Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 36)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

” آپ نے مجھے اتنا پیارا سرپرائز دیا۔ اسکے لیئے بہت بہت شکریہ۔ پر میں کچھ نہی دے سکتی آپ کو۔۔۔” ساوری نے حیدر کی ٹانگ کو اپنے اوپر سے ہٹانے کی ایک ناکام کوشش کی۔

” بھلا یہ کیا بات ہوئ۔ میں نے کونسا تم سے دنیا جہاں کے قیمتی خزانے مانگ لیئے۔ میں نے تو بس تم سے ایک کِس مانگی تھی بس۔۔۔!!” حیدر نے اسے اپنی قید میں لیتے گہری سانس بھری۔

” آپ۔۔۔ پلیز ابھی پیچھے ہٹ جائیں۔ مجھے آئرہ کے ساتھ وقت گزارنا ہے ابھی بس۔۔۔” وہ منت كرنے لگی۔

” بھلا یہ کیا بات ہوئ یارر۔۔۔!!

دیکھو آئرہ ابھی سو رہی ہے۔ اور مجھے میرا ریٹرن گفٹ ابھی اسی وقت چاہیئے۔۔۔” وہ بضد تھا۔

ساوری نے تھوک نگل کر سہمی ہوئ نظروں سے اسے تکا۔

” آپ جو مانگ رہے ہیں ناں ، وہ میں نہی دے سکتی۔۔۔” ساوری منمنائ۔

” کیوں نہی دے سکتیں بھئ۔ ایک کس ہی مانگی ہے جان نہی مانگی تم سے تمہاری۔۔۔” حیدر نے خفگی سے کہا۔

” آپ جان مانگ لیتے میں دے دیتی ، پر یہ ۔۔۔ نہی۔۔۔ نہی۔۔” ساوری سوچ کر ہی گھبرا گئ تھی۔

” ارے اچھا دیکھو میں آنکھیں بند کرتا ہوں۔ تم جلدی سے کِس کردینا۔۔ بات ختم۔۔۔” حیدر نے آنکھیں بند کرکے اپنا وجود اسکے اوپر سائے کی مانند پھیلایا تھا۔

ساوری سہمی ہوئ نظروں سے کبھی اسے دیکھتی تو کبھی اسکی بند آنکھوں کو اور کبھی اسکے لبوں کو ، ساوری کو اپنی جان خشک ہوتی محسوس ہوئ۔

“حیدر مجھ سے نہی ہوگا۔۔۔” اسنے رونی صورت بنا کر کہا۔

حیدر نے آنکھیں کھول کر اسے گھورا۔ اور دوبارہ آنکھیں بند کیں۔

” مجھے نہی پتہ مجھے بس میرا ریٹرن گفٹ چاہیئے۔” اسکی بے حسی پہ ساوری جل کر رہ گئ۔

” آپ تنگ کر رہے ہیں اب مجھے۔۔۔” اسنے شکوہ کیا۔

” تم تنگ ہو رہی ہو۔ مجھے خوشی ہے اس بات کی چلو کِس دو۔۔۔” حیدر نے اپنا چہرہ مزید اسکے چہرے کے قریب کیا۔

” حیدر پلیز۔۔۔” ساوری نے آخری کوشش کی خود کو بچانے کی۔

” ohh come on babe kiss me….”

حیدر نے اپنا چہرہ مزید اسکے قریب کرکے مدہوش کن لہجہ میں کہا۔ ساوری لب کچلتی ، کئ لمحے اسے تکتی رہی۔ اور پھر گہری سانس لیتی سر اٹھا کر اسکے لبوں کو ہلکا سا چھوتی پیچھے ہوگئ تھی۔

حیدر نے جھٹ آنکھیں کھول کر اسے دیکھا کم گھورا زیادہ تھا۔

” یہ کِس تھی۔۔۔” حیدر نے صدمہ سے پوچھا۔

” ہاں۔۔۔” ساوری نے جھٹ سر کو اثبات میں ہلایا۔

” are you serious…”

