Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 29)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 29)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
حیدر جب گھر آیا تو ، ساوری باہر بالکنی میں رکھے جھولے پہ بیٹھی تھی۔ وہ جھولے کے کنارے پہ سر ٹکائے ، آسمان کو خاموش نظروں سے تک رہی تھی۔
حیدر اسکے پاس آیا تھا۔ اور چیئر گھسیٹ کر اسکے مقابل بیٹھا۔
” کیا سوچ رہی ہو۔۔؟؟” حیدر نے اسکا ہاتھ تھام کر نرمی سے پوچھا۔
” کچھ نہی۔۔” وہ اپنے خیالوں سے چونکی ، اور اسے تکا۔
” کچھ تو سوچ رہی ہو ، ایسے ہی تو کوئ یوں خیالوں میں ڈوبا نہی بیٹھا رہتا۔۔۔” وہ اسکی آنکھوں میں جھانکتا مستفسر تھا۔
ساوری نے اسکی نظروں سے نظریں چرائ۔
” کچھ بھی نہی سوچ رہی تھی۔ تنہا تھی ، اکیلا پن محسوس ہو رہا تھا۔ اسی لیئے یہاں ایسے آکر بیٹھ گئ۔۔”
” جو بھی ڈر ہیں۔ خوف ہیں ، مجھ سے شیئر کیوں نہی کرتی۔۔تم۔۔؟؟” حیدر نے اسکا دوسرا ہاتھ بھی تھاما تھا۔
” اپنے ڈر ، خوف ، وہمے ان لوگوں سے شیئر کیئے جاتے ہیں۔ جن سے کوئ تعلق ہو۔۔” وہ سنجیدگی سے کہتی ، اسے ایک نظر دیکھ کر رکی تھی۔
” اور۔۔۔ آپ سے میرا کوئ تعلق نہی۔۔” اسنے اپنے دونوں ہاتھ اسکی گرفت سے نکال کر تلخی سے کہا۔
” کوئ تعلق ہو نا ہو ، دوستی کا تعلق تو ہے ناں۔۔ ” حیدر نے نرمی سے کہا۔
” دوستی۔۔۔!!!
ہنہ۔۔۔ جانتے بھی ہیں کہ دوستی کا حق ادا کرنا کتنا مشکل ہے۔ اکثر لوگ دوستی کے امتحان میں فیل ہوجاتے ہیں ، اور آپ جیسے لوگوں کے فیل ہونے کے امکانات تو بہت زیادہ ہوتے ہیں۔۔” وہ تمسخر سے کہتی بالکنی سے آٹھ کر چلی گئ تھی۔
حیدر گہری سانس لیتا اسکے پیچھے گیا تھا۔ وہ کچن میں کھڑی دودھ گلاس میں انڈیل رہی تھی۔
” ساوری ۔۔۔۔ مجھے تم سے محبت ہوگئ ہے۔۔۔” حیدر نے ایک جذب سے کہا۔
ساوری کے ہاتھ تھمے تھے۔ اسنے نظریں موڑ کر اسے دیکھا۔ دودھ کا گلاس سلیب پہ پٹخ کر ، اسکے مقابل آئ تھی۔ اور ایک زناٹے دار تھپڑ اسکے گال پہ رسید کیا تھا۔ حیدر نے بے یقینی کے عالم میں اسے تکا تھا۔
” سمجھ کیا رکھا ہے مجھے ، پہلے دوستی ۔۔۔ کا جھانسہ، اب محبت کا۔۔۔۔!!!
بچی نہی ہوں میں ، سب سمجھتی ہوں۔ میں آپکے بچے کو جنم دے رہی ہوں۔ پیسے کی خاطر یہ ایک سودا ہے۔ اور اس سودے میں ، میں مزید کوئ سودا نہی چاہتی۔ اپنے دل کا سودا تو بلکل نہی لگا سکتی۔۔۔!!” وہ چلا کر کہتی کچن سے نکل کر اپنے کمرے میں بند ہوگئ تھی۔ حیدر ماتھا مسلتا اپنی آنکھیں موند کر رہ گیا تھا۔
وہ جتنا ساوری اور اپنی لائف آسان کرنے کی کوشش کرتا چیزیں اتنی ہی مشکل ہوتی چلی جاتیں۔ وہ تاسف سے سر ہلاتا لاؤنج میں صوفہ پہ آکر لیٹ گیا تھا۔
☆☆☆☆☆
” مصطفی اٹھو ناں۔۔۔!!
