Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 47)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 47)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
تین دن گزر چکے تھے۔ پر اب تک وہ لوگ عارض کا پتہ نہی لگا سکے تھے۔ عالم کی ہمت جواب دے چکی تھی۔ انہوں نے پولیس رپورٹ بھی دائر نہی کرائ تھی۔ یہ سوچ کر کہ کہیں وہ لوگ عارض کو نقصان نا پہنچا دیں۔ شعلہ بے حال سی پڑی تھی۔ رو رو کر اسکا وجود نڈھال ہوچکا تھا۔ کل سے تو وہ شدید بخار کی لپیٹ میں تھی۔ عارض کا سوچ سوچ کر وہ اپنا حال بے حال کر بیٹھی تھی۔ عالم بے حد مجبور تھا۔ وہ کچھ بھی نہی کرسکتا تھا۔ اسے ایسا محسوس ہورہا تھا۔ جیسے کسی گہرے سمندر میں اسے ہاتھ پیر باندھ کر پھینک دیا ہو۔ نازنین اور مصطفی آج صبح ہی ترکی سے واپس آچکے تھے۔ نازنین شعلہ کے پاس بیٹھی اسے کھانا کھلانے کی کوشش کر رہی تھی۔ حیدر اور ساوری بھی انہی کے ساتھ انکے گھر آگئے تھے۔ ذرا سی آہٹ پہ شعلا چونک اٹھتی تھی۔ اسکی انتظار کرتی نگاہیں داخلی دروازے کی جانب ہر پل مرکوز رہتیں۔ مگر شاید اسکا انتظار محض انتظار ہی بن کر رہ گیا تھا۔ وہ سب افسردہ سے بیٹھے تھے۔ جب عالم کا موبائل بجا۔ عالم نے موبائل کی اسکرین کو غور سے دیکھا۔ کسی پرائیوٹ نمبر سے کال تھی۔ عالم نے کال ریسیو کرکے موبائل کان سے لگایا۔
” بیٹے کی یاد تو بہت آرہی ہوگی۔۔۔” اس شخص کی آواز جیسے ہی عالم کی سماعتوں سے ٹکرائ عالم اسے پہچان گیا۔
” شرافت سے بتاؤ میرا بیٹا کہاں ہے۔۔؟؟” عالم بے بسی سے چلایا تھا۔
سب یکدم عالم کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔
” بتا دیں گے ، بتا دیں گے۔۔ اتنی بھی جلدی کیا ہے۔۔” مقابل نے شیطانی مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجا کر کہا۔
” میرے بیٹے کو اگر ذرا سی بھی کھروچ آئ ناں تو میں کھڑے ، کھڑے تم سب کی لاشیں گرا دوں گا۔۔۔” عالم تقریبا چلایا تھا۔
شعلا ایک بار پھر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ نازنین نے اسے اپنے گلے سے لگایا تھا۔
” لگتا ہے بیٹے سے بڑا پیار ہے۔۔۔ پر ہو بھی کیوں ناں اولاد جو ہے۔۔” مقابل کا شیطانی قہقہ میر عالم کا خون کھولا گیا تھا۔
” دلاور خان ۔۔۔ میری بات کان کھول کر سن لو اگر میرے بیٹے کو کچھ ہوا تو میں اب ختم کردونگا۔ تباہ کردوں گا تم سب کو۔۔۔” عالم کی آنکھوں سے وحشت ٹپک رہی تھی۔
” ٹھیک ہے۔ تم کہتے ہو تو مان لیتا ہوں۔ نہی لگاؤں گا تمہارے بیٹے کو ہاتھ ، مگر اسکے لیئے بھی میری ایک شرط ہے۔” دلاور خان کی بات سن کر عالم نے آنکھیں موند کر گہری سانس خارج کی تھی۔
” مجھے تمہاری ہر شرط منظور ہے۔” میر عالم نے جلد بازی سے کام لیا۔ حیدر اور مصطفی اسکی جذباتیت پہ سر تھام کر رہ گئے تھے۔
” ٹھیک ہے۔ پھر کل تمہارے گھر کے سامنے ہماری گاڑی آئے گی اس میں تمہارا بیٹا ہوگا اپنا بیٹا لے کر۔ اپنی طوائف بیوی کو گاڑی میں ڈال کر ہمیں بھجوا دینا۔۔”
” میں جان لے لوں گا تیری اس بکواس پہ۔۔۔” عالم بھڑکا تھا۔
” ٹھیک ہے۔ پھر کل تمہاری بیوی اگر نہی آئ تو تم کو اپنے بیٹے سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔۔” دلاور خان کا لہجہ ہتمی تھا۔ کہتے ساتھ ہی اسنے مزید سنے بغیر کال کاٹ دی۔
