Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 44)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 44)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
بیا کے کمرے میں آتے ہی بائ نے الفت کا موبائل اس سے چھینا تھا۔ الفت اور بیا کی ررنگت یکدم زرد پڑی تھی۔ بائ خونخوار نظروں سے ان دونوں کو گھور رہی تھی۔
” کہاں سے آیا تیرے پاس یہ موبائل۔۔؟” بائ نے الفت کے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر پوچھا۔ الفت نے اپنے بال بائ کی گرفت سے آزاد کروانا چاہے پر ناکام رہی۔ بیا یکدم آگے آئ تھی۔ وہ بائ کی گرفت سے الفت کو آزاد کروانے لگی بائ نے ایک زور دار دھکا بیا کو دیا وہ سیدھا زمین بوس ہوئ تھی۔ اسکا سر سیدھا بیڈ کی پائنتی سے جا کر لگا تھا۔ بیا کی کنپٹی پہ ہلکی سی خون کی لکیر نمودار ہوئ۔ بیا اپنا سر ہاتھوں میں تھامتی واپس اٹھی تھی۔ اب کے بائ نے شنو کو اشارہ کیا تھا۔ شنو نے بیا کی کلائ تھام کر مروڑی تھی۔ بیا کی آنکھوں سے گرم سیال بہنے لگا تھا۔
” لگاتی ہوں آج اسکے بھی دام بہت کھا لیا بیٹھ کر۔ ارے تجھے کیا لگا تھا۔ وہ دونوں تجھے آکر لے جائیں گے۔ ارے آئے تھے وہ میں نے ان کے آگے تیری قیمت جاننے کو ایک شرط کیا رکھی وہ تو ڈر ہی گئے۔ اور صاف الفاظ میں کہہ کر گئے ہیں۔ کہ دوبارہ انہیں فون نا کرنا۔ تیرے جیسی گندی عورت سے وہ لوگ کوئ تعلق نہی رکھنا چاہتے۔ تجھ جیسی گری ہوئ کوٹھے میں رہنے والی عورت کو اپنے ساتھ لے جا کر وہ معاشرے میں اپنی ساکھ خراب نہی کرسکتے۔۔” بائ نے زہر خند لہجہ میں کہا۔
بیا بائ کے الفاظ سن کر چونکی تھی۔ اسنے بے یقینی کے عالم میں بائ کو دیکھا تھا۔ اور سر کو نفی میں جنبش دی تھی۔
” نہی۔۔۔ ایسا کیسے کر سکتے ہیں وہ۔۔۔” وہ سسکی تھی۔
” ایسا ہی کیا ہے انہوں نے ، نہی تو آئے تھے تو لے کر جاتے نا تجھے مجھے آ کر کیوں بتایا کہ تونے یہاں سے فون کیا ہے۔۔” بائ نے اسکے ذہن میں مزید زہر گھولا۔
بیا کو لگا جیسے آج وہ حقیقتا پوری دنیا میں تن تنہا کھڑی ہو۔ نا کوئ چھاؤں تھی۔ نا کوئ سائبان جن کے آنے کی امید تھی۔ وہ تو شاید آنے سے پہلے ہی لوٹ چکے تھے۔ بیا پھترا کر رہ گئ تھی۔
” اب میں مزید کوئ ڈرامہ برداشت نہی کرونگی۔ آج شام تجھے خود کو پیش کرنا ہوگا۔ ہر صورت۔۔۔” بائ نے الفت کو ایک جھٹکے سے چھوڑ کر بیا کے سامنے انگلی لہرا کر اسے وارن کیا تھا۔ بائ اور شنو واپس چلے گئے تھے۔ اور بیا لڑکھڑاتے قدموں سمیت زمین پہ بیٹھی تھی۔ اور گھٹنوں پہ سر رکھ کر سسک پڑی تھی۔ الفت بھی اسے ٹوٹتا دیکھ سسکی تھی۔