دیر ہو رہی ہے۔ آفس نہی جانا کیا آج۔۔۔” وہ نہائ دھوئ پرپل کلر کے لان کے پرنٹڈ سوٹ میں کھڑی اسے جگانے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھی۔ بال اسکے ہلکے ہلکے گیلے ہو رہے تھے۔
” نہی آج دل نہی کر رہا جانے کا۔۔” مصطفی نے کروٹ بدلتے تکیہ اپنے منہ پر رکھا۔
” ایسے کیسے دل نہی کر رہا ، چلو شرافت سے اٹھو کام چور کہیں کے۔۔۔” وہ اسکے کندھے کو مسلسل جھنجوڑ رہی تھی۔
” یار ۔۔۔۔ پلیز ترس کھا لو مجھ پر اور چھوڑ دو مجھے۔۔۔۔” وہ منت کر رہا تھا۔
” کیا ہوگیا ہے تمہیں۔ وہ انسان جس کو کام کے سوا کچھ سوجتا نہی تھا۔ آج اسکو چھٹی کرنی ہے۔ حیرت کی بات ہے۔” وہ کشن اسکے منہ پہ سے ہٹا کر گویا ہوئ۔
” یہی تو میں کہہ رہا ہوں۔ وہ لڑکی جسکے لیئے سونے کے علاوہ کچھ بھی ضروری نا تھا۔ وہ اب کیوں اتنا جلدی اٹھنے لگی ہے۔۔۔” مصطفی نے کہتے ساتھ ہی اسکی کلائ تھام کر اسے کھینچا تھا۔ وہ سیدھی اسکے پہلو میں آکر گری تھی۔
” مصطفی۔۔۔!!” اسنے اسکی حرکت پہ اسے گھورا تھا۔
” جی مصطفی کی جان ۔۔۔” وہ اسکے گیلے بالوں میں منہ دے کر گویا ہوا۔
” یار۔۔۔ دیر ہورہی ہے تمہیں۔ یہ چھچھور پنتیاں بعد میں کر لینا۔۔۔” وہ اس سے دور ہوکر بیٹھی تھی۔
” نہی مجھے تو ابھی ہی کرنی ہیں۔۔” وہ خماریت سے کہتا اس سے پہلے کے اسے دوبارہ خود پہ گراتا۔ نازنین اسکے پاس سے آٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آئ تھی۔ اور اپنے بالوں میں کنگھا کرنے لگی تھی۔
” شرافت سے میرے پاس واپس آؤ۔۔۔” مصطفی نے بگڑے ہوئے تیور لیئے کہا۔
” شرافت سے اٹھو ، اور آفس کے لیئے تیار ہو۔۔۔” نازنین نے بگڑے تیور لیئے حکم صادر کیا۔
” تم مجھ پہ حکم چلا رہی ہو۔۔۔؟؟” مصطفی کو اچنبھا ہوا۔
” جو بھی سمجھو۔۔۔” وہ بال پشت پہ جھٹکتی، اترا کر گویا ہوئ۔
” زیادہ اتراؤ مت ، پتا ہے ناں کہ اب کچھ کہوں گا نہی تو ، نخرے دکھانے لگ گئ ہو۔۔۔” مصطفی نے خفگی سے کہا۔ اور بستر سے اٹھ کر اسکی پشت پہ آکر کھڑا ہوا تھا۔
نازنین اسے شیشہ میں دیکھ کر گھورتی ، اس سے تھوڑی دور ہوئ تھی۔ مصطفی منہ بناتا فلیکس کے ساتھ گویا ہوا۔
” تمہارے پاس نہی آیا ، زیادہ خوش فہم ہونے کی ضرورت نہی۔”
