Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 07)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 07)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
” یہ تمہارا مسئلہ نہیں کہ کب ان ثبوتوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔ تم مجھے ثبوت دو۔ تاکہ مجھے جب جہاں سمجھ آئے میں وہاں ان ثبوتوں کا استعمال کر سکوں۔” میر عالم خان نے ایک ایک لفظ چبا کر ادا کیا تھا۔
” میر عالم خان ۔۔۔۔۔ میری بات ذرا غور سے سنو۔ میں ہاتھ باندھے کھڑی ہوں۔ تو اسکا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ یہ ہاتھ وار نہیں کریں گے۔ اور رہی بات میں نے کہا ناں ثبوت میں تمہیں ہی دونگی۔ تو مطلب دونگی۔ اپن کی زبان کی بڑی ویلیو ہے مارکیٹ میں۔” اسنے شانوں پہ پڑا سیاہ آنچل اتار کر بیڈ پہ اچھال کر پھینکا تھا۔
میر عالم نے اسکے ہوش ربا سراپے سے نگاہیں چرائ تھیں۔
” میں تم پہ یقین نہیں کر سکتا۔ جو مالک شاہ سے پانچ کروڑ لے کر ، مجھ سے پانچ کروڑ زیادہ ملنے پہ اسے دھوکا دے سکتی ہے۔ اسکا قتل کروا سکتی ہے پیسہ لینے کے بعد بھی۔ میں اس لڑکی پہ قطعاّ بھروسہ نہیں کر سکتا۔” انکا لہجہ مضبوط تھا۔
” آہاں اگر اسنے پانچ کروڑ دیئے ہوتے تو آج ، زندہ ہوتا۔” وہ اسکی سائڈ سے ہوکر نکلنے کو تھی۔ کہ میر عالم خان نے ایک جھٹکے سے اسکا بازو تھام کر اسے کھینچ کر ایک بار پھر اپنے مقابل کھڑا کیا تھا۔ وہ اسکے سینے سے ٹکراتی ٹکراتی بچی تھی۔
” تو تم نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا۔” وہ بے یقین ہوئے۔
” نہیں۔۔۔ جھوٹ نہی کہا تھا۔ کہا تو سب کچھ سچ ہی تھا۔ پر۔۔۔۔ رقم صرف اسنے دو کروڑ دی تھی۔ اور مجھے اسوقت دس کروڑ کی اشد ضرورت تھی۔ اسی لیئے میں نے جھوٹ کہا۔ پر دیکھو جان بچے تو لاکھوں پائے۔ شکر کرو جان تو بچی نا تمہاری۔” وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھ کر نڈر لہجہ میں گویا ہوئ۔
” امپاسبل۔۔۔!!! مجھے یقین نہیں آرہا۔ کہ میں ایک قاتل ، جھوٹی ، بلیک ملیر عورت کا شوہر ہوں۔” میر عالم کو صدمہ ہوا تھا۔
” احسان مانو ، تمہیں میرا شوہر ہونے کا اعزاز مل گیا نجانے کتنے ، دل جلے یہ اعزاز پانے کو بے تاب تھے۔” وہ ذرا سا اسکے قریب ہوئ تھی۔
” جو بے تاب تھے۔ انہی کو دے دیتی یہ اعزاز۔” وہ سرخ رنگت لیئے بھڑکے تھے۔
وہ انکی سرخ ہوتی رنگت دیکھ لب دبا کر مسکرائ تھی۔ اور دھیرے سے انکے کالر کو تھام کر۔ وہ اپنا چہرہ بلکل انکے چہرے کے قریب لے آئ تھی۔
