Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 48)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

شعلہ کی حالت انتہائ کریٹیکل تھی۔ عالم پریشان سا آپریشن تھیٹر کے باہر بیٹھا تھا۔ حیدر مصطفی ، نازنین ، ساوری اور بچے سب لوگ یخ بستہ راہداری میں پڑی بینچز پہ بیٹھے تھے۔ عارض بخار کی شدت سے تپ رہا تھا۔ نازنین ابھی اسکا چیک اپ کروا کر آئ تھی۔ اسے دوا پلا کر اب نازنین اسے سلانے کے جتن کر رہی تھی۔ اب تو تین گھنٹے ہونے کو آ گئے تھے۔ مگر شعلہ کا آپریشن بھی مکمل نہی ہوسکا تھا۔

آخر کافی انتظار کے بعد سرجن باہر آئے تھے۔ عالم بیتاب سا انکی جانب لپکا تھا۔

” فکر کی کوئ بات نہی وہ اب خطرے سے باہر ہیں۔” ڈاکٹر نے مسکرا کر بتایا اور وہاں سے چلے گئے۔ عالم شکر کرتا آسمان کی جانب دیکھ کر مسکرایا تھا۔

” میں آتا ہوں۔۔” وہ دمکتے چہرے کے سنگ کہتا وہاں سے نکل گیا تھا۔ وہ دو رکعت شکرانے کے نفل ادا کرکے واپس آیا۔ تو تب تک اسے آئ سی یو میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔ پر اس وقت اس سے ملنے کی اجازت کسی کو نہی تھی۔

” تم سب گھر جاؤ آرام کرو۔ میں یہاں ہوں۔۔” عالم نے ان چاروں کو گھر جانے کا کہا۔

” نہیں بھیا ہم یہیں رہیں گے۔ آپ کے ساتھ۔۔۔” نازنین سرے سے ہی مکر گئ۔

” بیٹا ضد نہیں کرنی بلکل گھر جائیں۔ آرام کریں۔ آپ فریش رہو گی۔ تو عارض کا خیال رکھ سکو گی۔ نہی تو عارض کی ماما کی حالت شاید ابھی اتنی اسٹیبل نا ہوسکے کہ وہ عارض کا خیال رکھ سکیں۔۔” میر عالم نے نازنین کو اپنے بازوؤں کے ہلکے میں لیکر سمجھایا۔

” پر بھائ۔۔۔” اسنے احتجاج کرنا چاہا۔

” پر ور کچھ نہی ، بس اب تم سب گھر جاؤ۔۔۔” میر عالم نے سنجیدگی سے کہا۔ تو نا چار ان اب کو اسکی بات ماننی پڑی تھوڑی دیر بعد وہ سب گھر جا چکے تھے۔ اور عالم تنہا بیٹھا تھا۔ اسکا سر شدید تکلیف کے باعث پھٹ رہا تھا۔ بے شک شعلہ اب خطرے سے باہر تھی۔ مگر پھر بھی وہ اسکے لیئے بہت فکر مند تھا۔ اسے ابھی تک ہوش نہی آیا تھا۔ اب عالم اسے کھونے کی سکت نہی رکھتا تھا۔ وہ اپنی ہر غلطی کے بعد بھی اسکی محبت کو جھٹلا نہی پایا تھا۔ وہ اسکے نکاح اسکی زندگی اور اسکے دل میں آنے والی پہلی عورت تھی۔ اور سب سے بڑی بات وہ اسکے بچے کی ماں تھی۔ وہ اس کے لیئے بہت معتبر تھی۔

نئے دن کا سورج ایک بار پھر نکل چکا تھا۔ اسے بھی ہوش آچکا تھا۔ ڈاکٹر نے عالم کو اس سے ملنے کی اجازت دے دی تھی۔ عالم آئ سی یو میں اسکے پاس آیا۔ اسکا وجود مشینوں میں جکڑا پڑا تھا۔ عالم نے اسکے پاس آکر اسکا ہاتھ تھاما۔ شعلہ کی آنکھیں دھیرے سے وا ہوئیں۔ عالم کو دیکھ وہ نقاہت سے ہلکا سا مسکائ تھی۔