” میرے پاس نہی آئے تو پھر کس کے پاس آئے ہو یہاں۔۔۔” وہ بنا مڑے اپنے بالوں کو جوڑے کی شکل میں باندھنے لگی تھی۔ جب مصطفی نے جھک کر ایک لمحے میں ، اسکے گال پہ اپنے لب رکھے تھے۔ نازنین نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا تھا۔ اور مصطفی کمینگی سے مسکراتا۔ واشروم میں بند ہوگیا تھا۔
” چپکو۔۔۔” نازنین بڑبڑائ تھی۔ اور پھر اپنی بڑبڑاہٹ پہ مسکرا کر رہ گئ تھی۔
☆☆☆☆☆
مصطفی اور نازنین ناشتہ کر رہے تھے۔ جب اوپر سے نرس بھاگتی ہوئ نیچے آئ تھی۔
” سر عالم سر کو ہوش آگیا ہے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو بھی کال کر دی ہے۔ بس وہ بھی ابھی آتے ہونگے۔۔”نرس نے پھولے ہوئے سانس سمیت کہا۔
” سچ۔۔۔ بھائ۔۔” مصطفی اور نازنین اوپر کی جانب بھاگے تھے۔
جب وہ دونوں اوپر آئے تو ، عالم کی آنکھیں کھلی ہوئ تھیں۔ اور وہ سرد نظروں سے چھت کو گھور رہا تھا۔
” بھائ۔۔۔” نازنین اسکے برابر آکر بیٹھی تھی۔ عالم نے اسے سنجیدگی سے تکا۔
” بھائ آپ ٹھیک ہیں ناں۔۔۔!!” نازنین کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔
” ٹھیک ہوں میں۔ تم پریشان نا ہو۔۔۔” عالم کی آواز میں نقاہت تھی۔
” عالم بھائ ۔۔۔ ” مصطفی کی آنکھوں میں آنسو چمکے تھے۔
” میں ٹھیک ہوں مصطفی۔۔۔” عالم نے اسکے چہرے پہ چھایا اضطراب دیکھ گہری سانس لیکر کہا۔
” ڈاکٹر صاحب آگئے ہیں۔” ملازمہ نے آکر بتایا۔
” ہاں ان سے کہو اوپر آجاؤ…” مصطفی نے سنجیدگی سے کہا۔
ملازمہ سر ہلاتی باہر چلی گئ۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر صاحب آئے۔ او عالم کا چیک اپ کیا۔ اس سے چند سوال کیئے۔ اور پھر اسکا زندگی کی جانب ایک نیا ویلکم کیا۔
” اب یہ بہتر ہیں۔ پر چلنے پھرنے میں انہیں دکت ہوگی۔ پر انشااللہ دھیرے دھیرے یہ بہت جلد ری کور کر جائیں گے۔۔” ڈاکٹر صاحب نے مسکرا کر بتایا۔
” تھینک یو سو مچ ڈاکٹر صاحب۔۔۔” مصطفی نے انکا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
” مینشن ناٹ۔۔۔ میں امید کرتا ہوں۔ ایک ہفتے بعد آپ اپنا چیک اپ کرانے خود ہاسپٹل آئیں گے۔۔” ڈاکٹر صاحب نے عالم کو دیکھ کر مسکا کر کہا۔ جس پہ عالم محض پھیکا سا مسکا کر رہ گیا۔
ڈاکٹر صاحب کوئ آدھا گھنٹہ بیٹھے تھے۔ اور اس دوران انکے ساتھ ناشتہ بھی کر لیا تھا۔ اور پھر چلے گئے۔
عالم نے مصطفی کو خاموش نظروں سے تکا۔ تو مصطفی انہیں دیکھ کر مسکرایا تھا۔
