Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 39)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 39)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
نازنین ترکی جانے کی تیاریوں میں مصروف تھی۔ آج رات ایک بجے کی انکی فلائٹ تھی۔ نازنین کپڑ ے پیک کر رہی تھی۔ مصطفی اوند ھے منہ بستر پہ پڑا تھا۔ آ نے وا لے ہنگا مے کا سوچ کر ہی اسکا حال برا ہورہا تھا۔ نازنین کی آواز اسے سوچوں کے گرداب سے باہر لائ تھی۔
” تم کتنے سکون سے پڑے ہو تمہیں زرا کوئ ہوش ہے کہ ، ہمیں کچھ گھنٹے بعد نکلنا ہے۔” وہ اسے پرسکون پڑا دیکھ چڑ کر گویا ہوئ۔
” اسی بات کی تو ساری ٹینشن ہے۔” وہ مرے ہوئ لہجہ میں گویا ہوا۔
” تم پاگل ہو فالتو کی ٹینشن نا لو ، میں کہہ رہی ہوں ناں کسی کو پتہ بھی نہی چلے گا۔ اور ہم ترکی میں بیٹھے ہونگے۔۔” نازنین نے چہک کو کہا۔
” اور جب ہم ان سب کو نہی ملیں گے۔ اور یہ سب پریشان ہونگے اسکا کیا۔۔۔؟؟” مصطفی نے اسے کچھ ہوش دلانا چاہا۔
” ارے تم وہ ٹینشن لینا بند کر دو ، اسکا بھی میں نے جگاڑ کر کے رکھا ہے۔۔۔” وہ لب دبا کر گویا ہوئ۔
” کیا جگاڑ کیا ہے۔۔۔؟؟” وہ پوچھے بنا نا رہ سکا۔
” سوچو ۔۔۔۔۔ سوچو۔۔۔۔” نازنین اسے اشتیاق میں ڈالتی ، بیگ کی زپ بند کرنے لگی تھی۔
” تم مجھے سوچنے کو کہہ رہی ہو ، ہنہ میرے تو سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ہی سلب ہوچکی ہیں۔” اسنے بیڈ پہ سیدھے بیٹھتے کہا۔
“کیا یار کسی کام کے نہی تم ، بس باتیں بگھار نے میں ماہر ہو تم۔۔۔” نازنین نے جل کر کہا۔
” اب بتا بھی دو۔۔۔” مصطفی نے اپنی گود میں تکیہ دبایا۔
” دیکھو ہم خاموشی سے نکل جائیں گے۔ پیچھے کوئ ہمارے لیۓ پریشان نا ہو تو ، اسکے لیۓ میں نے ایک لیٹر لکھ کر میڈ کو در دیا ہے۔” نازنین نے چہک کر بتایا۔
مصطفی کی بھوںیں داد د ینے کی ساخت میں ڈھلی تھیں۔ نازنین اپنے بار جھٹک کر اپنے کارنا مے پہ ایک ادا سے مسکرائ تھی۔ مصطفی کچھ پرسکون ہوگیا تھا۔
٭٭٭٭٭
رات کے ساڑ ھے گیارہ بج رہے تھے۔ کیب والا باہر کھڑا تھا۔ مصطفی اور نازنین چھپ ، چھپ کر سارا سامان لیکر باہر گاڑی میں رکھ کر نکل گۓ تھے۔ وہ دونوں کیب میں بیٹھے تھے۔ اور دونوں کے لبوں سے مسکراہٹ جدا ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
” دیکھا میں نے کہا تھا ، ناں اتنا بھی مشکل نہی جتنا تمہیں لگ رہا ہے۔۔۔” نازنین نے چہک کر کہا۔
” ہاں سہی کہا تھا تم نے ، پر مجھے یہ سوچ کر ہنسی آرہی ہے کہ جب ان دونوں کو یہ پتہ چلے گا ، کہ ہم دونوں اتنے ٹائم سے ڈرامہ کر رہے تھے۔ تو ان پہ کیا بیتے گی۔۔۔۔۔۔” وہ ناچاہتے ہوۓ بھی ہنسا تھا۔
” کیا بیتے گی یہ چھوڑو ، یہ سوچو صدمہ کتنے دن تک رہے گا۔ ” نازنین اپنا سر گاڑی کے شیشے سے ٹکا کر باہر کے چلتے منظر کو دیکھنے لگگی تھی۔
” ہمارے واپس آنے تک تو ختم ہو ہی جاۓ گآ۔۔۔” مصطفی نے ہلکا سا قہقہ لگا کر کہا۔
” بھابھی تو تم سے بہت ناراض ہونے والی ہیں۔۔” نازنین نے اپنا سر اسکے کندھے پہ ٹکایا تھا۔
” ہاں بیا مجھ سے بہت ناراض ہوگي ، بلکہ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ تو میری شکل بھی نہی دیکھنا چاہے گی۔۔۔۔۔” مصطفی نے گہری سانس حارج کی۔