حیدر نے جل کر کہا۔

” ہمم۔۔” ساوری سہم کر ہلکا سا منمنائ۔

” میں تمہیں بتاتا ہوں کِس کیا ہوتی ہے کیسی ہوتی ہے۔” حیدر سنجیدگی سے کہتا ، اسکے لبوں پہ جھکا تھا۔ ساوری اپنی آنکھیں مینچ گئ تھی۔ حیدر کے لمس کی شدت اس قدر تھی۔ کہ ساوری کا دل اچھل کر حلق تک آگیا تھا۔ ایک فسوں سا تھا جو انکے گرد بن گیا تھا۔ حیدر اسکے لبوں کو آزاد کرتا ، اسکی بند پلکوں اور لرزتے لبوں کو خماریت سے دیکھتا رہ گیا تھا۔

” کیسی لگی میری کس۔۔۔؟” حیدر اسکے کان کی لوؤں پہ لب رکھتا مستفسر ہوا۔

ساوری کے دل کی دھڑکن یکدم مزید تیز ہوئ تھی۔ وہ گہری ، گہری سانسیں بھرنے لگی تھی۔ اسکا چہرہ کندھاری انار کی مانند سرخ ہوگیا تھا۔ حیدر اسے خمار آلود نظروں سے تکتا اپنی ناک اسکی گردن پہ رگڑتا اسے مزید خود میں سمٹنے پہ مجبور کر گیا تھا۔

” تم نے بتایا نہی۔۔۔” حیدر نے اسکے نچلے لب کو اپنے لبوں سے ہلکا سا چھوا۔

” کیا۔۔۔۔” اسنے دھڑکتے دل سمیت پوچھا۔

” کِس کا۔۔۔” حیدر نے اسکے لجائے روپ کو تکتے کہا۔

” حیدر ۔۔۔پلیز۔۔۔” ساوری نے اسکے کالر کو مٹھی میں جکڑ کر کہا۔

” ساوری۔۔۔ تم کیا ہو میرے لیئے تمہیں خود معلوم نہی۔۔۔” حیدر نے اسکی نازک مرمریں گردن پہ اپنے دانت گاڑھے تھے۔ ساوری سسک کر مزید اسکی بانہوں میں خود کو سمیٹ گئ تھی۔

اس سے پہلے کے وہ مزید جسارتوں پہ اترتا کمرے میں آئرہ کے رونے کی آواز گونجی ، ساوری نے آئرہ کی آواز سنتے ہی بنا لمحے کی تاخیر کیئے۔ حیدر کو خود سے دور کیا تھا۔ اور خود آئرہ کو گود میں لیکر بیٹھ گئ تھی۔ وہ آئرہ کو دودھ پلا رہی تھی۔ اور حیدر اس سے شکوہ کر رہا تھا۔

” میری تو کوئ اہمیت ہی نہی تمہاری نظروں میں۔۔۔۔” حیدر نے جل کر کہا۔

” ایسی تو کوئ بات نہی ہے۔۔۔” ساوری نے آئرہ کو تھپکتے کہا۔

” ایسی ہی بات ہے۔۔۔” حیدر نے خفا ہوکر کہا اور اسکی جانب پیٹھ کرکے لیٹ گیا۔ ساوری نے ایک نظر حیدر کی پشت کو تکا۔ اور آئرہ کو سینے سے لگائے سلانے لگی۔ کچھ ہی دیر میں آئرہ پھر سے پرسکون نیند کی وادیوں میں اتر گئ تھی۔ وہ آئرہ کو پیار کرتی اپنی جگہ پہ لٹاتی، حیدر کی جانب مڑی تھی۔ بہت سوچنے کے بعد وہ حیدر کی پشت سے اسکے گرد اپنا ایک ہاتھ اسکے اوپر ڈال کر اسے ہگ کرکے لیٹی تھی۔ حیدر جو نجانے کن سوچوں میں ڈوبا تھا۔ یکدم چونکا تھا۔ یہ بدلاؤ بہت انوکھا تھا۔ حیدر نے مسکرا کر اسکا ہاتھ اپنے دل کے مقام پہ رکھا تھا۔ اور سکون سے آنکھیں موند گیا تھا۔ ساوری بھی پرسکون سی ہوکر آنکھیں موند گئ تھی۔