” تم ٹھیک ہو۔۔؟” عالم نے اسکے ہاتھ کو لبوں سے چھوا۔

” ہمم۔۔۔” اسنے نقاہت سے آنکھیں موند کر جواب دیا۔

اب عالم دھیرے دھیرے اسکے بالوں پہ ہاتھ پھیر رہا تھا۔ دھیرے سے جھک کر عالم نے اسکے ماتھے پہ بوسہ دیا۔

” کیا ۔۔۔ ہوا۔۔؟” شعلہ نے نحیف سی آواز میں اس سے پوچھا۔ تو وہ اسے کئ لمحے خاموشی سے تکنے کے بعد ہولے سے مسکرا کر سر نفی میں ہلاتا گویا ہوا۔

” میں ڈر گیا تھا۔ اگر تمہیں کچھ ہوجاتا تو ۔۔تم نہیں جانتی میرے ساتھ کیا ہوتا۔” عالم کا لہجہ اب قدرے بھیگا ہوا محسوس ہوا شعلہ کو۔

” اتنی آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑوں گی تمہارا۔” عالم اسکی بات پہ مسکرایا تھا۔

” میں بھی تم سے اتنی جلدی پیچھا نہیں چھڑانا چاہتا۔۔” عالم نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر جذبات سے چور ہوتے لہجہ میں کہا۔

” عارض کیسا ہے۔۔۔؟؟” وہ فکر مند تھی۔

” وہ بلکل ٹھیک ہے۔ ڈونٹ وری۔۔۔” عالم نے اسے تسلی دی۔

” پکا ناں۔۔۔” شعلہ کو اب بھی یقین نا آیا۔

” پکا۔۔۔ بس اب تم جلدی سے ٹھیک ہوجاؤ ، تاکہ ہم گھر چلیں۔ اور تم میرے ساتھ عارض کے ساتھ بہت سارا وقت گزارو۔۔۔” عالم ساتھ ، ساتھ اسکے بال سہلا رہا تھا۔

” انشاءاللہ۔” وہ مسکرائ۔

☆☆☆☆☆

ساوری اور حیدر آج اپنے گھر واپس آگئے تھے۔ ساوری آئرہ کو لٹا کر مڑی تو حیدر اسکی پشت پہ کھڑا تھا۔

” کچھ چاہیئے۔۔؟؟” وہ واپس مڑ کر سائڈ ٹیبل پہ پڑی بکھری چیزیں سمیٹنے لگی۔

” ہاں۔۔۔ چاہیئے تو سہی۔۔۔” حیدر اسے پشت سے بانہوں میں بھرتا محبت سے گویا ہوا۔

” کیا چاہیئے جلدی بتائیں۔ پھر میں کچن میں جاؤں۔ امی کو نجانے کیا ہوگیا ہے۔ بہت زیادہ غصہ کر رہی ہیں۔” وہ حیدر کی گرفت سے نکلنے کو مچلی تھی۔

” جو چاہیئے وہ تم نا دو میں خود لے لوں گا بس تم خاموش ہوجاؤ۔۔۔” حیدر اسکی گردن پہ اپنے لب رکھتا گھمبیر لہجہ میں گویا ہوا۔

” نہیں ناں۔۔۔ پلیز ابھی نہی۔ ابھی آپ پیچھے ہٹیں۔ کام کرنا ہے۔ امی مزید خفا ہوجائیں گی۔۔” ساوری نے اسکے ارادے جان کر نکلنا چاہا۔ کیونکہ اگر اب وہ اسکے پاس پھنس جاتی تو تین چار گھنٹوں میں تو اسے اس سے رہائی ملنی نا تھی۔

