Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 23)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

شعلہ کے خیالات کے پردوں پہ وہ رات پوری آب و تاب سے لہرائ تھی۔ جس رات اسکی طبیعت ٹھیک نہی تھی۔ میر عالم نے اسے اپنی بانہوں کے حصار میں قید کیا تھا۔ رات کے نصف پہر میں شعلہ ڈر کر اٹھی تھی۔ اسکا چہرہ خوف سے مکمل زرد پڑ چکا تھا۔ میر عالم بھی اسکی چیخ پہ اٹھے تھے۔ اسکے گالوں پہ ہاتھ دھر کر انہوں نے اسے نرمی سے تکا تھا۔

” کیا ہوا۔۔؟؟” اُنکی نرم سی آواز جب شعلہ کے کانوں سے ٹکرائ تو وہ خوف کے زیرِ اثر میر عالم کے گرد اپنے بازو ہمائل کر گئ تھی۔

” میں نے بہت برا خواب دیکھا۔۔۔” وہ گہری گہری سانسیں لیتی سہمے ہوئے لہجہ میں گویا ہوئ۔

” اٹس اوکے خواب ہی تھا۔۔۔!!” میر عالم نے اسے مزید خود سے قریب کیا تھا۔

” مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔” شعلہ نے میر عالم کا کالر اپنی مٹھی میں جکڑا تھا۔

” پہلی بار تمہیں اس قدر خوفزدہ دیکھ رہا ہوں۔ ایسا کیا دیکھ لیا خواب میں۔۔۔؟” میر عالم نے اسکی پیشانی پہ بکھرے بالوں کو اسکے کانوں کے پیچھے اڑسا تھا۔

” کچھ۔۔۔ نہی۔۔” وہ گہرے سانس بھرتے ہوئے گویا ہوئ۔

میر عالم نے دھیرے سے اسے بستر پہ واپس لٹایا تھا۔ شعلہ خوفزدہ سی اسکی گرفت میں مزید سمٹی تھی۔

میر عالم کا دل اسکی قربت میں اُدھم مچا گیا تھا۔شعلہ مزید اُسمیں سمٹتی میر عالم کا کڑا امتحان لے رہی تھی۔ میر عالم کے حلق میں ایک گھٹلی ابھر کر معدوم ہوئ تھی۔ انکے ہاتھ جو شعلہ کے گرد بندھے تھے۔ اب وہ دھیرے دھیرے اسکے گرد سرکنے لگے تھے۔ شعلہ جو خوفزدہ سی تھی۔ اسکی حرکت پہ یکدم ہوش میں آئ تھی۔ اور خود کو اسکی گرفت سے آزاد کیا تھا۔ میر نے بہکی ہوئ خمار آلود نظروں سے اسے تکا تھا۔ شعلہ کے گال یکدم تپ اٹھے تھے۔

” میں بے خواب ۔۔۔ بہت بر۔۔ا دیکھا۔” شعلہ نے اٹک اٹک کر کہا۔ عالم کا دیہان بٹانے کا اسے کوئ اور طریقہ نا دکھا تو وہ خواب کے بارے میں بتانے لگی۔

” ایک موقع تو دو ، پھر زندگی میں کبھی برے خواب نہی آنے دونگا۔ چاہت ، محبت ، خلوص ، سب ہمیشہ تمہارے گرد طواف کریں گے۔ میری بے رنگ زندگی میں تم کسی بہار کی مانند ہو شعلہ۔۔۔!!

نام تو تمہارا شعلہ ہے پر میرے لیئے تم شبنم ہو۔ اور میں چاہتا ہوں ، کہ یہ شبنم صدا یونہی مجھ پہ برستی رہے۔ اظہار کے زیادہ طریقے نہی آتے مجھے ، بلکہ سچ کہوں تو ، یہ کام میرے لیئے کافی مشکل ہے پر پھر بھی میں کہنا چاہوں گا۔

کہ مجھے تم سے محبت ہوگئ ہے۔ تمہارے غنڈوں والے انداز ، تمہارے ایک نارمل لڑکی والے انداز ، خواہ کے تم اور تم سے جڑی ہر چیز سے عشق ہے مجھے۔ تم بہت اچھی لگنے لگی ہو مجھے۔” میر عالم کے اظہار محبت پہ شعلہ کئ لمحوں تک اسے بے خودی کے عالم میں تکتی رہی۔