” یہ اعزاز اتنا ارزاں نہیں تھا۔ کہ کسی بھی ایرے غیرے، نتھو غیرے کو دے دیتی۔” اسنے لب دبا کر کہا تھا۔
” زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہی۔ دور رہو مجھ سے۔” میر عالم خان نے اسے ایک جھٹکے سے خود سے دور کیا تھا۔
” یہ تو غلط بات ہے۔ میر صاحب ۔۔۔!!! یہ جملہ تو میرا تھا۔ مجھے بولنا تھا۔ پر۔۔۔ خیر کبھی مجھے بھی ملے گا موقع یہ بولنے کا۔” وہ اسکے کندھے پہ سے نادیدہ گرد جھاڑتی۔ الماری سے اپنے کپڑے نکال کر واشروم میں چلی گئ تھی۔ اور وہ مٹھیاں بھینچ کر رہ گئے تھے۔ انہیں یقین نہیں آرہا تھا۔ کہ وہ اتنی بڑی بے وقوفی کر کیسے سکتے ہیں۔ دس کروڑ اتنی آسانی سے ایک فراڈ لڑکی کو دے کیسے سکتے ہیں۔
وہ ابھی انہی سوچوں میں گھرے تھے۔ کہ وہ فریش سی واشروم سے نکلی تھی۔ سیاہ کرتا ، پاجامہ پہنے۔ گیلے بالوں کو تولیہ سے رگڑتی وہ ایک بار پھر ڈریسنگ کے آگے آکر کھڑی ہوئ تھی۔
” کیا آج ساری رات یہیں کھڑے رہ کر ، دس کروڑ کے بارے میں سوچنا ہے۔۔؟؟” وہ تولیہ صوفہ پہ اچھالتی بال اپنی پشت پہ جھٹک کر مستفسر ہوئ۔
” اگر مجھے ایک ہفتہ کے اندر کوئ ، بہتر پروگریس نہیں ملی ناں۔ تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔” میر عالم نے سنجیدگی سے کہا۔
وہ گہری سانس خارج کرتی اپنی آنکھیں گھما کر رہ گئ تھی۔
” بہت ہی بے صبرے اور عجیب انسان ہو۔” وہ بیڈ پہ جاکر بیٹھی تھی۔ اپنا سیاہ دوپٹہ جو اسنے اتار کر بیڈ پہ پھینکا تھا۔ اسے اٹھا کر سائڈ پہ فرش پہ پھینکا تھا۔ میر عالم خان کی آنکھیں ابل کر باہر کو آئ تھیں۔ کیونکہ وہ نوٹ کر رہے تھے۔ پھیلاوا اور گند مچانے میں تو وہ سب سے آگے تھی۔
” یہ گندگی میں بلکل برداشت نہی کرونگا۔” انہوں نے اسے وارن کیا تھا۔
” ڈونٹ وری کل سب صاف کروا دونگی۔” وہ بیزار سی شکل بنا کر گویا ہوئ۔
وہ کمفرٹر کھول کر بیٹھی تھی۔ اور لیٹنے سے پہلے ایک بھر پور جمائ لی تھی۔ میر عالم نے ایک بار پھر نگاہ چرائ تھی۔
وہ کمفرٹر اوڑھ کر لیٹی تھی۔ جب میر عالم خان نے لیٹتے ۔ بیچ میں تکیوں کی دیوار بنائ تھی۔ شعلہ نے اسے عجیب سی نظروں سے تکا تھا۔
” سیریسلی۔۔۔ اتنا خود پہ بھروسہ نہیں۔” اسکی بات پہ میر عالم نے اسے گھورا تھا۔
” خود پر تو ہے پر تم پر نہی۔” انہوں نے جل کر کہا۔
” سنکی بڈھا۔۔” وہ بڑبڑائ تھی۔
پر اسکی بڑبڑاہٹ وہ بخوبی سن چکے تھے۔
” خون آشام چڑیل۔” وہ بھی اسی کی طرح بلند آواز میں بڑبڑائے تھے۔ شعلہ نے تپ کر بیچ میں پڑے تکیوں کی دیوار کا لحاظ کیئے بغیر ایک زور دار لات ماری تھی۔ وہ کرآہ کر رہ گئے تھے۔