” خاموش اب آواز نا آئے۔” حیدر نے اسکا چہرا اپنی جانب موڑ کر اسکے لبوں کو اپنے لبوں کی گرفت میں لیا۔ ساوری پھڑپھڑا کر رہ گئ۔ پر حیدر نے اسے چھوڑا نہیں۔ وہ بیتاب سا اسکے لبوں کو قید کیئے اسکی سانسیں پی رہا تھا۔ اسکی قربت سے ، اسکے لمس کی شدت سے وہ بھی بہکنے لگی تھی۔

حیدر اسکے لبوں کو چھوڑتا اسکا رخ اپنی جانب کرتا اسکا وجود دیوار سے لگا کر اسکی گردن پہ جا بجا اپنا دہکتا لمس چھوڑنے لگا۔ ساوری نے سسک کر اپنی آنکھیں مینچ لی تھیں۔

حیدر نے اسکا دوپٹہ اتار کر سائڈ پہ پھینکا تھا۔ اسے کمر سے جکڑ کر بلکل اپنے قریب کر چکا تھا۔ حیدر کے لب دھیرے دھیرے ساوری کے وجود پہ پھسلنے لگے تھے۔ وہ اسکے انگ ، انگ کو مدہوشی سے چومتا اسے اٹھا کر بیڈ پہ لایا تھا۔ ساوری کی حیا کے مارے نگاہیں جھکی ہوئ تھیں۔ چہرہ سرخ ہوا تمتما رہا تھا۔

” حیدر۔۔۔۔” ساوری نے ہلکی سی مزاہمت کی اسکی گرفت سے آزاد ہونے کے لیئے۔ حیدر اسکی مزاہمت نظر انداز کرتا ایک بار پھر اس پہ جھکا تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی قربت میں مدہوش ہونے لگے تھے۔ حیدر کے لمس میں نرمی بھی تھی مگر جنوں بھی تھا۔ وہ اسے جنونیت سے خود میں بھینچ گیا تھا۔

☆☆☆☆☆

ایک ہفتہ ہوچکا تھا۔ شعلہ کو آج ہاسپٹل سے ڈسچارج کیا تھا۔ وہ اپنے گھر واپس آچکی تھی۔ اس وقت وہ عارض کو گود میں لیئے بے تابی سے پیار کر رہی تھی۔

“مما کا بچہ۔۔ مما کی یاد نہی آئ میرے بیٹے کو۔۔۔” وہ اسے خود میں بھینچ کر اس سے بڑے پیار سے باتیں کر رہی تھی جیسے وہ سب سمجھ رہا ہو۔

” میرا گڈا۔۔۔ میرا چاند۔۔۔ میرے جگر کا ٹوٹا۔۔۔” وہ آنکھیں موند کر اسے اپنے سینے سے لگائے اپنے ارد گرد دنیا جہاں کی ہر خوشی محسوس کر رہی تھی۔

” کیا ہوگیا۔۔۔ مما کی جان۔۔۔” شعلہ کے زور سے بھینچنے پہ اسنے لب بسور کر رونا شروع کردیا تھا۔ وہ ہلکا قہقہ لگاتی اس سے مستفسر تھی۔عالم مسکراتا ہوا سر کو نفی میں جنبش دے کر رہ گیا تھا۔

” سارا پیار بیٹے کے لیئے۔ اور بیٹے کے باپ کے لیئے کچھ بھی نہی۔۔۔” عالم نے مصنوئ خفگی سے کہا۔

” ہاں تو۔۔۔ میرا بیٹا تو اتنا پیارا ہے۔ اسے پیار نہی کرونگی تو کسے کرونگی۔ شکر ہے میرا بیٹا اپنے باپ پر نہی گیا ورنہ بلکل اپنے باپ جیسا ہوتا۔۔” وہ اپنی مسکان دبا کر گویا ہوئ۔

” او ہیلو میرا بیٹا بلکل مجھ جیسا ہے۔ اور بلکل اپنے باپ کی طرح بے حد ہینڈسم بھی ہے۔۔” عالم نے ناک چڑھا کر کہا۔

” اوپس تم نے تو میری بات دل پہ ہی لے لی۔۔۔” شعلہ نے با مشکل اپنا امڈتا قہقہ دبایا۔

