Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 15)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 15)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
” حیدر ہم چلتے ہیں۔ تم بھی آرام کرو۔” اسکی امی نے اسکے گالوں پہ محبت سے ہاتھ دھر کر کہا۔
حیدر نے سرد نظروں سے اپنی ماں کو تکا۔
” مما ۔۔۔ خالہ جانی جلدی کریں۔ مجھے ایک پارٹی بھی اٹینڈ کرنی ہے ابھی۔” در فشاں نے بیزار آکر کہا۔
” ہاں ۔۔۔ ہاں چلتے ہیں۔ اللہ حافظ۔ بیٹا۔” درفشاں کی ماں نے اسکی بیزاریت سمجھتے کہا۔
حیدر نے ایک نظر درفشاں کو تکا ۔ کہ شاید اسکی آنکھوں میں دکھ ہو۔ افسوس ہو۔ پر نہیں۔۔ وہاں ایسا کچھ نہی تھا۔
وہ لوگ جیسے ہی نکل کر گئیں۔ حیدر نے مین ڈور لاک کیا۔ اور لاؤنج کے صوفہ پہ آکر بیٹھ گیا۔ اسکی حالت اس وقت جتنی باہر سے ابتر تھی۔ اندر سے اسکا حال اس سے بھی زیادہ اجڑا ہوا تھا۔ نجانے وہاں گم صم۔بیٹھے بیٹھے کتنے ہی لمحے بیت گئے پر اسے ، کوئ خبر نا ہوئ۔ وہ اٹھ کر کمرے میں آیا تو۔ وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے نجانے کونسے خیالوں میں ڈوبی تھی۔
” تم نے ایسا کیوں کیا۔؟” حیدر کی سرد آواز جب ساوری کے کانوں سے ٹکرائ۔ تو وہ اچھل کر سیدھی ہوکر بیٹھی تھی۔
” کیا ، کیا ہے ۔۔۔ میں نے۔؟” اسنے نا سمجھی سے پوچھا۔ نظریں زمین پہ گاڑھ کر بیٹھی تھی۔
” تمہیں پیسوں کی ضرورت تھی۔ تو مجھے بتاتی میں تمہاری مدد کرتا۔ تم بنا اپنی زندگی خراب کیئے اپنے بھائ کا علاج کرواتی ۔” حیدر نے سنجیدگی سے کہا۔
” جو ہونا تھا۔ اب تو وہ ہوچکا۔ اب افسوس کرنے کا کیا فائدہ۔” اسکی بھیگی آواز حیدر کو بے چین کر گئ تھی۔
” تمہیں یہ سب جتنا آسان لگ رہا ہے ناں۔۔ ساوری یہ سب اتنا آسان ہے نہی۔” حیدر چلتا ہوا بیڈ پہ اسکے مقابل بیٹھا تھا۔
ساوری تھوک نگل کر پیچھے سرکی تھی۔
” جی۔۔ جانتی۔۔۔ ہوں۔” گھبرائے لہجہ میں جواب دیا۔
” تم سو جاؤ۔ میں برابر والے کمرے میں سونے جا رہا ہوں۔” اس نے اٹھتے کہا۔ پر ساوری نے جھٹ اسکا ہاتھ تھاما تھا۔ حیدر نے ماتھے پہ بل سجا کر اسے تکا تھا۔
” میں چاہتی ہوں۔ یہ کنٹریکٹ جلد ختم ہوجائے۔” اسنے گردن جھکا کر کہا۔
وہ اسکی بات کا اشارہ بخوبی سمجھ گیا تھا۔ ایک جھٹکے سے حیدر نے اسکی گرفت سے اپنا ہاتھ آزاد کرایا۔
” سوجاؤ۔ اس سب کا ابھی میرا کوئ ارادہ نہی۔” کرخت لہجہ میں کہتا۔ وہ کمرے سے تن فن کرتا نکل گیا تھا۔ ساوری نے اسکے نکلتے ہی سکون کی سانس لی تھی۔ اگر وہ اس سب کے لیئے تیار نہیں تھا۔ تو ساوری کونسا تھی۔