☆☆☆☆☆

صبح کا سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ ہر ذی روح اپنے دن کی شروعات کر چکا تھا۔ ساوری حیدر کے سینے سے لگی سو رہی تھی۔ جب انکی ڈور بیل پہ در پہ بجنے لگی۔ حیدر آنکھیں مسلتا اٹھا تھا۔ ساوری بھی کسلمندی سے آنکھیں کھولتی اٹھنے لگی تھی۔ جب حیدر نے اسے روکا۔

” تم مت اٹھو سوجاؤ۔۔۔” حیدر نے اسے آرام کرنے کو کہا۔ اور خود باہر گیا۔ جیسے ہی دروازہ کھولا۔ سامنے درفشاں کھڑی تھی۔ حیدر کے ماتھے پہ لاتعداد شکنوں کا جال بچھا تھا۔

” میں ایک دن کے لیئے شہر سے باہر کیا گئ۔ تم نے تو اپنے اصل رنگ ہی دکھانا شروع کردیئے۔۔۔” وہ تقریبا چلائ تھی۔

” آہستہ بات کرو۔۔” حیدر نے باہر کوریڈور میں ادھر ادھر دیکھا کوئ نہی تھا۔ اسے اندر گھسیٹتا وہ دروازہ بند کرنے والا تھا۔ جب اسکی ماں اور درفشاں کی امی بھی اندر آئیں۔ حیدر نے دروازہ بند کیا اور انکی جانب آیا۔ اس سے پہلے کے وہ درفشاں کو کچھ سناتا۔ ساوری بغیر دوپٹہ کے پریشان سی باہر آئ تھی۔

” حیدر کوئ آیا ہے کیا۔۔۔؟؟” ساوری نے پریشانی سے پوچھا۔

” مما دیکھ رہی ہیں آپ ، یہ دن رات یہاں پڑا رہتا ہے اس کے ساتھ رنگرلیاں مناتا رہتا ہے۔ اور اب تو حد ہی کر دی۔ بچی بھی اسکو لاکر دے دی۔ میں کام سے گئ تھی۔ کوئ مری نہی تھی میں۔۔۔” درفشاں چلا رہی تھی۔ ساوری نے غلط نا ہوتے ہوئے بھی شرمندگی سے سر جھکایا تھا۔

” زبان سنمبھال کر بات کرو درفشاں۔ بیوی ہے وہ میری۔۔۔” حیدر بھڑکا تھا۔

” اوہ تو مطلب تم اسکو اپنی بیوی مانتے ہو۔ افسوس پر اگر تم بھول گئے ہو تو تمہیں یاد دلاتی چلوں، کہ یہ خریدے ہوئے ایک قیمتی سامان سے زیادہ کچھ بھی نہی۔۔۔” در فشاں نے ساوری کو خون آشام نظروں سے گھور کر کہا۔

” کیسی عورت ہو تم تمہیں شرم نہی آتی۔ ایک عورت کو بار بار کم مائیگی کا احساس دلا کر۔۔۔” حیدر نے درفشاں کو جھڑکا۔

“نہی مجھے نہی آتی شرم تو کیا اسے آتی ہے شرم ، میرے شوہر پہ قبضہ جما کر بیٹھی ہے۔ زلیل عورت۔۔۔!!” درفشاں بھی حلق کے بل چلائ تھی۔

” درفشاں میں تم سے آخری بار کہہ رہا ہوں زبان سنمبھال کر بات کرو۔۔۔” حیدر نے اسے وارن کیا۔