” ایسی بات کوئ بھی دل پر لے گا۔۔” وہ خفگی سے بولا۔

” کوئ نہی لیتا ایسی باتیں دل پہ ، تم ہی لیتے ہو بس۔۔” شعلہ نے اسے مزید چڑایا۔ اور وہ چڑ بھی گیا تھا۔

” تم۔۔۔ تم کیا لگا رکھی ہے۔ بڑا ہوں تم سے آپ کہہ کر نہی پکار سکتی۔۔” وہ اس قدر تپ چکا تھا۔ کہ اسنے اتنی سی بات کو پکڑ کر اپنی بھڑاس نکالنا شروع کردی۔

” ہاں سہی کہہ رہے ہو تم۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ آپ۔۔۔ بہت بڑے ہیں مجھ سے۔ مجھے آپکی عزت کرنی چاہیئے۔ ویسے اگر آپ وقت پر شادی کر لیتے تو میری عمر کے ابھی آپکے بچے ہوتے۔۔۔” وہ لب کچلتی اسے عمر کا طعنہ مارنے سے باز نا آئ تھی۔ وہ مزید جل بھن کر رہ گیا تھا۔

” بس بھی کرو اب۔ تم ہی کہہ کر بلاؤ مجھے۔ اب اتنا بھی بڑا نہی ہوں میں۔۔۔” اسکے ماتھے پہ یکدم کئ بل نمودار ہوئے تھے۔

” ارے۔۔۔ نہی نہی۔۔۔ میں ” تم ” کہہ کر بلکل توہین نہی کرسکتی آپکی۔ میرے بابا سے آپ بہ مشکل پانچ سال ہی چھوٹے تھے۔ نہی یہ گناہ میں نہی کرونگی۔ اب اگر آپکی اور میری شادی نا ہوتی۔ تو مجھے تو آپکو انکل بولنا پڑتا۔ تو جب تب عزت لازم ہوتی مجھ پر اب بھی ویسے ہی مجھے آپکی عزت کرنی چاہیئے۔۔”

عالم کا چہرہ غصہ کی تمازت سے سرخ ہوچکا تھا۔ وہ چڑ کر بیڈ پہ سے اٹھا تھا۔

” آفس جا رہا ہوں میں۔ شاید آج دیر سے آؤں۔” وہ برے موڈ کے ساتھ کہتا وارڈ روب سے اپنے کپڑے نکالتا واشروم میں بند ہوچکا تھا۔

وہ ہلکا سا قہقہ لگا کر رہ گئ تھی۔ عالم کے اتنی سی بات پہ آگ بھولا ہونے پہ اسنے سر کو نفی میں ہلایا تھا۔ اسی وقت نازنین کمرے کا دروازہ ناک کرتی اندر آئ تھی۔

” بھابھی کیا میں اندر آجاؤں۔۔۔؟”

” ہاں آجاؤ نازنین۔۔۔” شعلہ نے خوشدلی سے اسے اندر آنے کی اجازت دی۔

” وہ بھابھی آپ سے بات کرنے تھی مجھے۔۔۔” نازنین کافی دیر خاموش بیٹھی رہی پھر آخر کار خاموشی سے اکتا کر گویا ہوئ۔

” ہاں کہو۔۔۔” شعلہ نے عارض کو پیار کرکے کہا۔

” بھابھی آپ ناراض تو نہیں ہیں ناں ہم سے۔۔؟؟” وہ لب کچل کر مستفسر ہوئ۔

” نہی میں ناراض نہیں ہوں۔ بلکہ میں تم سے اور مصطفی سے بھی معافی مانگنا چاہتی ہوں۔ دیکھو مجھے تم سے نا کوئ دشمنی تھی۔ نا ہی کوئ خار۔ اس وقت میں نے جو کچھ مصطفی کو کرنے کو کہا۔ وہ محض تمہارے بھائ کو تکلیف دینے کے لیئے۔ تاکہ جب تم دونوں لڑو، جھگڑو تو اسے پشتاوا ہو۔ اسے ایسا لگے جیسا یہ فیصلہ اسکی زندگی کا بدترین فیصلہ تھا۔ میں بس تمہارے بھائ کو پریشان دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔” شعلہ نے مدہم لہجہ میں تمام باتوں کا اعتراف کیا۔