” بات سنو میری تم ایسے کال نہی کاٹ سکتے۔۔” وہ بے بسی سے چلایا تھا۔ موبائل اٹھا کر اسنے دیوار پہ دے مارا تھا۔
” آرام سے بھائ۔ یہ وقت جوش سے نہی بلکہ ہوش سے کام لینے کا ہے۔” مصطفی نے میر کا غصہ بے قابو ہوتے دیکھ کر کہا۔
” کیا کہا ہے۔۔۔ اس نے۔۔؟؟” شعلہ عالم کے مقابل آکر بیٹھی تھی۔ اسکی آنکھیں رونے اور مسلسل رت جگے کے باعث سرخ ہورہی تھیں۔ عالم نے گہری سانس لیکر لب بھیج دیئے تھے۔ اور ارد گرد ان سب کی موجودگی کو سرے سے نظر انداز کرتا اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا گیا تھا۔ شعلہ کی آنکھوں سے ایک بار پھر تسلسل سے آنسو بہنے لگے تھے۔
” کیا۔۔۔ کیا ہوا ہے۔۔۔” وہ اسکے سینے سے لگی خود کو بہ مشکل سنمبھال کر مستفسر ہوئ۔
” کچھ نہی۔۔۔ عارض بلکل ٹھیک ہے۔۔” وہ اسے خود سے ذرا سا دور کرتا اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیتا کئ لمحے اسے سنجیدگی سے دیکھتا رہا۔
” مگر کل صبح کے بعد شاید وہ ۔۔۔۔ ٹھیک نا رہے ۔۔۔” عالم کی بات پہ وہ یکدم پھترا کر رہ گئ تھی۔ عالم کی آنکھیں مارے ضبط کے سرخ ہوچکی تھیں۔
” اسنے کسی شرط کی بات کی تھی۔۔۔۔ کیا شرط رکھی اس نے۔۔؟” حیدر اسکی نا امیدیں سے بھری بات نظر انداز کرتا مستفسر ہوا۔
” وہ جو چاہتا ہے۔ میں وہ نہی کر سکتا۔” عالم کی بے بسی حد سے سوا تھی۔
اسکی بات سن کر ، شعلہ کے پھترائے وجود میں یکدم جنبش ہوئ۔ اسنے میر کے ہاتھ اپنے چہرے پہ سے از حد بے رخی سے جھٹکے تھے۔ اور اسے گریبان سے تھام کر حلق کے بل چلائ تھی۔
” تم میرے بچے کو نہی بچا سکتے۔ بہت باپ ۔۔۔ ہونے کا دعوی کر رہے تھے ناں تم۔ یہ ہو تم ، بس اتنی ہی محبت تھی تمہیں عارض سے۔ میرے بچے کو اگر کچھ بھی ہوا ناں تو۔ میر عالم میں اپنے بیٹے عارض عالم کی قسم کھا کر کہتی ہوں۔ میں تمہیں زندہ نہی چھوڑوں گی۔ پچھلی بار تم مرے اس لیئے نہی کیونک میں تمہیں مارنا نہی چاہتی تھی۔ صرف تمہیں تباہ کرنا چاہتی مگر اس بار۔۔۔۔ تم زندہ نہی بچو گے۔ میں ۔۔۔ عارض کی ماں۔۔۔ ابھی زندہ ہے۔ اور وہ آج بھی وہی شعلہ ہے۔ جو دشمن سے چھپ کر بیٹھنے کے بجائے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے تباہ کرکے آتی ہے۔ میں جاؤں گی اور اپنے بچے کو آپنے بل پہ بچا کر لاؤں گی۔ تم بیٹھے رہو یہیں ، اور بس سوگ مناتے رہو۔” وہ اسکا گریبان ایک جھٹکے سے چھوڑ کر اٹھی تھی۔ وہ اسکے مقابل سے اٹھ کر نکلنے لگی تھی۔ جب عالم نے اسکی کلائ تھام کر اسے ایک جھٹکے سے واپس صوفہ پہ گرایا تھا۔
” بکواس بند کرو۔ تم نے اگر گھر سے اپنے قدم نکالنے کی غلطی کی ناں تو میں تمہاری ٹانگیں توڑ دونگا۔” عالم کا لہجہ و انداز اسے دھمکاتا ہوا تھا۔
” بکواس مجھے نہی تمہیں بند کرنے کی ضرورت ہے۔ آج میں تمہاری مصلحتوں میں نہی پڑھنے والی۔ میں اپنے بچے کو خود واپس لاؤنگی۔۔” وہ اسکی گرفت سے اپنی کلائ ایک جھٹکے سے چھڑا کر اٹھی تھی۔
” بیا۔۔۔ پلیز اسٹاپ جذباتی پن سے کام نا لو۔” نا چار مصطفی کو بیچ میں آنا پڑا تھا۔ وہ اسے کندھوں سے تھام کر سمجھا رہا تھا۔
” مصطفی۔۔۔۔!!