” نہی کرونگی زبان سنمبھال کر بات یہ ایک انتہائ نیچ عورت ہے۔ جسکا تعلق ایک نیچ خاندان سے ہے۔” در فشاں نے ساوری کے مقابل کھڑے ہوکر کہا۔

” بچی لاؤ ، اب اسکے بعد تم اسکی شکل دیکھنے کو بھی عمر بھر ترس جاؤ گی۔۔۔” در فشاں نے چلا کر کہا۔

ساوری ایک دم خوف سے اچھلی تھی۔ خوف سے اسکا رنگ زرد پڑا تھا۔ مگر پھر بھی اسنے سر نفی میں ہلایا تھا۔

” میں نے کہا بچی کو باہر لیکر آؤ۔۔۔” در فشاں نے ایک بار پھر حکم صادر کیا۔

” نہی۔۔۔” ساوری نے ہمت کرکے زبان سے بھی انکار کیا۔

درفشاں نے جلن ، حسد، غصہ کا شکار ہوکر ایک زناٹے دار تھپڑ ساوری کے منہ پہ مارا تھا۔ ساوری کی آنکھوں میں آنسو چمکے تھے۔ حیدر نے طیش کے عالم میں ساوری کو اپنے پیچھے کیا تھا۔ اور ایک زناٹے دار تھپڑ در فشاں کے منہ پہ جوابی کاروائ کے طور پہ رسید کیا تھا۔ ساوری نے حیدر کو اسقدر غصہ میں دیکھ کر اپنا ہاتھ ہونٹوں پہ رکھ تھا۔ حیدر اور درفشاں کی امی بھی کھڑی ہوگئ تھیں۔

” حیدر یہ کیا ، کیا تم نے۔۔۔؟؟” حیدر کی خالہ بھڑک کر بیچ میں آئ تھیں۔

” میں نے کیا ، کیا وہ آپکو دکھ گیا۔ پر آپ کی صاحبزادی نے جو میری بیوی کے ساتھ کیا ، وہ آپکو دکھا نہی۔۔ یا پھر آپ نے دیکھ کر بھی ان دیکھا کر دیا۔۔۔” حیدر ان پہ بھی برہم ہوا تھا۔

” بیوی نہی ہے وہ تمہاری ایک کنٹریکٹ میرج پہ خریدی ہوئ لڑکی ہے۔۔۔” اسکی خالہ نے چلا کر کہا۔

” میں نہی مانتا اس کنٹریکٹ کو میں صرف اس نکاح کو مانتا ہوں۔ جو میں نے اپنے اللہ کو حاظر ناظر جان کر کیا تھا۔ میں مانتا ہوں تو صرف اس نکاح کو جو میرے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ میں اس کے سوا کسی شے کو نہی مانتا۔۔۔” حیدر کے چہرہ پہ سرخی چھلک آئ تھی۔ دماغ کی رگیں تن گئ تھیں۔

” ٹھیک ہے پھر طلاق دو ، اسے ابھی اور اسی وقت اگر بیوی ہے تو بیوی رہنے نہیں دونگی میں اسے تمہاری۔۔۔” درفشاں نے حیدر کو گریبان سے تھام کر کہا۔

” بکواس بند کرو دور ہٹو۔۔۔” حیدر نے اسے خود سے دور جھٹکا تھا۔ ساوری سہم کر پیچھے دیوار سے چپک گئ تھی۔

” میں کہتی ہوں اس بد چلن عورت کو ابھی اسی وقت طلاق دو۔۔۔” درفشاں حلق کے بل چلائ تھی۔

” ایسا کبھی نہی ہوگا۔۔۔” حیدر نے جبڑے بھینچ کر کہا۔

” در۔فشاں بس ابھی یہاں سے چلو۔۔۔” حیدر کی امی کو حیدر کے تیور کچھ ٹھیک نا لگے اسی لیئے انہوں نے در فشاں کو وہاں سے چلنے کو کہا۔

