Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 24)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 24)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
شام کم وقت تھا نازنین گارڈن کی طرف جاتے زینوں پہ ، گھٹنوں پہ سر ٹکاۓ بیٹھی تھی۔ آنکھوں کے گرد شدید رت جگے کی وجہ سے سیاہ ہلکے پڑے تھے۔ وہ اس رات کے بعد سے مصطفی سے ایک طویل فاصلہ قائم کر گئ تھی۔ میر عالم کی طبیعت میں کافی سدھار آیا تھا۔ وہ ہوش میں تو نہیں آۓ تھے۔ پر اب انکے سننے کی حِس کام کرنے لگی تھی۔ نازنین جہاں اس بات سے بے تحاشہ خوش تھی۔ وہیں مصطفی کی وجہ سے اداس ، اسکی آسان سی زندگی مشکل سی ہو گئ تھی۔
کہاں اسکی زندگی میں نیل پینٹ کے سہی شیڈ نا ملنے کی ٹینشن ہوا کرتی تھی۔ اور اب کہاں سب بدل چکا تھا۔ اب واقعی اسکی زندگی میں سب کچھ تبدیل ہوچکا تھا۔ اسکا نظریہ ، رہن سہن ، پسند نا پسند ، سب تبدیل ہوچکا تھا۔ وہ کسی بھی اینگل سے پرانی والی نازنین نا لگتی تھی۔
مصطفی جو آج دفتر سے جلدی فارغ ہو گیا تھا۔ مغرب سے پہلے ہی گھر آن پہنچا تھا۔ گاڑی سے نکل کر مصطفی اندر جانے لگا تھا۔ جب نظر نازنین پہ پڑی ، وہ سر نفی میں ہلاتا۔ اسکی جانب آیا تھا۔
” کس مراقبے میں ڈوبی ہو۔۔۔؟” مصطفی پینٹ کی جیب میں ایک ہاتھ اڑساۓ کھڑا ، اسپہ چوٹ کرنا نا بھولا تھا۔
” ہنہ۔۔۔۔ آج جلدی آنے دے دیا۔۔۔ تمہاری گرل فرینڈ نے۔۔۔” وہ اسکے جوتوں پہ نظریں ٹکاۓ تمسخر سے گویا ہوئ۔
” ہاں کہہ رہی تھی۔ جاؤ آج اپنی چڑیلوں کی نانی جیسی بیوی کو کچھ پل دان کردو۔۔۔” وہ اپنے آستین فولڈ کرتا اسکے برابر میں بیٹھا تھا۔
” تم ۔۔۔۔ اور ۔۔۔ تمہاری سو کالڈ گرل فرینڈ ۔۔۔ کم از کم یہ رائٹ تو نہی رکھتی۔ کہ وہ مجھے میرے ہی شوہر کے ساتھ چند پل دان کرسکے۔” تپے ہوئے لہجہ میں جواب دیا۔
” تم کیا جانو میں اسے کیا ، کیا رائٹ دے چکا ہوں۔ اگر جان جاؤ تو جل کر بھسم ہو جاؤ گی۔” وہ تپ رہی تھی۔ اور وہ اسے مزید تپا رہا تھا۔
” مجھے کوئ دلچسی نہی تعہارا گرل فرینڈ نامہ سننے میں۔۔۔” وہ مصطفی کی بات پہ سلگ ہی اٹھی تھی۔
” اففف۔۔!!! اتنی جلن۔۔۔” مصطفی اسکے غصہ کی تمازت سے سرخ پڑتا چہرہ اپنی انگلیوں کی پوروں سے چھو کر گویا ہوا۔ نازنین نے مصطفی کا ہاتھ اپنے چہرے پہ سے جھٹکا تھا۔
” یعنی میرا شک بلکل درست تھا۔ تمہمارا سچ میں کسی کے ساتھ افئیر چل رہا ہے۔ پر اس دن تم جان بوجھ کر انجان بن رہے تھے۔۔۔!!!” نازنین نے بھیگی پلکیں اٹھا کر بے یقین لہجہ میں کہا۔
مصطفی گہری سانس لیکر اٹھا تھا۔ نازنین پہ ایک افسوس بھری نگاہ ڈال کر اسنے سر اونچا کرکے آسمان کو تکا۔
” تمہارا کچھ نہی ہوسکتا نازنین۔۔۔ تم نے جو سوچنا ہے سوچو۔۔۔ آئ ڈونٹ کیئر۔۔۔۔۔۔۔” وہ اسے سرد نظروں سے گھورتا وہاں سے واک آؤٹ کر گیا تھا۔
٭٭٭٭٭