تم کہہ رہے ہو یہ کہ میں جذباتی ہورہی ہوں۔ مصطفی تم نے تو دیکھا ہے اسے کہ کس قدر ظالم انسان ہے وہ۔ درندہ ہے ، درندہ اور درندہ تو کسی کو نہی چھوڑتے۔ میرے بچے کو اگر کچھ بھی ہوا۔ تو میں مر جاؤں گی مصطفی۔۔۔!!
وہ بہت چھوٹا ہے۔ وہ تو۔۔۔ ابھی معصوم ہے۔ مصطفی اسکا کیا قصور ہے۔ جانتی ہوں۔ یہ میری غلطی کی وجہ سے ہوا ہے۔ پر اب میں خود اپنی غلطی سدھاروں گی۔ میں اپنے بچے کو واپس لاؤں گی۔ بھلے اسکے لیئے مجھے اپنی جان بھی گنوانی پڑے۔۔” وہ مصطفی کے ہاتھ اپنے کندھوں سے ہٹاتی باہر کی جانب بھاگی تھی۔ میر طیش کے عالم میں اسکے پیچھے لپکا تھا۔ باقی سب بھی انکے پیچھے آئے تھے۔
” شعلہ۔۔۔” عالم اسکا نام پکارتا ہوا اسکا ہاتھ تھام کر اسے اپنی جانب موڑ گیا تھا۔
” میں نہی رکوں گی۔۔۔” وہ سر نفی میں ہلاتی مکمل اعتماد سے گویا ہوئ۔
” ذرا ہوش سے کام لے لو۔۔۔” وہ اسے جھنجھوڑ کر گویا ہوا۔
شعلا کے ہونٹوں پہ ایک زخمی مسکان ابھری تھی۔ وہ عالم کی آنکھوں میں دیکھتی عالم کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑاتی اوپر کی جانب جمپ مارتی اسکے پیٹ پہ ایک زور دار ضرب رسید کرکے اسکی جیب سے گاڑی کی چابیاں ایک لمحے میں اچک چکی تھی۔
” شعلہ چابیاں واپس دو۔۔۔” میر عالم نے خود کو سنمبھال کر اسے وارننگ دیتی نظروں سے تکا۔
وہ سر کو نفی میں ہلاتی۔ جیسے ہی گاڑی کی جانب بڑھی مصطفی اسکے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔
” یہ وقت نہی ہے۔ ایسا مت کرو۔ ہمیں سکون سے بیٹھ کر ایک پلین بنانے کی ضرورت ہے۔ آور اسی کے مطابق ہم سب کو چلنا ہوگا۔ تمہارا جذباتی پن عارض کی جان نہی بچا پائے گا۔ یہ بات تم اچھے سے جانتی ہو۔۔” مصطفی نے بیچارگی سے اسے اسکے اٹھائے گئے قدم سے آنے والی پریشانی سے آگاہ کرنا چاہا۔
” جانے دو مصطفی اسے۔ جو دل میں آتا ہے اسکے یہ وہی کرے۔ میری طرف سے بھاڑ میں جائے۔ آج عارض خطرے میں ہے تو صرف اسکی وجہ سے ، اسکے جذباتی پن کی وجہ سے۔ اب اگر عارض کو کچھ بھی ، مطلب کچھ بھی ہوا تو اسکی زمدار یہ ہوگی۔ اور اسکے لیئے میں اسے کبھی معاف نہی کرونگا۔” عالم کی بات سن کر وہ ضبط کے مارے مٹھیاں بھینچ گئ تھی۔
ہاں یہ سچ ہی تو تھا۔ سب اسی کی وجہ سے ہوا تھا۔ بدلہ کی آگ میں جلتے جلتے وہ اپنے بیٹے کو ہی اس آگ میں جھونک گئ تھی۔
” چاہتے کیا ہو تم لوگ مجھے بتاؤ۔ تم سب کی طرح ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاؤں۔ تم لوگ نہی سمجھ سکتے اس وقت میں کس تکلیف سے گزر رہی ہوں۔۔” وہ بے بسی سے چلا کر گویا ہوئ۔ ۔
