Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 41)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

عالم آج شعلہ کے گھر میں تنہا ہونے کا سوچ کر جلدی گھر آگیا تھا۔ وہ واشروم میں فریش ہونے گیا۔ فریش ہوکر جب وہ باہر آیا تو ، شعلہ کمرے کی کھڑکی کھولے کھڑی آسمان پہ پورے چاند کو تک رہی تھی۔

وہ دھیرے دھیرے چلتا اسکی پشت کے پاس جا کر کھڑا ہوا تھا۔ اسے سے پہلے کہ وہ مڑ کر اسے دیکھتی۔ عالم نے پشت سے ہی اسے اپنی بانہوں کے حصار میں لیا تھا۔ وہ جو اس سے لڑنے کے ارادے سے مڑنے والی تھی۔ یکدم جھاگ کی مانند بیٹھ گئ تھی۔ غصہ ، لڑنا ، جھگڑنا وہ سب بھول چکی تھی۔ اپنی جگہ منجمد ہو کر رہ گئ تھی۔ عالم اپنا گال اسکے گال کے ساتھ رگڑتا اسے مزید خود میں بھینچ گیا تھا۔

شعلہ کی پلکیں لرزتے ہوئے عارضوں پہ جھک آئ تھیں۔ عالم نے گہری سانس کھینچ کر اسکے جسم سے اٹھتی بھینی، بھینی خوشبو کو اپنے اندر اتارا تھا۔ شعلہ کا دل سست روی سے چلنے لگا تھا۔

” آج کا دن کیسا گزرا۔۔۔ ہمم۔۔” میر عالم نے اسکے گال پہ پیار کیا۔

شعلہ بنا جواب دیئے خود میں مزید سمٹ گئ تھی۔ وہ اسکے حسن کے جادو میں بہکنے لگا تھا۔ پر آج اسے نہی بہکنا تھا۔ آج اسے شعلہ کو بہکانا تھا۔ وہ اسکا رخ اپنی جانب موڑ کر اپنے ہاتھ دھیرے سے اسکے کندھوں پہ پھیرتا اسکی کمر تک لایا تھا۔ اور ہلکا سا جھٹکا لے کر اسے اپنے ساتھ لگایا تھا۔ شعلہ لب کچل کر اسکی گرفت میں مچلی تھی۔ پر پلکوں کی باڑ اٹھانے کی ہمت نا کرسکی۔

” میں نے کچھ پوچھا ہے۔۔” وہ اسکی مزاحمت نظر انداز کرتے سنجیدگی سے مستفسر ہوئے۔

” آپ ۔۔۔۔ پ۔۔۔پ۔۔۔پل۔۔۔پلیز۔۔۔ چھوڑیں مجھے۔۔” شعلہ کی کپکپاتی آواز سن عالم کے لبوں پہ ایک شریر سی مسکان رینگی تھی۔

” جان من چھوڑنے کے لیئے تو نہی پکڑا۔۔” میر عالم نے اسکے گلابی کپکپاتے لبوں کو ہلکا سا چھوا۔

وہ اسکے لمس پہ کرنٹ کھا کر اس سے دور ہونے کی کوشش کرنے لگی۔ جب اپنا آپ چھڑانے کی کوشش میں وہ مکمل طور پہ ناکام ٹہری ، تو پلکوں کی باڑ اٹھا کر اسے شدید بری نظروں سے گھورا تھا۔ پر دل کی حالت اس قدر بے ترتیب تھی کہ وہ میر عالم کو سہی سے گھور بھی نہی پائ تھی۔ حیا کے بوجھ تلے اسکی پلکیں جھکنے لگی تھیں۔ میر عالم اسکی اس ادا پہ دلکشی سے مسکرائے تھے۔

” کیوں ناراض ہو مجھ سے اسقدر۔۔؟؟” عالم نے اپنا ایک ہاتھ اسکے گال پہ دھر کر پوچھا۔

” ناراض نہی ہوں ، نفرت کرتی ہوں۔۔” وہ بے ترتیب لہجہ میں کہتی۔ خود کو اسکے شکنجے سے آزاد کرانے کی کوشش میں ناکام ہوئ۔

شعلہ نے گہری سانس لیکر عالم کو دیکھا۔

” پلیز پیچھے ہٹیں۔۔!!” وہ اسے خود سے دور جھٹکتی چلائ تھی۔ بھیگی بلی سے وہ یکدم شیرنی بن گئ تھی۔

عالم نے بنا اسے خود سے دور جانے کا موقع دیئے ہاتھ سے تھام کر دیوار سے لگایا تھا۔ شعلہ اسکی حرکت پہ سلگ کر رہ گئ تھی۔

