اب تک کوما میں تھا۔ نازنین اور حیدر کے تعلقات اب بھی ویسے ہی تھے۔ ایک منجمد برف کی دیوار انکے درمیان آ کھڑی ہوئ تھی۔ نازنین نے بھی دوبارہ کوشش نا کی۔ مصطفی سے اپنے تعلقات بہال کرنے کی ، آخر وہ بھی کب تک کرتی۔ عزتِ نفس نام کی شے تو اسکے پاس بھی تھی۔ تو وہ اپنے قدم پیچھے لے گئ۔ وہ دو اجنبی تھے۔ جو ایک چھت تلے تو رہتے تھے۔ پر ایک دوسرے سے سراسر انجان تھے۔ نازنین کو مصطفی سے کوئ سروکار نا تھا۔ اور مصطفی کو نازنین سے۔۔۔!!

مصطفی میر عالم کے پاس بیٹھا تھا۔ ڈاکٹر اسکے چیک اپ کے لیئے آئے تھے۔

” ڈاکٹر کوئ امپروو منٹ آئ۔۔؟؟” مصطفی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا۔

” ہمم پہلے کے مقابلے میں اب یہ بہتر ہیں۔ اگر ایسے ہی رہا تو۔ یہ بہت جلد ٹھیک ہوجائیں گے۔۔۔” ڈاکٹر نے پیشہ وارانہ لہجہ میں کہا۔

” تھینک یو ڈاکٹر۔۔۔” مصطفی انکا حقیقتاً بے حد مشکور تھا۔

” شکریہ کی کوئ بات نہی مصطفی یہ تو میرا کام ہے۔” ڈاکٹر نے مصطفی کے کندھے پہ ہاتھ دھرا تھا۔

” چلو میں چلتا ہوں۔” ڈاکٹر صاحب نے مصاحفہ کے لیئے ہاتھ آگے بڑھایا۔

” نہی آج تو آپ لنچ ہمارے ساتھ کرکے جائیں گے۔” مصطفی نے اٹل ہوکر کہا۔

” یار پھر کبھی۔۔” انہوں نے معذرت کرنا چاہی۔

” نہی آج میں آپکی بلکل نہی سنوں گا۔ آج آپکو کھانا کھلا کر ہی چھوڑوں گا۔۔۔!!” ڈاکٹر صاحب مصطفی کے خلوص پہ مسکرا کر رہ گئے تھے۔

” اوکے۔۔۔” ڈاکٹر صاحب نے ہتھیار ڈالے۔

“چلیئے آئیے نیچے۔۔۔” مصطفی نے دروازے کی سمت اپنی ہتھیلی پھیلا کر۔انہیں چلنے کا اشارہ کیا۔ وہ مسکرا کر اسی سمت ہو لیئے جس سمٹ مصطفی کا ہاتھ تھا۔ مصطفی بھی انہی کے پیچھے ہو لیا تھا۔

وہ دونوں جب ڈائیننگ ٹیبل پہ آکر بیٹھے تو نازنین پہلے سے بیٹھی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کو نازنین نے مسکرا کر سلام کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے مسکرا کر ہی اسے جواب دیا۔ اور مصطفی اور ڈاکٹر صاحب بھی اپنی اپنی نشست سنمبھال گئے۔

” واہ خوشبو تو بڑی اچھی آرہی ہے۔ لگتا ہے کھانا نازنین نے بنایا ہے۔۔۔” ڈاکٹر صاحب نے کھانوں سے اٹھتی اشتہا انگیز خوشبو کو خود میں اتار کر کہا۔

نازنین ان کی بات پہ ہولے سے مسکرائ تھی۔ پر مصطفی کی بات پر نازنین کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔

” نہی ۔۔۔۔!!