نازنین جب اندرآئ تو مصطفی لگا خود اپنے لیۓ چاۓ بنا رہا تھا۔ نازنین کو کچن میں آتا دیکھ وہ اسے سرے سے ہی نظر انداز کر گیا تھا۔ نازنین اسکی بے اعتنائ پہ سر سے لیکر پیر تک سلگی تھی۔ نازنین نے مصطفی سے ساس پین لینا چاہا پر مصطفی نے نازنین کا ہاتھ بری طرح سے جھٹکا۔ وہ ساس پین خود چولہے پہ رکھ کر ، اس میں پانی انڈیل رہا تھا۔ نازنین پتی چینی کے جار اٹھا کر لائ تھی۔ مصطفی اسے مکمل طور پہ نظر انداز کر رہا تھا۔ نازنین کو ناچار دونوں جار سلیب پہ دھرنے پڑے۔ لب کچلتی وہ اسکے بگڑے تیور کئ لمحوں تک تکتی رہی ، ہمت مجتمع کرکے اسنے اپنی بات کہی۔
“سہی ، سہی بتا کیوں نہیں دیتے ، کہ تمہارا کوئ افئیر ہے یا نہیں۔” اسنے منہ پھلا کر کہا۔ وہ سچ میں کنفیوز ہوگئ تھی۔ اسکا رویہ ہی ایسا تھا۔ کہ نازنین کے لیۓ اندازہ لگانا مشکل تھا۔ مصطفی نے اسے کوئ جواب نا دیا۔ وہ اسکی چپی پہ سر سے لیکر پیر تک سلگی تھی۔
” دیکھو اب بھی تم چپ ہو۔ یا تو ہر وقت گرل فرینڈ ، گرل فرینڈ کا الاپ جاپتے رہتے ہو۔ اور یا پھر میری کسی بات کا کوئ جواب ہی نہی دیتے۔ تم ہی بتاؤ آخر میں اپنا شک ختم کروں بھی تو کیسے کروں۔۔۔” وہ آنکھوں میں آنسوں لیۓ عاجز سی کھڑی تھی۔
” جب تمہیں مجھ پہ بھروسہ ہی نہیں تو کیا فائدہ ، ان سب باتوں کا۔۔۔”مصطفی نے سرد لہجہ میں کہا۔
” بھروسہ ہے۔۔۔۔۔” اسنے اپنی بات پہ زور دیا۔
” ہنہ یہ کیسا بھروسہ ہے ، جہاں مجھے چند الفاظ کا سہارا لیکر تمہیں یہ بتانا پڑے گا۔ کہ میں اپنی زندگی میں کبھی کوئ غلط حرکت نہیں کرسکتا۔” اسنے اپنی سنجیدہ نظریں نازنین کی نم آنکھوں میں گاڑھی تھیں۔
” اور رہی بات میرے افئیر کی۔ تو نہی ۔۔۔۔ میرا کوئ افئیر نہی چل رہا۔” وہ چاۓ دو کپوں میں انڈیل کر نکل گیا تھا۔
” یہ۔۔۔ چاۓ دو کپوں میں کیوں لے جا رہے ہو۔۔۔؟” نازنین پوچھے بنا نا رہ سکی۔
” اپنی گرلفرینڈ کے لیۓ۔۔۔” مصطفی نے چڑے ہوۓ لہجہ میں جواب دیا۔
” اب تم مجھے غصہ دلا رہے ہو۔۔” نازنین اسکے پیچھے ، پیچھے چلنے لگی تھی۔
” اسکا میں کچھ کر نہی سکتا۔ اب تمہیں عمر کا تقاضہ ہونے لگا ہے۔۔۔” مصطفی نے ٹھنڈے لہجہ میں کہا۔
” واٹ ڈو یو مین باۓ عمر کا تقاضہ۔۔۔۔؟؟” نازنین بھڑکی۔
مصطفی نے ٹرے ڈائیننگ ٹیبل پہ دھرتے ۔ ایک تنقیدی نگاہ اس پہ ڈالی۔ اور بنا جواب دیۓ قد آدم ونڈو کے پردے ہٹاۓ۔ شام گہری ہونے میں ابھی وقت تھا۔ ہلکی ہلکی روشنی ، ڈائننگ ایریا کو روشن کر گئ تھی۔
” یہ تم مجھ سے نا پوچھو ۔۔۔۔ یہ تم آئینے سے پوچھو۔۔۔” وہ چیئر کھسکا کر اسپہ بیٹھا تھا۔
” میرے لیۓ تو میرا آئینہ تم ہو۔۔۔۔” وہ بھی اسکے مقابل چیئر کھسکا کر بیٹھی تھی۔ مصطنی نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔
” تع مجھ پہ پنچ لائن مار رہی ہو۔۔۔” کپ اٹھاتے ، ساتھ میں بھونئیں بھی اچکائ تھی۔
” جو بھی سمجھو۔۔۔۔۔۔” نازنین نے منہ بنا کر دوسرا کپ اٹھایا تھا۔
مصطفی سر نفی میں ہلاتا ، رخ یاہر کی جانب کر گیا تھا۔ نازنین چاۓ کا کپ لبوں سے لگاتی مسکائ تھی۔ غلط فہمی کے بادل چھٹے تو دونوں کے درمیان کا موسم کچھ بہال ہوا تھا۔
