Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 45)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

مصطفی اور نازنین آدھی رات کو اپنے ہوٹل سے نکل کر ترکی کی سڑکوں پہ واک کر رہے تھے۔ مصطفی اسکی کمر میں ہاتھ ڈالے اپنے ساتھ لگائے چل رہا تھا۔ رات کی خنکی، چاند اور ارد گرد پھیلی پودوں کی خوشبو ماحول کو خوابناک بنا رہی تھی۔

” مصطفی ایک بات پوچھوں۔۔۔؟؟” نازنین نے اسکے کندھے پہ سر ٹکا کر کہا۔

” تم کب سے اجازت ملنے کا انتظار کرنے لگیں۔” مصطفی نے حیرت کا اظہار کیا۔

” ہاں یہ بھی ٹھیک کہہ رہے ہو تم۔۔” وہ سنجیدگی سے کہتی مصطفی سے الگ ہوکر اسکے دونوں ہاتھ تھام گئ تھی۔ مصطفی نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔ ایسا پہلی بار ہورہا تھا۔ کہ وہ۔اسقدر فارمل ہورہی تھی کوئ بات کرنے کو۔ نازنین نے اسکے دونوں ہاتھ تھامے آنکھیں موند کر گہری سانس لی اور پھر آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔

” مصطفی۔۔۔۔ میں ڈاکٹر کے پاس گئ تھی۔ جب ہم پاکستان میں تھے۔ تو ڈاکٹر نے کہا۔۔۔” وہ بات کرتے کرتے رکی تھی۔ مصطفی پریشان ہوا تھا۔ اسکے ہاتھ چھوڑ کر وہ اسکے گالوں پہ ہاتھ دھرتا فکر مندی سے مستفسر ہوا۔

” کیا ہوا تمہاری طبیعت خراب ہے کیا ۔۔؟؟” وہ پریشان ہوا۔

” نہی میری طبیعت نہی خراب میں۔۔ بلکل ٹھیک ہوں پر۔۔ میں گائنی کی ڈاکٹر کے پاس گئ تھی۔۔۔” اس سے پہلے کے وہ مزید کچھ کہتی مصطفی اسکی سنے بغیر ہی چہک اٹھا تھا۔ اور اسے گود میں اٹھاتا خوشی سے گول گول گھومنے لگا تھا۔

” اوہ مطلب میں پاپا اور تم ماما بننے والی ہو۔۔۔ تم جانتی نہی ہو نازنین تم نے کتنی بڑی خوشی دی ہے مجھے۔” مصطفی کی سرشاری دیکھ ایک پل کو اسکا رنگ پھیکا پڑا تھا۔

” نہی۔۔۔ مصطفی۔۔۔ ایسا نہی ہے۔ انفیکٹ ۔۔۔ میں نے کچھ ٹیسٹ کروائے تھے۔ اور انکی رپورٹ یہ ہے کہ میں کبھی ماں نہی بن ۔۔۔۔ سکتی۔۔۔” یہ بات کہتے کتنے ہی آنسو نازنین کے رخسار کی زینت بنے تھے۔ ایک پل کو مصطفی بھی اپنی جگہ جم کر رہ گیا تھا۔ اسکا رنگ بھی فق ہوگیا تھا۔ پر اگلے ہی لمحے وہ زبردستی کی مسکان ہونٹوں پہ کھینچ لایا تھا۔

” ڈونٹ وری یار ، پریشان نا ہو۔ تو کیا ہوا اگر تم بچہ کو جنم نہی دے سکتی۔ ہم بچہ ایڈاپٹ تو کرسکتے ہیں ناں۔۔۔” مصطفی نے اسکے گال تھام کر اسکے ماتھے پہ بوسہ دیا تھا۔ نازنین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا۔ وہ سیدھا مصطفی کے سینے سے لگ کر پھوٹ، پھوٹ کر رو پڑی تھی۔ مصطفی نے اپنے بازو محبت سے اسکے گرد باندھے تھے۔ اور قرب سے آنکھیں مینچ گیا تھا۔

