Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 11)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 11)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
” آپکا کب تک بات بات پہ سوری کرنے کا ارادہ ہے مس ساوری۔؟” حیدر نے اپنے سامنے کھلی فائل کو بند کرکے کہا۔
ساوری نے بنا جواب دیئے۔خاموشی سے اپنے لب کچلے تھے۔
” آج تو میں آپکو لیٹ آنے پہ معاف کر رہا ہوں۔ پر آئندہ سے ایسا نہیں ہوگا۔” حیدر نے سنجیدگی سے کہا۔
” اوکے سر۔” ساوری کی دھیمی سی آواز دفتر میں گونجی تھی۔
” اب پلیز آپ جاکر مجھے کافی بنا دیں۔ تاکہ میں اپنے کام پہ فوکس کر سکوں۔” حیدر نے گہری سانس لیکر کہا۔
اسنے اثبات میں سر ہلاتے۔ اپنا پرس اپنی ڈیسک پہ رکھا تھا۔ اور دفتر سے ملحقہ کچن میں گھس گئ تھی۔
☆☆☆☆☆
مصطفی نکاح کے فورا بعد گاڑی لے کر گھر سے نکل آیا تھا۔ نجانے کتنا وقت بیت گیا تھا۔ اور وہ ساحل سمندر پہ تھا۔ دور پتھر پہ بیٹھے۔ وہ سمندر کی طغیانی تک رہا تھا۔ لہریں کبھی تیز آتی تو کبھی آہستہ۔ موبائل جیب سے نکال کر وقت دیکھا تو رات کے بارہ بج رہے تھے۔ وہ گہری سانس لیتا۔ گھر کو واپس آیا تھا۔ جب وہ گھر پہنچا تو رات کے ساڑھے بارہ ہورہے تھے۔ اپنے کمرے میں جانے کے بجائے اسکے قدم نازنین کے کمرے کی سمت تھے۔
وہ جیسے ہی نازنین کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔ نازنین اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑی موبائل کان سے لگائے شاید کسی سے بات کر رہی تھی۔ کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز پہ وہ مڑی تھی۔ اپنے کمرے میں مصطفی کو دیکھ اسنے کال کاٹی تھی۔ اور اسکو تحقیر بھری نظروں سے گھورتی۔ غرا کر گویا ہوئ۔
” میرے کمرے میں کیا کر رہے ہو۔؟”
” ہنہ اب یہ صرف تمہارا کمرہ تو نہی رہا۔ میرا بھی ہے۔” وہ قدم قدم چلتا اسکے پاس آیا تھا۔
نازنین کی رنگت غصہ کی زیادتی کی وجہ سے سرخ ہوئ تھی۔
” اوقات میں رہ کر بات کرو۔” وہ اسے انگلی اٹھا کر وارن کر رہی تھی۔ مصطفی نے بغور اسکی انگلی کو تکا۔
” اوقات۔۔۔۔!!! میری اوقات ہر وقت یاد دلاتی رہتی ہو مجھے۔ پر آج میں نے سوچا ہے کہ تمہیں تمہاری اوقات یاد دلا دوں۔” وہ اسکے برہنہ بازوؤں پہ دھیرے سے اپنے ہاتھ پھیر کر گویا ہوا۔
” ہمت کیسے ہوئ تمہاری مجھے ہاتھ لگانے کی۔ گھٹیا آدمی۔” وہ اسے دھکہ دیتی چلائ تھی۔
” کیوں۔۔۔۔ تم نے ہی تو صبح کہا تھا۔ کہ تمہارے ساتھ میں کل رات بہت کچھ کر چکا ہوں۔ پھر ہمت کی بات کہاں سے آگئ۔” اسنے اسکے سراپے کو سر سے لیکر پیر تک دیکھا تھا۔نازنین کا رنگ شاید زندگی میں پہلی بار زرد پڑا تھا۔
” دیکھو۔۔اپنے روم میں جاؤ۔ تم اس وقت مجھے اپنے حواسوں میں نہی لگ رہے۔” وہ اس سے دور ہوتی تھوک نگل کر گویا ہوئ تھی۔
” ناں۔۔۔ آج ہی تو میں اپنے حواس میں واپس لوٹا ہوں۔” وہ اسکے پیچھے جانے پہ مزید اسکے قریب ہوا تھا۔
” میں ابھی شور مچا دونگی۔” اسنے دھمکی دی۔