” صحیح کہہ رہی ہو ہمیں نہی پتہ تم کس تکلیف سے گزر رہی ہو۔ کیونکہ میں بہت خوش ہوں ناں کہ میرا چھوٹا سا بچہ اس زلیل آدمی کے چنگل میں ہے۔” عالم طنزیہ کہتا اندر چلا گیا تھا۔
” اس سے کہہ دو مجھ سے ایسے طنزیہ لہجہ میں بات نا کرے۔ ورنہ جان لے لوں گی میں اسکی۔۔” شعلہ گاڑی کی چابیان زور سے پھینک کر مصطفی کو انگلی دکھا کر بولی۔ مصطفی گہری سانس بھر کر رہ گیا۔
” اوکے چلو اندر۔۔” مصطفی اسے لیکر اندر چلا گیا تھا۔ حیدر ساوری اور نازنین بھی انکے پیچھے ہو لیئے تھے۔
☆☆☆☆☆
وہ اوپر کمرے میں آئ تو ، عالم اپنا پیٹ پکڑ کر بیٹھا ہوا تھا۔ عالم مکمل طور پہ اسے نظر انداز کر رہا تھا۔ شعلہ نے کھا جانے والی نگاہوں سے اسے گھورا۔ اور کمرے میں ترتیب سے پڑی ہر چیز کو ایک پھر اٹھا ، اٹھا کر پٹخنے لگی تھی۔ عالم نے اسکی حرکت پہ سر جھٹکا تھا۔
” پتہ نہی لوگ خود کو کیا سمجھتے ہیں۔ میرا بیٹا میرے پاس نہی ہے۔ تو میں تو پریشان ہونگی ناں۔۔۔ میں غصہ بھی کروں گی میں لڑوں گی بھی۔ پر یہاں تو لوگوں کے اپنے نخرے ختم نہی ہوتے۔۔” وہ اونچا اونچا بڑبڑانے لگی تھی۔
” وہ تمہارا اکیلے کا بیٹا نہی ہے۔ میرا بھی لخت جگر ہے۔ تم عورت ہو تو تم رو دھو کر لڑ جھگڑ کر اپنا درد باہر نکال رہی ہو۔ پر میں ۔۔۔ میرا دل پھٹا جارہا ہے۔ کسی کو میرا بھی کوئ احساس نہی میرا بی پی شوٹ کر جائے گا تب تمہیں چین آئے گا۔۔۔” وہ خفگی سے کہتا گہری سانس لیتا اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکے پاس آیا تھا۔ جو اب بھی ہر چیز کو اٹھا کر واپس پٹخ رہی تھی۔
” ادھر دیکھو۔۔۔” عالم نے اسکا رخ اپنی جانب موڑا۔
” نہی دیکھنا۔۔۔” وہ آنکھوں میں تیرتی نمی چھپا کر نروٹھے پن سے گویا ہوئ۔
” اچھا اوکے سوری۔۔۔” عالم نے اسکا چہرہ ٹھوڑی سے تھام کر اوپر کیا۔ اسکی آنکھیں جو لبالب نمکین پانیوں سے بھری تھیں۔ یکدم آنسو تواتر سے پھسلتے اسکے رخسار کی زینت بن گئے تھے۔
” عارض بلکل ٹھیک ہوگا۔ تم دیکھنا کل عارض ہمارے ساتھ ہوگا۔۔۔ انشاءاللہ ۔۔” عالم نے پر امید لہجہ میں کہا اور شعلہ کو اپنے سینے میں بھینچ لیا۔
” انشاءاللہ۔۔” وہ اسکے سینے پہ اپنے گال رگڑ کر آنسو صاف کرتی گویا ہوئ۔
عالم اسکی کمر سہلا کر اسے مزید خود میں بھینچ گیا تھا۔ کمرے کے دروازے پہ دستک ہوئ تو وہ دونوں ایک دوسرے سے دور ہوئے۔ عالم نے دستک دینے والے کو اندر آنے کی اجازت دی۔
” بھائ وہ۔۔ آپ نے جو مصطفی سے کہا تھا ، وہ کام ہوگیا ہے۔” نازنین ذرا سا دروازہ کھول کر دروازے کے بیچ و بیچ کھڑے ہوکر گویا پوئ۔