” یہ کیا بدتمیزی ہے۔ سمجھ نہی آتی ایک بات پیچھے ہٹو۔” وہ چڑ کر کہتی اپنی سرخ و سفید رنگت لیئے سیدھا عالم کے دل میں اتری تھی۔

” آج تو پیچھے ہٹنا نا ممکن ہے۔۔۔” عالم آنکھیں بند کرکے اسکے چہرے پہ جھکنے لگا تھا۔ شعلہ یکدم بیچ میں اپنا ہاتھ اپنے ہونٹوں پہ دھر گئ تھی۔ عالم کو اسکا لمس کچھ الگ لگا تو اسنے آنکھیں کھول کر شعلہ کو دیکھا۔

اور ہونٹوں کے مقام پہ اسکے ہاتھ دیکھ وہ سلگ کر رہ گیا تھا۔

” اب تو تمہاری خیر نہی۔۔۔” وہ اسے بے خود نظروں سے دیکھتا مسکرایا تھا۔

” اپنی لمٹس مت کراس کیجیئے۔” وہ بے بس سے غرائ تھی۔

” اوکے اگر تم چاہتی ہو کہ میں اپنی لمٹس کراس نا کروں ، تو پھر مجھے بتاؤ ، مجھ سے اسقدر نفرت کی وجہ کیا ہے۔ کیونکہ جو کچھ تم نے میرے ساتھ کیا ، اسکے بعد میں نے سوچا تھا میں تم سے بہت نفرت کرونگا۔ تمہیں نفرت کے سوا کچھ نہی دونگا۔ تمہیں اذیت دونگا۔ تمہارا ایک ، ایک پل میری نفرت کی نظر ہو کر گزرے گا۔ پر میں نہی کرسکا۔ تم سے محبت اتنی تھی۔ کہ نفرت شدید خواہش کے بعد بھی نا ٹک سکی۔ تو تم کیسے کرسکتی ہو اتنی نفرت مجھ سے۔” عالم نے بے چینی سے پوچھا۔

” سب۔۔۔ سمجھ آرہی ہے مجھے۔۔۔!!

یہ نفرت نہی تو کیا ہے۔ سب۔جانتے بوجھتے بھی آپ چاہتے ہیں کہ میں اپنا گندہ ماضی دھراؤں۔۔۔۔” اسکی آنکھوں میں موتی چمکے تھے۔

” ہاں ایسا ہے تو تم ایسا ہی سمجھ لو۔ ہاں میں سب جانتے بوجھتے بھی چاہتا ہوں کہ تم۔اپنا ماضی دھراؤ۔۔۔” عالم نے اسے اپنے قریب لاکر کہا۔ وہ افسوس سے کئ لمحے عالم کو دیکھتی رہی۔ اور پھر گہری سانس لیکر اسے اپنا ماضی بتانے لگی۔

☆☆☆☆☆

ماضی

اس دن عالم نے بہت کوشش کی تھی بیا کو بچانے کی پر وہ اسے بچانے میں ناکام ٹہرا۔ جو لوگ بیا کو لیکر گئے تھے۔ وہ وہی انکے دشمن تھے۔ ان آدمیوں نے دس سالہ بیا کو اس ظالم شخص کے قدموں میں لاکر پٹخا تھا۔ بیا درد کی شدت سے چلا کر رہ گئ تھی۔ وہ فرعون صفت شخص اسکی چیخ و پکار سن کر ایک جناتی قہقہ لگاتا ، اسکے گندی نظروں سے تکنے لگا تھا۔

بیا ڈر و خوف سے خود میں سمٹ کر بیٹھنے لگی تھی۔ وہ فرعون اسے مارنے کے بجائے۔ اپنے گھر کی ملازمہ بنا گیا تھا۔ جہاں اس سے کسی باندھی جیسا سلوک ہوتا۔ صبح سے شام تک گدھے گھوڑوں کی طرح اس معصوم بچی سے کام لیا جاتا۔ وہ کام جو شاید اسکی عمر کے بچوں کے کرنے کے تھے ہی ناں ، وہ کام اسکو شدید زلالت دے کر کروائے گئے۔ ہر کوئ اسکو جوتی کی نوک پہ رکھتا تھا۔ ذرا سا کام خراب ہوجانے پہ جس کا دل کرتا جتنا دل کرتا اسے مار کر خونم خون کر دیتے۔ پر بیا کا پرسان حال کوئ نا تھا۔ وہ ہر رات سونے سے پہلے یہ سوچ کر سوتی کہ صبح مصطفی اور عالم اسے آکر ساتھ لے جائیں گے۔ پر اسکا انتظار ، انتظار ہی رہا۔ کوئ اسے ڈھونڈنے بچانے نا آیا۔ وہ پورے چودہ سال کی ہوچکی تھی۔ وہ صحت مند سی بچی۔ دو دو دن بعد کھانا ملنے ، اور اپنی عمر سے زیادہ مشقت کرنے کے باعث بلکل لاغر ہوچکی تھی۔ وہ جیسے جیسے جوان ہونے لگی تھی۔ اس گھر کی خواتین کو اپنے شوہروں کی فکر ہونے لگی تھی۔ ہر کوئ اپنا شوہر اسکے ساتھ باندھ کر چلی جاتی۔ روز وہ تمام عورتیں اسے پے در پے کئ تھپڑ دے مارتی۔ اور جو تھپڑ سے زیادہ تکلیف دہ تھے۔ وہ انکے الفاظ تھے۔