” پریشان نا ہو۔ اپنے ساتھ چھوڑ دیں گے۔ پر میں اور شہلا کبھی تیرا ساتھ نہی چھوڑیں گے۔۔” الفت نے اسے خود میں بھینچا تھا۔ شعلہ کے اندر کا غبار ایسے نکلا کہ اسکی ہچکیاں بندھ گئ پر اسکے رونے میں کمی نا آئ۔
” بس بیا یہ وقت بھی گزر جائے گا۔۔۔” الفت نے اسے تسلی دی۔ بیا آنسو پونچھتی سر ہلا کر مسکائ تھی۔
اور پھر سچ میں شعلا کے دن بدل گئے۔ جس رات اسکا گاہک اسکے کمرے میں آیا تو بنا کچھ کہے بستر پہ سوگیا۔ بیا کو حیرت کا جھٹکا لگا۔ مگر اسنے من ہی من شکر ادا کیا۔ صبح کا سورج جب نکلا تو وہ بیا کے لیے اپنے ساتھ ایک نئ نوید لایا تھا۔ اس نیک شخص نے بیا کی دوگنی تگنی قیمت ادا کر دی تھی بائ کو۔ اور بیا کو خرید لیا تھا۔ وہ شخص پکی عمر کا آدمی تھا۔ وہ بیا کو خرید کر اپنے ساتھ اپنے محل نما گھر لے آیا تھا۔ بیا حیرت زدہ تھی۔ اس شخص نے اسے اپنی بیٹیوں جیسا درجہ دیا تھا۔ وہ کوئ ایک سال بعد شہلا کو بھی وہاں سے آزاد کروا لائ تھی۔ آزاد تو اسنے الفت کو بھی کرانا چاہا پر وہ انکار کر گئ۔
اس شخص نے بیا کی شخصیت کو نکھار کر رکھ دیا تھا۔ بیا کو اسنے حقیقتا شعلہ بنا دیا تھا۔ شعلہ ایک رائیس باپ کی بگڑی ہوئ بیٹی بن چکی تھی۔ وہ شخص اپنی ساری زندگی شراب ، کباب اور شباب کے ساتھ گزارتا آیا تھا۔ پر اب وہ اپنے گناہوں کا ازالہ کرنا چاہتا تھا۔ اور وہ ایک ایک کرکے کوٹھے کی لڑکیوں کو آزاد کروانے لگا تھا۔ پر ان تمام لڑکیوں میں شعلہ کا کردار سب سے اہم تھا۔ وہ بلیک بیلٹ بن چکی تھی۔ اور مزید خود کو طاقت ور بنانےلگی تھی۔ کہیں نا کہیں اسکے لاشعور میں یہ بات بیٹھ گئ تھی۔ کہ اسے میر عالم سے بدلہ لینا ہے۔ اسکی زندگی خراب کرنے کا اور وہ اس بدلہ کی آگ میں ہر حد سے گزر گئ۔ وہ شخص اپنی تمام جائداد اور اپنی تمام زمداریاں شعلہ کے نام کرتا خود اس دنیا سے رخصت ہوچکا تھا۔ اور اس شخص کا فیصلہ بلکل درست تھا۔ شعلہ نے گھر کا اوپری حصہ مکمل طور پہ کوٹھے سے چھڑائ گئ عورتوں کے لیئے صرف کر دیا تھا۔
☆☆☆☆☆
حال
” ایک منٹ شعلہ یہ وہ سچ ہے جو تمہیں پتہ ہے اسکے علاوہ بھی ایک سچ ہے۔۔” میر عالم نے اسکی بے وجہ کی بدگمانی دور کرنا چاہی۔
” مجھے نہی جاننا کوئ سچ۔۔۔” وہ۔سنجیدگی سے کہتی عالم کے پاس سے اٹھی تھی۔
عالم نے اسے کلائ سے تھام کر اپنی جانب کھینچا تھا۔ وہ سیدھا اسکی گود میں آکر گری تھی۔
” یہ کیا بد تمیزی ہے چھوڑو مجھے۔۔۔” شعلہ نے چڑ کر کہا۔