” وہ کہاں ہے۔۔۔؟” عالم نے سنجیدگی سے پوچھا۔
” ک۔۔ کون۔۔؟” مصطفی نے تھوک نگل کر پوچھا۔
” اچھے سے جانتے ہو کس کا پوچھ رہا ہوں۔ اور جھوٹ مت بولنا۔ کیونکہ تم یہ سوچ کر کہ میں کچھ سن نہی رہا بہت کچھ کہہ چکے ہو۔” عالم نے درشتی سے پوچھا۔
” وہ مل گئ ہے۔ اور ۔۔ عالم۔۔ وہ بیا ہے۔۔” مصطفی کی بات پہ عالم کے گلے میں ایک گٹلی ابھر کر معدوم ہوئ تھی۔
” اسے بلاؤ۔۔” عالم نے سنجیدگی سے کہا۔
” وہ یہاں نہی ہے۔۔۔” مصطفی نے اسے آگاہ کیا۔
” وہ جہاں بھی ہے ، مصطفی اسے میرے پاس واپس لیکر آؤ۔۔” عالم کے لہجہ میں ایک گرج تھی۔
” پر وہ آنے کو تیار نہی۔۔” مصطفی نے بیچارگی سے کہا۔
” مجھے نہی پتہ اسے یہاں لیکر آؤ ، اور اسے یہ مت بتانا کہ میں ہوش میں آچکا ہوں۔۔۔” عالم نے سرد نظریں سامنے دیوار پہ ٹکائے کہا۔
” میں کوشش ہی کرسکتا ہوں۔۔۔” مصطفی نے بیچارگی سے کہا۔
” مجھے کوشش نہی۔ وہ چاہیئے۔۔۔” عالم نے آنکھیں موند کر کہا۔
مصطفی دھیرے سے سر ہلاتا۔ چلا گیا۔
☆☆☆☆☆
” بیا پلیز چلو میرے ساتھ۔ تمہارے شوہر کو تمہاری ضرورت ہے۔۔” مصطفی نے اسکی منت کی۔
” اسے میری ضرورت ہے۔ پر مجھے اسکی کوئ ضرورت نہی۔۔۔” شعلہ نے سنجیدگی سے کہا۔
” پلیز بیا چلو۔۔ تم جو کہو گی میں وہ کرونگا۔۔” مصطفی نے اسے منانا چاہا۔
” ہنہ سوچ لو ، میں جو کہوں گی وہ کروگے۔۔” شعلہ جلتے لہجہ میں مستفسر ہوئ۔
” ہاں تم جو کہو گی میں کرونگا بیا۔۔۔” مصطفی نے چہک کر کہا۔
” ٹھیک ہے اپنی بیوی کو طلاق دے دو پھر۔۔۔” شعلہ نے سرد لہجہ میں کہا۔
مصطفی اپنی جگہ پھتر کا ہوا۔ اسے سمجھ نہی آرہا تھا کیا جواب دے۔ وہ کئ لمحے خاموش بیٹھا رہا۔
” کہنا بہت آسان ہوتا ہے مصطفی ، پر اپنے کہے پہ عمل پیرا ہونا بہت مشکل۔۔۔ تم جاسکتے ہو اب یہاں سے۔۔” شعلہ نے تمسخر سے کہا۔
” میں تمہاری بات ماننے کے لیئے تیار ہوں۔ پر میں طلاق ابھی نہی دے سکتا ۔۔۔ کچھ ماہ بعد دے دونگا۔۔۔” مصطفی نے کچھ سوچ کر کہا۔
” ٹھیک ہے پھر اسے تمہارے لیئے تھوڑا اور آسان بنا دیتے ہیں۔ اپنا رویہ اپنی بیوی کے ساتھ پہلے جیسا کردو۔ مجھے بھی تو پتا چلے میرا بھائ مجھ سے کتنا پیار کرتا ہے۔۔” اسنے سنجیدگی سے کہا۔
” ٹھیک ہے۔ پھر چلو میرے ساتھ۔۔۔” مصطفی نے سنجیدگی سے کہا۔