☆☆☆☆☆

صبح کے نو بج رہے تھے۔ پر عالم ابھی تک نہی اٹھا تھا۔ شعلہ کمرے میں ادھر ، ادھر ہوتی رہی چیزیں پٹخ، پٹخ کر شور مچاتی رہی کہ وہ اٹھ جائے۔ مگر وہ تو اپنی جگہ سے ٹس سے مس نا ہوا۔ وہ اسپہ مٹی ڈالتی عارض کو لیکر نیچے آگئ تھی۔ اور وہ دو گھنٹے سے نیچے ہی تھی۔ ابھی تک عالم نہی اٹھا تھا۔ اب تو دن کے گیارہ بج چکے تھے۔ وہ پریشان سی اوپر آئ تھی۔ عالم اب بھی کمبل میں دبکا پڑا تھا۔ اسنے پریشانی سے آکر جیسے ہی اسکے چہرے پہ سے کمبل ہٹایا۔ وہ بخار میں تپ رہا تھا۔ شعلہ کے تو یکدم ہاتھ پیر پھول گئے۔ اس نے سب سے پہلے ڈاکٹر کو بلایا۔ ڈاکٹر صاحب نے چیک اپ کیا۔ انجیکشن لگایا اور کچھ دوائیں لکھ کر دیں۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد اسنے سب سے پہلے ملازم کو دوائیں لینے میڈیکل اسٹور بھیجا اور پھر خود کچن میں آکر یخنی بنائ۔ یخنی لیکر وہ اوپر آئ۔ عالم اب بھی بخار میں نڈھال پڑا تھا۔ وہ یخنی سائڈ پہ رکھتی عالم کو سہارا دے کر بٹھانے لگی۔ پر بیٹھنے کے بعد بھی اسکی آنکھیں بخار کی شدت سے کھلنے سے انکاری تھیں۔ شعلہ نے با مشکل اسے سوپ پلایا۔ ملازم اسکی دوائیں بھی لے آیا تھا۔ شعلہ نے یخنی پلانے کے کچھ دیر بعد اسے دوائیں دی۔ وہ اٹھ کر اسکے پاس سے جانے لگی تھی۔ جب میر عالم نے اسکا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔

” میرا۔۔۔ سر دبا۔۔۔دو۔۔” اسکی نقاہت زدہ آواز سن کر وہ واپس بیٹھی تھی۔ اسکا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھا تھا۔ اور دھیرے دھیرے نرم ہاتھ سے اسکا سر دبانے لگی تھی۔

” شعلہ میں سچ کہہ رہا ۔۔۔۔ تھا ۔۔۔ کل رات۔۔۔” عالم کی غنودگی میں ڈوبی آواز آئ۔

” اوکے بس ابھی خاموش ہوجاؤ۔ خود کو مزید پریشان نا کرو۔۔” شعلہ نے اسکا سر دباتے نرمی سے کہا۔

” تم۔میرا یقین کیوں نہی کرتی۔۔۔؟؟” سوال داغا گیا۔

” تم نے کبھی اپنا یقین دلایا ہی نہی۔ تو آخر میں کیسے کروں تم پہ یقین۔۔۔” شعلہ نے بھی شکوہ کیا۔

” یہ غلط بات ہے ہر دم تو تم کو اسپیشل فیل کراتا رہتا ہوں۔۔۔” اسنے بگڑے تیور لیئے کہا۔

” اب یہ سراسر جھوٹ ہے۔ مجھے نہی یاد پڑتا کہ تم نے مجھے کبھی اسپیشل فیل کروایا ہو۔۔۔” شعلہ شکوہ کیئے بنا نا رہ سکی۔

” نہی میں۔۔۔ تمہیں اسپیشل فیل کراتا ہوں۔۔۔ یہ الگ بات ہے کہ تم اسپیشل فیل نہیں کرتی۔۔۔”

” تم نے میرے لیئے آج تک کچھ بھی اسپیشل نہی کیا ہے اوکے۔ اور تم کبھی کچھ اسپیشل کر ہی نہی سکتے۔ بڈھے نا ہو تو۔۔۔” وہ جل کر گویا ہوئ۔