” آپ نے بھائ کو پریشان دیکھنے کے لیئے ہمیں پریشان کر دیا تھا۔” نازنین پھیکا سا مسکائ۔

” جانتی ہوں بہت غلط کیا ہے میں نے۔ امید کرتی ہوں تم معاف کردوگی۔۔” وہ اسکے ہاتھ کی پشت پہ ہاتھ رکھ کر گویا ہوئ۔

” ہمم اٹس اوکے بھابھی۔۔۔ ویسے اب آپ کو تکلیف تو نہی ناں۔۔۔؟؟” وہ مسکرا کر اس سے اسکی طبیعت کا پوچھنے لگی۔

” نہی اب اللہ کا شکر ہے پہلے سے کافی بہتر محسوس کر رہی ہوں۔۔” وہ بھی مسکائ۔

” چلیں پھر آپ آرام کریں میں چلتی ہوں۔ عارض کو مجھے دے دیں۔” نازنین نے شعلہ کی جانب ہاتھ پھیلائے۔ شعلہ نے مسکرا کر عارض کو نازنین کو دے دیا۔ نازنین مسکرا کر کمرے سے نکل کر چلی گئ۔ تو شعلہ بستر پہ ٹھیک سے لیٹتی آنکھیں موند گئ تھی۔کچھ دیر بعد عالم باتھ روم سے نکلا آفس کے لیئے تیار ہوا۔ اور آکر اسے دیکھا۔ تو وہ شاید سو رہی تھی۔ عالم نے جھک کر اسکے ماتھے پہ عقیدت بھرا بوسہ دیا۔ اور کمرے کا دروازہ احتیاط سے کھول کر بند کرتا نکل گیا۔

☆☆☆☆☆

چار ماہ بیت چکے تھے۔ شعلہ کا زخم مکمل طور پہ مکمل ہوچکا تھا۔ وہ واپس اپنی روٹین میں آچکی تھی۔ حیدر اپنا اور ساوری کا ولیمہ کرنا چاہتا تھا۔ مگر ساوری کے ایک بار دوبارہ پریگننٹ ہونے کی وجہ سے ولیمہ کے ارادہ فلحال کے لیئے ترک کرنا پڑا۔

نازنین اور مصطفی نے اپنا ولیمہ ارینجڈ کر لیا تھا۔ اور آج شام کو انکے ولیمہ کی تقریب تھی۔ شعلہ آئینے کے سامنے بیٹھی تیار ہورہی تھی۔ جب عالم بلیک ٹاکسیڈو میں ملبوس اندر کمرے میں آیا۔ شعلہ سیاہ پیروں کو چھوتی فراک پہنے ہمیشہ کی طرح دلکش لگ رہی تھی۔ عالم کے دل میں اسے ایسے نک سک سا تیار دیکھ کر بری طرح ہلچل مچی تھی۔ عالم بیڈ پہ عارض کے پاس آکر بیٹھا۔ جو غوں غاں کی آوازیں نکالتا چھت پہ چلتے پھنکے کو دیکھ اپنے دونوں ہاتھ پیر ہلا رہا تھا۔ عالم نے اسپہ جھکتے اسے بہت سارا پیار کیا۔ اور پھر سیدھا ہوکر بیٹھا۔

” آج بھی سیاہ رنگ۔۔۔ کوئ اور رنگ نہی تھا کیا۔۔۔؟؟” عالم نے اسے چڑانے کو کہا۔

” مجھے سیاہ رنگ کے علاوہ کوئ رنگ دکھتا ہی نہی۔۔۔” وہ کانوں میں نازک ڈائیمنڈ کے ٹاپ پہنتی گویا ہوئ۔