☆☆☆☆☆
شعلہ کو آدھی رات میں ہوش آیا تھا۔ تکلیف کی شدت بہت تھی۔ وہ سر تکیہ پہ ڈالے کئ لمحہ ایسے ہی پڑی رہی۔ برابر میں نظر ڈال کر دیکھا تو شہلا اسکے ساتھ سو رہی تھی۔ شعلا نے با مشکل شہلا کا بازو ہلایا۔ شہلا یکدم ہڑبڑا کر اٹھی۔
” کچھ چاہیئے۔۔ ہاں پانی ۔۔ کھانا۔۔۔ درد تو نہیں ہورہا۔” شعلہ نے شہلا کے بوکھلائے انداز پہ اسے گھورا تھا۔
” میرا موبائل دو اور ٹی وی آن کردو۔” شعلہ نے بھاری آواز لیے کہا۔
” اوہ۔۔۔ ہاں اچھا۔” شہلا گہری سانس لیکر اٹھی تھی۔ اسے پہلے اسکا موبائل دیا۔ اور پھر ٹی وی آن کیا۔
شعلہ نے موبائل آن کیا تو میر عالم کے میسجز آئے ہوئے تھے۔ شعلہ کے لبوں پہ دھیمی سی مسکان در آئ تھی۔
” کال کیوں نہی پک کر رہی تم۔؟” یہ میر عالم کا پہلا مسیج تھا۔
” کہاں ہو تم گھر کیوں نہی لوٹی ابھی تک۔؟” یہ دوسرا میسج تھا۔ اسکی فکر مندی پہ اسکے لبوں تلے ایک شرمیلی سی مسکراہٹ مچلی تھی۔
” شعلہ۔۔۔ رات کا ایک بج رہا ہے۔ تم ٹھیک ہو۔۔۔؟” ایک اور میسج۔
شعلہ نے اپنے ہونٹوں پہ کھیلتی خوبصورت مسکان کو کیمرے کی آنکھ میں قید کیا۔ پھر اپنی سیلفی کو بغور تکا۔ اور میر عالم کے واٹس ایپ پہ سینڈ کردیا۔
” اپنے گھر آئ ہوں۔ وہاں کوئ نہی تھا۔ اور مجھے تنہائی سے خوف آتا ہے۔ اسی لیئے اپنے گھر آگئ۔” اسنے ایک میسج بھی لکھ کر بھیجا۔
چند لمحہ بعد ایک میسج موصول ہوا۔
” تھینک گاڈ۔۔۔ تمہارا کوئ ریپلائے تو آیا۔ میں بہت پریشان ہوگیا تھا۔” میر عالم کا مسیج پڑھ کر اسکے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئ تھی۔
” کیوں۔ میں بچی تھوڑی ہوں۔ جو آپ میرے لیئے پریشان ہو رہے تھے۔” اسنے لب دبا کر لکھا۔
کئ لمحوں تک کوئ جواب نا آیا۔ اسنے نیوز چینل لگایا تو۔ میر عالم کے سیالکوٹ والے جلسہ کی لائیو کوریج دکھائی جا رہی تھی۔ میر عالم اپنی قوم سے مخاطب تھا۔ وہ کئ لمحہ اسے یونہی یک ٹک تکتی رہی۔ بہت چاہت سے۔ بہت دلچسپی سے۔
” پیار ہوگیا ہے ناں۔؟” شہلا کی آواز پہ وہ چونکی تھی۔ ٹی وی کی اسکرین پہ سے نظریں ہٹا کر اسنے شہلا کو تکا۔
” کیا بکواس کر رہی ہو۔” اسنے نگاہیں چرا کر کہا۔
” مان لو ہوگیا ہے۔ پیار۔” شہلا نے شریر سی مسکان ہونٹوں پہ سجا کر کہا۔
” ایسا کچھ بھی نہی۔” شعلہ نے شدت سے نفی کی۔
” پر مجھے تو ایسا ہی کچھ لگتا ہے۔” شہلا نے لب دبا کر کہا۔
” اگر چاہتی ہو ناں۔ کہ آج رات تمہیں یہاں رہنے دوں۔ تو مجھ سے ایسی فضول باتیں کرنا بند کرو۔” شعلہ نے بھنا کر کہا۔
” مرضی ہے آپکی۔ پر۔پیار تو ہوگیا ہے۔” وہ شرارت سے کہتی کمبل سر تک تان گئ تھی۔