عالم نے خمار ، خمار ہوتی نظروں سے اُسکا بھر پور جائزہ لیا۔

شعلہ اُسکی نظروں کی تپش خود پہ محسوس کرکے ہوش میں آئ تھی۔

” رات۔۔۔ بہت ہو۔۔۔گئ ہے۔۔ سو جائیے۔۔۔” شعلہ نے اٹک اٹک کر کہا۔ اسکی سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔ دل ڈھول کی مانند کانوں میں بج رہا تھا۔ اسکا ہاتھ بے ساختہ اپنے دل پہ جاکر پڑا تھا۔ اسکا دل جیسے ناچ رہا تھا۔ وہ خوفزدہ ہوئ۔ کہیں اسکے دل کی یہ سرکشی میر عالم سن نا لے۔

” ہاں رات تو واقع بہت ہوگئ ہے۔” انکا لہجہ اب بھی خمار آلود تھا۔

شعلہ تھوک نگلتی لیٹی تھی۔ میر عالم بھی اسکے برابر میں ہی لیٹے تھے۔ پر آج انہوں نے کوئ تکیوں کی دیوار نہی لگائے تھی۔ آج یہ کام شعلہ نے کیا تھا۔ اسکی اس تدبیر پہ میر عالم دلکشی سے مسکرائے تھے۔

” اگر میں بے قابو ہوگیا۔ تو یہ تکیوں کی باڑ مجھے روک نہی پائے گی۔۔۔” میر عالم کے بھاری لہجے میں کہی بات شعلہ کا دل سرکا گئ تھی۔ شعلہ نے سہمی ہوئ نظروں سے اسے تکا۔ اور کمفرٹر سر تک تان گئ۔

میر عالم کمفرٹر میں چھپے اسکے وجود کو دیکھتا رہا۔ شعلہ کو اسکی نظروں کی تپش اب بھی خود پہ محسوس ہورہی تھی۔ اسنے چڑ کر کمفرٹر اپنے چہرے پہ سے ہٹایا۔

” مسئلہ کیا ہے تمہارا۔۔۔؟؟”

” میرا مسئلہ اگر تمہیں بتا دیا ، تو تم ناراض ہو جاؤ گی۔” اسکی ذومعنی بات پہ شعلہ کے گال دہک اٹھے تھے۔

” شرم کرو۔ اپنی عمر کا ہی ذرا خیال کر لو۔” شعلہ نے تھوک نگل کر کہا۔

” شرم کی بھلا کیا بات ۔۔۔ ہاں۔۔۔!!

اور عمر بڑی ہے تو کیا ہوا۔ دل نہی ہے میرے پاس ، کیا میرے کوئ جذبات نہی۔” میر عالم اسکے قریب ہوتا اسکے چہرہ پہ جھکا تھا۔ دونوں کی گرم سانسیں ایک دوسرے سے ٹکرائ تھیں۔ میر عالم نے اپنا چہرہ اسکے گال پہ سہلایا۔ آنکھیں موند کر وہ اسکی خوشبو کو اپنے جسم و جاں میں جیسے اتار دینا چاہتا تھا۔ شعلہ نے اسکی قربت کے زیرِ اثر اپنی آنکھیں موند لی تھیں۔

” شعلہ۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔ کیا ہو ، کون ہو ۔۔۔۔ مجھے کچھ نہی پتہ ، مگر اتنا پتہ ہے کہ تمہارے بغیر جینا ممکن نہی۔۔۔” وہ اسکی بند آنکھوں کو بے خودی کے عالم میں دیکھ رہا تھا۔

شعلہ نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولیں تو میر عالم کی جادو میں جکڑتی آنکھوں سے اسکی آنکھیں ٹکرائ تھیں۔ کئ لمحے وہ دونوں ایک دوسرے کو ایسے ہی یک ٹک دیکھتے رہے۔ لمحے ریت کی مانند سرک رہے تھے۔ پر وہ ایک دوسرے کو دیکھنے میں گم تھے۔ میر بے خودی کے عالم میں اسکے لبوں پہ جھکا تھا۔ شعلہ بھی آنکھیں موندے دھیرے سے اپنے ہاتھ میر عالم کے گالوں پہ دھر گئ تھی۔

لمحہ بیتتے جا رہے تھے۔ اور وہ دونوں ایک دوسرے میں ڈوبتے جا رہے تھے۔ میر عالم نے اسکے لبوں کو اپنی گرفت سے آزاد کرتے ، اپنے ہونٹ اسکے سرخ رخسار پہ دھرے تھے۔

میر عالم کی انگلیاں اسکے چہرے سے سرکتی اسکی گردن پہ آئ تھیں۔ شعلہ آنکھیں موندے اپنی بے ترتیب ہوئ دھڑکنوں کو سنبھالنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔

