Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 02)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 02)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
” بھابھی دفتر سے فون آیا تھا میری نوکری لگ گئ۔ بس اب بھابھی صرف یہ ایک مہینہ گزارا کرنا پڑے گا اسکے بعد آپ دیکھنا انشااللہ سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔” وہ چہکتی ہوئ بھابھی کو بتا رہی تھی۔
” اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔” بھابھی کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے تھے۔
” بھابھی مجھے کل سے آفس جوائن کرنا ہے۔ مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا۔” وہ ابھی تک امیزڈ تھی۔
” ارے تم اتنی قابل ہو کیوں ناملتی تمہیں نوکری، یہ جن ، جن نے تمہیں کام نہیں دیا ناں ان سب نے ہیرا گنوا دیا۔” بھابھی نے مسکا کر کہا۔
” بھابھی آپ بھی ناں۔۔” وہ کھلکھلائ تھی۔
” ساوری ایک بات یاد رکھنا ہر ایک پہ بھروسہ نا کر لینا۔ تو بہت معصوم ہے۔ تو دنیا کی چالاکیاں نہیں سمجھ پاۓ گی۔ بس سب سے ایک حد تک ہی سلام دعا رکھنا۔” بھابھی نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا۔
” جی بھابھی میں آپکی بات سمجھ رہی ہوں۔” وہ بھابھی کی بات سے سو فیصد متفق تھی۔
” جاؤ اپنے بھائ کو بھی خوشخبری سنا دو۔”
” جی بھابھی میں ابھی جاکر بتاتی ہوں تاکہ وہ بھی ٹینشن لینا کم کریں۔” وہ پیروں میں چپل اڑستی اٹھی تھی۔
” بھائ اندر آجاؤں میں؟؟۔” اسنےدروازہ بجا کر اجازت لی۔
” آؤ ناں تم کیوں اجازت لیتی ہو پگلی۔” ساوری کا بڑا بھائ پچھلے چند ماہ سے بستر پہ تھا۔ روڈ ایکسیڈینٹ میں اسکے بھائ کی ٹانگيں ایکسپائر ہوچکی تھیں۔
” خوشخبری لائ ہوں آپکے لیۓ۔ آپکو پتہ ہے میری نوکری لگ گئ ہے۔”
” اچھا یہ تو بہت خوشی کی بات ہے۔” بھائ کی انکھوں میں آنسو چمک رہے تھے۔ وہ انکی آنکھوں میں بے بسی دیکھ کر بوجھل دل ودماغ لیۓ انکے کمرے سے نکل آئ تھی۔
٭٭٭٭٭
” رقم پہنچی۔۔۔ آپکے پاس۔” مالک شاہ نے بڑے دھیمے نرم لہجہ میں پوچھا۔
” ہاں رقم تو اپنے کو موصول ہوچکی ہے۔”اسنے موبائل کان سے لگاۓ اپنے کھلے گیسوؤں کو اک ادا سے پیچھے کو جھٹکا۔
“تو کام اب کب۔۔؟؟۔”
” او حرام خور غریب عوام کا پیسہ چاٹنے والے۔ ان چند روپوں میں تو میرا مالک نہیں بن گیا۔ پیسہ بھیج دیۓ ہو اب انتظار کرو۔” اسکا دماغ لمحوں میں گھوما تھا۔
” نہیں وہ تو درست کہہ رہی ہو آپ پر ہمارا بھی تو سوچو ناں۔ وقت بہت کم ہے ہمارے پاس۔” مالک شاہ نے اب باقائدہ دانت پیسے تھے۔
” تیرے وقت کی کمی کا مجھے کوئ زور نہیں آتا۔ میں تو کام اپنے طریقہ سے ہی کرے گی۔ اور اگر تیرے کو اتنی شدید والی دکت ہے تو، تو یہ کام کسی اور کو دے دے۔” اسنے اپنے بندے کو گاڑی نکالنے کا اشارہ کیا تھا۔
” نہیں میں انتظار کرونگا ناں بس کام اچھے سے ہوجاۓ۔” مالک شاہ نے اضطراب کی کیفیت میں پہلو بدل کر کہا۔