” اوکے۔۔ شعلہ چلو۔۔۔” عالم نے سنجیدگی سے کہا۔ اور نازنین کے پیچھے ہی کمرے سے نکل کر چلا گیا تھا۔ شعلہ بھی انکے پیچھے ہی نیچے آئ تھی۔ ساوری اور نازنین لاؤنج میں بیٹھے آئرہ کے ساتھ کھیل رہی تھیں۔ مصطفی ، عالم اور حیدر اسٹڈی روم میں تھے۔ شعلہ جیسے ہی لاؤنج میں آکر آنکے پاس بیٹھنے لگی۔ حیدر نے اسٹڈی روم سے نکل کر اسے اندر آنے کو کہا۔ وہ سر ہلاتی۔ اسٹڈی روم میں آئ۔
” شعلہ۔۔۔ سنو میری بات ہم نے ایک پلین بنایا ہے۔ اٹس رسکی پر پھر۔بھی ہمیں یہ کرنا پڑے گا۔ بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا تمہیں۔ کیونکہ یہ کام تمہیں ہی کرنا ہے۔ ہمارے پاس کوئ بیک اپ پلین نہی ہے۔ اسی لیئے جو کرنا ہے وہ اسی پلین کے ساتھ کرنا ہے۔ یہ دیکھو یہ جیکٹ اس کی ساخت مکمل طور پہ خودکش جیکٹ جیسی ہے۔ پر یہ خودکش جیکٹ نہی ہے۔ پر یہ بات صرف تم میں اور حیدر ، مصطفی جانتے ہیں۔ وہ لوگ نہی جانتے۔ دلاور خان نہی جانتا یہ بات۔ بس ہمیں اسی بات کا فائدہ اٹھانا ہے۔ اور تمہیں کیسے بھی کرکے وہاں سے خود کو بچا کر نکلنا ہے۔ وہ بہت شاطر ہے اور اسنے شرط ہی تمہارے اسکے پاس جانے کی رکھی ہے۔ کر لو گی ناں تم یہ۔” وہ اسکے دونوں ہاتھ تھامتا فکر مندی سے مستفسر ہوا۔
” میں کرسکتی ہوں یہ۔ اس سے زیادہ خطرناک کام کرچکی ہوں یہ بھی کرلوں گی۔” وہ ایک عزم لیئے گویا ہوئ۔
” بس۔۔ ہم تمہارے وہاں پہنچ جانے کے بعد پولیس کو بھی انفارم کر دیں گے۔ اوکے۔۔۔ بس تم انہیں الجھائے رکھنا ہے۔۔” عالم نے اسکے چہرے کو دونوں ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر کہا۔
” ہمم۔۔۔” شعلا نے سر اثبات میں ہلایا۔ عالم گہری سانس لیتا لب بھینچ کر پھیکا سا مسکایا تھا۔
☆☆☆☆☆
اگلے دن پلین کے مطابق شعلہ صبح کا اجالا نکلنے سے پہلے ہی سیاہ چادر اوڑھ کر عالم کے ساتھ باہر نکل گئ تھی۔ دلاور خان کا آدمی گاڑی کے باہر عارض کو گود میں لیئے کھڑا تھا۔ شعلہ کی آنکھیں یکدم نم ہوئ تھیں۔ عالم نے اس آدمی سے عارض کو لیا۔ تو شعلہ شکر کا سانس لیتی خاموشی سے گاڑی میں بیٹھی تھی۔ عالم نے شعلہ کو سنجیدگی سے تکا۔ شعلہ نے ہلکے سے آنکھیں جھپک کر اسے تسلی دی۔
” یہاں کھڑا کیا کر رہا ہے چل جلدی سیدھا نکل۔۔۔” اس آدمی نے عالم کو اپنی جگہ جمے دیکھ کر کہا۔
میر عالم کی کنپٹی کی رگیں طیش کے باعث ابھر آئ تھیں۔ مگر وہ ضبط کرتا گھر کی جانب واپس مڑا تھا۔ وہ دروازہ کھول کر ابھی اندر قدم رکھنے ہی والا تھا۔ جب گاڑی اسٹارٹ ہونے کی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائ۔ اسنے مڑ کر دیکھا تو وہاں سے گاڑی نکلتی ہوئ دور نظر آرہی تھی۔ عالم نے سامنے کھڑے بڑے درخت کے پیچھے کھڑے لوگوں کو پلکوں کی جنبش سے اشارہ کیا تھا۔ اور خود واپس اندر چلا گیا۔