” تم میرے لیئے بہت اہم ہو۔” وہ اسکے کان کی لو پہ لب رکھتا۔ بڑبڑایا تھا۔

شعلہ اسکے لمس پہ مزید سمٹی تھی۔ میر عالم کے دہکتے لب شعلہ کے بدن کو چھوتے اسکے دل کے تار چھیڑ رہے تھے۔

بیتتی رات کے سنگ وہ دونوں ایک دوسرے میں ڈوب گئے تھے۔ شعلہ اسکی بانہوں میں قید اپنا آپ اسکے سپرد کر گئ تھی۔

☆☆☆☆☆

نازنین لگی مصطفی کے کمرے کی صفائ کر رہی تھی۔ یہ سب تو اسکے لیئے روز کا معمول ہوگیا تھا۔ مصطفی کے دفتر نکلتے ہی وہ اسکے کمرے کی صفائ کرنے آجایا کرتی تھی۔ میر عالم کے ایکسیڈینٹ کے بعد مصطفی نے اپنے اور عالم کے پیسے ملا کر ایک فروزن فوڈز کی کمپنی اسٹارٹ کی تھی۔ جو بہت اچھی چل رہی تھی۔ مصطفی اکثر وہیں بزی رہتا۔ اب نازنین کی مصروفیات بھی بدل چکی تھیں۔ دوستوں کے ساتھ آنا جانا ، سب ختم ہوچکا تھا۔

روز ، روز شاپنگ کرنا بھی وہ کب کا چھوڑ چکی تھی۔ اب تو اسے مہینے ہوگئے تھے۔ شاپنگ کیئے۔میر عالم کے کومہ میں جانے کے بعد ، ان لوگوں نے وہ والا گھر بھی شفٹ کردیا تھا۔ یہ گھر شہر کے قریب تھا۔ کیونکہ میر عالم کی طبیعت کی کوئ خبر نہی ہوتی تھی۔ کہ اسے کب ڈاکٹر کی ضرورت پڑ جائے۔ اس لیئے مصطفی کوئ رسک نہی لینا چاہتا تھا۔

گھر تو یہ بھی خوبصورت تھا۔ پر اتنا بڑا نا تھا۔ جتنا انکا وہ والا گھر بڑا تھا۔ گھر چھوٹا ہوا۔ تو ملازمین بھی کم کر دیئے گئے۔ کیونکہ زیادہ ملازمین کی اس گھر میں ضرورت نہی تھی۔ اور کچھ ملازمین کو نازنین نے خود نکال دیا تھا۔ کیونکہ وہ فارغ نہی بیٹھنا چاہتی تھی۔ وہ خود کو مصروف رکھنا چاہتی تھی۔ وہ نازنین جسے کھانے کی الف کا بھی پتا نا تھا۔ وہ اس کچھ عرصہ میں اچھا کھانا بنانا سیکھ گئ تھی۔ اسکے لباس میں بھی بہت تبدیلی آئ تھی۔ بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ نازنین سر سے لیکر پیر تک بدل چکی تھی۔ اس میں آئ یہ تبدیلیاں ہر کوئ دیکھ رہا تھا۔ اور اسے سراہ رہا تھا۔ سوائے مصطفی کے۔ نازنین کو کسی کی تعریف نہی چاہیئے تھی۔ اسے محض مصطفی کی تعریف چاہیئے تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ اسکا شوہر اسکی تعریف کرے ، اسے سراپے، اس سے پیار کرے۔۔۔!!!

پر شاید یہ سب نازنین کی زندگی میں خواب ہی بن کر رہ گیا تھا۔

مصطفی کی سفید شرٹ جو بیڈ پہ پڑی تھی۔ نازنین نے وہ اٹھائ تو اسکا دل دہک سے رہ گیا۔ مصطفی کی شرٹ پہ لپ اسٹک کے نشان تھے۔ اسنے کپکپاتے ہاتھوں سمیت اس شرٹ کو سنمبھال کر رکھا۔ آنکھوں سے آنسو تواتر سے بہنے لگے تھے۔ اپنے آپ کو سنبھالتی وہ مصطفی کے کمرے سے نکلی۔ اور پھر پورا دن وہ کچھ نا کرسکی۔ صدمہ تھا۔ کہ بہت گہرا تھا کم ہونے کا نام ہی نا لے رہا تھا۔

اب تو مغرب ہونے کو آگئ تھی۔ وہ اسی طرح کمرے میں بند پڑی تھی۔ رات کے نو بجے کے قریب باہر سے مصطفی کی آوازیں آنا شروع ہوئ تھی۔