” شعلہ۔۔۔ یہ سچ نہی ہے۔ حقیقت کچھ اور ہے جس سے تم انجان ہو۔۔۔” عالم نے اسکے گال پہ ہاتھ دھر کر کہا۔
” ایسی بھی کونسی حقیقت ہے جو مجھے نہی پتہ ، سب کچھ تو معلوم ہے مجھے۔۔۔” وہ اسکی گرفت سے نکلنے کو مچلی تھی۔ من ہی من وہ ڈر رہی تھی۔ کہیں اسکی قربت کا جادو چل ہی نا جائے۔
” اس دن ہم واپس آنے والے تھے تمہیں لینے پر کسی نے فیک ویڈیو شاید بھیجی تھی۔ تمہیں مار دیا گیا تھا۔ ہمیں لگا تم مر چکی ہو۔ اور ہمیں تمہاری ڈیڈ باڈی بھی دی گئ تھی۔ جسے ہم نے دفنا دیا تھا۔ اور اسکے بعد تو سوال ہی نہی اٹھتا تھا۔ تمہیں ڈھونڈنے کا۔ ایک مرے ہوئے انسان کو کوئ کیا ڈھونڈتا۔” عالم نے سنجیدگی سے اسے بتایا۔
” جھوٹ مت بولو۔۔۔” شعلہ نے چڑ کر کہا۔
” میں جھوٹ نہی بول رہا۔۔” عالم نے اسکا چہرہ اپنی جانب کرکے کہا۔
” میں پھر بھی اتنی آسانی سے معاف نہی کرونگی تمہیں۔۔” بیا نے سرد لہجہ اپنایا۔
” جتنا ٹائم لینا ہے لے لو۔۔۔” عالم نے اسکے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکایا تھا۔
” اب پیچھے بھی ہٹ جاؤ ، تم تو بلکل چپک ہی گئے ہو۔۔۔” شعلہ نے اسکی قربت کا اثر ختم کرنا چاہا۔
” چپکا کہاں ہوں میں ابھی ، ابھی تو بس ذرا سا قریب آیا ہوں۔۔۔” عالم نے آنکھیں کھول کر اسکے چہرے کے نقوش کو بغور تکا۔
” عالم۔۔۔ پلیز۔۔۔ میں ناراض ہوں۔۔۔” اسنے اسے یاددہانی کروانا چاہی۔
” وہ تو تم مجھ سے ساری عمر ناراض رہنے والی ہو۔۔۔” عالم نے اپنی ناک دھیرے سے اسکے گال پہ رگڑی تھی۔ شعلہ خود میں سمٹ کر رہ گئ تھی۔ اسکی قربت کا جادو چلنے لگا تھا۔ اسکے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئ تھیں۔ عالم اسکے تھرتھراتے لبوں کو دیکھ اسکے لبوں پہ جھکا تھا۔ شعلہ نے اسکا کالر اپنی مٹھیوں میں جکڑا تھا۔اور آنکھیں موند گئ تھی۔ قربت کے لمحے سست روی سے سرکنے لگے تھے۔ عالم اسکے لبوں کو اپنی گرفت سے آزاد کرتا۔ خمار آلود نظروں سے اسکے سرخ لجائے چہرے کو تکنے لگا۔
” آئ لو یو ۔۔۔ ڈارلنگ۔۔۔” عالم نے اسکے نچلے لب پہ اپنا انگوٹھا پھیرا۔ اسکی پلکیں عارضوں پہ ایسی جھکی تھیں۔ کہ اٹھنے کا نام لینے سے انکاری تھیں۔
” ان میٹھی ، میٹھی ۔۔۔۔ باتوں۔۔۔۔ سے کچھ ۔۔۔۔ نہی ہونے والا۔۔۔” اسنے بکھری سانسوں سمیت کہا۔
” دیکھتی جاؤ میں ان میٹھی ، میٹھی باتوں سے کیا کچھ کر سکتا ہوں۔۔۔” شریر سی مسکان عالم کے ہونٹوں پہ کوندی تھی۔
” پلیز۔۔۔” وہ اسکی مسکراہٹ کے جادو میں بہکنے لگی تھی۔
” کیا۔۔۔؟؟” عالم نے سمجھتے ہوئے بھی جان بوجھ کر اسے تنگ کرنے کو پوچھا۔