☆☆☆☆☆
شعلہ گاڑی سے اتری تو اس شخص نے اسے بازو سے تھام کر گھسیٹنا چاہا۔
” دور رہو۔۔۔ میں خود چل رہی ہوں ناں ہاتھ نا لگاؤ مجھے۔۔” وہ ہاتھ کے اشارے سے اس شخص کو روکتی ماتھے پہ لاتعداد شکنوں کا جال بچھائے اسکے ہمراہ ہوئ تھی۔
وہ شخص تمسخر سے ہنستا اس سے آگے ، آگے چلنے لگا تھا۔ شعلہ نے اپنے گرد لپٹی سیاہ چادر کو مضبوط سے تھاما۔ وہ لوگ ایک تاریک گلی میں اترنے لگے تھے۔ اور پھر ایک گلی سے کئ گلیاں نکل رہی تھیں۔ ان گلیوں سے گندی دبی دبی بدبو آرہی تھی۔ شعلا کا دل بند ہونے لگا۔ شراب کی بدبو اسکا سانس بند کرنے لگی تھی۔ ان پتلی تاریک گلیوں سے نکل کر وہ ایک کھلے میدان میں آئے تھے۔ جسکے چاروں طرف کھنڈر عمارتیں کھڑی تھیں۔ شعلہ مستحکم قدم اٹھاتی اس کھلے میدان کے بیچ و بیچ آکر کھڑی ہوئ تھی۔ ایک کھنڈر عمارت سے وہی درندہ آرہا تھا۔ شعلہ کی زندگی کے بدترین ماہ و سال اسکی نظروں کے سامنے ایک بار پھر کسی فلم کی مانند چلنے لگے۔ شعلہ کی آنکھوں میں ایک آگ تھی۔ جو مقابل کو جھلسا کر بھسم کردینا چاہتی تھی۔ وہ شخص تکبر بھری چال چلتا اسکے پاس آیا تھا۔ پہلے جیسی اس آدمی کی جوانی بھی نہی رہی تھی۔ مگر شاید آج بھی اسے خوف خدا نہی آیا تھا۔ وہ شخص غلیظ نظروں سے اسے دیکھتا اپنی منچھوں کو تاؤ دیتا قہقہہ لگا کر اسے بڑی گہری نظروں سے تک رہا تھا۔
” دلکش۔۔۔۔ حسین ۔۔۔۔ قیامت ۔۔” اس شخص نے اسکے رخسار کو چھونا چاہا۔ شعلہ نے آنکھیں موند کر کھولیں۔ اور اسکا ہاتھ اسکے چہرے کو چھونے سے پہلے ہی شعلہ نے جھٹکا تھا۔
” افف آگ ہو تم تو۔۔” دلاور خان خباثت سے مسکرایا تھا۔
شعلہ کے ہاتھ چادر کے اندر حرکت کرنے لگے تھے۔ اور یکدم اسنے چادر کو خود سے دور جھٹکا تھا۔ چوہدری دلاور خان اسکے جسم پہ خود کش جیکٹ دیکھ کر دو قدم پیچھے ہوا تھا۔ اسکے چہرے کا رنگ اڑا تھا۔
” دھوکا کیا ہے تم لوگوں نے ، بہت پشتانا پڑے گا تمہیں اور تمہارے خاندان کو۔۔۔” دلاور خان غصہ سے سرخ لال بھبھوکا چہرہ لیئے غرایا تھا۔
” جو کرنا ہے کر لو۔ مگر آج نا میں یہاں سے زندہ جاؤں گی ناں تم۔۔۔ آج تم سب کو یہاں میرے ساتھ مرنا ہوگا۔ بہت آسان ہوتا ہے۔ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنا۔ لوگوں کے چہرے پہ خوف حراص دیکھ کر تمہارے اندر کے چھپے شیطان کو بڑی تسکین حاصل ہوتی ہے ناں۔۔۔۔!!