” اٹس اوکے ہم دونوں انہیں مل کر منا لیں گے۔۔۔” نازنین نے اسکی شرٹ کے بٹنوں سے چھیڑ خانی کرتے کہا۔
” پتہ نہی وہ راضی ہوگی بھی کہ نہی۔۔۔” مصطفی نے پریشانی سے کہا۔
مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ مان جائیں گی۔” نازنین نے پرسوچ لہجہ میں کہا۔
” اور تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے۔۔۔؟؟” مصطفی پوچھے بنا نا رہ سکا۔
” کیونکہ میں نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ انکو مجھ سے ، کوئ پرسنل پروبلمز نہی ہیں۔ وہ مجھ سے ٹپکل نندوں یا پھر بھابھیوں و ا لے گرجس نہی رکھتیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے انکے یہ سب کرنے کی وجہ کچھ اور ہے۔ جو فلحال مجھے سمجھنے میں دکت آرہی ہے۔۔۔” نازنین کا انداز کچھ اور تھا۔
” آئ وش ایسا ہی ہو ، جیسا تم سوج رہی ہو۔۔۔” مصطفی نے اسکا ہاتھ محبت سے تھاما تھا۔ وہ مسکا کر سکون سے آنکھیں موند گئ تھی۔
٭٭٭٭٭
شعلہ کروٹ پہ کروٹ لیکر تھک چکی تھی۔ پر نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ اسنے مڑ کر اپنے بیٹے کو دیکھا۔ جو پرسکون نیند سو رہا تھا۔ وہ اسے یک ٹک محبت سے تکتی مسکرائ تھی۔ دھیرے سے اسکے چہرے پہ ہاتھ پھرتی وہ آنکھیں موند گئ تھی۔ یہ ننھا سا وجود اسکی کمزوری بن کر رہ گیا تھا۔ اسنے آج تک جو بھی کیا تھا ، انجام کی فکر سے آزاد ہوکر کیا۔ جب بھی کسی پہ وار کیا ، سامنے سے کیا ، دشمن کے غار میں جاکر اسے ہمیشہ گھیرا۔
” تم سوئ نہی ابھی تک ، کوئ پریشانی ہے۔۔” وہ جو خود بھی ٹینشن کے باعث سو نی پا رہا تھا۔ اسے جاگتا دیکھ اٹھ کر بیٹھا تھا۔
” نیند نہی آرہی ، اگر انہوں نے میرے بیٹے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو میں ان تمام لوگوں کی جان لے لوں گی۔۔۔۔” وہ بھی اٹھ بیٹھی تھی۔
” یہ سب تو تمہیں پہلے سوچنا چاہیۓ تھا۔ اب کیا فائدہ یہ سب سوچنے کا۔۔۔۔”
عالم کی بات پہ اسنے سرد نظروں سے عالم کو تکا تھا۔
” میں تمہیں آخری بار کہہ رہی ہوں ، مجھے ان دیکھے گلٹ میں ڈالنا بند کرو۔۔۔۔۔” وہ بھڑکی تھی۔
” یہ گلٹ میری وجہ سے نہی ہے۔ یہ گلٹ تمہارے اندر کا ہے جو تمہیں سونے نہی دے رہا۔۔۔” وہ اسے دیکھتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔
” اچھا ۔۔۔۔!!!
چلو مان لیکا میں گلٹ کے باعث نہی سو پا رہی ، تو تم کیوں جاگ ر ہے ہو۔۔۔؟ تمہیں کس بات کا گلٹ ہے بتانا پسند کروگے۔۔۔”وہ اسے خونخوار نظروں سے گھور رہی تھی۔
” ہاں میں بھی نہی سو پا رہا ، پر میں فکر مند ہوں تمہارے لیۓ عارض کے لیۓ۔۔” وہ اپنا سر مسل کر گویا ہوا۔
” اوہ پلیز میرے لیۓ ، پریشان ہونے کا ڈرامہ کرنے کی کوئ ضرورت نہی۔۔۔” وہ جل کر گویا ہوئ۔
” میں کوئ ڈرامہ نہی کر رہا میں سچ میں تم دونوں کے لیۓ پریشان ہوں۔۔” عالم نے اسے یقین دلانا چاہا۔
” میرے لیۓ پریشان ہونے کی کوئ ضرورت نہی ہے، میں اپنے لیۓ خود پریشان ہو سکتی ہوں۔۔” وہ اسے جھڑکتی کمفرٹر سر تک تان گئ تھی۔ عالم اسکی بد گمانی پہ نفی میں سر ہلا کر رہ گيا تھا۔
٭٭٭٭