” یہ تم میری توہین کر رہی ہو۔۔۔” وہ اسکے ہاتھ تھام کر خفگی سے گویا ہوا۔ بخار کی شدت کچھ کم ہوئ تھی۔

” جو بھی سمجھو سچ ہی کہا ہے میں نے۔۔۔” وہ منہ بنا کر بولی۔

” اچھا چلو مان لیا میں نے تمہارے لیئے کچھ بھی نہی کیا۔ تو تم نے کبھی میرے لیئے کچھ کیا۔ کبھی تم میرے لیئے کوئ خوبصورت سا رنگ پہن کر سج سنور کر کبھی میرا انتظار کیا ہے۔ بولو ۔۔۔؟ کیا ہے کبھی۔۔۔؟؟

نہی ناں جب دیکھو یہ سیاہ رنگ پہن کر بدروح بنی پھرتی رہتی ہو۔۔” عالم نے بھی جل کر نقاہت زدہ آواز میں کہا۔

شعلہ نے اسے خونخوار نگاہوں سے گھورا تھا۔

” بدروح کسے کہا۔۔۔؟؟”

” تمہیں۔۔۔” عالم نے اسکا سر پکڑ کر اسکا چہرہ اپنے چہرہ پہ جھکایا تھا۔

” تمہاری ہمت کیسے ہوئ مجھے بد روح کہنے کی۔۔۔” وہ دانت پیس کر گویا ہوئ۔

” جیسے ہوتی ہے۔ ویسے ہی ہوئ ہے۔” عالم نے اسکی آنکھوں میں جھانک کر کہا۔ بخار کے باعث عالم کی آنکھیں خمار آلود سی لگ رہی تھیں۔

” بھاڑ میں جاؤ تم۔۔” وہ جل کر کہتی اس سے دور ہوئ۔ عالم نے بگڑے تیور لیئے ایک بار پھر اسے خود پہ جھکایا تھا۔ ایک پل کو انکے درمیان سب کچھ رک گیا۔ عالم سرخ نگاہیں لیئے اسے کئ لمحے تکتا رہا۔ اور جب وہ گویا ہوا۔ تو اسکے لہجہ میں شدت تھی جنون تھا۔ دیوانہ پن تھا۔

” تم مجھ سے لڑو جھگڑو ، جو من میں آئے کرو پر پلیز مجھ سے دور جانے کا سوچنا بھی مت۔۔۔ پلیز۔۔۔۔” اسکے لہجہ میں جنوں تھا۔ شدت تھی تڑپ تھی۔ شعلہ اسکی آنکھوں سے چھلکتے جنوں کو دیکھ نگاہیں چرا گئ تھی۔

” نگاہیں کیوں چرا رہی ہو جانِ تمنا۔ نگاہیں چرانے کا موسم تو گیا۔ اب نظروں سے نظریں ملانے کا وقت آیا ہے۔۔” اس کا لہجہ بے خود سا تھا۔

” میں نیچے جا کر دیکھتی ہوں عارض رو رہا ہوگا۔۔۔ کب سے ملازمہ کے پاس ہے۔۔۔” وہ اسکی قربت کا اثر ذائل کرتی اٹھی تھی۔

عالم نے اسکی کلائ تھامی تھی۔ وہ گہری سانس لیکر بنا مڑے اسکے ہاتھ سے اپنی کلائ چھڑانے کی کوشش میں ہلکان ہونے لگی۔

” شعلہ کیوں نہی معاف کرسکتی تم مجھے ان غلطیوں کے لیئے جو کبھی مجھ سے سرزد ہی نہی ہوئیں۔۔۔” عالم کا لہجہ بکھرا ہوا تھا۔

” کم از کم تب تک معاف نہی کر سکتی جب تک میرے وہ زخم بھر نہی جاتے۔۔۔” وہ سنجیدگی سے گویا ہوئ۔

” زخم اگر بھرنے دو گی تو وہ بھریں گے ناں۔۔۔۔!!

