Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 16)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 16)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
حیدر جو مسلسل کام میں جٹا ہوا تھا۔ کھانے کا ٹائم ہوا تو۔ خود کو ریلیکس کرتا اٹھا تھا۔ وہ روز کی طرح آج بھی کہیں باہر جا کر کھانا کھانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ پر اسکی نظر جب ساوری پہ پڑی تو اسے یاد آیا کہ۔ صبح تو ناشتہ اسنے بھی نہی کیا۔ اور شاید رات کا بھی نا کھایا ہو۔ اسنے موبائل اٹھا کر کھانا آڈر کیا۔ تقریبا کوئ بیس منٹ بعد کھانا ریسیو ہوگیا۔ ساوری نے کھانا ٹیبل پہ رکھا اور مڑی ہی تھی۔ کہ حیدر نے اسکا ہاتھ تھاما۔
” کھانا کھا لو۔”
” میرا من نہی۔” ساوری نے بے دلی سے کہا۔ اور اسکی گرفت سے اپنا ہاتھ آزاد کراتی وہ اپنی جگہ پہ جاکر بیٹھی تھی۔
حیدر خاموشی سے آٹھ کر کچن میں گیا اور کھانا دو پلیٹس میں نکالا۔ ایک پلیٹ اسکے ٹیبل پہ رکھی۔ اور اسے کھانے کا کہا۔ ساوری کو نا چار کھانا کھانا پڑا۔ حیدر اپنی جگہ پہ بیٹھا۔ کھانا کھا رہا تھا۔ ساوری اور حیدر نے جیسے ہی کھانا کھایا۔ ساوری نے حیدر کے پاس سے بھی پلیٹ اٹھائ۔ پلیٹ کچن میں رکھ کر باہر آئ تو۔ اسکے سوال پہ چونکی تھی۔
” صبح میری ماما تم سے کیا کہہ رہی تھیں۔؟” حیدر نے اسے بغور تکتے پوچھا۔
” کچھ خاص نہی بس۔۔ ویسے ہی۔” ساوری کا رنگ یکدم سرخ ہوا تھا۔ اسنے خود کو سنمبھال کر جواب دیا۔
” اگر انکی دوبارہ کال آئے تو تم مت اٹینڈ کرنا۔” حیدر نے لیپ ٹاپ کھولتے کہا۔
” ہمم۔” اسکی دھیمی سی آواز سن کر حیدر نے ایک نظر اسے دیکھا۔ جو لب کچلتی۔ اپنی ڈیسک کی طرف جا رہی تھی۔ ہمیشہ کی طرح اس وقت بھی اسکے سر پہ ہجاب تھا۔
” واپسی پہ تم میرے ساتھ گھر واپس جاؤ گی۔” اسنے کچھ سوچ کر اسے بتایا۔
” آپ بتا رہے ہیں۔ یا پوچھ رہے ہیں۔” وہ کچھ الجھی۔
” بتا رہا ہوں۔” حیدر نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
” سوری پر میں جیسے آئ تھی ویسے ہی واپس جاؤں گی۔” اسنے سنجیدگی سے کہا۔
حیدر نے اسے سرد نظروں سے گھورا تھا۔
” میں نے جو کہہ دیا سو کہہ دیا۔ اب فضول میں آرگیومنٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔”
” میں اپنی مرضی کی مالک ہوں۔ اور میں کسی کی نہی سنوں گی۔” اسنے چڑ کر کہا۔
حیدر ٹیبل پہ ہاتھ پوری شدت سے مارتا اسکے مقابل آیا تھا۔
” پر میری سننی پڑے گی۔” حیدر نے دانت کچکچائے تھے۔
” میں نہی سنوں گی۔” وہ اس سے دو قدم دور ہوکر گویا ہوئ۔
” جب گھر واپس جانے کا وقت آئے گا تب کی تب دیکھی جائے گی۔” حیدر نے کہتے ساتھ ہی اپنے قدم اسکی سمت بڑھا کر اسے پزل کرنا چاہا۔ وہ قدم قدم پیچھے جا رہی تھی۔ اور حیدر قدم قدم اسکے قریب۔ ساوری کی پشت جیسے ہی دیوار سے ٹکرائ اسنے سہمی سہمی نگاہوں سے حیدر کو تکا۔