” چل پھر بات ہوگی۔ ابھی اپنے دھندے کا ٹائم ہے باس۔” وہ بغیر مقابل کی سنے کال کاٹ گئ تھی۔ موبائل کو اپنی جینس کی پاکٹ میں ڈال کر اپنی بلیک لینڈ کروزر کا بیک ڈور کھول کر بیٹھی تھی۔
کچھ ہی لمحوں میں انکی گاڑی سبک روی سے سڑک پہ پھسلتی جارہی تھی۔ گاڑی قریب کوئ آدھے گھنٹے بعد قبرستان کے سامنے جا کر رکی تھی۔ اسنے اپنے بیگ میں سے ایک کالا مگر سفید پھولوں سے مزین اسٹالر نکال کر سر پہ اوڑھا تھا۔ آنکھوں پہ سیاہ چشمہ لگا کر وہ گاڑی سے اتری تھی۔ اسکا مکمل لباس سیاہ تھا۔ سیاہ ٹی شرٹ سیاہ جینز۔ وہ دھیرے دھیرے چلتی اپنی مطلوبہ قبر کے پاس آئ تھی۔ کچھ لمحے وہ وہاں کھڑی رہی۔ جھک کر قبر کی تختی پہ ہاتھ پھیرا۔ اس قبر کے ساتھ بنی دوسری قبر کے پاس جاکر اسنے دوسری قبر پہ بھی ہاتھ پھیرا۔ اور پھر قبروں کے پیروں کے پاس جاکر کھڑی ہوئ۔ دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔ دعا پوری کرکے اس نے نگاہیں ارد گرد گھمائ تھیں۔ قبرستان کی خاموشی کو ایک نظر دیکھا۔ ایک نظر آسمان کو دیکھ کر وہ اپنی گاڑی کی سمت آئ تھی۔
ڈرائیور نے گاڑی دوبارہ چلانا شروع کردی تھی۔ ڈرائیور نے شیشے سے دیکھا تھا۔ جو اب بھی کلف لگے لباس کی مانند اکڑ کر بیٹھی تھی۔ چشمہ اب بھی اسکی آنکھوں پہ تھا۔ پر اسٹالر اتر چکا تھا۔ اسکے سیاہ بال اسکے چہرے کے گرد پھیلے اسے مزید حسین بنا رہے تھے۔ گاڑی ایک بار پھر منزل مطلوب پہ جا کر رکی تھی۔ وہ گاڑی سے اتر کر ایک ادا سے چلتی سامنے بنی دو منزلہ پر قدرے بوسیدہ عمارت کی دہلیز پہ جاکر رکی تھی۔ اسے دیکھتے ہی” شعلہ میڈم ” کی صدائیں گونجی تھی۔
وہ اندر ایک نظر ڈال کر مسکائ تھی۔
” ارے شعلہ ۔۔۔ آؤ۔۔ آؤ کل سے تمہارا انتظار کررہی تھی۔” بائ نے خوش آمدی کی۔
” کیوں بائ۔۔۔ تیرے ہارٹ پہ کیا میرے نام کے اٹیک پڑھ رہے تھے۔ خیریت۔۔!!۔” اسنے آنکھوں پہ سے چشمہ اتار کر بھنوئیں اچکا کر پوچھا۔
” ہی ہی ہی ارے۔۔ باتیں تو بڑی مزیدار کرتی ہے۔” بائ کی بھدی سی ہنسی پہ اسکا موڈ بگڑا تھا۔
” اے بائ۔۔۔ خالی فوکٹ میں دماغ چاٹنا بند کر کام بتا کیا ہے۔” اسنے اپنے نشیلے نین مٹکا کر کہا۔
” نیا مال آیا ہے۔ ایک دم ان ٹچ۔” بائ کمینگی سے کہا۔
” ارے واہ کہاں ہے گاڑی بھرو۔” اسنے چہک کر کہا۔
” اے زلفی ، او زلفی۔۔۔ مال گاڑی میں ڈال۔” بائ نے اپنے خاص بندے کو آواز لگائ۔
” ویسے شعلہ اس بار پوری پچس لڑکیاں ہیں۔ دام کیا دے گی۔” بائ نے باقائدہ ہاتھ مسلے تھے۔
” دھیرج رکھ اتنا دونگی کہ تیری سات پشتیں بیٹھ کر کھائیں گی۔” شعلہ نے مسکا کر کہا۔
” کتنا، کتنا دے گی۔؟؟” بائ نے بے صبری سے پوچھا۔
” دس۔۔ کروڑ۔” اسنے آنکھوں پہ واپس چشمہ لگا کر کہا۔
” دس ، دس کروڑ نیا آنے والا مال بھی تیرا۔” بائ کی خوشی کی کوئ انتہا نا تھی۔
” چلتی ہوں۔” وہ نزاکت سے کہتی کوٹھے سے نکل گئ تھی۔ اور پیچھے بائ دس کروڑ انگلیوں پہ گننے لگی تھی۔
٭٭٭٭٭