” میں یہاں سے ایک ذرا نہی ہلنے والی۔ خالہ اس سے کہیں کہ یہ اس لڑکی کو ابھی اسی وقت طلاق دے۔۔۔” در فشاں اپنی ضد سے باز نا آئ۔

” بہت خواہش ہے تمہیں ٹھیک ہے پوری کردیتا ہوں میں تمہاری خواہش۔۔۔” حیدر نے غرا کر کہا۔

حیدر کی بات پر ساوری کا رنگ فق پڑا تھا۔ اسکا دل خوف سے دھڑدھڑانے لگا تھا۔

” درفشاں میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔!!” حیدر کہ منہ سے اپنے لیئے طلاق سن کر در فشاں کے قدم لڑکھڑائے تھے۔ وہ بے یقینی کے عالم میں حیدر کو سر نفی میں ہلاتی تک رہی تھی۔

” تم مجھ پہ ۔۔۔۔ اس دو ٹکے کی لڑکی کو فوقیت دے رہے ہو۔۔۔” وہ بے یقینی سے گویا ہوئ۔

” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔” حیدر نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے پھر وہی بھاری الفاظ دہرائے۔

” حیدر یہ کیا کر رہے ہو تم بس خاموش ہو جاؤ بسس۔۔” حیدر کی امی نے حیدر کو مزید کچھ کہنے سے روکنا چاہا۔

” درفشاں میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ آج ابھی اور اسی وقت سے تم مجھ پہ حرام ہو۔۔۔” حیدر نے اپنی ماں کی بھی نے سنی اور درفشاں کو آزاد کردیا۔

” شرم نہی آئ تمہیں میری بچی کو طلاق دے دی تم نے۔۔۔” در فشاں کی ماں کا صدمہ سے برا حال تھا۔

حیدر بغیر کوئ جواب دیئے ساوری کی کلائ تھامتا ، اسے اپنے ساتھ کمرے میں لے گیا تھا۔ اور درفشاں اپنی جگہ جامد سی کھڑی تھی۔ درفشاں کی ماں درفشاں کو سینے سے لگاتی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی۔ پر درفشاں نے تب بھی کوئ رسپونس نا دیا۔ درفشاں کی اماں ساوری کو بکتی جھکتی، اور اپنی بہن سے لڑتی نکل گئ تھیں۔ پر شاید وہ یہ بھول گئ تھیں۔ کہ یہ سب انہی کا تو پلین تھا۔ حیدر کی دوسری شادی ، کنٹریکٹ میریج بچہ اور سب کچھ۔ پر اب وہ اپنے کیئے کا الزام با آسانی دوسروں پہ ڈال چکی تھیں۔

☆☆☆☆☆

” حیدر آپ نے اسے طلاق دے دی۔۔۔” ساوری نے بے یقینی سے کہا۔

” دے دی تو بس دے دی ، اب میرے سر میں مزید درد کرنے کی ضرورت نہی ہے فلحال۔۔” حیدر کا سر دکھنے لگا تھا اتنے سارے تماشے کے بعد ، اور جو سچ بات تھی وہ یہ تھی کہ اسے دکھ تھا۔ ہاں وہ اسکی پہلی بیوی تھی۔ بھلے ہی انکی شادی ایک ارینج میریج تھی پر پہلی شادی ارمانوں بھری شادی ، وہ عورت جس کے ساتھ اس نے اپنی زندگی کے کئ سال گزارے تھے۔ پر شاید وہ کبھی اسکی نا ہوسکی تھی۔ ہاں یہ سچ تھا۔ وہ اس ارینجڈ میریج کی شادی کے بعد بھی ، اپنے محبوب کو بھلا نہی پائ تھی۔ اور اسی وجہ سے شاید اسنے ہمیشہ حیدر کو خود سے ایک فاصلے پہ رکھا۔ میاں بیوی کا تعلق ایک انسان نہی لے کر چل سکتا۔ یہ رشتہ دو پہیوں کی گاڑی ہے۔ جسے دو لوگوں کو مل کر چلانا پڑتا ہے۔ اگر ایک بھی پہیا زنگ آلود ہوجائے یا پھر کام کرنا چھوڑ دے تو اثر پورے رشتے پہ پڑتا ہے۔ رشتہ بھی بس ایک جگہ جم کر ہی رہ جاتا ہے ، چلنا چھوڑ دیتا ہے۔ جیسے جسم میں خون کی روانی اہم ہے۔ ویسے ہی میاں بیوی کے رشتے میں محبت، عزت اور ایک دوسرے کا احساس ہونا بھی ضروری ہے۔ جب یہ چیزیں ایک رشتے میں باقی نا رہیں تو پھر دو لوگوں کا یہ خوبصورت تعلق بھی زنگ آلود ہوجاتا ہے۔ اور شاید انکا تعلق بہت پہلے ہی زنگ آلود ہوچکا تھا۔