اسے یہ سب کام نہی آتے۔ یہ ایک امیر باپ اور بھائ کی بگڑی ہوئ۔ بیٹی اور بہن ہے۔ اسے صرف پیسے اڑانے کا طریقہ آتا ہے۔ وہ آپ اس سے پوچھیئے بخوبی بتائے گی۔۔۔” مصطفی نے بظاہر مسکرا کر کہا۔

ڈاکٹر صاحب نے بغور مصطفی کوتکا۔ اور مسکرائے۔

” بہر حال یہ کام تو ہر عورت جانتی ہے۔ نازنین کوئ انوکھی نہی جسے پیسے اڑانے کا شوق ہو۔” ڈاکٹر صاحب کی بات پہ نازنین کے ہونٹوں پہ ایک پھیکی سی ہنسی نمودار ہوئ۔

” پتہ نہی میں نے نہی دیکھی ایسی لڑکیاں جو ایسا کرتی ہوں۔ سوائے نازنین کے۔۔” مصطفی نے کندھے اچکائے۔

نازنین کو سخت اہانت کا احساس ہوا۔

” ہمم درست کہہ رہے ہو۔۔۔!!

مجھے لگتا ہے ، کہ تمہارا کبھی واسطہ ہی نہی پڑا نازنین کے علاوہ کسی بھی صنف نازک سے ، شاید یہ تمہاری زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی ہے۔۔۔” ڈاکٹر صاحب نے چاول پلیٹ میں نکالتے کہا۔

” ہاں ایسا ہی۔۔۔” مصطفی نے انکی بات سے اتفاق کیا۔

” جبھی تم ملازمہ کے ہاتھ کے بنائے کھانے اور گھر والی کے ہاتھ کے بنائے کھانے میں فرق محسوس نہی کر پارہے۔” ڈاکٹر صاحب نے بڑے شوق سے کھانا کھاتے کہا۔

” اب مجھے آپ جیسے سنجیدہ انسان کی اسقدر بیوقوفانہ بات پر شدید ہنسی آرہی ہے۔

مطلب۔۔۔۔!!

گھر والی یا پھر ملازمہ کے ہاتھ کے کھانے میں فرق ہی کیا ہوتا ہوگا۔۔۔” مصطفی نے ہنستے ہوئے سر کو نفی میں ہلایا تھا۔

نازنین نے مصطفی کی جانب دیکھنے سے گریز برتا۔

” بہت فرق ہوتا ہے۔۔۔!!

تمہیں محسوس نہی ہوتا یہ الگ بات ہے۔” ڈاکٹر صاحب نے گہری نظروں سے مصطفی کو دیکھا تھا۔

” شاید۔۔۔” مصطفی کندھے آچکا کر رہ گیا۔

☆☆☆☆☆

ساوری کی طبیعت کافی خراب رہنے لگی تھی۔ تکلیف کے باعث وہ نڈھال پڑی رہتی۔ حیدر اسکا بہت زیادہ خیال رکھ رہا تھا۔ ابھی بھی وہ اسے ڈاکٹر کے پاس سے لیکر آیا تھا۔

ساوری صوفہ پہ آنکھیں موندے بیٹھی تھی۔ حیدر اسکے برابر آکر بیٹھا تھا۔ دھیرے سے اسکے بال سہلائے تھے۔ ساوری نے کسلمندی سے آنکھیں کھول کر حیدر کو تکا۔

” آپ کو شرم نہی آئے گی ، مجھ سے میرا بچہ لیتے ہوئے۔۔۔؟؟” اسکا لہجہ بھاری تھا۔

” میں تمہیں کتنی بار کہہ چکا ہوں ، یہ فضول کی باتیں نا سوچو تم۔۔۔” حیدر نے گہری سانس لیکر اسکا سر اپنے کندھے پہ دھرا تھا۔