وہ کسی برف کے مجسمے کی مانند اٹھی تھی۔ باہر آئ تو وہ ڈائیننگ ٹیبل پہ بیٹھا کھانا کھا رہا تھا۔ وہ قدم قد۔ چلتی اسکے سر پہ آکر کھڑی ہوئ تھی۔ مصطفی نے اسے ایک نظر دیکھا۔

” آپ کا کسی لڑکی کے ساتھ افیئر چل رہا ہے۔۔؟” اسنے ہر احساس سے عاری لہجہ میں پوچھا۔

” واٹ۔۔۔!!” مصطفی نے اسے نا سمجھی سے تکا۔

” زیادہ انجان بننے کی ضرورت نہی ہے۔ مجھے سب پتا چل گیا ہے۔” اسنے بکھرے لہجہ میں کہا۔

” مجھے کچھ سمجھ نہی آرہی۔۔ کیا پتا چل گیا ہے تمہیں۔۔۔” مصطفی کھانا چھوڑ کر الجھے ہوئے لہجہ میں مستفسر ہوا۔

” سب سمجھ آجائے گی۔ سب۔۔۔!!” وہ طیش کے عالم میں کہتی مصطفی کی کلائ تھام گئ تھی۔ مصطفی نے پہلے اپنی کلائ اور پھر اسے دیکھا۔ وہ نجانے کیوں اسکے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ وہ اسے اپنے ساتھ لیئے اسکے کمرے میں لائ تھی۔ اور اسکی کلائ کو ایک جھٹکے سے چھوڑا تھا۔ مصطفی اپنے جبڑے بھینچ کر رہ گیا تھا۔

وہ بازو باندھ کر کھڑا ہوگیا تھا۔ نازنین اسکی الماری سے شرٹ نکال کر لائ۔ اور سیدھا اسکے منہ پہ ماری۔ مصطفی نے شرٹ دیکھی۔ شرٹ کے کندھوں کے پاس لپ اسٹک کے نشان تھے۔ مصطفی نے شرٹ بیڈ پہ پھینکی اور کندھے اچکائے۔

” یہ کوئ ثبوت نہی۔۔۔” مصطفی نے کندھے آچکا کر کہا۔

” یہ تمہاری شرٹ پہ کسی لڑکی کی لپ اسٹک کا نشان ہے اور تم کہہ رہے ہو یہ کوئ ثبوت نہی۔۔۔!!!” نازنین کو اسکے ڈھیٹ پنے پہ جی بھر کر تاؤ آیا۔

” ہاں یہ کوئ ثبوت نہی اس بات کا ، کہ میرا کسی لڑکی کے ساتھ افئیر چل رہا ہے۔” وہ اپنی بات پہ اسٹل رہا۔

” جھوٹ مت بولو۔ تم کل رات بہت دیر سے آئے تھے۔ مصطفی تمہارا افئیر چل رہا ہے۔۔۔” وہ چلائ تھی۔

” چلاؤ مت ، چلانا مجھے بھی آتا ہے۔” وہ اس سے زیادہ اونچی آواز میں چلایا تھا۔

” مصطفی پلیز سچ بتا دو۔۔۔” وہ ہار مان کر سسکی تھی۔

مصطفی نے بگڑے تیور لیئے اسکی جانب سے رخ موڑا تھا۔ اور تمسخر سے ہنسا تھا۔

” جب تم یہ مان چکی ہو۔ کہ میرا کسی کے ساتھ افیئر چل رہا ہے۔ تو پھر کوئ فائدہ نہی میرے کچھ بھی کہنے کا۔ تم نے ہمیشہ یہی کیا ہے۔ ہمیشہ مجھ پہ الزام ہی لگائے ہیں۔ اب تو مجھے عادت سی ہوگئ ہے۔ تمہارا یہ الزام بھی قبول ہے۔۔۔!!” مصطفی نے سرد لہجہ میں کہا۔

نازنین کی آنکھوں میں آنسو اٹکے تھے۔ اسنے نفی میں سر ہلایا تھا۔

” الزام۔۔۔ نہی۔۔۔۔ لگا رہی۔۔۔ میں تو چاہتی ہوں کہ تم کہو کہ ایسا کچھ بھی نہی۔۔ جیسا میں سوچ رہی ہوں۔۔” وہ روتے ہوئے اسکے قریب آئ تھی۔

” مجھے کوئ صفائ نہی دینی۔ ساری زندگی میں تمہیں صفائیاں نہی دے سکتا۔ اگر تمہیں مجھ پہ بھروسہ ہوتا۔ یقین ہوتا۔ تو کبھی یہ نوبت نا آتی۔” مصطفی اسکی سائڈ سے ہوکر نکلنے لگا تھا۔ جب نازنین نے اسکا ہاتھ تھاما۔

” تم اس بات کا الزام مجھے نہی دے سکتے مصطفی۔ تم نے کبھی مجھے اس قابل سمجھا کہ میں تم پہ یقین کر سکوں۔ تم پہ بھروسہ کرسکوں۔۔۔!!!