” آپ ایسے بھڑک کیوں رہے ہیں۔ میں نے نہی کہا تھا آپکو اسے چھوڑنے کا۔۔۔” ساوری کو برا لگا تھا۔

” میں نے یہ کب کہا ، کہ تم نے مجھے ایسا کرنے کو کہا ہے۔۔۔” حیدر کے ماتھے پہ بل آئے تھے۔

” ناشتہ کرنا ہے تو بتا دیں بنا دوں۔” اسنے اسکے بگڑے تیور دیکھ نظریں ادھر ادھر پھیر کر دھیرے سے کہا۔

” آف کورس کرونگا ناشتہ بھوک ہڑتال پہ تو جانا نہی ہے۔۔۔” وہ خفگی سے کہتا آئرہ کو گود میں لیئے باہر آیا تھا۔ اسکی امی باہر صوفہ پہ بیٹھی تھیں۔ وہ اب بھی گم صم سی بیٹھی تھیں۔ ساوری انکو ایک نظر دیکھ خاموشی سے کچن میں ناشتہ بنانے چلی گئ تھی۔ حیدر خود کو کمپوز کرتا اپنی امی کے پاس آکر بیٹھا تھا۔

” حیدر یہ تم نے کیا کر دیا۔۔۔” اسکی امی نے شکوہ کیا۔

” امی یہ وہ کام تھا جو شاید مجھے بہت سال پہلے کر لینا چاہیئے تھا۔ پر میں نے نہی کیا ، بیوقوفوں کی طرح تاخیر کرتا گیا۔” حیدر نے آئرہ کو اپنی ماں کی گود میں ڈال کر سنجیدگی سے کہا۔

” پر حیدر۔۔۔” اسکی ماں جز بز ہوئ تھیں۔

” امی میں اپنی بیٹی کہ ساتھ یہ ظلم نہی کرسکتا تھا۔ اسے اسکی سگھی ماں سے دور کرکے ، سوتیلی ماں کے رحم و کرم پہ نہی چھوڑ سکتا تھا۔ اور سب سے بڑی بات اتنے سالوں میں ، در فشاں میری زندگی میں اپنا وہ مقام نا بنا سکی۔ جو ساوری نے اس ایک سال میں بنا لیا امی۔۔۔!!” حیدر نے گہری سانس خارج کی۔

” حیدر پر میرے میری بہن سے تعلقات خراب ہوجائیں گے۔۔۔” انہیں فکر لاحق تھی۔

” امی اگر آپ چاہیں تو ہم یہیں رہ لیں گے۔ میں ساوری کو آپکے گھر نہی لاؤں گا۔ بھلے آپ مجھے اس عمل کے لیئے معاف نا کریں۔ پر اس سے زیادہ میں کچھ نہی کرسکتا۔۔۔” حیدر اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔ اور اسکی ماں حیران ، پریشان سی بیٹھی رہ گئ تھیں۔

☆☆☆☆☆