” یار میں تنگ آگیا ہوں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی۔ میں تنگ آچکا ہوں۔”حیدر اپنے کیبن میں بیٹھا اپنے دوست کے ساتھ اپنے دکھڑے رو رہا تھا۔
” یار جب درفشاں بھابھی راضی نہیں تو تو اپنی فیملی کو سمجھا۔” اسفند نے اپنے طور اچھا مشورہ دیا۔
” کوئ کچھ بھی سمجھنے کو تیار نہیں۔ درفشاں نے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ کوئ بچہ وچہ نہیں پیدا کرے گی۔ پر مام ، ڈیڈ اور دادا جان اور دادو انکو پوتا پاتی چاہیۓ۔ اب تو مجھے بتا میں کیا کروں۔” حیدر اپنا سر جارہیت سے تھام کر غرایا تھا۔
” بھائ۔۔ میری مان اس بات کا تو ایک ہی حل ہے تو دوسری شادی کر لے۔” اسفند نے چہرہ پہ سنجیدگی طاری کرکے کہا۔
” اس سے خراب مشورہ نہیں تھا کوئ۔ مطلب تو چاہتا ہے میں نیم پاگل سے پورا پاگل ہوجاؤں۔” حیدر نے اسٹکی نوٹس اٹھا کر اسے دے مارے تھے۔
” یار۔۔۔ بھلائ کا تو زمانہ ہی نہیں۔ میں نے تو خلوص دل سے مشورہ دیا تجھے۔ اب باقی تیری مرضی۔” اسنے تپ کر کہا۔
” نہیں یار ایسے چیزیں اور کمپلیکٹڈ ہو جائیں گی۔” حیدر نے سوچ کر ہی جھرجھری لی تھی۔
اسفند اسکی حالت دیکھ قہقہ لگاۓ بغیر نہیں رہ پایا تھا۔
٭٭٭٭٭
” میں آپ سب کو ان اندھیروں سے نکالنا چاہتا ہوں۔ میرا مقصد آپ سب کو سستی بجلی۔ پکی سڑکیں۔ اسکول۔۔۔ اور اچھے اسپتال فراہم کرنا ہے۔ میں جانتا ہوں، آپ سب کے لیۓ مجھ پہ یقین کرنا بہت مشکل ہے۔ پر میں دل سے چاہتا ہوں۔ آپ سب مجھ پہ ایک بار یقین کریں۔ اس بار کے الیکشن میں ہمیں موقع دے کر یہ حکومت ہمیں دلوائیں۔” میر عالم خان اسٹیج پہ چڑھ کر مزدور پیشہ آوام سے مخاطب تھا۔ رات کے اس پہر وہاں لوگوں کا ہجوم اکھٹا تھا۔ میڈیا ٹی وی چینلز پہ لائو کورج دکھا رہا تھا۔ اس محفل سے بہت دور وہ اپنا اسٹالر پہنے ہر شخص کو بڑی گہری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
میر عالم خان اسٹیج سے اتر چکے تھے۔ اسپیشل سیکیورٹی کے درمیان انہیں انکی گاڑی تک پہنچایا گیا تھا۔ وہ بھی اپنی گاڑی اسٹارٹ کرچکی تھی وہ انکی گاڑیاں رواں ہونے سے پہلے ہی اپنی گاڑی اسٹارٹ کرکے گاڑی کے ایکسیلیٹر کو ہوا کہ دوش پہ چھوڑچکی تھی۔
اس وقت وہ میر عالم خان کے بنگلے کی پچھلی جانب کھڑی تھی۔ گاڑی وہ یہاں سے بہت دور روک کر آئ تھی۔ اب بس اسے یہ لوہے کی خاردار سنگلاخوں کو پھلانگنا تھا۔ وہ دیوار پہ بڑی مہارت سے چڑی تھی۔ سنگلاخوں کو تھامے بغیر وہ بنا آواز پیدا کیۓ پھلانگ نہیں سکتی تھی۔ مجبورا اسنے سلاخوں کو تھاما تھا اور بنا آواز پیدا کیئے وہ دوسری طرف رینگتی ہوئ اتری تھی۔ زمین پہ بیٹھ کر اسنے اپنے ہاتھوں کو دیکھا تو اسکے ہاتھوں سےخون رس رہا تھا۔ وہ اپنے ہاتھ نظر انداز کرتی۔ اس گھر کا نقشہ دیکھ پائپ پہ تیزی سے چڑھی تھی۔ جب وہ کھڑکی سے اندر میر عالم خان کے کمرے میں کودی تھی۔ تب وہ آئینہ کے سامنے کھڑا اپنی گھڑی اتار رہا تھا۔ میر عالم خان کو شبہ ہوا کے کوئ اسکے پیچھے کھڑا ہے۔ وہ جیسے ہی مڑے سامنے جھٹکا تو انہیں تب لگا جب وہ گز بھر کی لڑکی ان پہ پسٹل تان کر کھڑی تھی۔