” یہ باتیں فضول نہی ہیں۔ یہ حقیقت ہیں۔۔” ساوری نے اسکی گرفت سے دور ہونا چاہا۔

” پر فلحال یہ نا سوچو تم۔۔۔” حیدر نے اسے دور نا جانے دیا۔

” کیسے نا سوچوں ، میری تو ساری سوچیں ۔۔۔ بس اسی ایک دہانے پہ آکر اٹکی ہیں۔” اسکی آنکھوں میں زندگی کی رمک نا تھی۔

” مت سوچو ۔۔۔ اچھی اچھی باتیں سوچو ، وہ سب سوچو جو تمہیں بہت اچھا لگتا ہے۔” حیدر نے نرمی سے کہا۔

ساوری نے سر اٹھا کر حیدر کو تکا۔ اور پھر منہ پُھلا کر اپنی ٹھوڑی اسکے سینے پہ ٹکائ تھی۔

” آپ امیر لوگوں کا بھی کتنا اچھا سین ہے ناں۔۔۔!!! پیسہ دے کر سب کچھ کروا لو۔ خود مزے لیتے رہو۔ اور دکھ ، تکلیف ، پریشانی ، زندگی بھر کی تنہائ۔۔۔ غریب کی جھولی میں ڈال دو۔” اسنے بڑے عام سے لہجہ میں کہا۔

حیدر نے اسے گھورا تھا۔ وہ اب بھی ویسے ہی اسکے سینے پہ تھوڑی ٹکائے اسے تک رہی تھی۔

” ہر امیر ایسا نہی ہوتا۔ بس کچھ امیر لوگ ایسے ہوتے ہیں۔” حیدر نے اسکے گال پہ ہاتھ پھیر کر کہا۔

” فری نا ہوں۔۔” وہ اس سے دور ہوئ تھی۔ حیدر نے گہری سانس لیکر اسے خمار آلود نظروں سے تکا تھا۔

“میں فری نہی ہونا چاہتا پر ۔۔۔۔ ہو جاتا ہوں۔۔”

حیدر کی بات پہ ساوری منہ بنا کر رہ گئ تھی۔

” مجھے سمجھ نہی اتا۔ مجھ سے اتنی چِپڑی چُپڑی باتیں کرنے کا فائدہ ہی کیا ہے۔ کونسا ہمیں عمر بھر ساتھ رہنا ہے۔ بس یہ بچہ ہوجائے تو آپکے اور میرے راستے الگ ہوجائیں گے۔” اسکا لہجہ اداس سا تھا۔

” میں مستقبل سے زیادہ ، آج میں جینے والا انسان ہوں۔ آگے کیا ہوگا۔ مجھے اس سے کوئ سروکار نہی۔ آج کیا ہوگا۔ میرے لیئے وہ اہم ہے۔” حیدر نے اسکے ہاتھ کی پشت پہ اپنا ہاتھ دھرا تھا۔ ساوری نے گردن ترچھی کرکے حیدر کو اچٹتی نگاہ سے تکا۔

” پر میں ایسی نہی ہوں۔ مجھے میرے آج سے زیادہ مستقبل کی فکر رہتی ہے۔ میں ایسی انسان ہوں۔ جو اپنی زندگی میں ہمیشہ اپنے آنے والے کل کا سوچ کر خوفزدہ ہو جایا کرتی ہوں۔” ساوری کی آنکھیں خالی تھیں۔

” اتنا بھی کل کی فکر میں رہنا اچھا نہی ہوتا ساوری۔۔۔!!

اکثر کل کی فکر ہمیں ، ہمارا آج نہی جینے دیتی۔” حیدر نے سنجیدگی سے کہا۔

” پر اگر ہماری پوری زندگی ، ہمارے آنے والے کل پہ انحصار کرتی ہو تب۔۔۔۔ !!!