” اتنا بھی کیا سیاہ رنگ سے obsession ہے تمہیں ، اور رنگ بھی ہیں۔ وہ بھی کبھی پہنو۔۔” عالم آٹھ کر اسکی پشت پہ آکر کھڑا ہوا تھا۔

” یہ رنگ مجھے پسند ہے۔اور مجھ پہ جچتا بھی بہت ہے۔ اور رنگ پہننے کی اب عادت بھی نہی رہی جو سچ بات ہے۔۔” شعلہ نے اپنی رنگ فنگر میں انگوٹھی ڈالی۔

عالم نے اسکا نازک ہاتھ تھام کر اسے اپنے مقابل لاکر کھڑا کیا۔ شعلہ نے اپنے دونوں بازو اسکی گردن کے گرد باندھے اور مسکرا کر تھوڑا اسکے قریب آئ۔

” رنگوں میں کیا رکھا ہے۔ تم بتاؤ میں کیسی لگ رہی ہوں۔۔” وہ پلکیں جھکا کر دھیمے مگر محبت بھرے لہجہ میں مستفسر ہوئ۔

” بہت ، بہت خوبصورت۔۔” عالم نے اپنا ایک ہاتھ اسکی کمر کے گرد لپیٹا۔

شعلہ نے خفگی سے پلکیں اٹھا کر عالم کو تکا۔

” بس خوبصورت لگ رہی ہوں۔ جاؤ میں نہی کرتی تم سے بات تعریف کرنا بھی نہی آتی۔۔۔” وہ اپنے ہاتھ اسکی گردن سے ہٹا کر ، عالم کا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹاتی دور ہوکر خفگی سے گویا ہوئ۔

” ارے۔۔۔ ادھر آؤ۔۔” عالم اسے خفا ہوتے دیکھ اسکے پاس آیا تھا۔ اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے اسکی آنکھوں میں مسکراتی نگاہوں سے دیکھتا اسکی تعریف کرنے لگا۔

” تم دنیا کی سب سے خوبصورت بیوی ہو۔ تم چاند سے زیادہ پیاری ہو۔ تمہارا یہ من موہنا روپ مجھے ہر دن نئے سرے سے تمہارا دیوانہ بناتا ہے۔ پہلے مجھے تم سے محبت تھی۔ پر اب لگتا ہے کہ مجھے تم سے عشق ہونے لگا ہے۔ تم بہت پیاری ، بہت حسین و دلکش ہو۔۔” عالم مخموریت سے کہتا اسکے لبوں پہ جھکنے لگا تھا۔ جب شعلہ چیخی۔

” کس مت کرنا۔۔”

” مگر کیوں۔۔؟” عالم نے اسے گھورا۔

” کیوں کا کیا مطلب ہے۔ کیا تمہیں دکھ نہی رہا کہ میں نے کتنی محنت سے میک اپ کیا ہے۔۔۔” وہ بھنا کر بولی۔

” ہاں تو کس کے لیئے کیا ہے میک اپ میرے لیئے ناں۔” عالم اسکی بات کو بغیر سیریس لیئے دوبارہ اسکے لبوں پہ جھکنے کے قریب تھا۔ شعلہ نے اسے خود سے دھکا دے کر دور جھٹکا تھا۔

” تم سے کس نے کہہ دیا کہ یہ میک اپ میں نے تمہارے لیئے کیا ہے۔ یہ سب میں نے اپنے لیئے کیا ہے۔ تو مجھ سے دور رہو فلحال۔۔” وہ اسکا بہکا روپ دیکھ کر اسے وارن کرتی عارض کو اٹھا کر کمرے سے نکل گئ تھی۔

☆☆☆☆☆

باہر نازنین اور مصطفی کے ولیمہ کا فنکشن اسٹارٹ ہوچکا تھا۔ نازنین اور مصطفی ساتھ اسٹیج پہ بیٹھے تھے۔ سب ان سے آکر مل رہے تھے۔ اور انکی شادی کی مبارکباد دے رہے تھے۔ کیونکہ بہت سے لوگوں کو یہ بلکل نہی پتہ تھا۔ کہ انکے نکاح کو ڈیڑھ سال ہونے کو آگیا ہے۔ اور وہ دونوں پچھلے ڈیڑھ سال سے ساتھ ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں۔

