Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Last updated: 30 September 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

" میرعالم خان۔۔۔" وہ گردن اکڑا کر اپنے لبوں پہ انکا نام لائ تھی۔ میر عالم خان نے اسے تقریب کھا جانےوالی نگاہوں سے اسے گھورا تھا۔ " جانتے ہو تمہیں قتل کرنے کو مجھے کتنی رقم مل رہی ہے۔" شعلہ نے اپنی کالی زلفوں کو اپنی انگلیوں پہ لپیٹ کر۔ ہونٹوں پہ پر اسرار سی مسکراہٹ سجا کر کہا۔ "اس بات سے مجھے کوئ سروکار نہیں۔ مجھے آزاد کرو۔ نہیں تو۔۔۔۔ میں چیخ چلا کر یہاں چند لمحوں میں تمہاری قبر کھدوا دوں گا۔" میر عالم خان نے اسے کو ا اسکی بات پہ شعلہ کا قہقہ بے ساختہ تھا۔ اسکے قہقہ لگانے پہ انہیں اندازہ ہوچکا تھا۔ کہ وہ مکمل ہوم ورک کرکے آئ ہے۔ " ہنہ سیاست کا حصہ ہیں آپ۔ پھر بھی اتنے بھولے ہیں۔ آپکی سماعت میں ، زرا سا رس گھولتی ہوں۔ ذرا غور سے سننا۔ کیا آپکو میں اتنی بھولی لگتی ہوں۔ کہ کسی کو قتل کرنے جاؤں گی۔ اور اسکے بارے میں اتنا بھی پتا نہیں ہوگا۔ کہ یہ کمرہ ساؤنڈ پروف ہے۔ بلکہ اس گھر کی ہر دیوار ساؤنڈ پروف ہے۔ اب تم چیخو چلاؤ یا پھر تم ایسا کرو کہ اس کمرے کی ہر چیز کو اٹھا کر تہس نہس کر لو۔ اپس۔۔۔ پر تم تو بندھے ہوۓ ہو۔ تم تو اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتے۔ سیڈ لی تمہارے پاس اپنی جان بچانے کے لیۓ ایک ہی آپشن بچتا ہے۔ اگر وہ آپشن جاننا چاہو تو بتا دینا میں تو چلی سونے۔" وہ مصنوئ انگڑائ لے کر اپنے پیر ٹیبل پہ رکھ کر خود پرسکون کرتی آنکھیں موند گئ تھی۔ میر عالم خان نے گہری سانس لیکر اپنا غصہ پیا۔ اور ہونٹوں پہ جبری مسکان طاری کرتا اس سے مستفسر ہوا تھا۔ " کیسا۔۔ آپشن۔؟" اسنے ایک آنکھ کھول کر اسے دیکھا۔ " دس کروڑ۔" پرسکون لہجہ میں کہا۔ " ایسا سوچنا بھی مت ۔۔۔۔۔ !!! کہ میں تم جیسی فراڈ لڑکی کو اپنی جان بخشی کے لیۓ اتنی بڑی رقم دونگا۔" وہ بھڑکا۔ " ٹھیک ہے پھر مجھے بیوہ ہونے کا کوئ افسوس نہیں ہوگا۔" شعلہ نے آنکھیں واپس موندی۔ " کیا کہا۔۔۔ تم نے۔" انکو اپنی سماعت پہ شبہ ہوا۔ " کچھ نہیں کہا۔ پانچ منٹ سوچ سمجھ لے پھر بتا دے۔” وہ اپنا سر ہاتھوں میں گرا گئ تھی۔ " میرے پاس دس کروڑ نہیں۔" " پانچ سو کروڑ کی جائیداد کے مالک کے پاس ، دس کروڑ نہیں۔" اسنے ویسے ہی جھکے سر کہا۔ " کیش نہیں ہے۔" میر عالم خان نے ہار مانی۔ " چیک دے دو۔" اسنے ایک جھٹکے سے سر اٹھایا۔ اسکی زلفیں بھی اسکے چہرے کے اطراف ناچنے لگی تھیں۔ " اسکے لیۓ پہلے تمہیں ، مجھے کھولنا پڑے گا۔" اسکی بات پہ شعلہ نزاکت سے ہنسی۔ " مجھ سے زیادہ چالو نہیں ہے تو۔" اسکی بات پہ میر عالم کا موڈ بگڑا تھا۔ خیر کچھ لمحوں بعد اسنے چیک سائن کر دیا تھا۔ اور شعلہ اسے بنا کھولے کھڑکی اور پھر دیوار بھی پھلانگ گئ تھی۔ " میر عالم اسکی بدتمیزی پہ چیختا چلاتا رہ گیا تھا۔