تب تو چاہ کر بھی ، آپ اپنے مستقبل کی فکر سے آزاد نہی ہو سکتے۔”

ساوری نے تمسخر سے کہا۔ اور اٹھ کر وہاں سے چلی گئ۔ حیدر پر سوچ نظروں سے اسے جاتا دیکھ کر رہ گیا۔

☆☆☆☆☆

“۔۔۔ نہی۔۔۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔؟؟” شعلہ کا صدمہ سے برا حال تھا۔

” اب میں کیا کروں گی۔ میں ۔۔۔۔ کیا کروں۔۔۔ مجھ سے اتنی بڑی غلطی ہو کیسے گئ۔۔۔!!” وہ سر تھام کر بستر پہ بیٹھی تھی۔

شہلا نے اسے ٹھنڈی نظروں سے تکا۔

” ایک بار پھر تم نے مجھے حیرت زدہ کر دیا ہے ۔۔۔۔ شعلہ۔۔۔!!

اگر تعلقات اتنے ہی گہرے ہوگئے تھے۔ تو پھر رہتی نا خوشی ، خوشی۔۔۔ اب کیا کروگی۔۔۔؟؟؟” شہلا نے سنجیدگی سے پوچھا۔

” ۔۔۔ میں ۔۔۔ یہ۔۔۔۔ بچہ ایبارٹ کروا لونگی۔۔۔” وہ اپنے زرد پڑتے چہرے پہ اپنے دونوں ہاتھ پھیر کر گویا ہوئ۔

” پاگل ہوگئ ہو۔۔۔!!!

مجھے ایسا لگتا ہے۔ جیسے تمہاری مت ماری گئ ہے۔۔۔” شہلا کو اسپہ جی بھر کے تاؤ آیا تھا۔

” ہاں ہو گئ ہوں پاگل ، تم بتاؤ کیا کروں میں۔۔۔۔ اکیلے نہی پال سکتی میں اس بچے کو۔۔۔” وہ سسکی تھی۔

” اتنی کم عمری میں دوسروں کی بیٹیوں کو پالا ہے تم نے اور اب بھی پال رہی ہو۔ اور کہتی ہو کہ ، تم یہ بچہ اکیلے نہی پال سکتی۔۔!!” شہلا نے اسکا ہاتھ تھاما تھا۔

” یہ بہت مشکل ہے شہلا۔۔۔!!” اسکی آنکھوں سے آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے۔

” تو واپس چلی جاؤ۔۔۔۔ اُسکے پاس ، اُسکو تمہاری اور تمہیں اُسکی ضرورت ہے۔۔۔!!” شہلا نے پیار سے کہا۔

” نہی۔۔۔۔ میں نہی جا سکتی۔۔۔۔ بلکل نہی جاسکتی۔۔۔!!

یہ تو اِس بچے کو پالنے سے بھی زیادہ مشکل ہے۔۔۔” اُس نے شدت سے نفی کی۔

” پاگل ہوگئ ہو تم۔۔ سچ میں۔۔” شہلا گہری سانس خارج کرکے اسکا ہاتھ پرے ہٹا گئ تھی۔

” میں ایبارٹ کروا لونگی۔۔” شعلہ نے عزم سے کہا۔

” منہ توڑ دونگی میں تمہارا اگر دوبارہ تمہارے منہ سے میں نے یہ واہیات بات سنی تو۔۔۔” شہلا نے غرا کر کہا۔

” مجھ پہ حکم مت چلاؤ۔۔۔!!

میں جانتی ہوں ، مجھے کیا کرنا ہے۔ مجھے سکھانے کی ضرورت نہی۔” شعلہ بھی بھڑک اٹھی تھی۔

” میں کیا کروں تمہارا شعلہ۔۔۔۔ تم پاگل ہوگئ ہو۔۔۔؟؟” شہلا کا دکھ کم ہی نا ہوکے دے رہا تھا۔

” پلیز مجھے کچھ دیر تنہائی چاہیئے۔۔” شعلہ نے بدمزاجی سے کہا۔ شہلا تاسف سے سر ہلاتی۔ اسکے کمرے سے نکل کر چلی گئ تھی۔

☆☆☆☆☆