آج تمہارے چہرے پہ خوف دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے۔۔۔” وہ ٹھنڈے مستحکم انداز میں بولی۔
” مرے گی تو صرف تو۔ ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔۔۔” وہ اپنے آدمیوں کو اشارہ کرتا نکلنے کی کرنے لگا تھا۔ جب شعلہ کی بات سن کر اسکے قدم زنجیر ہوئے تھے۔
” جتنا بھاگنا ہے بھاگ لو۔ صرف تین منٹ ہیں۔ دھماکا ہونے میں۔۔۔ جب تک تم یہ گلیاں پار کروگے تب تک یہ بلاسٹ ہوچکا ہوگا۔ اور تم اپنے انجام کو پہنچ جاؤ گے۔۔” وہ دانت پیس کر گویا ہوئ۔
” تمہیں کیا لگتا ہے تمہاری اس بات سے میں ڈر جاؤں گا۔۔۔” وہ شخص بوکھلائے ہوئے لہجہ میں گویا ہوا۔
” ڈر تو تم گئے ہو۔ اور وہ ڈر تمہارے چہرے سے صاف واضح ہے۔۔۔” وہ تمسخر سے گویا ہوئ۔
وہ شخص خوف کے باعث مکمل طور پہ پسینے سے شرابور ہوچکا تھا۔
” نہی میں نہی مر سکتا۔۔۔” وہ چلایا تھا۔ وہ ان تنگ اندھیرے گلیوں کی جانب بھاگا تھا۔ شعلہ اسے اور اسکے آدمیوں کو دیکھ استہزا سے مسکرائ تھی۔ وہ جیسے ہی ان تنگ گلیوں میں گھسے پولیس اہلکاروں نے انکو پکڑ لیا۔ وہ تین منٹ پورے ہوچکے تھے۔ مگر کوئ دھماکا نا ہوا۔ وہ اسکی چالاکی سمجھ چکا تھا۔ وہ پولیس والے کی گن اچکتا شعلہ کے دل کے مقام پہ گولی چلا گیا تھا۔ گولی کی آواز کے سنگ ارد گرد ایک زور دار آواز گونجی اور یکدم خاموشی چھا گئ۔ شعلہ کی آنکھیں ابل کر باہر کو آئ تھیں۔ وہ اپنے دل کے مقام پہ ہاتھ رکھتی۔ دھیرے سے زمین بوس ہوئ تھی۔ عالم جو اسکی جانب آرہا تھا۔ چیختا ہوا اسکی جانب لپکا تھا۔
” شعلہ۔۔۔۔” اسے بانہوں میں بھر کر وہ دیوانہ وار بھاگا تھا۔ شعلہ کے زخم سے بہتا خون عالم کے تمام کپڑوں کو رنگ چکا تھا۔ مصطفی اور حیدر بھی عالم کے پیچھے بھاگے تھے۔ چوہدری دلاور خان اور اسکے آدمیوں کو پولیس گرفتار کرکے لے گئ تھی۔ انکے تمام غیر قانونی کام ایکس پوز ہوچکے تھے۔ پولیس ویسے بھی انکو پکڑنے کی کوشش میں لگی تھی۔ اور آج وہ اس ظالم انسان کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنے میں کامیاب ہوچکے تھے۔
☆☆☆☆☆