” یاد رکھنا جس دن تم نے میری بات کے خلاف قدم اٹھایا ، اس دن میں ایسی جگہ چلی جاؤں گی کہ تم مجھے چاہ کر بھی نہی ڈھونڈ پاؤ گے۔۔” شعلہ نے درشتی سے کہا۔
” میں تمہاری بات کی خلاف ورزی نہی کرونگا۔۔۔” مصطفی نے جھٹ کہا۔
” ٹھیک ہے۔ میں آتی ہوں اپنا سامان لیکر۔۔۔” وہ اپنے کمرے میں آکر اپنا سامان باندھ رہی تھی۔ جب شہلا اسکے کمرے میں آئ۔
” مجھے یقین نہی آرہا تم واپس جا رہی ہو ، میں تمہارے لیئے بہت خوش ہوں۔ شعلہ تم نے یہ فیصلہ لیکر بہت اچھا کیا۔ ہم جہاں سے ہوکر آئ ہیں ناں۔ ان لڑکیوں کے گھر بس جانا بڑی بات ہے۔۔۔” شہلا نے محبت سے کہا۔ اسکی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے۔
” بے فکر رہو ، گھر تو میں تمہارا بھی بسا کر ہی رہونگی۔۔۔” شعلہ نے اسکے گلے لگتے کہا۔
شہلا پھیکا سا مسکائ تھی۔
” چلتی ہوں ، کوئ بھی بات ، پریشانی ہو تو مجھے بلا جھجک کال کرنا۔۔۔” شعلہ نے کہتے ساتھ ہی اپنا بیگ اٹھانا چاہا۔ جب شہلا نے اسکے ہاتھ سے بیگ لیا اور اسکے ساتھ لیکر باہر گئ۔ مصطفی نے اسکا بیگ گاڑی کی ڈگی میں رکھا۔ اور شعلہ کا سفر پھر سے عالم کی طرف گامزن ہوگیا۔
☆☆☆☆☆
شعلہ جیسے ہی اندر آئ۔ نازنین جو لاؤنج میں بیٹھی تھی۔ اسے دیکھ کر کھڑی ہوگئ۔
” بھابھی آپ۔۔۔” نازنین اسے دیکھ کر خوفزدہ ہوئ۔
پر شعلہ کے پیچھے آتے مصطفی کو دیکھ اسکی ہمت بندھی تھی۔
” آؤ تمہیں عالم کے کمرے میں چھوڑ آؤں۔” مصطفی نے نرمی سے کہا۔ اور نازنین کو سرے سے نظر انداز کرتا اوپر چلا گیا۔
نازنین کو عجیب تو لگا۔ پر اسے لگا کہ شاید وہ پریشان ہو۔ خیر وہ وہیں صوفہ پہ واپس بیٹھ گئ۔
” یہ کمرہ عالم کا ہے۔ تمہارا سامان ملازمہ لے آئے گی۔۔” مصطفی نے سنجیدگی سے کہا۔ اور دروازے سے ہی واپس لوٹ گیا۔ شعلہ نے قدم کمرے میں رکھے۔ تو وہ بستر پہ آنکھیں بند کیئے ہوش و خرو سے بیگانا پڑا تھا۔
شعلہ چلتے چلتے اسکے سر پہ آکر کھڑی ہوئ تھی۔
” تم زندہ کیسے بچ گئے۔۔۔” وہ ہنسی تھی۔
” تمہیں تو مرنا تھا۔ عالم تم زندہ کیسے بچ گئے۔۔۔” وہ اسکا ہاتھ تھام کر بے بسی سے ہنسی تھی۔ آنکھوں میں آنسو چمکے تھے۔ اور یکدم بے قابو ہوتے آنکھوں سے پھسلتے۔ عالم کے ہاتھ کی پشت پہ گرے تھے۔
” بہت پیار کرتی ہوں تم سے۔۔۔ پر جو تم نے میرے ساتھ کیا تھا۔ وہ میں کبھی بھول نہی پاؤں گی۔ اور اسکا بدلہ تو لینا ہی تھا میں نے۔۔۔!!