” اب بس بھی کریں۔۔۔ پیچھے ہٹیں۔۔۔” شعلہ نے بہ مشکل ہی اپنا لہجہ برہم بنایا۔
” ایسے کیسے بس کریں۔ ابھی تو کچھ کیا ہی ، نہی ذرا سی قربت نواز کر تو آپ اتنا دور چلی گئ تھیں۔ اور ہمیں بھی دوسرے جہاں پہنچا دیا تھا۔”
شعلہ اسکی قربت میں مچلنے لگی تھی۔ اسکے ارادے جان کر تو اسکی ہتھیلیاں بھیگ گئ تھیں۔
” مجھے۔۔۔ نیند آرہی ہے۔۔۔” شعلہ نے بہانا بنایا۔
” ہاں تو سو جائیں گے ناں مگر آرام سے۔” عالم نے اسکی گردن میں چہرہ چھپا کر گہری سانس بھری۔
شعلہ کی اپنی سانسیں اتھل پتھل ہونے لگیں۔ اسنے دھیرے سے عالم کو خود سے دور کرنا چاہا۔ پر ناکام رہی۔
” عالم۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ مجھے اب بھی آپ پر یقین نہی ہے۔۔۔” شعلہ کی آواز عالم کے کانوں سے ٹکرائ تو عالم کی گرفت شعلہ پہ ڈھیلی پڑی تھی۔ عالم نے کئ لمحے سنجیدگی سے اسے تکا۔
” اگر آج میری کسی بات پہ یقین و بھروسہ نہی ہے ناں شعلہ تو پھر کبھی آنے والے وقت میں بھی مجھ پہ یقین نہی آئے گا تمہیں۔۔” عالم نے اسے خود مکمل طور پہ آزاد کیا تھا۔ وہ ایک جھٹکے سے اسکی گود سے اٹھی تھی۔
” مجھے۔۔ تھوڑا ۔۔۔ وقت لگے گا۔۔۔” شعلہ نے نگاہیں چرا کر کہا۔ اور بیڈ پہ سر تک کمبل تان کر لیٹ گئ۔ وہ کئ لمحے پر تپش نگاہوں سے کمبل کی آڑ میں چھپے اسکے وجود کو تکتا رہا۔
☆☆☆☆☆
” ساوری۔۔۔۔” حیدر ابھی آفس سے آیا تھا۔ آج اسے آنے میں دیر ہوگئ تھی۔ جب وہ گھر آیا تو پورا گھر نیم اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ کمرے میں آیا تو کمرے کا بھی وہی حال تھا۔ ساوری بھی سو چکی تھی۔ وہ پہلے واشروم فریش ہونے گیا۔ فریش ہوکر کپڑے چینج کرکے وہ ساوری کے پاس آیا تھا۔ اسکے کان کے پاس جھک کر دھیرے سے اسے پکارا تھا۔ پر ساوری اپنی جگہ سے ٹس سے مس نا ہوئ۔
” ساوری۔۔۔۔۔جان من پلیز اٹھ جاؤ بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔۔” حیدر ایک بار پھر اسکے کان کے پاس جھکا نرم سی سرگوشی کرتا چہرہ اوپر اٹھا کر اسے تکنے لگا۔ اب اسکی آنکھوں میں ذرا سی جنبش پیدا ہوئ تھی۔ اسنے نیند سے بوجھل چندھیائ ہوئ آنکھیں کھول کر حیدر کو دیکھا۔ کئ لمحے تو وہ سن دماغ لیئے اسے دیکھتی رہی۔ جب آہستہ آہستہ اسکے حواس بہال ہوئے تو وہ سیدھا آٹھ بیٹھی تھی۔
” آپ۔۔۔ آگئے۔۔۔ آج آنے میں اتنی ۔۔ دیر کردی۔۔۔” وہ دوپٹہ اٹھا کر کھول رہی تھی۔
” ہاں آج ایک اہم میٹنگ تھی۔ جو کافی دیر تک چلی اس وجہ سے ۔۔” حیدر نے اٹھتے ہوئے اسکے گال پہ بوسہ دیا۔ ساوری نے ہلکا سا مسکا کر اپنا دوپٹہ کندھوں پہ پھیلایا تھا۔ وہ کمبل ہٹا کر بیڈ سے اٹھنے لگی تو حیدر نے اپنا ہاتھ اسکی جانب پھیلایا جس پہ اسنے بنا تاخیر کیئے اسکا ہاتھ تھام لیا۔