” مچاؤ شوق سے مچاؤ۔” وہ اسے بازو سے تھام کر بیڈ پہ دھکا دے کر گرا گیا تھا۔
نازنین نے سہمی ہوئ نظروں سے اسے تکا۔
” پلیز۔۔۔ سوری۔۔ میں جانتی ہوں۔ جو صبح میں نے کہا وہ بہت غلط تھا۔ سوری۔” نازنین نے خوف سے زرد پڑتے چہرے سمیت اس سے معافی مانگی۔
مصطفی اسکے گڑگڑانے پہ زخمی سا مسکرایا تھا۔ اپنی شرٹ کے بٹن ایک ایک کرتا وہ کھول کر شرٹ کو اتار کر دور جھٹک گیا تھا۔
نازنین نے خوف سے خود کو پیچھے گھسیٹا تھا۔
مصطفی اسکے اوپر آیا تھا۔ نازنین مزید پیچھے سرکی۔ پر مصطفی نے اسکے برہنہ بازوؤں پہ اپنی انگلیاں سرکائ تھیں۔
” پلیز جانے دو مجھے۔ پلیز معاف کردو۔” وہ گڑگڑائ تھی۔
” ہنہ افسوس اب کچھ نہیں ہوسکتا۔” وہ کہتے ساتھ ہی اسکی گردن پہ اپنے دانت پوری شدت سے گاڑھ گیا تھا۔ نازنین سسکی تھی۔ اسکا لمس اسقدر جارہانہ تھا۔ کہ نازنین کی آنکھوں سے چند آنسو تکلیف کی شدت سے بہے تھے۔
” بہت شوق ہے ناں لوگوں کو انکی اوقات یاد دلانے کا۔ آج میں تمہیں تمہاری اوقات دکھاؤں گا۔” نازنین کی گردن پہ سے اٹھتا وہ اسکے کانوں کے قریب آکر اسکی سماعتوں میں نفرت سے غرایا تھا۔ نازنین نے اسکی گرفت سے خود کو آزاد کرنا چاہا۔ پر ناکام رہی۔
مصطفی نے دھیرے سے اسکے لبوں پہ ہاتھ پھیرا تھا۔ اور پھر اسکے جبڑوں سے اسے وحشیوں کی مانند جکڑتا۔ اسکے لبوں پہ اپنے دانت اس شدت سے گاڑھے لگا تھا۔ کہ نا وہ چیخ پا ری تھی۔ اور نا ہی رو پا رہی تھی۔ نازنین نے تکلیف کی شدت سے بلبلا کر اسے خود سے دور جھٹکنا چاہا پر ناکام رہی۔ جب وہ اسکے نازک لبوں پہ ستم ڈھا کر ہٹا تو اسکے ہونٹوں سے خون رسنے لگا۔
” کل صبح تمہیں کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں پڑھے گی۔ کہ تم پہ کل رات کوئ شیطان حاوی ہوا تھا۔بلکہ سب دیکھ کر ہی سمجھ جائیں گے۔” نازنین شدت سے سسک رہی تھی۔ اسکی گردن اور ہونٹ بہت دکھ رہے تھے۔ اسنے بہت کوشش کی اسکی گرفت سے نکلنے کی پر ناکام رہی۔ مصطفی اسکے بازو پہ جھکا تھا۔ وہاں بھی اسنے وحشی درندے کی مانند اسے نوچا تھا۔ اور پھر وہ رکا نہیں۔ اسکے جسم پہ اسنے کوئ جگہ نا چھوڑی جہاں زخم نا ہوں۔ وہ سہم گئ تھی۔ درد سے نڈھال ہونے لگی تھی۔ جب وہ اسکی سکرٹ سرکاتا۔ اسے مکمل طور پہ اپنی جارہانہ گرفت میں لے چکا تھا۔ نازنین سسک سسک کر بھی تھک گئ تھی۔ پر وہ اسکو زخم دیتے دیتے نہیں تھکا تھا۔ یا پھر وہ شاید ایک ہی رات میں اس سے عمر بھر کا حساب لے رہا تھا۔ نازنین نڈھال سی پڑی چھت کو گھور رہی تھی۔ اور وہ اسکا جسم و روح نوچ کر پرسکون پڑا سو رہا تھا۔
☆☆☆☆☆
سورج کی روشنی کمرے کی کھلی کھڑکی سے چھن کر مصطفی کے چہرے پہ آئ تھی۔ وہ اپنی آنکھوں پہ ہاتھ رکھتا کروٹ بدل گیا تھا۔ جب اسے یاد آیا کہ آج پھر وہ لیٹ ہوجائے گا۔اور پھر عالم اسکی دوبارہ کلاس لے گا نا اٹھانے پہ۔
مصطفی آٹھ کر بیٹھا۔ اپنی شرٹ اٹھا کر پہنی نظر برابر پڑے وجود پہ گئ تو آنکھوں میں نفرت کا جہاں۔ بس آیا تھا۔