☆☆☆☆☆
” آپ کہنا کیا چاہ رہی ہیں میں سمجھنے سے بلکل قاصر ہوں۔” در فشاں نے نا سمجھی سے پوچھا۔
” میں کہنا یہ چاہ رہی ہوں۔ کہ تم بچہ پیدا نہی کرنا چاہتی نا کرو۔ حیدر سے کہو کنٹریکٹ میرج کر لے۔ تم اسے آمادہ کرو اس بات کیلیئے۔ دیکھو عالم نے بھی شادی کر لی۔ اسکے بھی بچے ہونگے۔ کل کو ساری دولت عالم اور اسکے بچے لے اڑیں گے۔” اسکی ماں آج اسے اپنے ساتھ رات رکنے کے بہانے لے آئ تھیں۔
” آپ چاہتی ہیں۔ میں حیدر کی دوسری شادی کرا دوں۔؟” اسنے پوچھا۔
” ہاں۔۔” انہوں نے اسے دیکھ کر سنجیدگی سے کہا۔
” پاگل لگتی ہوں کیا۔ میں آپکو۔۔!!” اسنے بھڑک کر کہا۔
” دیکھو دوسری شادی ہوگی پر ایسی نہیں۔ کنٹریکٹ ہوگا ناں۔ جیسے ہی بچہ ہوجائے گا۔ حیدر لڑکی کو ڈائیورس دے دے گا۔” انہوں نے ایک اور کوشش کی اسے سمجھانے کی۔
” حیدر نہی مانے گا۔” وہ کچھ دھیمی پڑی تھی۔
” اس سے میں نے بات کی ہے۔ تم بھی کوشش کرو۔ میں بھی کرونگی۔ اور تمہاری خالہ بھی کوشش کر۔رہی ہے۔ سمجھ رہی ہو۔ ناں تم ۔۔۔ کب تک نہیں مانے گا۔ کبھی تو پھتر میں شگاف پڑے گا ناں۔۔” انہوں نے اسکے ہاتھ تھامے تھے۔
” اور اگر وہ کبھی نا مانا تو؟؟۔” اسے خدشہ لاحق ہوا۔
” ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ بچہ کی خواہش اسے بھی بہت ہے۔ ماننا تو پڑے گا اسے۔” اسکی ماں نے پر یقین ہو کر کہا۔
” اوکے لیٹس سی۔” درفشاں نے آنکھیں گھما کر کہا۔
☆☆☆☆☆
صبح کا روشن سورج نکلنے سے پہلے ہی وہ اٹھ چکی تھی۔ واشروم میں جا کر ٹی شرٹ اور ٹراؤزر پہن کر نکلی۔ اپنے سامان میں سے میٹ اٹھا کر بچھائ۔
وہ وارم اپ ایکسرسائز کر رہی تھی۔ جب میر عالم کروٹ کے بل مڑا تھا۔ ہلکی سی آنکھیں کھولیں۔ تو اسے ایکسرسائز کرتا دیکھ بے ساختہ موبائل اٹھا کر ٹائم دیکھا تھا۔ صبح کے چار بج رہے تھے۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئے تھے۔
” اتنی صبح ، صبح اٹھ جاتی ہو۔۔؟؟” انہیں حیرت ہوئ تھی۔
وہ اسپلٹس کرنے لگی تھی۔ میر عالم نے متاثر کن نظروں سے اسے تکا تھا۔
” ہمم۔” ہلکی سی ہمم پہ میر عالم نے آئبرو آچکائ تھیں۔
وہ اسپلٹس کرکے اٹھی۔ اور گردن گھمائ۔ اسکی گردن سے ٹخ ٹخ کی تین چار آوازیں نکالیں۔
میر عالم نے آنکھیں واپس موند لیں تھیں۔
اب وہ پلینک کر رہی تھی۔ اور آخر میں سکی ہوپس کرکے وہ میٹ سمیٹ کر۔ اسکی ایک گھنٹہ کی ایکسرسائز مکمل ہوچکی تھی۔ اسنے وقت دیکھا پانچ بج رہے تھے۔ فجر کی اذان میں کچھ وقت باقی تھا۔
وہ گہری سانس لیتی۔ بالکنی کا ڈور کھولتی باہر نکل گئ تھی۔