وہ دونوں کمرے کا دروازہ آہستہ سے بند کرکے باہر آئے ، دونوں کچن کی لائٹس آن کرکے بیٹھ گئے تھے۔ ساوری نے کھانا گرم کیا ، اور ٹیبل پہ اسکے آگے کھانا رکھ کر خود بھی دوسری کرسی گھسیٹ کر بیٹھی تھی۔ حیدر اسکی نیند کا خیال کرتا جلدی جلدی کھانا کھانے لگا تھا۔
” اوہو آہستہ کھائیں کھانا۔ کوئ بھاگا تو نہی جارہا ناں آپکا کھانا آپ سے دور۔” ساوری نے اسے آنکھیں دکھائیں۔
” اوکے۔۔۔” سعادت مندی سے اسکی بات مانی گئ۔ ساوری کے ہونٹوں پہ ایک پیاری سی مسکان نمودار ہوئ تھی۔
” آج کا دن کیسا گزرا۔۔۔” ساوری نے اپنی ہتھیلی ٹھوڑی تلے رکھ کر پوچھا۔
” بہت اچھا۔۔۔ مگر کافی ٹف تھا آج کا دن ، بس اب تم دعا کرو یہ پروجیکٹ مکمل ہوجائے ، میں اس سے فارغ ہوجاؤں ، پھر ہم ولیمہ کی تقریب رکھیں گے۔ اور پھر آؤٹ آف کنٹری ہنی مون منانے بھی جائیں گے۔۔۔” حیدر ہنی مون کا ذکر کرتے وقت مکمل طور پہ اس پہ جھک آیا تھا۔
” اس سب کی کوئ ضرورت نہی فضول خرچیاں کرنے کے علاوہ آپ کو کچھ نہی سوجھتا۔۔۔” اسنے اسے پیچھے کیا۔
” سوجھتا ہے ناں۔۔۔ بہت کچھ سوجھتا ہے۔۔۔” حیدر نے سرسری انداز لیئے کہا۔
” اچھا۔۔۔ کیا سوجھتا ہے مثلاً ۔۔؟” وہ آئبرو آچکا کر اس سے مستفسر ہوئ۔
” تم سے پیار کرنا ، تمہارے ساتھ محبت بھری چھیڑ خانی کرنا۔ تمہیں اپنی بانہوں میں قید کر لینا اور۔۔۔ بہت کچھ ۔۔۔ جو اگر میں بتانے پہ آیا تو تم نے سرخ ٹماٹر بن جانا ہے۔۔۔” حیدر نے شرارت سے کہا۔
ساوری سرخ رنگت لیئے ہولے سے مسکرائ تھی۔
” آپکو بس یہ سب ہی سوجھتا ہے کبھی کام کا کچھ نہی سوجھتا۔۔۔” اسنے مسکرا کر کہا۔
” یار۔۔۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے یہ سب جو مجھے سوجھتا ہے۔ یہ کسی کام کا نہی بہت کام کا ہے یہ سب۔۔۔” حیدر نے اسکی ناک دبا کر کہا۔
” اوکے اوکے آپ بلکل درست کہہ رہے ہیں جناب اعلی پر چلیئے ذرا اب جلدی کریں۔ کمرے میں عائرہ اکیلی ہے۔۔” ساوری نے اسکی شوخی پہ ٹھنڈا پانی پھیرا۔
” ہاں میں تو جلدی ، جلدی ہی کر رہا تھا۔ مگر تم نے کہا کہ نہیں آہستہ کھاؤ۔ اب بھلا بتاؤ اس میں میری کیا غلطی ہے۔۔” حیدر نے مصنوئ خفگی لیئے کہا۔
” اچھا چلیں میری غلطی ہے۔ بس سوری۔۔۔” ساوری نے کان پکڑ کر معافی مانگی۔
حیدر اسکے گال پہ نرم سا بوسہ دے کر پیچھے ہٹا تھا۔
” اٹس اوکے ڈارلنگ۔۔۔” حیدر نے شوخی سے کہا۔ تو وہ کھلکھلا اٹھی۔
☆☆☆☆☆