مصطفی نے اسکا بازو جارہیت سے ہلایا تھا۔ نازنین نے کرآہ کر اپنا بازو اسکی گرفت سے آزاد کیا۔
” زیادہ نازک پری بننے کی ضرورت نہیں۔ اٹھو مجھے دن چڑھے تک سونے والی عورتیں سخت زہر لگتی ہیں۔” مصطفی نے سرد بگڑے لہجہ میں کہا۔
” تمہاری غلام نہی ہوں میں۔” وہ کمزور سی آواز میں چلائ تھی۔
” کیا مجھے رات والا ٹریلر دوبارہ دکھانے کی ضرورت ہے۔۔؟؟” اسنے اسکے وجود کو معنی خیزی سے تک کر کہا۔
” زیادہ اڑو مت۔ اگر میری ایسی حالت بھائ نے دیکھ لی ناں تو گھر سے باہر پھینک نکالیں گے تمہیں۔” وہ ناچاہتے ہوئے بھی رونے لگی تھی۔
” تو۔۔۔ جاؤ دکھاؤ اپنی یہ حالت اپنے بھائ کو۔ مجھے کوئ فرق پڑتا ہی نہی اب۔” مصطفی نے اسے خونخوار نظروں سے گھورا اور اسکے کمرے کا دروازہ زور سے مارتا نکل گیا۔
جب مصطفی نہایا دھویا فریش سا نیچے آیا تو ۔ میر عالم بھی ڈائیننگ ٹیبل پہ تیار بیٹھا تھا۔ شعلہ بھی بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی۔ مصطفی نے بغیر عالم کو سلام کیئے چیئر کھسکائ اور خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا۔ ابھی بریڈ پہ بٹر لگا رہا تھا۔ جب نازنین نیچے آئ۔ گلابی رنگ کی فل سلیوس والی کرتی اور اسکے ساتھ سفید پاجامہ پہنے۔ وہ ڈائینگ ایریا میں آئ تھی۔ میر عالم کی نظر نازنین کے چہرے پہ پڑی تو وہ حیران ہوئے۔ اسکے چہرے کے نقوش سوجے ہوئے تھے۔ ہونٹ زخمی۔ گردن پہ زخم۔ میر عالم نے مصطفی کو دیکھا تھا۔ مصطفی خاموشی سے ناشتہ کر رہا تھا۔ شعلہ کی نظر جیسے ہی نازنین پہ پڑی۔ اسکے ہاتھوں سے بے ساختہ چھڑی کانٹا چھوٹا تھا۔
” یہ کیا ہوا تمہیں۔۔۔ نازنین۔؟” شعلہ نے فکر مندی سے پوچھا۔
” کچھ نہی بھابھی۔۔۔۔” وہ سنجیدگی سے کہتی ٹیبل پہ آکر بیٹھی تھی۔ شعلہ نے نگاہیں گھما کر مصطفی کو گھورا تھا۔ جو ہر چیز سے انجان ناشتہ کرنے میں خود کو مشغول کیئے بیٹھا تھا۔
شعلہ تاؤ کے عالم میں اٹھ کر مصطفی کے سر پہ آکر کھڑی ہوئ تھی۔ نا چار مصطفی نے سر اٹھا کر شعلہ کو تکا تھا۔ پر جیسے ہی مصطفی نے سر اٹھایا۔ ایک زناٹے دار تھپڑ شعلہ نے اسکے گال پہ جڑ دیا۔
” شرم نہی آئ۔۔۔۔ امید نہیں تھی مجھے۔ کہ تم ایسے۔۔۔ انسان کے چولہے میں ۔۔۔۔۔ وحشی درندے نکلو گے۔” مصطفی نے مٹھیاں بھینچی تھیں۔ اور بنا کچھ کہے واپس ناشتہ کرنے لگا تھا۔
” مصطفی۔۔۔۔ آج توڑ دیا تم نے مجھے۔” میر عالم کی بکھری ہوئ آواز مصطفی کے کانوں سے ٹکرائ تو۔ مصطفی طنزیہ ہنسا۔
” مصطفی تو کل ہی ٹوٹ چکا ہے۔ اب چاہے کوئ بھی ٹوٹے مصطفی کو کوئ فرق نہیں پڑتا۔” مصطفی نے کہتے ساتھ ہی نظریں نازنین کی طرف اٹھائ تھیں۔
” آئندہ سے بغیر دوپٹہ کے کمرے سے نکلتا نا دیکھوں۔” وہ سرد لہجہ میں کہتا۔ آٹھ کر باہر گاڑی میں جاکر بیٹھ گیا تھا۔
نازنین مٹھیاں بھینچ کر رہ گئ تھی۔ شعلہ نے افسوس سے میر عالم کو اسکے ںتہائ غلط فیصلہ پہ ٹ5کا تھا۔ عالم اپنا ماتھا مسل کر رہ گئے تھے۔ اور آٹھ کر وہ بھی اسی کے پیچھے گئے تھے۔
☆☆☆☆☆