کئ لمحہ بالکنی میں واک کرتی رہی ، کچھ دیر بعد آزانوں کی آوازیں آنے لگیں وہ جلدی سے اندر آئ تھی۔ جو سیاہ دوپٹہ اسنے رات میں پھینکا تھا۔ اسے اٹھا کر دوبارہ سر پہ لیا تھا۔ آزان مکمل ہوئ۔ وہ اٹھی کمیز شلوار لے کر۔ شاور لیا۔ اور باہر آکر جائے نماز بچھائ۔
نماز پڑھنے کھڑی ہوئ۔ نماز پڑھ کر جب ہاتھ دعا کے لیئے اٹھائے۔ تو آنکھیں لبالب آنسؤں سے بھر گئیں۔ وہ تقریبا روشنی نکلنے تک بیٹھی دعا مانگتی رہی۔ دعا مانگ کر اٹھی۔ واشروم میں گئ چہرے پہ اچھے سے پانی مارا۔ اور کمرے میں آکر جب وہ اپنی جگہ پہ واپس آکر لیٹی ہی تھی۔ کہ کمرے کا دروازہ بجا۔ اسنے آٹھ کر کمرے کا دروازہ کھولا۔ تو سامنے مصطفی کھڑا تھا۔ مصطفی کو دیکھ کر اسکی آنکھوں میں نرمی در آئ تھی۔
” وہ۔۔۔ سوری پر۔۔ روز اٹھاتا ہوں۔ تو عادت ہوگئ ہے۔ اور مجھے لگا شاید آپ سویرے اٹھنے کی عادی نا ہوں تو۔۔۔” اسنے سنجیدگی سے بتایا۔
” اندر آجاؤ۔” وہ دروازہ کھول کر ہٹ گئ تھی۔
” نہیں بس ۔۔۔ وہ ۔ آپ سر کو اٹھا دیں۔” اسے آج پہلی بار میر عالم خان کے کمرے میں آتے ہوئے جھجک محسوس ہوئ تھی۔
” اٹس اوکے۔۔ آجاؤ اندر اور اٹھا لو۔ اپنے سر کو۔” اسنے بیڈ پہ واپس اپنی جگہ پہ بیٹھتے ہوئے کہا۔
مصطفی جھجکتا ہوا اندر آیا تھا۔ شعلہ نے اپنا موبائل اٹھایا تھا۔ اور فالتو کی اسکرولنگ کرنے لگی تھی۔
” سر۔۔۔” مصطفی نے میر عالم کو آواز دی۔
پر میر عالم اپنی جگہ سے ٹس سے مس نا ہوا۔
” سر۔۔” ایک بار پھر آواز دی۔
شعلہ نے مصطفی کو گھورا تھا۔
” کیا سر۔۔۔ سر لگا رکھی ہے۔ ایسے کندھے سے پکڑ کر زور سے ہلاتے ہیں۔ اور ایسے دیکھو ابھی۔ اٹھیں صبح ہوگئ۔” اسنے باقاعدہ عمل درآمد بھی کرکے دکھایا تھا۔
میر عالم کے کان میں وہ اسقدر زور سے چیخی تھی کہ وہ ہڑبڑا کر اٹھے تھے۔ پہلے تو نا سمجھی کے عالم میں مصطفی کو دیکھ رہے تھے۔ پھر ایک نظر شعلہ کو دیکھا۔ اور سمجھ گئے کہ اتنے جارہانہ طریقہ سے اسی نے اٹھایا ہے۔
” میں ۔۔ نے کتنی بار کہا ہے۔ مصطفی کہ مجھے ایسے مت اٹھایا کرو۔” وہ بھڑکے تھے۔
” سوری سر وہ۔۔” مصطفی لاجواب ہوا تھا۔
” اسنے نہیں اٹھایا ایسے۔ میں نے اٹھایا ہے۔ بیچارہ کب سے کھڑا۔ سر۔۔۔ سر کیئے جارہا تھا۔ پر آپ موصوف تو ہلنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔” اسنے مصروف سے انداز میں اسے آگاہ کیا۔
” جنگلی۔۔” وہ بڑبڑاتے اٹھے تھے۔
” کھوسٹ۔۔” وہ بھی بڑبڑائ تھی۔
مصطفی کو حیرت ہوئ تھی۔ ایک دن کے نئے نویلے کپل والی تو کوئ بات ہی نا تھی ان میں۔
☆☆☆☆☆