نہی۔۔۔!!

تم نے ایسا کبھی نہی کیا۔ تمہیں کبھی میرا یقین۔۔۔ میرا بھروسہ جیتنے کی خواہش ہی نہی ہوئ۔” اسکی نم بھیگی آواز میں کیئے گئے شکوے پہ آنکھیں موند کر رہ گیا۔

” اگر میں نے نہی کی۔ تو کوشش تم نے بھی نہی ، میرا یقین جیتنے کی۔” وہ ایک جھٹکے سے اسکی گرفت سے اپنا بازو چھڑوا گیا تھا۔

” غلط کر رہے ہو تم مصطفی۔۔۔!!” وہ سسکتی ہوئ فرش پہ بیٹھی تھی۔

” تمہاری نظروں میں تو۔ ساری زندگی مصطفی ہی غلط رہا ہے۔” مصطفی کہتے ساتھ ہی واشروم میں بند ہوگیا تھا۔ اور وہ بیٹھی سسک رہی تھی۔ سلگ رہی تھی۔ پر کچھ کرنے کی طاقت نہی رکھتی تھی۔

☆☆☆☆☆

” ساوری پریگننٹ ہے اور تم ہمیں ابھی پانچ مہینے بعد بتا رہے ہو۔۔۔” اسکی امی خفا ہورہی تھیں۔

” امی مجھے ابھی لگا کہ یہ سہی ٹائم ہے اسی لیئے ابھی بتا دیا۔” حیدر نے سنجیدگی سے کہا۔

” بھلا یہ کیا بات ہوئ حیدر۔۔۔” امی بھڑکی تھیں۔

” ہمیں در فشاں کو آگاہ کرنا تھا کہ وہ سب کے سامنے ایسے پرٹنڈ کرے کہ وہ پریگننٹ ہے۔۔” امی نے قدرے نرمی سے کہا۔

” ہمم تو اب بتا دیجیئے۔۔۔” لاپرواہی کی حد تھی۔

” ہاں اب گھر جاکر پہلے اسے انفارم کروں۔۔۔” حیدر کی امی نے دھیرے سے مسکا کر کہا۔

ساوری جو کمرے میں تھی۔ حیدر کی امی کی آوازیں سن کر باہر آئ تھی۔ حیدر کی امی نے جیسے ہی اسکے بھاری سراپے کو دیکھا۔ فوراً آٹھ کھڑی ہوئیں۔

” ماشااللہ میرا پوتا۔۔۔” وہ ساوری کو گلے سے لگا گئ تھیں۔ انکی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے تھے۔

” کیسی ہیں آپ۔۔؟” ساوری نے دھیرے سے مسکا کر پوچھا۔

” میں ٹھیک ہوں۔ تم کیسی ہو۔ ؟” انہوں نے بڑے ہی نرم چاشنی سے لہجہ میں پوچھا۔

” میں ٹھیک ہوں۔۔” وہ مسکائ۔

حیدر نے اسے صوفہ پہ آکر بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ چلتی ہوئ صوفہ پہ آکر بیٹھی۔

” تمہارا یہ احسان ہم زندگی بھر نہی بھلا پائیں گے۔۔” انکا لہجہ تشکرانہ تھا۔

” شاید آپ لوگوں پہ کیا یہ احسان میں بھی زندگی بھر بھلا نا پاؤں۔۔” ساوری نے سر جھکا کر نرم سے لہجہ میں کہا۔

حیدر کی امی نے اسے بغور تکا۔

” تم ایک بہت بہادر لڑکی ہو۔۔” انہیں اس سے حقیقتا ہمدردی ہوئ۔

وہ تمسخر سے ہنسی تھی۔ حیدر نے اسے بغور تکا تھا۔

” تم بے فکر رہو۔ میں تمہاری شادی خود ایک بہت اچھی جگہ کرواؤں گی۔۔” انہوں نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا۔ حیدر اپنی ماں کی بات پہ بے چین ہوا تھا۔ اور ساوری محض انہیں دیکھ کر رہ گئ تھی۔

☆☆☆☆☆