” بابا جان یہ لڑکی بد چلن ہے۔ آئے روز گھر کے مردوں کو اپنی طرف لبھانے کی کوشش میں لگی رہتی ہے۔ ہمیں نہی پتہ بس اس گند کو کہیں اور پھینک آؤ۔۔”اس فرعون کی لاڈلی بیٹی بڑی ناز برداری سے گویا ہوئ۔

” اچھا ٹھیک ہے ، کرتے ہیں اسکا بھی کوئ بندوبست ، انہوں نے اسے سر سے لیکر پیر تک دیکھ کر کہا۔ چودہ سالہ بیا خوف سے خود میں ہی سمٹ کر رہ گئ۔ اسے نہی پتہ تھا۔ اب یہ لوگ اسکے ساتھ کیا کرنے والے ہیں ، پھر بھی اسے اس مشکل وقت میں ایک سورج کی کرن کا انتظار تھا۔ اور اسکے لیئے وہ کرن اسکا بھائ اور میر عالم تھے۔ آج بھی وہ۔کل کی فکر کے بجائے بس مصطفی اور عالم کے انتظار میں تھی۔

☆☆☆☆☆

اگلے دن صبح وہ گھٹیا انسان اسے کوٹھے پہ بیچ آیا تھا۔ وہ خوفزدہ سی ارد گرد کے رنگین ماحول کو دیکھ رہی تھی۔ خوف کی ایک لہر اسکے پورے وجود پہ طاری ہوچکی تھی۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتی بائ کے بتائے ہوئے کمرے میں آئ تھی۔

” اچھے سے تیار ہونا آج تیری بھی بولی لگا ہی دیتے ہیں۔۔” بائ اسکے نئی ام چھوئ جوانی کو دیکھ کر پان منہ میں دبا کر گویا ہوئ۔

” جی۔۔۔ م۔۔۔ میں سمجھی نہی۔۔۔” وہ۔حیران ہوئ۔

” ارے ٹینشن کس بات کی لیتی ہے تو ، اب سمجھ جائے گی دھیرے ، دھیرے۔۔۔” وہ اسکی چڑھتی جوانی کو کیش کرانے کا سوچ کر ہی چہک اٹھی تھی۔

” پر۔۔۔” بیا کو ارد گرد کا ماحول عجیب لگا تھا۔

” پر ور کچھ نہی ہوتا رانی۔ چل جلدی سے لگ تیار ہوجا۔ بلکہ میں کسی کو بھجواتی ہوں۔ ” بائ اسکا چہرہ ٹھوڑی سے تھام کر کہتی۔ ایک ادا سے کمرے سے نکل گئ۔

بیا کو سمجھ نہی آرہا تھا وہ کہاں ہے۔ پر اسکی چھٹی حس اسے بار بار کچھ غلط ہونے کا احساس دے رہی تھی۔ اسنے ایک نظر گھما کر پورا کمرہ دیکھا تھا۔ اسکی آنکھوں میں معصوم سی خوشی چمکی ، وہاں اسے زمین پہ برآمدے میں سونا پڑتا تھا۔ چاہے سردی ہو یا گرمی ، بارش ہو یا طوفاں ، پر یہاں تو اسے کمرہ دیا گیا تھا۔ کمرے میں بیڈ بھی تھا۔ اور ضرورت کی تمام اشیاء موجود تھیں۔ وہ سب بھلائے چھوٹے ، چھوٹے قدم لیتی بیڈ پہ دھیرے سے ہاتھ پھیر کر بیٹھی تھی۔ دھیرے سے اپنا سر نرم تکیہ پہ رکھا تو اسے پتہ ہی نا چلا نرم بستر پہ لیٹتے کب اسکی آنکھیں بند ہوئیں اور وہ گہری نیند میں ڈوب گئ۔