تمہیں۔۔۔ پتہ۔۔ ہے۔۔ ماں بننے والی ہوں میں۔ اور افکارس تم باپ۔۔۔” وہ اپنی بات مکمل کرتی سسکی تھی۔
” میں کتنا بھاگی تم سے پر وہ آخری رات جب میں یہاں سے اپنا انتقام پورا کرکے بھاگنے والی تھی۔ اس رات تم نے مجھے کمزور کردیا۔ میری روح کو تو فتح کر لیا تھا۔ پر میرے جسم کو بھی اپنی ملکیت بنا دیا میر۔۔۔” وہ لب دبا کر کہتی اسکا ہاتھ تھام کر دھیرے سے اپنے پیٹ تک لائ تھی۔ اور اپنے ابھرے ہوئے پیٹ پہ عالم کا ہاتھ دھرا۔
” دیکھو تمہارا بچہ۔۔۔ بہت شرارتی ہے ، ابھی سے میں سوچتی ہوں۔ جب یہ اس دنیا میں آجائے گا۔ تو کتنا شرارتی ہوگا۔ تم اسکے دل کی دھڑکن محسوس کرسکتے ہو ناں۔۔۔” وہ کہتے ساتھ ہی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی۔
عالم نے اپنی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا تھا۔ دھیرے سے اسکے پیٹ پہ اپنا ہاتھ سرکایا تھا۔ شعلہ کا پورا وجود ایک جگہ تھما تھا۔ اسنے بے یقینی کے عالم میں میر عالم کو دیکھا۔ وہ آنکھیں کھولے۔ اسے زخمی نگاہوں سے تک رہا تھا۔
” تم۔۔۔ تمہیں ہوش آگیا۔۔۔” وہ بے یقین ہوئ۔
” بہت پہلے ہی ہوش آگیا تھا۔ پر اب اس پہر لگتا ہے کہ سچ میں ہوش میں آگیا ہوں۔ تم نے مجھے مارنا چاہا۔ اور اب بھی تم مجھے مارنا چاہتی ہو۔ تم نے میرے اعتماد کا قتل کیا ہے۔ شعلہ اسکے لیئے تمہیں کبھی معافی نہی ملے گی۔۔” عالم کی آنکھوں میں ایک سرد پن تھا۔ جسے دیکھ شعلا کی ریڑھ کی ہڈی سنسنائ تھی۔
” مجھے یہ بات کہتے ہوئے بلکل بھی افسوس محسوس نہی ہورہا۔ کہ مجھے اپنی بیوی ، اپنے بچے کی ماں سے شدید نفرت ہے۔۔۔” عالم نے کہتے ساتھ ہی اسکے پیٹ پہ سے اپنا ہاتھ ہٹایا تھا۔
” میرے خیالات بھی تمہارے لیئے کچھ ایسے ہی ہیں۔ نفرت ہے مجھے تم سے۔۔۔” شعلا نے سرد لہجہ میں تلخی سے کہا۔ اور اسکے پاس سے آٹھ گئ۔
عالم اسکے سراپے کو گھور کر رہ گیا تھا۔ اسے لگا تھا۔ شاید اسے اب اپنے کیئے پہ پشتاوا ہو۔ پر اسکی وہ مثال تھی۔ کہ رسی جل گئ ، پر بل نا گیا۔
” تم نے میری اتنے سالوں کی محنت کو خاک میں ملا دیا ، شعلہ ۔۔۔ تم نے جو کیا اسکے لیئے تمہیں بہت پشتانا پڑے گا۔” عالم بستر پہ آٹھ بیٹھا تھا۔ پیر بستر سے نیچے اتار کر اسنے جیسے ہی کھڑے ہونے کی کوشش کی تو ، اسکے پیر لڑکھڑائے اس سے پہلے کے وہ زمین بوس ہوتا۔ شعلہ آگے بڑھ کر اسے تھاما تھا۔
عالم نے بے رخی سے اسے خود سے دور جھٹکا تھا۔ اور دیوار کا سہارا لیتا بہ مشکل واشروم تک گیا تھا۔ شعلہ نے اسے نم آنکھیں لیئے تکا۔ اور اپنے آنسو گالوں کی زینت بننے سے پہلے ہی صاف کر لیئے۔
☆☆☆☆☆