شعلہ نے منہ بنا کر اپنا موبائل اٹھا کر دیکھا۔ پر اسکا کوئ ریپلائ نا تھا۔ اور سامنے اسکرین پہ وہ اب بھی تقریر کر رہا تھا۔
شعلہ نے بے دلی سے موبائل کو سائڈ ٹیبل پہ رکھا تھا۔ اور ٹی وی اسکرین کو دیکھنے لگی تھی۔
☆☆☆☆☆
صبح کا سورج پورے آب و تاب سے نیل گگن پہ چمک رہا تھا۔ ساوری فجر کی اٹھی لاؤنج میں بیٹھی تھی۔ حیدر دوسرے کمرے سے باہر آیا تو اسے دیکھ کر چونکا۔ کف لنکس باندھتے حیدر دوسرے صوفہ پہ آکر بیٹھا تھا۔
” از ایوری تھنگ آل رائٹ۔” حیدر نے اسے گم صم سا بیٹھے دیکھ کر پوچھا۔
” جی۔۔” اسنے ایک لفظی جواب دیا۔
” اتنی جلدی کیوں آٹھ گئ۔” حیدر نے سنجیدگی سے پوچھا۔
” میں جلدی ہی اٹھتی ہوں۔” اسنے دھیرے سے بتایا۔
” ہمم۔ خیر میں آفس جارہا ہوں۔ تم آرام کرو۔” حیدر نے اٹھتے کہا۔
” وہ آپ نے رات کا کھانا بھی نہی کھایا۔ ناشتہ بنا دوں جلدی سے۔” ساوری کا لہجہ عام سا تھا۔
حیدر ایک پل کو رکا۔ اتنے سالوں میں کبھی درفشاں کو اس بات کی فکر نہی ہوئ۔ یہاں تک کہ اسکی ماں کو بھی نہی۔ حیدر نے مڑ کر اسے ایک نظر تکا۔ اور پھر سر کو نفی میں ہلاتا کمرے کی جانب واپس گیا تھا۔ پر پیچھے سے اسکی آواز سن کر ایک بار پھر قدم اپنی جگہ جمے تھے۔
” میں بھی آفس جاؤں گی۔ یہ میں نے پہلے ہی کنٹریکٹ میں کلیئر کردیا تھا۔ بھلے آپ مجھے سیلری نا دیں۔ پر میں چاہتی ہوں کہ جب میں اس کنٹریکٹ سے آزاد ہوں تو میرے پاس جاب ایکسپیرینس ہو۔ اور میں نئے سرے سے اپنی زندگی شروع کر سکوں۔” اسنے سنجیدگی سے کہا۔
حیدر نے کندھے اچکائے تھے۔ جیسے کہنا چاہا ہو تم جانا چاہو۔ یا نا جانا چاہو۔ تمہاری مرضی ہے۔
وہ اسکی اجازت ملتے ہی کمرے میں بھاگی تھی۔ تیار ہونے۔ جب وہ تیار ہوکر باہر نکلی تو حیدر اسکا منتظر کھڑا تھا۔
” چلو۔” حیدر نے عجلت میں کہا۔
” پر۔۔۔ میں آپ کے ساتھ نہی جاؤں گی۔” اسنے کچھ سہم کر کہا۔
” کیوں۔۔” حیدر کے ماتھے پہ بل نمایا ہوئے تھے۔
” آفس میں کسی کو شک بھی ہوگیا تو۔ آپکے لیئے ہی مسئلہ ہوگا۔” اسنے سر جھکا کر جواب دیا۔
حیدر ہاتھ ہوا میں کھڑے کر کے رہ گیا تھا۔
” واٹ نانسینس۔” حیدر نے تپ کر کہا۔
” میں اپنے راستے سے جاؤں گی اور آپ اپنے۔” ساوری کا لہجہ اٹل تھا۔
” تمہارا اور میرا راستہ ایک ہی ہے۔” حیدر نے چڑے ہوئے لب و لہجہ سمیت کہا۔
” پر میں آپکے ساتھ پھر بھی نہی جاؤں گی۔” اسنے اپنا بیگ کندھے پہ ڈالا اور اسکے نکلنے سے پہلے ہی گھر سے نکل گئ۔ ناچار حیدر نے بھی آپارٹمنٹ کا مین ڈور باہر سے لاک کیا۔ اور چابیاں جیب میں ڈالتا۔ نیچے آیا تھا۔ اسنے ارد گرد نظر دوڑائی پر وہ کہیں بھی نہی تھی۔ حیدر سر جھٹکتا اپنی گاڑی میں بیٹھتا دفتر کے لیئے روانہ ہوگیا۔