ساتھ ساتھ ان دونوں کا فوٹو شوٹ بھی ہورہا تھا۔ نازنین نے ٹی پنک کلر کی نفیس کام والی میکسی پہن رکھی تھی۔ مناسب میک اپ اور خوبصورت ہیئر اسٹائل اسے اور دنوں کے مقابلے میں مزید حسین بنا رہا تھا۔ مصطفی اسکو اس روپ میں دیکھ دیوانہ ہی ہوا جا رہا تھا۔ اسکی دیوانگی کا اندازہ وہ اتنے لوگوں کے بیچ اسکی بہکی بہکی حرکتوں سے بخوبی لگا سکتی تھی۔

تمام لوگ انکے ساتھ تصاویر کھنچوا کر واپس نیچے چلے جاتے۔ نازنین کیمرہ مین کو دیکھ کر کیوٹ کیوٹ پوز دے رہی تھی۔ جب مصطفی بلکل اسکے قریب آکر کھڑا ہوا۔ اسکی پشت پہ کھڑے ہوکر اپنا ہاتھ اسکے پیٹ تک لے جا کر اسکی پشت کو اپنے سینے سے لگایا تھا۔ نازنین اسکی حرکت پہ یکدم بوکھلائ تھی۔ کیونکہ نیچے اسکے دونوں بڑے بھائ کھڑے تھے۔ جو وقفے وقفے سے اسے دیکھ رہے تھے۔

” مصطفی یہ کیا کر رہے ہو۔ ذرا سی شرم کر لو نیچے بھائ لوگ ہیں کتنی غلط بات ہے۔۔۔” وہ اسکی گرفت سے نکلنے کو پھڑپھڑائ۔

” سیدھی کھڑی رہو۔ فوٹو شوٹ نہیں کروانا کیا۔” وہ نا محسوس انداز میں دھیرے سے اسکے رخسار چھو کر گویا ہوا۔

” مصطفی پلیز کتنی بری بات ہے۔۔۔ سب ہمیں ہی دیکھ رہے ہیں۔۔” وہ سرخ دہکتے گال لیئے خفگی سے گویا ہوئ۔

” دیکھنے دو۔ بیوی ہو میری کوئ گرل فرینڈ تو ہو نہی کہ تم سے اپنی محبت چھپا کر رکھوں میں۔۔” مصطفی نے اسکا رخ اپنی جانب موڑا اور اپنے لب اسکے ماتھے پہ دھرے۔ کیمرہ مین نے جلدی جلدی سے اس پوز میں انکی تین چار فوٹو گرافس لیں۔

” کیا بے تکی بات کر رہے ہیں آپ۔ پیچھے ہٹیں نیچے جا کر دیکھیں۔۔ کوئ کام ہو تو وہ کر لیں۔۔” نازنین نے اسے خود سے دور کرکے کہا۔

” یار آج ہمارا دن ہے۔ آج بھی میں کام دیکھوں۔۔” وہ اس سے دور ہوتا خفا ہوا۔

” تو کیا ہوا۔ ایسی فالتو حرکتیں کرنے سے اچھا تو کام کرنا ہے۔۔” وہ اپنا دوپٹہ سنمبھالتی اس سے پیچھے ہوئ۔

” کیا مطلب ہے تمہارا فالتو حرکتیں۔ مجھے تو لگتا ہے تم۔مجھ سے تنگ آنے لگی ہو۔ جبھی ایسا کر رہی ہو۔” اچانک ہی اسکا خوشگوار موڈ بگڑا تھا۔

” شاید ایسا ہی ہو۔۔۔” نازنین نے اسے چڑانے کو کہا۔

” بات کرنا ہی فضول ہے تم سے۔۔” وہ خفگی سے کہتا نیچے باقی سب کے پاس چلا گیا تھا۔ اور وہ اپنی مسکان دباتی رہ گئ تھی۔

☆☆☆☆☆