” باہر جاؤ اور ریسیپشن پہ جاکر ، ریسیپشنسٹ سے کہو۔ کہ جو نیو کینڈٹس کے انٹرویو کی ڈیٹ فائنل کر دے۔” اسنے اسکی آنکھوں میں تکتے کہا۔ ساوری نے تھوک نگل کر سر کو شدت سے اثبات میں ہلایا۔
” اب جاؤ.” وہ اب بھی وہیں کھڑی رہی۔
” ہاں۔۔۔ آپ تو پیچھے ہٹیں ناں۔” اسنے گہری سانسیں لیکر کہا۔
حیدر اسے سنجیدگی سے تکتا۔ اس سے دور ہوا تھا۔ وہ اسکے پہلو سے نکل کر دروازہ کھول کر باہر بھاگی تھی۔ حیدر نفی میں سر ہلاتا اپنی جگہ پہ واپس جاکر بیٹھا تھا۔
☆☆☆☆☆
ساوری لب کچلتی ریسیپشن پہ آئ تھی۔ ریسیپشنسٹ اسے دیکھ کر دھیمے سے مسکائ تھی۔ ساوری مسکرا بھی نا سکی۔
” سر نے کہا ہے۔ کہ وہ نیو کینڈیٹس کے انٹرویو کی ڈیٹ فائنل کردو۔” اسنے منہ پھلا کر کہا۔
” اوکے۔ کر دیتی ہوں۔ پر تمہارا منہ کیوں پھولا ہوا ہے۔” اسنے اسکے خراب موڈ کو دیکھا تھا۔ وہ اسے پچھلے چند دنوں سے جانتی تھی۔ اور جب سے اسنے ساوری کو جانا تھا۔ یہ بات تو وہ بہت اچھے سے سمجھ چکی تھی۔ کہ ساوری ایک خوش اخلاق اور ہر دم مسکرانے والی لڑکی ہے۔
” کچھ نہی میرے موڈ کو کیا ہونا ہے۔” اسنے ریسپشن پہ سر ٹکا کر کہا۔
” اچھا۔۔۔ ویسے سر کا موڈ آج کیوں اتنا خراب ہے۔ خیر ویسے تو ہر وقت ہی انکا موڈ خراب رہتا ہے پر۔ آج کچھ زیادہ ہی خراب ہے۔ کہیں تمہیں بھی تو انہوں نے ہی بے عزت نہی کیا۔؟” ریسیپشنسٹ نے اندازہ لگایا۔
” نہی ۔۔۔ انہوں نے مجھے کچھ نہی کہا۔ بس میرا موڈ ایسے ہی خراب ہے۔” اسنے بیزاریت سے کہا۔
” کوئ پریشانی ہے۔ تو تم۔مجھ سے ڈسکس کر سکتی ہو۔” ریسیپشنسٹ نے پر خلوص مسکراہٹ لبوں پہ سجا کر کہا۔
” اگر تمہیں بتاؤں تو۔۔۔ تم کسی کو بتاؤ گی تو نہی۔” ساوری نے ذرا اسکی طرف جھک کر پوچھا۔
” نہی تم مجھ پہ اعتبار کر سکتی ہو۔” ریسیپشنسٹ نے خوشدلی سے کہا۔
” وہ ۔۔۔ ناں یار۔۔۔ میری ناں ۔۔۔ شادی۔۔۔” اس سے آگے وہ کچھ بولتی۔ اپنے پیچھے حیدر کی کرخت آواز سن کر اچھلی تھی۔
” سر۔۔۔” ساوری کا رنگ اڑا تھا۔
ریسیپشنسٹ بھی اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔
” میں نے آپکو یہاں کام سے بھیجا تھا۔ اور آپ گپے لڑانے کھڑی ہوگئیں۔ کب سے انتظار کر رہا ہوں میں۔ آپکا کہ آپ آئیں تو مجھے کچھ ڈیٹیل نکال کر دیں۔ داؤد اینڈ سنز کے بارے میں۔ پر آپ تو۔۔۔” وہ اسے اچھا خاصہ جھڑک چکا تھا۔ ریسیپشنسٹ نے نگاہیں چرائ۔
ساوری ایک نظر ریسیپشنسٹ کو دیکھ سہمے ہوئے انداز میں آفس کی سمت بھاگی تھی۔ حیدر مٹھیاں بھینچتا اسکے پیچھے گیا تھا۔ وہ آفس میں آکر بے آواز رونے لگی تھی۔
حیدر نے اندر آکر اسے بڑی بری نظروں سے دیکھا تھا۔
” کیا کرنے جا رہی تھیں تم۔” حیدر نے برہم ہوکر کہا۔
ساوری نے آنسوؤں سے بھری نگاہ اٹھا کر اسے ٹکا تھا۔
” وہ میری دوست ہے۔”
” پاگل ہوگئ ہو تم۔ اس آفس میں آئے تمہیں دن ہی کتنے ہوئے ہیں۔ جو تم نے اتنی پکی والی دوستیاں کر لی کہ تم اپنی اتنی پرسنل باتیں بتانے لگی۔” حیدر تو اسکی سادگی پہ عش عش کر اٹھا تھا۔