☆☆☆☆☆
نازنین سر تھامے بیٹھی تھی۔ اسکی ماما نے اسے ابھی حیدر اور اسکی امپلائ کے نکاح کا بتایا تھا۔
” ماما۔۔۔ آپ لوگ پاگل ہیں۔ اپنے مفاد کی خاطر کسی لڑکی کی زندگی خراب کردی آپ لوگوں نے۔” نازنین کا صدمہ سے برا حال تھا۔
” تو کیا ہوگیا۔ پیسے دے رہے ہیں اسے۔ اسکے بھائ کو کینسر ہے۔ اسے اپنے بھائ کے علاج کے لیئے پیسے چاہیئے تھے۔ اور ہمیں بچہ۔” ماما نے بڑے ہی آرام دہ لہجہ میں جواب دیا۔
” افسوس ہورہا ہے مجھے۔ اس بیچاری لڑکی کی قسمت پہ۔” نازنین نے دکھ سے کہا۔
” ارے یہ افسوس کی تو بات نہی۔ خوشی کی بات ہے۔” انہوں نے چہک کر کہا۔
نازنین بے انہیں قدرے افسوس سے تکا۔
” صبر میں ابھی ساوری کو فون کرکے پوچھتی ہوں۔ کہ کل رات ان دونوں کے بیچ کوئ تعلق بنا یا نہی۔” انہوں نے اشتیاق سے کہا۔ اور موبائل اٹھا کر کال بھی ملادی۔
” سیریسلی۔۔۔ ماما۔۔” وہ سر کو نفی میں جنبش دے کر رہ گئ تھی۔ ماما نے موبائل اسپیکر پہ رکھا تھا۔
کچھ لمحوں بعد کال اٹھا لی گئ۔ جس ٹائم ساوری کے پاس کال آئ وہ آفس میں حیدر کی کافی بنا رہی تھی۔ اسنے کال اٹھا کر کان سے لگا لی۔
” اسلام و علیکم۔” اسنے کان اور کندھے کے بیچ موبائل اڑاسا ہوا تھا۔ اور کافی کا مگ ہاتھ میں تھام کر حیدر کے پاس لائ تھی۔ حیدر نے اس سے کافی لی۔ اور اسے سنجیدگی سے تکا۔
” وعلیکم اسلام۔۔ کیسی ہو۔” انہوں نے بے تابی سے پوچھا۔
” میں تو ٹھیک ہوں آنٹی۔” اسنے نرمی سے جواب دیا۔
” اچھا ۔۔۔ میں نے یہ پوچھنے کے لیئے فون کیا تھا۔ کہ کل رات تم دونوں کے درمیان کچھ ہوا۔؟” انکا لہجہ و انداز بے حد بیتاب تھا۔
ساوری نے حیدر سے نگاہ چرائ۔ اور اپنی جگہ پہ آکر بیٹھی۔
” نہی۔۔۔” اسنے ایک لفظی جواب دیا۔
” ارے میرا مطلب ہے۔ کہ تم لوگ کل رات ایک دوسرے کے قریب آئے۔؟” انہوں نے اسے اپنی بات بہت اچھے سے سمجھانے کی کوشش کی۔
” نہی۔۔” اسنے پھر وہی یک لفظی جواب دیا۔
” او ہو ۔۔۔۔ کوشش کرو حیدر کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی۔ تاکہ میں مرنے سے پہلے ایک بار اپنا پوتا دیکھ لوں۔” انکا لہجہ نم ہوا تھا۔
” میں آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں۔” ساوری نے کہتے ساتھ ہی موبائل سائڈ پہ رکھا تھا۔ اور اپنے کام پہ اپنی توجہ دلانے لگی تھی۔ حیدر کافی پیتے ہوئے اب بھی بغور اسکا جائزہ لے رہا تھا۔
☆☆☆☆☆