” کون ہو تم۔ اور یہاں کیا کر رہی ہو۔؟؟۔” میر عالم خان نے گرجتی آواز میں پوچھا۔
” یہ مجھ سے کیا پوچھتے ہو۔ اپنی قسمت سے پوجھو کہ میں تمہارے لیۓ کون اور کیا بن کر آئ ہوں۔” اسکی سنہری آنکھیں چمک رہی تھیں۔
” بکواس بند کرو ، بے وقوف لڑکی۔ تمہیں یہاں اندر کس نے آنے دیا۔” میر عالم خان نے آگے بڑھ کر اسکا بازو دبوچا۔
” آہاں۔۔۔ میر عالم خان سوچنا بھی مت کہ مجھے یہاں سے میرا مقصد پورا ہوۓ بغیر نکال پاؤ گے۔” اسنے کہتے ہی اسکے پیٹ پہ لات ماری تھی۔ لات اتنی ذوردار تھی۔ کہ ایک پل کو وہ لڑکھڑا کر اسکا بازو چھوڑتا چند قدم پیچھے ہوا تھا۔
” موت بن کر آئ ہوں تمہارے لیۓ۔ اور جو دینے آئ ہوں۔ وہ دے کر ہی جاؤں گی۔” وہ مسکرا کر اپنی پاکٹ سے ایک اور پسٹل نکال کر اسکی آنکھوں کے آگے لہرا گئ تھی۔
” ہنہ۔۔۔ موت بن کر آئ ہو میری تو۔۔۔۔ مطلب اپنا آپ مجھے سونپ کر جاؤ گی۔”میر عالم خان طنزیہ ہنسے تھے۔
” گھٹیا ، ٹھرکی ۔۔۔۔ بڈھے۔” اسنے پنچ گھما کر انکے منہ پہ مارا تھا۔ میر عالم خان کراہ کر رہ گۓ تھے۔
” ابھی میرا گھٹیا پن تم نے دیکھا ہی کہاں ہے۔”وہ اسکے دونوں ہاتھوں سے پسٹل اچک کر بیڈ پہ پھینکتے۔ اسکی دونوں کلائیاں موڑ کر اسکی پشت پہ باندھ کر اسکی بے بسی دیکھ کر مسکراۓ تھے۔ وہ شعلہ ، شبنم سی لڑکی خود کو انکی گرفت سے آزاد کرانے کی کوشش میں پھڑپھڑا کر رہ گئ۔
” اب۔۔۔ بتاؤ کس نے بھیجا ہے۔” وہ اسکے کان کے پاس اپنے لب لاکر دھیمے لہجہ میں مستفسر ہوۓ تھے۔
” یہ تمہارا مسئلہ نہیں۔ میرے ہاتھ چھوڑو نہیں تو قسم کھا کر کہتی ہوں۔ آج اپنے فارمیٹ سے ہٹ کر کام کر گزروں گی۔” وہ تقریبا غرائ تھی۔
” نا اتنا بھی پاگل نہیں میں کہ اپنی ہونے والی۔۔۔ قاتلہ کو چھوڑ دوں۔” اسکی نازک کلائیوں کو انہوں نے مزید جارہیت سے دبایا تھا۔
” بہت پشتاؤ گے۔ میں، کہتی ہوں چھوڑو مجھے۔” وہ اسقدر زور لگا رہی تھی۔ کہ ایک پل کو میر عالم خان کو اس پہ اچھنبا ہوا تھا۔ کہ یہ لڑکی ہے بھی یا نہیں۔ کیونکہ اسکی طاقت تو مردوں سی تھی۔
” ایسی بات ہے۔ تو پھر تو میں پشتانے کو تیار ہوں۔” وہ دلکشی سے مسکراۓ تھے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے اسنے ایسے کلابازی ماری تھی۔ کہ میر عالم خان کا منہ حیرت سے کھلا تھا۔ اسنے میر عالم خان کو کمر پہ لات ماری تھی۔ میر عالم خان کا شدت سے دل چاہا تھا۔ کہ وہ اسکا گلا دبا دیں۔ شعلہ نے پھرتی سے بیڈ پہ سے دونوں پسٹل اٹھائ تھیں۔ اور مڑ کر میر عالم خان کو ایک چیلنجنگ مسکراہٹ لیۓ دیکھا۔
” شعلہ کو کیا شبنم سمجھے تھے تم۔ اپن شعلہ ہے۔ جہاں جاتی ہے ناں۔۔!! وہاں آگ لگا کر ہی نکلتی ہے۔” وہ میر عالم خان کی سنجیدہ آنکھوں میں اپنی سیاہ نشیلی آنکھیں گاڑھ کر بولی تھی۔
میر عالم خان محض اپنی مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا تھا۔
٭٭٭٭٭