” میں اسے جانتی ہوں۔ وہ بہت اچھی ہے۔ جب بھی مجھ سے بات کرتی ہے مسکرا کر کرتی ہے۔ میں جب پہلی بار آئ تھی۔ تو آپ سے بھی پہلے اس سے ملی تھی۔” اسنے سوں سوں کرتے لہجہ میں کہا۔
” مجھے یقین نہیں آرہا کہ تم اتنی بڑی الّو کی پھٹی ہو۔” حیدر نے افسوس سے کہا۔
” آپ ۔۔۔۔ آپ کو شرم نہی آتی کسی سے ایسے بات کرتے ہوئے۔” وہ مزید سسکی تھی۔
” نہی۔۔!! بلکل نہیں تم جیسی بیوقوف پلس پاگل لڑکی کو یہ سب کہتے ہوئے مجھے بلکل شرم نہی آرہی۔” حیدر نے تپ کر کہا۔
” میں بیوقوف نہی ہوں۔ نا ہی پاگل ہوں۔ بس میں اداس تھی۔ اور میں چاہتی تھی۔ کہ مجھے کوئ ملے جس سے میں اپنے دل کی باتیں شیئر کرسکوں۔” اسنے تڑپ کر کہا۔
” آج کے بعد جو بھی دل کی بات ہو مجھے بتانا۔ مجھے اپنا دوست سمجھ لو۔ اپنی ہر بات۔ دکھ ، خوشی ، غصہ ہر چیز مجھ سے آکر کہو۔ اس وقت تمہارا کسی اور کو دوست بنانا تمہیں اور مجھے مکمل طور پہ برباد کرسکتا ہے۔ مس ۔۔۔ ساوری۔” حیدر نے قدرے دھیمے لہجہ میں کہا۔
ساوری نے اسے ایک نظر تکا۔ اور منہ بنا کر دھیرے سے سر اثبات میں ہلا گئ۔ حیدر گہری سانس لیکر رہ گیا تھا۔
☆☆☆☆☆
” گھر چلیں۔۔۔؟” حیدر نے اسے فائلز سمیٹتے دیکھ پوچھا۔
” آپ جائیں۔ میں خود آجاؤں گی۔” اسنے سنجیدگی سے جواب دیا۔
” اچھا تم ایسا کرو آفس سے نکل کر تھوڑا آگے پیدل چل کر آؤ۔ میں تمہیں وہاں سے پک کرتا ہوں۔” حیدر نے کچھ سوچ کر کہا۔
ساوری کو اسکی پیشکش اتنی بھی بری نا لگی۔ اسنے دھیرے سے سر اثبات میں ہلایا۔ ساوری حیدر سے پہلے نکلی اور حیدر اسکے کچھ دیر بعد نکلا۔ اور پھر اسکے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا۔ وہ جھجکتی آکر بیتھی۔
دونوں سفر کے دوران خاموش رہے۔ گھر پہنچے تو ساوری اپنے روم میں گئ۔ اسکارف وغیرہ اتار کر دوپٹہ اچھے سے اپنے سر پہ لیتی وہ باہر آئ تھی۔ بھوک کا احساس شدید تھا۔ وہ کچن میں گھسی اپنے اور حیدر کے لیئے کھانا بنا رہی تھی۔ جب حیدر اپنے کمرے سے نکل کر کچن میں ہی آیا۔ سفید دوپٹہ کے ہالے میں وہ لگی کھانا بنا رہی تھی۔
” تم نے کیوں زحمت کی۔ میں بنا لیتا کھانا۔” حیدر نے فریج سے پانی کی بوتل نکال کر سلیب پہ رکھی۔
” کوئ بات نہی۔” ساوری نے پیاز کاٹتے کہا۔ پیاز بہت تیز تھی۔ اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔
ساوری نے سو سوں کرتے جواب دیا۔ حیدر اسکی حالت دیکھ مسکرایا تھا۔
” روتے ہوئے کافی ڈھنگ کی لگتی ہو۔” حیدر کی بات پہ وہ تپ کر مڑی تھی۔
” کیا مطلب ہے آپکا میں باقی وقت اچھی نہیں لگتی۔”
” میں نے ایسا تو نہی کہا۔” حیدر نے کندھے اچکائے۔
” سب سمجھ میں آتی ہے۔ مجھے آپ نے تو سچ میں ہی بےوقوف سمجھ لیا ہے مجھے۔” وہ چھری پٹخ کر مڑی تھی۔
” پر میں نے تمہیں بیوقوف نہی کہا۔ مطلب کم از کم ابھی نہی کہا۔” وہ اسکے بگڑے تیور دیکھ رسانیت سے گویا ہوا۔