٭٭٭٭٭
” تم آئسکریم لیکر نہی آۓ۔۔” ساوری کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو چمکنے لگے تھے۔
” سو، سوری یار۔۔۔ بھول گیا۔۔” اسنے معذرت کی۔
” ایسے کیسے بھول گۓ ، میں صبح سے انتظار کر رہی تھی۔۔۔” اسکی آنکھوں سے آنسو چھلکنے کو بیتاب ہوۓ تھے۔
” اوکے ۔۔۔ اوکے رونا مت ابھی ہم چلیں گے ، باہر اچھا سا ڈنر بھی کریں گے۔ اور پھر آئسکریم بھی کھائیں گے۔۔” حیدر نے اسکے گرد اپنے مضبوط بازو ہمائل کرتے اسے خود سے لگایا تھا۔
” جھوٹ نا بولیں۔۔۔۔ آپ ہر بار ایسے ہی وعدہ کرتے ہیں اور پھر لیکر نہی جاتے۔۔” ساوری نے بھڑک کر کہا۔
” اچھا ۔۔۔۔ سوری پر آج لیکر جاؤں گا۔ جاؤ جلدی سے تیار ہو جاؤ۔ پھر چلتے ہیں۔۔” حیدر نے اسکے گداز رخسار پہ لب دھر کر کہا۔
” اوکے میں جلدی سے تیار ہوکر آئ۔۔۔” وہ بھاگتی ہوئ ، اپنے کمرے میں گئ تھی۔ اور وہ اسکے بچپنے پہ مسکرا کر رہ گیا تھا۔
کچھ لمحے بعد وہ باہر آئ تو ، حیدر مسکرایا تھا۔ پرپل کلر کی ٹخنوں تک آتی کمیز ، اور پرپل ہی کلر کا کیپری جو کمیز لمبی ہونے کی وجہ سے چھپ سا گیا تھا۔ ہلکے سے بھاری سراپے کو ڈھانپنے کے لیۓ اسکن کلر کی سندھی کڑاہی والی شال پہنے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ حیدر مسکرا کر اسکے مقابل آکر کھڑا ہوا تھا۔ حیدر نے اپنی مضبوط کلائ اسکے سامنے پھیلائ تھی۔ ساوری نے دھیرے سے اپنا نازک گداز ہاتھ اسکی گرفت میں دیا تھا۔
” چلیں ۔۔۔۔” حیدر نے اسکی آنکھوں میں جھانک کر پوچھا۔
” ہمم۔۔” اسنے دھیرے سے سر اثبات میں ہلایا۔
راستے کا سفر انتہائ خاموشی سے گزرا۔ وہ دونوں ریسٹورینٹ میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔ جب وہاں درفشاں آئ۔ اپنا ہینڈ بیگ اٹھا کر ٹیبل پہ دھرا تھا۔ اور دونوں کو دیکھ کاٹ دار سا مسکائ تھی۔
” رومینٹک ڈنر ہورہا ہے۔۔۔ واؤ ۔۔۔ یہاں کا لزانیہ بہت ٹیسٹی ہوتا ہے۔ مجھے بھی ٹراۓ کرنا ہے۔” درفشاں نے ایک ادا سے کہتے کرسی سنمبھالی تھی۔
” تم کسی اور ٹیبل پہ جا کر بیٹھو ، اور جو ٹراۓ کرنا ہے کرو۔۔” حیدر بھڑکا تھا۔
” واہ بھئ جیدر صاحب ، آپ تو شاید دنیا کے پہلے انسان ہیں جو اپنی بیوی کو ہی ، اپنے پاس بٹھانے سے انکاری ہے۔۔” درفشاں نے ساوری کو جلتی نظروں سے تکا۔
” در فشاں پلیز ، ساوری تمہارے ساتھ بلکل بھی کمفرٹیبل نہی ہے۔۔” حیدر نے چمچ پلیٹ میں پٹخا تھا۔
ساوری نگاہیں جھکاۓ ، اسے مکمل طور پہ نظر انداز کر رہی تھی۔
” اگر وہ کمفرٹیبل نہی تو یہ تو میرا مسئلہ نہی ہے۔۔۔” در فشاں نے ساوری کے آگے کھانے سے سجی پلیٹ اچکی تھی۔
” ایسے ہی ، بلکل ایسے ہی ۔۔۔ میں تم سے حیدر اور تمہارے بچے کو بھی چھین لوں گی۔” در فشاں نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے اسے جتایا تھا۔ اسکی بات پہ حیدر مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا تھا۔ اور ساوری کی آنکھیں لمحوں میں بھیگی تھیں۔