اگر ان زخموں کو بار بار کھرچتی رہو گی تو ان سے خون بھی رسے گا اور وہ بھریں گے بھی نہی۔ تکلیف الگ ہوگی۔۔” وہ اسکی بات پوری ہوتے ہی اسکے ہاتھ سے اپنی کلائ چھڑاتی کمرے سے باہر بھاگی تھی۔

وہ اپنے خالی ہاتھ کو بے بسی سے تکتا رہ گیا تھا۔

☆☆☆☆☆۔

” حیدر گھر کب تک آئیں گے آپ۔۔۔؟؟” ساوری نے موبائل کان سے لگائے پوچھا۔

” کیوں میری یاد آرہی ہے۔۔” حیدر شوخ ہوا۔

” نہی بھلا آپکی یاد کیوں آنے لگی مجھے۔۔” وہ لب کچل کر گویا ہوئ۔ حیدر کی ذرا سی شوخی پہ اسکا چہرہ گلابی ہونے لگا تھا۔

” مطلب تمہیں میری یاد نہی آرہی۔۔۔؟” حیدر نے ذرا سختی سے پوچھا۔

” نا۔۔۔ بلکل نہی۔۔۔” اسنے منہ بنا کر کہا۔

” پر یار مجھے تو تمہاری بہت یاد آرہی ہے۔ میرا بلکل کام میں دل نہی لگتا اب۔۔۔” وہ بوجھل گھمبیر آواز لیئے گویا ہوا۔

” حیدر حد ہے۔ ابھی چار گھنٹے ہوئے ہیں آپکو گھر سے دفتر گئے اور آپکو میری یاد بھی آنے لگ گئ۔” اسنے افسوس کیا۔

” یہ چار گھنٹے تمہارے لیئے ہونگے۔ میرے لیئے تو یہ چار صدیاں ہیں۔” حیدر کا اندازِ بیاں خاصہ فلمی تھا۔

” افف۔۔ اچھا یہ سب چھوڑیں ، میں نے کال اس لیئے کی تھی کہ آج جلدی آجائیے گا۔ آئرہ کی طبیعت کچھ ٹھیک نہی اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانا ہے۔۔۔” وہ ایک ہی سانس میں اپنی تمام بات مکمل کر گئ تھی۔

” ہاں وہ تم مجھے صبح بھی یاد دلا چکی ہو۔ اور مجھے بہت اچھے سے یاد بھی ہے۔ اب بس بھی کرو۔ کام کی باتیں۔ اس بات کا کوئ حل نکالو یار۔۔۔ تم مجھے یاد آرہی ہو۔ اور وہ بھی بہت زیادہ۔۔۔” حیدر پھر پٹری سے اترا تھا۔

” اسکا میرے پاس کوئ حل نہی ہے۔ اسکا حل آپ خود ہی ڈھونڈ لیں مجھے بہت کام پڑے ہیں۔۔” وہ ہنس کر گویا ہوئ۔ اس سے پہلے کے وہ کال کاٹتی حیدر کی بیتاب سی آواز بر آمد ہوئ۔

” اچھا ایک بار وہ تین میجیکل ورڈز تو کہہ دو۔۔۔” حیدر کی فرمائش پہ ساوری کے لبوں پہ ایک شرمیلی سے مسکان در آئ۔

” اوکے۔۔۔ سنیئے۔۔” اسنے شرارت سے کہا۔

” ہم تو تیار بیٹھے ہیں۔ آپ سنائیے۔۔” حیدر نے بے صبری سے کہا۔

” I… ..”

ساوری کی میٹھی رسیلی آواز اسکے کانوں میں پڑی۔ تو وہ پر جوش سا مزید سننے کو بیتاب ہوا۔

” آگے۔۔۔۔ کہو۔۔۔”

” I…. I…. hate you…”

اور کہتے ساتھ ہی کال کاٹ دی گئ تھی۔ حیدر حیران و پریشان سا موبائل کی اسکرین کو گھورتا رہ گیا۔ اسکا پورا موڈ وہ خراب کر چکی تھی۔ اور پھر کئ گھنٹے تک وہ ہر کسی پہ بھڑکتا رہا تھا۔

☆☆☆☆☆